YUM Stories

Sex Stories => Non Adult Stories => Topic started by: shikra22 on June 03, 2013, 09:16:21 am

Title: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 03, 2013, 09:16:21 am
This book is a collection of EIGHT (8) short stories written by ALLAMA RASHID-UL-KHAIRI. All credit goes to original writer.

(http://sphotos-g.ak.fbcdn.net/hphotos-ak-ash4/389727_273997292743918_1207340710_n.jpg)
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 03, 2013, 09:17:54 am
Please use the following links to navigate at start of any story.

محرومِ وراثت (http://89.45.249.240/index.php?topic=43017.msg258362#msg258362)
رواج کی بھینٹ (http://89.45.249.240/index.php?topic=43017.msg259041#msg259041)
اِس ہاتھ دے اُس ہاتھ لے (http://89.45.249.240/index.php?topic=43017.msg259624#msg259624)
سوتیلی ماں کا آخری وقت (http://89.45.249.240/index.php?topic=43017.msg259957#msg259957)
میں نے کیا دیکھا (http://89.45.249.240/index.php?topic=43017.msg260295#msg260295)
تفسیرِ عبادت (http://89.45.249.240/index.php?topic=43017.msg260546#msg260546)
شہیدِ معاشرت (http://89.45.249.240/index.php?topic=43017.msg261878#msg261878)
توصیف کا خواب (http://89.45.249.240/index.php?topic=43017.msg262203#msg262203)
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 03, 2013, 09:19:22 am
محرومِ وراثت

محمد احسن تحصیلدار کے دونوں بچے محسن اور رضیہ تھے تو حقیقی بہن بھائی ، مگر نہ معلوم احسن کس طبیعت کا باپ تھا کہ اُس کی وہی نظر محسن پر پڑتی تو محبت میں ڈُوبی اور اور رضیہ پر پڑتی تو زہر میں بُجھی ۔ سمجھدار ، پڑھا لکھا ، مگر ظالم کی عقل پر ایسے پتھر پڑے تھے کہ دیکھ کر خوش ہوتا نہ سوچ کر نادم ، محسن کی تعلیم پر روپیہپانی کی طرح بہایا گیا تھا ، مگر رضیہ غریب کو اُستانی بھی میسر نہ تھی ، کچھ اس لئے نہیں کہ وہ تعلیمِ نسواں کا مخالف تھا بلکہ اس لئے کہ وہ اپنی کمائی میں اس کو حقدار نہ سمجھتا تھا ، محسن کے پاس جُوتی کے آٹھ آٹھ دس دس جوڑے اور رضیہ کے پاس صرف ایک اور وہ بھی مہینوں کی ٹوٹی پُھوٹی تو نہیں مگر ٹوٹی سے بدتر ! محسن کے پاس ایک نہیں درجن بھر سُوٹ اور رضیہ کے پاس اِنے گِنے دو دوپٹے اور لُطف یہ کہ جو کچھ بھی رضیہ کو میسر تھا وہ اس کا حق یا باپ کی محبت نہیں صرف صفیہ کا اصرار تھا ورنہ واقعات تو یہی کہتے ہیں کہ رضیہ کُھلے سر اور ننگے پاؤں بھی پھرتی تو احسن کو ملال نہ ہوتا ۔ باپ کی اس لاپرواہی اور بے پرواہی پر بھی وقت رضیہ کے ساتھ تھا ، صفیہ جہاں
شوہر کی اس کمی پر افسوس کر رہی تھی وہاں اُس نے اپنے فرائض کی ادائیگی میں ہمیشہ اس نقصان کی تلافی کی اور جہاں تک بھی ممکن ہوا اس کی تعلیم و تربیت میں انتہائی کوشش کرتی رہی ۔ رضیہ کی فراست اُس کا شوق ، اُس کی سعادت مندی ، صبر اور خاموشی ماں کے دل میں گڑی جاتی تھی ، وہ اس کے یا اس کے باپ کے سامنے نہیں تنہائی میں اکثر روتی ۔
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 03, 2013, 09:32:00 am
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ عید کے موقع پر اس لئے کے کہ کچھ عزیز آنے والے تھے ، شاموں شام احسن نے بیوی اور بچے کے لئے سب سامان منگوایا ، احسن ، حسن ، صفیہ ، رضیہ چاروں ایک جگہ بیٹھے تھے ۔ احسن ایک ایک چیز اُٹھاتا اور دکھاتا جاتا تھا اور متوقع تھا کہ بیوی اور اس کے بچے اس انتخاب کی داد دیں ۔ احسن جس وقت ایک چیز دکھانے کے بعد صفیہ ، رضیہ ، اور محسن کی صورت دیکھ کر داد طلب کرتا اُس وقت صفیہ اُس ڈھیر کو کبھی شوہر کو اس امید پر دیکھتی اور تکتی کہ شاید اس ڈھیر سے یا شوہر کے منہ سے رضیہ کے لئے کوئی چیز یا رضیہ کا نام نکلے ، مگر پُوری نو چیزیں چار صفیہ اور پانچ محسن کی ختم ہوگئیں لیکن رضیہ کے نام کی چیز نہ ڈھیری سے نکلی نہ اُس کا نام باپ کے منہ سے نکلا ۔ محسن نے باپ کی محبت اور کوشش کی داد دی ، دل کھول کر دی اور پیٹ بھر کر دی ۔ مگر صفیہ کے سامنے اُس وقت ایک اور ہی سماں تھا ۔ وہ اوپری دل سے تعریف کرتے ہوئے اُٹھی ، ساتھ ہی خیال آیا کہ اللهُ غنی مُسلمان بچیاں جو ماں کی چوکھٹ پر چند روزہ مہمان ہیں  بھائیوں کے مقابلے میں اتنا حق بھی نہیں رکھتیں کہ پانچ کے مقابلہ میں ایک چیز آجاتی ۔ میں جانتی ہوں کہ رضیہ کے پاس سب کچھ ہے اور میں نے حیثیت سے زیادہ اور ضرورت سے بڑھ کر اس کا سامان کر لیا ہے ۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ یہ سب باپ ہی کی کمائی کا ہے ۔ لیکن اس کے واسطے اگر ایک چیز بھی اس وقت آجاتی تو اس کا دل کتنا بڑھ جاتا ۔ باپ اس کی خوشی دو چار روپے میں بھی مول نہ لے سکا ، محسن خدا اس کی عمر دراز کرے آگے اور پیچھے ، آج اور کل مالک اور مختار ہے ، لیتا ہے اور لے گا ، مگر رضیہ کہاں اور یہ گھر کہاں ؟
صفیہ شوہر کے پاس سے ایک خفیف بُخار دل میں لے کر اُٹھی تھی ، مگر کمرے تک پہنچتے پہنچتے ہلہلا گئی اور اس خیال کے آتے ہی آنکھوں میں آنسو بھر آئے ۔ جانتی تھی کہ آنکھوں میں آنسوؤں کے قطرے تیر رہے ہیں اور چاہتی تھی کہ اس حالت کو ظاہر نہ ہونے دے ، مگر اس جذبۂ محبت نے جو مامتا کی آغوش میں پلا تھا بے قابُو کردیا اور بچی کی صورت دیکھنے کو منہ پھیرا ۔ ایک ساکت مجسمہ تھا جو رضیہ کی صورت میں گُم سُم باپ کے سامنے بیٹھا زمین کو دیکھ رہا تھا ۔ ماں نے بچی کی خاموش صُورت دیکھ کر اُس کے دل کی کتاب پڑھی اور ٹھنڈا سانس بھر کر آگے بڑھی ، احسن بیوی کا یہ رنگ دیکھ کرحیرت میں ادھر آیا اور کہنے لگا ۔
”بس وہی ایک پِٹنا کہ رضیہ کا کچھ نہ آیا ، اس کے پاس سب کچھ موجود ہے ۔“ بیوی : ” موجود تو محسن کے پاس بھی ہے ۔“
میاں : ” محسن کی اُس کی کیا برابری ؟“ بیوی : ” کیوں ؟
میاں : ” وہ گھر کا مالک ، یہ پرایا دھن, اِس کے علاوہ جو بچی کو مل گیا وہ غنیمت ہے
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 03, 2013, 12:17:17 pm
محسن بی - اے میں کامیاب ہوا تو رضیہ دسوں انگلیاں دسوں چراغ تھی ۔ اور ایک یہی کیا ، ماں کی توجہ اور ماں کی کوشش نے انسانیت کے تمام جوہر اس میں کُوٹ کُوٹ کر بھَر دیئے تھے ۔ دونوں بہن بھائیوں کی شادی ساتھ ساتھ ٹھہری ، مگر اس احتمال سے کہ موروثی جائداد رضیہ کی سلطنت سے پرائے قبضہ میں نہ جائے ۔ احسن نے اُس کے نکاح سے قبل قریب قریب تمام جائداد وقف علی الاولاد کی آڑ میں محسن کے حوالے کی اور رضیہ کو محروم کردیا ۔ صفیہ نے بہتیرا غل مچایا ، مگر یہ تو بڑا کام تھا ۔ چھوٹی چھوٹی باتوں میں بیویوں کی مخالفت کا شوہروں کے مقابلہ میں کیا نتیجہ ہوسکتا ہے ، مسلمان اس راز سے اچھی طرح آشنا ہیں ، صفیہ کو بڑا صدمہ یہ تھا کہ اُس کی اپنی جائداد بھی جو میکے سے ملی تھی اس سلسلہ میں فنا ہورہی تھی ۔
مُسلمان قلم کی طاقت اور اپنی زبان کے زور سے جُھٹلالیں ، مگر ہے کوئی مُسلمان جو ایمان سے کہہ سکے کہ بچوں والی بیوی ، بہو اور داماد والی یا ہونے والی ، شوہر کی اتنی مخالفت کے بعد کہ ایسی دستاویز پر دستخط نہ کرے اُس کے گھر میں خوش رہ سکتی ہے ؟ احسن کے پنجرے میں صفیہ ہر چند پَھڑپَھڑائی مگر معاشرت اسلامی کا موجودہ لاسہ اتنا تیز اور اتنا گہرا تھا کہ جتنی تڑپی اتنی ہی چپکی ، گھر میں ہفتہ بھر قیامت بپا رہی اور اس کے بعد احسن نے اندر کی آمدورفت قطعا بند کردی ۔ صفیہ برَس چھ مہینہ کی بیاہی نہ تھی ۔ بیس بائیس برس کی گھرستن نہایت ہی استقلال سے شوہر کا مقابلہ کیا ۔ اس حالت اور ایسے موقعوں پر مُسلمان مردوں کے پاس نکاحِ ثانی کا حربہ چلتا ہوا ہتھیار ہے ، مگر صفیہ اُس کو بھی خاطر میں نہ لائی اور میاں سے صاف کہہ دیا کہ گھر اگر موم اور نُون کا ہے کہ دُھوپ سے پگھلے اور پانی سے بہے تو میں کہاں تک روکوں گی ۔ بِسم الله آج نہ کیا کًل اور کَل نہ کیا پَرسوں ۔
مُطالبۂ حقوقِ نسواں کو لَغو اور فتنہ قرار دینے والے مسلمان جو کچھ فرمائیں ہمارے سر آنکھوں پر ، مگر خدارا وہ بتائیں کہ اُس موقعہ پر جب احسن نے ہر طرف سے ناکام ہوکر فیصلہ کیا کہ وہ رضیہ کے نکاح ہی کا خاتمہ کردے اور تمام عمر بیٹی کو وداع نہ کر ے ، تو صفیہ کیا کرتی ؟ اس فیصلہ نے صفیہ کی گردن شوہر کے سامنے جُھکا دی ، اُس کی اکڑ ، اُس کا استقلال ، اُس کا ضبط سب فنا ہوگئے اور اب جائداد اور جائداد کی تقسیم تو الگ رہی ، اُس کو نکاح ہی کے لالے پڑ گئے اور یہ سوچ کر کہ میری وجہ سے غریب بچی کی عُمر تباہ و برباد ہوتی ہے ، اُس نے کاغذ پر دستخط کئے اور اس طرح رضیہ ماں باپ کی جائداد سے محروم ، وداع ہو کر سُسرال رُخصت ہوئی ۔
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 03, 2013, 05:43:28 pm
محسن بی - اے کے بعد قانون میں کامیاب ہوا ، رضیہ ایک بچہ کی ماں بنی ، صفیہ حج سے فارغ ہوئی ، احسن پر فالج گرا اور وہ ہلنے کے قابل بھی نہ رہا ، اُس وقت گھر کا مالک اور سُپید و سیاہ کا مختار ، جائداد کا منتظم ، محسن تھا ۔ اور گو آمدنی معقول تھی ، اللّے تللّوں نے مقروض کیا اور نوبت یہاں تک آئی کہ جس گھر میں دَس پانچ ہزار روپیہ ہر وقت موجود رہتا تھا اُس میں سے سو پچاس بھی مُشکل سے نکل سکتے تھے ۔ صفیہ کی دُور اندیشی تھی کہ کچھ روپیہ اپنے پاس لگا رکھا تھا ، باقی زیور سے مدد لی اور حج کرلیا ۔ واپس آئی تو محسن کا یہ رنگ دیکھ کر سناٹے میں رہ گئی مگر جو لڑکا زندہ باپ کو مُردہ سمجھ رہا تھا وہ ماں کو کیا خاطر میں لاتا ۔ محسن کی بعض دفعہ پریشانیاں اور پریشانیاں ہی نہیں ، فضول خرچیاں ماں کو سخت خَلجان میں ڈال دیتیں ۔ اور اب وہ یہ سمجھ گئی تھی کہ عنقریب یہ مجھ سے روپیہ طلب کرتا ہے ، اس لئے گھر کی برابر والی مسجد کی تعمیر اس کے واسطے بہت اچھا موقع تھا ۔ اُس نے فوراّ شوہر کے کان میں بات ڈال کر جو کُچھ زیور بچا تھا ، مسجد کی نذر کیا ، مگر یہ خبر احسن اور صفیہ دونوں میں سے ایک کو بھی نہ تھی کہ فالج کا دَورہ ایسا سخت ہوگا ، اور سنگدل بیٹا محسن ، عاشق زار باپ کو کتے کے ٹھیکرے میں پانی پلا دے گا۔ صفیہ کے پاس ابھی تھوڑی بہت کُھرچن موجود تھی ، اُس کے طُفیل اتنا تھا کہ معمولی علاج جاری رہا ، ڈاکٹر حکیموں کی فیس نکل رہی تھی اور نُسخے بھی آرہے تھے ، ورنہ محسن نے ایک دن کو کیا ، ایک گھڑی بلکہ ایک پَل کو بھی نہ پُوچھا کہ کیا ہوا اور کیا ہورہا ہے ، جب متواتر باپ نے بُلایا تو کھڑے کھڑے آیا اور ایک آدھ بات کی اور چَلتا ہوا ۔
اس کے پندرہ روز اسی طرح گذرے ، اُٹھ سکتا تھا نہ بیٹھ سکتا ۔ اِس موقع پر صفیہ نے ایسی خدمت کی جو شریف بیویوں سے توقع کی جاسکتی ہے اُس کو سِوا رونے کے اور کوئی کام نہ تھا رات رات بھر اور دن دن بھر پٹی پکڑے بیٹھی رہی ۔ اُس کی نیند اور بُھوک دونوں اُڑ چُکی تھیں اور اُسی کا صدقہ تھا کہ حکیم ڈاکٹر آرہے تھے، اور علاج ہورہا تھا ۔ بالآخر ڈاکٹر نے بجلی کا علاج تجویز کیا جس کا تخمینہ چارہزار روپے کے قریب تھا ۔ احسن اور صفیہ دونوں کو یہ شُبہ بھی نہ تھا کہ محسن باپ ہی کا روپیہ جس کی بدولت وہ نواب بنا پھر رہا تھا ، باپ کی زندگی اور راحت سے عزیز کرے گا۔
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 03, 2013, 05:52:32 pm
صُبح سے بُلاتے بُلاتے شام ہوگئی ، دُنیا بھر آئی مگر محسن نہ آیا ۔ خدا خدا کر کے شام کو لوٹا تو باپ نے اپنے منہ سے ساری کیفیت سنائی ۔ بغیر جواب دیئے چلا تو ماں پیچھے پیچھے گئی اور کہا، ”میاں ! پھر بجلی کے علاج کا انتظام کرو۔“ ایک ایسی نظر سے جس میں تعجُب اور غُصہ دونوں شامل تھے ، محسن نے ماں کو دیکھ کر کہا، ”تمہاری عقل جاتی رہی ہے ۔ اول تو روپیہ ہی نہیں ہے اور اگر ہوتا بھی تو علاج فضول ہے ، میں نے معلوم کرلیا کہ موت یقینی ہے ، اگر کچھ روز کو بچ گئے تو اور سُوہانِ رُوح ہوں گے۔“ صفیہ کا قدم آگے نہ اُٹھ سکا ، زبان سے ایک لفظ نہ نکلا ، اُس کو تو کچھ نہ کہہ سکی مگر اپنے دل میں کہا کہ ایسے ناہنجار لڑکے کی ماں ، زمین شق ہو اور سما جائے ۔ اب میں جا کر کیا جواب دُوں گی۔“ کھڑی سوچ رہی تھی کہ رضیہ کا خط ملا۔

اماں جان !
آداب عرض کرتی ہوں ۔
جب سے اباجان کی بیماری اور اُن کی کیفیت سنی ہے دل ہوا ہورہا ہے ، ہائے میرے اباجان کو کیا ہوگیا ، میں تو بھلا چنگا چھوڑ کر آئی تھی ۔ مُجھ بدنصیب کوتو ابھی معلوم ہوا ہے ۔ اے الله ! کیا کروں؟ ڈپٹی صاحب کچہری میں ہیں جس طرح ہوگا آج ہی رات کو یا کل فجر حاضر ہوں گی۔ میرے آنے کا ذکر نہ کیجئے خفا ہوں گے۔ میں سامنے نہ جاؤں گی ، دُور ہی سے شکل دیکھ لوں گی۔ ”اچھی اماں جان ! علاج میں کمی نہ کرنا۔“

آپکی فرمانبردار بیٹی
رضیہ
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 03, 2013, 05:56:27 pm
رضیہ علی الصباح میکے پہنچی ۔ باپ کی حالت اور مفصل کیفیت سن کر اُلٹے پاؤں واپس گئی ۔ رات کے دَس بجے تھے ، احسن یہ سن کر کہ محسن نے روپیہ دینے سے انکار کردیا ، انگاروں پر مُرغِ بِسمل کی طرح تڑپ رہا تھا۔ مگر مجبُور تھا کہ ہلنے کی طاقت نہ تھی اور کوئی دَم کا مہمان تھا ، آنکھیں بند تھیں کہ ایک ہاتھ نے اُس کا مفلوج ہاتھ اُٹھا کر اپنی آنکھوں سے لگایا ۔ احسن نے آنکھ کھولی تو دیکھا رضیہ سامنے کھڑی ہے اور آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔
وہ یہ سمجھ کر کہ باپ کو میری صُورت سے تکلیف نہ ہو ہاتھ جوڑتی ہوئی پیچھے ہٹنے لگی تو صفیہ نے کہا، ” رضیہ یہ چار ہزار روپے لائی ہے اور کہتی ہے کہ میں نے جو پانچ ہزار روپے اُس کو نقد دیئے تھے اس میں سے یہ لے لیجئے اور علاج کیجئے۔“
جس رضیہ کی صُورت سے باپ کو نفرت تھی ، جس پر ایک پیسہ بھی صرف کرنا گراں تھا ، اُس کا سر اس وقت باپ کے قدموں میں تھا اور زبان سے یہ الفاظ نکل رہے تھے، اباجان ! یہ آپ ہی کا رُوپیہ ہے ، میرا نہیں ہے۔“
آج احسن کو معلوم ہوا کہ بھولی بھالی بچیاں کیا چیز ہیں ، اُس نے بچی کو بُلا کر اپنے سینے سے لگایا اور آنکھ سے آنسو جاری ہوگئے۔

