Author Topic: امی کا خفیہ افیئر  (Read 205406 times)

Offline getmami

  • مامی کو چودا
  • 1 stars
  • *
  • Posts: 11
  • Reputation: +1/-1
  • Gender: Male
  • Mami ka Diwana
    • View Profile
امی کا خفیہ افیئر
« on: August 27, 2017, 03:34:05 am »
میں کسی بھی ویب سائیٹ پر پہلی دفعہ لکھنے کی ٹرائی کر رہا ہوں۔ لہذا اگر کہانی کی میں کچھ عجیب سا محسوس ہو تو نیو کمر سمجھ کر معاف کر دینا۔
یہ کہانی مری امی کے بارے میں ہے۔۔
ہمارا خاندان کافی بڑا ہے۔ اور سب رشتے داروں کے آپس میں بہت اچھے تعلقات ہیں۔ ان اچھے تعلقات کی وجہ سے ہم سب کو ہر خوشی اور غمی میں ضرور شرکت کرنا پڑتی ہے۔ میرا ایک کزن جو باہر کے ملک پڑھنے گیا ہوا تھا جب وہ اپنی تعلیم مکمل کر کے پاکستان آیا تو اس کے والدین نے اسکی ایک کزن کے ساتھ اسکی شادی پکی کر دی۔ جیسے ہی شادی کی ڈیٹ فکس ہوئی اسکے والدین نے پورے خاندان میں منادی کرادی کے سب رشتے دار لازمی شرکت کریں۔
شادی میں شرکت کرنے کے لیے ہمیں دوسرے شہر جانا تھا۔ میں اور میری امی شادی والے گھر دو دن پہلے ہی چلے گئے تھے کیوںکہ میں میٹرک کے امتحانات سے ابھی ابھی فارغ ہوا تھا اور میری امی کی بڑی بہن کے بیٹے کے شادی تھی اس لیے ہمیں شادی والے گھر پہلے ہی جانا پڑا۔
شادی والے گھر کو ابھی سے ہی کافی سجادیا گیا تھا۔ اور کافی مہمان آ چکے تھے۔ میں اپنے کزنوں میں فوراً ہی گھل مل گیا اور خوب انجوائے کرنے لگا۔ میرے جس کزن کی شادی تھی اسکے کچھ فورن کلاس فیلو بھی دوسرے ملک سے شادی میں شرکت کے لیے اس کے گھر آئے ہوئے تھے۔ ہم سب چھوٹے کزن ان سب کے ساتھ ٹوٹی پھوٹی انگلش بول بول کے خوب انجوائے کر رہے تھے۔
میرے کزن کےتمام فورن دوست گھر کے اندر اور باہر بغیر کسی روک ٹوک اور جھجک کے آ اور جا رہے تھے۔ ہماری فیمیلی نا تو زیادہ سخت گیر مذہبی یا روایتی پردے والی تھی اور نا ہی ہم زیادہ لبرل یا آزاد قسم کے لو گ تھے۔ بس درمیانی سی سوچ اور رسم و رواج والے لوگ تھے۔ ہماری کچھ رستے دار خواتین جو شادی میں شرکت کے لیے آئی ہوئی تھیں ان میں سے کچھ تو ان انگریز مہمانوں سے پردہ کر رہی تھیں اور کچھ بغیر کسی جھجک کے ان انگریزوں سے بات چیت کبھی کبھی کر لیتی ۔ میری امی بھی دوسری قسم کی خواتین میں تھیں۔ میری امی تھوڑی شرمیلی تھیں پر زیادہ پردہ وغیرہ نہیں کرتی تھیں۔
ہمیں شادی والے گھر آئے ہوئے پورا ایک دن گزر چکا تھا۔ میں نے نوٹ کیا کہ سب انگریز مہمانوں میں سے ایک انگریز جس کا نام ڈیوڈ تھا وہ بہانے بہانے سے میری امی کے آس پاس آجا رہا تھا۔ پہلے تو میں نے سوچا شاید یہ میرا وہم ہو لیکن میں تھوڑا مزید غور کیا تو مجھے یقین ہوگیا کہ ڈیوڈ میری امی کے پاس زیادہ گھوم پھر رہا ہے۔ میری امی جان کی عمر تقریباً پینتالیس برس کے لگ بھگ تھی۔ لیکن دبلی اور پتلے جسم کی وجہ سے وہ اپنی حقیقی عمر سے کم دیکھائی دیتی تھی۔ میری امی کے سیاہ اور گھنے لمبے بال تھےجنہیں وہ پراندے میں باندھ کر ہمیشہ رکھتی تھی۔ میری امی نازیادہ موٹی تھی اور نا ہی زیادہ پتلی تھی۔ بس میری امی کے پورے جسم کی خدوخال بہت نمایاں اور سیکسی تھی۔ میں اپنی امی کو کبھی گندی نظر سے نہیں دیکھا تھا۔ لیکن یہ سب معلومات مجھے بعد میں پتہ چلی ۔
ڈیوڈ ایک بائیس سالہ دراز قد اور چوڑی چھاتی والا خوبصورت نوجوان تھا۔ شادی والے گھر بہت خوبصورت اور نوجوان لڑکیاں بھی موجود تھیں لیکن یہ ڈیوڈ کسی کی بھی طرف ویسے نہیں دیکھ رہا تھا جیسے وہ میری امی پر مسلسل اپنی نگاہیں گاڑے ہوا تھا۔ مجھے تھوڑی الجھن ہو رہی تھی کہ یہ انگریز کیوں میری امی میں دلچسپی لے رہا ہے۔ پیلے تو میں نے سوچا کہ اپنی امی کو کہوں کہ اس دور رہے اور کسی بھی قسم کی بات اس سے نا کرے۔ لیکن پھر میں نے سوچا کہ میری امی میرے بارے میں کیا سوچے گی کہ میں اس پرخدا نا خواستہ شک کر رہا ہوں۔
