Author Topic: TOOFAN-E-ASHQ  (Read 5811 times)

Offline shikra22

  • SHIKRA ... eik khatarnaak shikaari
  • T. Members
  • 7 Stars
  • *******
  • Posts: 34325
  • Reputation: +2/-3
  • Gender: Male
  • SHIKRA THE FLYING HUNTER
    • View Profile
Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #12 on: June 04, 2013, 02:55:55 pm »
ایک رات کا ذکر ہے ۔ مینھ برس کر تھم چکا تھا ۔ آسمان اپنے چہرے سے سیاہی کا پَردہ آہستہ آہستہ سرکا رہا تھا اور صبح صادق خراماں خراماں منزلِ دُنیا تک بڑھ رہی تھی ۔ اِدھر خانۂ خدا کی طرف سے وداعِ شب کا سامان ہوا، اُدھر بیمار عطیہ شوہر اور سوکن کے ناشتہ کی تیاری میں مصروف ہوئی ۔ ہوا کے ٹھنڈے جھونکے تیر کی طرح کلیجہ میں لگ رہے تھے ۔ گلے میں پُرانی رُوئی کی کمری ، سر پر معمُولی چادرہ ، پُوروا ہوا نے ہڈیوں میں اولے بچھا دئیے ، اِس غضب کا درد اُٹھا کہ بیقرار ہوگئی ، بہتیرا سنبھلی نہ سنبھلا گیا ۔ اُٹھی ، بیٹھی لیٹی پوٹی مگر سب بے سُود تھا ۔
حَسن کو اگر عطیہ سے ہمدردی نہ تھی تو اُس کی خوشی مگر اِس زخم پر کچوکے بے ایمان کی بد گُمانی تھی کہ بیماری کو بہانہ ، درد کو مکر اور تکلیف کو فریب سمجھا ۔ دُولھا دُولہن اُٹھے ۔ چُولھا ٹھنڈا پڑا تھا ، دونوں آگ بگولا ہو گئے اور نئی دُلہن نے کہا ، ” تم نے اپنے ساتھ میری مٹی بھی پلید کر رکھی ہے بھلا یہ وقت ناشتہ کا ہے ۔ ابھی آگ بھی نہیں سُلگی ۔ بلا سے اس جی کے جلانے سے تو ہاتھ کا جلانا بہتر ۔ کل سے میں خود کر لیا کروں گی اِن کو تو چکر آرہے ہوں گے۔“ کریلا اور نیم چڑھا ، حَسن پہلے ہی عطیہ کو شیر کی نظروں سے گُھور رہا تھا ، بیوی کے اس فقرے نےغصے کی آگ اور بھڑکائی ۔ ”جُھوٹی ، فریبن ، دغاباز ، بدمعاش ، کام چور ، مَریل ، سُست ۔“ ایک لفظ ہو تو کہا جائے۔ ”اُٹھ کھڑی ہو مکار ۔ ابھی آگ سُلگا ، نہیں تو مارے تھپڑوں کے منہ پھیر دوں گا۔“
حَسن یہ کہتا ہوا سانپ کی طرح پھنپھناتا ہوا اُٹھا اور عطیہ کو مارنے چلا کہ دروازے سے خُسر کی آواز آئی۔ یہ عطیہ کا باپ تھا جو معمولی گرا پڑا آدمی نہیں تھا شہر کا مشہور وکیل تھا ۔ اکلوتی بچی کی بیماری نے اُس کی جان پر بنا دی تھی ۔ حَسن بیوی پر شیر تھا ، مگر خُسر کے سامنے بھیگی بلی بن گیا اور دُلہن کو ہٹا کر اُس کو اندر لایا ۔ حَسن جس وقت بپھرتا عطیہ کی طرف چلا ، اُس وقت وہ خوف کے مارے تھر تھر کانپ رہی تھی ۔ اُس نے ایک خاموش نظر شوہر کے چہرے پر ڈالی ، زبان چُپ تھی مگر نگاہ باآوازِ بُلند کہہ رہی تھی کہ میں بے گناہ ہوں ۔ باپ کی آمد نے شوہر کی مار سے بظاہر چُھڑا دیا مگر حق یہ ہے کہ جس نے مارنے کا قصد کیا اُس نے مار ہی لیا ۔
اُس وقت عطیہ کے قلب کی کیا کیفیت تھی اِس کا اندازہ صرف شوہر والی بیبیوں کا دل کرسکتا ہے ۔ اُس کی دلی خواہش یہ تھی کہ زمین پھٹ جائے اور میں سما جاؤں وہ باپ کے آنے سے بھی خوش نہ ہوئی اور چاہتی تھی کہ اس عمر بھر کے رفیق اور ابدی دوست کے ہاتھوں کٹوں پِٹوں اور اس کے سامنے مر جاؤں ۔ ۔ ۔ باپ کو آتا دیکھ کر اُس نے دُوپٹہ سے آنسو پونچھے ، سنبھل کر بیٹھی ، سلام کیا ۔ ہر چند باپ نے پُوچھا مگر اُس  ے یہی کہا کہ، ”خدا کا شُکر ہے اچھی ہوں۔“ درد لمحہ بہ لمحہ تیز ہو رہا تھا ۔ بُخار شدت سے چڑھ رہا تھا ۔ باپ کی کسی بات کا جواب نہ دیتی تھی ۔ آخر اُس نے ہاتھ سے دیکھا ، پنڈا جُھلس رہا تھا کہا، ”تم تیار ہو میں ڈولی لاتا ہوں ، چلو اپنے ہاں چلو۔“
Iss shikray se koi parinda nahi bach sakta

YUM Stories

Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #12 on: June 04, 2013, 02:55:55 pm »

Offline shikra22

  • SHIKRA ... eik khatarnaak shikaari
  • T. Members
  • 7 Stars
  • *******
  • Posts: 34325
  • Reputation: +2/-3
  • Gender: Male
  • SHIKRA THE FLYING HUNTER
    • View Profile
Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #13 on: June 04, 2013, 03:07:45 pm »
جوان لڑکی کی معصوم نظروں نے اُس کے جواب میں باپ کی صورت دیکھی ، گو اُس کی زبان کچھ نہ کہتی تھی مگر حالت نے یہ جواب دیا کہ میں اب تو آپ کی ملکیت نہیں ، مجھ کو آپ نے ایک دوسرے شخص کے قبضہ میں دے دیا ، وہی میرا مالک ، حاکم اور سرتاج ہے۔ بڈھا باپ تجربہ کار آدمی تھا سمجھ گیا کہ شوہر کی اجازت کے بغیر چلنا منظور نہیں ۔ داماد کو بلا کر کہا ،
”میاں ! اجازت ہو تو دوچار روز کے واسطے اپنے ہاں لے جاؤں۔“ حَسن : مجھے کیا عُذر ہو سکتا ہے ، نہایت خوشی سے۔“ اتنا کہہ کر حَسن نئی دُولہن کے کمرے میں گیا اور باپ ڈولی لینے، حَسن باہر نکلا تو عطیہ
نے آہستہ سے کہا، ”کیا واقعی تمہاری اجازت ہے کہ میں چند روز کے واسطے چلی جاؤں۔“ حَسن : ایک دفعہ کہہ تو دیا اور کس طرح کہوں۔“ عطیہ : التجا یہ ہے کہ اگر روزانہ نہیں تو دوسرے روز چند لمحے کے واسطے اپنی صورت دکھا دیا کرو۔“ حَسن : میں خالی بیٹھا ہوں تاکہ روز حاضر ہوا کروں !!“ ڈولی آگئی عطیہ بچہ کو گود میں اُٹھانا چاہتی تھی کہ حَسن نے نئی دُولہن کے مشورہ سے کہا،
”بچہ کو چھوڑ جاؤ ، میں پہنچا دُوں گا۔“ ادھر باپ کا تقاضا اُدھر مامتا کا جوش ۔ منت سے کہا ، سماجت سے کہا مگر سنگدل نے بچہ کی اجازت نہ دی ۔ باپ نے اندر آکر کہا ، ”میاں ! کیا کہتے ہو؟“
حَسن : آپ ان کو لے جائیں ، میں ڈاکٹر کو دکھا کر خود ہی بچہ کو پہنچا دوں گا۔ باپ چھچھورا نہ تھا کہ لڑنے لگتا۔ خاموش ہوگیا اور ایک ٹھنڈا سانس بھر کر بیٹی کو ڈولی میں بٹھا کر گھر کا راستہ لیا۔
آفتاب لاتعداد مرتبہ طلوع ہو کر غروب ہوا ۔ چاند بے شمار بار چمک کر ماند پڑا ۔ مگر وہ آفتاب جو بچہ کی مفارقت میں ڈھلا اور ڈوبا بدنصیب عطیہ کے واسطے میکے میں ایسا درد چھوڑگیا جس کی ٹیسوں اور چَمکوں نے مُردہ کر دیا ۔ میکے کی ماما ، حقیقی چچا ، رشتے کے ماموں سب ہی گئے اور کوشش کی مگر حَسن نے بچہ نہ بھیجا ، دُکھیاری کلیجہ پر گھونسے مارنے لگی ۔ دنیا آنکھوں میں اندھیر تھی اور کوئی اتنا نہ تھا کہ چار پَہر بچھڑے ہوئے بچہ کی صُورت دکھا دے ۔ تڑپ رہی تھی کہ حَسن کا یہ پیغام آ پہنچا۔” بچہ اپنی پُھوپھی کے پاس گاؤں میں ہے لیکن تُم ابھی آجاؤ، اگر فورا نہ آئیں تو صُبح ہی زوجیت کا دعوٰی دائر کر دوں گا اور عدالت کا حُکم لے کے چوٹی پکڑ کر گھر میں سے گھسیٹ لاؤں گا۔“ عطیہ کے باپ نے یہ الفاظ سنے ، بیٹی کو بلا کر گلے سے لگایا اور کہا، ” جا خدا کے سُپرد کیا۔“اتنا کہہ کر بدنصیب باپ کی ہچکی بندھ گئی ۔ اُس نے کمرہ میں گُھس کر دروازہ بند کر لیا۔
Iss shikray se koi parinda nahi bach sakta

