Author Topic: امی کا خفیہ افیئر  (Read 206989 times)

Offline shamshadalam

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 2726
  • Reputation: +12/-3
    • View Profile
Re: امی کا خفیہ افیئر
« Reply #16 on: September 07, 2017, 02:29:06 pm »



You are going awesome dear keep it up.
please update
please update


YUM Stories

Re: امی کا خفیہ افیئر
« Reply #16 on: September 07, 2017, 02:29:06 pm »

Offline comage4000

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 34
  • Reputation: +0/-1
  • Gender: Male
    • View Profile
Re: امی کا خفیہ افیئر
« Reply #17 on: September 08, 2017, 12:50:58 am »
secure sex k liye aunty rabta kary. PM me. aysi aunty jo kabhi sex say satisfy na hoi ho gareenty say 3 ghanty sex normal or enjoy hi enjoy.

Offline shamshadalam

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 2726
  • Reputation: +12/-3
    • View Profile
Re: امی کا خفیہ افیئر
« Reply #18 on: September 09, 2017, 06:06:51 pm »
zalima update kur day...

Offline getmami

  • مامی کو چودا
  • 1 stars
  • *
  • Posts: 11
  • Reputation: +1/-1
  • Gender: Male
  • Mami ka Diwana
    • View Profile
Re: امی کا خفیہ افیئر
« Reply #19 on: September 10, 2017, 02:09:29 am »
کچن میں ڈیوڈ کے ساتھ مست رومانس کرنے کے بعد شام تک دونوں کو دوبارہ اکیلے ملنے کا موقع نا مل سکا۔ امی کا ذہن شہوانی خیالات اور سرور میں مدہوش ہو چکا تھا اور وہ ڈیوڈ کی قربت کے لیے ایسی دیوانی ہو چکی تھی کہ اس نے آج رات ہرحال میں ڈیوڈ سے چودائی کروانے کا مکمل فیصلہ کر لیا تھا۔ امی کوشاید اپنی شادی کے اوائل دنوں میں بھی چدائی کا اتنا مزا اور لطف نہیں آیا تھا جتنا وہ اب محسوس کر رہی تھی۔ اس نے کہیں سے سن رکھا تھا کہ لڑکی کی چھڑتی جوانی اور عورت کی جاتی جوانی میں عورت کی حالت سیکس کے معاملے میں ایک جیسی ہوتی ہے یعنی دونوں حالتوں میں عورت بہت گرم ہوتی ہے اور ہر قسم کی چدائی کے لیے تیاررہتی ہے جب جب اسے موقع ملتا ہے۔ پہلے پہل تو امی اسی باتوں پر یقین نہیں رکھتی تھی لیکن اب جب کہ اسکی خود کی حالت ایسی ہو چکی تھی اور وہ ایک غیر مذہب، غیر قوم اور ایک غیر مرد سے بھی چدائی کے لیے تیار ہو گئی تھی ۔ اب بات اسکی سمجھ میں آگئی تھی۔
امی کی ایک دو قریبی سہلیوں جن کے میاں یا تو بیگمات کو اب وقت نہیں دیتے تھے یا جنسی جذبات یا طاقت کھو چکے تھے وہ چوری چھپے غیرمردوں سے وقتا فوقتا چدواتی رہتی تھیں۔ ان کے زیادہ تر شکار جوان کالج کے لڑکے تھے۔ امی اکثر انہیں سمجھاتی رہتی تھی کہ یہ سب بہت غلط ہے اور اگر کسی دن ان کے شوہروں یا گھر والوں کو تھوڑی سا بھی شک ہوگیا تو ان کی زندگیاں تباہ ہو جائیں گی۔ لیکن اب وہی سمجھدار اور نیک پاک عورت ایک انگریز لڑکے سے نا صرف اچھی طرح سے اپنی چودائی کروا چکی تھی بلکہ ابھی مزید چودائی کے لیے ترس رہی تھی۔
گھر دوپہر کے بعد سب لوگ جاگ چکے تھے اور گھر میں ہر طرف رش تھا ۔ مغرب کے بعد کچھ دیر کے لیے امی اور ڈیوڈ کو کچھ وقت اکیلے میسر ہوا تو دونوں نے تسلی بخش چودائی کے لیے رات گھر میں کہیں اکیلے میں ملنے کا پروگرام بنایا۔ دونوں کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کہاں ملا جائے۔ ڈیوڈ نے امی سے کہا کہ وہ پورے گھر کا جائزہ لے ۔ اور کوئی محفوظ جگہ تلاش کرے۔ امی نے تقریبا گھرکا ہر کونا کونا دیکھ ڈالا لیکن کوئی محفوظ جگہ نا مل سکی۔ امی جب صحن سے اپنے کمرے کی طرف جانے لگی تو ڈیوڈ نے گزرتے گزرتے امی سے جلدی میں کہا کہ وہ رات ٹھیک بارے بجے مکمل تسلی کے بعد سب سے اوپر والی چھت پر آجائے۔ امی سوچنے لگی کہ اوپر تو سوائے پانی والی ٹینکی کے کوئی بھی جگہ نہیں چھپنے کےلیے۔ بلکہ مکمل کھلی چھت تھی۔ بحرحال امی نے ڈیوڈ کی بات کو ذہن نشین کر لیا اور رات کی چودائی کے لیے تیاریاں شروع کردی۔ گھر والے سارے یہ سمجھ رہے تھے کہ امی کل کی برات کے لیے تیاریاں کر رہی ہے۔ لیکن کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ امی اس شادی والے گھر اپنی دوسری سہاگ رات منانے کے لیے تیاری کر رہی ہے۔ برات چونکہ علی صبح نکلنا تھا لہذا گھرمیں زیادہ تر مہمان  دس بجے کے قریب اپنے اپنے بستروں میں چلے گئے۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ امی انہے سونے کے لیے کہہ رہی تھی لیکن کوئی بھی سونے کو تیار نہیں تھا۔ سب لڑکے اور لڑکیاں صحن میں بیٹھے انتاکشری کھیل رہے تھے۔ گھڑی نے جب بارہ بجائے تو امی کی تڑپ میں اضافہ ہو چکا گیا۔ امی فورا ڈیوڈ کے پاس چھت پر پہچنا چاہتی تھی لیکن بچے ابھی بھی گانے والی گیم مصروف تھے۔ امی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ ان سب سے آنکھ بچاتے ہوئے تیسری منزل کی چھت پر چڑھ آئی۔ ڈیوڈ پہلے ہی وہاں موجود تھا۔ امی کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ امی نے ڈیوڈ سے کہا کہ ابھی بھی گھر کے کافی افراد جاگ رہے ہیں اور کوئی بھی چھت پر کسی بھی وقت آسکتا ہے۔
ڈیوڈ نے امی سے کہا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں مجھے ایک بہترین اور محفوظ جگہ مل گئی ہے۔ امی فورا پوچھا کہ کونسی جگہ۔ ڈیوڈ نے سیھڑیوں کی چھت کے اوپر بنی ہوئی بڑی پانی کی ٹینکی طرف اشارہ کیا۔ امی نے حیران ہو کر ڈیوڈ کی طرف دیکھااور کہا تم شاید مذاق کر رہے ہو۔ ڈیوڈ نے کہا کہ قسم سے یہ اس گھر میں سب سے زیادہ محفوظ جگہ ہے۔ امی نے فورا کہا کہ پہلی بات یہ کہ ٹینکی کے اندر کیسے جائیں گے اور دوسری بات یہ کہ ٹینکی کے اندر اچھا خاصا پانی ہے۔ ڈیوڈ بولا: ہمارے ہاں لوگ تالاب میں سیکس کرنا بہت پسند کرتے ہیں اورمیرا یقین کرو تمہیں تالاب والا مزہ اس ٹینکی میں آئے گا۔ میں ٹینکی کا مکمل جائزہ لے چکا ہوں۔ اند جانے کے لیے کافی بڑا ڈھکن ہو جو کہ میں سائیڈ پر کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ ٹینکی کے اندر چار فٹ تک پانی ہے جس میں ہم خوب مستی کر سکتے ہیں۔ ٹینکی چونکہ اس گھر کی تیسری منزل پر ہے اور آس پاس کوئی بھی گھر اتنا اونچا نہیں ہے۔ تیسری منزل پر مکمل اندھیرا ہے لہذا ہم دونوں ایک ایک کر کے ٹینکی میں جائیں گے۔ اندھیرے کی وجہ سے کسی بھی نظر ہم پر نہیں پڑھے گے۔ ویسے پورا محلہ سو چکا ہے اور ہر طرف سناٹا ہی سناٹا ہے ما سوائے اپنے گھر کے ۔
امی نے مسکراتے ہوئے ڈیوڈ کی طرف دیکھا اور پوچھا۔ کہ چلو یہ سب تو میری سمجھ میں آگیا لیکن ٹینکی کے اوپر ہم کیسے چھڑیں گے۔ ڈیوڈنے امی کو دونوں کندھوں سے پکڑ کر دوسری طرف گھمایا اور ہاتھ کے اشارہ دیوار کے ساتھ پڑھی ہوئی چھوٹی سی لکڑی کی بنی ہوئی سیھڑی کی طرف کیا۔ امی ڈیوڈ کی طرف دیکھ کر مسکرا دی۔ امی کی آنکھیں اپنی کچھ لمحوں بعد ہونے والی شاندار چودائی کو ابھی سے دیکھ پا رہی تھیں۔