بحرحال میں نے سوچا کہ کونسا اس انگریز نے ہمشہ ادھر ہی رہنا ہے شادی ختم ہوتے ہی یہ واپس اپنی ملک چلا جائے گا۔ لہذا میں نے اپنے دماغ پر فضول بوجھ ڈالنے کے بجائے شادی کو انجوائے کرنا کا سوچااور اپنے کزنوں کے ساتھ ایک دفعہ پھر مصروف ہو گیا۔
مہندی کا فنکشن شروع ہونے والا تھا اور سب تیار ہو رہے تھے۔ میں نے اپنی امی کو دیکھا تو میں دیکھتا ہی رہ گیا۔ انہوں نے پیلے رنگ کا مہندی کے فنکشن کی مناسبت سے لباس پہنا ہوا تھا۔ اپنے سیاہ گھنے بالوں کو اپنی کمر پر کھولا چھوڑ رکھا تھا۔ نفیس میک اپ کی وجہ سے میری امی ایک نوجوان لڑکی لگ رہی تھی۔ میں نے اپنی امی کو مسکراتے ہوئے سب کے سامنے چھیڑا کہ یہ لڑکی کہاں سے آئی ہے۔۔۔۔۔ میری امی کا چہرہ حیا اور شرم سے لال ہو گیا اور سب ہنسنے لگ گئے میری امی بھی آہستہ سے مسکرا دی اور مجھے غصے گھورا۔
میں نے پھر امی کو تنگ کرتے ہوئے کہا کہ کاش آج ابو دبئی سے پاکستان آئے ہوتے تو انکی خیر نہیں تھیں۔ ابو کا سن کر میری امی تھوڑا اداس ہو گئی۔ انکی کاجل سے سجھی خوبصورت آنکھیں پانی سے بھر گئیں۔ میں ماحول کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے فوراً سے باتوں کا موضوع بدل دیا۔ اور امی سے کہا کہ میرے لیے اس شادی میں سے اپنی جیسی خوبصورت سی لڑکی تو ڈھونڈ دیں۔ میری امی ایک دفعہ پھر مسکر ا دی ۔ میں اپنی امی سے بہت پیار کرتا تھا اور انکی آنکھوں میں ایک آنسو کا قطرہ نہیں دیکھ سکتا تھا ۔
مہندی کا فنکشن بہت زبردست جا رہا تھا۔ ہم سب کزنوں نے خوب ادھم مچا رکھا تھا۔ جب جب میری نظر امی پڑتی تو ان کے آگے پیچھے یا دائیں بائیں مجھے ڈیوڈ ہی نظر آتا۔ مجھے تھوڑا غصہ آتا لیکن پھر جب اپنی امی کو مسکراتے اور ہنستے ہوئے اس انگریز کے ساتھ بات کرتے دیکھتا تو مییں تھوڑاخود کو تسلی دیتا کہ چلوکوئی بات نہیں۔ میری امی اس کے بات کر کہ شاید اچھا محسوس کر رہی ہے۔
میری امی میرے ابو کو بہت زیادہ مس کرتی تھی۔ میرا ابو کبھی دو اور کبھی تین تین سال بعد دبئی سے گھر واپس چکر لگاتا تھا۔ ۔ شادی کے شور شرابے اور ہنگامے میں میں اتنا زیادہ مصروف ہوا کہ ہماری روانگی کا وقت آن پہنچا۔ جب ہم پانے گھر کے لیے روانہ ہو رہے تھے تو تب بھی ڈیوڈ کی نظریں میری امی پر ہی تھیں۔لیکن میری امی اب اس سے تھوڑا جھجک رہی تھی اور اسکی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھ رہی تھی۔ حالانکہ شروع میں تومیری امی بہت مسکرا مسکرا اس باتیں کرتی رہی تھی۔
ڈیوڈ کی پر مجھے اب سچ میں غصہ آ رہا تھا لیکن میں خود پر کنڑول رکھا۔ کیونکہ میں جانتا تھا کہ اب ہم لوگ گھر واپس جا رہے ہیں۔ اب  غصے کا کوئی فائدہ نہیں ویسے بھی اب یہ کونساانگریز کا بچا کہاں نظر ائے گا۔
شادی سے گھر واپس آنے کے بعد کوئی تین مہینے بعد کی بات ہے کہ میری امی نے مجھے کہا کا انکا لیپ ٹاپ ٹھیک طرح سے کام نہیں کر رہا۔ پلیز اسے ایک بار دیکھ لو کیا مسلہ ہے۔ میں نے امی سے کہا کہ رات کو آرام سے چیک کروں گا۔ ابھی میں دوستوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنے جا رہا ہوں۔
میں بھول گیا کہ میں نے امی کا لیپ ٹاپ ٹھیک کرنا تھا۔ تین دن بعد امی نے مجھے غصے سے کہا کہ اگر تم ٹھیک نہیں کرنا چاہتا تو بتا دو تاکہ میں باہر سے ٹھیک کرولیتی ہوں۔ میں نے امی کو سوری بولا اور لیپ ٹاپ لے کر اپنے کمرے آگیا۔ لیپ ٹاپ وائرس کی وجہ سے بوٹ نہیں ہو ریا تھا جسے میں کچھ دیر میں ہی ٹھیک کر لیا۔ لیپ ٹاپ کے اندر میں غیر ارادہً ہی ڈیٹا چیک کر رہا تھا کہ مجھے مائی ڈاکومنٹ میں ڈیوڈ کی ایک فوٹو پڑی ہوئی نظر آئی۔ مجھے فوٹو دیکھ کر حیرت ہوئی۔ میں امی کے لیپ ٹاپ کو اچھی طرح سے چیک کرنا شروع کر دیا۔