YUM Stories

Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #13 on: June 04, 2013, 03:07:45 pm »

Offline shikra22

  • SHIKRA ... eik khatarnaak shikaari
  • T. Members
  • 7 Stars
  • *******
  • Posts: 34325
  • Reputation: +2/-3
  • Gender: Male
  • SHIKRA THE FLYING HUNTER
    • View Profile
Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #14 on: June 04, 2013, 06:08:46 pm »
عطیہ کی حالت خراب تھی جب یہ سُنا کہ بچہ بھی وہاں نہیں ہے اُس وقت سے بخار اور تیز ہوگیا تھا ۔ خدمت کی مُصیبت آنکھ کے سامنے تھی ۔ ماں ، بہنیں ، سہیلیاں سب کھڑی آٹھ آٹھ آنسُو رو رہی تھیں۔ ڈولی موجود تھی ۔ سوار ہونے سے پہلے عطیہ نے کہا ، ” مرض کی حالت مریض سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا ۔ میں اب اِس دُنیا میں چند ساعت کی مہمان ہوں اور قریب ہے وہ وقت کہ ماں میری موت اور باپ فراقِ ابدی پر خُون کے آنسو گرائیں اور میری نامُراد آنکھیں معصُوم بچہ کی صُورت کو پھڑکتی ہمیشہ کی نیند سو جائیں ، مگر مجھے ماں کے صَدمہ ، باپ کے رنج اور عزیزوں کے افسوس سے زیادہ اس مُصیبت کا دھڑکا ہے ، جس کے خیال سے میرے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں ۔ بہنو ! جن کانوں نے کُوار پنے میں ماں اور باپ کی جھڑکی تک نہ سُنی ، نکاح نے اُن کو سخت سے سخت اور بَد سے بَدتر کلمے سُنوا دیئے ۔ جس جسم پر پُھول کی چھڑی نہ لگی تھی اب اُس پر بیدیں پڑنے کا وقت آپہنچا!!“
” میرا سانس اُکھڑ رہا ہے اور وقتِ آخر ہے ۔ میرا پیام مُسلمانوں تک پہنچا دینا۔ بزرگو! اگر صداقتِ اسلام کی روشنی دِلوں میں اور انصاف کی جھلک آنکھوں میں موجود ہے تو کبھی بُھولے بِسرے ، سوتے جاگتے اِن بَدنصیب ہستیوں پر بھی غور کرو جو نازونعم سے پَل کر ہاتھوں چھاؤں بڑھ کر سنگدل شوہروں کے قبضے میں جا پَھنسیں ۔ مُسلمانوں کی حالت کا قیاس اپنے اُوپر نہ کرو۔ اِس بَدنصیب قوم کی حالتِ زار کی داستان گھر کی ماماؤں اور پڑوس کی بدنصیبوں سے سُنو۔ زندگی آپ کو مُصیبت اور دُنیا اُن کے واسطے دوزخ۔ ظالم شوہروں نے اُٹھتے جُوتی اور بیٹھتے لات سے اُن کو کائنات کی بدترین ہستی بنا دیا۔ لللہ ایمان سے کام لو اور بتاؤ اگر ہم نے حُکمِ طلاق کے آگے کبھی اُف کی ہو! تُم نے بے گُناہ ، بے قصُور طلاقیں دیں اور ہم نے گردنیں جُھکا دیں ! مگر اُسی نبی اور اُسی مذہب نے ہم کو خلع کا حق دیا تھا مگر ہے کوئی مُسلمان جو آج کہہ سکے کہ اُس نے ایک بدنصیب بیوی کو خلع دلوا کر ظالم شوہر سے چُھٹکارا دلوایا ہو؟“
”ہم نے خاکِ عرب سے اُٹھنے والے رسُول کے احکام سر اور آنکھوں پر اور اسلام کی لاج رکھی ، مگر تُم نے اُس پاک ہستی اور مکمل انسان کا ارشاد ٹھکرا دیا۔ بے شُمار ماں کی جائیاں مُصیبت پیٹتی اور آفت بُھگتتی قبروں میں پہنچا دیں اور خلع نہ ہونے دیا !!“
عورتوں کی ہچکی بندھی ہوئی تھی اور کوئی ایسی نہ تھی جو اُس کی صُورت پر لبیک نہ کہہ رہی ہو ۔ اب عطیہ کی آواز رُک گئی، وہ ڈولی میں بیٹھنا چاہتی تھی کہ کھانسی اُٹھی ، صرف اتنا کہا۔
”ہائے میرا بچہ!“
اور وہیں ٹھنڈی ہوگئی !!

THE END
Iss shikray se koi parinda nahi bach sakta

Offline shikra22

  • SHIKRA ... eik khatarnaak shikaari
  • T. Members
  • 7 Stars
  • *******
  • Posts: 34325
  • Reputation: +2/-3
  • Gender: Male
  • SHIKRA THE FLYING HUNTER
    • View Profile
Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #15 on: June 05, 2013, 06:09:41 pm »
اِس ہاتھ دے اُس ہاتھ لے


