Author Topic: ---اُس بازار میں  (Read 2222 times)

Offline Nazli

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 103
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #8 on: January 05, 2019, 08:05:16 am »
آج فوجوں میں جو زنانہ دستے نظر آتے ہیں۔ وہ غالباً اُسی نظیر پر قائم ہیں ،خود بادشاہ کا وزیر علی نقی خاں ارباب نشاط میں سے تھا۔ اُس کی بیٹی نواب اختر محل شاہ کی ملکہ تھیں ، اکثر نابالغ اور کم سن لڑکیاں بادشاہ کی نظر کا شکار ہوجاتیں ۔ تو انہیں غیر ممتوعہ بنا کر رکھ لیا جاتا۔ اور جوان ہوتے ہی ممتوعہ بنا لیا جاتا پھر مختلف حالات میں اُن کے سپرد گانے اور ناچنے کا کام ہوتا۔ یہ اتنی زیادہ تھیں کہ ان کے طائفے بنا دیے گئے ، ہر طائفہ کا نام اُن کی خصوصیت پر رکھا گیا مثلاً:
رادھا منزل والیاں ، جھومر والیاں ، لٹکن والیاں، ساردھا منزل والیاں ، نتھ والیاں ، گھونگھٹ والیاں ، نقل والیاں اور اچھوتیاں۔ ان میں اکثر بادشاہ کے قریب سلطانی خانہ میں رہتیں۔ بعض کو کوٹھیوں میں محل سرائیں ملی ہوتی تھیں۔ جس کے ہاں بچہ پیدا ہوتا اُسے محل کا خطاب دیا جاتا۔ جو صاحب اولادنہ ہوتی اس کو بیگم کہتے۔ بیگموں کی تنخواہ روٹی کپڑے کے علاوہ چھ سے بیس روپے ماہانہ ہوتی البتہ محلات کے زمرے میں آتے ہی دو سو روپے ماہوار ہوجاتے اور رہنے کو محل اسرا اور ڈیوڑھی میں دربان وغیرہ دیے جاتے تھے۔ ہر ممتوعہ کا نام چن کر رکھا جاتا۔ پری جمال بیگم ، خور شمائل بیگم ، گُل رخ بیگم اور نازک اندام بیگم۔
اس طرح محلات کے نام ہوتے تھے ، نواب خاص محل صاحبہ ، نواب معشوق محل صاحبہ ، نواب دلدار محل صاحبہ ، نواب عاشق سلطان محل صاحبہ، نواب ممتاز محل صاحبہ ، نواب اختر محل صاحبہ ، نواب قیصر محل صاحبہ ۔۔۔ اور یہ کوئی ستر کے قریب ممتوعات و محلات تھیں۔ انہی عیاشیوں کی بدولت واجد علی شاہ ہندوستان میں مسلمانوں کی بدبختی کاآخری مرقع تھا۔ اُس نے ناچ اور گانے میں وہ ایجادیں کی ہیں کہ اب تک بڑے بڑے اُستاد ان فن اس کا لوہا مانتے ہیں وہ کئی راگنیوں اور نرتوں کا موجد اور معلم تھا۔ کوئی رقاصہ کہیں چوکتی تو پلنگ پر لیٹے لیٹے بھاؤ بتا کر اصلاح کر دیتا۔ کسی گویے کی آواز میں کوئی عیب ہوتا تو فوراً ٹوک دیتا۔ خودتال اور سُرکی ایک ایک ادا کامزاج واں تھا۔ اس کا وجود عیش و عشرت کا پیکر تھا۔ کبھی کبھار اپنے اُوپر زچگی کی کیفیت طاری کر لیتا اور بچہ جنتا ، اس پر دربار میں مبارکبادیں چلتیں ، نیازیں بٹتیں ، مجرے ہوتے۔ جب انگریزوں نے قید کر کے کلکتہ پہنچا دیا۔ تو وہاں بھی عیش و عشرت ہی کو اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا ، جن ممتوعات کا عشق سر پر سوار تھا انہیں قید خانہ سے عشقیہ خطوط لکھتا، اُن سے کچھ نہ کچھ مانگ بھیجتا، مثلاً دلدار محل سے مسی مانگی ، اختر محل سے زُلفوں کے بال ، انہیں سرہانے رکھ کر سوتا اور بار بار سونگھتا ، جعفری بیگم سے دولائی دوپٹہ منگوایا جس سے لپٹ کر بار بار روتا۔ غرضیکہ واجد علی شاہ نے ایک ایسے لکھنؤ کو جنم دیا جو عیش و نشاط کے سانچے میں ڈھل کر خود ایک کسبی ہوگیا تھا۔
لکھنؤ میں رنڈیوں کے تین طائفے تھے۔
کنچنیا، یہ نیچ ہندوذات کی پیشہ و عورتیں تھیں ، جنہوں نے پنجاب سے نقل مکانی کر کے فیض آباد میں ڈیرے ڈالے تھے ، انہیں کے دم قدم سے لکھنؤ کا چکلہ آباد تھا۔
چونہ والیاں ، یہ تعداد میں دوسرے درجہ پر تھیں۔ ان کا کام ناچنا اور گانا تھا ان میں حیدر بائی چونے والی مشہور طوائف گزرے ہے ، جس نے نور کا گلا پایا تھا۔
ناگرنیاں: یہ پچمیل مٹھائی تھیں جن میں ہر قوم کی فاحشہ عورتیں ضم ہوگئی تھیں ان کی برادری کا دائرہ بہت پھیلا ہوا تھا لیکن ڈیرہ دارنیاں فصیح محاورہ تھیں جنہیں ہر شخص استعمال کر سکتا تھا فی الجملہ ان کا وجود روزمرہ تھا۔
حیدربائی کی آواز میں جادو تھا ، گوہر بائی کا رقص اس بلا کا تھا کہ الہ آباد کی نمائش میں یورپین محو حیرت رہ گئے ، کچھ عرصۃ بعد زہرہ و مشتری کا طوطی بولنے لگا ، زہرہ تو خود شاعرہ تھی۔ قدرت نے آواز میں سحر بھردیا تھا یہ شعر اُسی کا ہے ؂
رات کا خواب الٰہی توبہ
آپ سنیئے گا تو شرمائیے گا
مشہور فلم سٹار نرگس کی ماں جدن بائی اس محفل کی آخری شمع تھی۔ مولانا عبدالحلیم شرر نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ اس کو مور پنکھی ناچ مین وہ کمال حاصل تھا کہ نرت نرت پر وقت ٹھہر کر اس کی اداؤں سے چشم سیر ہوتا تھا۔
اسی زمانے میں طوائفوں نے بعض پیشہ ورانہ اصول وضع کئے اور اپنی معاشرت میں بعض ایسے الفاظ شریک کئے جن سے ان کی معصیت ڈھک گئی ۔ مثلاً وہ کسی مرد سے مقررہ مشاہرہ زنا شوئی کے تعلقات قائم کرتی تو پیشہ کی اصطلاح میں اس کی ملازمت کہتے تھے ۔یہ رواج اب بھی ہے ، ایک طوائف جس مرد سے مشاہرہ پر تعلقات قائم کرتی ہے اُس کا بدن اسی کے تصرف میں رہتا ہے لیکن رقص و نغمہ کے لئے اس کا دروازہ ہر ایک کے لئے کھلاہوتا ہے۔
