Author Topic: TOOFAN-E-ASHQ  (Read 6296 times)

Offline wajahat

  • T. Members
  • 6 Stars
  • ******
  • Posts: 29033
  • Reputation: +51/-60
  • Gender: Male
  • Tamashaai
    • View Profile
Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #8 on: June 03, 2013, 11:10:43 pm »
Keya kahon bhai koi believe ni krega i am weaping coz this story is relevant to my life :(
Just amazing sharing bro
Supperb
Kamal kar dia
Mind blowing style hy Allama sahib ka.
Jesa pics mein ap ne hamesha kamal dikhaya wesa aj ap ne stories mein ye pehli post kr k dikhaya hy.
Mera har us reader se ek iltamas hy k kbi b apni aulad mein koi farq na karna aur na unhen tanha chorna. Aur beti to rehmat hoti hy kbi is rehmat ko na thukrana.
Iske ilawa b aurat har roop mein qabil-e-ehtaram hy chahy b.v ho maa ho behan ho ya beti
Koi b rishta ho uska dil ek sa hota hy masoom aur apke peyar ka bhooka.
Mansoor bhai baqi 7 stories b post kren jaldi
Keep it up bro
 Mere pas alfaz ni hain k theek se appriciate kr sakon aur thanx bol sakon
 :rockon: :rockon: :rockon: :rockon: :rockon: :rockon: :rockon: :rockon:
Andhera hai Buhat....
Aao Dil Jalate Hain

YUM Stories

Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #8 on: June 03, 2013, 11:10:43 pm »

Offline shikra22

  • SHIKRA ... eik khatarnaak shikaari
  • T. Members
  • 7 Stars
  • *******
  • Posts: 34325
  • Reputation: +2/-3
  • Gender: Male
  • SHIKRA THE FLYING HUNTER
    • View Profile
Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #9 on: June 04, 2013, 11:01:50 am »
Thanks alot Wajahat for liking this story, yeh story wakai insaan ko buhat kuch sikha deyti hay, parents ki kadar tab hei ati hay jab khudh parents bantay hein, yeh story humari society ki woh talkh haqeeqat hay jis hum bura to samajhtay hein lekin chornay ko tayar nahi.
Iss shikray se koi parinda nahi bach sakta

YUM Stories

Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #9 on: June 04, 2013, 11:01:50 am »

Offline shikra22

  • SHIKRA ... eik khatarnaak shikaari
  • T. Members
  • 7 Stars
  • *******
  • Posts: 34325
  • Reputation: +2/-3
  • Gender: Male
  • SHIKRA THE FLYING HUNTER
    • View Profile
Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #10 on: June 04, 2013, 11:09:49 am »
رواج کی بھینٹ