یہ خیال کہ افتخار کلثوم عاشق زار ماں تھی ، یقیناً غلط ۔ ارشاد اور فردوسی دونوں اُس کے اپنے پیٹ کے بچے تھے اور یہ واقعہ ہے کہ ارشاد پہلونٹی کا بچہ لڑکے کی ذات ، مگر جو لگن افتخار کو فردوسی کی تھی اُس سے آدھی کیا بلکہ چوتھائی بھی بچہ کی نہ تھی۔ دس گیارہ برس کا بچہ اور گندا سندا نہیں ، مَیلا کچیلا نہیں ، صاف سُتھرا اور گورا سفید لیکن ساری ساری رات بخار میں تڑپا اور اِس نیک بخت نے آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا۔ تعجب تو کم ہوتا نہیں مگر دل کو یہ کہہ کر تسکین دے لو کہ ماں ارشاد کو فقط دُودھ پلانے کی گنہگار تھی ۔ وہ بھی ڈیڑھ دو برس نہیں ، گنتی کے آٹھ سات مہینے ، ورنہ وہ پَلا دادی کی آغوش میں اور بڑھا باپ کی گود میں ۔ پورے پانچ برس کا بھی نہ تھا کہ کلکتہ بھیج دیا گیا اور گیا گیا لوٹا چار سال بعد ۔ اس جدائی نے اگر افتخار کو اتنا صبر دے دیا کہ اس نے زندہ بچہ کو مُردہ سمجھ لیا تو اسی کا دل گردہ تھا ۔ ہاں فردوسی کے ساتھ اس کو محبت اور عشق کیسا ، پروانہ تھی ، فدا تھی ، قُربان تھی ۔ اس کا بس چلتا تو شاید کلیجہ چیر کر بچی کو اندر بٹھا لیتی کہ اس کو کسی دنیوی اذیت کی ہوا بھی نہ لگے۔
تیہے کی اتنی تیز اور مزاج کی اس قدر کڑوی کہ دوسرے رشتہ دار اور عزیز تو رہے طاق میں ، افتخار کی حقیق بہن بھائی کی اتنی مجال نہ تھی کہ بھانجی کو ٹیڑھی آنکھ سے دیکھ لیں ۔ جوان بیوہ ہوئی اور بیس  چیس روپے کی آمدنی کے سوا کوئی معقول اثاثہ بھی نہ تھا ۔ مگر اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ چُنی ۔ ماں زندہ ، باپ جیتا ، بہنیں موجود ، بھائی موجود ، پَر محلہ بَسا الگ گھر میں رہی اور یہ گوارا نہ کیا کہ فردوسی کو کوئی عزیز آنکھ بھر کر دیکھ لے۔
چھوٹی بہن کی شادی میں بیسیوں نَکتوڑوں اور سینکڑوں نخروں سے آئی اور صرف اتنی سی بات پر کہ اور کسی نے نہیں ، فردوسی کی حقیقی نانی ، افتخار کی سگی ماں نے صرف اتنا کہہ دیا کہ میرا آٹھ آنے کا آئینہ تمہاری بچی نے توڑ دیا ، افتخار اٹھنّی آگے پھینک ڈولی منگوا چلتی ہوئی۔ ہر چند ماں نے سر پٹکا ، باپ نے منتیں کیں ، بہنوں نے ہاتھ جوڑے ، بھائیوں نے خوشامدیں کیں ، حد یہ ہے تمام مہمانوں نے کہا مگر وہ نہ رُکنا تھا نہ رُکی اور یہ بھی کہہ گئی کہ ” میری بچی شریر ہے اس وقت تو آٹھ آنے کا معاملہ تھا میں نے بھر دیا ، کوئی بڑا نقصان کر دیا تو کیا کرونگی ، آپ بھلی اور اپنا گھر بَھلا۔“ بھرا گھر دیکھتا رہا اور افتخار یہ جا وہ جا۔
Iss shikray se koi parinda nahi bach sakta

Offline shikra22

  • SHIKRA ... eik khatarnaak shikaari
  • T. Members
  • 7 Stars
  • *******
  • Posts: 34325
  • Reputation: +2/-3
  • Gender: Male
  • SHIKRA THE FLYING HUNTER
    • View Profile
Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #16 on: June 05, 2013, 06:15:56 pm »
یوں تو افتخار کی زندگی کے اکثر واقعات تعجب انگیز ہیں لیکن وہ تعجب جو اچھنبے اور حیرت سے بڑھ کر دل کو مشکل سے لگتا اور قیاس میں دقت سے آتا ہے ، ماں بیٹوں کے تعلقات ہیں ۔ باپ کے بعد ارشاد کا کلکتہ رہنا ناممکن تھا ۔ مگر تقدیر نے باپ کی موت کے ساتھ ہی ماں کا کلیجہ اتنا پتھر کر دیا تھا کہ اُس کو دیس اور پردیس دونوں یکساں تھے ۔ یہ فیصلہ سر اور آنکھوں پر کہ فردوسی کی محبت نے اس کو اتنا اندھا اور بہرا کر دیا تھا کہ وہ سننے اور دیکھنے دونوں سے معذور تھی ۔ مگر مقابلہ ایسا تعجب انگیز اور حیرت فزا ہے کہ عقل چکراتی ہے ، قیاس ٹکراتا ہے اور سمجھ میں نہیں آتا کہ فردوسی کی عاشق زار ماں ارشاد کے واسطے ایسی ڈائن ہوئی کہ دُنیا نے پناہ مانگی ۔ مجبوری یا معذوری دنیا دکھانے کو یا خدا کے خوف سے کھانا تو وہ دونوں وقت یتیم ارشاد کو پیٹ بھر کر دے دیتی ، وہ بھی فردوسی کے بعد ، اور اُس کا بچا کھچا ۔ لیکن فصل کا میوہ ، موسم کی ترکاری ، یہ نہیں کہ آتی نہ ہو ، فردوسی کے لئے سب کچھ آتی مگر ارشاد کے واسطے حرام تھی ۔ دونوں بچوں میں بیگم اور غلام کا فرق تھا ۔ ہم کو یہ بھی تعجب ہے کہ افتخار نے یہ کیوں جائز سمجھا کہ ارشاد آپا کہے حالانکہ وہ نوکروں کی طرح منت و خوشامد کرتا ، پیچھے پیچھے پھرتا ، لڑائی جھگڑا تو درکنار اتنی ہستی نہ تھی کہ اُس کے حکم پر نا کر سکے ۔
صرف اتنی سی بات پر کہ بہن کا کھلونا اور وہ بھی مٹی کا لنگڑا گھوڑا طاق سے نیچے اُتار لیا تھا ، دو تھپڑ ماں نے اس زور سے رسید کئے کہ کلّا لال ہو گیا ۔ افتخار عورت کیا کُھرّا چنا تھی کہ سب سے الگ تھلگ رہتی ۔ خود کہیں نہ جاتی نہ کسی کو بلاتی ۔ ظالم کا حافظہ اس غضب کا تھا کہ اگر کسی سے بگڑتی تو باوا دادا کے وقت کی باتیں بیان کرتی ۔ شبِ برات کے موقع پر دو ڈھائی آنے روز کی آتشبازی فردوسی منگواتی
اور ارشاد چھوڑتا ۔ کم بخت کی قضا جو آئی تو ماں سے کہنے لگا ، ” اگر تم مجھ کو اکٹھا سودا منگوا دو تو سب چیزیں میں خود تیار کرلوں اور ایک روپیہ میں چار پانچ روپیہ کا مال ہو جائے ۔ “ نیکی اور پوچھ پوچھ ، افتخار کو کیا عذر ہو سکتا تھا ، بچی کے لئے جان تک حاضر تھی ۔ روپیہ نکال دے دیا اور لڑکا جَھٹ پَٹ جا سودا لے آیا ۔ بارود پیس رہا تھا کہ رگڑ لگی اور اس زور کا دھماکہ ہوا کہ غریب کی دونوں آنکھیں اور ایک ٹانگ رخصت ہوئی ۔
افتخار میں مروت ، محبت ، شفقت ، انسانیت اگر کوئی چیز ہوگی تو شاید شوہر کی زندگی میں ۔ اب تو اُس کی دنیا و دین ، جنت و دوزخ جو کچھ تھی وہ فردوسی اور صرف فردوسی ۔ لُطف یہ تھا کہ زخمی ارشاد ہوا اور بُخار چڑھا فردوسی کو ۔ افتخار اگر اس کے اختیار میں ہوتا تو ارشاد جیسے سات لڑکے اور پرائے نہیں اپنے پیٹ کے فردوسی پر قربان کر دیتی ۔ غریب پڑا تڑپ رہا تھا اور ماں بچی کو گود میں لئے اُس کے زخموں پر یہ کہہ کہہ کر اور نمک چھڑک رہی تھی کہ تُو تو مرد ذات ہے لوٹ پوٹ کر اچھا ہو جائے گا ، میری پُھول سی بچی کیسی پڑی ، اگر ایسی ویسی ہوگئی تو میں تیرا کیا کر لُوں گی ۔ فردوسی کا بُخار معمولی تھا صبح کو اُتر گیا مگر ارشاد کی حالت روز بروز ردّی ہوتی گئی ، دوا ہوئی نہیں آرام کس طرح ہوتا ۔ خدا بھلا کرے دادی کا کہ وہ پوتے کو اپنے ہاں لے گئی اور بدنصیب بچہ کا دَم بجائے ماں کی گود کے ، باپ کی ماں کی گود میں نکلا ۔
Iss shikray se koi parinda nahi bach sakta