دونوں ادھر ادھر مکمل تسلی کے بعد ٹینکی کے اوپر چڑھ گئے۔ پہلے امی پھر ڈیوڈ اوپر آیا۔ ڈیوڈ نے سیڑھی کو بھی اوپر کھینچ لیااور ٹینکی کی چھت پر لیٹا دیا۔ امی نے ٹینکی کے چارسو نظر دوڑائی۔ سب گھروں کی چھتوں پر اندھیرا تھا۔ خیر امی نے جیسے ہی ٹینکی کے اندر اپنے پائوں لٹکائے تو ٹھنڈا پانی سے امی کو جھٹکا لگا۔ امی نے ڈیوڈ سے کہا کہ پانی میں گئے تو سارے کپڑے بھیگ جائیں گے۔ ڈیوڈ نے کہاکہ اپنے کپڑے یہیں اتار دو اور ٹینکی کی چھت پر رکھ دو۔ ٹینکی چونکہ کافی اونچی ہے اور نیچے چھت پر کھڑے ہوئے کسی کی نظر نہیں پڑتی کہ ٹینکی کی چھت پر کیا پڑا ہوا ہے۔ امی نے ڈیوڈ کی بات مانتے ہوئے اپنے کپڑے اتارے اور ٹھنڈے پانی میں اتر گئی۔ امی کو تھوڑی سی کپکپی سی ہوئی۔ گو کہ موسم ٹھنڈا نہیں تھا لیکن رات کو ٹینکی کا پانی تھوڑا ٹھنڈا محسوس ہو رہا تھا۔ ٹینکی کافی چوڑی تھی اور چھ فٹ کے قریب اونچی تھی۔ لہذا امی ٹینکی کے اندر پانی میں کھڑی ہوگئی۔ اندر کافی اندھیرا تھا۔ لیکن جیسے ہی ڈیوڈ اندر آیا تو اس کے ایک ہاتھ میں موبائل فون تھا جس کی ٹارچ اون تھی۔ ٹینکی کے اندر مکمل روشنی ہو گئی۔ اب ہر چیز نمایاں نظر آرہی تھی۔ امی کے ممے پانی کی سطح تک تھے یعنی پانی کے ارتعاش کی وجہ سے کبھی ممے پانی میں چلے چاتے تو کبھی پانی کے اوپر نظر آتے۔
ڈیوڈ نے اپنے موبائل کو ایک شاپر میں ڈال کر ٹینکی کے اندر آتے پائپ کے ساتھ باندھ دیا۔ امی یہ سوچ سوچ کر پاگل ہو رہی تھی کہ کیسے وہ ایک شادی والے گھر تیسری منزل پر موجود پانی والی ٹینکی میں الف ننگی ایک غیر مرد کے ساتھ کھڑی تھی۔ اور ابھی کچھ ہی دیر میں ٹینکی کے اندر اسکی شاندار چودائی شروع ہونے والی تھی۔ ۔ امی ابھی اپنے خیال میں گم تھی کہ ڈیوڈ نے امی کو اپنی باہنوں میں لے لیا اور امی کو فرنچ کسنگ شروع کر دی۔ ڈیوڈ کے دونوں ہاتھ پانی کے اندر موجود امی کے جسم کو ٹٹول رہے تھے جبکہ ڈیوڈ بہت سخت قسم کی فرنچ کسنگ امی کو کر رہا تھا۔ ڈیوڈ کچن والی کسنگ سے زیادہ ہارڈ قسم کی کسنگ کر رہا تھا۔ امی کی ہونٹوں کو اپنے دانتوں تلے لے کر کاٹ رہا تھا۔ امی کو تکلیف کے ساتھ ساتھ بہت سرور بھی آرہی تھا۔ اچانک ڈیوڈ نے امی کو تھوڑا اونچا کیا اور دونوں مموں کو چومنے اور چوسنے لگا۔ دونوں نپلوں کو منہ لے کر کاٹنے لگا۔ جیسے جیسے وہ نپل پر کاٹتا امی کے منہ سے زوردار سسکاری نکلتی۔ امی سمجھ چکی تھی کہ آج ان کی چوت کی خیر نہیں۔ امی نے پانی کے اندر اپنے ہاتھ ڈال کر ڈیوڈ کے لنڈ کو پکڑ لیا۔ پانی کے اندر وہ بالکل ایک مچھلی کی طرح لگ رہا تھا۔ تقریبا آدھے گھنٹے کی شدید قسم کی کسنگ اور مموں کی چوما چاٹی کے بعد ڈیوڈ نے امی کوکمرے سے پکڑکر اوپر اٹھایا۔ امی کا جسم پانی میں ہونے کی وجہ سے آرام سے اوپر کی طرف اٹھ گیا۔ ڈیوڈ نے امی کو مزید اوپر کیا کہ امی کا مموں تک جسم کا حصہ ٹینکی کے ڈھکن سے باہر نکل گیا۔ ڈیوڈ نے امی کی دونوں ٹانگوں کو کھول کرانہے اپنے کندھوں پر اس طرح رکھا کہ امی کی چوت ڈیوڈ کے ہونٹوں کے بالکل سامنے آگئی۔ ڈیوڈ نے فورا اپنی منہ کو چو ت میں گھسیڑا اورکسنگ کی طرح شدید قسم کی چوت کی لیکنگ شروع کر دی۔ امی کے منہ سے سسکاریاں نکلیں امی نے فورا اپنے منہ پر دونوں ہاتھ رکھ لیے تا کہ کوئی انکی آواز نا سن لے۔ ٹینکی کے اندر ڈیوڈ امی کی چوت کو چاٹ رہا تھا جبکہ امی کا سر سے لیکر مموں تک کا جسم کا حصہ ٹینکی کے مین ڈھیکن سے باہر نکلا ہوا تھا۔ تقریبا رات کا ایک بجنا والا تھا۔ نیچے سے ابھی بچوں کے گانے کی آوازیں آرہی تھیں۔ امی جنسی سرور میں مدہوش ہو کر محلہ میں موجود چھتوں کو دیکھ رہی تھی کہ کہیں کوئی اسے دیکھ تو نہیں رہا۔ ڈراور جنسی لذت کے حسین امتزاج کی وجہ سے امی ڈیوڈ کے منہ میں ہی ڈسچارج ہوگئی۔
مزید بعد میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
میری اور مامی کے درمیاں ہوے والے خفیہ سیکس کی کہانیان