صُورت ، شکل ، ہُنر سلیقہ ، عطیہ ہر لحاظ سے بے مثل اور لاجواب نہیں تو سودو سو میں ایک لڑکی تھی ۔ خوش قسمتی سے شوہر بھی ایسا ملا کہ ماں باپ کی جُدائی ، میکہ کی یاد ، عزیزوں کی محبت ، سب دل سے بھُلا دی ۔ ایک ذرا اُس کے سر میں درد ہوجاتا تو مچھلی کی طرح تڑپتا اور گھنٹوں بے چین رہتا ۔ اس لحاظ سے عطیہ نہایت خُوش نصیب لڑکی تھی ۔ شادی کا پہلا سال ایسا گذرا کہ خدا دُنیا جہاں کی بیٹیوں کو نصیب کرے مگر افسوس پہلونٹی کا بچہ پیدا ہوتے ہی دُنیا بھر کے امراض کے ساتھ ہی شوہر کی بے اعتنائی شروع ہوگئی ۔ بیوی بد نصیب کے فرشتوں کو بھی خبر نہ تھی کہ یہ امراض اُس شخص کو جو اُن کی اصلی وجہ ہے میری صورت سے اس قدر بیزار کر دیں گے اور حسن کی یہ محبت دودھ کے اُبال سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی ۔ میمیں اور دائیاں علاج میں کسر نہ تھی مگر مرض روز بروز ترقی کر رہا تھا ۔ دردِ سر کو آرام ہے تو اختلاجِ قلب بڑھا ۔ اُس میں کمی ہوئی تو درد نے زور پکڑا۔ المختصر مشکل سے چھ مہینے ایسے گذرے ہوں گے کہ حسن نے دوسری کی ٹھان لی ۔ کھاتے پیتے نوکر چاکر لڑکے کو بیٹیوں کی کیا کمی ۔ دوسرا سال ختم بھی نہ ہوا تھا کہ عطیہ کی سیج پر سوکن آدھمکی ۔
داستان طویل ہے اور گنجائش تھوڑی ۔ بیمار بیوی عطیہ اور معصوم بچہ پر سوکن لا کر جس کٹر شخص نے کبوتروں میں بلی چھوڑدی ، اُس سے انسانیت کی توقع ہی غلط تھی ۔ یہ عطیہ کی تقدیر تھی کہ سوکن ایسی کٹر اور اتنی پتھر ملی کہ نِت نئے ظلم تڑواتی اور پھر بھی کلیجہ ٹھنڈا نہ ہوتا۔
مُسلمانوں کے نکاحِ ثانی کو دین و ایمان سمجھ کر بھی ہم حسن کے اِس نکاح کو جائز نہ کہیں گے ۔ اگر مجبوُری و معذوری سے تسلیم کر بھی لیں تو ضرورت تھی کہ حسن احکامِ اسلام کے بموجب مساوات کا ایسا سُرمہ لگا کر دونوں کو دیکھتا کہ عطیہ کی آنکھ میں مَلال کا مَیل تک نہ آتا ۔ لیکن یہ کیا غضب تھا کہ کڑکڑاتے جاڑوں میں بیمار عطیہ دُودھ پیتے بچہ کو کلیجہ سے لگائے میاں اور سوکن کے لئے چائے بنائے اور انڈے تلے ۔
ایک غیّور اور سنجیدہ لڑکی کی کیفیت جو کچھ اِن حالات سے ہونی چاہیے تھی وہی عطیہ کی ہوئی ۔ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی کہ حَسن کی جن آنکھوں سے محبت کے چشمے پُھوٹ رہے تھے ، اب اُن سے زہر ٹپک رہا تھا اور وہ اُف نہ کرتی ۔
Iss shikray se koi parinda nahi bach sakta

Offline wajahat

  • T. Members
  • 6 Stars
  • ******
  • Posts: 29033
  • Reputation: +51/-60
  • Gender: Male
  • Tamashaai
    • View Profile
Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #11 on: June 04, 2013, 01:06:22 pm »
Thanks alot Wajahat for liking this story, yeh story wakai insaan ko buhat kuch sikha deyti hay, parents ki kadar tab hei ati hay jab khudh parents bantay hein, yeh story humari society ki woh talkh haqeeqat hay jis hum bura to samajhtay hein lekin chornay ko tayar nahi.
True v true
I agreed
Andhera hai Buhat....
Aao Dil Jalate Hain

