Author Topic: TOOFAN-E-ASHQ  (Read 5984 times)

Offline shikra22

  • SHIKRA ... eik khatarnaak shikaari
  • T. Members
  • 7 Stars
  • *******
  • Posts: 34325
  • Reputation: +2/-3
  • Gender: Male
  • SHIKRA THE FLYING HUNTER
    • View Profile
Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #24 on: June 07, 2013, 06:23:29 pm »
اس عید سے ایک روز قبل کا ذکر ہے کہ صُبح ہی ہم نے بیگم کے دروازے پر غُل غپاڑے کی آواز سُنی ۔ مَیں کوٹھے پر چڑھی ، دیکھتی کیا ہُوں کہ دو سنڈ مسنڈ لڑکے باہر کھڑے ہیں ۔ بیگم جا نماز پر خاموش بیٹھی تھی اور رحمت للکار للکار کر کہہ رہی تھی کہ چاہے تم بھیک مانگو ، چوری کرو ، برتن بھانڈا بیچو ، مگر میرے ساڑھے نو رُوپے اِس وقت دَھر دو ۔ میں نیچے اُتری ، پردہ کروا کر اندر گئی اور کہا ، ” کیا معاملہ ہے ؟“
بیگم : کیا عرض کروں ۔ میں نے تو ان سے کبھی قرض نہیں لیا ۔ جو خُدا دیتا ہے ان کی خدمت کر دیتی ہُوں ۔ اب یہ فرماتی ہیں کہ میرے ساڑھے نَو رُوپے ابھی دو ، نہیں تو میں اپنے مَردُوں کو بُلا کر یہ سب چیزیں اُٹھوا لُوں گی ۔“
رحمت : ہاں سچ ہے ، تم کیوں لینے لگیں ، تمہارے باوا آ کر یہ خرچ اُٹھاتے ہوں گے ۔ تمہاری آمدنی کیا ہے ، دُنیا بھر سے قرض لائیں اور تم دونوں ماں بیٹیوں کا پیٹ پالا ۔ اب میں جُھوٹی اور میرے باپ داد جُھوٹے ۔ کل شام کو وعدہ تھا ۔ میرے بچوں کی عید اینڈ ہو رہی ہے ۔ سیدھی طرح دیتی ہو تو دو نہیں تو وہ آپ گُھس کر لے لیں گے۔“
بیگم : مجھے تو تمہارا ایک پیسہ بھی دینا نہیں ہے ، نہ میں نے کوئی وعدہ کیا ۔ میرے پاس یہ دو برتن ہیں ایک پتیلی اور پانی پینے کا کٹورا ، تم شوق سے لے جاؤ ۔“
رحمت : یہ دو برتن تو آٹھ آنے کے بھی نہیں ہیں ، بچی کے ہاتھ میں چاندی کی چُوڑیاں بھی تو ہیں وہ دیدو ۔“
مَیں : بُوا رحمت ! تم قسم کھا سکتی ہو کہ تمہارے روپے بیگم پر ہیں ۔“
رحمت : سو دفعہ ، مسجد میں رکھ دو ، قُرآن پر رکھ دو ، دیکھو اُٹھا لیتی ہُوں یا نہیں ، قرضہ نہ سہی تنخواہ سہی ۔ میں جو ان کے ہاں روز سوتی تھی تو کیا مفت سوتی تھی ، ان کے باوا دادا کی نوکر تھی ۔“
اتنا کہہ کر ظالم عورت نے بچی کو ہاتھ پکڑ کر گھسیٹا اور بلکتی ہُوئی بچی کی چُوڑیاں اُتار لیں ، ہر چند بیگم نے ہاتھ جوڑے اور میں نے خوشامد کی مگر وہ سنگدل نہ پسیجی اور چُوڑیاں لے کر چلتی ہُوئی ۔ میں بھی اس کے بعد تھوڑی دیر بیگم کے پاس بیٹھی ۔ اُس کی آنکھ سے کسی طرح آنسو نہ تھمتا تھا ۔ دُنیا کا جو دستُور ہے اُس کے موافق میں بھی سمجھا بُجھا کر اپنے گھر گئی ۔ شام کے وقت جب میں بیٹا بیٹیوں ، بہُوؤں اور دامادوں کے سلام سے فارغ ہوگئی تو بیگم کے پاس پہنچی ۔
جاڑوں کے دن تھے اور مَلمَل کے اکہرے دوپٹہ میں بیگم اپنی بُخار زدہ بچی کو لئے اندھیرے گُھپ میں بیٹھی سُکڑ رہی تھی ۔ میری آواز سُنتے ہی بچی دوڑی ہُوئی آئی ، پاؤں سے لپٹ گئی اور کہنے لگی ،
”اچھی اماں ! میری چُوڑیاں دے دو۔“
بچی کا کہنا میرے کلیجے میں تیر کی طرح گُھس گیا ۔ میں نے اُسے گود میں اُٹھا لیا ، تو وہ بُخار میں بُھن رہی تھی ۔ میں اُس معصوم کو گود میں لئے ہُوئے اپنے گھر آئی ۔ لالٹین لے کر بیگم کے یہاں پہنچی تو وہ عِصمت کی دیوی حسرت سے میرا منہ تکنے لگی ۔ برس کا برس دن تھا اور یہ قدرت کا بہترین نمونہ جس کی عُمر اکیس بائیس برس سے زیادہ نہ ہوگی ، خُود غرض مردوں کی جان کو بیوگی کے آنسوؤں سے رو رہی تھی ۔ معصوم بچی رہ رہ کر بُخار میں اُچھل رہی تھی اور اپنی چُوڑیوں کو یاد کر رہی تھی ۔
اس بچی پر جو کچھ ستم ایک ظالم عورت کے ہاتھ سے ٹُوٹے ، مَرنے کے بعد بھی اس کو نہ بُھولوں گی ۔ مجھے افسوس یہ ہے کہ میری عُمر کے یہ دونوں واقعے عورت کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں ۔ کیسا مُبارک ہو گا وہ وقت جب ہم میں وہ عورتیں پیدا ہوں گی جو احسان فراموشی کی جانی دُشمن اور اپنی بہنوں کی سچی خدمت گُذار ہوں گی ۔


THE END
Iss shikray se koi parinda nahi bach sakta

YUM Stories

Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #24 on: June 07, 2013, 06:23:29 pm »

Offline shikra22

  • SHIKRA ... eik khatarnaak shikaari
  • T. Members
  • 7 Stars
  • *******
  • Posts: 34325
  • Reputation: +2/-3
  • Gender: Male
  • SHIKRA THE FLYING HUNTER
    • View Profile
Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #25 on: June 08, 2013, 10:18:47 am »
تفسیرِ عبادت


حسن حد سے زیادہ سیدھا آدمی تھا ۔ گو وہ مولوی تھا مگر آجکل کا سا نہیں ۔ سچ مُچ کا مولوی ، جس کے ذہن میں چالاکی اور عیاری کا گُذرہی نہ ہو سکتا تھا ۔ انگریزی کے رنگ سے قطعی نا آشنا ، زمانہ کے حال سے بالکل بے خبر ۔ تحصیلِ علم سے فارغ ہوا تو دن بھر یا قرآن و حدیث کا مطالعہ تھا یا مسجد اور نماز ۔ عُمر زیادہ سے زیادہ تیئیس سال ہوگی لیکن داڑھی الله کی عنایت سے ایسی گھن دار اور اتنی چوڑی چکلی اور لمبی کہ پُورا جوان معلوم ہوتا تھا ۔
جس روز سے سُنا تھا کہ والدین شادی کی فکر میں ہیں باغ باغ تھا۔ گھر میں ہوتا تھا تو منہ سے خاموش رہتا لیکن جاتے جاتے کسی بہانے سے ٹھٹک جاتا ، دُور ہوتا اور یہ پتہ چل جاتا کہ شادی کا چرچا ہے تو بِلا وجہ کوئی نہ کوئی ضرورت پیدا کر پاس جا پہنچتا ۔ برابر کی بہنیں ، آس پاس کی بڑی بُوڑھیاں چھیڑتیں ، ہنسی کرتیں تو دلہن کا نام سُنتے ہی باچھیں کِھل جاتیں ، ماں بھی دن بھر گھر کے کام دھندوں میں مصروف رہتی اور آنے جانے والوں کو بھی رات ہی کو فرصت ہوتی ۔ کوئی ساڑھے نو بجے جمگھٹا ہوتا اور میاں محسن کی شادی کے متعلق تجویزیں ہوتیں ۔ اس تذکرہ کا اتنا اثر تو ضرور ہوا کہ مولوی محسن جو عشاء کے بعد ڈیڑھ دو گھنٹہ وظیفہ پڑھتے اور گیارہ ساڑھے گیارہ بجے مسجد سے لوٹتے ، پندرہ بیس روز تو مارا مار نماز پڑھ پڑھا کبھی نفل چھوڑتے ، کبھی سُنتیں اُڑائیں دس بجے گھر آ پہنچتا ۔ مگر جب یہ دیکھتا کہ عورتیں دس ساڑھے دس بجے ہی سے رُخصت ہو جاتی ہیں تو فرض پڑھنے بھی دو بھر ہوگئے ۔ بمشکل تمام ادا کرتا ۔ لوگ دعا مانگ رہے ہیں اور وہ جوتیاں بغل میں دبائے گھر کی طرف سرپٹ دوڑ رہا ہے ۔ آخر خدا خدا کر کے معاملہ طے ہوا اور شادی ہوگئی ۔ اِس نکاح میں محسن کے باپ نے اس کے سوا کچھ نہ دیکھا کہ لڑکی نمازی ، پرہیزگار اور الله الله کرنے والی ہو ، چناچہ کئی لڑکیوں میں سے ایک ایسی ہی منتخب ہوئی اور کنوارے محسن بیوی کے شوہر یا دُلہن کے دُلہا بن گئے ۔
Iss shikray se koi parinda nahi bach sakta