THE END
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: wajahat on June 03, 2013, 11:10:43 pm
Keya kahon bhai koi believe ni krega i am weaping coz this story is relevant to my life :(
Just amazing sharing bro
Supperb
Kamal kar dia
Mind blowing style hy Allama sahib ka.
Jesa pics mein ap ne hamesha kamal dikhaya wesa aj ap ne stories mein ye pehli post kr k dikhaya hy.
Mera har us reader se ek iltamas hy k kbi b apni aulad mein koi farq na karna aur na unhen tanha chorna. Aur beti to rehmat hoti hy kbi is rehmat ko na thukrana.
Iske ilawa b aurat har roop mein qabil-e-ehtaram hy chahy b.v ho maa ho behan ho ya beti
Koi b rishta ho uska dil ek sa hota hy masoom aur apke peyar ka bhooka.
Mansoor bhai baqi 7 stories b post kren jaldi
Keep it up bro
 Mere pas alfaz ni hain k theek se appriciate kr sakon aur thanx bol sakon
 :rockon: :rockon: :rockon: :rockon: :rockon: :rockon: :rockon: :rockon:
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 04, 2013, 11:01:50 am
Thanks alot Wajahat for liking this story, yeh story wakai insaan ko buhat kuch sikha deyti hay, parents ki kadar tab hei ati hay jab khudh parents bantay hein, yeh story humari society ki woh talkh haqeeqat hay jis hum bura to samajhtay hein lekin chornay ko tayar nahi.
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 04, 2013, 11:09:49 am
رواج کی بھینٹ

صُورت ، شکل ، ہُنر سلیقہ ، عطیہ ہر لحاظ سے بے مثل اور لاجواب نہیں تو سودو سو میں ایک لڑکی تھی ۔ خوش قسمتی سے شوہر بھی ایسا ملا کہ ماں باپ کی جُدائی ، میکہ کی یاد ، عزیزوں کی محبت ، سب دل سے بھُلا دی ۔ ایک ذرا اُس کے سر میں درد ہوجاتا تو مچھلی کی طرح تڑپتا اور گھنٹوں بے چین رہتا ۔ اس لحاظ سے عطیہ نہایت خُوش نصیب لڑکی تھی ۔ شادی کا پہلا سال ایسا گذرا کہ خدا دُنیا جہاں کی بیٹیوں کو نصیب کرے مگر افسوس پہلونٹی کا بچہ پیدا ہوتے ہی دُنیا بھر کے امراض کے ساتھ ہی شوہر کی بے اعتنائی شروع ہوگئی ۔ بیوی بد نصیب کے فرشتوں کو بھی خبر نہ تھی کہ یہ امراض اُس شخص کو جو اُن کی اصلی وجہ ہے میری صورت سے اس قدر بیزار کر دیں گے اور حسن کی یہ محبت دودھ کے اُبال سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی ۔ میمیں اور دائیاں علاج میں کسر نہ تھی مگر مرض روز بروز ترقی کر رہا تھا ۔ دردِ سر کو آرام ہے تو اختلاجِ قلب بڑھا ۔ اُس میں کمی ہوئی تو درد نے زور پکڑا۔ المختصر مشکل سے چھ مہینے ایسے گذرے ہوں گے کہ حسن نے دوسری کی ٹھان لی ۔ کھاتے پیتے نوکر چاکر لڑکے کو بیٹیوں کی کیا کمی ۔ دوسرا سال ختم بھی نہ ہوا تھا کہ عطیہ کی سیج پر سوکن آدھمکی ۔
داستان طویل ہے اور گنجائش تھوڑی ۔ بیمار بیوی عطیہ اور معصوم بچہ پر سوکن لا کر جس کٹر شخص نے کبوتروں میں بلی چھوڑدی ، اُس سے انسانیت کی توقع ہی غلط تھی ۔ یہ عطیہ کی تقدیر تھی کہ سوکن ایسی کٹر اور اتنی پتھر ملی کہ نِت نئے ظلم تڑواتی اور پھر بھی کلیجہ ٹھنڈا نہ ہوتا۔
مُسلمانوں کے نکاحِ ثانی کو دین و ایمان سمجھ کر بھی ہم حسن کے اِس نکاح کو جائز نہ کہیں گے ۔ اگر مجبوُری و معذوری سے تسلیم کر بھی لیں تو ضرورت تھی کہ حسن احکامِ اسلام کے بموجب مساوات کا ایسا سُرمہ لگا کر دونوں کو دیکھتا کہ عطیہ کی آنکھ میں مَلال کا مَیل تک نہ آتا ۔ لیکن یہ کیا غضب تھا کہ کڑکڑاتے جاڑوں میں بیمار عطیہ دُودھ پیتے بچہ کو کلیجہ سے لگائے میاں اور سوکن کے لئے چائے بنائے اور انڈے تلے ۔
ایک غیّور اور سنجیدہ لڑکی کی کیفیت جو کچھ اِن حالات سے ہونی چاہیے تھی وہی عطیہ کی ہوئی ۔ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی کہ حَسن کی جن آنکھوں سے محبت کے چشمے پُھوٹ رہے تھے ، اب اُن سے زہر ٹپک رہا تھا اور وہ اُف نہ کرتی ۔
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: wajahat on June 04, 2013, 01:06:22 pm
Thanks alot Wajahat for liking this story, yeh story wakai insaan ko buhat kuch sikha deyti hay, parents ki kadar tab hei ati hay jab khudh parents bantay hein, yeh story humari society ki woh talkh haqeeqat hay jis hum bura to samajhtay hein lekin chornay ko tayar nahi.
True v true
I agreed
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 04, 2013, 02:55:55 pm
ایک رات کا ذکر ہے ۔ مینھ برس کر تھم چکا تھا ۔ آسمان اپنے چہرے سے سیاہی کا پَردہ آہستہ آہستہ سرکا رہا تھا اور صبح صادق خراماں خراماں منزلِ دُنیا تک بڑھ رہی تھی ۔ اِدھر خانۂ خدا کی طرف سے وداعِ شب کا سامان ہوا، اُدھر بیمار عطیہ شوہر اور سوکن کے ناشتہ کی تیاری میں مصروف ہوئی ۔ ہوا کے ٹھنڈے جھونکے تیر کی طرح کلیجہ میں لگ رہے تھے ۔ گلے میں پُرانی رُوئی کی کمری ، سر پر معمُولی چادرہ ، پُوروا ہوا نے ہڈیوں میں اولے بچھا دئیے ، اِس غضب کا درد اُٹھا کہ بیقرار ہوگئی ، بہتیرا سنبھلی نہ سنبھلا گیا ۔ اُٹھی ، بیٹھی لیٹی پوٹی مگر سب بے سُود تھا ۔
حَسن کو اگر عطیہ سے ہمدردی نہ تھی تو اُس کی خوشی مگر اِس زخم پر کچوکے بے ایمان کی بد گُمانی تھی کہ بیماری کو بہانہ ، درد کو مکر اور تکلیف کو فریب سمجھا ۔ دُولھا دُولہن اُٹھے ۔ چُولھا ٹھنڈا پڑا تھا ، دونوں آگ بگولا ہو گئے اور نئی دُلہن نے کہا ، ” تم نے اپنے ساتھ میری مٹی بھی پلید کر رکھی ہے بھلا یہ وقت ناشتہ کا ہے ۔ ابھی آگ بھی نہیں سُلگی ۔ بلا سے اس جی کے جلانے سے تو ہاتھ کا جلانا بہتر ۔ کل سے میں خود کر لیا کروں گی اِن کو تو چکر آرہے ہوں گے۔“ کریلا اور نیم چڑھا ، حَسن پہلے ہی عطیہ کو شیر کی نظروں سے گُھور رہا تھا ، بیوی کے اس فقرے نےغصے کی آگ اور بھڑکائی ۔ ”جُھوٹی ، فریبن ، دغاباز ، بدمعاش ، کام چور ، مَریل ، سُست ۔“ ایک لفظ ہو تو کہا جائے۔ ”اُٹھ کھڑی ہو مکار ۔ ابھی آگ سُلگا ، نہیں تو مارے تھپڑوں کے منہ پھیر دوں گا۔“
حَسن یہ کہتا ہوا سانپ کی طرح پھنپھناتا ہوا اُٹھا اور عطیہ کو مارنے چلا کہ دروازے سے خُسر کی آواز آئی۔ یہ عطیہ کا باپ تھا جو معمولی گرا پڑا آدمی نہیں تھا شہر کا مشہور وکیل تھا ۔ اکلوتی بچی کی بیماری نے اُس کی جان پر بنا دی تھی ۔ حَسن بیوی پر شیر تھا ، مگر خُسر کے سامنے بھیگی بلی بن گیا اور دُلہن کو ہٹا کر اُس کو اندر لایا ۔ حَسن جس وقت بپھرتا عطیہ کی طرف چلا ، اُس وقت وہ خوف کے مارے تھر تھر کانپ رہی تھی ۔ اُس نے ایک خاموش نظر شوہر کے چہرے پر ڈالی ، زبان چُپ تھی مگر نگاہ باآوازِ بُلند کہہ رہی تھی کہ میں بے گناہ ہوں ۔ باپ کی آمد نے شوہر کی مار سے بظاہر چُھڑا دیا مگر حق یہ ہے کہ جس نے مارنے کا قصد کیا اُس نے مار ہی لیا ۔
اُس وقت عطیہ کے قلب کی کیا کیفیت تھی اِس کا اندازہ صرف شوہر والی بیبیوں کا دل کرسکتا ہے ۔ اُس کی دلی خواہش یہ تھی کہ زمین پھٹ جائے اور میں سما جاؤں وہ باپ کے آنے سے بھی خوش نہ ہوئی اور چاہتی تھی کہ اس عمر بھر کے رفیق اور ابدی دوست کے ہاتھوں کٹوں پِٹوں اور اس کے سامنے مر جاؤں ۔ ۔ ۔ باپ کو آتا دیکھ کر اُس نے دُوپٹہ سے آنسو پونچھے ، سنبھل کر بیٹھی ، سلام کیا ۔ ہر چند باپ نے پُوچھا مگر اُس  ے یہی کہا کہ، ”خدا کا شُکر ہے اچھی ہوں۔“ درد لمحہ بہ لمحہ تیز ہو رہا تھا ۔ بُخار شدت سے چڑھ رہا تھا ۔ باپ کی کسی بات کا جواب نہ دیتی تھی ۔ آخر اُس نے ہاتھ سے دیکھا ، پنڈا جُھلس رہا تھا کہا، ”تم تیار ہو میں ڈولی لاتا ہوں ، چلو اپنے ہاں چلو۔“
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 04, 2013, 03:07:45 pm
جوان لڑکی کی معصوم نظروں نے اُس کے جواب میں باپ کی صورت دیکھی ، گو اُس کی زبان کچھ نہ کہتی تھی مگر حالت نے یہ جواب دیا کہ میں اب تو آپ کی ملکیت نہیں ، مجھ کو آپ نے ایک دوسرے شخص کے قبضہ میں دے دیا ، وہی میرا مالک ، حاکم اور سرتاج ہے۔ بڈھا باپ تجربہ کار آدمی تھا سمجھ گیا کہ شوہر کی اجازت کے بغیر چلنا منظور نہیں ۔ داماد کو بلا کر کہا ،
”میاں ! اجازت ہو تو دوچار روز کے واسطے اپنے ہاں لے جاؤں۔“ حَسن : مجھے کیا عُذر ہو سکتا ہے ، نہایت خوشی سے۔“ اتنا کہہ کر حَسن نئی دُولہن کے کمرے میں گیا اور باپ ڈولی لینے، حَسن باہر نکلا تو عطیہ
نے آہستہ سے کہا، ”کیا واقعی تمہاری اجازت ہے کہ میں چند روز کے واسطے چلی جاؤں۔“ حَسن : ایک دفعہ کہہ تو دیا اور کس طرح کہوں۔“ عطیہ : التجا یہ ہے کہ اگر روزانہ نہیں تو دوسرے روز چند لمحے کے واسطے اپنی صورت دکھا دیا کرو۔“ حَسن : میں خالی بیٹھا ہوں تاکہ روز حاضر ہوا کروں !!“ ڈولی آگئی عطیہ بچہ کو گود میں اُٹھانا چاہتی تھی کہ حَسن نے نئی دُولہن کے مشورہ سے کہا،
”بچہ کو چھوڑ جاؤ ، میں پہنچا دُوں گا۔“ ادھر باپ کا تقاضا اُدھر مامتا کا جوش ۔ منت سے کہا ، سماجت سے کہا مگر سنگدل نے بچہ کی اجازت نہ دی ۔ باپ نے اندر آکر کہا ، ”میاں ! کیا کہتے ہو؟“
حَسن : آپ ان کو لے جائیں ، میں ڈاکٹر کو دکھا کر خود ہی بچہ کو پہنچا دوں گا۔ باپ چھچھورا نہ تھا کہ لڑنے لگتا۔ خاموش ہوگیا اور ایک ٹھنڈا سانس بھر کر بیٹی کو ڈولی میں بٹھا کر گھر کا راستہ لیا۔
آفتاب لاتعداد مرتبہ طلوع ہو کر غروب ہوا ۔ چاند بے شمار بار چمک کر ماند پڑا ۔ مگر وہ آفتاب جو بچہ کی مفارقت میں ڈھلا اور ڈوبا بدنصیب عطیہ کے واسطے میکے میں ایسا درد چھوڑگیا جس کی ٹیسوں اور چَمکوں نے مُردہ کر دیا ۔ میکے کی ماما ، حقیقی چچا ، رشتے کے ماموں سب ہی گئے اور کوشش کی مگر حَسن نے بچہ نہ بھیجا ، دُکھیاری کلیجہ پر گھونسے مارنے لگی ۔ دنیا آنکھوں میں اندھیر تھی اور کوئی اتنا نہ تھا کہ چار پَہر بچھڑے ہوئے بچہ کی صُورت دکھا دے ۔ تڑپ رہی تھی کہ حَسن کا یہ پیغام آ پہنچا۔” بچہ اپنی پُھوپھی کے پاس گاؤں میں ہے لیکن تُم ابھی آجاؤ، اگر فورا نہ آئیں تو صُبح ہی زوجیت کا دعوٰی دائر کر دوں گا اور عدالت کا حُکم لے کے چوٹی پکڑ کر گھر میں سے گھسیٹ لاؤں گا۔“ عطیہ کے باپ نے یہ الفاظ سنے ، بیٹی کو بلا کر گلے سے لگایا اور کہا، ” جا خدا کے سُپرد کیا۔“اتنا کہہ کر بدنصیب باپ کی ہچکی بندھ گئی ۔ اُس نے کمرہ میں گُھس کر دروازہ بند کر لیا۔
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 04, 2013, 06:08:46 pm
عطیہ کی حالت خراب تھی جب یہ سُنا کہ بچہ بھی وہاں نہیں ہے اُس وقت سے بخار اور تیز ہوگیا تھا ۔ خدمت کی مُصیبت آنکھ کے سامنے تھی ۔ ماں ، بہنیں ، سہیلیاں سب کھڑی آٹھ آٹھ آنسُو رو رہی تھیں۔ ڈولی موجود تھی ۔ سوار ہونے سے پہلے عطیہ نے کہا ، ” مرض کی حالت مریض سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا ۔ میں اب اِس دُنیا میں چند ساعت کی مہمان ہوں اور قریب ہے وہ وقت کہ ماں میری موت اور باپ فراقِ ابدی پر خُون کے آنسو گرائیں اور میری نامُراد آنکھیں معصُوم بچہ کی صُورت کو پھڑکتی ہمیشہ کی نیند سو جائیں ، مگر مجھے ماں کے صَدمہ ، باپ کے رنج اور عزیزوں کے افسوس سے زیادہ اس مُصیبت کا دھڑکا ہے ، جس کے خیال سے میرے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں ۔ بہنو ! جن کانوں نے کُوار پنے میں ماں اور باپ کی جھڑکی تک نہ سُنی ، نکاح نے اُن کو سخت سے سخت اور بَد سے بَدتر کلمے سُنوا دیئے ۔ جس جسم پر پُھول کی چھڑی نہ لگی تھی اب اُس پر بیدیں پڑنے کا وقت آپہنچا!!“
” میرا سانس اُکھڑ رہا ہے اور وقتِ آخر ہے ۔ میرا پیام مُسلمانوں تک پہنچا دینا۔ بزرگو! اگر صداقتِ اسلام کی روشنی دِلوں میں اور انصاف کی جھلک آنکھوں میں موجود ہے تو کبھی بُھولے بِسرے ، سوتے جاگتے اِن بَدنصیب ہستیوں پر بھی غور کرو جو نازونعم سے پَل کر ہاتھوں چھاؤں بڑھ کر سنگدل شوہروں کے قبضے میں جا پَھنسیں ۔ مُسلمانوں کی حالت کا قیاس اپنے اُوپر نہ کرو۔ اِس بَدنصیب قوم کی حالتِ زار کی داستان گھر کی ماماؤں اور پڑوس کی بدنصیبوں سے سُنو۔ زندگی آپ کو مُصیبت اور دُنیا اُن کے واسطے دوزخ۔ ظالم شوہروں نے اُٹھتے جُوتی اور بیٹھتے لات سے اُن کو کائنات کی بدترین ہستی بنا دیا۔ لللہ ایمان سے کام لو اور بتاؤ اگر ہم نے حُکمِ طلاق کے آگے کبھی اُف کی ہو! تُم نے بے گُناہ ، بے قصُور طلاقیں دیں اور ہم نے گردنیں جُھکا دیں ! مگر اُسی نبی اور اُسی مذہب نے ہم کو خلع کا حق دیا تھا مگر ہے کوئی مُسلمان جو آج کہہ سکے کہ اُس نے ایک بدنصیب بیوی کو خلع دلوا کر ظالم شوہر سے چُھٹکارا دلوایا ہو؟“
”ہم نے خاکِ عرب سے اُٹھنے والے رسُول کے احکام سر اور آنکھوں پر اور اسلام کی لاج رکھی ، مگر تُم نے اُس پاک ہستی اور مکمل انسان کا ارشاد ٹھکرا دیا۔ بے شُمار ماں کی جائیاں مُصیبت پیٹتی اور آفت بُھگتتی قبروں میں پہنچا دیں اور خلع نہ ہونے دیا !!“
عورتوں کی ہچکی بندھی ہوئی تھی اور کوئی ایسی نہ تھی جو اُس کی صُورت پر لبیک نہ کہہ رہی ہو ۔ اب عطیہ کی آواز رُک گئی، وہ ڈولی میں بیٹھنا چاہتی تھی کہ کھانسی اُٹھی ، صرف اتنا کہا۔
”ہائے میرا بچہ!“
اور وہیں ٹھنڈی ہوگئی !!