یہ تھا نستعلیق لکھنؤ ۔۔۔ مگر محمد شاہ رنگیلے کی دہلی کا اخلاقی انحطاط اس سے بھی افزوں تھا۔ نواب درگاہ قلی خاں نے اس عہد کا تذکرہ لکھا اور خواجہ حسن نظامی نے اُس کو اُردو میں منتقل کیا ہے۔ ایک اقتباس یہ تصرف ادنیٰ ملاحظہ کیجئے۔
’’جدھر نگاہ اُٹھا کر دیکھئے دہلی کے خوش باش لوگ زندگی کی بہار لوٹنے میں مشغول ہیں ہر کوچہ و بازار حسن و عشق کے معرکے ہیں ، ہر درخت کی چھانوں میں عاشق و معشوق رنگ رلیاں کرتے نظر آتے ہیں ہر میدان میں محبوں اور محبوبوں کی ٹولیاں سیریں کرتی اور جھومتی نظر آتی ہیں۔ ہر باغ میں الھڑ حسینوں اور خوش چہرہ لڑکوں اُن کے شید ائیوں اور دلفگاروں کے راز و نیاز کی محفلیں جمی ہوتی ہیں۔۔۔ یہ رات کے ابتدائی حصے کے منظر ہیں جب رات زیادہ آجاتی تو بس دہلی والوں میں بھی شباب کی اُمنگیں زور مارنے لگتی ہیں اور وہ محتسبوں یاراہ گیروں سے بے نیاز ہو کر بے اندیشہ اور بے خطر ہوس رانی میں لگ جاتے ہیں ، نو خط مرد محبوبی اور معشوقی کا کام کرتے ہیں لیکن بعض لوگ اس کو پسند نہیں کرتے وہ عورتوں اور نوجوان لڑکیوں کی تلاش میں رہتے ہیں اور یہ کوئی دشوار کام نہیں کیونکہ اس قسم کی آوارہ عورتیں بکثرت موجود ہوتی ہیں۔‘‘
میر کلو ایک آزاد منش نوجوان ہے اس کو امیرزادوں اور نوجوانوں کی طبیعت پر قابو ہے اور ہمیشہ دلجوئی و خاطر داری کے لئے ان کی خواہشوں کو پورا کرتا ہے ، اس کی خوبی یہ ہے کہ عیش و نشاط کے لوازمات میں کسی چیز کی کوتاہی نہیں کرتا، میرزا مشرف کے عُرس پر جب اُمراء اور ان کے صاحبزادے آتے ہیں تو ہر کوئی اپنے ہمراہ کم سن اور طرار معشوقہ یا نوخط امرد کو لاتا ہے اُن کا قیام میرزا کلو کے خیموں میں ہوتا ہے جو ہر ایک کے لئے الگ الگ فاصلہ پر باغ میں لگے ہوتے ہیں ، جس کا جوجی چاہتا ہے کرتا ہے کوئی محتسب نہیں ہوتا ، تمام سامان عیش و رندی پہلے سے تیار رہتا ہے۔ ہر ایک معشوق کے ساتھ شراب کے دور چلنے شروع ہوجاتے ہیں۔ پس اس منزل پر پہنچ کر نفسانی خواہشات آزادی کے ساتھ پوری کی جاتی ہیں۔ امیر الا مراء اعظم خاں کے متعلق لکھا ہے کہ وہ ہر خوبصورت عورت اور خوش چہرہ لڑکے کو حجلہ ہوس میں لانے کے لئے کوشاں رہتا تھا۔ میرزا منوامرد پرستی میں یگانہ روزگار تھا انہی امراء میں ایک خوش باش لطیف خان تھا اس کے ہاں ہر شب محفل جمتی ، مبغچے حاضر ہوتے ، حقے خوشبو میں بسے رہتے۔ ہر ایک کے سامنے گلاب پاش رکھے ہوتے اور تمام مکان رات بھر اندر سما بنا رہتا۔ طوائفیں آتیں مجرے ہوتے اور جب تک رات تابہ کمر نہ آپہنچتی اُس وقت تک بادو انگور و بادہ سخن کا دور چلتا۔ لوگ جرعہ ہائے شراب سے لے کر جرعہ ہائے رخسار تک سے لُطف اندوز ہوتے ۔ میرن دہلی کا ایک رئیس زادہ تھا جو وزیر الملک کے مزاج میں دخیل ہوگیا تھا اس کا کام وزیر الملک کے لیے خوش چہرہ لڑکوں کی فراہمی تھا اس کے دلال صبح و شام حسینوں کی توہ میں رہتے اور خلوت شبینہ کے لئے خوبصورت لڑکے جمع کرتے ، وزیر الملک نے اس شوق میں لاکھوں روپے صرف کئے جس سے اُ س کا محل خوبصورت لڑکوں کی جلوہ گاہ بنا ہوا تھا۔
محر شاہ کے ہزاریوں میں کسل سنگھ ایک سردار تھا اُس کے نام پر کسل پورہ آباد تھا جہاں کسبیاں پیشہ کماتی تھیں۔
ارباب نشاط میں نعمت خاں اور اُس کا بھائی موسیقی میں نازک سے نازک خیال ادا کرنے پر قادر تھے۔ غلام رسول اور جانی قوالی میں یکتائے روزگار تھے۔ باقر تنبورہ بجانے میں یگانہ تھا۔ خود بارشاہ اُس پر جی جان سے فدا تھا ۔ حسن خان رباب بجانے میں بے مثال تھا۔ غلام محمد سارنگی بجانے میں منفرد ، بڑے بڑے با کمال اُس کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کرتے تھے۔ قاسم علی ، نعمت خاں کا شاگرد تھا۔ اُس کی آواز اور اس کے چہرے میں زبردست کھچاؤ تھا معین الدین اور برہنا الدین جادو اثر قول تھے گھانسی رام پکھاوج میں وحید العصر تھا۔ رحیم خاں کو خیال گانے میں ملکہ حاصل تھا۔ شجاعت خان اپنی آواز کے بل پر بادشاہ تک رسائی رکھتا تھا۔ حسن خان ڈھولک بجانے میں بے نظیر تھا اور اور چہ ماہ تک نت نئی گت کے ساتھ ڈھولک بجا سکتا تھا جب اُس کی انگلیاں ڈھولک پر تیزی اور خوبصورتی سے چمکتیں تو معلوم ہوتا اندھیری رات میں جواہرات یا ستارے جگمگارہے ہیں اور ارض و سما رقص میں ہیں۔ خوا اور انوٹھا مشہور نقال تھے۔ سبزہ اور زمرد دونوخیر لڑکے تھے۔ جب ناچتے تو ایسا محسوس ہوتا جیسے چمنستان متحرک ہیں۔
یہ تو مردوں کی خصوصیتیں تھیں۔ عورتوں کے احوال اس سے بھی سوا تھے۔
معشوقہ ابوالحسن ، محمد شاہ کی محبوب رقاصہ تھی۔ آواز میں تمکنت لہجہ میں لوچ اور ادا میں رنگینی جو دیکھتا اُسی کا ہو رہتا۔ نوربانئی ڈومنی تھی۔ لیکن فصیح گفتگو میں اس کا جواب نہ تھا اس کا مکان ایک مرصّع دربار تھا۔ ہمیشہ ہاتھی پر سوار ہو کر سیر کو نکلتی چوب دار اور ملازم محافظہ دستہ کی حیثیت میں ہمراہ ہوتے ،لیکن جب اُمراء بلا بھیجتے تو قیمتی ہدیے بھیجتے۔ ایک دو نہیں بیسیوں رئیس اُس کے ہاں لُٹ گئے، اچھے اچھوں کو حویلیاں کھد گئیں۔ اس کی معیّت میں بہت سی عورتیں ہوتی تھیں جنہیں بیگم اور خانم کہاجاتا تھا۔ ان سب کا فن روپیہ کھینچنا تھا اکثر قارونی جیبیں اُن کی بدولت خالی ہوچکی تھیں۔

