Author Topic: ---اُس بازار میں  (Read 2311 times)

Offline Nazli

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 103
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
---اُس بازار میں
« on: January 04, 2019, 12:10:55 pm »
طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔
قسط نمبر1
شو رش کاشمیری نے عورت کے ایک روپ طوائف پر تہلکہ خیز کتاب لکھ کر مردوں کے سماج کا چہرہ نوچ لیا تھا۔یہ کتاب تحریر کرنے کے بعد انہوں نے بیس سال تک اسکی اشاعت اس لئے نہ کی کہ ان میں یہ سکت ہی نہیں رہی تھی کہ بنت حوّا کو بازار کی جنس بنائے جانے کی اس داستان کو شائع کرسکتے ۔۔۔شورش کاشمیری اردو صحافت کی دبنگ اور شعلہ بیاں شخصیت تھے ۔ ایوب خان کے دور میں جب آمریت کا راج تھا ،ایک نڈر صحافی کے طور پر انہوں نے مارشل لا کو للکارااور پابند سلاسل بھی رہے،دینی حلقوں میں انکا بے حد احترام تھا،سماج کے ہر پہلو پر انکی گہری نظر تھی ۔جب انہوں نے ’’اس بازار میں‘‘ کو تاریخی تمدنی حوالوں سے لاہورکے موجودہ بازار حسن تک دراز کرکے لکھا تو کہرام مچ گیا تھا کہ فحاشی کے نام پر عورت کو جس نفرت کا سامنا تھا ،اس کتاب کی دلدوز کہانیوں نے ان اسباب کا کچا چٹھہ کھول کر بیان کردیا تھا ۔ داد عیش دینے والوں کے چہرے بے نقاب ہوکر رہ گئے تھے ۔اس کتاب میں انہوں نے عورت کے طوائف بننے،اسکی مجبوریوں اور سماجی و مذہبی رویوں پر کیا کچھ لکھا ہے ،آپ بھی جانئے ۔
..

YUM Stories

---اُس بازار میں
« on: January 04, 2019, 12:10:55 pm »

Offline Nazli

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 103
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #1 on: January 04, 2019, 12:12:03 pm »

رہزنی کا پہلا شکار

عورت میں مجرمیت کی قائم مقام فحاشی ہے۔ ایک پیدائشی فاحشہ اخلاقی پاگل ہے۔ ایک مجرم اور ایک فاحشہ میں یکساں خصوصیتیں ہیں۔ اخلاق کا فقدان ، سنگدلی کا وجود ، بدکاری کا میلان ، تلون مزاجی ، تن آسانی عارضی اور سطحی مسرتوں کا شوق اور خود بینی وخود نمائی کا جذبہ
طوائف کا مستعمل مفہوم بازاری عورت ہے ۔ ہر اس عورت کو جو اپنے جسم یا آواز کا بیوپار کرتی ہے۔ طوائف کہتے ہیں۔ ویسے لغت میں طائفہ کی جمع طوائف ہے اور طائفہ جوق (مندلی )کو کہتے ہیں ۔ چونکہ مصر میں رقاصاؤں کی ٹولی کو جوق کہتے تھے ۔اس لیے طائفہ بھی جوق ہی کے معنی میں مستعمل ہوگیا۔ پھر رفتہ رفتہ طوائف نے جمع سے مفرد کے معنی پیدا کر لئے۔ اور اب اس کا اطلاق ہر اُس عورت پر ہوتا ہے جو پیشہ کماتی ہے۔ ان فاحشات کو ٹھیٹھ اُردو میں بیوایارنڈی بھی کہتے ہیں۔

یہ کہنا محال ہے کہ سب سے پہلی طوائف کون ہوئی ہے اس کا تعلق کس ملک یا قوم سے تھا، اُس کے باپ یا بھائی کون تھے ، اور کس شقی القلب نے پہلے پہل اس کو بیوا بننے پر مجبور کیا۔ بہ ظاہر چند معلومات ہیں جو سینہ بہ سینہ چلی آتی ہیں یا بعض آثار و مظاہرین ہیں جن سے ایک اندازہ استوار ہوتا ہے اور کچھ قیاس ہیں جن پر ایک عمارت کھڑے ہوسکتی ہے ۔ ان سب کے مطالعہ سے یہ ضرورثابت ہوتا ہے کہ دُنیا میں رہزنی کا پہلا شکار عورت کی عصمت ہوتی ہے اور غالباً انفرادی ملکیت کا تصور بھی اسی سے ماخوذ ہے۔ یعنی محنت کے استحصال سے مدتوں پہلے عصمت کا استحصال شروع ہو چکا تھا
جیسے جیسے معاشرہ بدلتا گیا عورت سے تعلقات کی نوعیتیں اور خصوصیتیں بھی بدلتی گئیں۔ ہر زمانہ میں ایک نیا روپ رہا۔ معلوم نہیں دھات اور پتھر کے زمانوں میں عورت اور مرد کے تعلقات کا صحیح نقشہ کیا تھا۔ لیکن سامنتی دور کی ایک خاص مدت تک ہر مرد عورت کو شہوانی غذا سمجھتا رہا اور اس کے حصول کا طریقہ شکمی غذا کے حصول سے مختلف نہ تھا۔ا یک طاقت ور قبیلہ کمزور قبیلہ کی آبادیوں پر چڑھائی کردیتا ۔ سردار گھوڑے پر سوار ہوتا ۔ چند لوگ نقاروں پر چوٹ لگاتے اور باقی نبرد آزما ہوتے ، حملہ آور مفتوح مردوں کو قتل کر دیتے جو عورتیں مردوں کے تخلیہ میں آچکی ہوں اُن کو ہلاک کر ڈالتے ۔ کنواریوں کو لشکرون میں بانٹ دیتے اور اس طرح فاتح بن کر لوٹتے۔
بظاہر عجیب سی بات ہے۔ لیکن ایشیائی اقوام میں برات کا جو طریقہ رائج ہے اس پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ شادی دراصل اس عسکریت ہی کے ثقافتی ارتقا کی ایک معاشری صورت ہے اور وہ زیور دُلہنیں پہنتی ہیں ان عسکری فتحمندیوں ہی کی علامتیں ہیں۔ مثلاً ہتھکڑیوں کا بدل چوڑیاں ہیں یا کڑے، بیڑیوں کی جگہ پاؤں کی جھانجنیں ہیں ، طوق کی جگہ ہنسلی مالا اور کنٹھا ہیں۔ نکیل کی جگہ نتھ اور بالیاں ہیں۔ اس طرح دُلہن کے ماتھے پر جوسونے کا ٹیکا ہوتا ہے اس کی صورت عورت کے اندام پر ہے۔ اب بھی قیدی عورتوں کی جو صدیوں پُرانی تصویریں دیکھنے میں آئی ہیں ، ان سے اس کی توثیق ہوتی ہے۔
یہ دور گیا تو اشتراک فی النسواں کی بنیاد پڑی۔ یعنی ایک عورت کو اُس مرد کی ملکیت قرار دیے دیا گیاجو اس کی دسترس رکھتا تھا، بعض محققین کا خیال ہے کہ فحش کے غیر شعوری مرض کا ابتدائی علاج نظام اُمہانی اور نظام بطریقی کا قیام تھا جو ہزار ہاتاریخی کروٹوں کے بعد مرد اور عورت کے موجودہ رشتوں تک پہنچا ہے۔ چنانچہ عورتوں کے فحش پر بیسوائی کی جو مُہر لگی ہے اُس کے عمر چند ہزار برس سے زیادہ نہیں۔ البتہ اس سوال پر خاصا اختلاف ہے کہ فحاشی عہد و حشت کی یاد گار ہے یا نہیں ؟
بعضوں کا خیال ہے کہ فحش کاری عہد و حشت سے بہت بعد کی چیز ہے ۔ اور بعض کہتے ہیں کہ اس عہد کا انسان اس تصور ہی سے خالی الذہن تھا۔ عورت اور مرد شروع ہی سے ازدواجی زندگی میں رہے صرف ماحولی صورتیں بدلتی رہیں۔ لیکن اس پرسب کا اتفاق ہے کہ شروع شروع میں ازواج کی تین صورتیں تھیں۔ اوّلاً مرد کئی بیویوں کا شوہر ہوتا۔ ثانیاً عورت کے کئی شوہر ہوتے ۔ ثالثاً عورت اور مرد ایک محدود زمانہ کے لیے ایک دوسرے کے لئے مخصوص ہو جاتے تھے۔ چنانچہ عورت کے اس فحش ہی کا نتیجہ دُختر کشی کا رواج تھا۔

ایک اور عجیب بات جو ہمیں نظر آتی ہے وہ انسان کے ابتدائی مذاہب سے فحش کا کٹھ بندھن ہے۔ تمام مذاہب انسان کی دُکھتی ہوئی پیٹھ کو سہارا اور کے لئے آنے تھے لیکن مرور زمانہ سے اُن کی اصلی روح تو ختم کر دی گئی ایک جسم باقی رہ گیا اور وہ ان لوگوں کے ہتھے چڑھ گیا جو فحش کے مختلف محرکات کو بھی منجملہ عبادات سمجھتے رہے ۔یہ تو انسان کے ابتدائی مذاہب کا حال تھا۔ خود عالمی مذاہب متدادِ زمانہ کے باعث اپنے پیروؤں کی نفسی خواہشوں کا شکار ہوگئے اور رفتہ رفتہ انسانی فطرت کی کجروی نے ان میں بھی فحش کے لئے کوئی نہ کوئی گوشہ تلاش کر لیا۔ چنانچہ آج عالمی معاشرہ میں جتنی بھی فاحشات ہیں تمام تر’’ مذہبی ‘‘ ہیں اور ’’مذہبی ‘‘ اس مفہوم میں کہ وہ ’’خدا و آخرت ‘‘ کے تصور پر ہماری ہی طرح یقین رکھتی ہیں۔
یونان کے ایک مشہور سیاح ہیرو ڈوٹنس (500ق م ) نے لیڈیا کے سفرنامہ مین شاہ الیانیس کے مقبرہ کا جو حال لکھا ہے اس میں بتایا ہے کہ اُس کی تیاری میں جو رقم صرف ہوئی اُس کا بڑا حصہ پیشہ ور عورتوں کو دیا ہوا تھا ، اسی مورخ کا کہنا ہے کہ عام لوگوں کی لڑکیاں پیشہ کماتیں اور اپنے جہیز کے لئے روپیہ جمع کرتی تھیں۔ بابل کے لوگ اپنی عورتوں کے افرادیتہ دیوی کے مندر میں مردوں سے اختلاط کے لئے بھیج دیتے تھے۔ ان عورتوں کو چوٹی میں پھول گندھے ہوتے تھے ۔یہ غیر مردوں کی راہ تکتیں۔ جب کوئی عورت کسی مرد کو پسند آجاتی تو وہ اُس کی جھولی میں چاندی کا سکہ پھینک دیتا ۔وہ چارونا چار اُس سکہ کو قبول کر لیتی اور ساتھ ہوجاتی۔ گھر لوٹتی تو اُسے فخر کی چیز سمجھا جاتا تھا۔