مجھے مزید کوئی فوٹو نا مل سکی۔ لیکن مجھے یہ یقین ہو گیا تھا۔ کہ میری امی یا پھر ڈیوڈ ایک دوسرے کے رابطے میں تھے۔ اچانک میرے ذہن میں ایک خیال آیا کہ کیوں نا امی کی میل کو چیک کیا جائے۔ میں نے برائوزر میں ای میل کے لیے ویب سائیٹ کھولی تھی امی کا ای میل آٹو سائن ان ہوگیا۔ میری امی کا لیپ ٹاپ شاید جب بند ہوا تھا تب شاید ان کا ای میل سائن ان تھا۔ میں نے انکی میلز کو چیک کرنا شروع کر دیا۔ میں میلز کی فہرست کو دیکھا تو میرا دل زور زور سے ڈھڑکنا شروع ہو گیا۔ کیونکہ سات دن پہلے کی تاریخ کی ڈیوڈ کی طرف سے میل آئی ہوئی تھی اور امی نے اس میل کو پڑا ہوا تھا۔ میں نے تیز ڈھڑکتے دل کے ساتھ اس میل کو کھولا۔ میل کا مضمون کچھ اسطرح تھا۔۔۔۔۔ میری دیسی سیکس کوئین۔ کسی ہو؟ جو ویسٹرن ڈریسز تم کو بھیجں انہں پہن کر لائیو آئو۔ مس یو سو مچھ۔ تیرے سیکسی ننگے جسم کو بھی دیکھنا کا دل کر رہا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔
میرے آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں کیا کروں۔ ڈیوڈ میری امی کے ساتھ انتا فری کیسے ہو سکتے ہیں۔ یقیناً کچھ گڑبڑ ہے۔ لہذا میں نے امی کے ان بکس کو مزید کھنگالنا شروع کیا۔ اس کے بعد ان باکس جو جو کچھ مواد نکلا اس سے یہ کنفرم ہو گیا کہ ڈیوڈ اور میری امی کے درمیان شادی والے گھر سے ہی جسمانی تعلق قائم ہو چکا تھا اور مجھے اس کی خبر ہی نا ہوئی۔ میری امی ایک وفادار ، تمیز دار اور رکھ رکھائو رکھنے والی اچھی گھریلو بیوی تھی۔ پھر ایسا کیا ہوا کہ اس یہ انتہائی قدم آٹھا لیا اور ایک غیر مرد کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کر لیا۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہاتھا۔ دل کر رہا تھا کہ ڈیوڈ اور اپنی امی کو قتل کر دوں ۔ میں غصے سے کانپ رہا تھا۔
میں لیپ ٹاپ گھر رکھ کر باہر نکل آیا اور ادھر ادھر شام تک گھومتا رہا۔ میرا غصہ تھوڑا کم ہو چکا تھا۔ لیکن ختم نہیں ہوا تھا۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ یہ سب کب اور کیسے شروع ہوا؟ اس میں میری امی کا کتنا قصور تھا؟
میں خود کو ٹھوڑا حوصلہ دیا اور رات گھر واپس آ کر اپنے کمرے میں گھس گیا۔ میں اپنی امی کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ خود کو تھوڑا ریلکس کرنے کے بعد میں نے دوبارہ سے ترتیپ کے ساتھ ڈیوڈ اور امی کی ای میل میں ہونے والی تمام خطوکتابت کو تفصیل سے پڑھا تو مجھے مندرجہ ذیل تفصیل کا پتہ چلا۔
ڈیوڈ کو انڈین اور پاکستانی میچور خواتین بہت زیادہ اٹریکٹ کرتی تھیں۔ پاکستانی خواتین کے لالچ میں ہی وہ اپنے کلاس فیلو کی شادی میں شرکت کے لیے پاکستان آیا تھا۔ لیکن جب وہ شادی والے گھر پہچا تو بہت مایوس ہوا کیونکہ یہاں نوجوان لڑکیاں زیادہ تھیں اور میچور خواتین موٹی اور فربہ قسم کی تھیں۔ لیکن ایک دن بعد جب اس نے میری امی کو دیکھا تو وہ بہت خوش ہوا۔ کیوںکہ جس قسم کی میچور پاکستانی عورت اسے پسند تھی وہ تمام خصوصیات میری امی میں اسے نظر آگئی تھیں۔ ڈیوڈ نے میری امی کو قابو کرنے کے لیے اس سے میل جول شروع کر دیا ۔ لیکن ساتھ ساتھ وہ ڈر بھی رہا تھا کہ کہیں کوئی گڑبڑ نا ہو جائے۔ کیونکہ اس نے سن رکھا تھا کہ پاکستانی مرد اپنی عورتوں کے معاملے میں بہت زیادہ حساس اور غیرت مند ہوتے ہیں۔  بحرحال ڈیوڈ نے بہت طریقے سے میری امی کو اپنی باتوں سے متاثر کر لیا۔ مہندی والے دن ڈیوڈ نے میری امی پر کھلم کھلا اپنے جھوٹے پیار کا باربار اظہار کرنا شروع کردیا۔ ردعمل کے طور پر میری امی اسے بار بار سمجھاتی رہی کہ وہ شادی شدہ عورت ہے جسکی ایک مکمل فیملی ہے شوہر ہے۔ لیکن ڈیوڈ ۔بازد رہا۔ جب سب گھر والے مہندی کی رات گانے کے مقابلے میں مصروف تھے رات کافی زیادہ ہو چکی تھی۔ میری امی جلدی سونے کی عادی تھی۔ امی ۔خاموشی اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف سونے کے لیے چلی گئی۔ تب ڈیوڈ نے موقع دیکھتے ہوئے ۔ امی کےپیچے انکے کمرے میں گھس گیا