(جاری ہے  )

YUM Stories

Re: ---اُس بازار میں
« Reply #8 on: January 05, 2019, 08:05:16 am »

Offline dewta_mastermind

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1464
  • Reputation: +4/-2
  • Gender: Male
  • بہت انتظار کر لیا اب تو مل جا
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #9 on: January 05, 2019, 11:53:37 am »

نازلی صاحبہ کمال کر دیا آپ نے
کہاں تھی آپ اس سے پہلے
کیا کمال کا آئیڈیا لے کے آئی ہیں
سپیلنگ کی کافی غلطیاں ہیں مگر چلیں گی
تصویر بنا کہ میں تیری جیون دا بہانا لبھیا اے

توں نہ ملیوں وچھڑ کہ چن  سجناں اساں  سارا زمانہ لبھیا اے

YUM Stories

Re: ---اُس بازار میں
« Reply #9 on: January 05, 2019, 11:53:37 am »

Offline Nazli

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 103
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #10 on: January 06, 2019, 12:28:59 am »

نازلی صاحبہ کمال کر دیا آپ نے
کہاں تھی آپ اس سے پہلے
کیا کمال کا آئیڈیا لے کے آئی ہیں
سپیلنگ کی کافی غلطیاں ہیں مگر چلیں گی
thanks Dewta g

Offline Nazli

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 103
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #11 on: January 06, 2019, 12:39:46 am »