THE END
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 05, 2013, 06:09:41 pm
اِس ہاتھ دے اُس ہاتھ لے


یہ خیال کہ افتخار کلثوم عاشق زار ماں تھی ، یقیناً غلط ۔ ارشاد اور فردوسی دونوں اُس کے اپنے پیٹ کے بچے تھے اور یہ واقعہ ہے کہ ارشاد پہلونٹی کا بچہ لڑکے کی ذات ، مگر جو لگن افتخار کو فردوسی کی تھی اُس سے آدھی کیا بلکہ چوتھائی بھی بچہ کی نہ تھی۔ دس گیارہ برس کا بچہ اور گندا سندا نہیں ، مَیلا کچیلا نہیں ، صاف سُتھرا اور گورا سفید لیکن ساری ساری رات بخار میں تڑپا اور اِس نیک بخت نے آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا۔ تعجب تو کم ہوتا نہیں مگر دل کو یہ کہہ کر تسکین دے لو کہ ماں ارشاد کو فقط دُودھ پلانے کی گنہگار تھی ۔ وہ بھی ڈیڑھ دو برس نہیں ، گنتی کے آٹھ سات مہینے ، ورنہ وہ پَلا دادی کی آغوش میں اور بڑھا باپ کی گود میں ۔ پورے پانچ برس کا بھی نہ تھا کہ کلکتہ بھیج دیا گیا اور گیا گیا لوٹا چار سال بعد ۔ اس جدائی نے اگر افتخار کو اتنا صبر دے دیا کہ اس نے زندہ بچہ کو مُردہ سمجھ لیا تو اسی کا دل گردہ تھا ۔ ہاں فردوسی کے ساتھ اس کو محبت اور عشق کیسا ، پروانہ تھی ، فدا تھی ، قُربان تھی ۔ اس کا بس چلتا تو شاید کلیجہ چیر کر بچی کو اندر بٹھا لیتی کہ اس کو کسی دنیوی اذیت کی ہوا بھی نہ لگے۔
تیہے کی اتنی تیز اور مزاج کی اس قدر کڑوی کہ دوسرے رشتہ دار اور عزیز تو رہے طاق میں ، افتخار کی حقیق بہن بھائی کی اتنی مجال نہ تھی کہ بھانجی کو ٹیڑھی آنکھ سے دیکھ لیں ۔ جوان بیوہ ہوئی اور بیس  چیس روپے کی آمدنی کے سوا کوئی معقول اثاثہ بھی نہ تھا ۔ مگر اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ چُنی ۔ ماں زندہ ، باپ جیتا ، بہنیں موجود ، بھائی موجود ، پَر محلہ بَسا الگ گھر میں رہی اور یہ گوارا نہ کیا کہ فردوسی کو کوئی عزیز آنکھ بھر کر دیکھ لے۔
چھوٹی بہن کی شادی میں بیسیوں نَکتوڑوں اور سینکڑوں نخروں سے آئی اور صرف اتنی سی بات پر کہ اور کسی نے نہیں ، فردوسی کی حقیقی نانی ، افتخار کی سگی ماں نے صرف اتنا کہہ دیا کہ میرا آٹھ آنے کا آئینہ تمہاری بچی نے توڑ دیا ، افتخار اٹھنّی آگے پھینک ڈولی منگوا چلتی ہوئی۔ ہر چند ماں نے سر پٹکا ، باپ نے منتیں کیں ، بہنوں نے ہاتھ جوڑے ، بھائیوں نے خوشامدیں کیں ، حد یہ ہے تمام مہمانوں نے کہا مگر وہ نہ رُکنا تھا نہ رُکی اور یہ بھی کہہ گئی کہ ” میری بچی شریر ہے اس وقت تو آٹھ آنے کا معاملہ تھا میں نے بھر دیا ، کوئی بڑا نقصان کر دیا تو کیا کرونگی ، آپ بھلی اور اپنا گھر بَھلا۔“ بھرا گھر دیکھتا رہا اور افتخار یہ جا وہ جا۔
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 05, 2013, 06:15:56 pm
یوں تو افتخار کی زندگی کے اکثر واقعات تعجب انگیز ہیں لیکن وہ تعجب جو اچھنبے اور حیرت سے بڑھ کر دل کو مشکل سے لگتا اور قیاس میں دقت سے آتا ہے ، ماں بیٹوں کے تعلقات ہیں ۔ باپ کے بعد ارشاد کا کلکتہ رہنا ناممکن تھا ۔ مگر تقدیر نے باپ کی موت کے ساتھ ہی ماں کا کلیجہ اتنا پتھر کر دیا تھا کہ اُس کو دیس اور پردیس دونوں یکساں تھے ۔ یہ فیصلہ سر اور آنکھوں پر کہ فردوسی کی محبت نے اس کو اتنا اندھا اور بہرا کر دیا تھا کہ وہ سننے اور دیکھنے دونوں سے معذور تھی ۔ مگر مقابلہ ایسا تعجب انگیز اور حیرت فزا ہے کہ عقل چکراتی ہے ، قیاس ٹکراتا ہے اور سمجھ میں نہیں آتا کہ فردوسی کی عاشق زار ماں ارشاد کے واسطے ایسی ڈائن ہوئی کہ دُنیا نے پناہ مانگی ۔ مجبوری یا معذوری دنیا دکھانے کو یا خدا کے خوف سے کھانا تو وہ دونوں وقت یتیم ارشاد کو پیٹ بھر کر دے دیتی ، وہ بھی فردوسی کے بعد ، اور اُس کا بچا کھچا ۔ لیکن فصل کا میوہ ، موسم کی ترکاری ، یہ نہیں کہ آتی نہ ہو ، فردوسی کے لئے سب کچھ آتی مگر ارشاد کے واسطے حرام تھی ۔ دونوں بچوں میں بیگم اور غلام کا فرق تھا ۔ ہم کو یہ بھی تعجب ہے کہ افتخار نے یہ کیوں جائز سمجھا کہ ارشاد آپا کہے حالانکہ وہ نوکروں کی طرح منت و خوشامد کرتا ، پیچھے پیچھے پھرتا ، لڑائی جھگڑا تو درکنار اتنی ہستی نہ تھی کہ اُس کے حکم پر نا کر سکے ۔
صرف اتنی سی بات پر کہ بہن کا کھلونا اور وہ بھی مٹی کا لنگڑا گھوڑا طاق سے نیچے اُتار لیا تھا ، دو تھپڑ ماں نے اس زور سے رسید کئے کہ کلّا لال ہو گیا ۔ افتخار عورت کیا کُھرّا چنا تھی کہ سب سے الگ تھلگ رہتی ۔ خود کہیں نہ جاتی نہ کسی کو بلاتی ۔ ظالم کا حافظہ اس غضب کا تھا کہ اگر کسی سے بگڑتی تو باوا دادا کے وقت کی باتیں بیان کرتی ۔ شبِ برات کے موقع پر دو ڈھائی آنے روز کی آتشبازی فردوسی منگواتی
اور ارشاد چھوڑتا ۔ کم بخت کی قضا جو آئی تو ماں سے کہنے لگا ، ” اگر تم مجھ کو اکٹھا سودا منگوا دو تو سب چیزیں میں خود تیار کرلوں اور ایک روپیہ میں چار پانچ روپیہ کا مال ہو جائے ۔ “ نیکی اور پوچھ پوچھ ، افتخار کو کیا عذر ہو سکتا تھا ، بچی کے لئے جان تک حاضر تھی ۔ روپیہ نکال دے دیا اور لڑکا جَھٹ پَٹ جا سودا لے آیا ۔ بارود پیس رہا تھا کہ رگڑ لگی اور اس زور کا دھماکہ ہوا کہ غریب کی دونوں آنکھیں اور ایک ٹانگ رخصت ہوئی ۔
افتخار میں مروت ، محبت ، شفقت ، انسانیت اگر کوئی چیز ہوگی تو شاید شوہر کی زندگی میں ۔ اب تو اُس کی دنیا و دین ، جنت و دوزخ جو کچھ تھی وہ فردوسی اور صرف فردوسی ۔ لُطف یہ تھا کہ زخمی ارشاد ہوا اور بُخار چڑھا فردوسی کو ۔ افتخار اگر اس کے اختیار میں ہوتا تو ارشاد جیسے سات لڑکے اور پرائے نہیں اپنے پیٹ کے فردوسی پر قربان کر دیتی ۔ غریب پڑا تڑپ رہا تھا اور ماں بچی کو گود میں لئے اُس کے زخموں پر یہ کہہ کہہ کر اور نمک چھڑک رہی تھی کہ تُو تو مرد ذات ہے لوٹ پوٹ کر اچھا ہو جائے گا ، میری پُھول سی بچی کیسی پڑی ، اگر ایسی ویسی ہوگئی تو میں تیرا کیا کر لُوں گی ۔ فردوسی کا بُخار معمولی تھا صبح کو اُتر گیا مگر ارشاد کی حالت روز بروز ردّی ہوتی گئی ، دوا ہوئی نہیں آرام کس طرح ہوتا ۔ خدا بھلا کرے دادی کا کہ وہ پوتے کو اپنے ہاں لے گئی اور بدنصیب بچہ کا دَم بجائے ماں کی گود کے ، باپ کی ماں کی گود میں نکلا ۔
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 05, 2013, 06:18:56 pm
جس ماں نے ارشاد جیسا بچہ فردوسی پر قربان کر دیا اس سے یہ کس طرح ممکن تھا کہ وہ ایک غیر مرد کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بچی کو چھوڑ بیٹھتی ۔ جو پیغام آتا وہ حقارت سے نامنظور اور نفرت سے مُسترد ۔ لینا چاہتی تھی گھر داماد ، مگر شرط یہ تھی کہ اپنی دولت لائے اور یہاں بیٹھ کر لُٹائے ۔ فردوسی کی عُمر ڈھل رہی تھی مگر بات ڈھنگ کی نہ آئی ۔
عزیزوں میں سے کسی کی اتنی مجال نہ تھی کہ افتخار کو ٹوک سکتا ، محلے والے یا ملنے والے تو حق ہی کیا رکھتے تھے ، مگر جن ڈھونڈھیاں اُن پائیاں ۔ دُنیا دیکھتی کی دیکھتی رہی اور بی فردوسی کی شادی رَچ گئی ۔ تحریری اقرار اور زبانی مُعاہدوں میں جس طرح افتخار نے داماد کو جکڑا اُس کو دیکھ دیکھ کر اور سُن سُن کر مرد بھی دنگ تھے ۔ داماد دوسَو ( 200 ) رُوپے کا ملازم اور بیوی اور ساس دونوں کا غلام تھا ۔ فردوسی کی طرف سے ایسی لغزشیں ہوئیں کہ دوسرا شوہر مشکل سے صبر کرتا ، مگر اُس نے اگر ٹیڑھی آنکھ سے بھی بیوی کو دیکھ لیا تو افتخار نے حشر برپا کر دیا اور صاف کہہ دیا کہ تم اپنے گھر میں خوش اور میں اپنے ۔ میری بچی رزق کی ماری نہیں ، سلائی سیوں گی اور اُس کا پیٹ پالوں گی ۔
اس کامیابی کی تہہ میں کہ ایک بُڈھا شوہر جوان بیوی کی نازبرداری کر رہا ہے ، جو مُصیبت پنہاں ہوتی ہے وہ افتخار اور فردوسی دونوں کے سر پر منڈلا رہی تھی ۔ یہ درُست ہے کہ سُہاگ کے دس بارہ سال فردوسی کے ایسے گذرے کہ سبحان الله ۔ مگر بالآخر شوہر کی موت نے فردوسی کی گود میں دو معصوم بچے ڈال سہاگ کا خاتمہ کیا ۔ اور اب اس دورِ عیش کی یادگار یہ دو بچے تھے ۔
ہم افتخار کے استقلال کی داد دیتے ہیں کہ اس نازک وقت میں بھی اُس کا قدم نہ ڈگمگایا اور اُس نے مطلق کسی عزیز کی پرواہ نہ کی ۔ داماد نے جو تھوڑا سا زیور چھوڑا تھا اُس کو فروخت کیا اور اس مُرغی کی طرح جو چیل کے جھپٹے سے بچائے اپنے بچوں کو پُروں میں لئے بیٹھی ہے ، فردوسی اور اُس کے بچوں کو کلیجہ سے لگائے مردانہ وار ہر تکلیف کا مقابلہ کرتی رہی اور گھر کی ہوا نہ بگڑنے دی ۔ زیور ختم ہوچکا تو اب وہ مکان تھا جو افتخار کی دُور اندیشی سے فردوسی کی ملکیت ہو چکا تھا ۔ مگر اس خیال سے کہ بچی کسی کی نظروں میں ذلیل نہ ہو اُس نے اپنے دونوں مکان علیحدہ کر کے بچوں کی پرورش کی اور فردوسی کی حویلی پر آنچ نہ آنے دی ۔
فردوسی کا بڑا لڑکا ظہیر جس نے باپ کے بعد چنے کھا کر پڑھا ، انٹرنس کے بعد ڈاکٹری میں پہنچا اور وہ منظر دیکھنے کے قابل تھا جب افتخار امتحان کے دنوں میں نواسہ کے ساتھ دروازے تک آتی ، ایک باسی روٹی اُس کو دیتی اور کہتی اِس وقت گھر میں اس کے سِوا کچھ موجود نہیں ۔ خدا تیرے ساتھ ہے ، ہمت نہ ہار ، بیڑا پار ہے ۔
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 05, 2013, 06:23:09 pm
ظہیر تین سو روپے ماہوار کا نوکر ہے ۔ چار ہزار رُوپے اُس کی تنخواہ میں سے ماں جمع کر چکی ہے اور جس گھر میں مُٹھی بھر چنوں کے لالے تھے ۔ آج اُس میں گہما گہمی ہو رہی ہے ۔ ظہیر کی شادی ہو رہی ہے ، مہمان بھرے ہیں ، دُلہن کا جوڑا اور زیور کشتیوں میں چُنا ہوا ہے ۔ مردانہ میں دیگیں چڑھی ہوئی ہیں ۔ کمروں میں اُجلی چاندنیاں ، دالانوں میں نئے قالین ۔ انگنائی میں کورے تخت ، فردوسی باغ باغ اور نہال نہال اِدھر اُدھر پھر رہی ہے ۔ چاروں طرف سے مُبارکبادیں مل رہی ہیں اور ہنس ہنس کر اور کِھل کِھل کر شکر ادا کر رہی ہے ۔
اس مکان کے چپہ چپہ اور کونہ کونہ پر خوشی کی چھڑیاں لگ رہی ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رنج و غم کا اس سر زمین پر کبھی گذر ہی نہیں ہوا ۔ البتہ صدر دالان کی برابر والی کوٹھڑی میں ایک بُڑھیا جس کی عُمر نوّے برس کے قریب ہے اور جو اب ہڈیوں کی مالا ہے ۔ اس لئے کہ فالج نے اُس کا ایک ہاتھ اور ایک ٹانگ بیکار کر دی ۔ خاموش پڑی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر چھت کی کڑیاں گِن رہی ہے ۔ اس کے قوٰی بیکار ہیں ، بصارت جواب دے چکی ہے ، ہاتھ پاؤں کا سکت جاتا رہا ۔ چلنے پھرنے کے قابل نہیں ، کھانسی نے جان پر بنا دی ، کمر جُھک گئی ، چُپکی لیٹی ہے ۔ مگر نہ معلوم عُمرِ گذشتہ کے کیا کیا خیالات اُس کے دماغ میں چکر لگا رہے ہیں۔
بریانی اور متنجن کی خوشبو اُس کے دماغ میں آئی اور اُس نے خیالی پُلاؤ پکانے شروع کئے ۔ ”کھانا آگیا سب سے پہلے فردوسی مجھ کو لا کر دے گی۔ میں کھاؤں گی ہی کتنا ، ایسے میں تو گرم گرم ہے ، پھر ٹھنڈا کس کام کا۔“ ” ہائیں ! یہ تو سب کھا بھی رہے ہیں ، کیا فردوسی مجھے بھول گئی ، اُس کو میری مطلق پرواہ نہیں۔“ افتخار دل ہی دل میں بلکہ تھوڑی بہت آواز سے بھی یہ باتیں کر رہی تھی کہ کسی کے قدموں کی آہٹ اُس کے کان تک پہنچی اور اُس کی افسُردگی خوشی سے بدلی ۔ مگر جب آواز اِدھر آنے کی بجائے اُدھر جاتی معلوم ہوئی تو افتخار نے آہستہ آہستہ پُکارا ۔ فردوسی ، اے بی فردوسی !“ مگر اُس کی آواز کا کسی نے جواب بھی نہ دیا ۔ مہمانوں کے کھانے پینے کی آوازیں برابر کان میں آتی رہیں اور آج افتخار کو معلوم ہوا کہ اُس نے اپنی عُمر میں اچھے بیج نہ بوئے ۔ یہاں تک کہ کھانا ختم ہوا اور ایک بیوی جو کسی ضرورت
سے ادھر آنکلی تھیں گھبرا کر باہر آئیں اور کہا ، ”فردوسی بیگم ! تم نے تو دماغ سڑا دیا ۔ تُمہاری اماں والی کوٹھری سے تو ایسی بدبُو آرہی ہے کہ مغز پھٹا جاتا ہے۔“ فردوسی نے بغیر کسی تامل کے کہا ،
”بُوا کیا کروں ، مَر بھی تو نہیں چُکتیں ، دم ناک میں ہے ، ساری کوٹھری بَلغَم اور غلاظت سے سڑا رکھی ہے ۔ اور پھر مزاج ساتویں آسمان پر ، ایک کہوں تو ہزار سُنوں ۔“ اتنا کہہ کر فردوسی ماں کے پاس آئی جس کے کانوں میں یہ آواز اچھی طرح آرہی تھی اور کہا ، ”مہمانوں تک میں ناک کٹوا دی ۔ اس کوٹھری کو تین دفعہ بند کرچکی ہوں کہ اندر مری رہو ، مگر بغیر کھولے چین نہیں ، اب تو ہاتھ خاصا اُٹھ جاتا ہے۔“
بُڑھیا چھ سات روز سے دَمہ میں مَر رہی تھی مگر سُوکھی پَنچیوں میں جوش آگیا ۔ جواب کا قصد کیا لیکن سانس نے زبان نہ اُٹھنے دی اور شدت کی کھانسی اُٹھی ۔ ایک میلی سی ڈِپیا افتخار کے سرہانے جَل رہی تھی ۔ وہ کھانسی میں بے چین تھی مگر اُس کی نگاہ بیٹی کے چہرہ پر تھی اور اس نگاہ میں اظہارِ مجبُوری و لاچاری کے سوا عُمرِ گذشتہ کی پُوری داستان تھی ۔ وہ آنکھیں جو اس بے کسی کے عَالم میں اپنی گُذشتہ خدمات اپنا عشق و فریفتگی جتا کر صرف چاولوں کے ایک نوالہ کی خواستگار تھیں ، ابھی زبان سے کچھ کہنے نہ پائی تھیں کہ ہمیشہ کے لئے سو گئیں۔
افتخار کا انجام ماؤں کے واسطے دَرسِ عبرت ہے ۔ فردوسی کے عشق میں ارشاد کے حقوق کا پامال کرنا آسان نہ تھا اور وہ یقیناً اُس سلوک کی سزاوار تھی ، مگر بد نصیب فردوسی جس نے افتخار جیسی عاشق زار ماں کی یہ گت بنائی ، قُدرت کی زبردست طاقت سے اُس وقت آگاہ ہوئی کہ ابھی وہ کھڑی ماں کا چہرہ دیکھ رہی تھی کہ یہ آواز اُس کے کان میں پہنچی،
”غضب ہُوا ، دُولھا موٹر سے گر پڑا اور مغز پھٹ گیا۔“

THE END
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 06, 2013, 02:28:48 pm
سوتیلی ماں کا آخری وقت