مہندی والی رات میری امی بہت پیاری لگ رہی تھی اس لیے ڈیوڈ کا دل بہت زیادہ مچل رہا تھا اور وہ چاہتا تھا کہ آج اس پاکستانی حسنیہ کو ہر حال میں چھو کر رہے گا۔ میری امی کمرے میں آتے ہی سیدھی واش روم میں چلی گئی تا کہ وہ اپنے کپڑے بدل سکے۔ لیکن جیسے ہی وہ واش روم داخل ہوئی پیچے سے ڈیوڈنے واش روم کا دروازہ بند کر لیا اور میری امی کو اپنی باہنوں میں لے لیا۔ میری امی کے ہوش ہی اڑ گیے۔ ڈیوڈ نے موقع ضائع کیا بغیر فوراً ہی اپنے ہونٹ امی کے ہونٹ پر رکھ دیے اور کسنگ شروع کر دی۔ میری امی مسلسل مزاحمت کر رہی تھی اور خود کو ڈیوڈ کی گرفت سے آزاد کروانے کے لیے اپنے ہاتھ پائوں زور زور سے چلا رہی تھی۔ لیکن کوئی فائدہ نہیں تھا۔ ڈیوڈ ایک دراز قد اور چوڑے سینے والا خوبرو نوجوان تھا اور اسکے مقابلے میں میری امی ایک چھوٹی سی گڑیا لگ رہی تھی۔ چونکہ میری امی جسمانی اور جسنی پیاسی تھی لہذا وہ زیادہ دیر ڈیوڈ کے آگے مزاحمت نا کر پائی اور اس نے اپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑ دیا۔ ڈیوڈ امی کے ہونٹوں کو اور اسکی زبان کو چوس رہا تھا۔ اورامی کو کو بھی اب سرور آنا شروع ہو گیا تھا۔ ڈیوڈ نے جب پندرہ منٹ کی زبردست کسنگ کے بعد میری امی کو آزاد کیا تو وہ پوری طرح گھوم چکی تھی۔ اس سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ مزا اور غصہ دونوں ایک ساتھ اس کے دماغ پر قابض تھے۔ اسے اپنے بچے اور شوہر اور اپنی بے وفائی کا سوچ کر رونا آرہا تھا۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہی تھی کہ ڈیوڈ نے امی کو اپنے بازوئوں میں آٹھایا اور بیڈ پر لا کر لیٹا دیا۔ ڈیوڈ نے کمرے کے دروازے کو اندر سے لاک کر دیا۔ اتنے میں امی فورا ً بیڈ سے اٹھی اور ڈیوڈ کو کہا کہ خبردار جو تم میری طرف آئے۔ پلیز میری زندگی طبہ ہو جائی گی اگر کسی نے ہم دونوں کو دیکھ لیا۔
ڈیوڈ نے امی کو تسلی دی کہ کچھ نہیں ہوگا۔ باہر سب لوگ شادی کے ہنگامے میں مگن ہیں۔ میں تم سے بہت زیادہ پیار کرتا ہوں پلیز مجھے یہ لمحے جی لینے دو۔ ڈیوڈ نے محبت بھری باتیں کر کے امی کے دل میں خود کے لیے نرمی پیدا کر لی۔ لیکن امی بہت زیادہ ڈری ہوئی تھی۔ اس کی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔ ڈیوڈ نے بیڈ کی طرف آتے ہوئے فورا ً اپنے کپڑے اتار دیے۔ امی نے اپنا منہ دوسری طرف کر لیا اور ڈیوڈ سے کہا کہ پلیز اپنے کپڑے پہن لے اور کمرے سے باہر چلا جائے۔ لیکن ڈیوڈ امی کے شربتی ہونٹوں کے رس کو پی کر مدہوش ہو چکا تھا۔ اب اسکے لیے واپسی ناممکن تھی۔
ڈیوڈ نے امی زبردستی اٹھا کر بیڈ پر پٹھکا اور انکے کپڑے اتارنے شروع کر دیے۔ امی نے ایک دفعہ پھر مزاحمت شروع کر دی ۔ لیکن جیسے ڈیوڈ نے امی کو مکمل ننگا کر لیا تو ڈیوڈ امی پر جھک گیا اور انہیں پاگلوں کی طرح کس کرنا شروع کردیا۔ کسنگ کی وجہ سے امی نے پھر خود جسمانی اور جنسی لذت کی وجہ سے ڈھیلا چھوڑ دیا۔ ڈیوڈ نے کسنگ کے بعد امی کے دونوں مموں کو ایک ایک کر اپنے منہ میں لیکر چوسنا شروع کر دیا۔ امی کے منہ سے اب سسکیاں نکل رہی تھیں۔ ڈیوڈ نے امی کو سر سے پائوں تک خوب چومااور چوسا۔ ڈیوڈ کا لنڈ راکٹ کی طرح سیدھا کھڑا ہو چکا تھا۔ ڈیوڈ نے امی کی دونوں ٹانگوں کو کھولا اور اپنے راکٹ کو سیدھا امی کی پھدی کے اندر ایک جھٹکے سے پورا داخل کر دیا۔ امی جس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔ بڑے لنڈ کے اندر جاتے ہی ان کے ہوش ٹھکانے آگئے۔ امی کنوری لڑکی طرح سسکنے لگی۔ ڈیوڈ ایک ردھم کے ساتھ جھٹکے مار کر میری امی کو چود رہا تھا۔ امی کو بھی مزا انا شروع ہو گیا تھا۔ امی سب کچھ بھول کر ڈیوڈ کی چدائی کا مزا لے رہی تھی۔ اور مکمل بھول چکی تھی کہ وہ اس وقت کہاں ہے اور کیا کر رہی ہے۔
باہر سب لوگ برابر گانے کے مقابلے میں شورشرابہ کر رہے تھے۔ اور کسی کو بھی نہیں پتہ تھا کہ اسی گھر میں ایک کمرے میں ایک انگریز ایک شادی شدہ عورت کے ساتھ سہاگ رات منا رہا تھا۔
مہندی کا فنکشن رات چار بچے کے قریب ختم ہوا۔ تب تک ڈیوڈ میری امی کو تین بار تسلی کے ساتھ چود چکا تھا اور میری امی کو اپنی چودائی کے لیے قائل کر چکا تھا۔ ۔
مزید بعد میںَ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری اور مامی کے درمیاں ہوے والے خفیہ سیکس کی کہانیان