میر بیگم ایک عجیب الخلقت طوائف تھی، اس کا کمال یہ تھا کہ مجلسوں میں برہنہ آتی ہر حصہ عریاں ہوتا ۔ لیکن اس انداز میں پاجامے کی نقاشی کرواتی جیسے کمخواب کا بیلدار پاجامہ پہن رکھا ہو۔ اس عُریانی کو ہر کوئی پہچان نہ سکتا تھا تمام لوگ مبس ہی سمجھتے تھے۔
اعتماد الدولہ کی داشتہ کا نام رام رجنی تھا ۔ زینب اور گلاب بڑی پایہ کی ڈیڑہ دارنیاں تھیں ، ان کے دروازے پر دستک دینا ہر کسی کے بس سے باہر تھا۔ رحمان بائی محض رقاصہ تھی، لیکن پیکر بدن ایسا تھا جیسے شام کشمیر مجسم ہوگئی ہو۔ پنا بائی کی آواز میں وہ سحر تھا کہ زندے سے تڑپ اُٹھتے اور مردے جی جاتے تھے، اُس نے بہت سی راگنیاں بھی تخلیق کی تھیں۔ پانی پرلکیر کھینچنا اور ہوا میں گرہ لگانا اُس کے بائیں ہاتھ کا کرتب تھا، کمال بائی درباری مغنیہ تھی۔ کنور بائی کی بیٹی کا نام اومابائی تھا۔ اس کا دہن گلدستہ تھا جہاں اس کی ماں کا حُسن ختم ہوتا ، وہاں سے اُس کا حُسن شروع ہوتا تھا۔ پنا اور تنو محمد شاہ کی منہ چڑھی طوائفیں تھیں۔ جب محمد شاہ نے نادر شاہ کی لوٹ سے دل برداشتہ ہو کر ارباب نشاط کو چھٹی دے دی تو یہ دونوں بالا خانوں پر آبیٹھیں جہاں ہر شب مغل شہزادے اپنی صبح انجام کو قریب لاتے تھے۔
ادھر 1857 ؁ء میں دہلی پر جو قیامت ٹوٹی اس سے پرانی ثقافت کے درو دیوار تک ہل گئے ۔ تمام ملک بارہ باٹ ہوگیا ۔ جنہوں نے کبھی کسی کا ہاتھ نہ جھٹکا تھا اُن کے دامن کشکول ہوگئے اور اب جامع مسجد کی سیڑھیوں پر پیٹ کی دُہائی دے رہے تھے ، ادھر خاندانی شرافت فقیر کی گدڑی ہوگئی۔ ادھر ہر کوئی بے توا کا سونٹا بنا پھرتا تھا ۔جن چہروں پر دہلی لکھنؤ کی شرافت کا انحصار تھا وہ تتر بتر ہوگئے۔ ہر شے پر جھوٹا جھول چڑھنے لگا ۔ شرفا کی لاج لچوں کا قہقہہ بن گئی اوردیکھتی آنکھوں ایسا انقلاب برپا ہوگیا کہ تیمور و بابر کی بیٹیاں تن ڈھانپنے کے لئے چیتھڑے ڈھونڈتی پھرتی تھیں۔
تاریخ فحاشی شاہد ہے کہ کسبیوں کا وجود جنگ یا انقلاب کی کوکھ سے پید اہوتا پھر پنپتا اور بڑھتا ہے۔ یونان اور روما کی تاریخ الفحشاء میں بھی اس کا اعتراف موجود ہے اور خود برصغیر ہندوستان کی تقسیم اس کی تازہ شہادت ہے۔ پچھلی دو بڑی جنگوں میں جو کچھ ہوتا رہا۔ وہ کس سے پوشیدہ ہے۔ اس مادی تباہی سے قطع نظر جو یورپ میں اپنے خطرناک نتائج چھوڑ گئی۔ سب سے بڑا سانحہ وہ اخلاقی تباہی ہے جس سے عورت ایک جنس بن چکی ہے۔
پچھلی جنگ میں آسام کی سرحد پر ایک غیور قوم موگ نے قحط کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ اور جب بھُوک کا تقاضا شدید ہوگیا تو موگ عورتوں نے اتحادی سپاہیوں کے ہاتھوں اپنی ہر عصمت بیچ ڈالی ۔ جو بہرحال روٹی کا بدل تھا۔۔ روٹی ۔۔اور ۔۔ عصمت۔
1857ء کا سانحہ اپنے ساتھ ہی نتائج لایا تھا، جب تاج و تخت ہی چھن گئے تو اُن کی وابستگیاں بھی جاتی رہیں۔ معاشرہ کا معاشرہ تہس نہس ہوگیا۔ وہ رنڈیاں جن سے شرفا کے بچے آداب مجلس سیکھتے تھے شمع راہگذار ہوگئیں، جن کی زبان میں کوئی ہچکی نہ تھی۔ اس طرح اُٹھتی گئیں کہ معیاری طوائف کا تصور بتاشہ کی طرح بیٹھ گیا۔ اس کے برعکس بازاریوں میں حیرتناک اضافہ ہونے لگا اور وہ خرابیاں جو اس پیشہ کے آداب سے ناواقف تھیں جہاں تک اُتار و اتر گئیں کہ وہ جسم کو گوشت کے بھاؤ بیچنے لگیں۔ وضعداری کے تمام سانچے ٹوٹ گئے۔
مولانا شبلی کے ایک طنزیہ سوال پر سر سید نے کہا تھا۔ اُس زمانے کے لوگ واقعی اپنے دوست کی داشتہ کو بھاوج کی نظر سے دیکھتے تھے ۔ خود طوائف کا یہ حال ہوتا تھا کہ جس سے ایک دفعہ تعلق ہوجاتا اُس سے عمر بھر ناطہ نہ ٹوٹتا۔