Offline shikra22

  • SHIKRA ... eik khatarnaak shikaari
  • T. Members
  • 7 Stars
  • *******
  • Posts: 34325
  • Reputation: +2/-3
  • Gender: Male
  • SHIKRA THE FLYING HUNTER
    • View Profile
Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #12 on: June 04, 2013, 02:55:55 pm »
ایک رات کا ذکر ہے ۔ مینھ برس کر تھم چکا تھا ۔ آسمان اپنے چہرے سے سیاہی کا پَردہ آہستہ آہستہ سرکا رہا تھا اور صبح صادق خراماں خراماں منزلِ دُنیا تک بڑھ رہی تھی ۔ اِدھر خانۂ خدا کی طرف سے وداعِ شب کا سامان ہوا، اُدھر بیمار عطیہ شوہر اور سوکن کے ناشتہ کی تیاری میں مصروف ہوئی ۔ ہوا کے ٹھنڈے جھونکے تیر کی طرح کلیجہ میں لگ رہے تھے ۔ گلے میں پُرانی رُوئی کی کمری ، سر پر معمُولی چادرہ ، پُوروا ہوا نے ہڈیوں میں اولے بچھا دئیے ، اِس غضب کا درد اُٹھا کہ بیقرار ہوگئی ، بہتیرا سنبھلی نہ سنبھلا گیا ۔ اُٹھی ، بیٹھی لیٹی پوٹی مگر سب بے سُود تھا ۔
حَسن کو اگر عطیہ سے ہمدردی نہ تھی تو اُس کی خوشی مگر اِس زخم پر کچوکے بے ایمان کی بد گُمانی تھی کہ بیماری کو بہانہ ، درد کو مکر اور تکلیف کو فریب سمجھا ۔ دُولھا دُولہن اُٹھے ۔ چُولھا ٹھنڈا پڑا تھا ، دونوں آگ بگولا ہو گئے اور نئی دُلہن نے کہا ، ” تم نے اپنے ساتھ میری مٹی بھی پلید کر رکھی ہے بھلا یہ وقت ناشتہ کا ہے ۔ ابھی آگ بھی نہیں سُلگی ۔ بلا سے اس جی کے جلانے سے تو ہاتھ کا جلانا بہتر ۔ کل سے میں خود کر لیا کروں گی اِن کو تو چکر آرہے ہوں گے۔“ کریلا اور نیم چڑھا ، حَسن پہلے ہی عطیہ کو شیر کی نظروں سے گُھور رہا تھا ، بیوی کے اس فقرے نےغصے کی آگ اور بھڑکائی ۔ ”جُھوٹی ، فریبن ، دغاباز ، بدمعاش ، کام چور ، مَریل ، سُست ۔“ ایک لفظ ہو تو کہا جائے۔ ”اُٹھ کھڑی ہو مکار ۔ ابھی آگ سُلگا ، نہیں تو مارے تھپڑوں کے منہ پھیر دوں گا۔“
حَسن یہ کہتا ہوا سانپ کی طرح پھنپھناتا ہوا اُٹھا اور عطیہ کو مارنے چلا کہ دروازے سے خُسر کی آواز آئی۔ یہ عطیہ کا باپ تھا جو معمولی گرا پڑا آدمی نہیں تھا شہر کا مشہور وکیل تھا ۔ اکلوتی بچی کی بیماری نے اُس کی جان پر بنا دی تھی ۔ حَسن بیوی پر شیر تھا ، مگر خُسر کے سامنے بھیگی بلی بن گیا اور دُلہن کو ہٹا کر اُس کو اندر لایا ۔ حَسن جس وقت بپھرتا عطیہ کی طرف چلا ، اُس وقت وہ خوف کے مارے تھر تھر کانپ رہی تھی ۔ اُس نے ایک خاموش نظر شوہر کے چہرے پر ڈالی ، زبان چُپ تھی مگر نگاہ باآوازِ بُلند کہہ رہی تھی کہ میں بے گناہ ہوں ۔ باپ کی آمد نے شوہر کی مار سے بظاہر چُھڑا دیا مگر حق یہ ہے کہ جس نے مارنے کا قصد کیا اُس نے مار ہی لیا ۔
اُس وقت عطیہ کے قلب کی کیا کیفیت تھی اِس کا اندازہ صرف شوہر والی بیبیوں کا دل کرسکتا ہے ۔ اُس کی دلی خواہش یہ تھی کہ زمین پھٹ جائے اور میں سما جاؤں وہ باپ کے آنے سے بھی خوش نہ ہوئی اور چاہتی تھی کہ اس عمر بھر کے رفیق اور ابدی دوست کے ہاتھوں کٹوں پِٹوں اور اس کے سامنے مر جاؤں ۔ ۔ ۔ باپ کو آتا دیکھ کر اُس نے دُوپٹہ سے آنسو پونچھے ، سنبھل کر بیٹھی ، سلام کیا ۔ ہر چند باپ نے پُوچھا مگر اُس  ے یہی کہا کہ، ”خدا کا شُکر ہے اچھی ہوں۔“ درد لمحہ بہ لمحہ تیز ہو رہا تھا ۔ بُخار شدت سے چڑھ رہا تھا ۔ باپ کی کسی بات کا جواب نہ دیتی تھی ۔ آخر اُس نے ہاتھ سے دیکھا ، پنڈا جُھلس رہا تھا کہا، ”تم تیار ہو میں ڈولی لاتا ہوں ، چلو اپنے ہاں چلو۔“
Iss shikray se koi parinda nahi bach sakta