YUM Stories

Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #25 on: June 08, 2013, 10:18:47 am »

Offline shikra22

  • SHIKRA ... eik khatarnaak shikaari
  • T. Members
  • 7 Stars
  • *******
  • Posts: 34325
  • Reputation: +2/-3
  • Gender: Male
  • SHIKRA THE FLYING HUNTER
    • View Profile
Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #26 on: June 08, 2013, 03:02:40 pm »
پانچ چار مہینہ تو میاں محسن کی خُوب گذری ۔ نہال نہال تھے کہ خُدا کی رحمت کونے کونے سے نازل ہورہی ہے ۔ بیوی یعنی حبیبہ ، عورت کیا فرشتہ ہے کہ ادھر آدھی رات تک اور اُدھر دن کے دس بجے تک تسبیح ، درُود شریف ، پنجسُورہ غرض ہر بات میں اور ہر کام میں خُدا کے سوا اور کچھ نہیں ۔ مگر چند روز بعد محسن کو اس عبادت کا پتہ لگا ۔ یہ عبادت اُس کے واسطے مُصیبت ہوگئی اور وہ اس طرح کہ باپ کے انتقال کے بعد مدرسہ کی جگہ اس کو ملی اور مدرسہ کا مہتمم ایسا سخت کہ دس پندرہ منٹ بھی ہو جائیں تو فوراً جواب طلب ، یہاں بیوی دس بجے نماز چھوڑیں ۔ مدرسہ کا وقت پُورے سات گھنٹے پانچ بجے تک کا ، روزہ ہو گیا اور وہ روزہ جس میں ثواب کا نام تک نہیں ۔ دو چار دن تو بُھوکا مرا اور اس کے بعد کہنا ہی پڑا کہ ، ” اگر کھانے کا کچھ انتظام ہو جائے تو اچھا ہے ، دن بھر بُھوکا رہتا ہوں ۔“ بیوی : ” تو کیا میں وظیفہ چھوڑ دُوں ؟“ میاں : ” توبہ توبہ ، میں کُفر کی بات کیوں کہوں؟“ بیوی : ” کہہ تو رہے ہو۔“ میاں : ” رات کو پڑھ لیا کرو۔“ بیوی : ” رات کا رات کو پڑھتی ہوں اور صُبح کا صُبح کو۔“ میاں : ” صُبح کا بھی رات کو پڑھ لیا کرو۔“ بیوی : ” مُسلمان ہوں مرنا ہے ۔ تمہارے واسطے خُدا کو نہیں چھوڑ سکتی ۔“ میاں : ” تو میں دن بھر بُھوکا مروں ؟“ بیوی : ” مرضی الله کی ، اُس کے حکم سے زیادہ کچھ نہیں ۔“ میاں : ” پڑھنے میں کچھ کمی کر دو ۔“ بیوی : خوب کمی کی کہی ۔ رات کی یٰسین شریف ، سُورۀ مزمل ، سُورۀ بقر ، سُورۀ یوسف ، صبح کا پنج سُورہ ، میں پڑھتی ہی کیا ہوں ؟ کُوار پتے میں تو میں نے ایک ایک قرآن شریف روز ختم کیا ہے ، اب تو کچھ بھی نہیں پڑھتی ۔“ میاں : ” تو پھر تم ہی کوئی ترکیب بتاؤ ۔“ بیوی : ” میں تو کہتی ہوں کہ تم روزہ روزہ رکھ لیا کرو ۔“ میاں : ” ہمت نہ ہو تو ؟“ بیوی : ” خُدا ہمت دے گا۔“ میاں : ” الله بہتر کرے ۔“
Iss shikray se koi parinda nahi bach sakta

Offline shikra22

  • SHIKRA ... eik khatarnaak shikaari
  • T. Members
  • 7 Stars
  • *******
  • Posts: 34325
  • Reputation: +2/-3
  • Gender: Male
  • SHIKRA THE FLYING HUNTER
    • View Profile
Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #27 on: June 08, 2013, 03:14:32 pm »
حالات روز روز بڑھتے گئے ۔ ادھر میاں محسن ہفتہ میں پانچ چار مرتبہ روزہ تو نہیں مگر روزہ کی حد کو ضرور پہنچ جاتے ۔ ضرورت تھی کہ محسن کے اماں باوا جو فرشتہ بہو کے متلاشی تھے اور اپنی دانست میں بیٹے کو دُنیا ہی میں حُور دے دی ، کچھ روز زندہ رہ کر دیکھتے کہ لڑکا فردوسِ بریں میں کیسی زندگی بسر کر رہا ہے ۔ مگر دونوں میں سے ایک بھی نہ رہا ورنہ باپ نہیں تو ماں زیادہ نہیں تو فاقوں سے بچا لیتی ۔ یہ نہیں کہ حبیبہ خود کھا لیتی ہو ، وہ واقعی اپنے وظیفوں کے آگے کسی چیز کی پرواہ نہ کرتی تھی اور اس کا یقین تھا کہ مغفرت صرف خدا ہی کی رضامندی ہے اور خدا کی رضامندی نماز روزہ پر موقوف ہے ۔ ایک روز جبکہ ملیریا بُخار کثرت سے پھیلا ہوا تھا ، دوپہر کے وقت محسن کو بھی بُخار چڑھا ۔ ہانپتا کانپتا گھر پہنچا ، دُلائی اوڑھی ، رضائی اور لحاف اوڑھے مگر سردی کسی طرح کم نہ ہوئی ۔ کوئی ڈیڑھ گھنٹے تک تھر تھر کانپتا رہا ، تین بجے ذرا سردی کم ہوئی تو بیوی سے کہا ، ”سرشتہ دار صاحب کہتے تھے کہ ملیریا بخار سب کے واسطے یکساں ہے پھر کیا بات ہے کہ انگریزوں کو کم ہوتا ہے اور ہندوستانیوں کو زیادہ ؟ اس کا سبب صرف یہ ہے کہ ہندوستانی احتیاط نہیں کرتے ۔“ بیوی : ” احتیاط سے کچھ نہیں ہوتا ۔ تقدیر میں بیماری لکھی ہے تو کون مٹا سکتا ہے ، ایک نہیں لاکھ احتیاط کرو۔“
میاں : ” یہ تو صحیح ہے مگر تقدیر کے ساتھ تدبیر بھی ہے جو لوگ مُسہل لے کر پیٹ کی کثافت ان دنوں میں صاف کر لیتے ہیں اور کونین کا استعمال کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی گھروں میں سیل نہیں ہونے دیتے کہ مچھر پیدا ہوں ، وہ ہرگز اس بُخار میں مبتلا نہیں ہوتے ۔“ بیوی : ” اُستانی بشیرن کیوں مریں ؟“ میاں : ”وہ تو موتی جھرا تھا ۔“ بیوی : ” موتی جھرا ہو یا دِق ، یہ دِن ہی برسات کے تھے ۔ “ میاں : ” اب میں کیا کروں ؟ چلا نہیں جاتا جو ڈاکٹر کے ہاں جاؤں ۔“ بیوی : ” رات کو اُتر جائے گا گھبراتے کیوں ہو؟ بھادُوں کا بخُار شبِ برات کی چپاتیاں ہیں کوئی گھر خالی نہیں ۔ صبح کو حکیم کے پاس چلے جانا ۔ “ بُخار موسمی تھا صبح کو اُتر گیا تو محسن ڈاکٹر کے پاس گیا اس نے مسہل کی دوا دی ۔ غریب نے ایک روز کی چھٹی لی اور بیوی سے کہہ دیا مُجھ کو بارہ بجے کھچڑی ملنی چاہیے ، مگر کہا اُس وقت کہ بیوی اشراق کا سلام پھیر حصن حصین کا ختم شروع کر چکی تھیں ۔ ساڑھے بارہ بجے کے قریب محسن کو بُھوک لگی تو کیا دیکھتے ہیں مُستقل مزاج بیوی بدستُور جانماز پر بیٹھی ختم میں مصروف ہے ۔ آج میاں کو خُدا دوست بیوی کی قدر معلوم ہوئی اور جل کر کہا ، ”تو کیا اب بھی فاقہ کروں !“ بیوی : ” ہُوں اُوں اُوں ہُوں ہُوں ۔“ میاں : ” بس تم تو پڑھے جاؤ ، میں سو جاتا ہوں۔“ بیوی : ” اون اون ہوں ہوں ہوں ۔“
بیوی فارغ ہوئیں تو ایک بج رہا تھا ۔ کھچڑی چڑھائی ۔ پکتے پکاتے گھنٹہ پون گھنٹہ اور لگا ۔ دو بجے میاں کھانے بیٹھے اور بیوی ظہر کی نماز کو کھڑی ہوئیں ۔ کھچڑی میں نمک پھیکا تھا مگر مانگتے کس سے اور دیتا کون ، دو چار منٹ راہ دیکھ کر خُود ہی اُٹھے ، کوٹھری میں گئے تو اندھیرا گُھپ تھا چاروں طرف ٹٹولا ، مرچیں ملیں ، دھنیا ملا ، پیاز ملی ، لہسن ملا مگر نمک نہ ملا ۔ بُخار ، مُسہل ، فاقہ ، لوٹتے تھے کہ دیوار کی ٹکر اس زور سے لگی کہ بجلی کُوند گئی ۔ ۔ سر پکڑ کر آ بیٹھے اور پاؤں پھیلا کر لیٹ گئے ۔ بیوی نماز میں میاں غوطے میں ، بلی کو اس سے اچھا موقع کون سا ملتا ، کھچڑی کھائی اور شوربہ پیا ۔
Iss shikray se koi parinda nahi bach sakta

