Author Topic: Biwi ko dost ke samne nangi kiya  (Read 51288 times)

Offline rabiarabia338

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 5906
  • Reputation: +38/-13
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: Biwi ko dost ke samne nangi kiya
« Reply #8 on: December 26, 2014, 07:11:34 pm »
ڈنر کرکے ہم ہوٹل سے باہر نکلے اور میں نے اس کو لنگ ڈرائیو کے لئے بولا تو وہ فورا تیار ہو گئی.
میں نے گاڑی گھر سے الٹی سمت کی طرف بڑھا دی اور بیوی کی باہوں پر آہستہ آہستہ ہاتھ پھیرنے لگا. وہ گرم تو تھی ہی اس نے اپنی سیٹ تھوڑا پیچھے کیا اور آرام سے لیٹ گئی. اس بلاج کے اوپر ساڑی کا پلو تھا.
مے اسکو ایک سیکسی کہانی سنانے لگا کہ ایک بار ایک عورت کو کسی انٹرويوه کے لئے ایک پتلون اور شرٹ سلواني تھی. تہوار کے دن تھے تو ووہ گھر سے درزی کے یہاں جانے کے لئے کافی لیٹ ہو گئے اور رات کو دیر سے نکلے. جب ووہ دونوں درزی کے یہاں پہنچے تو سب کچھ سنسان ہو چکا تھا. بس درزی تہوار کی وجہ کام زیادہ ہونے کہ وجہ سے اپنا شٹر نصف بند کرکے سلائی میں لگا تھا. جب یہ دونوں پہنچے اور انہونے اس سے جلدی ناپ لے کر کپڑے تیار کرنے کو کہا تو ووہ بولا کہ آج کل اس کے پاس کام زیادہ ہے تو وہ ان کے کپڑے نہیں سل پائے گا | جب یہ دونوں ضد کرنے لگے تو اس نے انہیں ٹالنے کے لئے بولا کہ میڈم مے آپ کی پتلون کی ناپ کیسے لوں گا آپ نے تو ساڈی پہنی ہے! تو یہ سن کر بیوی نے شوہر کی طرف دیکھا. شوہر نے درزی سے کہا کہ ان کو کوئی اور کپڑے دے دو تاکہ یہ ساڈی بدل کر ناپ دے دے. درزی نے کہا کہ اس کے پاس اس وقت کوئی ایسا كپڈا نہیں ہے تو شوہر بولا کہ ووہ اپنی گاڑی میں دیکھ کر آتا ہے اور باہر چلا گیا. ادھر اس کی بیوی کو کپڑے سلوانے بہت ضروری تھے تو ووہ بولی کہ "مے اپنی ساڈی اتار دیتی ہوں آپ ناپ لے لو". اس پر درزی بولا کہ ساڈی کے نیچے تو پیٹیکوٹ ہے اس لئے ناپ آج نہیں ہو پايےگي. بیوی نے ایسا جتایا جیسے کہ اس کو ان کپڑوں کی بہت ضرورت تھی اس لئے اس نے کہا کہ "مے جلدی سے اپنی ساڑی اور پیٹیکوٹ اتار دیتی ہوں آپ ناپ لے لو" اور درزی کے دیکھتے دیکھتے اس نے اپنی ساڑی اور پیٹیکوٹ اتار دیا اور صرف پیںٹی اور بلاج میں کھڑی ہو گئی. اتنی ہی دیر میں اس کا شوہر بھی وہاں آ گیا اور اس کو اس ادھنگي حالت میں دیکھ کر بھوچككا رہ گیا پر وہ ساتھ ہی ساتھ اتیجیت بھی ہو گیا اور تھوڑا پیچھے ہوکر ایک الماری کی آڑ میں چھپ گیا. ادھر وہ درزی بھی اتیجت ہو گیا اور ٹھیک سے اس کا ناپ لینے لگا. ووہ اس کو جاگھو کو جان بوجھ کر اس طرح چھونے لگا کہ ووہ عورت بھی اتیجت ہونے لگی. درزی نے ناپ کا فیتا اس عورت کے نتمبو (چوتڑو) پر لگایا اور پوچھا کہ "کیا اتنی ٹائیٹ ٹھیک ہے؟" وہ عورت بولی "کچھ زیادہ ٹائیٹ لگ رہی ہے". تب ووہ درزی بولا "اگر آپ اس کو تھوڑا اور ٹائیٹ کروا لوگي تو آپ کی گاںڈ پیچھے سے بہت مست لگے گی اور آپ انٹرويوه میں شرتيا منتخب کر لی جائےگی. اور اس نے پیچھے سے اس کے چوتڑو پر ہاتھ لگا کر سہلا کر بتایا کہ کس طرح اس کے چوتڑو کی گولائیاں باہر کو ابھر کر پتلون سے نظر آئے گی |