(جاری ہے)

YUM Stories

Re: ---اُس بازار میں
« Reply #1 on: January 04, 2019, 12:12:03 pm »

Offline Nazli

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 103
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #2 on: January 04, 2019, 12:41:31 pm »
یونان میں فلور بلیادیوی کا میلہ آٹھ ن کے لیے لگتا تھا۔ اور ان آٹھ دنوں میں زائروں کے لئے رومہ کی لڑکیاں سامانِ عیش مہیا کرتی تھیں۔ افریقہ میں اعضائے جنسی عبادت کا جزو تھے اور لوگ انہیں اپنی اپنی دوکانوں اور مکانوں میں لٹکائے رکھتے تھے ۔ ہندوستان میں اس کی نشاندہی شولنگ سے ہوتی ہے۔ زمانہ قبل ازتاریخ کے تذکروں میں سوڈان اور دوسری آبادیوں کے متعلق اس قسم کی معلومات درج ہیں ، یورپ کے غاروں سے قبل ازتاریخ کے جو آثار ہاتھ آئے ہیں ان کی ہیت سے بھی اعضاءتو لید ظاہر ہوتے ہیں اور یہ سب صورتیں پتہ دیتی ہیں۔ کہ اس تمدّنی ارتقا سے پہلے تمام سماج میں فحش کا رواج تھا اور لوگ جنسی اشغال کو عبادت کا درجہ دیتے تھے۔
یہ تو خیر تاریخ سے پہلے کی باتیں ہیں۔ ولند یزیوں نے جس زمانے میں جاوا فتح کیا جنگل میں ایک توپ چھوڑ گئے۔ عوام نے سمجھا کسی دیوتا کا عضو مخصوص ہے پُوجا شروع ہوگئی۔ بانجھ عورتین زرق برق لباس پہن کر توپ کی زیارت کو جاتیں اس پر گھوڑے کی طرح بیٹھتیں اور اولاد چاہتیں ، پھول اور چاول چڑھائے جاتے آخر عیسائیوں نے حکومت پر زور دے کر اسے اٹھوادیا۔
 سکندر اعظم کے زمانے میں ”مذہبی فحش “ کا خاصا زور رہا۔ جب کوئی عورت اپنی ہمسائی کو طعن دیتی تو کہتی ، تو اس قابل نہ تھی کہ تیرے کمر بند پر ہاتھ ڈالا جاتا اور یہ دیوی کے مندر میں سرفراز نہ ہونے کی طرف اشارہ ہوتا۔ بائیبل میں فحاشی کے متعلق بہت سی روایتیں ہیں ۔جب عبرانی کسی مسئلہ میں حلف اُٹھاتے تو زور دینے کے لئے اپنے عضو پر ہاتھ رکھ کر قسم کھاتے تھے ۔ چنانچہ (TESTA MENT)معاہدہ (TESTIMONY) شہادت اور (TESTICLE) خصیتین کا مادہ ایک ہی ہے ، قدیم مصریوں میں عضو کر اُوپر اٹھا کر قسم کھانے کا رواج تھا۔ اُن کے ہاں اولاد کے لئے جو تعویذ استعمال ہوتے تھے وہ اعضائے جنسی ہی کی صورتیں تھیں ۔
ڈیون پورٹ کا خیال ہے کہ ہندوﺅں کا لنگم ، یونانیوں کا فیلس ، رومیوں کا سپر پاس اور عیسائیوں کی صلیب مردانہ عضو ہی کی مرموز شکلیں ہیں۔ اس زمانہ کے دانشوروں کی جسارتوں کا یہ حال ہے کہ ڈاکٹر لی ایگزینڈر اسٹون نے گرجاﺅں کی تعمیری ہیت پر بحت کرتے ہوئے اسے بھی جنسی اعضاءکی بوقلمونیوں سے مماثلت دی ہے۔
ہمارے نزدیک یہ سب مادیت کی فکر گستاخ کے کرشمے ہیں لیکن یہ بات ضرور معلوم ہوتی ہے کہ ایک زمانہ میں فحش کو انسان مذاہب کی سرپرستی حاصل رہی ہے اور یہ مذہبی فحاشی ہی کے برگ و بار ہیں جو مرور ایّام سے طوائف کے وجود میں منتقل ہوگئے ہیں۔
آج کی قحبہ عورتیں دراصل قدیم الایّام کی ”مذہبی فاحشات “ کا رد عمل ہیں۔ جن عورتوں کی یونان میں ہتائرہ ، روم میں کنواری، بابل میں کاوشتو، ہندوستان میں دیوداسی اور بغداد میں جواری کہا گیا ان ہی عورتوں کی تحریف کا نام طوائف ہے۔ اس بازاری فحش کے محرکات میں سے بعض یہ ہیں
اوّلاً: معاشرے کا اخلاقی ارتقاءجس سے متمدن ملکوں میں ازدواجی زندگی باضابطہ اور مہذب ہوگئی اور اس زندگی کو شہوانی انتشار سے بچانے کے لئے پیشہ وروں کوایک ادارہ بنادیا گیا۔
اوّلاً: معاشرے کا اخلاقی ارتقاءجس سے متمدن ملکوں میں ازدواجی زندگی باضابطہ اور مہذب ہوگئی اور اس زندگی کو شہوانی انتشار سے بچانے کے لئے پیشہ وروں کوایک ادارہ بنادیا گیا۔
ثانیاً : مردوں اور عورتوں کے تناسب کا فرق جس سے خرابی کے برگ و بار پیدا ہوتے ہیں۔ چنانچہ جن ملکوں میں یہ فرق بڑا نمایاں ہے وہاں فحاشی بھی اسی نسبت سے نمایاں ہے۔ ثالثاً: وہ افراد جن کی بے ڈھب عیاشیاں خاندانی عزتوں کے درپے ہوتی ہیں۔
رابعاً: طبقانی سماج میں اقتصادی تفاوت اور انفرادی ملکیت کی مضرتیں
حکیم سولن دُنیا میں پہلا شخص گزرا ہے جس نے خانہ بہ خانہ فحاشی کی روک تھام کے لئے یونان میں سب سے پہلا چکلہ قائم کیا۔ اور بزعم خویس اُن جنسی کجرویوں کو روکنا چاہا جن میں پورا یونان محصور تھا۔ تب یونانی قوم کی اخلاقی پستی کا یہ حال تھا کہ سب سے پہلے جن دو انسانوں کے مجسمے اظہار عقیدت کے لئے بنائے گئے ان میں ایک فاعل تھا دوسرا مفعول ۔۔۔ ہر موڈیس اور ارسٹوگیٹن اگر کسی لڑکے کو چاہنے والا شہسوار نہ ملتا تو وہ شرم محسوس کرتا ۔ اور ایسا لڑکا عزت کا مستحق سمجھا جاتا جس کے درجنوں عشاق ہوتے ، کئی شہروں میں لڑکوں سے شادی رچانے کا رواج تھا۔
یونانی خرافات میں ایسے مندروں کا ذکر موجود ہے ، اور بعض کتبے ملے ہیں جن سے مردانہ جنسیات کی تصدیق ہوتی ہے۔ کئی محققوں کا خیال ہے کہ لڑکوں سے شادی کارواج دراصل ضبط تولید کی طرف پہلا قدم تھا ۔ خود سقراط نے اس فعل کو مستحسن قرار دیا حتیٰ کہ ارسطو نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ بیویاں ترک کردیں اور استلذاذ بالمثل اختیار کریں۔ ان حکماءہی کی توثیق و تحریک پر امرد پرستی خاص خاص لوگوں تک محدود کردی گئی ، یعنی صرف آزاد شہریوں اور بانکے شہواروں ہی کو استلذاذ بالمثل کا حق حاصل تھا۔ غلام اس کا تصور بھی نہ کر سکتے تھے ان کے لئے یہ جرم تھا اور اس کی سزا موت تھی۔ جب یہ شوق عام ہوگیا تو اس کو ایک معاشرتی خوبی سمجھا گیا، یونانی حکومت نے اس کی سرپرستی کے لئے مختلف قانون نافذ کئے۔۔۔