Offline shikra22

  • SHIKRA ... eik khatarnaak shikaari
  • T. Members
  • 7 Stars
  • *******
  • Posts: 34325
  • Reputation: +2/-3
  • Gender: Male
  • SHIKRA THE FLYING HUNTER
    • View Profile
Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #28 on: June 08, 2013, 05:24:55 pm »
محسن تو کیا فرشتہ بھی ہوتا تو ان متواتر اذیتوں سے اُکتا جاتا ۔ اب اُس نے ذرا ہاتھ پاؤں نکالے ۔ کچھ ملنے جُلنے والوں نے سمجھایا ، کچھ وقت نے بتایا ۔ خاموش چہرہ پر تیوری اور کِھلتے ہوئے ہونٹوں پر غصہ کے آثار نمودار ہونے لگے ۔ مگر بیوی پر نہ اس ہنسی نے اثر کیا اور نہ اُس غصہ نے ۔ وہ اپنی دُھن میں مُنہمک تھی ۔ محسن ہر چند بگڑتا وہ پرواہ نہ کرتی ، جب نوبت یہاں تک پہنچی کہ جنت دُنیا اُس کے واسطے دوزخ کا نمونہ بن گئی تو ایک روز ان حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا جن کی وہ مُرید تھی اور جا کر تمام داستان سُنائی ۔ حبیبہ بھی شوہر کے یہ رنگ دیکھ رہی تھی اور جب اُسے اچھی طرح یقین ہوگیا کہ شوہر کا وجود میری عبادت میں مخل ہے تو سب سے بہتر تجویز یہی سمجھ میں آئی کہ وقت قریب ہے حج کو چلی جاؤں اور اگر ہجرت نہیں تو سال دو سال ہی کے واسطے اس جھگڑے سے چُھٹکارا پاؤں ۔ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ ایسی حالت میں کہ حقیقی چچا حج کو جا رہے ہیں اور خرچ کے واسطے اپنا زیور کافی ہے ، شوہر یا کوئی بھی اس کام میں خلل نہیں ڈال سکتا ۔ چناچہ ایسا ہی ہوا ۔ محسن کی مجال کیا تھی کہ بیوی کے اس قصد کی مخالفت کرتا ۔ دن قریب آ گئے اور حبیبہ نے اپنا سامانِ سفر تیار کرنا شروع کیا ۔ چچا نے آ کر داماد سے دریافت کیا تو خاموشی یا بَجا کے سِوا اُس کے پاس رکھا ہی کیا تھا ۔ وہ بھی لے جانے پر رضامند ہوگئے اور زیور شوہر کی موجودگی میں حبیبہ نے چچا کو فروخت کے واسطے دیا ، وہ بیچ کر لے آئے ۔ یہ جمعرات کا ذکر ہے ۔ ہفتہ کی شام کو روانہ ہونے کا قصد تھا ۔ جمعہ کو حبیبہ بعدِ نمازِ جمعہ سب سے ملنے جُلنے گئی اور رات کو میکے رہ کر ہفتہ کی صبح کو پیر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئی ۔ پیر صاحب محسن کی زبانی مفصل کیفیت سُن چکے تھے ، آدمی بھیج کر اُسے بھی بُلا بھیجا ۔ جب حبیبہ اور محسن دونوں اُن کے سامنے بیٹھے تھے ، انہوں نے حبیبہ سے دریافت کیا ، ”کیا تم نے اپنے شوہر سے اجازت لے لی ؟“ حبیبہ : ” جی ہاں ، اِس نیک کام سے کون مسلمان انکار کرے گا؟“
پیر جی : ” کیوں انکار نہ کرے گا ؟ اگر کوئی انکار نہ کرتا تو تمام دُنیا ہی حج کو چلی جاتی ۔ کچھ حالات ہوتے ہیں ، کچھ معاملات ہوتے ہیں ، جب تک حالات اور معاملات اجازت نہ دیں ہر شخص مخالف رائے دینے کا حق رکھتا ہے اور اگر یہ اس لئے کہ تمہارے شوہر ہیں ، بخوشی تم کو اجازت نہ دیں تو تمہارا حج میری رائے میں حج نہیں ہو سکتا ۔“ حبیبہ : ”ظاہر ہے ان کو تکلیف ہوگی ۔“
پیر جی : ” جب تم یہ جانتی ہو پھر کس طرح حج کا قصد کرتی ہو ؟ تم نے مسلمانوں کے خُدا کو پہچانا نہیں ، میرا یہ مطلب نہیں ہے کہ مُسلمانوں کا خُدا اور ہے بلکہ یہ کہ اِسلام کے اصول تم سمجھ نہ سکیں ، اسلام میں جس قدر خُدا کے تعلقات رکھے گئے ہیں ، وہ محض دُنیوی زندگی کی فلاح و بہبُود کے واسطے نہ کہ اس طرح کہ ایک آدمی دُنیا کو چھوڑ چھاڑ پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھا الله الله کرتا مر جائے ۔ تم بحیثیت بیوی کے اِن کی فرمانبردار ہو اور یہ بہ حیثیت شوہر کے تمہارے غمخوار اور مُشیر کار ۔ ان کا فرض ہے کہ تم کو خوش رکھیں اور تمہارا کام ہے کہ ان کو رضا مند کرو ۔ یہی اصلی حج ہے ۔ اگر تم ان کو رضامند رکھ کر مریں تو میں یقین دلاتا ہوں کہ تمہارا حج ہو گیا ۔ میں تو سُنتا ہوں کہ دن رات وظیفے اور چلّوں میں ایسی گُھسی ہو کہ گھر کے کام کاج تک کی پرواہ نہیں کرتیں ۔ شوہر فاقہ سے ہو تو ہو مگر تمہارے چِلّہ اور وظیفہ میں فرق نہ آئے ۔ یہ تو جنت کے نہیں دوزخ کے سامان ہیں ۔ تم نے شوہر کی زندگی برباد کر دی اور توقع یہ رکھتی ہو کہ خُدا کی رضامندی حاصل کروں ۔ تم اسلام کو بدنام کرتی ہو اور میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ
تمہاری مثال دوسروں کے واسطے نہایت مُضر اور تکلیف دہ ہے ۔ تم اسلام کو نقصان پہنچا کر گنہگار ہورہی ہو ۔ کیا تم کو معلوم نہیں کہ ایک شخص جو شب و روز عبادت کرتا تھا اُس سے سرورِ دو عالم (ص) نے صاف فرمایا کہ وہ کرو جو میں کرتا ہوں، یعنی دُنیا کی ضرورتیں بھی پُوری کرو اور دین کی بھی ۔ کیا خود حضورِ اکرم یا آپ کے احباب و تابعین نے دن رات خُدا کی عبادت کی اور دُنیا سے قطع تعلق کر لیا ، کیا خُدا اور اُس کے رسول کا ایسا حکم کہیں موجود ہے ؟ تمہاری جنت ، تمہاری عبادت تو صرف یہ ہے کہ محسن تم سے راضی ہو اور تم اس سے خوش ۔ میں فتوٰی دیتا ہوں کہ تمہارا یہ حج ہرگز قبول نہیں ہو سکتا ۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ جس وقت حالات اجازت دیں گے ، موقع اور محل ہوگا ، خود محسن اس فرض کو ترک کرنے والے نہیں ۔ دونوں میاں بیوی جانا اور ہنسی خوشی اپنا فرض ادا کرنا۔“
Iss shikray se koi parinda nahi bach sakta