Offline shikra22

  • SHIKRA ... eik khatarnaak shikaari
  • T. Members
  • 7 Stars
  • *******
  • Posts: 34325
  • Reputation: +2/-3
  • Gender: Male
  • SHIKRA THE FLYING HUNTER
    • View Profile
Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #17 on: June 05, 2013, 06:18:56 pm »
جس ماں نے ارشاد جیسا بچہ فردوسی پر قربان کر دیا اس سے یہ کس طرح ممکن تھا کہ وہ ایک غیر مرد کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بچی کو چھوڑ بیٹھتی ۔ جو پیغام آتا وہ حقارت سے نامنظور اور نفرت سے مُسترد ۔ لینا چاہتی تھی گھر داماد ، مگر شرط یہ تھی کہ اپنی دولت لائے اور یہاں بیٹھ کر لُٹائے ۔ فردوسی کی عُمر ڈھل رہی تھی مگر بات ڈھنگ کی نہ آئی ۔
عزیزوں میں سے کسی کی اتنی مجال نہ تھی کہ افتخار کو ٹوک سکتا ، محلے والے یا ملنے والے تو حق ہی کیا رکھتے تھے ، مگر جن ڈھونڈھیاں اُن پائیاں ۔ دُنیا دیکھتی کی دیکھتی رہی اور بی فردوسی کی شادی رَچ گئی ۔ تحریری اقرار اور زبانی مُعاہدوں میں جس طرح افتخار نے داماد کو جکڑا اُس کو دیکھ دیکھ کر اور سُن سُن کر مرد بھی دنگ تھے ۔ داماد دوسَو ( 200 ) رُوپے کا ملازم اور بیوی اور ساس دونوں کا غلام تھا ۔ فردوسی کی طرف سے ایسی لغزشیں ہوئیں کہ دوسرا شوہر مشکل سے صبر کرتا ، مگر اُس نے اگر ٹیڑھی آنکھ سے بھی بیوی کو دیکھ لیا تو افتخار نے حشر برپا کر دیا اور صاف کہہ دیا کہ تم اپنے گھر میں خوش اور میں اپنے ۔ میری بچی رزق کی ماری نہیں ، سلائی سیوں گی اور اُس کا پیٹ پالوں گی ۔
اس کامیابی کی تہہ میں کہ ایک بُڈھا شوہر جوان بیوی کی نازبرداری کر رہا ہے ، جو مُصیبت پنہاں ہوتی ہے وہ افتخار اور فردوسی دونوں کے سر پر منڈلا رہی تھی ۔ یہ درُست ہے کہ سُہاگ کے دس بارہ سال فردوسی کے ایسے گذرے کہ سبحان الله ۔ مگر بالآخر شوہر کی موت نے فردوسی کی گود میں دو معصوم بچے ڈال سہاگ کا خاتمہ کیا ۔ اور اب اس دورِ عیش کی یادگار یہ دو بچے تھے ۔
ہم افتخار کے استقلال کی داد دیتے ہیں کہ اس نازک وقت میں بھی اُس کا قدم نہ ڈگمگایا اور اُس نے مطلق کسی عزیز کی پرواہ نہ کی ۔ داماد نے جو تھوڑا سا زیور چھوڑا تھا اُس کو فروخت کیا اور اس مُرغی کی طرح جو چیل کے جھپٹے سے بچائے اپنے بچوں کو پُروں میں لئے بیٹھی ہے ، فردوسی اور اُس کے بچوں کو کلیجہ سے لگائے مردانہ وار ہر تکلیف کا مقابلہ کرتی رہی اور گھر کی ہوا نہ بگڑنے دی ۔ زیور ختم ہوچکا تو اب وہ مکان تھا جو افتخار کی دُور اندیشی سے فردوسی کی ملکیت ہو چکا تھا ۔ مگر اس خیال سے کہ بچی کسی کی نظروں میں ذلیل نہ ہو اُس نے اپنے دونوں مکان علیحدہ کر کے بچوں کی پرورش کی اور فردوسی کی حویلی پر آنچ نہ آنے دی ۔
فردوسی کا بڑا لڑکا ظہیر جس نے باپ کے بعد چنے کھا کر پڑھا ، انٹرنس کے بعد ڈاکٹری میں پہنچا اور وہ منظر دیکھنے کے قابل تھا جب افتخار امتحان کے دنوں میں نواسہ کے ساتھ دروازے تک آتی ، ایک باسی روٹی اُس کو دیتی اور کہتی اِس وقت گھر میں اس کے سِوا کچھ موجود نہیں ۔ خدا تیرے ساتھ ہے ، ہمت نہ ہار ، بیڑا پار ہے ۔
Iss shikray se koi parinda nahi bach sakta

Offline shikra22

  • SHIKRA ... eik khatarnaak shikaari
  • T. Members
  • 7 Stars
  • *******
  • Posts: 34325
  • Reputation: +2/-3
  • Gender: Male
  • SHIKRA THE FLYING HUNTER
    • View Profile
Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #18 on: June 05, 2013, 06:23:09 pm »
ظہیر تین سو روپے ماہوار کا نوکر ہے ۔ چار ہزار رُوپے اُس کی تنخواہ میں سے ماں جمع کر چکی ہے اور جس گھر میں مُٹھی بھر چنوں کے لالے تھے ۔ آج اُس میں گہما گہمی ہو رہی ہے ۔ ظہیر کی شادی ہو رہی ہے ، مہمان بھرے ہیں ، دُلہن کا جوڑا اور زیور کشتیوں میں چُنا ہوا ہے ۔ مردانہ میں دیگیں چڑھی ہوئی ہیں ۔ کمروں میں اُجلی چاندنیاں ، دالانوں میں نئے قالین ۔ انگنائی میں کورے تخت ، فردوسی باغ باغ اور نہال نہال اِدھر اُدھر پھر رہی ہے ۔ چاروں طرف سے مُبارکبادیں مل رہی ہیں اور ہنس ہنس کر اور کِھل کِھل کر شکر ادا کر رہی ہے ۔
اس مکان کے چپہ چپہ اور کونہ کونہ پر خوشی کی چھڑیاں لگ رہی ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رنج و غم کا اس سر زمین پر کبھی گذر ہی نہیں ہوا ۔ البتہ صدر دالان کی برابر والی کوٹھڑی میں ایک بُڑھیا جس کی عُمر نوّے برس کے قریب ہے اور جو اب ہڈیوں کی مالا ہے ۔ اس لئے کہ فالج نے اُس کا ایک ہاتھ اور ایک ٹانگ بیکار کر دی ۔ خاموش پڑی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر چھت کی کڑیاں گِن رہی ہے ۔ اس کے قوٰی بیکار ہیں ، بصارت جواب دے چکی ہے ، ہاتھ پاؤں کا سکت جاتا رہا ۔ چلنے پھرنے کے قابل نہیں ، کھانسی نے جان پر بنا دی ، کمر جُھک گئی ، چُپکی لیٹی ہے ۔ مگر نہ معلوم عُمرِ گذشتہ کے کیا کیا خیالات اُس کے دماغ میں چکر لگا رہے ہیں۔
بریانی اور متنجن کی خوشبو اُس کے دماغ میں آئی اور اُس نے خیالی پُلاؤ پکانے شروع کئے ۔ ”کھانا آگیا سب سے پہلے فردوسی مجھ کو لا کر دے گی۔ میں کھاؤں گی ہی کتنا ، ایسے میں تو گرم گرم ہے ، پھر ٹھنڈا کس کام کا۔“ ” ہائیں ! یہ تو سب کھا بھی رہے ہیں ، کیا فردوسی مجھے بھول گئی ، اُس کو میری مطلق پرواہ نہیں۔“ افتخار دل ہی دل میں بلکہ تھوڑی بہت آواز سے بھی یہ باتیں کر رہی تھی کہ کسی کے قدموں کی آہٹ اُس کے کان تک پہنچی اور اُس کی افسُردگی خوشی سے بدلی ۔ مگر جب آواز اِدھر آنے کی بجائے اُدھر جاتی معلوم ہوئی تو افتخار نے آہستہ آہستہ پُکارا ۔ فردوسی ، اے بی فردوسی !“ مگر اُس کی آواز کا کسی نے جواب بھی نہ دیا ۔ مہمانوں کے کھانے پینے کی آوازیں برابر کان میں آتی رہیں اور آج افتخار کو معلوم ہوا کہ اُس نے اپنی عُمر میں اچھے بیج نہ بوئے ۔ یہاں تک کہ کھانا ختم ہوا اور ایک بیوی جو کسی ضرورت
سے ادھر آنکلی تھیں گھبرا کر باہر آئیں اور کہا ، ”فردوسی بیگم ! تم نے تو دماغ سڑا دیا ۔ تُمہاری اماں والی کوٹھری سے تو ایسی بدبُو آرہی ہے کہ مغز پھٹا جاتا ہے۔“ فردوسی نے بغیر کسی تامل کے کہا ،
”بُوا کیا کروں ، مَر بھی تو نہیں چُکتیں ، دم ناک میں ہے ، ساری کوٹھری بَلغَم اور غلاظت سے سڑا رکھی ہے ۔ اور پھر مزاج ساتویں آسمان پر ، ایک کہوں تو ہزار سُنوں ۔“ اتنا کہہ کر فردوسی ماں کے پاس آئی جس کے کانوں میں یہ آواز اچھی طرح آرہی تھی اور کہا ، ”مہمانوں تک میں ناک کٹوا دی ۔ اس کوٹھری کو تین دفعہ بند کرچکی ہوں کہ اندر مری رہو ، مگر بغیر کھولے چین نہیں ، اب تو ہاتھ خاصا اُٹھ جاتا ہے۔“
بُڑھیا چھ سات روز سے دَمہ میں مَر رہی تھی مگر سُوکھی پَنچیوں میں جوش آگیا ۔ جواب کا قصد کیا لیکن سانس نے زبان نہ اُٹھنے دی اور شدت کی کھانسی اُٹھی ۔ ایک میلی سی ڈِپیا افتخار کے سرہانے جَل رہی تھی ۔ وہ کھانسی میں بے چین تھی مگر اُس کی نگاہ بیٹی کے چہرہ پر تھی اور اس نگاہ میں اظہارِ مجبُوری و لاچاری کے سوا عُمرِ گذشتہ کی پُوری داستان تھی ۔ وہ آنکھیں جو اس بے کسی کے عَالم میں اپنی گُذشتہ خدمات اپنا عشق و فریفتگی جتا کر صرف چاولوں کے ایک نوالہ کی خواستگار تھیں ، ابھی زبان سے کچھ کہنے نہ پائی تھیں کہ ہمیشہ کے لئے سو گئیں۔
افتخار کا انجام ماؤں کے واسطے دَرسِ عبرت ہے ۔ فردوسی کے عشق میں ارشاد کے حقوق کا پامال کرنا آسان نہ تھا اور وہ یقیناً اُس سلوک کی سزاوار تھی ، مگر بد نصیب فردوسی جس نے افتخار جیسی عاشق زار ماں کی یہ گت بنائی ، قُدرت کی زبردست طاقت سے اُس وقت آگاہ ہوئی کہ ابھی وہ کھڑی ماں کا چہرہ دیکھ رہی تھی کہ یہ آواز اُس کے کان میں پہنچی،
”غضب ہُوا ، دُولھا موٹر سے گر پڑا اور مغز پھٹ گیا۔“