YUM Stories

امی کا خفیہ افیئر
« on: August 27, 2017, 03:34:05 am »

Offline getmami

  • مامی کو چودا
  • 1 stars
  • *
  • Posts: 11
  • Reputation: +1/-1
  • Gender: Male
  • Mami ka Diwana
    • View Profile
Re: امی کا خفیہ افیئر
« Reply #1 on: August 30, 2017, 12:40:43 am »
مہندی کی رات خوب چودائی کے بعد جب امی سو کر اٹھی تو اس کے احساسات باالکل ویسے تھے جیسے آج سے پچیس برس قبل سہاگ رات کے بعد پہلی صبح کوانہوں نے محسوس کیا تھا۔ امی کو ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے کل والی رات سے پہلے وہ کنواری تھی اور رات کی چودائی کے بعد انکاکنوارپن اسکے دلہے نے پیلی دفعہ ختم کیا ہو۔ امی کےچہرہ پر ئنی نویلی دلہن والے تاثرات تھے۔۔
کمرے کے باہر مکمل خاموشی تھی۔ امی نے باہر جا کر دیکھا تو سب لوگ ابھی تک سو رہے تھے۔ ویسے بھی مہندی اور بارات کے دن میں ایک دن کا وقفہ رکھا گیا تھا۔ تاکہ مہندی کے فنکشن کو رات گئے تک زیادہ انجوائے کیا جا سکے۔ لہذا سب گھر والے اطمینان سے سو رہے تھے۔ امی نے باتھ روم کا رخ کیا۔ تا کہ رات والی نشانیاں صاف کی جا سکیں۔ انہوں نے اپنے کپڑے اتارنے کے بعد جسم کا جائزہ لیا تو انہیں اپنے پیٹ، ٹانگوں اور مختلف حصوں پر ڈیوڈ کےسوکھے ہوئے مادہ منویہ کےنشانات نظر آئے۔ سفید دھبوں کو دیکھتے ہی ایک لطیف سا احساس اور خیال امی کے ذہن میں آگیا۔ امی کی آنکھوں کے سامنے رات والی چودائی کی ساری فلم چل پڑی۔ اسی دوران ان کے مموں کے نپل اکڑ گئے۔ اور چوت میں ہلکاہلکا سا گیلاپن محسوس ہونے لگا۔
کل رات تھوڑی دیر کے لیے امی کے ذہن میں گناہ اور شوہر سے بے وفائی کا خیال آیا تھا۔ لیکن ڈیوڈ نےچودائی والا ایسا جادو کیا کہ دوبار وہ خیال نا آیا۔  حالانکہ امی ہر حوالے سے ایک کامیاب اور اچھی زندگی گزار رہی تھی۔ میاں بھی بہت خیال رکھنے والا تھا۔ پیارے اور سلجھے ہوئے بچے بھی تھے۔ لیکن امی نے کل رات والی چودائی کے بعد ایسا محسوس کیا کہ جیسےان کی زندگی میں کوئی کمی سی تھی۔ جیسے  وہ صدیوں سے شہوانی وجنسی تسکین کے لیے تڑپ رہی تھی اور بہت پیاسی تھی۔ امی اب ڈیوڈ کی مکمل غلام بن چکی تھی۔
نہانے کے بعد امی نے ایک دفعہ پھر باہر کا رخ کیا ۔ صبح کے دس بج چکے تھے۔اور شاید سب مہمانوں اور میزبانوں کا دوپہر میں اٹھنے کا ارادہ تھا۔ امی کا دل چاہ رہا تھا کہ ڈیوڈ اٹھ جائے۔ تمام گورے مہمانوں کے لیے سونے کا انتظام پیلی منزل پر کیا گیاتھا۔ امی باربار صحن کے چکر لگا رہی تھی اور باربار اوپر پہلی منزل کی طرف نگاہ اٹھا کر  دیکھ رہی تھی۔ امی ڈیوڈکی قربت کے لیے مکمل پاگل ہو چکی تھی۔ جیسے پچھلی رات سے پہلے ڈیوڈ امی کے اردگرددم ہلاتا پھر رہا تھا ویسا ہی حال اب امی کا ہوگیا تھا۔ امی نے اپنی سہیلیوں سے سن رکھا تھا کہ کچھ مرد ایک ہی رات میں اپنی بیوی یا عورت کو اپنا غلام بنا لیتے ہیں۔ پر امی کو ان باتوں پر یقین نہیں آتا تھا۔ امی کا خیال تھا کہ عورت مرد کی توجہ اور اسکی طرف سے دی گئی محبت کی وجہ سے اسکی گرویدہ ہوتی ہے۔ لیکن ڈیوڈ نے تو امی کو اپنی شاندار چودائی کا گرویدہ بنا لیا۔ اسکا ثبوت یہ تھا کہ ایک مکمل گھریلوشریف عورت دوبارہ چدائی کے لیے ایک غیر مرد کا نتظار کر رہی تھی۔