Offline shikra22

  • SHIKRA ... eik khatarnaak shikaari
  • T. Members
  • 7 Stars
  • *******
  • Posts: 34325
  • Reputation: +2/-3
  • Gender: Male
  • SHIKRA THE FLYING HUNTER
    • View Profile
Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #29 on: June 08, 2013, 05:58:12 pm »
پیر صاحب کی نصیحت حبیبہ کے دل میں گڑ تو گئی مگر ایک عُمر کی پڑی ہوئی عادت آسانی سے چُھٹنی محال تھی ۔ اُس نے رفتہ رفتہ اپنے وظائف میں کمی کی اور سال بھر کے اندر ہی اندر یہ کیفیت ہوئی کہ فرائض کے بعد وہ سب سے مقدم محسن کی خدمت سمجھتی تھی ۔ اور اس سے فارغ ہوکر جتنا وقت بچتا تھا وہ عبادت میں صرف کرتی تھی اور اس پر محسن کو بھی کسی قسم کا اعتراض نہ تھا اور وہ خُوش تھا کہ بیوی کی اپنی خواہش بھی پُوری ہورہی ہے ۔ اور اس کو بھی کسی قسم کی تکلیف نہیں ہورہی ۔ محسن غریب ، فقیر نہ تھا ۔ خاصا اوسط درجے کا آدمی تھا ، مگر جب تک بیوی وظیفوں میں مصروف رہیں گھر کی خاک اُڑ رہی تھی ۔ بریانی اور متنجن بھی ہوتا تھا تو دال اور چٹنی سے بد تر ۔ محسن پانی کے واسطے بیٹھا ہے ، نوالہ حلق میں اٹک رہا ہے اور بیوی تسبیح میں مصروف ۔ اب اس تغیر نے محسن ہی کی تمام تکلیفوں کا خاتمہ نہیں کیا ۔ بلکہ خُود حبیبہ کو بھی معلوم ہوگیا کہ میں جو کچھ کر رہی تھی وہ نا درست تھا اور مُسلمان عورت کا کام یہ ہی نہیں ہے کہ وہ محض نماز روزہ کر لے اور دُنیا کی تمام ضرورتوں سے بے فکر ہو جائے ۔ ایک دن جب چُھٹی کے دن پانی زور و شور سے پڑ رہا تھا ۔ حبیبہ کہنے لگی ، ”دس بج گئے ، پانی تو تھمتا نہیں ، پکنے کا کیا کروں ؟“ محسن : ” میں تو سمجھوں بیسن موجود ہے ، بیسنی روٹی پکا لو ، ماما بھی آج نہیں آئی۔“ حبیبہ نے اُٹھ کر آٹا گُوندھا اور روٹی پکا کر آگے رکھی ۔ دو آدمیوں کا پکنا ہی کیا ڈیڑھ پاؤ آٹا کافی تھا۔
حبیبہ اور محسن دونوں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کی اتفاق سے پیر صاحب بھی آ گئے ۔ ہر چند حبیبہ اُٹھنے لگی مگر اُنھوں نے نہ مانا اور کہا ، ”دونوں کھانا کھا لو ۔“
اس وقت دستر خوان پر بیسنی روٹی ، آم کا اچار اور لہسن کی چٹنی تھی ۔ پیر جی نے فرمایا ، ”میاں صبح کو یہاں آیا ہوا تھا ، مینہ تھمتا نہیں ۔ خیال آیا کہ تمہارے پاس بھی ہوتا چلوں ۔ مجھے اس وقت بہت ہی خوشی ہوئی اور میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ چٹنی روٹی جو تم دونوں میاں بیوی مل کر کھا رہے ہو ، بریانی ، متنجن سے ہزار درجہ بہتر ہے ، اور بی حبیبہ تمہاری اس عبادت سے یہ حالت افضل اور بے شک خُدا کی رضامندی ہے ۔“


THE END
Iss shikray se koi parinda nahi bach sakta

Offline shikra22

  • SHIKRA ... eik khatarnaak shikaari
  • T. Members
  • 7 Stars
  • *******
  • Posts: 34325
  • Reputation: +2/-3
  • Gender: Male
  • SHIKRA THE FLYING HUNTER
    • View Profile
Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #30 on: June 10, 2013, 03:05:39 pm »
شہیدِ معاشرت