THE END
Iss shikray se koi parinda nahi bach sakta

Offline shikra22

  • SHIKRA ... eik khatarnaak shikaari
  • T. Members
  • 7 Stars
  • *******
  • Posts: 34325
  • Reputation: +2/-3
  • Gender: Male
  • SHIKRA THE FLYING HUNTER
    • View Profile
Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #19 on: June 06, 2013, 02:28:48 pm »
سوتیلی ماں کا آخری وقت


جب اشرف جہاں بیگم کو اپنی زندگی سے نا اُمیدی ہوئی ، حکیم جواب دے چُکے اُس آسمانی حُور نے جو انسانی صُورت لے کر دُنیا میں آئی تھی ، اپنے تمام عزیزوں کو جمع کیا ۔ جاڑوں کا موسم تھا اور سوتیلے بچے اُس کے تلوؤں سے آنکھیں مَل رہے تھے ۔ بُخار کی شدت تھی اور غفلت لمحہ بہ لمحہ ترقی کر رہی تھی ۔ آدھی رات کا وقت تھا کہ اشرف جہاں بیگم نے آنکھ کھولی ، چاروں طرف سے الله بسم الله ہوئی ۔ کسی نے دُعائیں کیں اور کسی نے بَلائیں لیں ، اُٹھنے کا اِرادہ کیا تو اُوپر والوں کی جان میں جان آگئی ، شوہر نے جو دَم بخود کھڑا تھا سہارا لگایا ، ساس نے گاؤ تکیہ رکھا ، اور وہ نیک بی بی اُٹھ کر بیٹھ گئی۔ اُٹھنے کی تکان سے سانس پُھول گیا تھا ۔ تھوڑی دیر بعد جب سانس ٹھیک ہو گیا تو پانی مانگا ، اور لڑکھڑاتی آواز میں زور سے کہا ۔
پیاری بہنو! تُم میں سے بعض گو عُمر میں مجھ سے بڑی ہوں ، مگر رشتہ میں سب چھوٹی ہیں ۔ اب کہ میرا آخری وقت ہے ۔ ضرورت ہے میں تُم سب کے سامنے اپنی گُذشتہ زندگی پر ایک نظر ڈالوں ، میری زندگی اُن بیویوں کے واسطے جن کی شادی ہو چکی ہے شاید زیادہ مُفید نہ ہو ، مگر اُن لڑکیوں کے واسطے جو بیویاں بننے والی ہیں یقیناً ایک نمونہ ہوگی ۔
بیٹیو ! تُمہاری طرح ایک دن میں بھی کُنواری تھی ! ماں باپ کا سایہ میرے سر پر موجود تھا ۔ بے فِکری کے دن تھے ، آزادی کی راتیں ، خُوشی کا وقت تھا اطمینان کی باتیں ، مگر جوانی نے اِس بے فکری کا خاتمہ کر دیا ۔ شادی کے پیغام آنے شروع ہوئے ، میں بظاہر خاموش تھی مگر نکاح میری زندگی اور موت کا فیصلہ تھا ۔ تمام گفتگو غور سے سُنتی رہی ، مگر اِس لئے کہ محض واقعات پر نتیجہ نکالنا ہوتا تھا ، میں امّاں ابّا کی رائے محض
اس واسطے کہ وہ تجربہ کار تھے اپنے سے بہت بہتر سمجھتی تھی ۔ پھر بھی آج جبکہ نو برس سے زیادہ ہوئے ہیں زبان سے نکالتی ہوں کہ اماں جان کے ایک پیغام سے انکار کرنے کا مجھ کو اتنا رنج ہوا کہ میں نے دو وقت روٹی نہیں کھائی ۔ یہ میرے چچا کے بیٹے کا پیغام تھا ، لیکن آخرکار اُن کی رائے ٹھیک نکلی اور میرا خیال بالکل غلط نکلا ۔ اُس شخص نے پے در پے تین بیویاں کیں اور تینوں کو جَلا جَلا اور گُھلا گُھلا کر پار اُتارا ۔ جب اماں جان نے اس گھر کو جس میں ہم سب بیٹھے ہیں پسند کیا اور اس بَر پر رضامندی ظاہر کی تو مجھ کو سب سے بڑا اندیشہ یہ تھا کہ اِن دونوں کلیجہ کے ٹکڑوں کو جو میرے پاس بیٹھے رو رہے ہیں ، کہنے کو سوتیلے مگر پیٹ کے بچوں سے زیادہ عاشقِ زار ، کِس طرح خُوش رکھوں گی ۔ یہی دھڑکا تھا جس کو ساتھ لئے میں سُسرال میں آ داخل ہُوئی ۔ سرکار نے جیسا دنیا کے تمام مردوں کا قاعدہ ہے میری صُورت دیکھتے ہی بچوں کی وقعت کم کردی ۔ اِن کا کھانا پینا ، پہننا اوڑھنا سب میرے ہاتھ میں تھا ۔
میں خود بچہ تھی اور اِن بچوں کی خدمت میرے بَس کا کام نہ تھا ، پھر بھی خوفِ خُدا میرے دل میں تھا ۔ میں سمجھتی تھی کہ دُنیا کی کسی حالت کو قیام نہیں ۔ زندگی کے ساتھ انقلاب لگے ہوئے ہیں ، یہ دو معصُوم رُوحیں جو قُدرت نے میرے سُپرد کی ہیں محض میری شفقت کی محتاج ہیں ۔ نہ معلوم چند روز بعد میں اِس شفقت کے قابل بھی رہوں یا نہ رہوں ۔ میں اندھی ، لنگڑی ، گانڑی رانڈ ہو جاؤں اور بھیک بھی مُجھ کو مُیّسر نہ ہو ۔ اِس لئے جہاں تک ممکن ہوتا میں اِن کی خاطِر مدارات کرتی۔
Iss shikray se koi parinda nahi bach sakta