۔    اُدھر روما کی راجدھانی میں جو چکلے تھے وہاں عورتوں سے زیادہ لڑکے تھے۔ ادھر پارس کو عجم کہتے تھے چنانچہ پارس عجم کی ترکیب اخلاقی احوال کا ایک پورا نقشہ پیش کر دیتی ہے۔ پارس سے یہ وبا اردگرد کے ملکوں میں پھیل گئی۔ افغانستان سے بلوچستان اور سندھ تک پہنچ گئی ۔ اُدھر چینی ترکستان میں عصمت فروش لڑکوں کا ایک طائفہ پیدا ہوگیا۔ سرچارلس نیپئر نے 1845ءمیں جب سندھ فتح کیا تو کراچی میں زنانہ قحبہ خانوں کے علاوہ تیس اڈے عصمت فروش لڑکوں کے بھی تھے۔
 حضرت لوط ؑ کی قوم کا ذکر توریت میں آچکا ہے چنانچہ استلذاذ بالمثل کے لیے لواطت اسی سے ماخوذ ہے ، توریت میں استلذاذ بالمثل کے بڑے مرکزی شہرکا نام سدوم بیان کیا گیا ہے۔ انگریزی کا لفظ (SODOAW)اسی سے بنا ہے۔
یورپ میں کئی مسیحی فرمانرواﺅں نے قحباﺅں کی سر پرستی کی ۔وہ ان کی آمدنی سے اپنا خزانہ بڑھاتے رہے۔ لیکن بعض نے ان کا قلع قمع کرنا چاہا، ایک ہزار برس تک نسلاً بعد نسل اصلاح احوال کی کوششیں کی گئیں۔ یہاں تک کہ فاحشہ عورت کے لئے سزا مقرر ہوگئی ، لیکن فحاشی کہیں بھی نہ رُک سکی۔ بالآخر اُن کے ادارہ کو تسلیم کر لیا گیا۔ کوریات نے وینس کے سفرنامہ میں لکھا ہے کہ سترھویں صدی کے آغاز میں بیس ہزار کے قریب کسبیاں ایسی تھیں ، جن سے حکومت کو اتنا فائدہ ہوتا تھا کہ اس سے ایک درجن جنگی جہازوں کے مصارف پورے ہوتے تھے۔
یونان ڈھلا تو روما بڑھا ،وہاں عورت کا درجہ نسبتاً وقیع تھا۔ لیکن روما کا آفتاب بھی ڈھل گیا اور فحاشی کا ایسا زور بندھا کہ سسرو جیسا معلم اخلاق اور سحر بیان مقرر جس نے خطابت کے اصول مدون کئے ہیں ، نوجوانوں کے کسبیوں سے خط اُٹھانے کی تائید کرتا ہے۔ ہر چند مسیحیت نے قحبگی کی روک تھام کی لیکن بعض انفرادی مساعی کے علی الرغم مسیحی ممالک وہ کُھل کھیلے ہیں کہ اب گناہ بھی آرٹ ہوگیا۔
عالمگیر مذاہب میں اسلام پہلا مذہب ہے جس نے عورت کو نصف کائنات سے تعبیر کیا، اس کے حقوق تسلیم کئے فحش کی مخالفت کی ، زناکو حرام قرار دیا اور چکلہ کے تصور ہی کو محور کر دیا لیکن جب مسلمان بادشاہوں کے دل و دماغ اسلامیت کے تصور سے خالی ہوگئے تو سبھی بند ٹوٹ گئے
 یہ ایک عجیب سی حقیقت ہے کہ ایشیاءکے اسلامی ملکوں میں قحبگی کو مسلمان بادشاہوں نے پروان ہی نہیں چڑھایا بلکہ اُس کی کاروباری قبا میں بعض دلچسپ پیوند بھی لگائے ہیں ، اور یہ صورت حالات ظاہر کرتی ہے کہ عورت بازار فحش کی جس منزل سے بھی گزری ہے اس کے ذمہ دار مرد ہیں اورصرف مرد ، مرد نے عورت کو کھلونا سمجھا ، چنانچہ مرد کی نفسی خواہشوں کے غلبہ کا نام ہی فحاشی ہے ۔کوئی عورت فاحشہ ہونا پسند نہیں کرتی حتیٰ کہ ایک طوائف بھی نسوانی حیا سے تہی نہیں ہوتی ۔ماسوا اُن عورتوں کے جن کی عادت پختہ ہوکر فطرت بن جاتی ہے ۔کبھی کوئی عورت بالرضاور غبت مختلف مردوں کو کھلونا بننا گوارا نہیں کرتی ۔آپ کسی بھی کسی کے دل کو ٹٹولئے اور اُس کی رُوح کے زخم سے کھرنڈ اُتار کر دیکھئے آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ محض اس لئے مونڈھے پر بیٹھتی ہے کہ اس کی ”عورت “ مرچکی ہے اور جوباقی ہے وہ عورت نہیں بستر ہے۔ دراصل جسمانی فحاشی ایک طاعون ہے۔ اس کا مریض بھی دِق کے مریض کی طرح چاردنا چار زندگی بسر کرتا ہے۔
جن حکماءنے قحبگی کے انسداد کی تحریکوں کا جائزہ لیا ہے ، اُن کا خیال ہے کہ قحبگی ناگزیر معصیّت ہونے کے باوجود ایک مفید ادارہ ہے ۔ جو معزز گھرانوں کی عفت و عصمت کا پشتیان ہے۔ ایک فلسفی شاعر کا قول ہے۔
 بلزاک لکھتا ہے طوائف خود کو جمہوریت پر قربان کر دیتی اور اپنے جسم کو معزز خاندانوں کا پستیبان بنا دیتی ہے۔ شونپہار کہتا ہے کسبیاں و حدت ازواج کی قربان گاہ پر انسانی قربانیاں ہیں۔ لیکی نے تاریخ اخلاق یورپ میں کسبیوں کو بے شمار خاندانوں کی پارسائی اور نگہبانی کا بہت بڑا بوجھ طوائف کے کاندھوں پر ہے۔
ضروری نہیں کہ ہم راویوں سے اتفاق کریں، ان کے مصنف غالباً سماج کے معاشی تعلقات پر غور نہیں کرتے حالانکہ جتنی خرابی ہے وہ طبقاتی ہے اور طبقاتی ملکوں ہی کے فکر و عمل نے طوائف کا ناگزیر معصیّت قرار دیا ہے۔
طوائف کا ایک سیاسی پہلو بھی ہے ۔اس نے اپنے ”حسن و قبح“ کے باوجود بڑے بڑے دماغوں پر حکومت کی ہے ، کئی شہنشاہوں کو زیرنگیں کیا۔ کئی مملکتوں کو اُجاڑا ، کئی فرمانرواﺅں کی جھُکایا ، عیاشوں کے خزانے لٹوادیے ۔ سلطنتوں کی بنیادیں ہلا ڈالیں ، حرمات شاہی کو خون کے آنسو رُلوایا ، نسل انسانی کو جنگوں میں جھونکا ، اور جن کی گردنوں میں پگھلا ہوا سیسہ تھا انہیں مجبور کیا کہ موم بتی کی طرح پگھلیں۔ چنانچہ یورپ اور ایشیاءکے ااوراق تاریخ کا ایک بڑا حصہ ان کے اذکار و اشغال سے پُر ہے ، مثلاً :
طوطیہ وی آرگونہ شعریات ہسپانوی ادب کا شاہکار سمجھی جاتی ہیں ۔دروینکا فرانکو یونانی علم الاصنام کی ماہرہ ہوتی ہے ۔ فرانس کا شہنشاہ ہنری سوم اس کی ملاقات کو حاضر ہوا تھا ، اور چلتے وقت اس کی تصویر لے گیا تھا۔ نینون وی لنکلوس کے حُسن و جمال کا اتنا شہرہ تھا کہ خاندان سیورزنہ کی تین پُشتیں اُس کے چاہنے والوں میں گذریں۔ اس کا مکان بڑے بڑے درباروں کو مات کرتا تھا۔ رہو ڈوپی ایک مشہور کسبی ہوئی ہے جس نے مصری اہرام میں سے ایک ہرم بنوایا تھا۔ پیریکلز کے متعلق پلوٹارک نے لکھا ہے کہ اس نے
اسپاسیا نام کی ایک کسبی کو خوش کرنے کے لئے ایتھنز کو جنگ میں جھونک دیا۔ خود سقراط اس کی صحبت میں بیٹھا کرتا تھا۔