عرفان کی شادی کو پُورا ایک سال بھی نہ ہوا تھا کہ افروز کی طرف سے شکایت پیدا ہوگئی ۔ اِس شکایت کا حقیقی ذمہ دار کون ہے یہ فیصلہ واقعات کریں گے کہ فقط افروز اس کی وجہ نہیں ۔ اگر وہ سیر بھر ہے تو آدھ سیر عرفان اور پان سیر مُسلمان ۔ بیاہی گئی تو تندرُست تھی چھڑی تھی اور دل کو یہ یقین تھا کہ نکاح کے معنی شوہر کی فرمانبرداری ہیں ، جتنی ممکن تھی کی ۔ خُدا کے فضل سے گھر میں نوکر چاکر ، لونڈی ماما سب موجود تھے مگر نہ معلوم اُس الله کی بندی کو کیا مزہ آتا تھا کہ عِرفان کا کام آدھی ہو یا پچھلا اپنے ہاتھ سے کرتی اور دُوسرے کو ہاتھ نہ لگانے دیتی ۔ چند روز تو یہ چاؤ چونچلے خوب نبھے مگر جب بچہ پیدا ہونے میں دو چار روز ہی رہ گئے اور چھکڑا بن گئی تو جگہ سے ہلنا دوبھر تھا ۔ عرفان کی نوعمری بشمول بیوقوفی غرض وجہ جو کچھ ہو نتیجہ یہ کہ وہ بیوی کی مجبوری کو تساہل سمجھنے لگا اور دل ہی میں نہیں کئی مرتبہ اُس کے منہ پر بھی کہہ دیا ۔ شوہر کہتا نہ کہتا ۔ ہاتھ سے پاؤں سے ، ترکیب سے ، تدبیر سے ، اب جو بھی اِمکان میں تھا افروز اس سے باہر نہ تھی ۔ ایک روز رات کے وقت شاید دس بجے ہوں گے
، عرفان کھانا کھا رہا تھا اور افروز پاس بیٹھی ، عرفان کو اچّھو ہوا ، بڑی بی سامنے موجود تھیں مگر اُونگھ رہی تھیں ، صُراحی دُور تھی ، افروز اُٹھی مگر مُصیبت سے اُٹھی اور مشکل سے چلی ۔ جب تک پانی آئے اچھو اور تیز ہوا اور اِس اَور کا کہ آنکھیں نکل پڑیں ، پانی آیا مگر دیر میں اور دقت سے ۔ عرفان نے پانی بھی پی لیا اور اچھو بھی جاتا رہا مگر آدھے پیٹ اُٹھ گیا اور کہنے لگا ، ”تم تو بالکل ہتیا ہوگئیں ۔ عورتوں کی تکلیف تو عارضی ہوتی ہے ، مَردُوں کو ہر وقت ایسی ایسی اَذّیتیں پیش آتی رہتی ہیں اگر وہ بھی تُمہاری طرح ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں تو دُنیا کے کام ہی ٹھنڈے ہوں ، ابھی میرا دَم نکل جاتا ۔ بھلا غضب خُدا کا ،گھنٹہ بھر میں پانی لائی ہو ۔“
یہ سال بھر میں پہلا اتفاق تھا کہ افروز نے شوہر کی ایسی گفتگو سُنی ، خاموش ہوگئی کوئی جواب نہ دیا ۔ عرفان بڑبڑاتا باہر چلا گیا اور وہاں سے کہلا بھیجا کہ میں چند روز کے واسطے باغ جاتا ہوں ۔
اس واقعے کی ذمہ داری کِس پر ہے یہ ایک ٹیڑھا سوال ہے ، قُصور عرفان کا ہے یا افروز کا ، اس کا جواب مشکل ہے ، ہم تو جہاں تک غور کرتے ہیں ہماری رائے میں قُصوروار ہیں تو دونوں اور بے قُصور ہیں تو دونوں ۔ اس سلسلے میں اگر یہ کہا جائے تو شاید بے جا نہ ہوگا ۔ افروز اگر شروع ہی سے انجام کو ملحوظ رکھتی اور عرفان کی عادتیں اس حد تک نہ بگاڑتی کہ وہ مزے سے پلنگ پر لیٹا ہوا ہے ، مامائیں سو گئیں اور خُود لالٹین لیکر مکان کا دروازہ بند کرنے جارہی ہو ، تو غالباّ یہ وقت نہ آتا ۔
لیکن جب اُس کے اِس تعلق کا مقصد ہی عرفان کا دل فتح کرنا تھا تو وہ اس سے بھی چوگنی خدمت کرتی اعتراض نہیں ۔ خیر اب یہ فیصلہ سننے والے اور پڑھنے والے کریں کہ ذمہ دار کون ہے ، میاں یا بیوی ؟ ہاں اتنا کہنے میں ہمیں بھی باک نہیں کہ عرفان کے منہ پر آنکھیں ہوتے ساتھے اندھا تھا ۔ نوکر اور غُلام تک مجبُوری میں معذُور ہیں ۔ ممکن ہے افروز کا درجہ اُس کی رائے میں نوکر سے بھی بَدتر ہو اور ممکن کیا ہے یقیناّ تھا ورنہ یہ نوبت کیوں آتی ۔
عرفان کے جانے کے بعد افروز معاملہ کی نوعیت پر غور کرنے لگی تو اُس کو قُصور تو نہیں مگر اپنی غفلت ایمان کے آئینہ میں صاف نظر آرہی تھی ۔ پہلی یہ کہ کھانے سے پہلے پانی کی صُراحی اپنے پاس کیوں نہ رکھوائی اور دُوسری یہ کہ اگر خُود معذُور تھی تو ماما سے فوراّ پانی کیوں نہ مانگا ۔ سوچتے سوچتے اُس کا تخیّل اس سلسلے میں شادی کے مسئلہ پر ٹھٹکا اور وہ بالآخر اس نتیجے پر پہنچی کہ ہمارے موجودہ تمدن کو ملحوظ رکھتے ہوئے شادی کی ضرورت لڑکے سے زیادہ لڑکی کو ہے ، غلط ہے یا صحیح یہ دُوسری بحث ہے مگر حقیقیت یہی ہے ۔ کُوار پتہ کا زمانہ طویل ہونے سے جو کرب لڑکی کے والدین کو ہوتا ہے ، لڑکے کے نہیں ہوتا ۔ لڑکے والوں کی جو حقیقیت ہے اُس کو ارمان کہہ سکتے ہیں ، خواہش کہہ سکتے ہیں ، تلاشِ مُسرت کہہ سکتے ہیں ، لیکن لڑکی والوں کی کیفیت تعبیر ہوگی ۔ ایک اضطراب سے ایک کرب سے
ایک پریشانی سے ۔ اِن حالات میں عرفان کا اپنی آمدنی میں میرا بار ڈالنا اور اُس کو بآسانی گوارا کرنا اس وقت جائز ہے کہ میں اس کے واسطے وجہِ راحت ہوں ۔ اگر مجھ سے اس کو آرام نہ پہنچے تو وہ دیوانہ ہے جو میرے حقوق ادا کرے اور میں بے غیرت کہ اپنے حقوق کا مُطالبہ کروں ۔
Iss shikray se koi parinda nahi bach sakta

Offline shikra22

  • SHIKRA ... eik khatarnaak shikaari
  • T. Members
  • 7 Stars
  • *******
  • Posts: 34325
  • Reputation: +2/-3
  • Gender: Male
  • SHIKRA THE FLYING HUNTER
    • View Profile
Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #31 on: June 10, 2013, 04:45:01 pm »
عرفان باغ میں پہنچا تو راستہ بھر اِن ہی خیالات میں مُستغرق اور وہاں پہنچ کر اسی اُدھیڑبن میں مُنہمک ۔ وہ سوچ رہا تھا کہ آخر یہ نقصان جو مجھ کو پہنچا یعنی خاصی اچھی بھلی چنگی خدمت کرنے والی بیوی جس نے سال بھر تک نوکر اور ماما ، عزیز اور اقارب سب کو پَرے بٹھا دیا بالکل بیکار ہوگئی ۔ اس کی کیا تلافی کروں ۔ اگر افروز شروع ہی سے مجھ کو اس راحت و آسائش کا عادی نہ بناتی تو مجھ کو شکایت نہ تھی ۔ میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ وہ مگراپن کرتی ہے اور جان بُوجھ کر کام چور بنتی ہے ، مگر ہاں یہ شاید کہہ سکتا ہوں کہ وہ اگر چاہے تو اس سے زیادہ کر سکتی ہے جتنا کرتی ہے آخر اسی حالت میں پرسوں اپنے دوپٹہ پر کنارہ ٹانکا اور میرے شامی کباب ماما کے سُپرد کر دیئے ۔ اِن دونوں مُسلمان میاں بیوی کے خیالات سننے اور یہ دیکھنے کے بعد کہ ایک مُسلمان لڑکی کی گُھٹی میں یہ بات پڑی ہوئی ہے کہ وہ صرف مرد کی خدمت کو بنائی گئی ہے ، مساوات تو درکنار ، وہ بُھول کر بھی شوہر کے مقابلہ میں اپنی ہستی کو ذرہ بھر وقعت نہیں دے سکتی ۔ اور ایک مُسلمان شوہر کو یقینِ کامل ہے کہ بیوی بھی ایک قسم کی لونڈی ہے اور اُس کا یہ فرض ہے کہ دن رات میری خدمت میں مصروف رہے ، کیا کوئی مسلمان یہ کہنے کی جُرات کر سکتا ہے کہ عورت کی وقعت اسلام نے سب سے زیادہ کی اور اگر یہ حقیقت ہے تو کیا قوم اس پر عمل کر رہی ہے ؟ اور اگر نہیں تو اس کی ذمہ داری شوہروں پر ہے یا بیویوں پر ؟
آسمان پر اب تک پانی وہونتال برس چکا تھا ، سیاہ گھٹا چھائی ہوئی تھی ۔ بجلی اور بادل کے خاموش ہونے پر عرفان نے اپنی پلنگڑی باہر صحن میں بچھوائی ، اسی اُلجھن میں لیٹا اور اسی چکر میں سویا ۔ آنکھ لگی تو ایک عجیب خواب نظر آیا ، دیکھتا کیا ہے ۔ ایک عظیم الشان جیل خانہ میں کھڑا ہے جہاں ہر طرف قیدی ہی قیدی بھرے ہیں ۔ اُن کے پاؤں میں بیڑیاں ہیں گلے میں طوق ہیں ۔ دوپہر کا وقت ہے ، گرمی کا موسم ، لُو کےتھپیڑے زور و شور سے چل رہے ہیں ، مگر ان قیدیوں کو مُشقت سے دم بھر کو چُھٹکارا نہیں ۔ ایک جمعدار آتا ہے دوچار ڈنڈے لگا کر آگے بڑھ جاتا ہے ، دوسرا آتا ہے ایک آدھ لات لگا سیدھا ہو لیتا ہے ، جو برابر سے گذرتا ہے وہ بھی بغیر گُھرکی اور درُشتی کے بات نہیں کرتا ۔ قیدی تکلیف سے اُکتا رہے ہیں ، مگر مُشَقّت میں کمی نہیں کرتے ، سر سے پاؤں تک پسینہ میں شرابور ہیں لیکن تیوری پر بل نہیں آتا ، پِٹ رہے ہیں اور ہنس رہے ہیں مر رہے ہیں اور کر رہے ہیں ۔ عرفان یہ سماں دیکھ کر سخت متعجب ہوا اور دل میں کہنے لگا یہ کیسے سنگدل لوگ ہیں کہ اِن بے کس قیدیوں پر رحم نہیں آتا ۔ اور یہ قیدی کتنے سیدھے اور کیسے بھولے ہیں کہ ہر تکلیف میں خوش اور ہر اذیت میں رضامند ہیں ۔ دن فنا ہو کر رات ہوئی ، رات ختم ہوکر فجر ، مگر اِن بَد نصیب قیدیوں کی اذیت کا خاتمہ نہ ہوا ۔ کمال یہ تھا کہ مُحافظ اور نگران خُود زندگی کا لُطف اُٹھا رہے ہیں مگر اُن پر ہر راحت حرام کر رکھی تھی ، دروازے چاروں طرف کُھلے ہوئے تھے ، راستہ عام تھا مگر قیدی اس جیل خانہ کے ایسے عاشق تھے کہ یہاں سے ان کے جنازے تک نکلتے تھے مگر وہ خود نکلنے کا نام نہ لیتے تھے ۔
Iss shikray se koi parinda nahi bach sakta