یہ کہانی سنتے ہوئے پریہ مست ہو چکی تھی اور مستی کی كھماري میں مدہوش گاڑی کی سیٹ پر ادھلےٹي تھی. میںنے دھیرے سے اپنا ہاتھ اسکے پلو کے نیچے سرکا کر اس کے بلاج کا 1 ہک اور کھول دیا اور کہانی آگے بڑھائی کہ اس کے بعد درزی نے آگے بولا "اگر آپ چاہو تو میں اس پتلون کی فٹنگ ایسے کر دوں گا کی آگے سے آپ کی چوت کا ابھار اور اس کے ہونٹ باہر ہی دکھائی دیں گے اور کام ضرور مل جائے گی | (پریہ کی مستی دیکھ کر میں نے اسکا پلو بالکل نیچے سرکا دیا تھا. تھوڑی دور چل کر اس نے کہا کہ اس کا بلاج بہت ٹائیٹ ہے.) میں نے اپنی کہانی آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد ووہ عورت اس طرح کہ پتلون سلوانے کو تیار ہو گئی تو درزی بولا کہ اگر آپ اپنا بلاج اور پیںٹی بھی اتار دو تو میں شرٹ کا بھی ناپ لے لوں اور آپ کی پتلون بھی ایسی بنا دوں گا کہ کوئی بھی دیکھتے ہی مست ہو جائے گا اور آپ کی نوکری پکی! "اس درمیان وہ عورت بھی گرم ہو چکی تھی اور اس کو معلوم تھا کہ اس کا شوہر بھی جان بوجھ کر چھپا ہے تاکہ وہ اس کو ایسی مست حالت میں مزے لیتے ہوئے دیکھ سکے. وہ درزی سے بولی کہ میرے باقی کے کپڑے آپ ہی اتار لو، آپ میری ناپ کا اور زیادہ اچھی طرح اندازہ لگ جائے گا.
پریہ بہت گرم ہو چکی تھی اور میں اس کے بلاج میں سے اس کی چوچیاں سہلا رہا تھا. اب اس سے رہا نہیں گیا اور اس نے اپنے بلاج کا ایک بچا ہوا ہوک بھی کھول دیا اور میں فورا اس کے بلاج کو ضمنی کرکے اس کی ننگی چوچیوں کو مسلنے لگا. اس کے نپل اور بھی سخت ہو گئے تھے اور بالکل تنے ہوئے تھے | کچھ دیر اس کے سینوں کو مسل مسل کر میں نے اس کو بالکل گرم کر دیا اور پھر میں نے اس کو اپنا بلاج اتارنے کو کہا. جیسا آپ کو معلوم ہی ہے کہ اس نے کوئی برا بھی نہیں پہنی تھی تو اس کی چوچیاں بلاج کہ قید سے آزاد ہو گئی اور چلتی ہوئی گاڑی کی vibrations اور جھٹکوں کے ساتھ تھرتھرانے لگیں. مے اپنا ہاتھ اب کھل کر ان چچیوں پر پھرا رہا تھا. پریہ کے نپپلےس پورے تنے ہوئے تھے اور كچو کی طرح سخت ہو رہے تھے اور وہ مستی میں آہستہ آہستہ سسکاریاں بھرنے لگی تھی.
پریہ بہت ہی گرم تھی اور میں اس سے کہہ رہا تھا ق کاش! اس وقت کوئی tailor شاپ کھلی مل جائے تو میں تمہیں وہاں لے چلوں. پھر ووہ درزی تمہاری ساڑی اتارے، پھر پیٹیکوٹ اور تمہیں ننگا کرکے پینٹ کا ناپ لے گا. تو ووہ بولی ق ہاں بڑا مزا آئے گا کیونکہ میں نے پیںٹی بھی نہیں پہنی ہے. یہ سنتے ہی میرا لںڈ اور کڑک ہو گیا اور میں بھی بہت sexcited ہو گیا.
میں نے اس کے بلاج کے دونوں هسسو کو سائیڈ میں کر دیا تاکہ ساڑی کے نیچے اس کی چھاتیاں نںگی ہو جائیں. اس نے ایک بار بھی اعتراض نہیں کیا. میں نے اس کے بلاج کو تھوڑا اور سرکا کر باہوں سے نکلنا چاہا تو وہ اٹھ گئی. مجھے لگا کہ شاید وہ اب بلاج کے ہک بند کر لے گی، پر ہوا اس کا الٹا. اس نے ساڑی کے پلو کو اپنے دانتوں میں اس طرح دبا کر کہ اس کے سینے ڈھک جائے، اپنا بلاج اپنی باہوں سے نکال کر پیچھے کی سیٹ پر پھینک دیا. اور پھر مسکرا کر میری طرف دیکھا اور ساڑی سے اپنی چوچیاں ڈھک کر دوبارہ لیٹ گئی.
مے تو پہلے ہی بہت اتیجت تھا اب میرا لؤڑا اور زیادہ کھڑا تھا. میں نے پتلون کے اوپر سے اپنے لؤڑے کو سہلایا اور ایک بار اس کی ساڑی کے اوپر سے ننگی چوچيو کو كاس کر مسئلہ اور اپنے لیفٹ ہاتھ میں تھرتھراتا ہوا محسوس کیا. میں نے دھیرے سے اس کا سیدھا ہاتھ اپنے پتلون میں قید لؤڑے پر رکھا اور اس نے میرے لںڈ کو سہلانا شروع کر دیا.
وہ بھی مکمل طور پر اتیجیت تھی. میں نے دھیرے سے اس کی ساڑی کے پلو کو کھسکا کر پہلے ایک چوچی کھول دی. کیونکہ رات ہو چکی تھی اور چاروں طرف اندھیرا تھا تو مجھے ڈر نہیں تھا کہ دوسرا کوئی آدمی ہمیں اس طرح دیکھ کر کوئی پریشانی کھڑی کر پائے گا. اس لئے مے بداس ہوکر اس کی ننگی چوچی کو کھول کر سہلانے لگا. تھوڑی ہی دیر میں میں نے اس کی دونوں چوچیاں نںگی کر دی اور ساڑی کے پلو کو بالکل حذف کر دیا. اب پریہ کمر تک بالکل ننگی ہو کر گاڑی کی سیٹ پر مدہوش لیٹی تھی.