Offline shikra22

  • SHIKRA ... eik khatarnaak shikaari
  • T. Members
  • 7 Stars
  • *******
  • Posts: 34325
  • Reputation: +2/-3
  • Gender: Male
  • SHIKRA THE FLYING HUNTER
    • View Profile
Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #13 on: June 04, 2013, 03:07:45 pm »
جوان لڑکی کی معصوم نظروں نے اُس کے جواب میں باپ کی صورت دیکھی ، گو اُس کی زبان کچھ نہ کہتی تھی مگر حالت نے یہ جواب دیا کہ میں اب تو آپ کی ملکیت نہیں ، مجھ کو آپ نے ایک دوسرے شخص کے قبضہ میں دے دیا ، وہی میرا مالک ، حاکم اور سرتاج ہے۔ بڈھا باپ تجربہ کار آدمی تھا سمجھ گیا کہ شوہر کی اجازت کے بغیر چلنا منظور نہیں ۔ داماد کو بلا کر کہا ،
”میاں ! اجازت ہو تو دوچار روز کے واسطے اپنے ہاں لے جاؤں۔“ حَسن : مجھے کیا عُذر ہو سکتا ہے ، نہایت خوشی سے۔“ اتنا کہہ کر حَسن نئی دُولہن کے کمرے میں گیا اور باپ ڈولی لینے، حَسن باہر نکلا تو عطیہ
نے آہستہ سے کہا، ”کیا واقعی تمہاری اجازت ہے کہ میں چند روز کے واسطے چلی جاؤں۔“ حَسن : ایک دفعہ کہہ تو دیا اور کس طرح کہوں۔“ عطیہ : التجا یہ ہے کہ اگر روزانہ نہیں تو دوسرے روز چند لمحے کے واسطے اپنی صورت دکھا دیا کرو۔“ حَسن : میں خالی بیٹھا ہوں تاکہ روز حاضر ہوا کروں !!“ ڈولی آگئی عطیہ بچہ کو گود میں اُٹھانا چاہتی تھی کہ حَسن نے نئی دُولہن کے مشورہ سے کہا،
”بچہ کو چھوڑ جاؤ ، میں پہنچا دُوں گا۔“ ادھر باپ کا تقاضا اُدھر مامتا کا جوش ۔ منت سے کہا ، سماجت سے کہا مگر سنگدل نے بچہ کی اجازت نہ دی ۔ باپ نے اندر آکر کہا ، ”میاں ! کیا کہتے ہو؟“
حَسن : آپ ان کو لے جائیں ، میں ڈاکٹر کو دکھا کر خود ہی بچہ کو پہنچا دوں گا۔ باپ چھچھورا نہ تھا کہ لڑنے لگتا۔ خاموش ہوگیا اور ایک ٹھنڈا سانس بھر کر بیٹی کو ڈولی میں بٹھا کر گھر کا راستہ لیا۔
آفتاب لاتعداد مرتبہ طلوع ہو کر غروب ہوا ۔ چاند بے شمار بار چمک کر ماند پڑا ۔ مگر وہ آفتاب جو بچہ کی مفارقت میں ڈھلا اور ڈوبا بدنصیب عطیہ کے واسطے میکے میں ایسا درد چھوڑگیا جس کی ٹیسوں اور چَمکوں نے مُردہ کر دیا ۔ میکے کی ماما ، حقیقی چچا ، رشتے کے ماموں سب ہی گئے اور کوشش کی مگر حَسن نے بچہ نہ بھیجا ، دُکھیاری کلیجہ پر گھونسے مارنے لگی ۔ دنیا آنکھوں میں اندھیر تھی اور کوئی اتنا نہ تھا کہ چار پَہر بچھڑے ہوئے بچہ کی صُورت دکھا دے ۔ تڑپ رہی تھی کہ حَسن کا یہ پیغام آ پہنچا۔” بچہ اپنی پُھوپھی کے پاس گاؤں میں ہے لیکن تُم ابھی آجاؤ، اگر فورا نہ آئیں تو صُبح ہی زوجیت کا دعوٰی دائر کر دوں گا اور عدالت کا حُکم لے کے چوٹی پکڑ کر گھر میں سے گھسیٹ لاؤں گا۔“ عطیہ کے باپ نے یہ الفاظ سنے ، بیٹی کو بلا کر گلے سے لگایا اور کہا، ” جا خدا کے سُپرد کیا۔“اتنا کہہ کر بدنصیب باپ کی ہچکی بندھ گئی ۔ اُس نے کمرہ میں گُھس کر دروازہ بند کر لیا۔
Iss shikray se koi parinda nahi bach sakta