Offline shikra22

  • SHIKRA ... eik khatarnaak shikaari
  • T. Members
  • 7 Stars
  • *******
  • Posts: 34325
  • Reputation: +2/-3
  • Gender: Male
  • SHIKRA THE FLYING HUNTER
    • View Profile
Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #20 on: June 06, 2013, 02:55:43 pm »
دو سال اِسی طرح گُذرے اور میں بھی ایک بچہ کی ماں بن گئی ۔ مُجھے اب اپنے بچہ کے آگے یہ دونوں زہر معلوم ہوتے اور ہر وقت یہ خواہش ہوتی کہ سرکار کی تمام محبت چاروں طرف سے کھنچ کر میری طرف آجائے ۔ میری آرزُو پُوری ہوئی ، سرکار دَم بھر میرے بچے سلمان کو آنکھ سے اوجھل نہ کرتے اور اپنے بچہ عرفان کو جو مشکل سے تین برس کا ہوگا ، ہمارے کمرے تک میں گُھسنے نہ دیتے ۔ اِسی طرح چار برس بیت گئے۔
مُجھے دن عید اور رات شب برات تھی ۔ اِن سوتیلے بچوں کا کانٹا قریب قریب نکل چُکا تھا ۔ یہ زندہ تھے مگر مُردوں سے بدتر ۔ میں بھی اُس وقت کچھ ایسے گُھمنڈ میں تھی کہ مُجھے ان سے سیدھے منہ بات کرنا قَسم ۔ میں جو ہاتھ اُٹھا کر دیتی یہ لے لیتے ، جو کہہ دیتی وہ کر لیتے ۔ عرفان لاکھ بچہ تھا مگر چھ سات برس کا بچہ اپنی حالت اچھی طرح پہچانتا ، اور اپنی عزت پُوری پُوری طرح جانتا ، دن بھر میرے بچے کے  یچھے خُوشامد کرتا پِھرتا ، پِٹتا کُٹتا ، گُھرکیاں سُنتا اور اُف نہ کرتا ۔ مُجھ کو خود ایسے لڑکے کی ضرورت تھی ، جو ہر وقت سلمان کی خدمت کرتا ، اس کو بہلائے کِھلائے ، اس کی خدمت کرے ۔ اِن داموں عرفان مجھ کو کُچھ گِراں نہ تھا ۔ سلمان کھانا کھا چُکتا تو اس کے آگے کا بچا بچایا کھانا بھی میں اسی کو دے دیتی ، پُرانی دُھرانی جُوتی، پھٹا پُرانا کُرتا بھی اسی کے کام آتا ۔
میری سوکن کے زمانے کا ایک طوطا تھا جس کو سب ہیرامن کہتے تھے ۔ ایک دن کا ذکر ہے ۔ گرمی کے موسم میں شام کے وقت میں نہانے جا رہی تھی ۔ سونے کی گھڑی نکال کر میں نے رکھنی چاہی ۔ سلمان میرے پاس بیٹھا کھیل رہا تھا گھڑی دیکھتے ہی مچل گیا ۔ دس بیس رُوپے کی چیز ہوتی تو خیر تھی ، ساڑھے تین سو کی گھڑی ، میں نے اٹھا صندُوقچہ میں چُھپا دی ۔ بچہ مچل گیا ، لگا پٹخنیاں کھانے ، عرفان کھڑا اُس کو پنکھا جھل رہا تھا ، بہلایا چُمکارا مگر بچہ کسی طرح قابُو میں نہ آیا ۔ اسی سلسلے میں غریب جا کر طوطے کا پنجرہ اُٹھا لایا اور کہنے لگا ، ” مٹھو میاں پر ہنس رہا ہے۔“ وہ تو ادھر بہلا اور میں غُسل خانہ میں پہنچی ۔ ابھی اچھی طرح نہانے بھی نہ پائی تھی کہ اس کے بلکنے کی آواز میرے کان میں پہنچی ، کیسا نہانا اور کس کا غُسل ، جلدی سے تین لوٹے ڈال باہر آئی تو کیا دیکھتی ہُوں کہ بچہ کی اُنگلی سے خُون کی تللی بندھی ہوئی ہے اور وہ تڑپ رہا ہے ۔ محبت کے مارے بے تاب اور غُصہ کے مارے آگ بگولہ ہوگئی ۔ انّا نے کہا مُوئے عرفان نے طوطے سے اُنگلی کٹوا دی ۔ اتنا سُنتے ہی میں آپے سے باہر ہو گئی ۔ بَس چلتا تو عرفان کی بوٹیاں کاٹ کر چِیلوں کو دے دیتی ۔ میں نے ایک غضب کی بھری ہوئی نگاہ اُس پر ڈالی ، اُس کی رنگت زرد پڑی ہوئی تھی اور تھر تھر کانپ رہا تھا ۔
وہی طوطے کا پنجرہ جس کی ایک تیلی ٹوٹی ہوئی تھی ، اُٹھا کر اس کے منہ پر اس زور سے مارا کہ تیلی اُنگل بھر کان میں گُھس گئی ۔ اس کے گورے گورے کلّے خُون میں لہُو لہان ہوگئے ۔ بِن ماں کا بچہ اس وقت مُصیبت کی سچی تصویر تھا ۔ بیکسی اس کے چہرے پر برس رہی تھی اور گھونگھروالے بال اُس کی بے گناہی کی داد دے رہے تھے ۔ اُس کی معصُوم آنکھیں آنسوؤں کی جَھڑیاں بہا رہی تھیں مگر میرے غُصے کی آگ کسی طرح ٹھنڈی نہ ہوتی تھی ۔ جب تک انّا نے اُنگلی دُھلا کر پٹی باندھی ، میں نے اس مُصیبت کے مارے کا ہاتھ پکڑ کر دو طمانچے اور مارے اور پھر ایک ایسا دھکا دیا کہ بے قرار ہو کر دَر پر جا کر پڑا اور ستون کی کگر بَھوں میں چُبھ گئی ۔ کنپٹی پہلے ہی لہُولہان ہورہی تھی ، بھوں بھی زخمی ہوگئی ۔ بے بَس اور مظلوم عرفان کی وہ تصویر آج تک میرے دل سے فراموش نہ ہوئی ۔ اس کے کپڑے خُون میں شرابور تھے مگر اس کو اپنی تکلیف کا مطلق خیال نہ تھا ، بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ مار پیٹ کا یقین تھا ، اس کی آنکھ سے آنسو جاری تھے وہ ہاتھ جوڑے مجھ کو ایسی نظر سے دیکھ رہا تھا جو میرے رحم کی التجا کر
رہی تھی ۔ ڈر کے مارے آواز بند تھی اور ایک آٹھ برس کی جان میرے سامنے بیری کی طرح تھر تھر کانپ رہی تھی ۔
Iss shikray se koi parinda nahi bach sakta