Offline Nazli

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 103
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #3 on: January 04, 2019, 12:58:55 pm »
فرانسیسی افسانہ نگاروں کی نوجوان پود نے ان نظریوں کی اشاعت کے لئے اپنا سارا زور بیان صرف کر ڈالا۔ اُنیسویں صدر کی آغاز میں ژورژساں ایک مشہور فرانسیسی ادیبہ ہوئی ہے جس نے جنسی تعلقات کی رنگارنگی پر زور دیا ہے۔ الغرض پہلی عالمی جنگ (1914-1918) میں یورپ نے اخلاقی قدروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ تمام یورپی ملکوں میں فرانس بازی لے گیا فرانسیسی اکابر کا ایک ہی نعرہ تھا ۔۔۔ ’’بچے جنواور جناؤ‘‘ مناکحت کی ضرورت نہیں ، کنواری یا بیوہ جو عورت بھی وطن کے لئے رحم کو رضا کارانہ پیش کرتی ہے وہ عزت کو مستحق ہے۔ ان عورتوں کا اُم الوطن کا خطاب دیا گیا۔ ایک فرانسیسی قائد لکھتا ہے۔
’’پچھلے پچیس 25سال میں ہم کو اتنی کامیابی ہوئی ہے کہ ’’حرامی بچہ ‘‘ حلالی بچے کا ہم رتبہ ہوگیا ہے۔ اب صرف اتنی کسرباقی ہے کہ صرف پہلی ہی قسم کے بچے پیدا ہوا کریں تاکہ تقابل کا سوال باقی نہ رہے ۔‘‘
ایک معلمہ نا جائز بچہ جننے کے جرم میں معطل کر دی گئی تھی۔ اس کو فرانس کی وزارتِ تعلیم نے اس بنا پر بحال کیا کہ نکاح کے بغیر ماں بننا زیادہ جمہوری طریقہ ہے۔ فرانس کے 127ویں ڈویژن کے کمانڈر نے دورانِ جنگ میں ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس کے الفاظ یہ تھے۔
معلوم ہوا ہے کہ فوجی قحبہ خانوں پر بندوقچیوں کے ہجوم اور اجارہ کی وجہ سے سوار اور پیادہ سپاہیوں کو شکایت ہے ۔ہائی کمانڈ عورتوں کی تعداد بڑھانے کے لئے کوشش کر رہاہے ، جب تک یہ انتظام نہیں ہوتا بند وقچیوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ زیادہ دیر تک اندر نہ رہا کریں اور اپنی خواہشات کی تسکین میں عجلت سے کام لیں۔‘‘
جنگ عظیم نے تجارتی قحبہ خانوں کو نہیں پڑھایا بلکہ خیراتی قحبہ خانے بھی قائم کئے ۔ ان خیراتی قحبہ خانوں کا مقصد فوجیوں کی دلجوئی ، فرانس کی وزارتِ جنگ نے ان خیراتی قحبوں کو (WAR GOOD MOTHER) کا لقب دیا ، اُردو اس کے ترجمے ہی سے معذور ہے۔ اب کئی برس سے فرانس میں قحبگی کا پیشہ انفرادی نہیں رہا بلکہ اجتماعی تجارت اور اجتماعی صنعت کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ کئی لمیٹڈ کمپنیاں قائم ہیں ۔ اُن کے کارندے بڑی بڑی تنخواہیں پاتے ہیں ۔ اخبارات میں ان کے اشتہارات چھپتے ہیں ، جن ملازموں کے سپرد ملک کے مختلف حصوں سے ان عروسانِ یک شب کی فرامہی کا کام ہوتا ہے وہ اس پیشہ کی باقاعدہ فتنی تربیت حاصل کرتے اور دفتری معیار پر کام چلاتے ہیں۔
جرمی میں ڈاکٹر ماگنوش نے لواطت کے حق میں چھ سال تک جدوجہد کی اور حکومت کو مجبور کر دیا کہ وہ احتساب اُٹھالے ڈاکٹر ماگنوش کا نقطہ نگاہ یہ تھا کہ جانبین رضا مندہوں تو حکومت کے لئے کونسا عذر رہ جاتا ہے ؟ کیا اس مملکت کو نقصان پہنچتا ہے ؟ کیا یہ زیادہ فطری طریقہ نہیں؟ جو لوگ اس کو غیر فطری کہتے ہیں اُن کے پاس کوئی دلیل نہیں وہ محض ایک فرسودہ قوم دُہرانے چلے جاتے ہیں ۔ اس کے برعکس عورت کر مرد سے اختلاط کا خمیازہ بھُگتنا پڑتا ہے ، یا تو وہ ماں بن جاتی ہے یا بچے ضائع کرتی ہے، لیکن لواطت میں اس قسم کا کوئی خطرہ نہیں بلکہ اس ہم جنسی سے قحباؤں کی افزونی بھی رُک سکتی ہے۔
 نگلستان بھی اسی تہذیب میں ڈوبا ہوا ہے اور اب تو وہاں امر پرستی قانوناً آزاد ہوگئی ہے۔ امریکی قحبہ خانے آرٹ کے درجے مین ہیں۔ اس کی بدولت امریکہ میں ہرسال کم سے کم 15لاکھ حمل ساقط ہوتے ہیں اور وہ ہزار ہا حرامی بچے اس پر مستزاد ہیں جو موت کے گاٹ اُتار دیے جاتے ہیں ۔ کئی سال ہوئے ہیں مجلسِ اقوام نے مختلف ملکوں سے فاحشات کے جو اعداد و شمار حاصل کئے تھے وہ برائے نام ہیں۔ جتنی فاحشات تمام عالمی ملکوں میں بیان کی گئی ہیں اُتنی فاحشات میں سے کسی ایک ملک میں ہیں۔ اس بورژو اسماج نے (جو استحصال کے نقطہ آخر تک پہنچ چکا ہے) دو چزیں وافر کردی ہیں
(۱)۔ محنت کی لوٹ کھوٹ
(۲)۔ عصمت کی خریدو فروخت ۔
سیاسی نظام کے ڈھیلا پڑجانے کی وجہ سے پیشہ ور فاحشات تو ختم ہو رہی ہیں مگر اُن کی جگہ غیر پیشہ ور فاحشات نے لے لی ہے۔ ہر متمول انسان کو ذہنی و جسمانی عیاشی کے لئے پورے سماج پر دسترس ہے تمام معاشرہ ایک طوائف ہے اور پورا آرٹ ایک چکلہ ، رسل کو اندیشہ تھا کہ آئندہ نصف دُنیا کے باپ وزراء ہوں گے یا پادری۔؟
 ایک ہی تنور کی سوختہ
کمہار نے ایک خوبصورت آبخورہ بنایا، لوگوں نے اُس کو جام صہبا بنا لیا۔۔۔ کمہار نے ایک جام صہبا بنایا اور لوگوں نے اس کو آبخورہ سمجھ کر مسجد کی دیوار پر رکھ دیا تو پھر کیا اُس سے مٹی کی حقیقت بدل گئی ؟ پیالہ میں چاہے شراب بھر دو چاہے زمزم ۔۔۔ عورت کو بیسوا بنا دو یا گھر کی ملکہ ، جو چاہے بنا دو، لیکن ہر حال میں وہ عورت ہی ہے۔ (قاضی عبدالغفار )
ایشیا میں میں طوائف کا معاشرتی نظام یورپ کے معاشری نظام سے مختلف ہے لیکن جنسی اعتبار سے دونوں میں ہمرنگی ہے۔ بازاری شراب میں جو فرق ہے اس کی بڑی وجہ ایک تو مشرق و مغرب کے جُدا گانہ اخلاقی نظریے ہیں ، دوسری عورت کے متعلق دونوں کے عقائد کا اختلاف ہے، ویسے یورپی عورت ایشیائی عورت سے سماجی آزادی میں کجروی کی حد تک آگے نکل چکی ہے اور شرم و حیا کے وہ معیار جو مشرق کی جان تصور ہوتے ہیں اس میں بالکل نہیں ہیں۔ اس کے برعکس ایشیائی ملکوں میں ایک طوائف بھی کسی حد تک اخلاق کے ظواہر کی پابندی کرتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ایشیا ہر بڑے مذہب کا مولدو مسکن رہا ہے ان مذاہب نے ایشیائی قوموں کو ایک اخلاق مہیا کیا جس سے ذہنوں میں امر نواہی کا ایک تصور جاگزیں ہوگیا یہاں کسی فلسفی کو یہ جرأت نہیں ہوسکی کہ فحاشی کو جواز پیدا کریں اور یہ کہیں کہ طوائف ایک ناگزیر ادارہ ہے۔
لیکن اس اخلاقی کروفر کے باوجود ایشیائی ملکوں میں فحاشی محونہ ہوئی اس کی مختلف صورتیں ہر حال میں اور ہمیشہ قائم رہی ہیں چنانچہ ڈیڑھ ہزار برس پہلے کی نصنیف کام شاشتریں ہندوستان کی دھارمک فحاشی کا سراغ ملتا ہے۔ جنوبی ہند کے لوگ اپنی بیٹیوں کو مندروں کے بھینٹ چڑھا دیتے تھے جنہیں دیوداسیاں کہا جاتا ، یہ کنیاتیں ‘ سنگیت اور ناچ کی تعلیم حاصل کرتیں ، جب تک جوانی کا روپ جھلمل جھلمل کرتا ان کے قدر دان بھی موجود رہتے جب جوانی ڈھل جاتی تو انہیں مندروں سے نکال دیا جاتا۔ در بدر بھیک مانگ کر گزارہ کرتیں ۔ان سے کسی ذات کا کوئی ہندو شادی نہ کر سکتا تھا ، ان سے مندر کے مہنت خوش وقت ہوتے ، یا تعلقداروں اور زمینداروں کو ترغیب دے کر انہیں داشتہ رکھنے پر آمادہ کیا جاتا تھا۔
(جاری ہے)
 