جب اشرف جہاں بیگم کو اپنی زندگی سے نا اُمیدی ہوئی ، حکیم جواب دے چُکے اُس آسمانی حُور نے جو انسانی صُورت لے کر دُنیا میں آئی تھی ، اپنے تمام عزیزوں کو جمع کیا ۔ جاڑوں کا موسم تھا اور سوتیلے بچے اُس کے تلوؤں سے آنکھیں مَل رہے تھے ۔ بُخار کی شدت تھی اور غفلت لمحہ بہ لمحہ ترقی کر رہی تھی ۔ آدھی رات کا وقت تھا کہ اشرف جہاں بیگم نے آنکھ کھولی ، چاروں طرف سے الله بسم الله ہوئی ۔ کسی نے دُعائیں کیں اور کسی نے بَلائیں لیں ، اُٹھنے کا اِرادہ کیا تو اُوپر والوں کی جان میں جان آگئی ، شوہر نے جو دَم بخود کھڑا تھا سہارا لگایا ، ساس نے گاؤ تکیہ رکھا ، اور وہ نیک بی بی اُٹھ کر بیٹھ گئی۔ اُٹھنے کی تکان سے سانس پُھول گیا تھا ۔ تھوڑی دیر بعد جب سانس ٹھیک ہو گیا تو پانی مانگا ، اور لڑکھڑاتی آواز میں زور سے کہا ۔
پیاری بہنو! تُم میں سے بعض گو عُمر میں مجھ سے بڑی ہوں ، مگر رشتہ میں سب چھوٹی ہیں ۔ اب کہ میرا آخری وقت ہے ۔ ضرورت ہے میں تُم سب کے سامنے اپنی گُذشتہ زندگی پر ایک نظر ڈالوں ، میری زندگی اُن بیویوں کے واسطے جن کی شادی ہو چکی ہے شاید زیادہ مُفید نہ ہو ، مگر اُن لڑکیوں کے واسطے جو بیویاں بننے والی ہیں یقیناً ایک نمونہ ہوگی ۔
بیٹیو ! تُمہاری طرح ایک دن میں بھی کُنواری تھی ! ماں باپ کا سایہ میرے سر پر موجود تھا ۔ بے فِکری کے دن تھے ، آزادی کی راتیں ، خُوشی کا وقت تھا اطمینان کی باتیں ، مگر جوانی نے اِس بے فکری کا خاتمہ کر دیا ۔ شادی کے پیغام آنے شروع ہوئے ، میں بظاہر خاموش تھی مگر نکاح میری زندگی اور موت کا فیصلہ تھا ۔ تمام گفتگو غور سے سُنتی رہی ، مگر اِس لئے کہ محض واقعات پر نتیجہ نکالنا ہوتا تھا ، میں امّاں ابّا کی رائے محض
اس واسطے کہ وہ تجربہ کار تھے اپنے سے بہت بہتر سمجھتی تھی ۔ پھر بھی آج جبکہ نو برس سے زیادہ ہوئے ہیں زبان سے نکالتی ہوں کہ اماں جان کے ایک پیغام سے انکار کرنے کا مجھ کو اتنا رنج ہوا کہ میں نے دو وقت روٹی نہیں کھائی ۔ یہ میرے چچا کے بیٹے کا پیغام تھا ، لیکن آخرکار اُن کی رائے ٹھیک نکلی اور میرا خیال بالکل غلط نکلا ۔ اُس شخص نے پے در پے تین بیویاں کیں اور تینوں کو جَلا جَلا اور گُھلا گُھلا کر پار اُتارا ۔ جب اماں جان نے اس گھر کو جس میں ہم سب بیٹھے ہیں پسند کیا اور اس بَر پر رضامندی ظاہر کی تو مجھ کو سب سے بڑا اندیشہ یہ تھا کہ اِن دونوں کلیجہ کے ٹکڑوں کو جو میرے پاس بیٹھے رو رہے ہیں ، کہنے کو سوتیلے مگر پیٹ کے بچوں سے زیادہ عاشقِ زار ، کِس طرح خُوش رکھوں گی ۔ یہی دھڑکا تھا جس کو ساتھ لئے میں سُسرال میں آ داخل ہُوئی ۔ سرکار نے جیسا دنیا کے تمام مردوں کا قاعدہ ہے میری صُورت دیکھتے ہی بچوں کی وقعت کم کردی ۔ اِن کا کھانا پینا ، پہننا اوڑھنا سب میرے ہاتھ میں تھا ۔
میں خود بچہ تھی اور اِن بچوں کی خدمت میرے بَس کا کام نہ تھا ، پھر بھی خوفِ خُدا میرے دل میں تھا ۔ میں سمجھتی تھی کہ دُنیا کی کسی حالت کو قیام نہیں ۔ زندگی کے ساتھ انقلاب لگے ہوئے ہیں ، یہ دو معصُوم رُوحیں جو قُدرت نے میرے سُپرد کی ہیں محض میری شفقت کی محتاج ہیں ۔ نہ معلوم چند روز بعد میں اِس شفقت کے قابل بھی رہوں یا نہ رہوں ۔ میں اندھی ، لنگڑی ، گانڑی رانڈ ہو جاؤں اور بھیک بھی مُجھ کو مُیّسر نہ ہو ۔ اِس لئے جہاں تک ممکن ہوتا میں اِن کی خاطِر مدارات کرتی۔
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 06, 2013, 02:55:43 pm
دو سال اِسی طرح گُذرے اور میں بھی ایک بچہ کی ماں بن گئی ۔ مُجھے اب اپنے بچہ کے آگے یہ دونوں زہر معلوم ہوتے اور ہر وقت یہ خواہش ہوتی کہ سرکار کی تمام محبت چاروں طرف سے کھنچ کر میری طرف آجائے ۔ میری آرزُو پُوری ہوئی ، سرکار دَم بھر میرے بچے سلمان کو آنکھ سے اوجھل نہ کرتے اور اپنے بچہ عرفان کو جو مشکل سے تین برس کا ہوگا ، ہمارے کمرے تک میں گُھسنے نہ دیتے ۔ اِسی طرح چار برس بیت گئے۔
مُجھے دن عید اور رات شب برات تھی ۔ اِن سوتیلے بچوں کا کانٹا قریب قریب نکل چُکا تھا ۔ یہ زندہ تھے مگر مُردوں سے بدتر ۔ میں بھی اُس وقت کچھ ایسے گُھمنڈ میں تھی کہ مُجھے ان سے سیدھے منہ بات کرنا قَسم ۔ میں جو ہاتھ اُٹھا کر دیتی یہ لے لیتے ، جو کہہ دیتی وہ کر لیتے ۔ عرفان لاکھ بچہ تھا مگر چھ سات برس کا بچہ اپنی حالت اچھی طرح پہچانتا ، اور اپنی عزت پُوری پُوری طرح جانتا ، دن بھر میرے بچے کے  یچھے خُوشامد کرتا پِھرتا ، پِٹتا کُٹتا ، گُھرکیاں سُنتا اور اُف نہ کرتا ۔ مُجھ کو خود ایسے لڑکے کی ضرورت تھی ، جو ہر وقت سلمان کی خدمت کرتا ، اس کو بہلائے کِھلائے ، اس کی خدمت کرے ۔ اِن داموں عرفان مجھ کو کُچھ گِراں نہ تھا ۔ سلمان کھانا کھا چُکتا تو اس کے آگے کا بچا بچایا کھانا بھی میں اسی کو دے دیتی ، پُرانی دُھرانی جُوتی، پھٹا پُرانا کُرتا بھی اسی کے کام آتا ۔
میری سوکن کے زمانے کا ایک طوطا تھا جس کو سب ہیرامن کہتے تھے ۔ ایک دن کا ذکر ہے ۔ گرمی کے موسم میں شام کے وقت میں نہانے جا رہی تھی ۔ سونے کی گھڑی نکال کر میں نے رکھنی چاہی ۔ سلمان میرے پاس بیٹھا کھیل رہا تھا گھڑی دیکھتے ہی مچل گیا ۔ دس بیس رُوپے کی چیز ہوتی تو خیر تھی ، ساڑھے تین سو کی گھڑی ، میں نے اٹھا صندُوقچہ میں چُھپا دی ۔ بچہ مچل گیا ، لگا پٹخنیاں کھانے ، عرفان کھڑا اُس کو پنکھا جھل رہا تھا ، بہلایا چُمکارا مگر بچہ کسی طرح قابُو میں نہ آیا ۔ اسی سلسلے میں غریب جا کر طوطے کا پنجرہ اُٹھا لایا اور کہنے لگا ، ” مٹھو میاں پر ہنس رہا ہے۔“ وہ تو ادھر بہلا اور میں غُسل خانہ میں پہنچی ۔ ابھی اچھی طرح نہانے بھی نہ پائی تھی کہ اس کے بلکنے کی آواز میرے کان میں پہنچی ، کیسا نہانا اور کس کا غُسل ، جلدی سے تین لوٹے ڈال باہر آئی تو کیا دیکھتی ہُوں کہ بچہ کی اُنگلی سے خُون کی تللی بندھی ہوئی ہے اور وہ تڑپ رہا ہے ۔ محبت کے مارے بے تاب اور غُصہ کے مارے آگ بگولہ ہوگئی ۔ انّا نے کہا مُوئے عرفان نے طوطے سے اُنگلی کٹوا دی ۔ اتنا سُنتے ہی میں آپے سے باہر ہو گئی ۔ بَس چلتا تو عرفان کی بوٹیاں کاٹ کر چِیلوں کو دے دیتی ۔ میں نے ایک غضب کی بھری ہوئی نگاہ اُس پر ڈالی ، اُس کی رنگت زرد پڑی ہوئی تھی اور تھر تھر کانپ رہا تھا ۔
وہی طوطے کا پنجرہ جس کی ایک تیلی ٹوٹی ہوئی تھی ، اُٹھا کر اس کے منہ پر اس زور سے مارا کہ تیلی اُنگل بھر کان میں گُھس گئی ۔ اس کے گورے گورے کلّے خُون میں لہُو لہان ہوگئے ۔ بِن ماں کا بچہ اس وقت مُصیبت کی سچی تصویر تھا ۔ بیکسی اس کے چہرے پر برس رہی تھی اور گھونگھروالے بال اُس کی بے گناہی کی داد دے رہے تھے ۔ اُس کی معصُوم آنکھیں آنسوؤں کی جَھڑیاں بہا رہی تھیں مگر میرے غُصے کی آگ کسی طرح ٹھنڈی نہ ہوتی تھی ۔ جب تک انّا نے اُنگلی دُھلا کر پٹی باندھی ، میں نے اس مُصیبت کے مارے کا ہاتھ پکڑ کر دو طمانچے اور مارے اور پھر ایک ایسا دھکا دیا کہ بے قرار ہو کر دَر پر جا کر پڑا اور ستون کی کگر بَھوں میں چُبھ گئی ۔ کنپٹی پہلے ہی لہُولہان ہورہی تھی ، بھوں بھی زخمی ہوگئی ۔ بے بَس اور مظلوم عرفان کی وہ تصویر آج تک میرے دل سے فراموش نہ ہوئی ۔ اس کے کپڑے خُون میں شرابور تھے مگر اس کو اپنی تکلیف کا مطلق خیال نہ تھا ، بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ مار پیٹ کا یقین تھا ، اس کی آنکھ سے آنسو جاری تھے وہ ہاتھ جوڑے مجھ کو ایسی نظر سے دیکھ رہا تھا جو میرے رحم کی التجا کر
رہی تھی ۔ ڈر کے مارے آواز بند تھی اور ایک آٹھ برس کی جان میرے سامنے بیری کی طرح تھر تھر کانپ رہی تھی ۔
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 06, 2013, 04:55:56 pm
میں اس حالت میں غُصہ سے بھری سلمان کو گود میں لئے اپنے کمرے میں پہنچی ۔ وہ سو گیا تھا پلنگ پر لٹا دیا ۔ اتنے ہی میں سرکار تشریف لے آئے ۔ میں سلمان کو کلیجہ سے لگائے بیٹھی تھی دیکھتے ہی گھبرا گئے اور پُوچھا ، ” کیوں ؟ خیر تو ہے ؟“
میں آبدیدہ ہو کر ، ” ہاں شکر ہے الله کا ! اس کا پِنڈا پِھیکا ہو گیا ، وقت کی بات ہے ، چُوک گئی ۔ انّا کمبخت بھی اُدھر چلی گئی ، عرفان نے طوطے سے کٹوا دیا ، اتنا سارا جیتا جیتا خُون نکل گیا ، یہ بِلَک رہا تھا وہ ہنس رہا تھا ۔ میں نہ آؤں تو ساری اُنگلی الگ ہوجائے۔“ سرکار کی حالت تو اتنا سنتے ہی کچھ سے کچھ ہوگئی ۔ وہ بغیر کپڑے اُتارے باہر گئے اور عرفان کو اُٹھا کر انگنائی سے باہر پھینک دیا ۔ آٹھ برس کے بچہ کی بساط ہی کیا ۔ ہاتھ کی ہڈی چڑ سے ٹوٹ گئی ۔ ایسی حالت میں سرکار نے اُس کے کپڑے اُتروائے اور ہنٹر لے کر اس قدر مارا کہ تمام کھال اُدھڑ گئی ۔ بے گناہ معصُوم کے پاس قصُور سے بَری ہونے کی کوئی شہادت نہ تھی ۔ وہ سر سے پاؤں تک خُون میں ڈُوب چکا تھا اور کوئی حمایتی ، لا وارث عرفان کا ایسا نہ تھا جو ہم ظالموں کے قبضہ سے مظلوم کو نکال لے ۔ آخر سرکار نے اس کا ہاتھ پکڑ کر گھر سے نکال دیا اور سلمان کو گود میں لے کر بیٹھ گئے ۔ میں اُس وقت نہایت خُوش ، دل میں ہنستی ، ظاہر میں ٹھنڈے سانس بھرتی باہر آئی ۔ رات چاندنی تھی ، آٹھ بج چُکے تھے ڈیوڑھی میں کھُسر پھُسر کی آواز کان میں آئی ، میرا قدم دھرنا تھا کہ احسان عرفان کا بڑا بھائی جو اب دس برس کا تھا ، میری صُورت دیکھتے ہی سہم گیا ۔ اس کی گود میں عرفان کا سر تھا ، وہ ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا ، ” یہ سوگیا ، جاگتا ہی نہیں ، میں اس کو ابھی لے جاتا ہوں۔“
احسان نے رو رو کر کچھ اس درد سے بھائی کی حالت بیان کی کہ اس وقت میں بھی لرز گئی ، دیکھتی ہوں تو عرفان بیہوش پڑا ہے ۔ گھبرا کر گھر میں آئی ، سرکار کی آنکھ لگ گئی تھی ۔ صندوقچی کھول کر عطر نکالا ۔
ٹرنک منگوا کر کپڑے نکالے ، لے کر آئی تو دونوں بچے جا چکے تھے ۔ خاموش آکر بیٹھ گئی ، معاملہ پر غور کیا تو بِن ماں کا بچہ بے گناہ تھا ۔ اُس پر جو ظُلم ٹُوٹا وہ خُدا دُشمن کو بھی نہ دِکھائے ۔ اس کی عبرتناک تصویر ، اس کا میرے آگے ہاتھ جوڑنا ، بلکنا اور رونا میرے کلیجے کے پار ہو رہا تھا ۔ دل نے اُس وقت یہ صدا دی ۔ اشرف ! زندگی کا اعتبار نہیں ۔ اگر آج تیرا دَم نکل گیا تو عرفان سے بدتر حالت سلمان کی ہوگی ۔
اِس خیال کا دل میں آنا تھا کہ سلمان کی یہی تصویر آنکھوں میں پھر گئی ۔ برقع اوڑھ باہر نکل گئی ۔ کوٹھی کے سامنے قبرستان تھا ۔ چاندنی رات میں دو معصُوم بچے ایک قبر پر نظر آئے ۔ چھوٹا بیہوش تھا اور بڑا اُس کی صُورت دیکھ دیکھ کر تڑپ رہا تھا ۔ میں چُپکی کھڑی اُن کو دیکھ رہی تھی ۔ دفعتاً چھوٹا کسمسایا اور بڑے نے اُس کے منہ پر منہ رکھ کر کہا ، ”بھائی ، اُٹھ بیٹھ ۔“
عرفان : ” بھائی میرے ہاتھ میں بڑا درد ہو رہا ہے ۔ ہاتھ نہیں اُٹھتا ۔ ابا جان نے جو باہر پھینکا تو چوٹ لگ گئی ۔“
احسان : ” لا ، میں اپنا کُرتا اُتار کر باندھ دُوں ۔ ہمارا بھی تو الله ہے ۔ اب ہم بڑے ہو جائیں گے تو آپ کمانے لگیں گے ۔“
عرفان : ” اچھے بھائی ، خُدا کے لئے میرا سر دبا دے بڑا درد ہو رہا ہے ۔ تیلی آدھی گُھس گئی ہے ، پھر ستون گُھسا ۔ میری اماں ہوتیں تو وہ دبا دیتیں ۔“
احسان : ” اماں کے سامنے ابا مارتے ہی کیوں ! اماں ہی کے مرنے سے تو ہماری مٹی ویران ہوئی ۔ اس قبر میں اماں میری سو رہی ہیں ۔ اماں جان ہم کو بھی کلیجے سے لگا لو ۔“
یہ کہہ کر دونوں بھائی لپٹ گئے اور چیخیں مار مار کر رونے لگے ۔ اس وقت میری حالت بھی بگڑ چکی تھی ، موت میرے سامنے کھڑی تھی اور ظُلمِ ناحق کی سزا دوزخ کے شعلے میرے رُوبرُو بھڑک رہے تھے ۔ میں دونوں کو اُٹھا کر گھر لائی ۔ رات بھر ان کی خدمت کی ۔ صبح اُٹھتے ہی ڈاکٹر کو بلایا ۔ ہاتھ پر پٹی بندھوائی اور سچے دل سے خُدا کے حضور میں توبہ کی ۔
وہ دن اور آج کا دن یہ تینوں اب جوان جوان میرے سامنے بیٹھے ہیں ۔ ان میں رتّی بھر فرق کیا ہو تو خُدا کے ہاں کی دیندار ہوں ۔
پیارے بچو احسان ، عرفان ! اس ظلم کی آج تم دونوں سے معافی مانگتی ہوں ۔ میری زندگی ختم ہوگئی ۔ اور اب میں اس جگہ جا رہی ہوں جہاں ہر فعل کی جزا اور ہر کام کی سزا بُھگتنی ہے ۔ ایسا نہ ہو تم اس ظُلم کا دعوٰی کرو ۔“
اب دونوں بچے اشرف جہاں بیگم کو لپٹے دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے ، ”اماں جان ہمیں تو وہ بات ایک خواب سی یاد ہے ۔ ہاں یہ اچھی طرح یاد ہے کہ آپ کی محبت نے حقیقی ماں کو بُھلا دیا ۔“
اب اشرف جہاں بیگم نے کہا ، ”پیاری بچیو ! ممکن ہے تم کو بھی میری طرح ایسے بچوں سے سابقہ پڑے مگر یاد رکھو کہ ان کے دُکھے دلوں کی آہ اچھی نہیں ہوتی ۔ جس طرح میں اپنے فعل پر نادم ہو کر آج خُدا کے حضور میں سُرخ رُو جارہی ہوں ، اسی طرح جانے کی کوشش کرنا ، اور وہ موت ایسی ہو گی جس پر ہزاروں زندگیاں قربان ہوں ۔

THE END
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 07, 2013, 03:30:30 pm
میں نے کیا دیکھا