Offline shikra22

  • SHIKRA ... eik khatarnaak shikaari
  • T. Members
  • 7 Stars
  • *******
  • Posts: 34325
  • Reputation: +2/-3
  • Gender: Male
  • SHIKRA THE FLYING HUNTER
    • View Profile
Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #32 on: June 10, 2013, 04:48:48 pm »
عرفان چاہتا تھا کہ یہاں کا حال کچھ معلوم کرے کہ ایک نووارِد کو دیکھا جو داروغہ سے ایک قیدی کو آزاد کرا رَہا تھا ، بیتاب ہو کر پُکارا اور خاموش ہوگیا ۔ اب اور بھی زیادہ عرفان کو حیرت ہوئی ۔ داروغہ آزادی پر رضامند تھا اور بہ خُوشی قیدی کو دے دینے کو آمادہ ، مگر اُس کے آرام و آسائش کی نہایت کڑی شرطیں لگا رہا تھا ۔ نووارِد نرم آدمی تھا قیدیوں کی مُصیبت پر دل پسیج گیا اور جو جو شرائط داروغہ نے پیش کیں سب منظُور کر لیں ۔ عرفان کو سکتہ تھا کہ منجملہ بہت سی شرائط کے اس قیدی کی بیع دو ہزار رُوپے کی ہُوئی اور جب نووارِد رُوپے دے چکا تو داروغہ نے اُس قیدی کو جس پر اب تک غلاموں کی طرح حکومت کر رہا تھا بُلا کر گلے لگایا اور کہا تُم آج ہم سے رُخصت ہوتے ہو ، یہ رُوپیہ اپنے پاس رکھو ۔ خُدا تمہارا مالک شریف اور رحیم ہو ، تمہاری اس وقت تک کی خدمات کا پروانہ ہے ، جاؤ خُدا تم کو خوش رکھے ۔ نووارِد آگے آگے اور قیدی اُس کے پیچھے پیچھے اور دونوں کے پیچھے عرفان ۔ کیفیت دیکھتے چلے جارہے تھے کہ مالک کو پیاس لگی اور اُس نے قیدی سے کہا ، جا کنوئیں سے پانی بھر لا ۔ رات کا وقت ، اندھیرا گُھپ ، نامعلوم جگہ ، ناواقف آدمی ، بھٹکتا بھٹکتا گیا اور پانی لایا مگر بجائے شاباش کے مالِک نے اُس قیدی کے دیر لگانے پر بُہت بُرا بھلا کہا ۔ عرفان اُس مالک کی حرکت پر جَل رہا تھا کہ اُس نے قیدی سے پاؤں دبانے کو کہا ۔ غُلام کو عُذر کیا ہو سکتا تھا ، دبانے بیٹھا تو حُکم دیا ، ایک ہاتھ سے پاؤں دبا ایک ہاتھ سے پنکھا جَھل ۔ دو گھنٹے بعد مالک بیدار ہوا تو گرمی سخت تھی ۔ قیدی کے ایک لات ماری اور کہا سیدھی طرح پنکھا کیوں نہیں جَھلتا ۔
عرفان رنگ دیکھ کر مالک پر دل ہی دل میں لعنت ملامت کرنے لگا ۔ اب صبح ہو چکی تھی ۔ مالک نے قیدی کو کھانا پکانے کا حُکم دیا ، مگر افسوس قیدی مارا مار کھانا تیار کر کے لایا تو مالک کی ناپسند تھا ۔ کہیں نمک کم تھا تو کہیں مِرچ زیادہ ۔ قیدی خاموش کھڑا تھا ۔ مالک نے کھانا اُٹھا کر پھینک دیا اور یہ کہہ کر باہر چلا گیا ، ”جب تک میں نہ آؤں دروازہ کُھلا اور تُو جاگتا رہے ۔“ اب عرفان سے ضبط نہ ہو سکا ، وہ آگے بڑھا اور مالک سے کہنے لگا ، ”حضرت اس سے تو یہ بدنصیب قیدی جیل خانہ ہی میں اچھا تھا ۔“ عرفان کے اتنا کہتے ہی قیدی اور مالک دونوں غائب تھے ، البتہ دیوار پر موٹے موٹے حرفوں میں یہ لکھا ہوا تھا ۔
”بیوقوف دُوسروں کو ٹوکتا ہے اور خُود کرتا ہے ۔“
”تُو بھی تو اِسی گُناہ کا مُرتکب ہے ۔ وہ بیکَس قیدی جن پر تیرا دِل کُڑھا ، مُسلمانوں کی کُنواری بچیاں ہیں جو حقیقتاً تو نہیں اس لئے کہ کلیجے کا ٹکڑا ہیں مگر حالات کے اعتبار سے قیدیوں ہی کے برابر ہیں ۔ صبح سے شام تک اور شام سے رات تک گھر کے کام کاج میں جُتی رہیں ، پُتلی کی طرح ایک ٹانگ سے پھریں ، ماں باپ کا غُصہ اِن پر ، بڑے بہن بھائیوں کی فضیحتی اِن پر ، کہیں آنے جانے کا حُکم اِن کو نہیں ، کسی سے ملنے جُلنے کی اجازت اِن کو نہیں ، کیا یہ حالت قیدیوں کی سی نہیں ہے ؟ اس حالت پر اعتراض نہیں ؟ زمانہ کا تقاضہ اور وقت کی ضرورت سب صحیح ، مگر کیا یہ رحم کی مُستحق نہیں ؟ اِسی کی سزاوار ہیں کہ بھائی کے موزے میں ٹانکا نہیں بھرا تو ہزار فضیحتیں اور اباجان کے کام کو دیر ہوگئی تو ہزار ملامتیں ۔ غور کرو تو شادی ایک قسم کی آزادی ہے کہ وہ احتیاط اور روک ٹوک سب ختم ہوئی ، اب جس نے آزاد کرایا وہی صیّاد ہو جائے تو اُس سے خُدا ہی سمجھے ۔“
Iss shikray se koi parinda nahi bach sakta

Offline shikra22

  • SHIKRA ... eik khatarnaak shikaari
  • T. Members
  • 7 Stars
  • *******
  • Posts: 34325
  • Reputation: +2/-3
  • Gender: Male
  • SHIKRA THE FLYING HUNTER
    • View Profile
Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #33 on: June 10, 2013, 05:33:33 pm »
عرفان اتنا ہی پڑھنے پایا تھا کہ آنکھ کُھل گئی اُس وقت دل کی حالت کچھ اورہی تھی ۔ افروز کی مجبُوری اور اپنی زیادتی سامنے تھی اور رَونگٹا رونگٹا اپنے اُوپر ملامت برسا رہا تھا ۔ کہتا پر نکل آئیں تو اُڑ کر جاؤں اور افروز سے معافی مانگوں ۔ مُشکل سے رات کاٹی ، خدا خدا کر کے صبح ہوئی ، تو کیسا کھانا اور کس کا پینا اور کس کا ناشتہ ، آندھی کی طرح چلا اور بگولے کی طرح پہنچا ۔ نادم و شرمسار اندر گیا تو سب سے پہلے اپنے بچہ پر نظر پڑی جو ایک انّا کی گود میں تھا ، اور اس کے بعد ایک پرچہ پڑھا جو چھوٹی بہن نے لا کر دیا ، جس میں لکھ تھا ،
میرے سرتاج واقعی مجھ سے خطا ہوئی اور میں قصُور وار ہوں مگر آپ اپنے رحم و کرم سے لللہ معاف کر دیجئے ۔ آپ آقا ہیں میں کنیز ہوں ۔ زبردست اور کمزور کی لڑائی کیا ، مجھے کافی سزا مل گئی ہے کہ آخر وقت بھی آپ کی صُورت نہ دیکھ سکی ، میرا بچہ آپ کے پاس امانت ہے ، اِس کی دلجوئی کیجئے ، یہ خُدا کے سُپرد ہے ، میری حالت بگڑ گئی ، اماں جان سے ہر چند درخواست کی ، اُنھوں نے لیڈی ڈاکٹر کو نہ بُلایا ۔ ہندوستانی دائی انگھڑ تھی ، ظالم نے جان لے کر پیچھا چھوڑا ، مُجھ کو اپنے قصُور کی کافی سزا مل گئی کہ دَم آنکھوں میں ہے مگر نگاہ دروازہ پر اور کان آواز پر ۔ دُنیا کے آئندہ تعلقات خُدا کرے آپ کے واسطے خُوشگوار ہوں مگر میری آخری التجا ہے کہ اِس درخواست کو پڑھتے ہی میری خطا معاف کر دیجئے ، میں عذابِ آخرت سے محفوظ رہوں ۔ ارمان تھا کہ اپنے ہاتھ سے پیوندِزمین کرتے ، دِل کی حسرت دل ہی میں رہی ، اچھا میرے سرتاج ! دونوں باپ بیٹوں کا خُدا نگہبان ۔
پرچہ پڑھتے ہی عرفان کو سناٹا آگیا ۔ معلوم ہوا کہ افروز کو مَرے تیسرا روز ہے ۔ قبر پر گیا مگر زندگی کی نخوت ایمان کا ایسا نقصان کر چکی تھی جس کی تلافی دوسری زندگی بھی نہ کر سکتی تھی ۔