Offline Zafarkandhari

  • T. Members
  • 3 Stars
  • ***
  • Posts: 399
  • Reputation: +8/-2
    • View Profile
Re: امی کا خفیہ افیئر
« Reply #20 on: September 10, 2017, 09:55:37 am »
Buses yaar sirf itnaa hii

Zbardast Jani......

Offline shamshadalam

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 2726
  • Reputation: +12/-3
    • View Profile
Re: امی کا خفیہ افیئر
« Reply #21 on: September 10, 2017, 10:21:07 am »
zabardast hot scene lkn update chhota tha
bhout shandar ikhty ho jani..
agar beech ma english urdu mix dilog bhi shamil kuro tou maza or burh jaye ga
kya hot scene likha ha..ufff maza agya
plzzzzzzzzzzzzz update longer or jaldi jaldi
esi hot story bhout kum parhi ha..u r amazing bro
 :rockon: :rockon: :rockon: :rockon: :rockon:

Offline xunnywattoo

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 52
  • Reputation: +1/-0
  • Gender: Male
  • Http://facebook.com
    • View Profile
Re: امی کا خفیہ افیئر
« Reply #22 on: September 11, 2017, 10:24:51 am »
boht umda lekin ek sawaal hai kya apka bhee is kahani mai koi kirdaaar hai ya nahi?
my fb!  http://facebook.com

Offline bleeding bir

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 167
  • Reputation: +2/-1
    • View Profile
Re: امی کا خفیہ افیئر
« Reply #23 on: September 11, 2017, 04:20:21 pm »
Wah maza aa gia update please


 

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.