کل میرے پوتے امین کے بچہ کا عقیقہ تھا ۔ جب تمام مہمان جمع ہوگئے تو بچوں کو یہ خبط اُچھلا کہ دادی اماں کی تصویر اُتاری جائے ۔ مجھ سے آن کر کہا تو میں نے ایک سرے سے سب کو جھڑک دیا ، مگر ضدی بچے کیا ماننے والے تھے ، اس صلاح میں ماؤں کو شریک کیا اور ان نیک بختوں نے اپنے اپنے شوہروں کو بھی راضی کرلیا ، نتیجہ یہ ہُوا کی مجھ کو بھی ماننا پڑا اور تصویر اُترنی شروع ہوئی ۔ بیچ میں مَیں بیٹھی ، دائیں بائیں بہوئیں ، اُن کے پیچھے اُن کے شوہر اور اُن سے ذرا بُلندی پر اُن کے بچے ، اس قطار میں بیچوں بیچ میاں امین اپنے بچے کو لئے ہوئے ۔ اس تصویر کی غرض تو صرف یہ تھی کہ میں نہایت خوش نصیب عورت ہوں جس کے الله رکھے اتنے سارے بچے آنکھوں کے سامنے موجود ہیں ۔ تصویر اُتر گئی اور سب نے ایک ایک کر کے میرے ہاتھ کو بوسہ دیا ۔ ایمان کی بات یہ ہے میں بے حد خوش تھی ۔ خدا نے مجھ کو یہ دن دکھایا ۔ میری عُمر اس وقت ایک سو دس برس کی تھی مگر جب مجھ کو یہ خیال آیا کہ میں نے اپنی تمام عمر میں کیا کیا کام کئے اور کیا کیا ، دیکھا تو ایک سناٹا سا آ گیا ۔ میں خاموش اپنے دالان میں چلی آئی ۔ افسوس صد افسوس میں نے کوئی کام بھی ایسا نہ کیا تھا جس کو آج فخر سے بیان کروں ۔ البتہ بہُوؤں پر ظُلم میں نے کئے ، ایک کو طلاق تک دِلوائی ۔ کُنبے والوں کو ذلیل مَیں نے کیا اور رانڈ بھاوَجُوں سے ماماؤں کا کام مَیں نے لیا ۔ غرض کرنے میں تو مَیں بَد ترین عورت تھی ، ہاں دیکھنے میں دو واقعے دیکھے جو مُدّتیں گُذر جانے پر بھی میری آنکھ کے سامنے تھے ۔
مَیں دو بچوں کی ماں تھی ۔ دیوار بیچ رسالدار صاحب رہتے تھے ۔ اُن کی بیوی کیسی نمازی پرہیزگار کہ الله سب لڑکیوں کو ایسا کرے ۔ ان کی ماما کی نواسی ایک لڑکی شکورن تھی جس کو وہ اپنے بچوں سے زیادہ اس لئے چاہتی تھیں کہ وہ بِن ماں باپ کی بچی تھی ۔ جب رسالدار صاحب کا انتقال ہوا تو اُن کی آمدنی برائے نام رہ گئی ۔ پھر بھی انھوں نے اس لڑکی کو اس طرح بیاہا کہ ایک مَیں کیا ، سارا شہر تعجب کرتا تھا ۔ خدا کی شان ایک وقت ایسا آیا کہ اُن کی بیوی کے پاس دانت کُریدنے کو تِنکا تک نہ رہا ۔ آن بان کی عورت تھیں ، تمام تکلیفیں گوارا کیں مگر گھر کی ہَوا نہ بگڑنے دی ۔ خدا جانے رسالدار صاحب کی زندگی کا کیا کچھ یا بعد کا ، ایک بنئے نے اٹھارہ رُوپے کی نالش کی اور محلہ بھر میں یہ خبر مشہور ہوگئی کہ وہ قُرقی لے کر آیا ہے ۔ مَیں بھی گئی ، دہاروں رو رہی تھیں ۔ میں نے کہا ، آپ کی کنیز شکورن کا خاوند ڈیڑھ سو روپئے کا داروغۂ جیل ہے ۔ اس کو اطلاع دیجئے ۔ اٹھارہ روپے کی رقم ایسی نہیں ہے کہ وہ نہ دے سکے ۔ آپ ہی کی جُوتیوں کا صدقہ ہے کہ وہ آج بیگم بنی بیٹھی ہے ۔ فرمانے لگیں کہ خیر ، مگر جس کے ساتھ ہمیشہ سلوک کیا اب اُس کے آگے ہاتھ پھیلانے کو جی نہیں چاہتا ۔ میرے زیادہ اصرار سے بمشکل رضامند ہوئیں اور میں اُن کو ڈولی میں بٹھا کر شکورن کے گھر لے چلی ۔
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 07, 2013, 03:45:45 pm
موسم گرم تھا ۔ دوپہر کی دُھوپ چھوٹ چکی تھی مگر ہم مُصیبت کے مارے اس حالت میں وہاں پہنچے ۔ ڈولی سے اُتر کر کوٹھی کے برآمدہ میں کھڑے ہوگئے ۔ ہماری اطلاع ہوئی اور ایک ماما نے آ کر کہا ،”بیگم صاحب رسالدارنی کو سلام کہتی ہیں اور فرماتی ہیں کہ ٹھہرئیے مَیں چار بجے کے بعد آپ سے مل سکوں گی ۔“ ماما یہ کہہ کر چلی گئی بیساکھ کی قیامت خیز دُھوپ ہمارے سر پر تھی ۔ کہار مزدُوری کے واسطے ہم کو بُرا بھلا کہہ رہے تھے ۔ رسالدارنی واپسی کا تقاضہ کر رہی تھیں مگر میں اُن کو سمجھا بُجھا کر ٹھہرا رہی تھی ۔ مُجھ پر تمام عُمر ایسی مُصیبت کبھی نہیں گُذری ۔ لُو کے جھکڑ ہمارے سر پر تھے ۔ خدا خدا کر کے چار بجے ، مگر کیسے چار اور کس کے پانچ ۔ چھ بجے کے قریب جب میں نے دوبارہ اطلاع کروائی ہے تو ہم کو اندر آنے کی اجازت ملی ۔ شکورن سر سے پاؤں تک سونے میں ٹوٹ رہی تھی ۔ مَیں نے اُس سے اٹھارہ رُوپے کی التجا کی جس کو سُن کر اُس نے ایک قہقہہ مارا اور کہا ، ”بے شک میرا بچپن رسالدارنی کے پاس گُزرا ، ممکن ہے انھوں نے میری خدمت بھی کی ہو ۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ میں اُن کو اٹھارہ رُوپے مفت میں دے دُوں ۔ اچھا مَیں جاتی ہُوں آپ مجھ کو پھر یاد دلائیے گا ۔“
یہ ایسا نازک وقت تھا کہ مَیں شکورن کو دیکھ کر دم بخود رہ گئی ۔ اُسی شام کو رسالدار صاحب کے مکان پر قُرقی آئی اور تھوڑی دیر کے بعد ہم نے سُنا کہ اسباب قُرق ہونے سے پہلے رسالدارنی افیون کھا کر اس دنیا سے رُخصت ہوگئیں ۔
آج رسالدارنی اور شکورن دونوں گُذر چکے ہیں مگر مَیں نے یہ وہ واقعہ دیکھا کہ اب بھی جب کبھی خیال آتا ہے اور شکُورن کی صُورت نظر آتی ہے تو مَیں بَید کی طرح کانپ جاتی ہُوں ۔
امیری میں نخوت اور غرُور کی ایسی مثال اور احسان فراموشی کی ایسی نظیر شاید دُوسری نہ ملے ۔
دُوسری مثال مُفلسی کی ہے اور اس طرح شروع ہوتی ہے جب سردار ابنِ علی صاحب کا انتقال ہو گیا تو ان کی جائیداد قرضہ کو کافی نہ ہوسکی ۔ بیگم بہت بڑے باپ کی بیٹی تھی ، میرے سامنے چھوٹی سے بڑی ہُوئی ، امیری اُس کی ہر بات سے ٹپکتی تھی اور غربا پروری جو امارت کا اصلی جوہر ہے اُس کا خاص شیوہ تھا ۔ زمانہ نے اُس کو یہ وقت دِکھایا کہ محلُوں میں بسر کرنے والی بیگم ایک ٹُوٹے سے مکان میں ڈیڑھ رُوپیہ مہینہ پر آ کر رہی ۔ دو برس کی بچی گود میں تھی ، آمدنی کا کوئی ذریعہ نہ تھا ۔ کبھی لالہ کی ٹوپیاں سیتی اور کبھی درزی کے کُرتے ۔ بدنصیب بیگم کے بنے ہوئے زمانہ کی ایک نامعلوم انّا تھی یا کِھلائی ، رحمت نامی عورت ہر وقت ساتھ لپٹی رہتی تھی ۔
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 07, 2013, 06:23:29 pm
اس عید سے ایک روز قبل کا ذکر ہے کہ صُبح ہی ہم نے بیگم کے دروازے پر غُل غپاڑے کی آواز سُنی ۔ مَیں کوٹھے پر چڑھی ، دیکھتی کیا ہُوں کہ دو سنڈ مسنڈ لڑکے باہر کھڑے ہیں ۔ بیگم جا نماز پر خاموش بیٹھی تھی اور رحمت للکار للکار کر کہہ رہی تھی کہ چاہے تم بھیک مانگو ، چوری کرو ، برتن بھانڈا بیچو ، مگر میرے ساڑھے نو رُوپے اِس وقت دَھر دو ۔ میں نیچے اُتری ، پردہ کروا کر اندر گئی اور کہا ، ” کیا معاملہ ہے ؟“
بیگم : کیا عرض کروں ۔ میں نے تو ان سے کبھی قرض نہیں لیا ۔ جو خُدا دیتا ہے ان کی خدمت کر دیتی ہُوں ۔ اب یہ فرماتی ہیں کہ میرے ساڑھے نَو رُوپے ابھی دو ، نہیں تو میں اپنے مَردُوں کو بُلا کر یہ سب چیزیں اُٹھوا لُوں گی ۔“
رحمت : ہاں سچ ہے ، تم کیوں لینے لگیں ، تمہارے باوا آ کر یہ خرچ اُٹھاتے ہوں گے ۔ تمہاری آمدنی کیا ہے ، دُنیا بھر سے قرض لائیں اور تم دونوں ماں بیٹیوں کا پیٹ پالا ۔ اب میں جُھوٹی اور میرے باپ داد جُھوٹے ۔ کل شام کو وعدہ تھا ۔ میرے بچوں کی عید اینڈ ہو رہی ہے ۔ سیدھی طرح دیتی ہو تو دو نہیں تو وہ آپ گُھس کر لے لیں گے۔“
بیگم : مجھے تو تمہارا ایک پیسہ بھی دینا نہیں ہے ، نہ میں نے کوئی وعدہ کیا ۔ میرے پاس یہ دو برتن ہیں ایک پتیلی اور پانی پینے کا کٹورا ، تم شوق سے لے جاؤ ۔“
رحمت : یہ دو برتن تو آٹھ آنے کے بھی نہیں ہیں ، بچی کے ہاتھ میں چاندی کی چُوڑیاں بھی تو ہیں وہ دیدو ۔“
مَیں : بُوا رحمت ! تم قسم کھا سکتی ہو کہ تمہارے روپے بیگم پر ہیں ۔“
رحمت : سو دفعہ ، مسجد میں رکھ دو ، قُرآن پر رکھ دو ، دیکھو اُٹھا لیتی ہُوں یا نہیں ، قرضہ نہ سہی تنخواہ سہی ۔ میں جو ان کے ہاں روز سوتی تھی تو کیا مفت سوتی تھی ، ان کے باوا دادا کی نوکر تھی ۔“
اتنا کہہ کر ظالم عورت نے بچی کو ہاتھ پکڑ کر گھسیٹا اور بلکتی ہُوئی بچی کی چُوڑیاں اُتار لیں ، ہر چند بیگم نے ہاتھ جوڑے اور میں نے خوشامد کی مگر وہ سنگدل نہ پسیجی اور چُوڑیاں لے کر چلتی ہُوئی ۔ میں بھی اس کے بعد تھوڑی دیر بیگم کے پاس بیٹھی ۔ اُس کی آنکھ سے کسی طرح آنسو نہ تھمتا تھا ۔ دُنیا کا جو دستُور ہے اُس کے موافق میں بھی سمجھا بُجھا کر اپنے گھر گئی ۔ شام کے وقت جب میں بیٹا بیٹیوں ، بہُوؤں اور دامادوں کے سلام سے فارغ ہوگئی تو بیگم کے پاس پہنچی ۔
جاڑوں کے دن تھے اور مَلمَل کے اکہرے دوپٹہ میں بیگم اپنی بُخار زدہ بچی کو لئے اندھیرے گُھپ میں بیٹھی سُکڑ رہی تھی ۔ میری آواز سُنتے ہی بچی دوڑی ہُوئی آئی ، پاؤں سے لپٹ گئی اور کہنے لگی ،
”اچھی اماں ! میری چُوڑیاں دے دو۔“
بچی کا کہنا میرے کلیجے میں تیر کی طرح گُھس گیا ۔ میں نے اُسے گود میں اُٹھا لیا ، تو وہ بُخار میں بُھن رہی تھی ۔ میں اُس معصوم کو گود میں لئے ہُوئے اپنے گھر آئی ۔ لالٹین لے کر بیگم کے یہاں پہنچی تو وہ عِصمت کی دیوی حسرت سے میرا منہ تکنے لگی ۔ برس کا برس دن تھا اور یہ قدرت کا بہترین نمونہ جس کی عُمر اکیس بائیس برس سے زیادہ نہ ہوگی ، خُود غرض مردوں کی جان کو بیوگی کے آنسوؤں سے رو رہی تھی ۔ معصوم بچی رہ رہ کر بُخار میں اُچھل رہی تھی اور اپنی چُوڑیوں کو یاد کر رہی تھی ۔
اس بچی پر جو کچھ ستم ایک ظالم عورت کے ہاتھ سے ٹُوٹے ، مَرنے کے بعد بھی اس کو نہ بُھولوں گی ۔ مجھے افسوس یہ ہے کہ میری عُمر کے یہ دونوں واقعے عورت کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں ۔ کیسا مُبارک ہو گا وہ وقت جب ہم میں وہ عورتیں پیدا ہوں گی جو احسان فراموشی کی جانی دُشمن اور اپنی بہنوں کی سچی خدمت گُذار ہوں گی ۔


THE END
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 08, 2013, 10:18:47 am
تفسیرِ عبادت