تھوڑے ہی دنوں میں غدر کا ہنگامہ فرو ہوگیا اور استعمار انگریزی کی مصلحتوں نے ریاستوں کے وجود کو ربرقرار رکھا تو ریاستیں طوائفیت کی پشتیبان ہوگئیں چنانچہ غدر کے بعد طوائفوں کے ادارہ کو فروغ دینے میں سب سے نمایاں ہاتھ نوابوں ، مہاراجوں ، خانوں ، تعلقداروں اور زمینداروں کا ہے۔ اس براعظم میں طوائف کا موجود ہ نظام براہ راست جاگیرداروں کی پیداوار ہے جو تکلف ، تصنع ، استحصال اور جاگیرداری نظام کی خلقی خصوصیت ہے، وہی خصوصیت ایک طوائف کی سیرت کا پر تو ہے۔ ہندوستان میں تقسیم سے پہلے ۔۔۔ 562ریاستیں تھیں۔ سب سے بڑی حیدر آباد جہاں پونے دو کروڑ لوگ لیتے تھے سب سے چھوٹی بلباری جس کی آبادی صرف 72نفوس پر مشتمل تھی۔ ان سب ریاستوں کے رگ و ریشہ میں (اِلا ماشاء اللہ ) طوائف کا خون دوڑتا رہا۔ ان میں سے بیشتر کے فرماں روا طوائفوں ہی کی اولاد ہیں اور ان کا خمیر و ضمیر طوائف ہی کی مٹی میں گندھا ہوا ہے ، یہ بات پایہ تحقیق کو پہنچ چکی ہے کہ طوائف کا ادارہ جاگیرداروں ہی کی وجہ سے پروان چڑھا ہے۔ بڑی بڑی ریاستوں میں کسبیاں پلتی اور چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بکتی ہیں۔ ان ریاستوں کے گھناؤ نے نظام کے باعث بردہ فروشی کو خاصا فروغ ہوا۔ مرحوم پنجاب میں چمبہ کا علاقہ خوبصورت لڑکیوں کی فروخت کے لئے بے حد مشہور تھا ۔ مہاراجہ پٹیالہ نے اپنے والد کی تین سو سے زائد بیویوں کو 35روپے فی نفر کے حساب سے فروخت کیاتھا، ہندوستان میں بہت سے راجے اوز نواب ایسے تھے جو بیک وقت بیٹی اور ماں سے مستفید ہوتے رہے۔ خود مجھے ایک طوائف نے عندالملاقات بتایا کہ ریاستوں میں گورا رنگ اور سرمئی آنکھیں ہمیشہ راجواڑوں کی ملکیت سمجھی گئیں ۔ مشہور کہاوت ہے کہ:
’’ریاستوں میں خوبصورت لڑکیاں ترقی حاصل کرنے کے لئے جنی جاتی ہیں۔ ‘‘
ایک انگریز افسر نے جو ریاستی محکمہ میں کام کر چکا تھا اپنے ایک مراسلہ میں برطانوی حکومت کو لکھا تھا کہ ریاستی افسروں کا صرف ایک ہی کام ہے کہ وہ حکمرانوں کے لئے عورتیں اغوا کرتے ہیں۔
ایک مہارانی نے ’’بمبئی کرانیکل‘‘ میں رنواس کا کچا چٹھا لکھتے ہوئے اس بات پر زور دیا تھا کہ :
’’ ہم محض بستروں کے کھلونے ہیں ، ہماری زندگی یا موت کا انحصار مالکوں کی مرضی پر ہے۔ ہماری زندگی بھیانک خوابوں سے ابتر ہے ہمارے حرم مرصّع پنجرے میں جہاں ہمیں قید رکھا جاتا ہے۔‘‘
چنانچہ راجپوتانہ کے ایک مہاراجہ اپنے پیچھے چار ہزار عورتیں چھوڑ کر مرے تھے اور ان میں بے شمار نا بالغہ تھیں۔ اس شہوانی جذبے کی تسکین کے لئے ان حکمرانوں کے محلوں میں باقاعدہ عشرت کدے تعمیر ہوتے جن میں اس قسم کے آئینے آویزاں ہوتے تھے کہ ان سے اختلاط کے مختلف زاویوں کا لطف اُٹھایا جاتا تھا۔ مہاراجہ اندور کو محض اس جرم کی پاداش میں گدی چھوڑنی پڑی کہ اُس نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کی داشتہ موراں کی پڑپوتی ممتاز سے تعلق قائم کیا، لیکن کچھ عرصۃ بعد ممتاز کا دل اُچاٹ ہوگیا اور وہ بھاگ گئی۔ مہاراجہ کے ملازموں نے پیچھا کیا لیکن ممتاز نے بمبئی کے ایک کروڑ پتی سیٹھ باؤلے سے نکاح پڑھا لیا۔ مہاراجہ کے ملازموں نے موقع پاکر سیٹھ کر قتل کر ڈالا اور کوشش کی کہ ممتاز کو اُٹھا لیں مگر سب کے سب موقع پر گرفتار ہوگئے ، مقدمہ چلا اور بالآخر مہاراج ادھیراج کا سنگھاسن ڈول گیا۔!
ان اللے تللوں کی بنیادہی پر مصنف نے کہا تھا:
’ؔ ’ہر انسان مختلف طریقوں سے دن کا آغاز کرتا ہے ، انگریز انڈے اور سور کے گوشت سے ، جرمن سایج اور قیمہ سے ، امریکن انگور سے ، مگر ’’ہزہائی نس‘‘ دو شیزہ کو ترجیح دیتے ہیں۔ !‘‘
(ّجاری ہے )