امی کو ڈیوڈ کے کمرے کا پتہ تھا۔ وہ اپنے دوست کے ساتھ کمرہ شئیر کررہا تھا۔ امی نے ہمت اکٹھی کی اورڈیوڈ کی کمرے کی طرف چل پڑی۔ لیکن جیسے ہی سیڑیاں چڑ کر اوپر پہنچی تو امی کی مشرقی جھجک اور شرم واپس لوٹ آئی۔ امی جنسی لذت اور مشرقی شرم کے درمیان کچھ دیر کے لیے کنفیوز کھڑی سوچتی رہی ۔ لیکن اسے کچھ سوجھائی نہیں دے پا رہا تھا۔ آخر کار شہووانی جزبات ہربات پر غالب آگئے۔ امی نے تیز ڈھڑکتے دل کے ساتھ ڈیوڈ کے کمرے کی طرف بڑھتی رہی ۔ دروازے پر پہنچ کر امی نے لمبا سانس لیا۔ ایک دوبار ادھرادھر دیکھا اور تسلی کی کہ کوئی جاگ تو نہیں رہا۔ امی نےدروازے کو اندر کی طرف آہستہ سا دھکیلا۔ پر دروازہ اندر سے بند تھا۔ امی دروازے پر دستک دینا چاہتی تھی پر کوئی آواز سن کر اٹھ نا جائے لہذا چاہنے کے باوجود وہ ایسا نہ کر سکیں۔
مجبوراً امی کو واپس اپنے کمرے میں لوٹنا پڑا۔ امی بہت زیادہ بے چین تھی۔ انہیں کچھ سمجھ نا آرہا تھا۔ کہ ڈیوڈ کو کیسے اٹھائے۔ کوئی آدھے گھنٹے بعد آخرکار قدرت نے امی کی سن لی ۔ امی جیسے ہی اپنے کمرے سے باہر نکلی تو سامنے ہی جمائی لیتا ڈیوڈ کھڑا تھا۔ جیسے ہی امی کی آنکھیں ڈیوڈ کے سار چار ہوئیں۔ وہ شرم اور گھبراہٹ سے ادھر ادھر دیکھنا شروع کردیا۔ امی کا دل زور زور سے دھڑکا رہا تھا۔ اور وہ بول نہیں پا رہی تھیں۔ ڈیوڈ امی کی مشرقی شرم اور معصوم گھبراہٹ سے محظوظ ہو رہا تھا۔ ڈیوڈ نے اپنے چارو طرف گھوم کر دیکھا کہ کوئی جاگ تو نہیں رہا پھر امی کا ہاتھ پکڑا اور اسے کھینچتے ہوئے کچن میں لے گیا۔
کچن کی الماری اوردروازہ جالی دار تھے اور دونوں صحن کی طرف کھلتے تھے۔ دن کی روشنی جالی کے پار اندر کچھ نظر نہیں آتا تھا جبکہ اندر سے باہر کی روشنی صاف دیکھائی دیتا تھا۔ کچن میں آتے ہی ڈیوڈ نے امی کو اپنی باہنوں میں بھر لیا اور زبردست کسنگ شروع کردی۔ امی کی پیٹھ دروازے اور الماری کی طرف تھی جبکہ ڈیوڈ کو دروازے اور الماری کے باہر صاف دیکھائی دے رہا تھا۔ وہ امی کو کسنگ بھی کر رہا تھااور ساتھ میں باہر صحن میں نظر بھی رکھے ہوئے تھا۔ امی کی دل کی مراد پوری ہو چکی تھی۔ اور وہ کسنگ کا بھرپور ردعمل دے رہی تھی۔ کل رات سے پہلے امی نے کبھی بھی کسنگ کا مزہ نہیں چکھا تھا۔ ابو نے کبھی بھی امی کو کس نہیں کیا تھا۔ البتہ گالوں اور باقی جسم پر بوس و کنار زور کرتے تھے۔ ڈیوڈ پچھلے پندرہ منٹ سے کبھی امی کے نچلے ہونٹ کو اپنے منہ میں لے کر چوستا تو کبھی اوپر والے ہونٹ کو۔ کبھی اپنی پوری زبان امی کے منہ کے اندر ڈالتا۔ ردعمل کے طور پر امی ڈیوڈ کی زبان کو لولی پوپ کی طرح چوستی۔ کبھی امی اپنی زبان کو ڈیوڈ کے منہ میں داخل کر دیتی۔ امی ڈیوڈ کے ہر عمل کو بہت جلدی سیکھ رہی تھی۔