اس کی چوچیاں درمیان درمیان میں سٹریٹ لائٹ میں دکھ رہی تھی. اس کی آہستہ آہستہ ہلتی اور گاڑی کے دھکوں کے ساتھ چھلكتي ہوئی چوچیاں دیکھ کر مے اور جیادا اتیجت ہو رہا تھا دل کر رہا تھا کہ اس کو یہیں ننگی کر کے، گاڑی سے اتار کر چود دوں. ایک جگہ موقع دیکھ کر میں نے گاڑی سڑک کے کنارے روک دی اور اپنی سیٹ بیلٹ کھول کر اس کی طرف جھک گیا. پریہ مستی میں آنکھیں بند کرکے لیٹی تھی. اس نے محسوس کیا کہ گاڑی رک گئی ہے پر انجن اب سٹارٹ تھا. اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں اور دیکھ کہ میں اس کی طرف جھکا ہوا تھا اور اپنا موہ کھول کر اسکا نپل موہ میں بھرنے والا ہی تھا. اس نے مد بھری گرسنہ نگاہوں سے میری طرف دیکھا اور آپ کی چوچی ابھار دی. میں نے اپنا منہ کھول کر اس کے نپل کو مںہ میں بھر لیا اور زور سے چوسا. پریہ نے ایک گہری سسکاری بھر کر اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھ کر میرا سر زور سے اپنی چوچی پر دبا لیا میں نے ایک ہاتھ سے اس کی دائیں چوچی کو زور سے پکڑ کر بھيچتے ہوئے چوسنا شروع کر دیا اور دوسرے ہاتھ سے اس کی بائیں چوچی کو مسلنے لگا اور درمیان درمیان میں اس کی ساڑی کے اوپر سے اسکی چوت بھی سہلانے لگا. وہ اب کھل کر کراہ رہی تھی. میں نے دائیں چوچی کو چھوڑ کر تھوڑا اور آگے کر اس کی بائیں چوچی کو اپنے منہ میں بھر کر زور زور سے چوسنا شروع کر دیا. اب وو اتتےذنا سے پاگل سے ہو رہی تھی اور اس کی چوچی ابھار ابھار کر میرے پیاسے منہ میں گھسا رہی تھی. اب گاڑی کے اندر ماحول مکمل طور پر سیکسی اور گرم تھا. میں نے ایک ہاتھ اسکی ساڑی کے نیچے ڈال دیا اور پیٹیکوٹ کے اندر ہاتھ دال کر اس کی مخملی سڈول اور ہموار جاںگھیں سہلانی شروع کر دی. میں نے ہاتھ بڑھا کر اس کی ساڑی اوپر کرنی شروع کر دی اور اس کے پاؤں پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا. ووہ اور مست ہو گئی جاںگھوں پر ہاتھ لگتے ہی اس نے اپنے پاؤں کھول دیا اور زور سے سسکاری بھر کر اپنی گاںڈ سیٹ سے اوپر اچكاي. میں نے فورا اس کی چوت کو سہلانے کے لیا ہاتھ اور اندر ڈالا تو یاد آیا کہ اس نے كچچھي بھی نہیں پہنی تھی. میں نے اس کی طرف دیکھا تو مسکرا کر شرارت بھری نظروں سے مجھے دیکھتی ہوئی بولی "میں نے سوچا جب برا نہیں پہن رہی ہوں تو پیںٹی بھی کیوں پهنو" اور آپ کی ساڑی اوپر ہوتے ہی اپنی ٹاںگے اور زیادہ کھول لی اور میرا ہاتھ اپنی ننگی چوت پر رکھ لیا. میں نے اس کی ساڑی تھوڑا اور اوپر کی اور اس کی گاںڈ کے نیچے ہاتھ لگا کر اشارہ کیا ق ووہ ساڑی کو اپنے نتبو کے نیچے سے بھی اوپر کھسکا لے. اس نے یہ کام بھی خوشی خوشی کیا. میرا اپھان زور پر تھا اور میں نے اس کی چوت میں اوںگلی ڈال کر زور سے گسا دی. اس نے سسکاری بھر کر کہا - "اور زور سے"
پریہ بہت ہی گرم ہو چکی تھی. اس درمیان میں نے گاڑی آہستہ چلا دی تھی. اس کی ساڑی اس کی کمر سے اوپر ہو گئی اور اب ووہ، اوپر سے بھی ننگی تھی کیونکہ اس کی چونچی سے کمر تک کچھ نہیں تھا اور نیچے سے بھی کیونکہ اس کے انگوٹھے سے لے کر کمر تک ووہ ننگی تھی.
O Mery Nal Janb No Payer V Koi Nahi Avey Farzi Lad Karena A
Hanjo Kad Kay Katal Akhein Chu Kiday Yar Farad Karena A ..