Offline shikra22

  • SHIKRA ... eik khatarnaak shikaari
  • T. Members
  • 7 Stars
  • *******
  • Posts: 34325
  • Reputation: +2/-3
  • Gender: Male
  • SHIKRA THE FLYING HUNTER
    • View Profile
Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #14 on: June 04, 2013, 06:08:46 pm »
عطیہ کی حالت خراب تھی جب یہ سُنا کہ بچہ بھی وہاں نہیں ہے اُس وقت سے بخار اور تیز ہوگیا تھا ۔ خدمت کی مُصیبت آنکھ کے سامنے تھی ۔ ماں ، بہنیں ، سہیلیاں سب کھڑی آٹھ آٹھ آنسُو رو رہی تھیں۔ ڈولی موجود تھی ۔ سوار ہونے سے پہلے عطیہ نے کہا ، ” مرض کی حالت مریض سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا ۔ میں اب اِس دُنیا میں چند ساعت کی مہمان ہوں اور قریب ہے وہ وقت کہ ماں میری موت اور باپ فراقِ ابدی پر خُون کے آنسو گرائیں اور میری نامُراد آنکھیں معصُوم بچہ کی صُورت کو پھڑکتی ہمیشہ کی نیند سو جائیں ، مگر مجھے ماں کے صَدمہ ، باپ کے رنج اور عزیزوں کے افسوس سے زیادہ اس مُصیبت کا دھڑکا ہے ، جس کے خیال سے میرے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں ۔ بہنو ! جن کانوں نے کُوار پنے میں ماں اور باپ کی جھڑکی تک نہ سُنی ، نکاح نے اُن کو سخت سے سخت اور بَد سے بَدتر کلمے سُنوا دیئے ۔ جس جسم پر پُھول کی چھڑی نہ لگی تھی اب اُس پر بیدیں پڑنے کا وقت آپہنچا!!“
” میرا سانس اُکھڑ رہا ہے اور وقتِ آخر ہے ۔ میرا پیام مُسلمانوں تک پہنچا دینا۔ بزرگو! اگر صداقتِ اسلام کی روشنی دِلوں میں اور انصاف کی جھلک آنکھوں میں موجود ہے تو کبھی بُھولے بِسرے ، سوتے جاگتے اِن بَدنصیب ہستیوں پر بھی غور کرو جو نازونعم سے پَل کر ہاتھوں چھاؤں بڑھ کر سنگدل شوہروں کے قبضے میں جا پَھنسیں ۔ مُسلمانوں کی حالت کا قیاس اپنے اُوپر نہ کرو۔ اِس بَدنصیب قوم کی حالتِ زار کی داستان گھر کی ماماؤں اور پڑوس کی بدنصیبوں سے سُنو۔ زندگی آپ کو مُصیبت اور دُنیا اُن کے واسطے دوزخ۔ ظالم شوہروں نے اُٹھتے جُوتی اور بیٹھتے لات سے اُن کو کائنات کی بدترین ہستی بنا دیا۔ لللہ ایمان سے کام لو اور بتاؤ اگر ہم نے حُکمِ طلاق کے آگے کبھی اُف کی ہو! تُم نے بے گُناہ ، بے قصُور طلاقیں دیں اور ہم نے گردنیں جُھکا دیں ! مگر اُسی نبی اور اُسی مذہب نے ہم کو خلع کا حق دیا تھا مگر ہے کوئی مُسلمان جو آج کہہ سکے کہ اُس نے ایک بدنصیب بیوی کو خلع دلوا کر ظالم شوہر سے چُھٹکارا دلوایا ہو؟“
”ہم نے خاکِ عرب سے اُٹھنے والے رسُول کے احکام سر اور آنکھوں پر اور اسلام کی لاج رکھی ، مگر تُم نے اُس پاک ہستی اور مکمل انسان کا ارشاد ٹھکرا دیا۔ بے شُمار ماں کی جائیاں مُصیبت پیٹتی اور آفت بُھگتتی قبروں میں پہنچا دیں اور خلع نہ ہونے دیا !!“
عورتوں کی ہچکی بندھی ہوئی تھی اور کوئی ایسی نہ تھی جو اُس کی صُورت پر لبیک نہ کہہ رہی ہو ۔ اب عطیہ کی آواز رُک گئی، وہ ڈولی میں بیٹھنا چاہتی تھی کہ کھانسی اُٹھی ، صرف اتنا کہا۔
”ہائے میرا بچہ!“
اور وہیں ٹھنڈی ہوگئی !!