ڈیوڈ کے ناصرف ہونٹ اور زبان امی کی اچھی طرح چیک کررہے تھے بلکہ اسکے دونوں ہاتھ امی کے جسمانی خدوخال کی پیمائش کر رہے تھے۔ کبھی ڈیوڈ امی کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا کبھی امی کی گانڈ کو دباتا تو کبھی ایک ایک کر امی کے ممے قیمض کے اوپر سے ہی دباتا اور مسلتا۔ جب جب ڈیوڈ گانڈ اور مموں کو اپنا نشانہ بناتا۔ امی کے منہ سے سسکاری نکتی۔
کم از کم آدھے گھنٹے کی شاندار کسنگ کا اختتام باہر صحن سے آنے والی آواز سے ہوا۔ باہر کوئی جاگ گیا تھا۔آواز سن کا امی کا رنگ فق ہو گیا۔ وہ اسے ڈر رہی تھیں کہ جیسے کسی نے انہیں رنگے ہاتھوں چدواتے ہوئے پکڑ لیا ہو۔  امی نے ڈیوڈ سے الگ ہو کر فوراً ناشتہ بناباا شروع کر دیا تا کہ کسی کو شک نہ ہوسکے۔ ڈیوڈ کچن میں رکھی ہوئی ایک کرسی پر خاموشی سے بیٹھ گیا۔ 15 منٹ خاموشی سےٹوسٹوں کا ناشتہ تیارکرنےبعد ڈیوڈ اور امی نے غورسے باہر دیکھا کوئی ہے یا نہیں۔ باہر کوئی بھی نہیں تھا۔ جوبھی اٹھا تھا وہ سب کو سوئے ہوئے دیکھ کر دوبارہ پھر اپنے کمرے میں جا کر سو گیا۔ امی کا دیحان باہر صحن کی طرف تھا کہ اچانک پیچھے سے ڈیوڈ نے امی کو اٹھا کر اپنی گود میں بھٹا لیا۔ امی کے منہ سے چیخ نکلتے کلتے ہی رہ گئی۔
ڈیوڈ نے امی سے کہا کہ وہ اپنے ہونٹوں سے اسے ٹوسٹ کھلائے۔ امی کا ابھی بھی دیھان باہر کی طرف تھااور وہ مسلسل ڈر رہی تھیں کہ کوئی آنہ جائے۔ ڈیوڈ نے ٹوسٹ اٹھایا اور امی کو کھانے کے لیے کہا۔ امی نے ایک لقمہ لیا اور ٹوسٹ کھانا شروع کر دیا۔ ڈیوڈ نے اچانک اپنے ہونٹوکو امی کے ہونٹوپر رکھ دیا اور اپنی زبان کو امی کے منہ میں ڈال دیا۔ اور ٹوسٹ کے لقمے کو زبان کے ذریعے اپنے منہ میں کھینچ لایا۔ امی کو ڈیوڈ کا یہ رومنیٹک طریقہ  بہت پسند آیا۔ دونوں نے چار عدد ٹوسٹ اسی طرح کسنگ کرتے ہوئے ایک دوسرے کو کھلائے۔
ڈیوڈ نے امی کی قیمض کو نیچے سے اوپر اٹھایااور بلیک برا مین سے دونوں ممے باہر نکال لیے۔ میز پر پڑی ہوئی مکس فروٹ کے جیم کے جار کو اٹھایا اور اس میں سے اپنی انگلی سے جیم باہر نکال کر اسے امی کے دونوں مموں بشمول نپل پر پیسٹ کر دیا۔ امی کی سمجھ نہیں آیا کہ ڈیوڈ کیا کر رہا ہے۔ لیکن جیسے ہی ڈیوڈ دیوانا وار امی کے دونوں نپلوں اور مموں کو چوسنا شروع کیا تو امی سروراور جنسی لذت کی انہتا کو پہنچ گئی۔ ایسا سیکس امی نے نا کسی سے سنا تھا اور نا ہی دیکھا تھا۔ ڈیوڈ کے طریقے امی کو اسکا مزید گرویدہ بنا رہے تھے۔ ٹوسٹ اور میٹھے مموں اور نپلز کا ناشتے کرنے کے بعد ڈیوڈ نے ابھی امی کی شلوار پر اپنا ہاتھ رکھا ہی تھا کہ گیٹ کی بل زور سے بج اٹھی۔ وہ دونوں گھبرا کر اٹھے۔ امی نے فورا ً اپنے کپڑے درست کیے اور ڈیوڈ کو دوبارہ ملنے کا کہہ کر باہر نکل گئی۔ ڈیوڈ بھی اوپر اپنے کمرے کی طرف لپکا۔
(مزید جاری ہے۔۔۔۔۔۔)
 