YUM Stories

Re: Biwi ko dost ke samne nangi kiya
« Reply #8 on: December 26, 2014, 07:11:34 pm »

Offline rabiarabia338

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 5906
  • Reputation: +38/-13
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: Biwi ko dost ke samne nangi kiya
« Reply #9 on: December 26, 2014, 07:12:59 pm »
اس کی ساڑی اس کی کمر سے اوپر ہو گئی اور اب ووہ، اوپر سے بھی ننگی تھی کیونکہ اس کی چونچی سے کمر تک کچھ نہیں تھا اور نیچے سے بھی کیونکہ اس کے انگوٹھے سے لے کر کمر تک ووہ ننگی تھی.
میں نے آہستہ آہستہ اس کی چوت سہلانی شروع کر دی، بیچ بیچ میں مے اسکی چوچیوں کو مستی سے مسل رہا تھا، نپل کو نوچ رہا تھا اور کھینچ رہا تھا، تبھی میں نے دیکھا ق آگے سڑک پر ایک پولیس بےرر تھا، میں نے اس کو بتایا تو اس نے بس ساڑی کا پلو اپنے منہ پر اور چوچیوں پر ڈال لیا، جب میں نے کہا ق چوت بھی ڈھک لو، تو بولی پولیس والا کون سا گاڑی میں جھاكےگا؟ اور میں گاڑی آہستہ آہستہ بےرر سے نکال کر لے گیا. مستی سے میرا لںڈ بلکل کھڑا تھا. مے کبھی بھی نہیں سوچ سکتا تھا ق پریہ اتنی گرم ہو جائے گی اور اتنی بیباک. بےرر سے نکلتے ہی میں نے اس کی چوچی اور موہ پر سے ساڑی ہٹا دی اور دوبارہ اس کی چوت میں اوںگلی کرنے لگا. اس نے ایک ہاتھ میری پینٹ ق جپ پر رکھا اور اس کو کھولنے لگی میں نے اس کام میں اس کی مدد کی اور اس نے میرا لؤڑا باہر نکال کر سہلانا شروع کر دیا. میں نے اس کو بولا - میرا لؤڑا چوسو تو اس نے اپنی سیٹ بیلٹ کھولی اور جھک کر میرا لؤڑا چوسنے لگی، مے مستی میں ساتویں آسمان پر تھا اور اس کی گاںڈ سہلا رہا تھا.
تبھی مجھے یاد آیا ق گاڑی میں پٹرول ڈلوانا ہے. میں نے اس کو بولا ق مجھے گاڑی میں پٹرول ڈلوانا ہے تو تم کپڑے ٹھیک کر لو کیونکہ آگے کسی بھی پٹرول پمپ پر میں گاڑی روكوگا.
ووہ بہت مستی میں تھی، میرا لؤڑا چوس کر اپنی سیٹ پر لیٹ گئی اور بولی، "کیوں مجھ کو ایسے پےٹرولپمپ پر نہیں لے جا سکتے کیا؟"
میں نے کہا - "کیا پاگل ہو گئی ہو؟"
تو بولی - "ویسے تو بہت کہتے ہو ق تمہے دوسروں سے چدواوگا اور آج مجھے اپنے ننگے بدن پر کپڑے ڈالنے کو بول رہے ہو"
مے تو دنگ رہ گیا اور تھوڑا گھبرا بھی گئی. میں نے اس کے لیٹے ہوئے ہی اس کی چونچی کے اوپر ساڑی ڈال دی اور کمر سے ساڑی سرکا کر چوت اور ٹاںگے ڈھک دیں. حالانکہ اس کے کپڑے صاف طور پر درہم برہم دکھائی دے رہے تھے، پر اور کیا کرتا؟
پٹرول ڈلواتے ہوئے، پٹرول پمپ کا آدمی بار بار اس کی طرف دیکھ رہا تھا کیونکہ گاڑی میں پٹرول ٹینک کا انلےٹ اس سائیڈ ہی تھا. شاید اس آدمی کو پتہ لگ گیا تھا ق یہ عورت ننگی ہے ساڑی کے نیچے.
میں نے جلدی سے پٹرول ڈلوا کر اس پیسے دیئے اور وہاں سے نکل لیا.
باہر نکل کر میری گرم بیوی نے اپنی ساڑی پھر اوپر سے ہٹا دی اور بولی - "اگر آپ مجھے ویسے ہی لے جاتے تو شاید ووہ پیسے بھی نہ لیتا. مے دوبارہ گرم ہونے لگا، اور میں نے اس کی چوت سے ساڑی پھر اوپر کرکے اسکو دوبارہ تقریبا مکمل ننگی کر دیا.

ووہ بولی اگر ہم ابھی درزی کے یہاں جائیں گے تو میں آپ کی بلاج بھی نہیں پهنوگي. اور اس سے کہوں گی ق میری شرٹ کا ناپ بھی لے. | مے بولا - "پریہ! اگر تم ساڑی اور بلاج اتار کر، بالکل ننگی ہو کر ناپ دینے جوگی تو ووہ ناپ نہیں لے گا" | تو بولی ہاں پہلے تو ووہ میری چوت لے گا، میں نے کہاں - جی ہاں، اور تمہیں اس وقت تک نہیں واپس آنے دے گا جب تک تمہارے کپڑے سل نہیں جائیں گے، شاید 3-4 دن، تجھے ایسے ہی ننگی رکھے گا اور ہر وقت چودیگا اور گاںڈ مارے گا.

پریہ بہت گرم تھی اور اس کی چوت سے رس بہہ رہا تھا، ووہ بولی - "چھوڑو! تم سے مجھے پٹرول پمپ پر تو ننگی دکھایا نہیں گیا، اور کیا کروگے؟" مجھے تھوڑا غصہ آ گیا، اور میں نے سوچا ق اس رنڈی کو آج مزہ دیتا ہوں اور میں بھی مزا لوں گا. میں نے گاڑی کو ایک residential علاقے ق طرف گھما دی اور اس کی چوت میں دو - دو اوںگلی کرتا رہا. یہ بہت سسکاریاں بھر رہی تھی اور یکایک اس کو orgasm بھی ہو گیا پر مے اس کی چوت کو اپنی اوںگلی سے چودتا رہا اور یہ مستی میں اور گرم ہو گئی.

آگے جا کر میں نے دیکھا ق ایک کالونی کے گیٹ پر ایک گارڈ کھڑا ہے. ووہ گیٹ ہمارے بائیں طرف تھا، یعنی جس طرف پریہ گاڑی میں نںگی ادھلےٹي تھی. ووہ آگے ق سیٹ میں ہی تھی، میں نے گاڑی روکی اور پریہ کی طرف کی کھڑکی کا شیشہ کھول کر اس کو پاس بلایا اور ایسے ہی کسی جگہ کا راستہ پوچھا. پریہ ایکدم سنن رہ گئی اور کچھ بھی نہیں کر سکی، وہاں تھوڑا اندھیرا تھا اور ووہ آدمی سیدھا تھا، اس نے مجھے پوری امانداري سے راستہ بتایا اور میں دل ہی دل سوچتا رہا کہ یہ اب میری بیوی کو نںگی دیکھے گا - اب دیکھے گا، پر اس نے نہیں دیکھا. میں نے اس سے ایک دو اور فالتو سوال پوچھے کی ووہ جگہ کتنی دور ہے، کتنا وقت لگ جائے گا، پر اس نے میری نںگی بیوی کو نہیں دیکھا.

میں نے گاڑی آگے بڑھا دی.

پریہ مجھ بولی، تم مجھے بتا تو دیتے کی گاڑی روک رہے ہو، تو میں موہ ڈھک لیتی. میں نے کہا کی "اب ڈھک لو مے دوبارہ گاڑی روكوگا"

وہ بڑبڑاي "تم مجھے بالکل بیشرم بنا کر چھوڑوگے، پر اس گارڈ نے تو مجھے دیکھا ہی نہیں جبکہ مے نںگی پڑی تھی"

میں نے مسکرا کر کہا "بدكسمت تھا !!"