THE END
Iss shikray se koi parinda nahi bach sakta

Offline shikra22

  • SHIKRA ... eik khatarnaak shikaari
  • T. Members
  • 7 Stars
  • *******
  • Posts: 34325
  • Reputation: +2/-3
  • Gender: Male
  • SHIKRA THE FLYING HUNTER
    • View Profile
Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #15 on: June 05, 2013, 06:09:41 pm »
اِس ہاتھ دے اُس ہاتھ لے


یہ خیال کہ افتخار کلثوم عاشق زار ماں تھی ، یقیناً غلط ۔ ارشاد اور فردوسی دونوں اُس کے اپنے پیٹ کے بچے تھے اور یہ واقعہ ہے کہ ارشاد پہلونٹی کا بچہ لڑکے کی ذات ، مگر جو لگن افتخار کو فردوسی کی تھی اُس سے آدھی کیا بلکہ چوتھائی بھی بچہ کی نہ تھی۔ دس گیارہ برس کا بچہ اور گندا سندا نہیں ، مَیلا کچیلا نہیں ، صاف سُتھرا اور گورا سفید لیکن ساری ساری رات بخار میں تڑپا اور اِس نیک بخت نے آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا۔ تعجب تو کم ہوتا نہیں مگر دل کو یہ کہہ کر تسکین دے لو کہ ماں ارشاد کو فقط دُودھ پلانے کی گنہگار تھی ۔ وہ بھی ڈیڑھ دو برس نہیں ، گنتی کے آٹھ سات مہینے ، ورنہ وہ پَلا دادی کی آغوش میں اور بڑھا باپ کی گود میں ۔ پورے پانچ برس کا بھی نہ تھا کہ کلکتہ بھیج دیا گیا اور گیا گیا لوٹا چار سال بعد ۔ اس جدائی نے اگر افتخار کو اتنا صبر دے دیا کہ اس نے زندہ بچہ کو مُردہ سمجھ لیا تو اسی کا دل گردہ تھا ۔ ہاں فردوسی کے ساتھ اس کو محبت اور عشق کیسا ، پروانہ تھی ، فدا تھی ، قُربان تھی ۔ اس کا بس چلتا تو شاید کلیجہ چیر کر بچی کو اندر بٹھا لیتی کہ اس کو کسی دنیوی اذیت کی ہوا بھی نہ لگے۔
تیہے کی اتنی تیز اور مزاج کی اس قدر کڑوی کہ دوسرے رشتہ دار اور عزیز تو رہے طاق میں ، افتخار کی حقیق بہن بھائی کی اتنی مجال نہ تھی کہ بھانجی کو ٹیڑھی آنکھ سے دیکھ لیں ۔ جوان بیوہ ہوئی اور بیس  چیس روپے کی آمدنی کے سوا کوئی معقول اثاثہ بھی نہ تھا ۔ مگر اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ چُنی ۔ ماں زندہ ، باپ جیتا ، بہنیں موجود ، بھائی موجود ، پَر محلہ بَسا الگ گھر میں رہی اور یہ گوارا نہ کیا کہ فردوسی کو کوئی عزیز آنکھ بھر کر دیکھ لے۔
چھوٹی بہن کی شادی میں بیسیوں نَکتوڑوں اور سینکڑوں نخروں سے آئی اور صرف اتنی سی بات پر کہ اور کسی نے نہیں ، فردوسی کی حقیقی نانی ، افتخار کی سگی ماں نے صرف اتنا کہہ دیا کہ میرا آٹھ آنے کا آئینہ تمہاری بچی نے توڑ دیا ، افتخار اٹھنّی آگے پھینک ڈولی منگوا چلتی ہوئی۔ ہر چند ماں نے سر پٹکا ، باپ نے منتیں کیں ، بہنوں نے ہاتھ جوڑے ، بھائیوں نے خوشامدیں کیں ، حد یہ ہے تمام مہمانوں نے کہا مگر وہ نہ رُکنا تھا نہ رُکی اور یہ بھی کہہ گئی کہ ” میری بچی شریر ہے اس وقت تو آٹھ آنے کا معاملہ تھا میں نے بھر دیا ، کوئی بڑا نقصان کر دیا تو کیا کرونگی ، آپ بھلی اور اپنا گھر بَھلا۔“ بھرا گھر دیکھتا رہا اور افتخار یہ جا وہ جا۔
Iss shikray se koi parinda nahi bach sakta

 

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.