حسن حد سے زیادہ سیدھا آدمی تھا ۔ گو وہ مولوی تھا مگر آجکل کا سا نہیں ۔ سچ مُچ کا مولوی ، جس کے ذہن میں چالاکی اور عیاری کا گُذرہی نہ ہو سکتا تھا ۔ انگریزی کے رنگ سے قطعی نا آشنا ، زمانہ کے حال سے بالکل بے خبر ۔ تحصیلِ علم سے فارغ ہوا تو دن بھر یا قرآن و حدیث کا مطالعہ تھا یا مسجد اور نماز ۔ عُمر زیادہ سے زیادہ تیئیس سال ہوگی لیکن داڑھی الله کی عنایت سے ایسی گھن دار اور اتنی چوڑی چکلی اور لمبی کہ پُورا جوان معلوم ہوتا تھا ۔
جس روز سے سُنا تھا کہ والدین شادی کی فکر میں ہیں باغ باغ تھا۔ گھر میں ہوتا تھا تو منہ سے خاموش رہتا لیکن جاتے جاتے کسی بہانے سے ٹھٹک جاتا ، دُور ہوتا اور یہ پتہ چل جاتا کہ شادی کا چرچا ہے تو بِلا وجہ کوئی نہ کوئی ضرورت پیدا کر پاس جا پہنچتا ۔ برابر کی بہنیں ، آس پاس کی بڑی بُوڑھیاں چھیڑتیں ، ہنسی کرتیں تو دلہن کا نام سُنتے ہی باچھیں کِھل جاتیں ، ماں بھی دن بھر گھر کے کام دھندوں میں مصروف رہتی اور آنے جانے والوں کو بھی رات ہی کو فرصت ہوتی ۔ کوئی ساڑھے نو بجے جمگھٹا ہوتا اور میاں محسن کی شادی کے متعلق تجویزیں ہوتیں ۔ اس تذکرہ کا اتنا اثر تو ضرور ہوا کہ مولوی محسن جو عشاء کے بعد ڈیڑھ دو گھنٹہ وظیفہ پڑھتے اور گیارہ ساڑھے گیارہ بجے مسجد سے لوٹتے ، پندرہ بیس روز تو مارا مار نماز پڑھ پڑھا کبھی نفل چھوڑتے ، کبھی سُنتیں اُڑائیں دس بجے گھر آ پہنچتا ۔ مگر جب یہ دیکھتا کہ عورتیں دس ساڑھے دس بجے ہی سے رُخصت ہو جاتی ہیں تو فرض پڑھنے بھی دو بھر ہوگئے ۔ بمشکل تمام ادا کرتا ۔ لوگ دعا مانگ رہے ہیں اور وہ جوتیاں بغل میں دبائے گھر کی طرف سرپٹ دوڑ رہا ہے ۔ آخر خدا خدا کر کے معاملہ طے ہوا اور شادی ہوگئی ۔ اِس نکاح میں محسن کے باپ نے اس کے سوا کچھ نہ دیکھا کہ لڑکی نمازی ، پرہیزگار اور الله الله کرنے والی ہو ، چناچہ کئی لڑکیوں میں سے ایک ایسی ہی منتخب ہوئی اور کنوارے محسن بیوی کے شوہر یا دُلہن کے دُلہا بن گئے ۔
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 08, 2013, 03:02:40 pm
پانچ چار مہینہ تو میاں محسن کی خُوب گذری ۔ نہال نہال تھے کہ خُدا کی رحمت کونے کونے سے نازل ہورہی ہے ۔ بیوی یعنی حبیبہ ، عورت کیا فرشتہ ہے کہ ادھر آدھی رات تک اور اُدھر دن کے دس بجے تک تسبیح ، درُود شریف ، پنجسُورہ غرض ہر بات میں اور ہر کام میں خُدا کے سوا اور کچھ نہیں ۔ مگر چند روز بعد محسن کو اس عبادت کا پتہ لگا ۔ یہ عبادت اُس کے واسطے مُصیبت ہوگئی اور وہ اس طرح کہ باپ کے انتقال کے بعد مدرسہ کی جگہ اس کو ملی اور مدرسہ کا مہتمم ایسا سخت کہ دس پندرہ منٹ بھی ہو جائیں تو فوراً جواب طلب ، یہاں بیوی دس بجے نماز چھوڑیں ۔ مدرسہ کا وقت پُورے سات گھنٹے پانچ بجے تک کا ، روزہ ہو گیا اور وہ روزہ جس میں ثواب کا نام تک نہیں ۔ دو چار دن تو بُھوکا مرا اور اس کے بعد کہنا ہی پڑا کہ ، ” اگر کھانے کا کچھ انتظام ہو جائے تو اچھا ہے ، دن بھر بُھوکا رہتا ہوں ۔“ بیوی : ” تو کیا میں وظیفہ چھوڑ دُوں ؟“ میاں : ” توبہ توبہ ، میں کُفر کی بات کیوں کہوں؟“ بیوی : ” کہہ تو رہے ہو۔“ میاں : ” رات کو پڑھ لیا کرو۔“ بیوی : ” رات کا رات کو پڑھتی ہوں اور صُبح کا صُبح کو۔“ میاں : ” صُبح کا بھی رات کو پڑھ لیا کرو۔“ بیوی : ” مُسلمان ہوں مرنا ہے ۔ تمہارے واسطے خُدا کو نہیں چھوڑ سکتی ۔“ میاں : ” تو میں دن بھر بُھوکا مروں ؟“ بیوی : ” مرضی الله کی ، اُس کے حکم سے زیادہ کچھ نہیں ۔“ میاں : ” پڑھنے میں کچھ کمی کر دو ۔“ بیوی : خوب کمی کی کہی ۔ رات کی یٰسین شریف ، سُورۀ مزمل ، سُورۀ بقر ، سُورۀ یوسف ، صبح کا پنج سُورہ ، میں پڑھتی ہی کیا ہوں ؟ کُوار پتے میں تو میں نے ایک ایک قرآن شریف روز ختم کیا ہے ، اب تو کچھ بھی نہیں پڑھتی ۔“ میاں : ” تو پھر تم ہی کوئی ترکیب بتاؤ ۔“ بیوی : ” میں تو کہتی ہوں کہ تم روزہ روزہ رکھ لیا کرو ۔“ میاں : ” ہمت نہ ہو تو ؟“ بیوی : ” خُدا ہمت دے گا۔“ میاں : ” الله بہتر کرے ۔“
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 08, 2013, 03:14:32 pm
حالات روز روز بڑھتے گئے ۔ ادھر میاں محسن ہفتہ میں پانچ چار مرتبہ روزہ تو نہیں مگر روزہ کی حد کو ضرور پہنچ جاتے ۔ ضرورت تھی کہ محسن کے اماں باوا جو فرشتہ بہو کے متلاشی تھے اور اپنی دانست میں بیٹے کو دُنیا ہی میں حُور دے دی ، کچھ روز زندہ رہ کر دیکھتے کہ لڑکا فردوسِ بریں میں کیسی زندگی بسر کر رہا ہے ۔ مگر دونوں میں سے ایک بھی نہ رہا ورنہ باپ نہیں تو ماں زیادہ نہیں تو فاقوں سے بچا لیتی ۔ یہ نہیں کہ حبیبہ خود کھا لیتی ہو ، وہ واقعی اپنے وظیفوں کے آگے کسی چیز کی پرواہ نہ کرتی تھی اور اس کا یقین تھا کہ مغفرت صرف خدا ہی کی رضامندی ہے اور خدا کی رضامندی نماز روزہ پر موقوف ہے ۔ ایک روز جبکہ ملیریا بُخار کثرت سے پھیلا ہوا تھا ، دوپہر کے وقت محسن کو بھی بُخار چڑھا ۔ ہانپتا کانپتا گھر پہنچا ، دُلائی اوڑھی ، رضائی اور لحاف اوڑھے مگر سردی کسی طرح کم نہ ہوئی ۔ کوئی ڈیڑھ گھنٹے تک تھر تھر کانپتا رہا ، تین بجے ذرا سردی کم ہوئی تو بیوی سے کہا ، ”سرشتہ دار صاحب کہتے تھے کہ ملیریا بخار سب کے واسطے یکساں ہے پھر کیا بات ہے کہ انگریزوں کو کم ہوتا ہے اور ہندوستانیوں کو زیادہ ؟ اس کا سبب صرف یہ ہے کہ ہندوستانی احتیاط نہیں کرتے ۔“ بیوی : ” احتیاط سے کچھ نہیں ہوتا ۔ تقدیر میں بیماری لکھی ہے تو کون مٹا سکتا ہے ، ایک نہیں لاکھ احتیاط کرو۔“
میاں : ” یہ تو صحیح ہے مگر تقدیر کے ساتھ تدبیر بھی ہے جو لوگ مُسہل لے کر پیٹ کی کثافت ان دنوں میں صاف کر لیتے ہیں اور کونین کا استعمال کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی گھروں میں سیل نہیں ہونے دیتے کہ مچھر پیدا ہوں ، وہ ہرگز اس بُخار میں مبتلا نہیں ہوتے ۔“ بیوی : ” اُستانی بشیرن کیوں مریں ؟“ میاں : ”وہ تو موتی جھرا تھا ۔“ بیوی : ” موتی جھرا ہو یا دِق ، یہ دِن ہی برسات کے تھے ۔ “ میاں : ” اب میں کیا کروں ؟ چلا نہیں جاتا جو ڈاکٹر کے ہاں جاؤں ۔“ بیوی : ” رات کو اُتر جائے گا گھبراتے کیوں ہو؟ بھادُوں کا بخُار شبِ برات کی چپاتیاں ہیں کوئی گھر خالی نہیں ۔ صبح کو حکیم کے پاس چلے جانا ۔ “ بُخار موسمی تھا صبح کو اُتر گیا تو محسن ڈاکٹر کے پاس گیا اس نے مسہل کی دوا دی ۔ غریب نے ایک روز کی چھٹی لی اور بیوی سے کہہ دیا مُجھ کو بارہ بجے کھچڑی ملنی چاہیے ، مگر کہا اُس وقت کہ بیوی اشراق کا سلام پھیر حصن حصین کا ختم شروع کر چکی تھیں ۔ ساڑھے بارہ بجے کے قریب محسن کو بُھوک لگی تو کیا دیکھتے ہیں مُستقل مزاج بیوی بدستُور جانماز پر بیٹھی ختم میں مصروف ہے ۔ آج میاں کو خُدا دوست بیوی کی قدر معلوم ہوئی اور جل کر کہا ، ”تو کیا اب بھی فاقہ کروں !“ بیوی : ” ہُوں اُوں اُوں ہُوں ہُوں ۔“ میاں : ” بس تم تو پڑھے جاؤ ، میں سو جاتا ہوں۔“ بیوی : ” اون اون ہوں ہوں ہوں ۔“
بیوی فارغ ہوئیں تو ایک بج رہا تھا ۔ کھچڑی چڑھائی ۔ پکتے پکاتے گھنٹہ پون گھنٹہ اور لگا ۔ دو بجے میاں کھانے بیٹھے اور بیوی ظہر کی نماز کو کھڑی ہوئیں ۔ کھچڑی میں نمک پھیکا تھا مگر مانگتے کس سے اور دیتا کون ، دو چار منٹ راہ دیکھ کر خُود ہی اُٹھے ، کوٹھری میں گئے تو اندھیرا گُھپ تھا چاروں طرف ٹٹولا ، مرچیں ملیں ، دھنیا ملا ، پیاز ملی ، لہسن ملا مگر نمک نہ ملا ۔ بُخار ، مُسہل ، فاقہ ، لوٹتے تھے کہ دیوار کی ٹکر اس زور سے لگی کہ بجلی کُوند گئی ۔ ۔ سر پکڑ کر آ بیٹھے اور پاؤں پھیلا کر لیٹ گئے ۔ بیوی نماز میں میاں غوطے میں ، بلی کو اس سے اچھا موقع کون سا ملتا ، کھچڑی کھائی اور شوربہ پیا ۔
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 08, 2013, 05:24:55 pm
محسن تو کیا فرشتہ بھی ہوتا تو ان متواتر اذیتوں سے اُکتا جاتا ۔ اب اُس نے ذرا ہاتھ پاؤں نکالے ۔ کچھ ملنے جُلنے والوں نے سمجھایا ، کچھ وقت نے بتایا ۔ خاموش چہرہ پر تیوری اور کِھلتے ہوئے ہونٹوں پر غصہ کے آثار نمودار ہونے لگے ۔ مگر بیوی پر نہ اس ہنسی نے اثر کیا اور نہ اُس غصہ نے ۔ وہ اپنی دُھن میں مُنہمک تھی ۔ محسن ہر چند بگڑتا وہ پرواہ نہ کرتی ، جب نوبت یہاں تک پہنچی کہ جنت دُنیا اُس کے واسطے دوزخ کا نمونہ بن گئی تو ایک روز ان حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا جن کی وہ مُرید تھی اور جا کر تمام داستان سُنائی ۔ حبیبہ بھی شوہر کے یہ رنگ دیکھ رہی تھی اور جب اُسے اچھی طرح یقین ہوگیا کہ شوہر کا وجود میری عبادت میں مخل ہے تو سب سے بہتر تجویز یہی سمجھ میں آئی کہ وقت قریب ہے حج کو چلی جاؤں اور اگر ہجرت نہیں تو سال دو سال ہی کے واسطے اس جھگڑے سے چُھٹکارا پاؤں ۔ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ ایسی حالت میں کہ حقیقی چچا حج کو جا رہے ہیں اور خرچ کے واسطے اپنا زیور کافی ہے ، شوہر یا کوئی بھی اس کام میں خلل نہیں ڈال سکتا ۔ چناچہ ایسا ہی ہوا ۔ محسن کی مجال کیا تھی کہ بیوی کے اس قصد کی مخالفت کرتا ۔ دن قریب آ گئے اور حبیبہ نے اپنا سامانِ سفر تیار کرنا شروع کیا ۔ چچا نے آ کر داماد سے دریافت کیا تو خاموشی یا بَجا کے سِوا اُس کے پاس رکھا ہی کیا تھا ۔ وہ بھی لے جانے پر رضامند ہوگئے اور زیور شوہر کی موجودگی میں حبیبہ نے چچا کو فروخت کے واسطے دیا ، وہ بیچ کر لے آئے ۔ یہ جمعرات کا ذکر ہے ۔ ہفتہ کی شام کو روانہ ہونے کا قصد تھا ۔ جمعہ کو حبیبہ بعدِ نمازِ جمعہ سب سے ملنے جُلنے گئی اور رات کو میکے رہ کر ہفتہ کی صبح کو پیر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئی ۔ پیر صاحب محسن کی زبانی مفصل کیفیت سُن چکے تھے ، آدمی بھیج کر اُسے بھی بُلا بھیجا ۔ جب حبیبہ اور محسن دونوں اُن کے سامنے بیٹھے تھے ، انہوں نے حبیبہ سے دریافت کیا ، ”کیا تم نے اپنے شوہر سے اجازت لے لی ؟“ حبیبہ : ” جی ہاں ، اِس نیک کام سے کون مسلمان انکار کرے گا؟“
پیر جی : ” کیوں انکار نہ کرے گا ؟ اگر کوئی انکار نہ کرتا تو تمام دُنیا ہی حج کو چلی جاتی ۔ کچھ حالات ہوتے ہیں ، کچھ معاملات ہوتے ہیں ، جب تک حالات اور معاملات اجازت نہ دیں ہر شخص مخالف رائے دینے کا حق رکھتا ہے اور اگر یہ اس لئے کہ تمہارے شوہر ہیں ، بخوشی تم کو اجازت نہ دیں تو تمہارا حج میری رائے میں حج نہیں ہو سکتا ۔“ حبیبہ : ”ظاہر ہے ان کو تکلیف ہوگی ۔“
پیر جی : ” جب تم یہ جانتی ہو پھر کس طرح حج کا قصد کرتی ہو ؟ تم نے مسلمانوں کے خُدا کو پہچانا نہیں ، میرا یہ مطلب نہیں ہے کہ مُسلمانوں کا خُدا اور ہے بلکہ یہ کہ اِسلام کے اصول تم سمجھ نہ سکیں ، اسلام میں جس قدر خُدا کے تعلقات رکھے گئے ہیں ، وہ محض دُنیوی زندگی کی فلاح و بہبُود کے واسطے نہ کہ اس طرح کہ ایک آدمی دُنیا کو چھوڑ چھاڑ پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھا الله الله کرتا مر جائے ۔ تم بحیثیت بیوی کے اِن کی فرمانبردار ہو اور یہ بہ حیثیت شوہر کے تمہارے غمخوار اور مُشیر کار ۔ ان کا فرض ہے کہ تم کو خوش رکھیں اور تمہارا کام ہے کہ ان کو رضا مند کرو ۔ یہی اصلی حج ہے ۔ اگر تم ان کو رضامند رکھ کر مریں تو میں یقین دلاتا ہوں کہ تمہارا حج ہو گیا ۔ میں تو سُنتا ہوں کہ دن رات وظیفے اور چلّوں میں ایسی گُھسی ہو کہ گھر کے کام کاج تک کی پرواہ نہیں کرتیں ۔ شوہر فاقہ سے ہو تو ہو مگر تمہارے چِلّہ اور وظیفہ میں فرق نہ آئے ۔ یہ تو جنت کے نہیں دوزخ کے سامان ہیں ۔ تم نے شوہر کی زندگی برباد کر دی اور توقع یہ رکھتی ہو کہ خُدا کی رضامندی حاصل کروں ۔ تم اسلام کو بدنام کرتی ہو اور میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ
تمہاری مثال دوسروں کے واسطے نہایت مُضر اور تکلیف دہ ہے ۔ تم اسلام کو نقصان پہنچا کر گنہگار ہورہی ہو ۔ کیا تم کو معلوم نہیں کہ ایک شخص جو شب و روز عبادت کرتا تھا اُس سے سرورِ دو عالم (ص) نے صاف فرمایا کہ وہ کرو جو میں کرتا ہوں، یعنی دُنیا کی ضرورتیں بھی پُوری کرو اور دین کی بھی ۔ کیا خود حضورِ اکرم یا آپ کے احباب و تابعین نے دن رات خُدا کی عبادت کی اور دُنیا سے قطع تعلق کر لیا ، کیا خُدا اور اُس کے رسول کا ایسا حکم کہیں موجود ہے ؟ تمہاری جنت ، تمہاری عبادت تو صرف یہ ہے کہ محسن تم سے راضی ہو اور تم اس سے خوش ۔ میں فتوٰی دیتا ہوں کہ تمہارا یہ حج ہرگز قبول نہیں ہو سکتا ۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ جس وقت حالات اجازت دیں گے ، موقع اور محل ہوگا ، خود محسن اس فرض کو ترک کرنے والے نہیں ۔ دونوں میاں بیوی جانا اور ہنسی خوشی اپنا فرض ادا کرنا۔“
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 08, 2013, 05:58:12 pm
پیر صاحب کی نصیحت حبیبہ کے دل میں گڑ تو گئی مگر ایک عُمر کی پڑی ہوئی عادت آسانی سے چُھٹنی محال تھی ۔ اُس نے رفتہ رفتہ اپنے وظائف میں کمی کی اور سال بھر کے اندر ہی اندر یہ کیفیت ہوئی کہ فرائض کے بعد وہ سب سے مقدم محسن کی خدمت سمجھتی تھی ۔ اور اس سے فارغ ہوکر جتنا وقت بچتا تھا وہ عبادت میں صرف کرتی تھی اور اس پر محسن کو بھی کسی قسم کا اعتراض نہ تھا اور وہ خُوش تھا کہ بیوی کی اپنی خواہش بھی پُوری ہورہی ہے ۔ اور اس کو بھی کسی قسم کی تکلیف نہیں ہورہی ۔ محسن غریب ، فقیر نہ تھا ۔ خاصا اوسط درجے کا آدمی تھا ، مگر جب تک بیوی وظیفوں میں مصروف رہیں گھر کی خاک اُڑ رہی تھی ۔ بریانی اور متنجن بھی ہوتا تھا تو دال اور چٹنی سے بد تر ۔ محسن پانی کے واسطے بیٹھا ہے ، نوالہ حلق میں اٹک رہا ہے اور بیوی تسبیح میں مصروف ۔ اب اس تغیر نے محسن ہی کی تمام تکلیفوں کا خاتمہ نہیں کیا ۔ بلکہ خُود حبیبہ کو بھی معلوم ہوگیا کہ میں جو کچھ کر رہی تھی وہ نا درست تھا اور مُسلمان عورت کا کام یہ ہی نہیں ہے کہ وہ محض نماز روزہ کر لے اور دُنیا کی تمام ضرورتوں سے بے فکر ہو جائے ۔ ایک دن جب چُھٹی کے دن پانی زور و شور سے پڑ رہا تھا ۔ حبیبہ کہنے لگی ، ”دس بج گئے ، پانی تو تھمتا نہیں ، پکنے کا کیا کروں ؟“ محسن : ” میں تو سمجھوں بیسن موجود ہے ، بیسنی روٹی پکا لو ، ماما بھی آج نہیں آئی۔“ حبیبہ نے اُٹھ کر آٹا گُوندھا اور روٹی پکا کر آگے رکھی ۔ دو آدمیوں کا پکنا ہی کیا ڈیڑھ پاؤ آٹا کافی تھا۔
حبیبہ اور محسن دونوں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کی اتفاق سے پیر صاحب بھی آ گئے ۔ ہر چند حبیبہ اُٹھنے لگی مگر اُنھوں نے نہ مانا اور کہا ، ”دونوں کھانا کھا لو ۔“
اس وقت دستر خوان پر بیسنی روٹی ، آم کا اچار اور لہسن کی چٹنی تھی ۔ پیر جی نے فرمایا ، ”میاں صبح کو یہاں آیا ہوا تھا ، مینہ تھمتا نہیں ۔ خیال آیا کہ تمہارے پاس بھی ہوتا چلوں ۔ مجھے اس وقت بہت ہی خوشی ہوئی اور میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ چٹنی روٹی جو تم دونوں میاں بیوی مل کر کھا رہے ہو ، بریانی ، متنجن سے ہزار درجہ بہتر ہے ، اور بی حبیبہ تمہاری اس عبادت سے یہ حالت افضل اور بے شک خُدا کی رضامندی ہے ۔“


THE END
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 10, 2013, 03:05:39 pm
شہیدِ معاشرت