اور میں نے گاڑی تھوڑی ہی دیر میں ایک اور گارڈ کے سامنے روک دی یہ گارڈ بھی پریہ کی طرف ہی تھا. پریہ کو اس بار بھی موہ وجہ سے رمضان کا موقع نہیں ملا. میں نے اس کی کھڑکی کا شیشہ کھول دیا اور اس گارڈ سے بھی راستہ پوچھا اور ووہ گارڈ بھی اماندار سے راستہ بتانے لگا. میں نے دیکھا کی یہ گارڈ بھی میری نںگی رنڈی کی طرف نہیں دیکھ رہا ہے، تو میں نے پریہ کی چوت سہلانی شروع کر دی اور گارڈ کو آنکھوں سے اشارہ کیا. گارڈ نے پریہ کی ننگی اور گیلی چوت کے دیکھا تو چونک گیا اور میری طرف دیکھنے لگا. میں نے ہاتھ چوت سے ہٹا کر پریہ کی چوچی پر رکھا اور ان کو مسلنے لگا، اور گارڈ بالکل دنگ رہا گیا، اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں.

میں نے دوبارہ پریہ کی چوت سہلانی شروع کر دی اور گارڈ سے بات کرتا رہا، مستی میں پریہ کو پھر سے orgasm ہو گیا. پریہ اس کی طرف ہلکے سے مسکرائی. میں نے اشارے سے گارڈ سے پوچھا "کیسی ہے" وو سر ہلا کر بولا "بہت مست" اور میں نے گاڑی آگے بڑھا دی.

تھوڈا آگے چل کر میں نے گاڑی روکی، پریہ تب تک بالکل مستی میں تھی، اور اس کو ایک سنسان جگہ پر اتر کر کھڑے ہونے کو بولا اور اس کی تصویر لیں.

گھر آکر ہم نے جی بھر کے چدائی کی.

اس واقعہ میں میں نے کچھ بھی جھوٹ نہیں کہا ہے. واقعی میں سب کچھ ایسے ہی ہوا.

پریہ بعد میں مجھ بولی، کی تم نے مجھے ان پڑھ گارڈ کے سامنے ننگی دکھایا، اگر کوئی پڑھا لکھا اور مہذب سا آدمی ہوتا تو شاید مے اسکو اپنی چوچی چھونے بھی دیتی. !!!!!

اپنی اس ڈرائیو جس پر میں نے اپنی بیوی کو تقریبا مکمل طور نںگی کر دیا تھا اور دو سکیورٹی گارڈز کو دکھایا تھا، اس کے بارے میں میں نے راج کو بتایا تو وہ بھی بہت اتیجت ہو گیا.
O Mery Nal Janb No Payer V Koi Nahi Avey Farzi Lad Karena A
Hanjo Kad Kay Katal Akhein Chu Kiday Yar Farad Karena A ..

YUM Stories

Re: Biwi ko dost ke samne nangi kiya
« Reply #9 on: December 26, 2014, 07:12:59 pm »

Offline rabiarabia338

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 5906
  • Reputation: +38/-13
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: Biwi ko dost ke samne nangi kiya
« Reply #10 on: December 26, 2014, 07:15:05 pm »
Naya experience "Petrol Pump Attendent" - Part-I
مے اور میری بیوی دونوں ہی کسی بھی طرح کے نشے سے دور ہیں. ہم دونوں کو صرف ایک دوسرے کے ساتھ کا اور ایک دوسرے کے جسم کا ہی نشہ ہے.
گزشتہ سال موسم سرما کے دن تھے اور ہم دونوں ہی شہوانی، شہوت انگیز موڈ میں تھے. دیوالی پر ایک شریف آدمی مجھے وہسکی کی بوتل تحفے میں دے گئے تھے جو کہ بغیر کھلے ایسے ہی پڑی تھی. اس دن میرا من کچھ مستی کرنے کا تھا. میں نے پریہ سے کہا کہ آج تم تھوڑی وہسکی پیو پھر تمہیں ڈرائیو پر لے کر چلوںگا. وہ تھوڑا ناراض ہو کر بولی کیوں مے وہسکی کیوں پيو؟ میں نے کہا ایسے ہی! مے تمہیں پوری مستی میں بغیر کسی ذہنی بانڈ کے دیکھنا چاہتا ہوں. پینے کے بعد عام طور پر لوگ اپنے ذہنی كٹھاو سے باہر نکل آتے ہیں اور بھارتی ناری تو سماجی، خاندانی بدھنو اور كٹھاو کے درمیان ہی بڑی ہوتی ہے.
تھوڈا منانے کے بعد پریہ فرض گی، میں نے کوک کے ساتھ اس کے لئے ایک تھوڑا بڑا پےگ بنا دیا. پریہ نے ایک گھوٹھ بھرا اور فورا بہت برا سا منہ بنایا میں نے اس کو فورا اس کو تھوڑی سی مسالیدار نمکین دی جس سے اس کا ذائقہ تھوڑا ٹھیک ہوا پر اس کے بعد اس نے مکمل پےگ ایک ہی سانس میں پی لیا اور پھر تھوڑی سی نمکین کھا لی.
رات کا وقت تھا اور پریہ نے صرف ایک ریپ اراڈ سکرٹ اور ٹاپ پہنی تھی. کیونکہ ہم شام ہی شہوانی، شہوت انگیز موڈ میں تھے، تو میں نے اس کی پیںٹی اؤر برا بہت پہلے ہی اتروا دی تھی. اب وہسکی کا پےگ اس نے اتنی جلدی سے پیا تھا کہ اس کو جلد ہی نشہ ہونے لگا. اور وہ مستی میں تو تھی ہی. مے اس کا ہاتھ پکڑ کر پارکنگ میں کھڑی گاڑی تک لے گیا اور اس کو گاڑی میں بٹھایا اور گاڑی سٹارٹ کر کے سڑک پر نکل گیا سردیوں کے دن تھے اور تقریبا رات 10: 30 کا وقت تھا اس لئے سڑک تقریبا سنسان تھی اور کوئی اکا دکا وهيكل ہی نظر آ رہا تھا. پریہ کے اتنی تیزی سے پےگ پینے کے کارن مے تھوڑا فکر مند تھا کہ کہیں یہ سو نہ جائے. میں نے ٹاپ کے اوپر سے اسکی موٹی موٹی چونچیاں دبا دبا کر مزے لینے شروع کر دیے اور پریہ نے شراب کے نشے میں کھل کر سسکاری بھرني شروع کر دی. تھوڑی ہی دیر میں اس نے ہاتھ بڑھا کر میرے لؤڑے کو پیںٹ کے اوپر سے سہلانا شروع کر دیا اور لرذتي ہوئی آواز میں بولی "نشے میں ایک بات تو ہے - میرا دماغ کام کر رہا ہے پر جسم بےقابو ہو رہا ہے".
O Mery Nal Janb No Payer V Koi Nahi Avey Farzi Lad Karena A
Hanjo Kad Kay Katal Akhein Chu Kiday Yar Farad Karena A ..