Offline Nazli

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 103
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #4 on: January 05, 2019, 03:15:27 am »
ہندوستان میں دھارمک فحاشی کا ایک بڑا ثبوت لنگم ہے ، یہ ٹھیک ہے کہ آریائی تہذیب نے عورت کو ازدواجی سکون مہیا کیا۔ وہ جس مرد کی شریکِ زندگی ہوتی اس کی موت پر اُس کے ساتھ ستی ہوتی۔ لیکن عورت کے جسم کو ہمیشہ ہی خطرہ رہا اور اس وقت سے رہا جب لکشمن نے سروپ نکھا کی ناک کاٹی ، راون نے سیتا پر ہاتھ اُٹھایا اور پانڈو دروپدی کو ہار گئے۔
منو سمرتی میں بیاہ کی آٹھ قسمیں بتائی گئی ہیں ، آٹھویں قسم ’’پشاج بواہ ‘‘ ہے جس کے معنی ہی حرام کاری کے ہیں۔ بائبل میں عبرانیوں کی حرامکاری کا ذکر ہے، عرب میں حضور ﷺکی بعثت سے بیشتر بیت اللہ کے دروازے پر زنا کے قصیدے متعلق تھے۔ مکہ میں جو فاحشہ عورتیں تھیں وہ باندیوں میں سے تھیں ۔ عورتوں کا عشق عربوں کی گھٹی میں پڑا ہوا تھا۔ شوہر خوش ہوتا تھا کہ اُس کی دلہن کا عاشق پہلے سے موجود ہے، اکثر خاوند بیوی کو اپنے پہلے عاشق سے ملنے اور اُس کا چرچا کرنے سے بھی نہ روکتے تھے۔ وہ اس کو فخر سمجھتے تھے کہ اُن کی بیوی فلاں شاعر کی محبوبہ ہے اور اس کے حُسن و جمال اور عفت و طہارت کا تمام عرب میں ڈنکا بج رہا ہے
ایک بدو سے پوچھا گیا کہ تمہارے ہاں عشق کا مفہوم کیا ہے ۔اُس نے کہا ہم محبوب کو سینہ سے بھینچ کر اُس کے ہونٹوں سے ہونٹ پیوست کر دیتے لعابِ دہن سے شاد کام ہوتے اور اُس کی دلآویز باتوں سے دل زندہ کرتے ہیں ، ایک عرب شاعر کا قول ہے:
’’محبوبہ کے دو حصے ہیں ۔ ایک سراسر محبت کے لئے ، دوسرا شوہر کا جس پر کبھی آنچ نہیں آتی۔ ‘‘
زرتشت نے بدکار عورتوں کے لئے تباہی کی دُعا کی ہے۔ ترکستان میں کسبیوں کے بڑے بڑے بڑے بازار تھے اور ان کے مکانوں میں جانا خلافِ اخلاق نہ تھا ۔ چین میں فحاشی تجارتی بنیادوں پر قائم رہی۔ وہاں کسبیوں کا وہی درجہ تھا جو یونان میں ہتائرہ کا تھا۔ عام چینی انہیں پھول و الیاں کہہ کر پُکارتے تھے ۔اب ماؤ کی حکومت نے قحبہ خانوں کو سرے ہی سے کالعدم کر دیا ہے ، جاپانی رنڈیوں کے سکونتی بازار کا نام یوشی واڑہ ہے اور انہیں بعض قانونی مراعات حاصل ہیں۔ کوریا میں طوائف کو ورق النور کہتے ہیں۔ روس ، چین اور حجاز ان تین ملکوں میں عورت کے لئے جسم فروشی ممنوع ہے ۔
علامہ جلی کا قول ہے کہ اسلام نے فحش اور قحبگی کا قلع قمع کر دیا تھا۔ حضورؐ سرورِ کائنات فداہ اُمی وابی کی وفات کے پہلی صدی تک دُنیائے اسلام کے اندر عصمت فروشی بالکل مفقود رہی ، لیکن جب اسلامیت کارنگ پھیکا پڑ گیا اور مسلمان بادشاہتیں قیصر وکسریٰ کے نقشِ قدم پر چلی نکلیں تو جگہ جگہ لہو ولعب کا بازار گرم ہوگیا اور یہ کہنا ہی پڑتا ہے کہ بیشتر عباسی خلفا نے عورت کو کھلونا بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ (الا ماشاء اللہ) اب جواری کھلونے تھے اور کھلونے جواری ، جو عروج یا کمال عباسی خلفاء کے عہد میں انہیں حاصل ہوا ، اُس کی نظیر کسی دور میں نہیں ملتی، ایک طرف انہیں فنی تربیت دی گئی ، دوسری طرف اُن کے اقتدار کو تسلیم کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بڑی بڑی سلطنتیں اُن کی حُسن و جمال سے مالامال ہوگئیں۔ کئی خلفاء نے ان کے اشارہ ابرو پر تاج و تخت قربان کئے۔ کئی بادشاہ ان کی ایک جنبش لب پرنثار ہوگئے، ادھر رنڈیوں کے طائفے بھی نکھرتے گئے، ان میں بھی خاندانی وغیر خاندانی کا فرق قائم ہوگیا ، جو محض گانے والی تھیں وہ مغنیہ کہلائیں ، مصر میں انہیں عالمہ کہتے ہیں ، جونا چنے والی تھیں وہ رقاصہ ٹھہریں اور جو صرف جسم بیچتی تھیں اُنہیں طوائف کہا گیا۔ ادھر ہندوستان میں مغلوں نے اور بھی گل کھلائے ۔۔۔ ظاہر ہے کہ طوائف عشرت کی چیز ہے اور مرد نے اس لئے اس کو تخلیق کیا ہے جب مقصد عشرت ہو اور وہ بھی نفسی ، تو پھر وہ تمام لوازم یکے بعد دیگرے جمع ہوتے جاتے ہیں جن سے نفس کو تسکین ہو چنانچہ طوائف کے ساتھ وہ تمام سامان عشرت جمع کر دیا گیا ہے جن سے عیاشی فن ہوگئی اور طوائف ۔۔۔ فن کارہ ۔
ادھر جواری و کنیزیں ، نتیجہ تھیں جنگ کا ، جب فتوحات کا سیلاب ٹھہر گیا تو اِن کی فراہمی بھی رُک گئی جس سے ایک خلا پیدا ہوگیا۔ اُدھر مسلمان خلفا اسلامیت کی روح کھوچکے تھے اور صرف ظواہر کے پابند تھے، انہیں رجھانے کے لئے کنیزوں کو درآمد کیا گیا جس سے بردہ فروشوں کا گروہ پیدا ہوگیا جو ترکیہ ، صقلیہ ، ہندوستان آرمینیا، روم اور افریقہ سے نوجوان لڑکیاں لاتا اور بغداد میں فروخت کرتا تھا، اُن کی سب سے بڑی مارکیٹ کا نام سوق الرقیق تھا جہاں بیشتر مکان اکثر دوکانیں اور متعدد احاطے واقع تھے۔ تمام ملکوں کی کنیزیں حُسن و خوبی کے لحاظ سے علیٰحدہ علیٰحدہ رکھی جاتیں، سب سے قیمتی کنیزیں مدینہ ، طائف ، بصرہ ، کوفہ ، بغداد اور مصر کی ہوتیں ، ایک تو ان کا لہجہ مصفا ہوتا دوسرے حاضر جواب ہوتیں ، خود بادشاہوں کی پیشانیاں اُن کے کمال سے بھیگ جاتی تھیں۔ اسی بازار کا ایک حصہ نو آمد کنیزوں کے لئے مخصوص ہوتا اُنہیں عریاں حالت میں لایا جاتا ، بال کھلے ہوتے ، کوئی سنگارنہ ہوتا۔ مقصود یہ تھا کہ خریدار طبعی حُسن کا جائزہ لے سکیں۔ مختلف تاجر ، حُسن و رعنائی کے معیار پراُن کی قیمت لگاتے اور دام چکا کر خرید لیتے ۔ تاجر اس خام مال کو تعلیم و تربیت کی کٹھائی میں ڈال دیتے۔ جب وہ پختہ ہوجاتیں تو انہیں بہت گراں قیمت پرفروخت کیا جاتا ۔ چنانچہ اکثر موسیقار ، عالمہ ، فاضلہ اور مدبر عورتیں ان کنیزوں ہی میں سے ہوئی ہیں ، ان کے بطن سے بڑے بڑے خلفاء اور اُمراء بھی پیدا ہوئے ہیں۔
تمام بازار مختلف الاصل لونڈیوں سے پُر ہوتا ۔ بڑے بڑے تجار اور اُمراء جمع ہوتے ، فروختار آواز لگاتا۔
ضرور پڑھیں: راناثنااللہ کاشیخ رشیدکےخلاف سپیکرکوریفرنس بھیجنےکااعلان
’’ابے تاجرو! اے دولت مندو ! نہ ہر گول چیز اخروٹ ہوتی ہے اور نہ ہر مستطیل چیز کیلا ، ہر وہ چیز جو سُرخ ہے گوشت نہیں ، اور نہ ہر سفید چیز چربی ہے ، اسی طرح نہ ہر صہبا شراب ہوتی ہے اور نہ ہر زرد چیز کھجور ، اے تاجرو بیش بہا ہوتی ہے ، زرخطیر بھی اس کی قیمت نہیں ہوسکتا، پھر بتاؤ کہ تم کیا قیمت لگاتے ہو۔؟‘‘

ایک ایک کنیز کئی کئی ہزار درہم میں نیلام ہوتی ، گاہکوں کو حق ہوتا تھا کہ وہ انہیں عُریاں حالت میں بھی دیکھ سکیں چنانچہ اہل عرب نے مختلف ملکوں کی کنیزوں کے احوال و اوصاف پر کئی کتابیں لکھی ہیں ۔ مثلاً:
نجات کے لئے فارس ، خدمت کے لئے روما، کھانے پکانے کے لئے حبشہ ، اور بچوں کی تربیت ورضاعت کے لئے آرمینیا کی لونڈیاں معیاری سمجھی جاتی تھیں۔
حُسن ظاہری کے لحاظ سے چہرہ ترکی کا ، جسم روم کا ، آنکھیں حجاز کی اور کمریمن کی پسند کرتے تھے۔ اس بردہ فروشی کے ماہر اتنے زیرک تھے کہ وہ کسی لونڈی کو اس کی ذہانت کے قیافہ پر خرید لیتے تھے ، متوکل کے پاس چار سو کنیزیں تھیں۔ ہارون الرشید کے پاس دو ہزار جن میں سے تین سو ارباب نشاط تھیں ، ام جعفر برمکی کے پاس کئی ہزار لونڈیاں تھیں ، ہارون الرشید نے ایک کنیز کو ایک لاکھ دینار میں خرید کیا تھا۔ سلیمان بن عبداملک کے بھائی سعید نے اپنی لونڈی زلفا کے ستر ہزار دینار ادا کئے تھے۔
جعفر برمکی نے ایک کنیز کو چالیس ہزار دینار میں حاصل کیا، کبھی کبھار عباسی خلفاء خرید کے سوال پر برہم ہوجاتے ، کتاب الاغانی اور عقد الفرید میں اس قسم کے کئی واقعات درج ہیں ، ہارون الرشید تخت پر بیٹھا تو حکم دیا کہ فلاں لونڈی ایک لاکھ دینار دے کر خرید لی جائے۔ یحییٰ بن خالد وزیر سلطنت نے عذر کیا۔ رشید برہم ہوگیا۔ یحییٰ نے تمام روپیہ اس کے کمرے میں بکھیر دیا ، رشید سمجھ گیا کہ یحییٰ نے اس کے اسراف پر چوٹ کی ہے ، امین نے جعفر بن ہادی سے کہا بذل نام کی کنیز کوخرید لو ، جعفر نے انکار کیا۔ امین کو غصہ آیا اور حُکم دیا کہ بذل کو سونے میں تلوا کر خرید لو ، تعمیل کی گئی ۔ اس سونے کی قیمت دو کروڑ درہم تھے۔

(جاری ہے)

Offline Nazli

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 103
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #5 on: January 05, 2019, 07:26:08 am »
ان لونڈیوں کو امورِ سلطنت میں جو دخل رہا وہ مخفی نہیں ، ان کے کارناموں سے تاریخ بھری پڑی ہے ۔ یزید بن عبدالملک کا عشق حبابہ کے ساتھ رشید بن عبدالملک کا عشق ذات الخال کے ساتھ تاریخی شہرت رکھتا ہے، ہارون الرشید کی ماں خیرزاں خود کنیز تھی ، مقتدر کی ماں بھی کنیز تھی اور ملکی سیاسیات پر ان کا جواثر تھا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔

جہاں کہیں مسلمان بادشاہتوں کے ’’ڈھچر ‘‘ گئے ان کے ساتھ لونڈیوں کا ادارہ بھی گیا ، جب خلافت ملکی حدوں میں بٹتی گئی تو یہ بھی ان کے ساتھ تقسیم ہوتی گئیں۔ خلیفہ عبدالرحمن اندلسی کی کنیزیں خاص شہرت رکھتی تھیں بالخصوص قصرِ لبنا کی کنیزیں جو بڑی ہی نامور تھیں
فاطمہ خلیفہ کی خفیہ تحریریں لکھتی اُس کو شعرو انشا میں اتنی دستگاہ تھی کہ کوئی مرد بھی اس کے مرتبہ کو نہ پہنچ سکا۔ خدیجہ نے شعرو غنامیں نام پیدا کیا۔ مریم نے خاندان اشبیلہ کی لڑکیوں کو شعرو انشا کی تعلیم دی ، رقیہ نے شعرو حکایت میں وہ کمال پیدا کیا کہ خلیفہ عبدالرحمن نے اس کو آزاد کر دیا۔ جب عبدالرحمن انتقال کر گیا تو اُس نے مشرق کا سفر کیا ہر جگہ کے علماء نے اُس کی آؤ بھگت کی۔

ان لونڈیوں نے شعرو غنا میں ایجادیں کیں ، انہی کی بدولت اُمرائے سلطنت قتل کئے گئے ۔ مامون الرشید نے علی ابن ہشام سے اس کی ایک خوش جمال کنیز کو طلب کیا ، علی نے انکار کیا مامون الرشید نے برہم ہوکر ابن ہشام کو قتل کروا ڈالا۔


ہارون الرشید نے رات کی تنہائی میں کسی کنیز سے چھیڑ چھاڑ کرنی چاہی تواُس نے صبح پڑ تال دیا۔ صبح ہوئی تو ہارون نے بلوالیا وہ حاضر ہوگئی ۔ہارون نے وعدہ شب یاد دلایا ، کنیز نے کہا۔۔۔۔

کلام الیل یمحوہ النھاو

چراغ حسن حسرت نے اُردو میں ترجمہ کیا ہے۔۔۔

رات کی بات کا مذکور ہی کیا
چھوڑیئے رات گئی بات گئی

ہارون مُسکرا کر نکل گیا ، تمام ملکی شعرا سے کہا کہ وہ اس مصرع پر گرہ لگائیں ابو نواس سب میں بازی لے گیا ، اُس نے تضمین کے مصرعوں میں ہارون الرشید کی دراز دستی کا پورا واقعہ بیان کردیا۔

یہ واقعہ ہے کہ مسلمان فرمانروا نے (اِلّا ماشا اللہ ) جواری کے جواز سے بڑا فائدہ اُٹھایا ہے۔ ان کے محلوں میں سیکڑوں عورتیں اس طرح رہی ہیں جیسے سونے کے قید خانے میں ہوں، ان کی ازدواجی زندگی اصلاً یا معناً اسارقی زندگی سے مختلف نہ تھی ہر شاہی دور اور ہر شاہی محل میں قریب قریب یہی ہوتا رہا ہے۔

میڈم کلی برزلی نے جو ایک ترک وزیر کی اہلیہ تھی ، ایک کتاب لکھی ہے ’’حرم کے تین سال ‘‘ اس میں سلطان عبدالمجید کی حرم کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کی بیگمیں راستہ چلنے والوں کو جھروکوں سے بُلایا کرتی تھیں ، اُن سے متمتع ہوچکتیں تو افشائے راز کے خوف سے مروا دیتیں۔

ایک دفعہ خلیفہ محمد علی کو بیٹی نازلی خانم کے شوہر نے کسی کنیز سے ہاتھ دھلوانے کے لئے کہا ۔ ہاتھ دھو چکا تو کنیز سے کہا’’ بس بس پیاری ! ‘‘یہ سننا تھا کہ نازلی خانم کو تاؤ آگیا اورلونڈی کے قتل کا حکم دے دیا، اس کی کھوپڑی میں چاول بھر کر تنور میں پکوائے ، جب خاوند خاصہ پر بیٹھا تو اُس کے سامنے رکابی رکھ کر کہا ’’ اپنی پیاری کا بھی ایک لقمہ کھا کر دیکھو‘‘ شوہر نے سُنا تو جھڑک اُٹھا اور محل سے نکل گیا۔

مغلوں کا ہندوستان میں ورُود ۔۔۔ ایک مورخ کے الفاظ میں ۔۔۔ اسلام کے دور انحطاط کی یادگار ہے۔ اُن کا اسلام کی بنیادوں سے کچھ گہرا تعلق نہ تھا ، جب انہیں ہندوستان میں سلطنت کا سکول ملا تو اُن کا جسمانی عیش اپنے پیشتروؤں سے منزلوں آگے نکل گیا۔ اُن کے عشرت کدوں کی دھاک بیٹھ گئی ، ان کے گر دو پیش عجمی اور ہندی حُسن ہوگیا ، وہ ذہانت جس سے عربی لونڈیاں کا شہرہ تھا عجمیوں میں بھی سرایت کر گئی ۔ ہمایوں شکست کھا کر ایران پہنچا تو اُس کا غم غلط کرنے کے لئے دارائے ایران نے ایک مجلس نشاط منعقد کی ، تمام گویے مدعو کئے گئے ، ایک مغنیہ نے غزل چھیڑی:۔


ہمایوں منزلے کاں خانہ راما ہے چنیں باشند

مارک کشورے کاں عرصہ راشا ہے جنیں باشند
ضرور پڑھیں: یہ خاتون کیمرہ مین اس طرح رو کیوں رہی ہے ؟ بھارت کا ایسا مکروہ چہرہ بے نقاب ہو گیا کہ سن کر آپ کی آنکھوں میں بھی آنسو آ جائیں گے

زرنج وراحت گیتی مشوخنداں ‘ مربخاں دل

کہ آمین جہاں گا ہے چناں گاہے جنیں باشند

ہمایوں کا دل بھر آیا اور اُس کی آنکھوں میں آنسو آگئے ، شاہ نے دیکھا تو مغنیہ کو مجلس سے اُٹھوا دیا لیکن اس برجستہ ذہانت کی تحسین کئے بغیر نہ رہ سکا ‘ جب ہمایوں نے دہلی کو دوبارہ فتح کیا تو اس مغنیہ کو بُلا بھیجا، پتہ چلا کہ وہ انتقال کر چکی ہے ‘ شہنشاہ اکبر کی داستان ہائے نشاط سے تاریخ بھری پڑی ہے ، وہ پہلا بادشاہ تھا جس نے مینا بازار لگوایا ‘ مینا بازار کا تصور ترکستان سے مستعار تھا۔ ہر مہینے کی تیسری تاریخ کو قلعہ معلی میں بازار لگتا ۔ اس کو خوش روز بھی کہتے تھے ۔ تمام اہتمام اُمرائے سلطنت کی عورتوں کے سپرد ہوتا۔ خواجہ سرا ، قلماقنیاں اور اُردبیگنیاں ادھر اُدھر گھوڑے دوڑائے پھرتیں ، مالنیں چمن آرائی کرتیں ، جہانگیر نے بزمانہ شہزاد گی مینا بازار ہی میں نواب زین خاں بہادر کی بیٹی صاحب جمال کو دل دیا تھا ۔مینا بازار کے انگوری پارک سے گزر رہا تھا ، ایک خادمہ نے عرض کیا ’’ صاحب عالم ! آپ کو بادشاہ سلامت یاد فرماتے ہیں‘‘ شہزادے کے ہاتھ میں کبوتروں کا جوڑا تھا ، صاحب جمال سامنے سے آہی تھیں ، اس سے کہا ’’لو ذرا ہمارے کبوتر تھامنا ، ہم ابھی آتے ہیں ‘‘ واپس آئے تو صاحب جمال کے ہاتھ میں ایک ہی کبوتر تھا ، پوچھا:

’’دوسرے کبوتر کوکیا ہوا ؟‘‘

’’صاحب عالم وہ تو اُڑ گیا ۔‘‘

’’کیسے؟‘‘


صاحب جمال نے دوسرا کبوتر بھی چھوڑ دیا اور کہا ۔

صاحب عالم ۔۔ ’’یوں ۔‘‘

اس ’’یوں ‘‘ پر جہانگیر لٹو ہوگیا بالآخر صاحب جمال اس کے عقد میں آگئی ۔ لاہور کے سیکریٹریٹ میں انار کلی کا جو مقبرہ ہے وہ دراصل اسی صاحب جمال کا ہے بعض افسانہ نگاروں نے کبوتر کے واقعہ کو نور جہاں سے منسوب کیا ہے جو غلط ہے ، اسی طرح انار کلی کا تمام واقعہ بھی فرضی ہے۔

ایک روز جہانگیز کسی ایرانی شہزادے سے اس شرط پر شطرنج کھیل رہا تھا کہ جو ہارے کنیز دے۔ اتفاق سے جہانگیز ہار گیا، تمام کنیزیں اکٹھی کی گئیں ، سب حُسن وجمال میں ایک دوسرے پر فائق تھیں ۔ جہان نام کی ایک کنیز کو بڑے تردد کے بعد چُن لیا گیا۔ جہان کو بچھڑناگوارا نہ تھا۔ عرض کیا:
تو بادشادہ جہانی جہاں زدست مدہ کہ بادشاہ جہاں را جہاں بکار آید
بادشاہ رُک گیا ۔ حیات نام کی ایک دوسری لونڈی کو منتخب کیا تو اُس نے ارتجالاً عرض کیا:

جہاں خوش است و لیکن حیات می باید اگر حیات نہ باشد جہاں چہ کار آید

جہانگیر نے ایک تیسری کنیز دلآرام کو تجویز کیا وہ خود شطرنج کی ماہرہ تھی۔ عرض کی، صاحب عالم مجھے ایک دفعہ بساط کیا دیجئے پھر کوئی فیصلہ فرمائیے گا ۔ درخواست منظور کر لی گئی ۔ دلآرام نے غور کیا اور شاہ سے کہا

شاہا دروزخ بدہ و دل آرام رامدہ
پیل و پیادہ پیش کُن واسپ کشت مات
جہانگیر بازی جیت گیا۔ دل آرام کو اعزاز و انعام سے نوازا۔ آج تک یہ شعر شائستہ کھلاڑیوں کے نوکِ زبان ہے۔