Offline Nazli

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 103
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #12 on: January 06, 2019, 12:59:53 am »

لاہور کا موجودہ چکلہ بوڑھے راوی کا ہم عمر ہے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانہ انحطاط سے اس کا آغاز ہوتا ہے ، اس سے پیشتر بازار وچوک چکلہ سے رسالہ بازار تک جس میں نئی اور پرانی انارکلی کا علاقہ شامل ہے۔ کسبیاں بیٹھا کرتی تھیں اردگرد مغلوں کی سرکاری عمارتیں یا اُن کے کھنڈر تھے ، مہاراجہ رنجیت سنگھ کے عہد میں شہر لاہور کا نصف چکلہ تھا۔ ممکن ہے رنڈیوں کی اس بہتات کا ایک سبب یہ بھی ہو کہ لاہور ہمیشہ فوجوں کی گزر گاہ رہا ، جب غیر ملکی حملہ آور خیر پار سے ہندوستان میں داخل ہوتے تو اُن کا پہلا پڑاؤ لاہور ہوتا اس کے علاوہ سندھ ، سرحد اور دہلی کے فوجیوں نے بھی لاہور کو جولا نگاہ بنائے رکھا۔ ظاہر ہے کہ جب کوئی شہر فوج کی زد میں ہو تو اُس کی دولت ہی نہیں عصمت بھی لٹتی ہے۔ فاتحین چکلے بناتے اور مفتوحین کسبیاں جنتے ہیں۔
برعظیم ہندوپاک کے چار بڑے چکلوں میں لاہور کا چکلہ چوتھے درجے پر تھا۔ بیس سال پہلے اقوام متحدہ کی ثقافتی کمیٹی نے مختلف ملکوں کی کسبیوں کے جواعداد و شمار فراہم کئے تھے اُس کے مطابق اوّل کلکتہ تھا دوم بنگلور سوم بمبئی اور چہارم لاہور۔
تب کلکتہ میں ایک لاکھ سے زائد رنڈیاں تھیں اور اُن میں لگ بھگ پچانوے فی صد ٹکیائیاں تھیں۔ جس ادارہ کا نام طوائف ہے وہ یا تو لکھنؤ میں رہا یا آگرہ میں یا دہلی میں یا پھر لاہور میں۔
لاہور کا بازار عام بازاروں کے طرز پر نہیں۔ کئی بازاروں اور کئی محلوں کے وصل سے ایک بڑے قصبے کے برابر ہے، تمام علاقہ کو اجتماعاً ہیرا منڈی کہتے ہیں۔ اس کی سطح لاہور کے ہر حصہ سے بلند ہے اگر راوی کا پانی مار کرتا ہوا اس سطح تک آجائے تو نہ صرف لاہور غرق ہوجاتا بلکہ ملتان تک کا سارا علاقہ ڈوب جاتا ہے۔
ہیرا منڈی ایک تکون کی طرح ہے ، عالمگیری مسجد اور اکبری قلعہ کے بائیں سمت بالا خانوں کی دور تک پھیلی ہوئی ایک قطار ہے جس میں ٹیڑھی ترچھی کئی قطاریں ضم ہوتی ہیں ، ٹکسالی دروازہ سے داخل ہوں تو سب سے پہلے نکڑ شاہی وقتوں کی ایک منزلہ مسجد ہے جس کے چہرے پر برص کے داغ ہیں ۔۔۔ سیاہ دیواروں پر سفید دھبے ۔۔۔ اس کی تعمیر مغلئی طرز پر ہے اس مسجد سے چند ہی قدم آگے رنڈیوں کے کوٹھے شروع ہوجاتے ہیں ۔
بازار شیخو پوریاں کے وسط سے محلہ سمیاں کو جو راستہ جاتا ہے اس کی دو یا چار دُکانیں چھوڑ کر ایک گلی مڑتی ہے جس کو ٹبی کہتے ہیں۔ یہ ایک بازار نما کوچہ ہے جس کا دوسرا سربازار چکماں کے آغاز پر ختم ہوتا ہے ۔ ایک پہلومیں بازار جج عبداللطیف ہے ، دوسرا موڑ ٹبی تھانے کے ساتھ سے ہو کر گذر تا ہے۔ ٹھیک وسط میں گیتی تھیٹر کا چوک ہے جہاں بازار شیخوپوریاں ، چیت رام روڈ ، شاہی محلہ ، ہیرا منڈی ، بارو دخانہ کا تھبی حصہ اور اڈہ شہباز خاں ایک دوسرے سے بغلگیر ہوتے ہیں۔
اس زہرہ گداز فضا کے صحیح تماشائی اورنگ زیب کی مسجد ۔۔۔ یا کعبہ کی بیٹی کے وہ بلند قامت مینار ہیں جو سالہا سال سے انسان کی بیٹی کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔ ٹبی ایک دندانہ دار کوچہ ہے اس کے اُوپر نیچے دوکانیں اور مکان ہیں جہاں ہر رنگ اور ہر عمر کی عورتیں بھری پڑی ہیں۔
یہ بازار نہیں ، ایک سنگین بستر ہے ، جہاں عورت کی عفت تھک کر ہمیشہ کی نیند ہوگئی ہے ۔ اس بوچڑ خانہ میں عورت قتل ہوتی ہے۔ اس کا گوشت بکتا ہے عورت کو گوشت ۔۔۔ میمنے کا گوشت ۔۔۔ دو شیزہ کا گوشت ۔۔ بروہ کا گوشت ۔۔۔ باکرہ کا گوشت ۔۔۔ آہوکا گوشت ۔۔۔ نمیار کا گوشت ۔۔۔ گائے گوشت ۔۔۔ ہیر کا گوشت ، سوہنی کا گوشت ، صاحباں کا گوشت ، سدا سہاگنوں کا گوشت ۔ اُن سہاگنوں کا گوشت جو سہاگ رات ہی میں بیوہ ہو جاتی ہیں۔ کسی بھی گاہک کے لئے کوئی قید نہیں، ہر بوٹی کی قیمت مقرر ہے۔ آٹھ آنے سے تین روپے تک ۔۔۔ آپ نے دام پوچھا اور پھر جیسا گوشت چاہا حرید لیا تازہ ، باسی ، جوان ، بوڑھا ، سُرخ ، سفید ، گوشت ہی گوشت جسم ہی جسم ؟
آپ کی چاندی اور عورت کی چمڑی ، اس منڈی کا اصل الاصول ہے ۔ہمیشہ سے تازہ مال آتا ہے۔
اس پیچدار مارکیٹ میں کہیں اور کوئی سیدھا نہیں ۔تمام بازار میں جوڑ ہی جوڑ ہیں ، وسط میں ایک چھوٹا سا چوک ہے۔ غربی حصہ میں ایک کٹڑی ہے اور کٹڑی سے ایک طرف تکون موڑ ہے اس موڑ پر حضرت سید قاسم شاہ مشہدیؒ کا مزار ہے۔ اس مزار کے پہلو میں مسجد ہے ۔مسجد کے دروازے پر عموماً تالا پڑا رہتا ہے۔ متولی کا کہنا ہے کہ جو لوگ چوری چھپے آتے ہیں وہ حضرت سید قاسم شاہؒ کے مزار کی دیوار کا سہارا لے کر مسجد کے عقب سے نکل جاتے ہیں۔ لیکن بعض کھلنڈرے مسجد کی اہانت کو محسوس نہیں کرتے اور اسی کو چور دروازہ بنا لیتے ہیں۔
حضرت سید قاسم ؒ شاہ رنجیت سنگھ کے ابتدائی زمانہ میں مشہد سے لاہور تشریف لائے تھے اور اس جگہ قیام فرمایا جہاں دفن ہیں۔ مزار کے پڑوس میں ایک کھلے صحن کا مکان ہے جس کا چوبی دروازہ اندر سے بند رہتا ہے سید اولاد شاہ گیلانی ایم اے جو آپ کی پوتی کے بیٹے ہیں ۔اس مکان میں رہتے ہیں۔ شاہ صاحب مدرس رہ چکے ہیں۔ تقریباً بیس سال تک ڈسٹرکٹ بورڈ ملتان میں سیکرٹری رہے۔ کئی کتابوں کے مصنف اور مترجم ہیں۔ ان کا بیان ہے کہ ٹبی اسم تصغیر ہے۔ ابتداء میں اس جگہ ٹبہ (ٹیلا) ہوتا تھا ، حضرت قاسم شاہؒ نے اس کو اقامت و عبادت کے لئے چُن لیا ، مسجد کی نیور کھی ، حجرہ بنوایا اور یاد اللہ میں مشغول ہوگئے ، تھوڑے ہی دنوں میں ان کے فقرو استغنا کا چر چا ہوگیا۔
انہی دنوں چیچو کی ملیاں (شیخوپورہ) کے بعض خانہ بدوشوں کے نشیب میں قیام کیا، یہ لوگ اپنے آپ کو پنجاب کی مختلف ذاتوں سے منسوب کرتے تھے ، ان کا کام چٹائیاں بننا اور چقین بنانا تھا۔ لیکن پیٹ کی مار صورتوں کے ساتھ سیر تیں بھی بگاڑ دیتی ہے ۔ان کی عورتیں خوبصورت تھیں ، ان سے چوری چھپے پیشہ کرنا شروع کیا۔ حضرت قاسم شاہؒ کے فرزند حضرت میرن شاہ ؒ جو اس وقت دس گیارہ برس کی عمر میں تھے ، اُن کی جھونپڑیوں میں شب کو گھس جاتے ، دیے گل کرتے اور چلاتے : ۔
’’سور آگئے سور ، سور آگئے سور ‘‘
اس پر چند لوگ حضرت قاسم شاہ ؒ کی خدمت میں پہنچے اور مرشد زادے کی شکایت کی ، شاہ صاحب نے فرمایا:
’’میرن ! ان کے لئے دُعا کرو بددُعا نہ دو۔ سور بھی تو خدا کی مخلوق ہے ان خانہ بدوشوں ہی کی اولاد ہیرا منڈی کے پشتینی کنچنوں کی مورث ہے اور ان کی بڑی بڑی حویلیاں ہیں۔