Offline rabiarabia338

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 5906
  • Reputation: +38/-13
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: Biwi ko dost ke samne nangi kiya
« Reply #11 on: December 26, 2014, 07:15:52 pm »
ور لرذتي ہوئی آواز میں بولی "نشے میں ایک بات تو ہے - میرا دماغ کام کر رہا ہے پر جسم بےقابو ہو رہا ہے".
اب آگے .......

پٹرول پمپ اٹینڈنٹ
Part-2

یہ سن کر مجھے اور كھماري چڑھ گئی اور مے اسکی چوچیاں جور جور سے مسلنے لگا. پریہ اصل میں اپنی چوچیاں مسلواتے ہی مست ہونا شروع ہو جاتی ہے. اس نپپلس میں کھجلی شروع شروع ہو جاتی ہے، ووہ نپل چسوانے کو بےقرار ہو جاتی ہے اور اس کی چوت گیلی ہونے لگتی ہے. اس دن بھی یہی ہوا اور ووہ بھی بہت جلد.
پریہ مجھ بولی "صرف مسلتے ہی رہو گے میری چوچی، یا انہے چوسوگے بھی؟"
یہ سن کر مے اور بھی مست ہو گیا. پریہ کو وہسکی پلانا کام کر رہا تھا. اب ہیم گھر سے بہت دور نہیں پہنچے تھے، نہ ہی سڑک سنسان تھی، پر جیسا اتیجت ہونے پر ہوتا ہے، ہم دونوں کے دماغ پر لںڈ اؤر چوت کہ گرمی سوار تھی.
میں نے پریہ سے کہا - مے تمہاری چوچی خوب زور زور سے چسگا اگر تم اپنی ٹاپ اتار دو اور ایک وعدہ کرو ".
اس درمیان مے پورے وقت اپنے بائیں ہاتھ سے اس کی چونچی مسل رہا تھا اور درمیان درمیان میں اس کی چوت بھی سہلا رہا تھا.
وعدے کی بات پر پریہ فورا بولی "جو بھی تم کہو" اور آپ کی ٹاپ اترنے لگی.
مجھے ایک لمحے کو فکر ہوئی کہ یہاں کوئی دیکھ لے گا. پر رات کا وقت تھا اور سرديا تھی تو سڑک پر ٹریفک کم تھا. دو پل میں ہی پریہ ٹپلےس کار میں میرے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی تھی. اب آہستہ آہستہ اس کا نشہ زیادہ ہو رہا تھا اور ووہ مستی میں اپنی چوچی خود سہلانے لگی اور مجھ نشیلی آواز میں بولی "لو اب چوسو" مجھے گاڑی سڑک کے ضمنی پر لگا کر اس کی چوچی چوسني شروع کرنی پڑی. مے ایک چوچی میں اپنے ہاتھ سے زور سے مسلتا اور دسرے ہاتھ میں پوری چوچی بھر کر اس کا نپل موہ میں زور زور سے چوستا جیسے پوری چوچی منہ میں بھرنا چاہتا ہوں. ایسا کرنے پر ووہ بہت گرم ہو جاتی ہے. اس دن بھی یہی ہوا. پریہ بہت گرم ہو گی، اور زور سے زور تقریبا چلاتے ہوئے میرا سر اپنی چوچیوں پر دبانے لگی. میں نے ایک ہاتھ سے اس کی چونچی مسلتے ہوئے چوستا رہا اور دوسرا ہاتھ اسکی چوت پر لے گیا. چوت پر میرا ہاتھ رکھتے ہی اس نے اپنی ٹاںگے کھول دیں اور ایک ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھ کر اپنی چوت پر دبانے لگی. مجھ سے بھی اب رکا نہیں جا رہا تھا اور میں نے اس کی ریپ اراڈ سکرٹ کے کھلے حصے سے ہاتھ اندر ڈالا اور سکرٹ کو دونوں طرف پھیلا کر اس کی ٹاںگیں نںگی کر دی. اور اس کی چوت کو نںگی کرکے سہلانے لگا. اب تو پریہ بہت گرم ہو گئی تھی. میں نے تھوڑی دیر تک اس کی چونچی چوس کر اور چوت سہلا کر کار آگے بڑھا دی کیونکہ ہم اب بھی main روڈ پر ہی تھے.
O Mery Nal Janb No Payer V Koi Nahi Avey Farzi Lad Karena A
Hanjo Kad Kay Katal Akhein Chu Kiday Yar Farad Karena A ..

Offline rabiarabia338

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 5906
  • Reputation: +38/-13
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: Biwi ko dost ke samne nangi kiya
« Reply #12 on: December 26, 2014, 07:16:42 pm »
پٹرول پمپ اٹینڈنٹ Part-3
......... میں نے تھوڑی دیر تک اس کی چونچی چوس کر اور چوت سہلا کر کار آگے بڑھا دی کیونکہ ہم اب بھی main روڈ پر ہی تھے. ........