عرفان کی شادی کو پُورا ایک سال بھی نہ ہوا تھا کہ افروز کی طرف سے شکایت پیدا ہوگئی ۔ اِس شکایت کا حقیقی ذمہ دار کون ہے یہ فیصلہ واقعات کریں گے کہ فقط افروز اس کی وجہ نہیں ۔ اگر وہ سیر بھر ہے تو آدھ سیر عرفان اور پان سیر مُسلمان ۔ بیاہی گئی تو تندرُست تھی چھڑی تھی اور دل کو یہ یقین تھا کہ نکاح کے معنی شوہر کی فرمانبرداری ہیں ، جتنی ممکن تھی کی ۔ خُدا کے فضل سے گھر میں نوکر چاکر ، لونڈی ماما سب موجود تھے مگر نہ معلوم اُس الله کی بندی کو کیا مزہ آتا تھا کہ عِرفان کا کام آدھی ہو یا پچھلا اپنے ہاتھ سے کرتی اور دُوسرے کو ہاتھ نہ لگانے دیتی ۔ چند روز تو یہ چاؤ چونچلے خوب نبھے مگر جب بچہ پیدا ہونے میں دو چار روز ہی رہ گئے اور چھکڑا بن گئی تو جگہ سے ہلنا دوبھر تھا ۔ عرفان کی نوعمری بشمول بیوقوفی غرض وجہ جو کچھ ہو نتیجہ یہ کہ وہ بیوی کی مجبوری کو تساہل سمجھنے لگا اور دل ہی میں نہیں کئی مرتبہ اُس کے منہ پر بھی کہہ دیا ۔ شوہر کہتا نہ کہتا ۔ ہاتھ سے پاؤں سے ، ترکیب سے ، تدبیر سے ، اب جو بھی اِمکان میں تھا افروز اس سے باہر نہ تھی ۔ ایک روز رات کے وقت شاید دس بجے ہوں گے
، عرفان کھانا کھا رہا تھا اور افروز پاس بیٹھی ، عرفان کو اچّھو ہوا ، بڑی بی سامنے موجود تھیں مگر اُونگھ رہی تھیں ، صُراحی دُور تھی ، افروز اُٹھی مگر مُصیبت سے اُٹھی اور مشکل سے چلی ۔ جب تک پانی آئے اچھو اور تیز ہوا اور اِس اَور کا کہ آنکھیں نکل پڑیں ، پانی آیا مگر دیر میں اور دقت سے ۔ عرفان نے پانی بھی پی لیا اور اچھو بھی جاتا رہا مگر آدھے پیٹ اُٹھ گیا اور کہنے لگا ، ”تم تو بالکل ہتیا ہوگئیں ۔ عورتوں کی تکلیف تو عارضی ہوتی ہے ، مَردُوں کو ہر وقت ایسی ایسی اَذّیتیں پیش آتی رہتی ہیں اگر وہ بھی تُمہاری طرح ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں تو دُنیا کے کام ہی ٹھنڈے ہوں ، ابھی میرا دَم نکل جاتا ۔ بھلا غضب خُدا کا ،گھنٹہ بھر میں پانی لائی ہو ۔“
یہ سال بھر میں پہلا اتفاق تھا کہ افروز نے شوہر کی ایسی گفتگو سُنی ، خاموش ہوگئی کوئی جواب نہ دیا ۔ عرفان بڑبڑاتا باہر چلا گیا اور وہاں سے کہلا بھیجا کہ میں چند روز کے واسطے باغ جاتا ہوں ۔
اس واقعے کی ذمہ داری کِس پر ہے یہ ایک ٹیڑھا سوال ہے ، قُصور عرفان کا ہے یا افروز کا ، اس کا جواب مشکل ہے ، ہم تو جہاں تک غور کرتے ہیں ہماری رائے میں قُصوروار ہیں تو دونوں اور بے قُصور ہیں تو دونوں ۔ اس سلسلے میں اگر یہ کہا جائے تو شاید بے جا نہ ہوگا ۔ افروز اگر شروع ہی سے انجام کو ملحوظ رکھتی اور عرفان کی عادتیں اس حد تک نہ بگاڑتی کہ وہ مزے سے پلنگ پر لیٹا ہوا ہے ، مامائیں سو گئیں اور خُود لالٹین لیکر مکان کا دروازہ بند کرنے جارہی ہو ، تو غالباّ یہ وقت نہ آتا ۔
لیکن جب اُس کے اِس تعلق کا مقصد ہی عرفان کا دل فتح کرنا تھا تو وہ اس سے بھی چوگنی خدمت کرتی اعتراض نہیں ۔ خیر اب یہ فیصلہ سننے والے اور پڑھنے والے کریں کہ ذمہ دار کون ہے ، میاں یا بیوی ؟ ہاں اتنا کہنے میں ہمیں بھی باک نہیں کہ عرفان کے منہ پر آنکھیں ہوتے ساتھے اندھا تھا ۔ نوکر اور غُلام تک مجبُوری میں معذُور ہیں ۔ ممکن ہے افروز کا درجہ اُس کی رائے میں نوکر سے بھی بَدتر ہو اور ممکن کیا ہے یقیناّ تھا ورنہ یہ نوبت کیوں آتی ۔
عرفان کے جانے کے بعد افروز معاملہ کی نوعیت پر غور کرنے لگی تو اُس کو قُصور تو نہیں مگر اپنی غفلت ایمان کے آئینہ میں صاف نظر آرہی تھی ۔ پہلی یہ کہ کھانے سے پہلے پانی کی صُراحی اپنے پاس کیوں نہ رکھوائی اور دُوسری یہ کہ اگر خُود معذُور تھی تو ماما سے فوراّ پانی کیوں نہ مانگا ۔ سوچتے سوچتے اُس کا تخیّل اس سلسلے میں شادی کے مسئلہ پر ٹھٹکا اور وہ بالآخر اس نتیجے پر پہنچی کہ ہمارے موجودہ تمدن کو ملحوظ رکھتے ہوئے شادی کی ضرورت لڑکے سے زیادہ لڑکی کو ہے ، غلط ہے یا صحیح یہ دُوسری بحث ہے مگر حقیقیت یہی ہے ۔ کُوار پتہ کا زمانہ طویل ہونے سے جو کرب لڑکی کے والدین کو ہوتا ہے ، لڑکے کے نہیں ہوتا ۔ لڑکے والوں کی جو حقیقیت ہے اُس کو ارمان کہہ سکتے ہیں ، خواہش کہہ سکتے ہیں ، تلاشِ مُسرت کہہ سکتے ہیں ، لیکن لڑکی والوں کی کیفیت تعبیر ہوگی ۔ ایک اضطراب سے ایک کرب سے
ایک پریشانی سے ۔ اِن حالات میں عرفان کا اپنی آمدنی میں میرا بار ڈالنا اور اُس کو بآسانی گوارا کرنا اس وقت جائز ہے کہ میں اس کے واسطے وجہِ راحت ہوں ۔ اگر مجھ سے اس کو آرام نہ پہنچے تو وہ دیوانہ ہے جو میرے حقوق ادا کرے اور میں بے غیرت کہ اپنے حقوق کا مُطالبہ کروں ۔
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 10, 2013, 04:45:01 pm
عرفان باغ میں پہنچا تو راستہ بھر اِن ہی خیالات میں مُستغرق اور وہاں پہنچ کر اسی اُدھیڑبن میں مُنہمک ۔ وہ سوچ رہا تھا کہ آخر یہ نقصان جو مجھ کو پہنچا یعنی خاصی اچھی بھلی چنگی خدمت کرنے والی بیوی جس نے سال بھر تک نوکر اور ماما ، عزیز اور اقارب سب کو پَرے بٹھا دیا بالکل بیکار ہوگئی ۔ اس کی کیا تلافی کروں ۔ اگر افروز شروع ہی سے مجھ کو اس راحت و آسائش کا عادی نہ بناتی تو مجھ کو شکایت نہ تھی ۔ میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ وہ مگراپن کرتی ہے اور جان بُوجھ کر کام چور بنتی ہے ، مگر ہاں یہ شاید کہہ سکتا ہوں کہ وہ اگر چاہے تو اس سے زیادہ کر سکتی ہے جتنا کرتی ہے آخر اسی حالت میں پرسوں اپنے دوپٹہ پر کنارہ ٹانکا اور میرے شامی کباب ماما کے سُپرد کر دیئے ۔ اِن دونوں مُسلمان میاں بیوی کے خیالات سننے اور یہ دیکھنے کے بعد کہ ایک مُسلمان لڑکی کی گُھٹی میں یہ بات پڑی ہوئی ہے کہ وہ صرف مرد کی خدمت کو بنائی گئی ہے ، مساوات تو درکنار ، وہ بُھول کر بھی شوہر کے مقابلہ میں اپنی ہستی کو ذرہ بھر وقعت نہیں دے سکتی ۔ اور ایک مُسلمان شوہر کو یقینِ کامل ہے کہ بیوی بھی ایک قسم کی لونڈی ہے اور اُس کا یہ فرض ہے کہ دن رات میری خدمت میں مصروف رہے ، کیا کوئی مسلمان یہ کہنے کی جُرات کر سکتا ہے کہ عورت کی وقعت اسلام نے سب سے زیادہ کی اور اگر یہ حقیقت ہے تو کیا قوم اس پر عمل کر رہی ہے ؟ اور اگر نہیں تو اس کی ذمہ داری شوہروں پر ہے یا بیویوں پر ؟
آسمان پر اب تک پانی وہونتال برس چکا تھا ، سیاہ گھٹا چھائی ہوئی تھی ۔ بجلی اور بادل کے خاموش ہونے پر عرفان نے اپنی پلنگڑی باہر صحن میں بچھوائی ، اسی اُلجھن میں لیٹا اور اسی چکر میں سویا ۔ آنکھ لگی تو ایک عجیب خواب نظر آیا ، دیکھتا کیا ہے ۔ ایک عظیم الشان جیل خانہ میں کھڑا ہے جہاں ہر طرف قیدی ہی قیدی بھرے ہیں ۔ اُن کے پاؤں میں بیڑیاں ہیں گلے میں طوق ہیں ۔ دوپہر کا وقت ہے ، گرمی کا موسم ، لُو کےتھپیڑے زور و شور سے چل رہے ہیں ، مگر ان قیدیوں کو مُشقت سے دم بھر کو چُھٹکارا نہیں ۔ ایک جمعدار آتا ہے دوچار ڈنڈے لگا کر آگے بڑھ جاتا ہے ، دوسرا آتا ہے ایک آدھ لات لگا سیدھا ہو لیتا ہے ، جو برابر سے گذرتا ہے وہ بھی بغیر گُھرکی اور درُشتی کے بات نہیں کرتا ۔ قیدی تکلیف سے اُکتا رہے ہیں ، مگر مُشَقّت میں کمی نہیں کرتے ، سر سے پاؤں تک پسینہ میں شرابور ہیں لیکن تیوری پر بل نہیں آتا ، پِٹ رہے ہیں اور ہنس رہے ہیں مر رہے ہیں اور کر رہے ہیں ۔ عرفان یہ سماں دیکھ کر سخت متعجب ہوا اور دل میں کہنے لگا یہ کیسے سنگدل لوگ ہیں کہ اِن بے کس قیدیوں پر رحم نہیں آتا ۔ اور یہ قیدی کتنے سیدھے اور کیسے بھولے ہیں کہ ہر تکلیف میں خوش اور ہر اذیت میں رضامند ہیں ۔ دن فنا ہو کر رات ہوئی ، رات ختم ہوکر فجر ، مگر اِن بَد نصیب قیدیوں کی اذیت کا خاتمہ نہ ہوا ۔ کمال یہ تھا کہ مُحافظ اور نگران خُود زندگی کا لُطف اُٹھا رہے ہیں مگر اُن پر ہر راحت حرام کر رکھی تھی ، دروازے چاروں طرف کُھلے ہوئے تھے ، راستہ عام تھا مگر قیدی اس جیل خانہ کے ایسے عاشق تھے کہ یہاں سے ان کے جنازے تک نکلتے تھے مگر وہ خود نکلنے کا نام نہ لیتے تھے ۔
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 10, 2013, 04:48:48 pm
عرفان چاہتا تھا کہ یہاں کا حال کچھ معلوم کرے کہ ایک نووارِد کو دیکھا جو داروغہ سے ایک قیدی کو آزاد کرا رَہا تھا ، بیتاب ہو کر پُکارا اور خاموش ہوگیا ۔ اب اور بھی زیادہ عرفان کو حیرت ہوئی ۔ داروغہ آزادی پر رضامند تھا اور بہ خُوشی قیدی کو دے دینے کو آمادہ ، مگر اُس کے آرام و آسائش کی نہایت کڑی شرطیں لگا رہا تھا ۔ نووارِد نرم آدمی تھا قیدیوں کی مُصیبت پر دل پسیج گیا اور جو جو شرائط داروغہ نے پیش کیں سب منظُور کر لیں ۔ عرفان کو سکتہ تھا کہ منجملہ بہت سی شرائط کے اس قیدی کی بیع دو ہزار رُوپے کی ہُوئی اور جب نووارِد رُوپے دے چکا تو داروغہ نے اُس قیدی کو جس پر اب تک غلاموں کی طرح حکومت کر رہا تھا بُلا کر گلے لگایا اور کہا تُم آج ہم سے رُخصت ہوتے ہو ، یہ رُوپیہ اپنے پاس رکھو ۔ خُدا تمہارا مالک شریف اور رحیم ہو ، تمہاری اس وقت تک کی خدمات کا پروانہ ہے ، جاؤ خُدا تم کو خوش رکھے ۔ نووارِد آگے آگے اور قیدی اُس کے پیچھے پیچھے اور دونوں کے پیچھے عرفان ۔ کیفیت دیکھتے چلے جارہے تھے کہ مالک کو پیاس لگی اور اُس نے قیدی سے کہا ، جا کنوئیں سے پانی بھر لا ۔ رات کا وقت ، اندھیرا گُھپ ، نامعلوم جگہ ، ناواقف آدمی ، بھٹکتا بھٹکتا گیا اور پانی لایا مگر بجائے شاباش کے مالِک نے اُس قیدی کے دیر لگانے پر بُہت بُرا بھلا کہا ۔ عرفان اُس مالک کی حرکت پر جَل رہا تھا کہ اُس نے قیدی سے پاؤں دبانے کو کہا ۔ غُلام کو عُذر کیا ہو سکتا تھا ، دبانے بیٹھا تو حُکم دیا ، ایک ہاتھ سے پاؤں دبا ایک ہاتھ سے پنکھا جَھل ۔ دو گھنٹے بعد مالک بیدار ہوا تو گرمی سخت تھی ۔ قیدی کے ایک لات ماری اور کہا سیدھی طرح پنکھا کیوں نہیں جَھلتا ۔
عرفان رنگ دیکھ کر مالک پر دل ہی دل میں لعنت ملامت کرنے لگا ۔ اب صبح ہو چکی تھی ۔ مالک نے قیدی کو کھانا پکانے کا حُکم دیا ، مگر افسوس قیدی مارا مار کھانا تیار کر کے لایا تو مالک کی ناپسند تھا ۔ کہیں نمک کم تھا تو کہیں مِرچ زیادہ ۔ قیدی خاموش کھڑا تھا ۔ مالک نے کھانا اُٹھا کر پھینک دیا اور یہ کہہ کر باہر چلا گیا ، ”جب تک میں نہ آؤں دروازہ کُھلا اور تُو جاگتا رہے ۔“ اب عرفان سے ضبط نہ ہو سکا ، وہ آگے بڑھا اور مالک سے کہنے لگا ، ”حضرت اس سے تو یہ بدنصیب قیدی جیل خانہ ہی میں اچھا تھا ۔“ عرفان کے اتنا کہتے ہی قیدی اور مالک دونوں غائب تھے ، البتہ دیوار پر موٹے موٹے حرفوں میں یہ لکھا ہوا تھا ۔
”بیوقوف دُوسروں کو ٹوکتا ہے اور خُود کرتا ہے ۔“
”تُو بھی تو اِسی گُناہ کا مُرتکب ہے ۔ وہ بیکَس قیدی جن پر تیرا دِل کُڑھا ، مُسلمانوں کی کُنواری بچیاں ہیں جو حقیقتاً تو نہیں اس لئے کہ کلیجے کا ٹکڑا ہیں مگر حالات کے اعتبار سے قیدیوں ہی کے برابر ہیں ۔ صبح سے شام تک اور شام سے رات تک گھر کے کام کاج میں جُتی رہیں ، پُتلی کی طرح ایک ٹانگ سے پھریں ، ماں باپ کا غُصہ اِن پر ، بڑے بہن بھائیوں کی فضیحتی اِن پر ، کہیں آنے جانے کا حُکم اِن کو نہیں ، کسی سے ملنے جُلنے کی اجازت اِن کو نہیں ، کیا یہ حالت قیدیوں کی سی نہیں ہے ؟ اس حالت پر اعتراض نہیں ؟ زمانہ کا تقاضہ اور وقت کی ضرورت سب صحیح ، مگر کیا یہ رحم کی مُستحق نہیں ؟ اِسی کی سزاوار ہیں کہ بھائی کے موزے میں ٹانکا نہیں بھرا تو ہزار فضیحتیں اور اباجان کے کام کو دیر ہوگئی تو ہزار ملامتیں ۔ غور کرو تو شادی ایک قسم کی آزادی ہے کہ وہ احتیاط اور روک ٹوک سب ختم ہوئی ، اب جس نے آزاد کرایا وہی صیّاد ہو جائے تو اُس سے خُدا ہی سمجھے ۔“
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 10, 2013, 05:33:33 pm
عرفان اتنا ہی پڑھنے پایا تھا کہ آنکھ کُھل گئی اُس وقت دل کی حالت کچھ اورہی تھی ۔ افروز کی مجبُوری اور اپنی زیادتی سامنے تھی اور رَونگٹا رونگٹا اپنے اُوپر ملامت برسا رہا تھا ۔ کہتا پر نکل آئیں تو اُڑ کر جاؤں اور افروز سے معافی مانگوں ۔ مُشکل سے رات کاٹی ، خدا خدا کر کے صبح ہوئی ، تو کیسا کھانا اور کس کا پینا اور کس کا ناشتہ ، آندھی کی طرح چلا اور بگولے کی طرح پہنچا ۔ نادم و شرمسار اندر گیا تو سب سے پہلے اپنے بچہ پر نظر پڑی جو ایک انّا کی گود میں تھا ، اور اس کے بعد ایک پرچہ پڑھا جو چھوٹی بہن نے لا کر دیا ، جس میں لکھ تھا ،
میرے سرتاج واقعی مجھ سے خطا ہوئی اور میں قصُور وار ہوں مگر آپ اپنے رحم و کرم سے لللہ معاف کر دیجئے ۔ آپ آقا ہیں میں کنیز ہوں ۔ زبردست اور کمزور کی لڑائی کیا ، مجھے کافی سزا مل گئی ہے کہ آخر وقت بھی آپ کی صُورت نہ دیکھ سکی ، میرا بچہ آپ کے پاس امانت ہے ، اِس کی دلجوئی کیجئے ، یہ خُدا کے سُپرد ہے ، میری حالت بگڑ گئی ، اماں جان سے ہر چند درخواست کی ، اُنھوں نے لیڈی ڈاکٹر کو نہ بُلایا ۔ ہندوستانی دائی انگھڑ تھی ، ظالم نے جان لے کر پیچھا چھوڑا ، مُجھ کو اپنے قصُور کی کافی سزا مل گئی کہ دَم آنکھوں میں ہے مگر نگاہ دروازہ پر اور کان آواز پر ۔ دُنیا کے آئندہ تعلقات خُدا کرے آپ کے واسطے خُوشگوار ہوں مگر میری آخری التجا ہے کہ اِس درخواست کو پڑھتے ہی میری خطا معاف کر دیجئے ، میں عذابِ آخرت سے محفوظ رہوں ۔ ارمان تھا کہ اپنے ہاتھ سے پیوندِزمین کرتے ، دِل کی حسرت دل ہی میں رہی ، اچھا میرے سرتاج ! دونوں باپ بیٹوں کا خُدا نگہبان ۔
پرچہ پڑھتے ہی عرفان کو سناٹا آگیا ۔ معلوم ہوا کہ افروز کو مَرے تیسرا روز ہے ۔ قبر پر گیا مگر زندگی کی نخوت ایمان کا ایسا نقصان کر چکی تھی جس کی تلافی دوسری زندگی بھی نہ کر سکتی تھی ۔


THE END
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 11, 2013, 12:24:00 pm
توصیف کا خواب