جب حضرت میرن شاہ کا 1878ء میں وصال ہوگیا تو ٹبی کا نام کوچہ میرن شاہ رکھا گیا ۔ لیکن 1920 ؁ء یا 1921 ؁ء میں پولیس کے ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ علی گوہر نے اپنے نام سے منسوب کر لیا ، وہ انتقال کر گیا تو کوچہ گاڈیاں کہلایا اب ٹبی یا چکلہ کہتے ہیں۔

(جاری ہے۔۔۔ )

Offline Nazli

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 103
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #13 on: January 06, 2019, 01:06:46 am »
ہر سال عرس کے موقع پر پشتینی رنڈیاں حضرت قاسم شاہؒ کے مزار پر حاضر ہوتیں اور مجرا کرتی ہیں۔ انہی حضرت قاسم شاہ ؒ کے برادرزادے حضرت علامہ میر حسن سیالکوٹیؒ ۔ علامہ اقبال کے اُستاد تھے۔ علامہ حسن ؒ کے دو بیٹے تھے نقی شاہ اور تقی شاہ ۔ نقی شاہ سے علامہ اقبال کے دو ستانہ مراسم تھے۔ ’’امروز ‘‘ کے ’’اقبال‘‘ میں نقی شاہ کے نام علامہ اقبال کے جس خط کا عکس چھپاتھا اُس میں امیر کا ذکر تھا، امیر ایک نامور طوائف ہوتی ہے۔ !
ٹبی میں کوئی دو سو کے لگ بھگ دوکانیں ، مکانیں یاڈیرے ہیں جہاں کوئی چار ساڑھے چار سو کے قریب عورتیں بیٹھتی تھیں ان کا کام صرف جسم فروشی کا تھا کیونکہ عصمت نام کی کوئی چیز بھی وہاں نہ تھی۔ ان کی دوکانیں صبح بارہ بجے کھلتیں اور رات بارہ بجے بند ہوجاتیں۔ چونکہ یہ عورتیں بیگاری مال تھیں اس لئے ان کے ٹھیکیدار ان ٹھیکیداروں کے گماشتے سر پر کھڑے رہتے۔ نرخ اور ہوس با قی سب موقوف۔ عورتیں کیا ؟ تاش کے پتے ، چوسر کی نردیں ، آم کی گٹھلیاں ، کیلے کا چھلکا ، خربوزے کے پھانک ، گنے کی پوریں ، سگریٹ کا دھواں ، عورت نہیں شارع عام ان کا وجود ایک خوفناک قہقہہ تھا ، ایک عریاں گالی ، ایک سنگین احتجاج ایک اوپن ایر تھیٹر ، ۔۔علماء سے معذرت کے ساتھ ایک عوامی شاہکار ۔
عورتیں نہیں ۔۔۔ قبریں عورتیں نہیں۔۔۔ چتائیں
عورتیں نہیں ۔۔۔۔ ہچکیاں عورتیں نہیں ۔۔۔ آنسو،
فطرت کے آنسو ، انسان کے آنسو ، عورت کے آنسو ، خون کے آنسو ، آنسو ہی آنسو ۔۔
آدمی محسوس کرتا ہے خدا خاموش ہے۔ ٹبی سے باہر بازار شیخوپوریاں ہے ۔ہیرا منڈٰ کے چوک تک رنڈیوں کے مکان اور دوکانیں ہیں۔ اس علاقہ کا سب سے بڑا چودھری سیالکوٹ کا ہے۔ کوئی درجن ڈیڑ ھ درجن لڑکیاں اس کے تصرف میں ہیں ، اس کی روزانہ آمدنی چار پانچ سو روپے ہوگی ۔اس کے پاس رائفل ہے ، گولیاں ہیں کار ہے ، سواریاں ہیں ، تانگہ ہے گھوڑیاں ہیں ، دولت ہے ، اثر ہے ، رسُوخ ہے ، غرض سبھی کچھ ہے اس لئے کہ لڑکیاں ہیں۔
شاہی محلہ کی مختلف ٹکڑیوں میں یہ خانے ہی یہ خانے ہیں۔ ایک طرف ڈینٹل ہسپتال کے نکڑ پر ، دوسری طرف شاہی مسجد کو نکلتے ہوئے چوک میں بہت سے نوجوان کھڑے رہتے ہیں۔ ان کا کام دلالی ہے ، کھُسر پھُسر ہوتی ہے ، سودا چکتا اور جسم لے کر نکل جاتی ہے۔
ہیرا منڈی کے چوک سے کوچہ شہباز خاں کے آخری سرے تک پشتینی کنچنیوں کے مکانات ہیں۔ کچھ خاندانی رنڈیاں مدرسہ نعمانیہ کے آس پاس رہتی ہیں ، اکثر مرکھپ چکی ہیں۔ بعض کی اولاد بڑے بڑوں کے گھر میں اُٹھ گئی ہے اور بعض ابھی تک پُرانے ڈگر پر چل رہی ہیں۔