Now Part-3

تھوڑی دیر میں ہی پریہ بالکل نشے میں تھی اور گرم ہو چکی تھی. وہ مجھ بولی "آج جس سے مرضی چدوا دو، کیونکہ آج میرا اپنے اوپر کوئی كٹرول نہیں ہے" میں بھی اب تک بہت گرم ہو چکا تھا اور دماغ میں اس سچویشن کا فائدہ اٹھانے کی سوچ رہا تھا. میں نے اپنے ایک نیٹ فرینڈ کو فون کیا پر وہ بہت دور رہتا تھا اور اس کے پاس کار نہیں تھی. اور میں پریہ کو نںگی اتنی دور لے نہیں جا سکتا تھا اور وہ کار میں ننگی بیٹھی اتنی اچھی لگ رہی تھی کہ اس کو کپڑے پہنانے کا من نہیں تھا. پھر مجھے یہ ڈر بھی تھا کہ پریہ نے پہلی بار نشہ کیا ہے کہیں وہ راستے میں ہی نشے میں سو نہ جائے.
پریہ بہت گرم تھی اور میں مسلسل اس کی چوچیاں اور چوت سہلا رہا تھا، مسل رہا تھا اور درمیان درمیان میں اوںگلی کر رہا تھا. اسکی چوت سے مسلسل رس بہہ رہا تھا اور کار کی سیٹ بھی تھوڑی گیلی ہو گئی تھی. ووہ مستی میں مسلسل سسكاريا بھر رہی تھی اور رہ رہ کر میرا لؤڑا سہلا رہی تھی، اپنی مٹھی میں دبوچ رہی تھی اور اس کو چوسنے کو کہہ رہی تھی. ایک ویران جگہ دیکھ کر میں نے کار روکی اور اس کی ٹریک پتلون نیچے سرکا کر اپنا لؤڑا ننگا کر دیا اور پریہ سے بولا "لے رنڈی چوس اس کو." پریہ نے فورا ایک گرسنہ شیرنی کہ طرح گررا کر میرا لؤڑا اپنے ہاتھ میں لیا اور گپ سے اپنے موہ میں ڈال لیا. اور میرے تنے ہوئے لؤڑے کو پوری قوت سے سستی رنڈی کی طرح چوسنے لگی. میں نے جھک کر اس کی چوت میں اپنی انگلیاں ڈال دی اور اس کی چوت کو انگلیوں سے چودنے لگا وو زور زور سے میرا لںڈ چوستے ہوئے منہ سے آوازیں نکل رہی تھی جو اس کی چوت اور چوچیوں پر میری اںگلیوں کا نتیجہ تھی. تھوڑی دیر کے بات میں نے اپنا لنڈ اس کے منہ سے نکالا اور اس کو سیدھا بٹھایا اور محبت سے اس کو کس کر کے پوچھا "کس کی رنڈی ہو؟" اس نے پیار سے جواب دیا - "تمہاری !!
O Mery Nal Janb No Payer V Koi Nahi Avey Farzi Lad Karena A
Hanjo Kad Kay Katal Akhein Chu Kiday Yar Farad Karena A ..

Offline rabiarabia338

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 5906
  • Reputation: +38/-13
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: Biwi ko dost ke samne nangi kiya
« Reply #13 on: December 26, 2014, 07:17:41 pm »
پٹرول پمپ اٹینڈنٹ Part-4
اس نے پیار سے جواب دیا - "تمہاری !!

پٹرول پمپ اٹینڈنٹ
Part-4

میں نے اس کے نپل کو زور سے مروڑا اور دوبارہ پیار سے پوچھا "کس کس کی رنڈی ہو؟" تو ووہ نشے اور جنسی سے بھری آواز میں بولی "ان سب کی جن کی رنڈی تم مجھے بنانا چاہتے ہو !!!!!"
میں نے آگے پوچھا "کتنی گرم ہو؟"
پریہ نے مستی سے بھری آواز میں کہا "میری چوت میں آگ لگی ہے آج جہاں مرضی لے جاؤ، جس کے سامنے مرضی ہو مجھے ننگی کھڑی کر دو اور جس سے سے مرضی چدا دو! آج مے تمہاری کہی ہر بات مانوگي !!"
میں نے سوچا کہ اگر کوئی صاف ستھرا آدمی مل گیا تو اس کو چدوا ہی دیتا ہوں، پر تبھی مجھے یاد آیا کہ ہمارے پاس کنڈوم نہیں ہے. میں نے اپنی قسمت کو كوسا اور کار آگے بڑھا دی.
اب تک تقریبا 12 بج گئے تھے اور سڑک تقریبا بالکل سنسان تھيبيچ درمیان میں اکا دکا ہی گاڑی دکھائی دے رہا تھا. میرے من میں یہی خیال چل رہا تھا کہ کس طرح مستی کو اگلے لیول تک لے جایا جائے.
اسی درمیان میں نے پریہ کہ طرف دیکھا تو وہ ننگی کار کہ سیٹ پر ادھلےٹي تھی. کار کا ہیٹر چالو ہونے کے سبب اس کو ٹھنڈ نہیں لگ رہی تھی.اؤر وہ بہت ہی سیکسی اور مست دکھائی دے رہی تھی. میں نے دل میں سوچا کہ اگر کوئی كےمسٹ کی دکان کھلی ملی تو کنڈوم کا پیکٹ لے لوں گا اور اپنی بیوی کو آج رنڈی کہ طرح چدوا ہی دوں گا.
O Mery Nal Janb No Payer V Koi Nahi Avey Farzi Lad Karena A
Hanjo Kad Kay Katal Akhein Chu Kiday Yar Farad Karena A ..