جہانگیر کی ایک بیوی راجہ اودے سنگھ کی بیٹی مان متی تھی۔ شاہجہان اسی کے پیٹ سے تھا۔ تمام محل میں مان متی کے گانے کا شہرہ تھا جہانگیز خود موسیقی کی نوک پلک سے واقف تھا اور اُس نے اپنی بہت سے خو اصوں کو موسیقی کی تعلیم و تربیت کے لئے اسی کے سپرد کر رکھا تھا۔ اسی زمانے میں بزرگی کشمیری نام کی ایک طوائف کا بڑا نام تھا ، ایک دن اُس کی صحبت میں بہت سے اہلِ عجم بیٹھے تھے کہ ایک عرب بھی جا پہنچا۔ عجمیوں کو شرارت سُوجھی اور یہ رُباعی لکھ کر اُس کے پاس بھیج دی۔
اے شیوہ کفرودیں بہم ساختہ غم رابو جود عجم ساختہ
آثار بزرگی ست ازجنبیت پیدا گہ باعرب و گہ باعجم ساختہ
بزرگی میں بھی شعر کا ملکہ تھا جواب میں لکھا ،
روزے کی نہادیم دریں دہر قدم را
گفتیم صلائیست عرب راوعجم را
’’گفتیم صلائیست عرب و اوعجم را ‘‘ پر غور کیجئے ، ایک طوائف کا کاروباری سیرت بہ تمام و کمال نظر آئے گی۔

(جاری ہے۔۔۔ )

Offline Nazli

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 103
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #6 on: January 05, 2019, 07:44:55 am »
مولانا ابو الکلام آزاد ’’غبارِ خاطر ‘‘ میں صاحب مآشہ الامرا کے حوالے سے اورنگ زیب کی ازخودرفتگی کا ایک واقعہ لکھا ہے ، فرماتے ہیں :

’’برہان پور کے حوالی میں ایک بستی زین آبادی کے نام سے بس گئی تھی اسی زین آباد کی رہنے والی ایک مغنیہ تھی جو زین آبادی کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس کے نغمہ و حُسن کی تیرا فگینوں نے اورنگ زیب کو زمانہ شہزادگی میں زخمی کیا، صاحب مآثر الامراء نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کیا خُوب شعر کہا ہے ؂
عجب گیرندہ دامے بودور عاشق ربائی ہا
نگاہِ آشنائے یار پیش ازآشنائے ہا
اورنگ زیب کے اس معاشقہ کی داستان بڑی ہی دلچسپ ہے ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ اولوالعزمیوں کی طلب نے اُسے لوہے اور پتھر کا بنا دیا تھا لیکن ایک زمانہ میں گوشت و پوست کا آدمی بھی رہ چکا تھا اور کہہ سکتا تھا کہ
گزر چکی ہے فصلِ بہار ہم پر بھی
ابھی تھوڑی دیر ہوئی ہم یمین الدولہ کے داماد میر خلیل خان زمان کا تذکرہ کر رہے تھے ۔ اس خان زمان کی بیوی اورنگ زیب کی خالہ ہوتی تھی، ایک دن اورنگ زیب برہان پور کے باغ آہو خانہ میں چہل قدمی کر رہا تھا اور خان زمان کی بیوی یعنی اُس کی خالہ بھی اپنی خواصوں کے ساتھ سیر کے لئے آئی ہوئی تھی۔ خواصوں میں ایک خواص زین آبادی تھی جو نغمہ سنجی میں سحرکار اور شیوہ دلربائی ورعنائی میں اپنا جواب نہیں رکھتی تھی۔

سیرو تفریح کرتے ہوئے یہ پورا مجمع ایک درخت کے سایہ میں سے گزرا ، جس کی شاخوں میں آم لٹک رہے تھے ۔جونہی مجمع درخت کے نیچے پہنچا زین آبادی نے نہ تو شہزادہ کی موجودگی کا کچھ پاس لحاظ کیا نہ اُس کی خالہ کا۔ بے باکانہ اُچھلی اور ایک شاخ بلند سے ایک پھل توڑ لیا، خان زمان کی بیوی پر یہ شوخی گراں گزری اور اس نے ملامت کی تو زین آبادی نے ایک غلط انداز نظر شہزادہ پر ڈالی اور پشتو از سنبھالتے ہوئے آگے نکل گئی ۔

یہ ایک غلط انداز نظر کچھ ایسی قیامت کی تھی کی اس نے شہزادہ کا کام تمام کر دیا اور صبرو قرار نے خدا حافظ کہا ؂

بالا بلند عشوہ گر سرونازمن
کوتاہ کرو قصہ زہد درازمن

صاحب مآثر الامراء لکھا ہے کہ ’’بکمال ابرام و سماجت زین آبادی را ازخالہ محترمہ خود گرفتہ ، باآں ہمہ زہد خشک و نفقہ بخت ، شیفتہ و دلدادہ اوشد ، قدح شراب رست خود پر کردہ می داد گویند ، روزے زین آبادی ہم قدح بادہ پر کردہ بہ دست شہزادہ دادو تکلیف شرب نمود‘‘ یعنی بڑی منت و سماجت کر کے اپنی خالہ سے زین آبادی کو حاصل کیا اور باوجود اس زہد خشک اور خالص نفقہ کے جس کے لئے اس عہد میں بھی مشہور ہوچکا تھا اس نے عشق و شیفتگی میں اس درجہ بے قابو ہوگیا کہ اپنے ہاتھ سے شراب کا پیالہ بھر بھر کر پیش کرتا اور عالم نشہ و سرور کی رعنائیاں دیکھتا، کہتے ہیں کہ ایک دن زین آبادی نے اپنے ہاتھ سے جام لبریز اورنگ زیب کو دیا ، اور اصرار کیا کہ لوں سے لگائے ، دیکھے عرنی کا ایک شعر کیا موقع سے یاد آگیا ہے اور کیا چسپاں ہوا ہے۔

ساقی نوئی و سادہ دلی بیں کی شیخ شہر
باور نمے کند کہ ملک مے گسارشد


شہزاد نے ہر چند عجزو نیاز کے ساتھ التجائیں کیں کہ میرے عشق و دل باختگی کا امتحان اس جام کے پینے پر قوف نہ رکھو:

مے حاجت نیست مستیم را درچشمِ توتا خمارباقیست

لیکن اس عیار کو رحم نہ آیا۔
ہنوز ایمان و دل بسیار غارت کردنی دارد
مسلمانی بیآ موزآں دوچشم نا مسلماں را

نا چار شہزادے نے ارادہ کیا کہ پیالہ منہ سے لگائے، گویا و لقدہمت بہ وھم بھا کی پوری روئداد پیش آگئی۔

عشقش خبرز عالم مدہوش آورد اہل صلاح رابقدح نوش آورد

لیکن جونہی اس فسوں ساز نے دیکھا کہ شہزادہ بے بس ہو کر پینے کے لئے آمادہ ہوگیا ہے ۔فوراً پیالہ اس کے لبوں سے کھینچ لیا اور کہا ۔
غرض امتحانِ عشق بودنہ کہ تلخ کامی شما
اس جور دیگر است کہ آزاد عاشقاں چنداں نمے کند کہ بہ آزاد خوکنند
رفتہ رفتہ معاملہ یہاں تک پہنچا کہ شاہجہاں تک خبریں پہنچنے لگیں اور وقائع نویسوں کے فردوں میں بھی اس کی تفصیلات آنے لگیں۔ داراشکوہ نے اس حکایت کو اپنی شکایت و غمازی کا دست مایہ بنایا۔ وہ باپ کو بار بار توجہ دلاتا۔ ’’بینیدایں مزور ریائی چہ صلاح و تقویٰ ساختہ است؟‘‘
ہافیضی نے کیا خوب کہا ہے ؂

چہ دست می بری اسے تیغ عشق گرداداشت ببر زمانِ ملامت گرزلیخارا

نہیں معلوم اس قضیہ کا غنچہ کیونکر گل کرتا لیکن قضا وقدر نے خود ہی فیصلہ کر دیا یعنی عین عروج شباب میں زین آبادی کا انتقال ہوگیا اورنگ آباد کے بڑے تالاب کے کنارے اس کا مقبرہ آج تک موجود ہے۔


اورنگ زیب کے بعد سلطنت کا آفتاب گہن میں آگیا، تمام ملک میں عالمگیری پینٹ اُکھڑ گیا ، شمشیر و سناں طاقِ نسیاں پر چلے گئے اور اُن کی جگہ طاؤس و رباب نے لے لی ، ہر کوئی عیاشیوں میں ڈوبا ہوا تھا ہر کہیں طوائف الملو کی کا دور دورہ تھا۔ ہر کسی کی آنکھ کا پانی مرچکا تھا ، ہرگھر میں وضع داریوں نے دانت نکوس دیئے تھے۔ القصہ تمام ملک لہوو لعب کا ایک عبرت ناک مرقع تھا۔ غلام قادر روہیلہ نے شاہ عالم کی بیٹیوں اور بہوؤں کو ننگے بند ناچنے پر مجبور کیا۔ وہ ناچنے لگیں اور خود خنجر کھول کر بظاہر غافل ہوگیا ، وہ ناچ چکیں تو خنجر اُٹھا یا اور کہا ، غیرت تیمور کے گھر سے واقعی رخصت ہوچکی ہے۔

محمد شاہ نے نادر شاہ درانی کی مدارات کے لئے نوربائی ڈومنی کو گوایا۔ نادرشاہ اس کے نورانی گلے سے بڑا ہی خوش ہوا، انعام دیا ، لیکن ساتھ ہی کہا:

نور بائی روے ہند سیاہ کن ۔ بیاکہ بہ ایرانت بریم
نوربائی کارنگ فق ہوگیا لیکن پھر سنبھل گئی اور یہ غزل گائی ؂