Offline shikra22

  • SHIKRA ... eik khatarnaak shikaari
  • T. Members
  • 7 Stars
  • *******
  • Posts: 34325
  • Reputation: +2/-3
  • Gender: Male
  • SHIKRA THE FLYING HUNTER
    • View Profile
Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #21 on: June 06, 2013, 04:55:56 pm »
میں اس حالت میں غُصہ سے بھری سلمان کو گود میں لئے اپنے کمرے میں پہنچی ۔ وہ سو گیا تھا پلنگ پر لٹا دیا ۔ اتنے ہی میں سرکار تشریف لے آئے ۔ میں سلمان کو کلیجہ سے لگائے بیٹھی تھی دیکھتے ہی گھبرا گئے اور پُوچھا ، ” کیوں ؟ خیر تو ہے ؟“
میں آبدیدہ ہو کر ، ” ہاں شکر ہے الله کا ! اس کا پِنڈا پِھیکا ہو گیا ، وقت کی بات ہے ، چُوک گئی ۔ انّا کمبخت بھی اُدھر چلی گئی ، عرفان نے طوطے سے کٹوا دیا ، اتنا سارا جیتا جیتا خُون نکل گیا ، یہ بِلَک رہا تھا وہ ہنس رہا تھا ۔ میں نہ آؤں تو ساری اُنگلی الگ ہوجائے۔“ سرکار کی حالت تو اتنا سنتے ہی کچھ سے کچھ ہوگئی ۔ وہ بغیر کپڑے اُتارے باہر گئے اور عرفان کو اُٹھا کر انگنائی سے باہر پھینک دیا ۔ آٹھ برس کے بچہ کی بساط ہی کیا ۔ ہاتھ کی ہڈی چڑ سے ٹوٹ گئی ۔ ایسی حالت میں سرکار نے اُس کے کپڑے اُتروائے اور ہنٹر لے کر اس قدر مارا کہ تمام کھال اُدھڑ گئی ۔ بے گناہ معصُوم کے پاس قصُور سے بَری ہونے کی کوئی شہادت نہ تھی ۔ وہ سر سے پاؤں تک خُون میں ڈُوب چکا تھا اور کوئی حمایتی ، لا وارث عرفان کا ایسا نہ تھا جو ہم ظالموں کے قبضہ سے مظلوم کو نکال لے ۔ آخر سرکار نے اس کا ہاتھ پکڑ کر گھر سے نکال دیا اور سلمان کو گود میں لے کر بیٹھ گئے ۔ میں اُس وقت نہایت خُوش ، دل میں ہنستی ، ظاہر میں ٹھنڈے سانس بھرتی باہر آئی ۔ رات چاندنی تھی ، آٹھ بج چُکے تھے ڈیوڑھی میں کھُسر پھُسر کی آواز کان میں آئی ، میرا قدم دھرنا تھا کہ احسان عرفان کا بڑا بھائی جو اب دس برس کا تھا ، میری صُورت دیکھتے ہی سہم گیا ۔ اس کی گود میں عرفان کا سر تھا ، وہ ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا ، ” یہ سوگیا ، جاگتا ہی نہیں ، میں اس کو ابھی لے جاتا ہوں۔“
احسان نے رو رو کر کچھ اس درد سے بھائی کی حالت بیان کی کہ اس وقت میں بھی لرز گئی ، دیکھتی ہوں تو عرفان بیہوش پڑا ہے ۔ گھبرا کر گھر میں آئی ، سرکار کی آنکھ لگ گئی تھی ۔ صندوقچی کھول کر عطر نکالا ۔
ٹرنک منگوا کر کپڑے نکالے ، لے کر آئی تو دونوں بچے جا چکے تھے ۔ خاموش آکر بیٹھ گئی ، معاملہ پر غور کیا تو بِن ماں کا بچہ بے گناہ تھا ۔ اُس پر جو ظُلم ٹُوٹا وہ خُدا دُشمن کو بھی نہ دِکھائے ۔ اس کی عبرتناک تصویر ، اس کا میرے آگے ہاتھ جوڑنا ، بلکنا اور رونا میرے کلیجے کے پار ہو رہا تھا ۔ دل نے اُس وقت یہ صدا دی ۔ اشرف ! زندگی کا اعتبار نہیں ۔ اگر آج تیرا دَم نکل گیا تو عرفان سے بدتر حالت سلمان کی ہوگی ۔
اِس خیال کا دل میں آنا تھا کہ سلمان کی یہی تصویر آنکھوں میں پھر گئی ۔ برقع اوڑھ باہر نکل گئی ۔ کوٹھی کے سامنے قبرستان تھا ۔ چاندنی رات میں دو معصُوم بچے ایک قبر پر نظر آئے ۔ چھوٹا بیہوش تھا اور بڑا اُس کی صُورت دیکھ دیکھ کر تڑپ رہا تھا ۔ میں چُپکی کھڑی اُن کو دیکھ رہی تھی ۔ دفعتاً چھوٹا کسمسایا اور بڑے نے اُس کے منہ پر منہ رکھ کر کہا ، ”بھائی ، اُٹھ بیٹھ ۔“
عرفان : ” بھائی میرے ہاتھ میں بڑا درد ہو رہا ہے ۔ ہاتھ نہیں اُٹھتا ۔ ابا جان نے جو باہر پھینکا تو چوٹ لگ گئی ۔“
احسان : ” لا ، میں اپنا کُرتا اُتار کر باندھ دُوں ۔ ہمارا بھی تو الله ہے ۔ اب ہم بڑے ہو جائیں گے تو آپ کمانے لگیں گے ۔“
عرفان : ” اچھے بھائی ، خُدا کے لئے میرا سر دبا دے بڑا درد ہو رہا ہے ۔ تیلی آدھی گُھس گئی ہے ، پھر ستون گُھسا ۔ میری اماں ہوتیں تو وہ دبا دیتیں ۔“
احسان : ” اماں کے سامنے ابا مارتے ہی کیوں ! اماں ہی کے مرنے سے تو ہماری مٹی ویران ہوئی ۔ اس قبر میں اماں میری سو رہی ہیں ۔ اماں جان ہم کو بھی کلیجے سے لگا لو ۔“
یہ کہہ کر دونوں بھائی لپٹ گئے اور چیخیں مار مار کر رونے لگے ۔ اس وقت میری حالت بھی بگڑ چکی تھی ، موت میرے سامنے کھڑی تھی اور ظُلمِ ناحق کی سزا دوزخ کے شعلے میرے رُوبرُو بھڑک رہے تھے ۔ میں دونوں کو اُٹھا کر گھر لائی ۔ رات بھر ان کی خدمت کی ۔ صبح اُٹھتے ہی ڈاکٹر کو بلایا ۔ ہاتھ پر پٹی بندھوائی اور سچے دل سے خُدا کے حضور میں توبہ کی ۔
وہ دن اور آج کا دن یہ تینوں اب جوان جوان میرے سامنے بیٹھے ہیں ۔ ان میں رتّی بھر فرق کیا ہو تو خُدا کے ہاں کی دیندار ہوں ۔
پیارے بچو احسان ، عرفان ! اس ظلم کی آج تم دونوں سے معافی مانگتی ہوں ۔ میری زندگی ختم ہوگئی ۔ اور اب میں اس جگہ جا رہی ہوں جہاں ہر فعل کی جزا اور ہر کام کی سزا بُھگتنی ہے ۔ ایسا نہ ہو تم اس ظُلم کا دعوٰی کرو ۔“
اب دونوں بچے اشرف جہاں بیگم کو لپٹے دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے ، ”اماں جان ہمیں تو وہ بات ایک خواب سی یاد ہے ۔ ہاں یہ اچھی طرح یاد ہے کہ آپ کی محبت نے حقیقی ماں کو بُھلا دیا ۔“
اب اشرف جہاں بیگم نے کہا ، ”پیاری بچیو ! ممکن ہے تم کو بھی میری طرح ایسے بچوں سے سابقہ پڑے مگر یاد رکھو کہ ان کے دُکھے دلوں کی آہ اچھی نہیں ہوتی ۔ جس طرح میں اپنے فعل پر نادم ہو کر آج خُدا کے حضور میں سُرخ رُو جارہی ہوں ، اسی طرح جانے کی کوشش کرنا ، اور وہ موت ایسی ہو گی جس پر ہزاروں زندگیاں قربان ہوں ۔

THE END
Iss shikray se koi parinda nahi bach sakta

Offline shikra22

  • SHIKRA ... eik khatarnaak shikaari
  • T. Members
  • 7 Stars
  • *******
  • Posts: 34325
  • Reputation: +2/-3
  • Gender: Male
  • SHIKRA THE FLYING HUNTER
    • View Profile
Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #22 on: June 07, 2013, 03:30:30 pm »
میں نے کیا دیکھا