یہ صرف تعلیم ہی کا نتیجہ تھا کہ سُلطان توصیف ایک غریب باپ کی بیٹی اور معمُولی ماں کی بچی ، داؤد جسیے مُتموّل تاجر کی بہُو بنی ۔ باپ کے بعد اُس کا شوہر مُوسٰی ایک کروڑ پتی سوداگر تھا ، جس کی دوچار نہیں بیسیوں کوٹھیاں اور دس پانچ نہیں سینکڑوں کارخانے اِدھر اُدھر موجود تھے ، بنگال کا شاید ہی کوئی شہر ایسا ہوگا جہاں مُوسٰی کی تجارت نہ ہو ۔ اِس شادی کا سبب اور نکاح کی وجہ توصیف کی تقدیر یا مُوسٰی کی قدر دانی ، تعلیم کا انجام یا شرافت کا نام جو کچھ بھی ہو اِس نکاح کا نباہ اور اِس کاج کی لاج کا سہرا توصیف کے سر ہے ۔ خُدا کی شان نظر آتی تھی کہ وہ مُوسٰی جس نے کبھی خُدا کے سامنے سر نہ جُھکایا ہو ، بیوی کا کلمہ پڑھ رہا ہے ۔ اور وہ توصیف جس کے جہیز کی کُل کائنات ایک صندوق برات کے ساتھ تھا ، دن رات جواہرات میں کھیلتی ، یہ صرف عِلم ہی کا طُفیل ہے اور تعلیم کا صدقہ تھا کہ مَردانہ میں نکاح ہورہا ہے ، زنانہ میں مہمان بھرے ہیں اور توصیف سُلطان اَس خیال میں غرق ہے کہ بیل منڈھے چڑھتی دکھائی نہیں دیتی دولت جس کے کاٹے کا منتر نہیں ، صُورت جس جادُو کا اُتار نہیں ، دونوں غائب ۔ اب لے دے کے رہی سیرت ، محبت ، عادت ، خصلت ، یہ ہی ہتھیار ہیں جن پر فتح کا دارومدار ہے ، خُدایا تُو ہی بیڑا پار کرے تو ہو ، بظاہر تو یہ کشتی منجدہار میں ڈُوبی ۔
سُسرال پہنچی تو رئیسانہ شان ، امیرانہ ٹھاٹ ، نوکروں کا زور ، ماماؤں کا شور ، دولت کی کثرت ، روپیہ کی ریل پیل ۔ چاہیے کہ باغ باغ ہوتی ، نہال نہال ہوتی ۔ مُطلق نہیں ، ہر وقت اپنی دُُھن میں غرقاب اور فکر میں شرابور ۔ مُوسٰی امیر کا بچہ لاڈلا اور اکلوتا ۔ دنیا اس کے قدموں میں آنکھیں بچھائے اُلفت سے نا آشنا ، محبت سے ناواقف ، فرائض کی وقعت اور حُقوق کی تربیت اِس کی نگاہ میں ہو ہی نہ سکتی تھی ۔ ایسے شوہروں کے دل میں گھر کرنا ، لوہے کو نرمانا اور پتھر کو جونک لگانا تھا مگر بندگی کرنے سے کہتے ہیں خُدا ملتا ہے ۔ توصیف نے اپنے سامنے صرف رضامندی شوہر کا مقصد رکھا اور اُس کے حصول کے لئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کیا ۔ یہ صحیح ہے کہ تعلیم کی طاقت بھی کچھ کم وزن نہ رکھتی تھی مگر بحیثتِ مجموعی مُوسٰی کا پاسہ بہت زبردست تھا ۔ وہ تمول کے ساتھ دولتِ حُسن سے بھی مالا مال تھا ، اور اُس کا حق توصیف کے مقابلہ میں قطعاً فائق تھا ۔ ان حالات میں بیوی کو قطعاً اس کے سوا چارہ نہ تھا کہ وہ صُورت کی کمی اطاعت سے پُوری کرے ۔
نکاح کے وقت موسٰی کے ماں اور باپ دونوں زندہ تھے اور دونوں عاشقِ زار ۔ وہ فطرتاً گوارا ہی نہ کرسکتے تھے کہ بچہ کے دل پر محبت کا چرکہ تو درکنار آنکھ میں ملال کا مَیل تک آئے ۔ لیکن جال اور دانہ دونوںسامنے تھے اور موسٰی کی کیفیت اس وقت اُس پرند کی تھی جو پھندے میں پھنستے ہی جھٹکا مارے اور پَھڑ پھڑا کر نکل جائے ۔ اگر توصیف اُس وقت پُورا لاسہ نہ لگاتی تو مُوسٰی چلا ہی تھا ۔ اُس نے ایک تین ہی مہینہ میں وہ خدمت کی کہ اکیس برس کی کِھلائی بُڑھیا کی خدمات دل سے بُھلا دیں ۔ ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ توصیف کا عورت ہونا اُس کی کمزوری نہ تھی بلکہ دوسرے سامان تھے ، دوسرے اسباب تھے ، دوسرے باعث تھے ۔ شکل وصورت کے اعتبار سے وہ کمزور اور یقیناً کمزور تھی ۔ اس گڑھے کو بھرنا اس کا فرض تھا ۔ اطاعت سے بھرا ، خدمت سے بھرا ، سچ بھرا ، جُھوٹ بھرا غرض جس طرح سے بھرا جائز اور درست ۔
باوجود اس اعتراف کے مُوسٰی اور توصیف کے حقوق برابر تھے ۔ ہم توصیف کی اس دُور اندیشی کی لاریب داد دیں گے کہ اُس کا یقین ، اُس کا ایمان ، اُس کا عقیدہ ہمیشہ یہ رہا کہ اُس کے گھر میں میرا اضافہ با معنی ہے اُس وقت ، جب میری ہستی اضافہ کرے مُوسٰی کی راحتوں میں اُس کی خوشیوں میں اُس کی مسرتوں میں ۔ اِس یقین کا ثمر ، اِس عقیدہ کا نتیجہ ، اِس ایمان کا انجام ظاہر تھا ، روشن تھا ، صاف تھا کہ ایک موسٰی کیا ، ادنٰی سے اعلیٰ اور چھوٹے سے بڑا ہر متنفس اُس کا گرویدہ تھا ۔
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 11, 2013, 03:16:30 pm
توصیف کی زندگی کا یہ دور اور بے فکری کے دن پانچ سال تک مُستقل رہے ۔ چھٹے سال ساس کی موت نے اُس کی حالت میں ایک خاص تغیر کیا اور اب داؤد کی بہُو گھر کی ملکہ بنی ۔ اس اکرام و اعزاز نے ایک اور ذمہ داری بڑھائی اور اب خُسر کی راحت و آسائش کا بار بھی اُسی کے سر تھا ۔ اس ترازُو میں بھی توصیف ٹاکم ٹوک اُتری اور اِس خوش اسلوبی سے فرائض ادا کئے کہ داؤد بیٹے سے زیادہ بہُو کا دلدادہ تھا ۔ توصیف کی یہ خدمت یا اطاعتِ خیال یا فکر عارضی اور چند روزہ تھی مگر اس کی تہہ میں بیش بہا خزانے اور بیش قیمت جواہرات پوشیدہ تھے ۔ رُوحانی یا جسمانی اذیت جو اس سلسلہ میں توصیف نے بُھگتی فانی تھی ، مگر اس کے پھل رہنے والے اور پھول مہکنے والے تھے ۔ بڈھا داؤد قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھا تھا دو ہی سال میں رُخصت ہو گیا ، لیکن اس قلیل مدت میں توصیف نے وہ زیور جمع کر لیا جو آخر وقت تک جگمگایا اور وہ پُھول چُنے جو مرتے وقت تک نہ مُرجھائے ۔
داؤد کے بعد توصیف اب گھر کی ملکہ تھی ۔ جائداد ، علاقہ ، رُوپیہ پیسہ ہر چیز کی مالک اور مُوسٰی کہنے کو خدائے مجازی اور حقیقتاً معمولی غلام ۔
بُرا ماننے کی بات نہیں ، مشاہدہ ہے کہ مسلمانوں کے دورِ موجودہ میں دَولت لامذہبی کی جڑ ہے ۔ مسلمان دولتمند ہو کر نماز کا پابند کم ہی دیکھنے میں آیا ہے ، غریب جس نے مُفلسی میں تہجد اور اشراق تک ناغہ نہ کی ، مالدار ہوتے ہی مذہب کو طاق میں رکھ خدا سے ایسا فرنٹ ہوا کہ کبھی واسطہ ہی نہ تھا ۔ اس اصول کے تحت مُوسٰی کا اسلام روشن اور ظاہر مگر ہم اسی کو غنیمت سمجھتے ہیں کہ اس نے بیوی کی نماز روزہ پر کبھی ناک بَھوں نہ چڑھائی اور توصیف کی عبادت میں جو آسمان اور زمین کا فرق تھا اُس کی ذمہ دار وہ خُود تھی یا اُس کی دولت ۔ دریائے ہگلی کے کنارے ایک عظیم الشان کوٹھی ہے ، جس کے چاروں طرف ایک سرسبز اور خوشنما باغ مہک رہا ہے جس میں توصیف اپنے شوہر اور چار بچوں سمیت رہتی ہے ۔
کسی قسم کا رنج و غم اُس کے پاس آ کر پھٹکتا تک نہیں ۔ داؤد نے یہ کوٹھی کئی لاکھ رُوپے کے صَرف سے ایک گاؤں میں بنوائی تھی اور دُور دُور کے معماروں نے اپنی صنعت کے ایسے ایسے نمونے دِکھائے تھے کہ آدمی دیکھ کر دنگ رہ جاتا تھا ۔ رنگ برنگ کے پُھولوں سے اِس ایوان کو جنت بنا دیا تھا ۔ مِیلُوں تک ہوا ان کی خوشبو سے مہکی رہتی تھی ۔ طائرانِ خوش الحان کا نغمہ آبشاروں کی سُریلی آوازیں ، دلوں میں خواہ مخواہ اُمنگ پیدا کرتی تھیں ۔
بہتر سے بہتر زندگی جو دُنیا میں کسی عورت کی بسر ہو سکتی ہے وہ توصیف کی تھی کہ مُوسٰی اس کے اشاروں پر کٹھ پُتلی کی طرح کام کرتا اور دیکھ دیکھ کر جیتا تھا ۔ گیارہ سال کے عرصہ میں لڑائی جھگڑا تو درکنار کسی قسم کا اختلاف تک سُننے میں نہ آیا ۔
شام کے وقت ایک روز توصیف پائیں باغ میں ٹہلتی ہوئی باہر نکلی اور سڑک پر آئی ۔ مُوسٰی ساتھ تھا ۔ دونوں میاں بیوی پاؤں پیدل دُور تک نکل گئے ۔ آدمی نہ آدم زاد ، سرد موسم ، شام کا وقت مسافت خاک نہ معلوم ہوئی ، یہاں تک کہ دونوں ایک ایسی جگہ پہونچے جہاں ایک عمارت کی ٹوٹی ہوئی دیواریں اور گِری ہوئی محرابیں اُس کے مسجد ہونے کا پتہ دے رہی تھیں ۔ توصیف ایک ایسی ماں کے دُودھ سے پلی اور باپ کی گود میں بڑھی تھی جہاں مُفلسی نے مذہب کی وقعت رگوں میں کُوٹ کُوٹ کر بھر دی تھی ۔ گو تغیر حالت نے توصیف کے خیالات میں بہت کچھ فرق کر دیا تھا ، مگر اِسلام کی عظمت وہ جہیز میں لے کر سُسرال پہنچی تھی ۔ اُس وقت یہ دیکھ کر کہ خانۂ خُدا اس حالت میں ہو اور کتے اور گیدڑ اس میں رہیں ، دل پر ایک چوٹ سی لگی اور اُس نے مصمم قصد کر لیا کہ اس مسجد کو از سرِ نو تعمیر کرا دوں ۔ واپسی میں چند قدم کے فاصلہ پر اس نے ایک ٹوٹی سی جھونپڑی دیکھی نہ معلوم کیا دل میں آئی کہ قریب پہنچی اور دیکھا کہ ایک غریب عورت اپنے دو تین بچوں کو لئے خاموش بیٹھی ہے ۔ توصیف کو تعجب ہوا کہ اس جنگل بیابان میں یہ بچوں والی ماں کس طرح اپنی زندگی بسر کرتی ہو گی ، پُوچھا ، ”اری تُو کون ہے ؟ اور یہاں کیوں رہتی ہے ؟“ عورت خاموش رہی اور کچھ جواب نہ دیا ۔
توصیف : ” نیک بخت جواب کیوں نہیں دیتی ؟
عورت : ” جی ہاں ، میں یہیں رہتی ہوں ۔
توصیف : ” تُو اکیلی رہتی ہے ؟
اس سوال کے جواب میں کچھ ایسی داستان پوشیدہ تھی کہ عورت کی آنکھ میں آنسُو ڈبڈبا آئے ۔
توصیف : ”رو مت ، حالت بیان کر۔
عورت : ”بیوی کیا فائدہ ہو گا ، آپ کیوں سُنتی ہیں ؟
اب عورت کا دل زیادہ بھر آیا تھا ۔ اُس کی آنکھوں سے آنسُو بہہ رہے تھے اور اُس کی آواز میں رقت طاری ہو چکی تھی ۔
توصیف : ”بتا ، اپنی حالت بتا ، شاید میں کچھ تیری مدد کرسکوں۔
عورت : ” بیوی وہ سامنے گاؤں ہے ۔ اُس کے پاس دو بیگھ زمین اور ایک کنواں میرا ہے. میرا شوہر کاشت کرتا تھا اور ہم یہاں سب اطمینان سے رہتے تھے مگر پار سال وہ وبا میں مر گیا ۔ زمیندار نے اُس کی دوائی ٹھنڈائی بھی کی مگر نہ بچا ۔ چالیس رُوپے کا حساب اُس کے مرے پیچھے زمیندار کا نکلا تھا ۔ میرے پاس دانت کُریدنے کو تنکا تک نہ تھا ۔ کہاں سے دیتی ، اُس نے میرا بچہ لے لیا اور اب مجھے اُس سے ملنے بھی نہیں دیتا ، مجھے اُس کی صورت دیکھے پانچ مہینے ہو گئے ۔ کئی دفعہ گئی ، دُھتکار دیا ۔“
یہاں پہنچ کر عورت کی ہچکی بندھ گئی اور اُس نے توصیف کے قدموں میں گر کر کہا ”بیوی ، میرا بچہ مجھ سے مِلوا دو خُدا تمہاری مامتا ٹھنڈی کرے۔“
مُوسٰی : ” بس بیگم چلو دیکھو شام ہوگئی۔
دونوں میاں بیوی اُس عورت کی حالت پر افسوس افسوس کہتے ہوئے گھر آگئے اور صبح ہی توصیف کے حکم سے مسجد کی مرمت شروع ہوئی ، اور ایک مہینہ کے عرصہ میں نہایت خُبصورت مسجد تیار ہو گئی ۔
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 11, 2013, 05:18:46 pm
چلّے کی سردی تھی اور کڑکڑاتے جاڑے ۔ وقت کی بات اور ہونی شُدنی کہ توصیف کا بڑا لڑکا کلیم خاصا چنگا بھلا کھیلتا مالتا اندر آیا اور پلنگ پر لیٹتے ہی اس شدت کا بُخار چڑھا کہ ماں اور باپ دونوں پریشان ہو گئے ۔ بارہ برس کا بچہ اور پہلونٹی کا ، دونوں میاں بیوی کا دَم ہَوا تھا ۔ علاج جس قدر توجہ سے ہوتا تھا اُسی قدر حالت ردی ہوتی جارہی تھی ۔ تین دن اور تین رات یہی کیفیت رہی ۔ دُنیا بھر کے جتن کر ڈالے ، مگر حالت میں کسی طرح فرق نہ ہوا ، اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ خُود ڈاکٹر بھی مایوسی کی باتیں کرنے لگے ۔ چوتھے روز جب کلیم پر بیہوشی طاری ہوئی اور توصیف کیلجہ پر گھونسے مار رہی تھی ، اُس کو اُس عورت کا خیال آیا جس کا بچہ صرف چالیس رُوپے کے واسطے اس سے بِچھڑا تھا ۔
دن کے تین بجے تھے ، وہ عورت اپنے بچہ کی یاد میں اپنی جھونپڑی میں خاموش بیٹھی آنسُو بہا رہی تھی کہ توصیف اس کے پاس پہونچی اور کہا ، ”چلو ، میں زمیندار کا رُوپیہ دُوں اور تُم اپنے بچہ کو لے آؤ۔“
عورت پر ایک شادئ مرگ کی کیفیت طاری ہوگئی وہ اُچھل پڑی اور ہاتھ جوڑ کر کہنے لگی ، ”کیا آپ میرا بچھڑا ہوا کلیم مجھ سے ملوا دیں گی؟
توصیف : ” کیا تمہارے بچہ کا نام بھی کلیم ہے؟
عورت : ”جی ہاں۔
توصیف : ” ہاں چلو ، میرے ساتھ چلو۔
عورت توصیف کے ساتھ چلی مگر راستہ بھر اُس کی حالت عجیب رہی ، وہ توصیف کا منہ دیکھتی تھی ، بِلبلاتی تھی ، گڑگڑاتی تھی ، ہاتھ جوڑتی اور کہتی تھی ، ” بیگم ، چالیس رُوپے بہت ہیں مگر میں ہاتھ جوڑوں گی اور دُوں گی ، پانچ چھ رُوپے کے برتن تو میرے پاس ہیں یہ لے جائیے ، تین رُوپے کا ایک ہَل ہے ، باقی رُوپیہ جب تک میں نہ دُوں آپ میرے کلیم کو اپنے پاس رکھ لیجئے ، میں دُور سے ایک دفعہ روز صرف دیکھ جایا کروں گی ۔“
توصیف اپنے بچہ کی علالت میں اس درجہ مُستغرق تھی کہ اُس کو دُنیا مافیا کا ہوش نہ تھا ، وہ کسی بات کا جواب دیتی تھی نہ دینے کے قابل تھی ، زمیندار کے گھر پر پہنچی تو توصیف کی صُورت دیکھتے ہی اُس کے اوسان جاتے رہے ۔ اُس نے رُوپے دیے تو کہنے لگا، ”حضور ، آپ نے کیوں تکلیف کی ، میں وہیں حاضر ہوجاتا۔“ اب ایک عجیب منظر تھا ۔ زمیندار نے کلیم کو آواز دی اور ماں کا دل جو بچہ کی جُدائی میں تڑپ رہا تھا مچھلی کی طرح لوٹنے لگا ، وہ کبھی دروازہ کو دیکھتی اور کبھی توصیف کو ۔ اُس کے ہاتھ توصیف کی طرف جُڑے ہوئے تھے اور زبان سے صرف اتنا کہہ رہی تھی ، ”بیگم تیری مامتا ٹھنڈی رہے۔“
کلیم باہر آیا ۔ ماں کی صُورت دیکھتے ہی دوڑا اور اس کے گلے میں ہاتھ ڈال کر چمٹ گیا ۔ اُس وقت عورت نے فرطِ مسرت سے ایک چیخ ماری اور توصیف کے قدموں میں گر کر کہا ، ”اے بیگم خُوش رہ ، بِچھڑا ہوا لال مُجھ سے ملوا دیا ۔“ توصیف کا دل اپنے کلیم میں پڑا ہوا تھا ۔ بھاگم بھاگ گھر آئی تو ڈاکٹر کے یہ الفاظ اُس کے کان میں پہنچے ، ”اگر اِس دوا سے بُخار اُتر گیا تو خیر ورنہ پھر حالت بہت خطرناک ہوگی ۔“
برابر کے پلنگ پر خاموش لیٹ گئی ، رات کے دس بجے ہوں گے ، بچہ کا بدن دیکھا تو بدستُور چنے بُھن رہے تھے ، مایوس ہو کر پھر لیٹی اور یقین ہو گیا کہ اب بُخار اُترنے والا نہیں ۔
بارہ بجے کے قریب بُخار اور تیز ہوا اور توصیف اب قطعی مایوس ہو گئی ۔ ان ہی خیالات میں غلطاں و پیچاں لیٹی ہوئی تھی کہ آنکھ لگ گئی ۔ دیکھتی کیا ہے کہ ایک شخص سامنے کھڑا کہہ رہا ہے ،
”توصیف ! خُدا کا اصلی گھر تو بِچھڑے ہوئے کلیم کی ماں کا دل تھا ، تُو نے اُس کی مامتا کی قدر کی ، تیرا بچہ تُجھ کو مبارک ہو ، تُو نے غریب کلیم کو ملوایا اُٹھ تُو بھی اپنے کلیم سے مِل ۔“ توصیف ابھی خواب ہی دیکھ رہی تھی کہ مُوسٰی کی اِس آواز نے اُس کو چونکا دیا ، ”الٰہی تیرا شُکر ہے بُخار اُتر گیا ۔“
گھبرا کر اُٹھی تو بچہ پسینے میں نہا رہا تھا اور بُخار کا پتہ دُور دُور تک نہ تھا ۔


THE END
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 12, 2013, 07:31:45 pm
END OF THE BOOK
Lekin heeran hu ke sirf 1 comment aya, shayad wakai yaha loag sirf sex ke liye hei atay hein
 :hammer: :hammer: :hammer: :hammer: :hammer: :hammer: :hammer: :hammer: :hammer:
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: shikra22 on June 17, 2013, 10:54:47 am
Lagta hay ke kisi ko bhi yeh stories pasand nahi aaye, chalein never mind, mera kaam tha 1 acha message deyna jo mein dey diya, agay aap sab ki apni marzi.
:punk: :punk: :punk: :punk: :punk:
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: Mr_alone on September 13, 2013, 11:47:08 am
good worked .nice storie............
Title: Re: TOOFAN-E-ASHQ
Post by: Story Maker on July 03, 2016, 10:11:14 am
Superb All Stories... :rockon: :rockon: :rockon: :rockon: :rockon: :rockon: :clap: :clap: :clap: :clap: :clap: :clap:

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.