من شمع جانگدازم تو صبح دلربائی سوزم گرت نہ بینم میرم چورُخ نمائی

نزدیکت این چلیم دور آنچناں کہ گفتم نے تاب و صل دارم ، نے طاقت جدائی

نادرشاہ اس برجستہ و برمحل غزل سے بہت محظوظ ہوا اور اپنے ارادہ سے باز رہا ، الغرض ان خوش جمالوں سے بادشاہوں کی تاریخ بھری پڑی ہے اور جن عورتوں کی ہم فاحشہ کہتے ہیں وہ اصلاً ان بادشاہوں ہی کی تنور کی سوختہ ہیں۔
****
ہندوستان کے مسلمان بادشاہوں میں سب سے پہلا چکلہ محمد تغلق نے اپنی راجدھانی دولت آباد کے نزدیک طرب آباد کے نام سے قائم کیا۔ ہر روز عصر کے وقت چکلہ کا چودھری وسطی بُرج میں آبیٹھتا۔ تمام رنڈیاں اور گویے باری باری مجرا بجا لاتے ، پھر جب سورج ڈوب جاتا تو بازار سجتا ، خریدار آتے، اسی میں صبح ہو جاتی ۔ امیرشمس الدین تبریزی سب سے بڑا درباری گویا تھا جس کے ماتحت دربار کی بیسیوں رنڈیوں کے کوٹھوں میں اکثر و بیشتر مکانی قرب رہا ۔تمام چکلے ملک یا صوبے کی راجدھانی کے اُس حصے سے ملحق ہوتے جہاں قلعہ ہوتا یا امرا سلطنت کے محل ، مثلاً شہنشاہ اکبر نے آگرہ میں فتح پور سیکری کے پاس رنڈیوں کے لئے شیطان پورہ آباد کیا تھا۔ دہلی میں چاندنی چوک اور قلعہ معلی سے ملحق چاوڑی بازار تھا۔ لکھنؤ کا چکلہ واجد علی شاہ کی عمارتوں کے نزدیکی راستہ پر ہے۔ خود لاہو ر کو دیکھئے، شاہی قلعہ اور لاہور کے چکلے میں چند ہی قدم کا فاصلہ ہے۔ اب امتدادِ زمانہ سے لاہور کی ہیت کذائی کافی زیر و زبر ہوچکی ہے لیکن شہر کی جغرافیائی بناوت سے اس کے آثاراب بھی مل جاتے ہیں۔ قلعہ کی پیٹھ پر بارو دخانہ تھا اس کے آگے موتی بازار ، نشیبی سمت پر شاہ عالمی دروازہ ، اور دائیں کو مُڑ کے چکلہ جو آج بھی بازار چوک چکلہ کہلاتا ہے۔ چوک چکلہ سے لوہاری دروازہ کو نکل آئیے تو انار نکلی بازار ہے۔ اس فرضی طوائف ہی سے جہانگیر کے عشق کی داستان منسوب کی جاتی ہے۔

قریب نصف صدی پہلے انارکلی میں طوائفیں بیٹھا کرتی تھیں ، لاہور میونسپلٹٰ کی تجویز پر اُن کو اُٹھا دیا گیا اُس وقت سے ہیرا منڈی کا علاقہ ان کے لئے مخصوص ہے۔

(جاری ہے۔۔۔ )

Offline Nazli

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 103
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #7 on: January 05, 2019, 07:53:52 am »
چکلہ کا لفظ کیونکر وضع ہوا ؟ اس پر لسانیات کے ماہر ہی و ثوق سے کچھ کہہ سکتے ہیں۔ لغت میں چکلہ کے معنی قحبہ خانہ کے ہیں۔ اس کا مادہ چکیدن ہوا جس کے معنی جانور کے اڈے پر بیٹھنے کے ہیں۔ دو مصدر اور ہیں چکاندن اور چکانیدن جو ٹپکانے کے معنی ہیں آتے ہیں، چکلہ کا لفظ ان سے بھی ماخوذ ہوسکتا ہے۔ خود چک کا لفظ مختلف المعنی ہے زمین کے معنی میں بھی آتا ہے ، اور مردانہ عضو کے لئے بھی ، اسی طرح چکلہ کی املا غور طلب ہے۔ ۔۔
آہستہ آہستہ رنڈیوں کے صفاتی ناموں میں ان کی پیشہ ورانہ بوقلمونی سے اضافہ ہوتا گیا بالخصوص اُس دور میں جب سلطنت اودھ پر شجاع الدولہ اور پھر واجد علی شاہ کا پرچم لہراریا تھا اور دہلی میں محمد شاہی امراء عورتوں کو چوسر کی نردیں سمجھتے تھے۔ اشرف صبوحی کے الفاظ میں۔
’’شہزادے پانی میں پالتی مارے ہوئے بیٹھے ہیں۔ ایک زانو پر پیچوان لگا ہے دوسری پر رنڈی بیٹھی ہے ، دھنواں اُڑاتے اور ملہار سنتے چلے جاتے ہیں۔ ‘‘
یہ زمانہ سلطنت کی ویرانی کا تھا، صرف ظاہری رسموں اور معنوی رواجوں کا طنطنہ باقی تھا جس نسبت سے بازو کی قوت گھٹتی گئی اُسی نسبت سے زبان کی نزاکت بڑھتی گئی ، جن کا پیشہ ناچنا اور گانا تھا اُن کو طوائف کہا گیا ، جن کا کاروبار بدن کی فروخت ٹھیرا وہ کسبیاں کہلائیں یا کنچنیاں اور جو محض ’’بازاری مال‘‘ تھیں۔ یعنی روپے اور جسم میں تبادلہ کرنے والی وہ ٹکیائیاں ٹھیریں۔ اُن کے لئے بیسوا رنڈی ، پاتر اور دیشیا کے لفظ معنی بھی مستعمل ہیں۔ جن میں ایک باریک سامعنوی فرق ہے اور اب تو بعض کمین ذاتیں بھی ان میں محسوب ہوتی ہیں مثلاً مراثنیں، ڈوغیاں اور پیرنیاں وغیرہ۔۔۔ کنچن کوئی ذات نہیں صرف پیشے کی رعایت سے ایک ذات بن گئی ہے اور اب ہر اس جمعیت انسانی کو کنچن کہتے ہیں جن کا تعلق طوائفوں اور کسبیوں کے خاندان سے ہوتاہے۔
شجاع الدولہ اور واجد علی شاہ کے لکھنؤ نے طوائفیت کی مختلف شاخوں کو پروان چڑھایا۔ ایک ایسا معاشرہ پیدا ہوگیا کہ مسلمان بادشاہوں کی پوری تاریخ میں طوائف کے عروج کی اتنی بڑی مثال نہیں ملتی ۔
شجاع الدولہ نواب صدر جنگ کا بیٹا تھا، جب اس کی انگریزوں سے صلح ہوگئی تو اُس نے فیض آباد کا سفر اختیار کیا۔ احمد خاں بنگش نے اس کے قصدِ سفر سے پہلے تین نصیحتیں کیں، اولاً مغلوں پر اعتبار نہ کرنا ، ثانیاً فیض آبا دکو دارالحکومت بنانا ، ثالثاً خواجہ سراؤں سے کام لینا۔ شجاع الدولہ نے ان تینوں باتوں کو آویزہ گوش بنالیا، پہلا کام یہ کیا کہ فوج کی کمان خواجہ سراؤں کو سونپ دی۔ سب سے بڑے ڈویژن میں چودہ ہزار سپاہی تھے جن کی وردی کا رنگ سرخ تھا۔ خواجہ سرالسبنت علی خاں کو ان کا کمانڈر بنایا، اسی نام کے ایک دوسری خواجہ سرا کی ماتحتی میں ایک ہزار سیہ پوش گھڑ سوا ر تھا۔ خواجہ سراعنبر علی کی زیر ہدایت پاپخ سو گھڑ سواروں کا دستہ اور خواجہ سرا محبوب علی کی ماتحتی میں پانچو شہسواروں کی چار پلٹنیں ، ایک اور خوش چہرہ خواجہ سرا لطافت علی کے ماتحت فوج کے اتنے ہی دستے تھے۔ علاوہ ازیں شجاع الدولہ کے دربار میں بہت سے زنانہ اور مردانہ طائفے تھے۔ شرر مرحوم نے لکھا ہے کہ شجاع الدولہ کا دل ہمیشہ خوبصورت عورتوں سے پُرتھا ۔ یہاں تک کہ سلطنت کا چپہ چپہ الناس علی دین ملوکھم کی جوہ گاہ بنا ہوا تھا، کئی نامور ڈیرہ دارنیاں تھیں جن کے ہمراہ عالیشان خیمے رہتے تھے ، جب شجاع الدولہ سلطنت کے مختلف اضلاع کا دورہ کرتا تو بادشاہ کے ہمراہ خیمے بھی ہوتے ، جہاں جی چاہتا خیمے گاڑ دیے جاتے ۔محفل جمتی اور آناً فاناً رقص و نغمہ کا چمن آراستہ ہوجاتا۔
واجد علی شاہ کے عہد میں شجاع الدولہ کا لگایا ہوا پودا ایک تناور درخت بن گیا۔ حتیٰ کہ واجد علی شاہ اور لہوو لعب ہم معنی الفاظ ہوگئے۔ واجد علی شاہ بچپن ہی سے حسن و نغمہ کی گود میں پلا تھا۔ اور ابھی سن شعور کو بھی نہ پہنچا تھا کہ اس کی عمر کے بہت سے اُجلے ورق طوائفوں کی ہم آغوشی سے داغدار ہوچکے تھے، جب تخت پر بیٹھا تو عورتوں سے اس کی رغبت کا یہ عالم تھا کہ اس نے فوج کی کایا پلٹ دی، رسالوں کا نام بانگا ، ترچھا اور گھنگھور رکھا۔ پلٹنوں کے نام اختری اور نادر ، جودو مشہور طوائفوں کے نام پر تھے ، واجد علی شاہ متعہ کو مذہباً جائز سمجھتا تھا۔ ہر وقت عورت جو اس کی ہوس کا شکار رہتی اس کو متعہ کے خطاب سے نوازتا۔ ایک دفعہ بھنگن پرجی آگیا تو صرف اُسے فیضیاب کر ڈالا بلکہ نواب مصفا بیگم کے لقب سے ملقب کیا ، کسی بہشتن پر دل للچایا تو اُس کو نواب آب رساں بیگم بنا ڈالا ۔ واجد علی شاہ مسلمان فرمانرواؤں میں پہلا بادشاہ تھا جس نے خوب صورت عورتوں کی
ایک چھوٹی سی فوج بنائی۔
(جاری ہے)

 

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.