Offline rabiarabia338

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 5906
  • Reputation: +38/-13
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: Biwi ko dost ke samne nangi kiya
« Reply #14 on: December 26, 2014, 07:18:32 pm »
میں نے دل میں سوچا کہ اگر کوئی كےمسٹ کی دکان کھلی ملی تو کنڈوم کا پیکٹ لے لوں گا اور اپنی بیوی کو آج رنڈی کہ طرح چدوا ہی دوں گا. . . . .

پٹرول پمپ اٹینڈنٹ
Part-5

یہی سوچتا ہوا مے کار کو آہستہ آہستہ ڈرائیو کرتا ہوا آگے جا رہا تھا، تبھی میرا دھیان محبت فیول گیج پر گیا اور میں نے دیکھا کہ کار میں فیول ڈلوانے کی ضرورت تھی. میں نے پریہ کے ننگے جسم کہ طرف ایک نظر ڈالی، اس پورے وقت مے اسکی چوچیوں اور چوت سے کھیلتا رہا تھا تاکہ اس کی گرمی بنی رہے. کار میں گھر سے چلتے وقت میں نے ایک شال رکھ لی تھی اور مجھے لگا کہ جب کار پٹرول پمپ میں لے جاںگا تو شال اپنی ننگی بیوی کے مست جسم پر ڈال دوں گا.
تھوڈا آگے چل کر ایک پٹرول پمپ دکھائی دیا تو میں نے اس سے تھوڑا پہلے گاڑی روک کر پریہ کے جسم کو شال سے ڈھکا اور اس کو بتا دیا کہ پٹرول پمپ میں کار لے جا رہا ہوں اس لئے تمہارے اوپر شال ڈھک رہا ہوں. پریہ نے نشیلی نگاہوں سے میری طرف میری طرف دیکھا اور مسکرا دی. کار کو مے پٹرول پمپ میں لے گیا. وہاں ایک ہی اٹینڈنٹ تھا جو خوب لمبا چوڑا تھا. مے کار سے نیچے اترا اور اس کو گاڑی میں پٹرول ڈالنے کو بولا. وہاں تھوڑی بہت روشنی تھی. اٹینڈنٹ نے پیٹرول کا ٹینک کھول کر پٹرول ڈالنے کے لئے نوجل کو ٹینک میں ڈالا اور پٹرول ڈالنا شروع کردیا. اس کے بعد جیسے ایک دم سے اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی اور اس نے کار کا وڈسكرين صاف کرنے والا وائپر اٹھایا اور تیزی سے آگے کو گیا اور شیشے پر وائپر پھرنے لگا، میں نے دیکھا کہ اس کی آنکھیں شیشے پر نہیں بلکہ گاڑی کے اندر کچھ دیکھ رہی ہیں . وہاں اوپر بڑی سی لائٹ جلی ہونے کی وجہ کار کے اندر سب کچھ صاف دکھا رہا تھا. مے دم سے چونک گیا کہ کہیں پریہ کو تو نہیں ......
O Mery Nal Janb No Payer V Koi Nahi Avey Farzi Lad Karena A
Hanjo Kad Kay Katal Akhein Chu Kiday Yar Farad Karena A ..

Offline rabiarabia338

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 5906
  • Reputation: +38/-13
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: Biwi ko dost ke samne nangi kiya
« Reply #15 on: December 26, 2014, 07:19:17 pm »
پٹرول پمپ اٹینڈنٹ Part-6
...... مے دم سے چونک گیا کہ کہیں پریہ کو تو نہیں ......

پٹرول پمپ اٹینڈنٹ
Part-6

مے دم سے لپک کر آگے پهچا تو حیران رہ گئی گاڑی کے ونڈو سے پوری لائٹ اندر جا رہی تھی اور اندر کر نظارہ بالکل صاف صاف دکھائی دے رہا تھا. وہ آدمی اندر نظریں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہا تھا اور اندر پریہ بالکل مادرجات نںگی لیتی ہوئی تھی. میں نے دیکھا کہ شال اس نے اتار کر پیچھے کی سیٹ پر ڈال دیا تھا. اور وہ کچھ اس طرح سے لیٹی تھی کہ نہ صرف اس کی دونوں مست موٹی چونچیاں اس اٹینڈنٹ کو صاف صاف دکھائی دے رہی تھی بلکہ اس کی ٹاںگیں بھی تھوڑا کھلی تھی اور چوت بھی باہر سے صاف صاف دکھائی دے رہی تھی. مے فکر مند بھی تھا پر اس لمحے کی گرمی میں میرا لنڈ ایک دم ٹائیٹ ہو کر کھڑا ہو گیا تھا. اور مجھے دکھ رہا تھا کہ پتلون کے اندر اس اٹینڈنٹ کا لؤڑا بھی مکمل تنا ہوا ہے. اس کا لؤڑا بہت بڑا اور موٹا دکھ رہا تھا. (ویسے بھی کہاوت مشہور ہے کہ دسرے کی دھوتی میں لؤڑا بڑا ہی نظر آتا ہے !!)
اس اٹینڈنٹ کی توجہ میری طرف گیا اس نے مسکرا کر مجھ سے پوچھا "رنڈی ہے؟" میں نے کہا - "نہیں، میری بیوی ہے" وہ اور زور سے مسکرایا. بولا "ایسے نںگی لے کر گھوم رہے ہو؟" میں نے جواب دیا "جی ہاں! بس تھوڑی مستی کر رہے تھے"
وہ بولا "صاحب بہت مست مال ہے. پکا آپ کی بیوی ہے؟"
میں نے بھی ہنس کر جواب دیا "جی ہاں بھائی پکا کسی اور کے ساتھ ایسے ان کپڑوں میں تھوڑی نہ گھومتا!"
وہ مسکرا کر پریہ کہ طرف اشارہ کرکے بولا "صاحب انہونے تو کپڑے ہی نہیں پہنے ہے ..."
میں نے کہا، پہنے تو تھے پر میں نے اتار دیے. "
O Mery Nal Janb No Payer V Koi Nahi Avey Farzi Lad Karena A
Hanjo Kad Kay Katal Akhein Chu Kiday Yar Farad Karena A ..

 

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.