THE END
Iss shikray se koi parinda nahi bach sakta

Offline shikra22

  • SHIKRA ... eik khatarnaak shikaari
  • T. Members
  • 7 Stars
  • *******
  • Posts: 34325
  • Reputation: +2/-3
  • Gender: Male
  • SHIKRA THE FLYING HUNTER
    • View Profile
Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #34 on: June 11, 2013, 12:24:00 pm »
توصیف کا خواب


یہ صرف تعلیم ہی کا نتیجہ تھا کہ سُلطان توصیف ایک غریب باپ کی بیٹی اور معمُولی ماں کی بچی ، داؤد جسیے مُتموّل تاجر کی بہُو بنی ۔ باپ کے بعد اُس کا شوہر مُوسٰی ایک کروڑ پتی سوداگر تھا ، جس کی دوچار نہیں بیسیوں کوٹھیاں اور دس پانچ نہیں سینکڑوں کارخانے اِدھر اُدھر موجود تھے ، بنگال کا شاید ہی کوئی شہر ایسا ہوگا جہاں مُوسٰی کی تجارت نہ ہو ۔ اِس شادی کا سبب اور نکاح کی وجہ توصیف کی تقدیر یا مُوسٰی کی قدر دانی ، تعلیم کا انجام یا شرافت کا نام جو کچھ بھی ہو اِس نکاح کا نباہ اور اِس کاج کی لاج کا سہرا توصیف کے سر ہے ۔ خُدا کی شان نظر آتی تھی کہ وہ مُوسٰی جس نے کبھی خُدا کے سامنے سر نہ جُھکایا ہو ، بیوی کا کلمہ پڑھ رہا ہے ۔ اور وہ توصیف جس کے جہیز کی کُل کائنات ایک صندوق برات کے ساتھ تھا ، دن رات جواہرات میں کھیلتی ، یہ صرف عِلم ہی کا طُفیل ہے اور تعلیم کا صدقہ تھا کہ مَردانہ میں نکاح ہورہا ہے ، زنانہ میں مہمان بھرے ہیں اور توصیف سُلطان اَس خیال میں غرق ہے کہ بیل منڈھے چڑھتی دکھائی نہیں دیتی دولت جس کے کاٹے کا منتر نہیں ، صُورت جس جادُو کا اُتار نہیں ، دونوں غائب ۔ اب لے دے کے رہی سیرت ، محبت ، عادت ، خصلت ، یہ ہی ہتھیار ہیں جن پر فتح کا دارومدار ہے ، خُدایا تُو ہی بیڑا پار کرے تو ہو ، بظاہر تو یہ کشتی منجدہار میں ڈُوبی ۔
سُسرال پہنچی تو رئیسانہ شان ، امیرانہ ٹھاٹ ، نوکروں کا زور ، ماماؤں کا شور ، دولت کی کثرت ، روپیہ کی ریل پیل ۔ چاہیے کہ باغ باغ ہوتی ، نہال نہال ہوتی ۔ مُطلق نہیں ، ہر وقت اپنی دُُھن میں غرقاب اور فکر میں شرابور ۔ مُوسٰی امیر کا بچہ لاڈلا اور اکلوتا ۔ دنیا اس کے قدموں میں آنکھیں بچھائے اُلفت سے نا آشنا ، محبت سے ناواقف ، فرائض کی وقعت اور حُقوق کی تربیت اِس کی نگاہ میں ہو ہی نہ سکتی تھی ۔ ایسے شوہروں کے دل میں گھر کرنا ، لوہے کو نرمانا اور پتھر کو جونک لگانا تھا مگر بندگی کرنے سے کہتے ہیں خُدا ملتا ہے ۔ توصیف نے اپنے سامنے صرف رضامندی شوہر کا مقصد رکھا اور اُس کے حصول کے لئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کیا ۔ یہ صحیح ہے کہ تعلیم کی طاقت بھی کچھ کم وزن نہ رکھتی تھی مگر بحیثتِ مجموعی مُوسٰی کا پاسہ بہت زبردست تھا ۔ وہ تمول کے ساتھ دولتِ حُسن سے بھی مالا مال تھا ، اور اُس کا حق توصیف کے مقابلہ میں قطعاً فائق تھا ۔ ان حالات میں بیوی کو قطعاً اس کے سوا چارہ نہ تھا کہ وہ صُورت کی کمی اطاعت سے پُوری کرے ۔
نکاح کے وقت موسٰی کے ماں اور باپ دونوں زندہ تھے اور دونوں عاشقِ زار ۔ وہ فطرتاً گوارا ہی نہ کرسکتے تھے کہ بچہ کے دل پر محبت کا چرکہ تو درکنار آنکھ میں ملال کا مَیل تک آئے ۔ لیکن جال اور دانہ دونوںسامنے تھے اور موسٰی کی کیفیت اس وقت اُس پرند کی تھی جو پھندے میں پھنستے ہی جھٹکا مارے اور پَھڑ پھڑا کر نکل جائے ۔ اگر توصیف اُس وقت پُورا لاسہ نہ لگاتی تو مُوسٰی چلا ہی تھا ۔ اُس نے ایک تین ہی مہینہ میں وہ خدمت کی کہ اکیس برس کی کِھلائی بُڑھیا کی خدمات دل سے بُھلا دیں ۔ ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ توصیف کا عورت ہونا اُس کی کمزوری نہ تھی بلکہ دوسرے سامان تھے ، دوسرے اسباب تھے ، دوسرے باعث تھے ۔ شکل وصورت کے اعتبار سے وہ کمزور اور یقیناً کمزور تھی ۔ اس گڑھے کو بھرنا اس کا فرض تھا ۔ اطاعت سے بھرا ، خدمت سے بھرا ، سچ بھرا ، جُھوٹ بھرا غرض جس طرح سے بھرا جائز اور درست ۔
باوجود اس اعتراف کے مُوسٰی اور توصیف کے حقوق برابر تھے ۔ ہم توصیف کی اس دُور اندیشی کی لاریب داد دیں گے کہ اُس کا یقین ، اُس کا ایمان ، اُس کا عقیدہ ہمیشہ یہ رہا کہ اُس کے گھر میں میرا اضافہ با معنی ہے اُس وقت ، جب میری ہستی اضافہ کرے مُوسٰی کی راحتوں میں اُس کی خوشیوں میں اُس کی مسرتوں میں ۔ اِس یقین کا ثمر ، اِس عقیدہ کا نتیجہ ، اِس ایمان کا انجام ظاہر تھا ، روشن تھا ، صاف تھا کہ ایک موسٰی کیا ، ادنٰی سے اعلیٰ اور چھوٹے سے بڑا ہر متنفس اُس کا گرویدہ تھا ۔
Iss shikray se koi parinda nahi bach sakta