کل میرے پوتے امین کے بچہ کا عقیقہ تھا ۔ جب تمام مہمان جمع ہوگئے تو بچوں کو یہ خبط اُچھلا کہ دادی اماں کی تصویر اُتاری جائے ۔ مجھ سے آن کر کہا تو میں نے ایک سرے سے سب کو جھڑک دیا ، مگر ضدی بچے کیا ماننے والے تھے ، اس صلاح میں ماؤں کو شریک کیا اور ان نیک بختوں نے اپنے اپنے شوہروں کو بھی راضی کرلیا ، نتیجہ یہ ہُوا کی مجھ کو بھی ماننا پڑا اور تصویر اُترنی شروع ہوئی ۔ بیچ میں مَیں بیٹھی ، دائیں بائیں بہوئیں ، اُن کے پیچھے اُن کے شوہر اور اُن سے ذرا بُلندی پر اُن کے بچے ، اس قطار میں بیچوں بیچ میاں امین اپنے بچے کو لئے ہوئے ۔ اس تصویر کی غرض تو صرف یہ تھی کہ میں نہایت خوش نصیب عورت ہوں جس کے الله رکھے اتنے سارے بچے آنکھوں کے سامنے موجود ہیں ۔ تصویر اُتر گئی اور سب نے ایک ایک کر کے میرے ہاتھ کو بوسہ دیا ۔ ایمان کی بات یہ ہے میں بے حد خوش تھی ۔ خدا نے مجھ کو یہ دن دکھایا ۔ میری عُمر اس وقت ایک سو دس برس کی تھی مگر جب مجھ کو یہ خیال آیا کہ میں نے اپنی تمام عمر میں کیا کیا کام کئے اور کیا کیا ، دیکھا تو ایک سناٹا سا آ گیا ۔ میں خاموش اپنے دالان میں چلی آئی ۔ افسوس صد افسوس میں نے کوئی کام بھی ایسا نہ کیا تھا جس کو آج فخر سے بیان کروں ۔ البتہ بہُوؤں پر ظُلم میں نے کئے ، ایک کو طلاق تک دِلوائی ۔ کُنبے والوں کو ذلیل مَیں نے کیا اور رانڈ بھاوَجُوں سے ماماؤں کا کام مَیں نے لیا ۔ غرض کرنے میں تو مَیں بَد ترین عورت تھی ، ہاں دیکھنے میں دو واقعے دیکھے جو مُدّتیں گُذر جانے پر بھی میری آنکھ کے سامنے تھے ۔
مَیں دو بچوں کی ماں تھی ۔ دیوار بیچ رسالدار صاحب رہتے تھے ۔ اُن کی بیوی کیسی نمازی پرہیزگار کہ الله سب لڑکیوں کو ایسا کرے ۔ ان کی ماما کی نواسی ایک لڑکی شکورن تھی جس کو وہ اپنے بچوں سے زیادہ اس لئے چاہتی تھیں کہ وہ بِن ماں باپ کی بچی تھی ۔ جب رسالدار صاحب کا انتقال ہوا تو اُن کی آمدنی برائے نام رہ گئی ۔ پھر بھی انھوں نے اس لڑکی کو اس طرح بیاہا کہ ایک مَیں کیا ، سارا شہر تعجب کرتا تھا ۔ خدا کی شان ایک وقت ایسا آیا کہ اُن کی بیوی کے پاس دانت کُریدنے کو تِنکا تک نہ رہا ۔ آن بان کی عورت تھیں ، تمام تکلیفیں گوارا کیں مگر گھر کی ہَوا نہ بگڑنے دی ۔ خدا جانے رسالدار صاحب کی زندگی کا کیا کچھ یا بعد کا ، ایک بنئے نے اٹھارہ رُوپے کی نالش کی اور محلہ بھر میں یہ خبر مشہور ہوگئی کہ وہ قُرقی لے کر آیا ہے ۔ مَیں بھی گئی ، دہاروں رو رہی تھیں ۔ میں نے کہا ، آپ کی کنیز شکورن کا خاوند ڈیڑھ سو روپئے کا داروغۂ جیل ہے ۔ اس کو اطلاع دیجئے ۔ اٹھارہ روپے کی رقم ایسی نہیں ہے کہ وہ نہ دے سکے ۔ آپ ہی کی جُوتیوں کا صدقہ ہے کہ وہ آج بیگم بنی بیٹھی ہے ۔ فرمانے لگیں کہ خیر ، مگر جس کے ساتھ ہمیشہ سلوک کیا اب اُس کے آگے ہاتھ پھیلانے کو جی نہیں چاہتا ۔ میرے زیادہ اصرار سے بمشکل رضامند ہوئیں اور میں اُن کو ڈولی میں بٹھا کر شکورن کے گھر لے چلی ۔
Iss shikray se koi parinda nahi bach sakta

Offline shikra22

  • SHIKRA ... eik khatarnaak shikaari
  • T. Members
  • 7 Stars
  • *******
  • Posts: 34325
  • Reputation: +2/-3
  • Gender: Male
  • SHIKRA THE FLYING HUNTER
    • View Profile
Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #23 on: June 07, 2013, 03:45:45 pm »
موسم گرم تھا ۔ دوپہر کی دُھوپ چھوٹ چکی تھی مگر ہم مُصیبت کے مارے اس حالت میں وہاں پہنچے ۔ ڈولی سے اُتر کر کوٹھی کے برآمدہ میں کھڑے ہوگئے ۔ ہماری اطلاع ہوئی اور ایک ماما نے آ کر کہا ،”بیگم صاحب رسالدارنی کو سلام کہتی ہیں اور فرماتی ہیں کہ ٹھہرئیے مَیں چار بجے کے بعد آپ سے مل سکوں گی ۔“ ماما یہ کہہ کر چلی گئی بیساکھ کی قیامت خیز دُھوپ ہمارے سر پر تھی ۔ کہار مزدُوری کے واسطے ہم کو بُرا بھلا کہہ رہے تھے ۔ رسالدارنی واپسی کا تقاضہ کر رہی تھیں مگر میں اُن کو سمجھا بُجھا کر ٹھہرا رہی تھی ۔ مُجھ پر تمام عُمر ایسی مُصیبت کبھی نہیں گُذری ۔ لُو کے جھکڑ ہمارے سر پر تھے ۔ خدا خدا کر کے چار بجے ، مگر کیسے چار اور کس کے پانچ ۔ چھ بجے کے قریب جب میں نے دوبارہ اطلاع کروائی ہے تو ہم کو اندر آنے کی اجازت ملی ۔ شکورن سر سے پاؤں تک سونے میں ٹوٹ رہی تھی ۔ مَیں نے اُس سے اٹھارہ رُوپے کی التجا کی جس کو سُن کر اُس نے ایک قہقہہ مارا اور کہا ، ”بے شک میرا بچپن رسالدارنی کے پاس گُزرا ، ممکن ہے انھوں نے میری خدمت بھی کی ہو ۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ میں اُن کو اٹھارہ رُوپے مفت میں دے دُوں ۔ اچھا مَیں جاتی ہُوں آپ مجھ کو پھر یاد دلائیے گا ۔“
یہ ایسا نازک وقت تھا کہ مَیں شکورن کو دیکھ کر دم بخود رہ گئی ۔ اُسی شام کو رسالدار صاحب کے مکان پر قُرقی آئی اور تھوڑی دیر کے بعد ہم نے سُنا کہ اسباب قُرق ہونے سے پہلے رسالدارنی افیون کھا کر اس دنیا سے رُخصت ہوگئیں ۔
آج رسالدارنی اور شکورن دونوں گُذر چکے ہیں مگر مَیں نے یہ وہ واقعہ دیکھا کہ اب بھی جب کبھی خیال آتا ہے اور شکُورن کی صُورت نظر آتی ہے تو مَیں بَید کی طرح کانپ جاتی ہُوں ۔
امیری میں نخوت اور غرُور کی ایسی مثال اور احسان فراموشی کی ایسی نظیر شاید دُوسری نہ ملے ۔
دُوسری مثال مُفلسی کی ہے اور اس طرح شروع ہوتی ہے جب سردار ابنِ علی صاحب کا انتقال ہو گیا تو ان کی جائیداد قرضہ کو کافی نہ ہوسکی ۔ بیگم بہت بڑے باپ کی بیٹی تھی ، میرے سامنے چھوٹی سے بڑی ہُوئی ، امیری اُس کی ہر بات سے ٹپکتی تھی اور غربا پروری جو امارت کا اصلی جوہر ہے اُس کا خاص شیوہ تھا ۔ زمانہ نے اُس کو یہ وقت دِکھایا کہ محلُوں میں بسر کرنے والی بیگم ایک ٹُوٹے سے مکان میں ڈیڑھ رُوپیہ مہینہ پر آ کر رہی ۔ دو برس کی بچی گود میں تھی ، آمدنی کا کوئی ذریعہ نہ تھا ۔ کبھی لالہ کی ٹوپیاں سیتی اور کبھی درزی کے کُرتے ۔ بدنصیب بیگم کے بنے ہوئے زمانہ کی ایک نامعلوم انّا تھی یا کِھلائی ، رحمت نامی عورت ہر وقت ساتھ لپٹی رہتی تھی ۔
Iss shikray se koi parinda nahi bach sakta