میری اور مامی کے درمیاں ہوے والے خفیہ سیکس کی کہانیان

YUM Stories

Re: امی کا خفیہ افیئر
« Reply #1 on: August 30, 2017, 12:40:43 am »

Offline shamshadalam

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 2706
  • Reputation: +12/-3
    • View Profile
Re: امی کا خفیہ افیئر
« Reply #2 on: August 30, 2017, 01:41:49 am »
bhout hot or aala story shuru ki ha bhai
maza agya..very hot...
esi hot story bhout kum post hoti ha
zabardast..plz juldi next update kur do
waitingg
 :clap: :clap: :clap: :punk: :punk: :punk: :punk:

Offline kiyani420

  • 3 Stars
  • ***
  • Posts: 230
  • Reputation: +1/-2
  • Gender: Male
    • View Profile
Re: امی کا خفیہ افیئر
« Reply #3 on: August 30, 2017, 03:36:30 pm »
very hotttttttttttt
very nyceeeeeeeeeee
    :rockon: :rockon: :rockon: :rockon: :rockon: :rockon: :rockon:
MERA PEGHAM MOHABAT JAHAN TAK POHNCHAY

Offline shamshadalam

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 2706
  • Reputation: +12/-3
    • View Profile
Re: امی کا خفیہ افیئر
« Reply #4 on: August 31, 2017, 12:49:43 am »
david ka ami ke peechy pur jana
hero ko david pur ghussa ana
aik dafa  ke bad ami ki david ke liye be qarari

phirr hot kissing..
yeh sub bhout exciting or zabardust tha
maza aya..
agle update ka bhout be sabri sa intezar ha
]pls juldiiiiiiii

Offline shamshadalam

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 2706
  • Reputation: +12/-3
    • View Profile
Re: امی کا خفیہ افیئر
« Reply #5 on: August 31, 2017, 05:22:52 pm »
next update ka be chaina sa intezar ha
plz juldi update karen bhai

Offline shamshadalam

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 2706
  • Reputation: +12/-3
    • View Profile
Re: امی کا خفیہ افیئر
« Reply #6 on: September 01, 2017, 03:58:27 pm »
update...plz update


 :hang:

Offline Naseeba

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 62
  • Reputation: +1/-0
    • View Profile
Re: امی کا خفیہ افیئر
« Reply #7 on: September 02, 2017, 05:42:26 pm »
Update.?????

 

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.