Offline shikra22

  • SHIKRA ... eik khatarnaak shikaari
  • T. Members
  • 7 Stars
  • *******
  • Posts: 34325
  • Reputation: +2/-3
  • Gender: Male
  • SHIKRA THE FLYING HUNTER
    • View Profile
Re: TOOFAN-E-ASHQ
« Reply #35 on: June 11, 2013, 03:16:30 pm »
توصیف کی زندگی کا یہ دور اور بے فکری کے دن پانچ سال تک مُستقل رہے ۔ چھٹے سال ساس کی موت نے اُس کی حالت میں ایک خاص تغیر کیا اور اب داؤد کی بہُو گھر کی ملکہ بنی ۔ اس اکرام و اعزاز نے ایک اور ذمہ داری بڑھائی اور اب خُسر کی راحت و آسائش کا بار بھی اُسی کے سر تھا ۔ اس ترازُو میں بھی توصیف ٹاکم ٹوک اُتری اور اِس خوش اسلوبی سے فرائض ادا کئے کہ داؤد بیٹے سے زیادہ بہُو کا دلدادہ تھا ۔ توصیف کی یہ خدمت یا اطاعتِ خیال یا فکر عارضی اور چند روزہ تھی مگر اس کی تہہ میں بیش بہا خزانے اور بیش قیمت جواہرات پوشیدہ تھے ۔ رُوحانی یا جسمانی اذیت جو اس سلسلہ میں توصیف نے بُھگتی فانی تھی ، مگر اس کے پھل رہنے والے اور پھول مہکنے والے تھے ۔ بڈھا داؤد قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھا تھا دو ہی سال میں رُخصت ہو گیا ، لیکن اس قلیل مدت میں توصیف نے وہ زیور جمع کر لیا جو آخر وقت تک جگمگایا اور وہ پُھول چُنے جو مرتے وقت تک نہ مُرجھائے ۔
داؤد کے بعد توصیف اب گھر کی ملکہ تھی ۔ جائداد ، علاقہ ، رُوپیہ پیسہ ہر چیز کی مالک اور مُوسٰی کہنے کو خدائے مجازی اور حقیقتاً معمولی غلام ۔
بُرا ماننے کی بات نہیں ، مشاہدہ ہے کہ مسلمانوں کے دورِ موجودہ میں دَولت لامذہبی کی جڑ ہے ۔ مسلمان دولتمند ہو کر نماز کا پابند کم ہی دیکھنے میں آیا ہے ، غریب جس نے مُفلسی میں تہجد اور اشراق تک ناغہ نہ کی ، مالدار ہوتے ہی مذہب کو طاق میں رکھ خدا سے ایسا فرنٹ ہوا کہ کبھی واسطہ ہی نہ تھا ۔ اس اصول کے تحت مُوسٰی کا اسلام روشن اور ظاہر مگر ہم اسی کو غنیمت سمجھتے ہیں کہ اس نے بیوی کی نماز روزہ پر کبھی ناک بَھوں نہ چڑھائی اور توصیف کی عبادت میں جو آسمان اور زمین کا فرق تھا اُس کی ذمہ دار وہ خُود تھی یا اُس کی دولت ۔ دریائے ہگلی کے کنارے ایک عظیم الشان کوٹھی ہے ، جس کے چاروں طرف ایک سرسبز اور خوشنما باغ مہک رہا ہے جس میں توصیف اپنے شوہر اور چار بچوں سمیت رہتی ہے ۔
کسی قسم کا رنج و غم اُس کے پاس آ کر پھٹکتا تک نہیں ۔ داؤد نے یہ کوٹھی کئی لاکھ رُوپے کے صَرف سے ایک گاؤں میں بنوائی تھی اور دُور دُور کے معماروں نے اپنی صنعت کے ایسے ایسے نمونے دِکھائے تھے کہ آدمی دیکھ کر دنگ رہ جاتا تھا ۔ رنگ برنگ کے پُھولوں سے اِس ایوان کو جنت بنا دیا تھا ۔ مِیلُوں تک ہوا ان کی خوشبو سے مہکی رہتی تھی ۔ طائرانِ خوش الحان کا نغمہ آبشاروں کی سُریلی آوازیں ، دلوں میں خواہ مخواہ اُمنگ پیدا کرتی تھیں ۔
بہتر سے بہتر زندگی جو دُنیا میں کسی عورت کی بسر ہو سکتی ہے وہ توصیف کی تھی کہ مُوسٰی اس کے اشاروں پر کٹھ پُتلی کی طرح کام کرتا اور دیکھ دیکھ کر جیتا تھا ۔ گیارہ سال کے عرصہ میں لڑائی جھگڑا تو درکنار کسی قسم کا اختلاف تک سُننے میں نہ آیا ۔
شام کے وقت ایک روز توصیف پائیں باغ میں ٹہلتی ہوئی باہر نکلی اور سڑک پر آئی ۔ مُوسٰی ساتھ تھا ۔ دونوں میاں بیوی پاؤں پیدل دُور تک نکل گئے ۔ آدمی نہ آدم زاد ، سرد موسم ، شام کا وقت مسافت خاک نہ معلوم ہوئی ، یہاں تک کہ دونوں ایک ایسی جگہ پہونچے جہاں ایک عمارت کی ٹوٹی ہوئی دیواریں اور گِری ہوئی محرابیں اُس کے مسجد ہونے کا پتہ دے رہی تھیں ۔ توصیف ایک ایسی ماں کے دُودھ سے پلی اور باپ کی گود میں بڑھی تھی جہاں مُفلسی نے مذہب کی وقعت رگوں میں کُوٹ کُوٹ کر بھر دی تھی ۔ گو تغیر حالت نے توصیف کے خیالات میں بہت کچھ فرق کر دیا تھا ، مگر اِسلام کی عظمت وہ جہیز میں لے کر سُسرال پہنچی تھی ۔ اُس وقت یہ دیکھ کر کہ خانۂ خُدا اس حالت میں ہو اور کتے اور گیدڑ اس میں رہیں ، دل پر ایک چوٹ سی لگی اور اُس نے مصمم قصد کر لیا کہ اس مسجد کو از سرِ نو تعمیر کرا دوں ۔ واپسی میں چند قدم کے فاصلہ پر اس نے ایک ٹوٹی سی جھونپڑی دیکھی نہ معلوم کیا دل میں آئی کہ قریب پہنچی اور دیکھا کہ ایک غریب عورت اپنے دو تین بچوں کو لئے خاموش بیٹھی ہے ۔ توصیف کو تعجب ہوا کہ اس جنگل بیابان میں یہ بچوں والی ماں کس طرح اپنی زندگی بسر کرتی ہو گی ، پُوچھا ، ”اری تُو کون ہے ؟ اور یہاں کیوں رہتی ہے ؟“ عورت خاموش رہی اور کچھ جواب نہ دیا ۔
توصیف : ” نیک بخت جواب کیوں نہیں دیتی ؟
عورت : ” جی ہاں ، میں یہیں رہتی ہوں ۔
توصیف : ” تُو اکیلی رہتی ہے ؟
اس سوال کے جواب میں کچھ ایسی داستان پوشیدہ تھی کہ عورت کی آنکھ میں آنسُو ڈبڈبا آئے ۔
توصیف : ”رو مت ، حالت بیان کر۔
عورت : ”بیوی کیا فائدہ ہو گا ، آپ کیوں سُنتی ہیں ؟
اب عورت کا دل زیادہ بھر آیا تھا ۔ اُس کی آنکھوں سے آنسُو بہہ رہے تھے اور اُس کی آواز میں رقت طاری ہو چکی تھی ۔
توصیف : ”بتا ، اپنی حالت بتا ، شاید میں کچھ تیری مدد کرسکوں۔
عورت : ” بیوی وہ سامنے گاؤں ہے ۔ اُس کے پاس دو بیگھ زمین اور ایک کنواں میرا ہے. میرا شوہر کاشت کرتا تھا اور ہم یہاں سب اطمینان سے رہتے تھے مگر پار سال وہ وبا میں مر گیا ۔ زمیندار نے اُس کی دوائی ٹھنڈائی بھی کی مگر نہ بچا ۔ چالیس رُوپے کا حساب اُس کے مرے پیچھے زمیندار کا نکلا تھا ۔ میرے پاس دانت کُریدنے کو تنکا تک نہ تھا ۔ کہاں سے دیتی ، اُس نے میرا بچہ لے لیا اور اب مجھے اُس سے ملنے بھی نہیں دیتا ، مجھے اُس کی صورت دیکھے پانچ مہینے ہو گئے ۔ کئی دفعہ گئی ، دُھتکار دیا ۔“
یہاں پہنچ کر عورت کی ہچکی بندھ گئی اور اُس نے توصیف کے قدموں میں گر کر کہا ”بیوی ، میرا بچہ مجھ سے مِلوا دو خُدا تمہاری مامتا ٹھنڈی کرے۔“
مُوسٰی : ” بس بیگم چلو دیکھو شام ہوگئی۔
دونوں میاں بیوی اُس عورت کی حالت پر افسوس افسوس کہتے ہوئے گھر آگئے اور صبح ہی توصیف کے حکم سے مسجد کی مرمت شروع ہوئی ، اور ایک مہینہ کے عرصہ میں نہایت خُبصورت مسجد تیار ہو گئی ۔
Iss shikray se koi parinda nahi bach sakta