ہیرا منڈی او ٹبی بازار میں بڑا فرق ہے، ٹبی محض قصاب خانہ ہے، ہیرا منڈی تصویر خانہ ایک آرٹ گیلری جہاں راتیں جاگتی اور دن سوتے ہیں۔ اس علاقہ کے بالا خانوں میں دن ڈھلے قحبہ انگڑائیاں لے کر اُٹھ بیٹھتی ہیں ، رات کی پہلی کروٹ کے ساتھ ہی بازار جگمگانے لگتاہے، کوئی نو بجے شب دروازے کھل جاتی ہیں ، ہر بیٹھک کی تیاری مکمل ہو چکی ہے ، ہر کوئی آجا سکتا ہے لیکن ان بالا خانوں میں جانے کے لئے روپیہ اور ہمت کی ضرورت ہے۔ کئی حویلیاں نسلی کنچنوں کی ہیں ، یہ لوگ مالدار ہیں ، ہر ایراغیران کے ہاں نہیں آجا سکتا، ان کے ٹھاٹھ شاہانہ ہیں ، اُن کے جسم شاہی کھلونا ہیں، اُن کی محل سرائیں جدید و قدیم کے امتزاج کا نمونہ ہیں ۔ڈرائنگ روم ہیں ، خاصہ خانے اور خلوت خانے ہیں، قالین ہیں۔ ڈوریوں سے کسے ہوئے پلنگ ہیں ، فرش پر کھچی ہوئی ستھری چاندنی ہے ، چاندی کے نقشی پاندان ہیں ، پھولدار اُگالدان ہیں ، مغلئی حقے ہیں ، دیواروں پر جلی آئینے ہیں اور چھت گیریاں ہیں ، وسط میں جھاڑہیں۔ !
ایک طرف میراثی ساز لئے بیٹھے رہتے ہیں اور جب تک گاہک نہ آئیں پھبتیاں کستے ، لطیفے جھاڑتے اور حُقے پیتے ہیں ، ان کی شکلیں عجیب سی ہوتی ہیں ہر کوئی گھن لگا ایندھن ہے اکثر جواری ڈھنڈاری ہیں ، جو کچھ رات میں کماتے دن کو ہار دیتے ہیں ، خرانٹ صورت ہیں ، چرکٹے ہیں ، نٹ کھٹ ہیں ، چیپرغٹو ہیں ، اول جلول ہیں لیکن ہیں آٹھویں گانٹھ کمید ، انہیں رنڈیوں کے لاحقے اور سابقے کا نام دینا زیادہ بہتر ہے ، عام گنوارنیں انہیں اُستاد جی کہتی ہیں ۔فطرت نے رنڈی کے چہرے سے حیا اور میراثی کے چہرے سے رونق دونوں چھین رکھی ہیں۔
جب شوقین مزاج آتے ہیں تو یہ ایک نظر میں اُن کا جائزہ لیتے ہیں ۔ان کا قیافہ عموماً درست ہوتا ہے ۔کوئی مالدار ہو تو اُن کی آنکھیں شکرانہ پڑھتی نظر آتی ہیں ۔ان کے چہروں کا اُتار چڑھاؤ گاہک کی جیب پر ہوتا ہے ۔وزنی جیب ، مرمریں جسم ، طبلہ کی تھاپ ، گھنگھروؤں کی چھن چھن ، سارنگی کا لہرا ، باجے کی کمک آواز کا شعلہ ، غرضیکہ ہر شے سروں میں گھنی ہوتی ہے ، گاہک آتے اور جاتے ہیں جب کوئی آتا ہے تو کواڑ بند ہوجاتے ہیں ، نہیں تو کھلے رہتے ہیں۔ کواڑ کھلے ہوں تو کسبیاں بھی کھلی ہوتی ہیں ، کچھ فلمی رسالے یا جنسی ناول پڑھتی ہیں ، کچھ گاہکوں کی راہ تکتی ہیں کچھ سگرٹ سُلگا کر دھوئیں کے مرغولوں میں ان اجنبی مردوں کا تصور باندھتی ہیں جو انہیں کھلونا سمجھتے اور جنہیں یہ کھلونا سمجھتی ہیں ، لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی یا دکی ٹیسیں چھوڑ جاتے ہیں ، ان کسبیوں کے والدین ان کے ساتھ رہتے اور کمائی کھاتے ہیں۔ فی الجملہ ان سے پورا خاندان پلتا ہے ۔
ضرور پڑھیں: امریکی کانگریس میں دو نومنتخب مسلم اراکین نے قرآن پاک پر حلف اٹھا لیا
جب رات ذرا اور گہری ہوجاتی ہے تو شاہی محلہ کی اندھیری گپھاؤں اور قلعہ کی سیڑھیوں کے نشیبی دورا ہہ پر طرح طرح کی کاریں آکر رُک جاتی ہیں اور اُس وقت تک کھڑی رہتی ہیں جب تک عشق کے ساز ٹوٹ نہیں جاتے اور حُسن کی موتیا کملا نہیں جاتی یا جب تک سوہنی کا جسم تھک نہیں جاتا اور مہینوال کی ہمت ٹھٹھر کریخ بستہ نہیں ہوجاتی ۔ بعض کن رسیے محض دیوارکے سہارے کھڑے رہتے اور کبھی کبھار سایہ دیوار ہی میں ان کی رات بستر ہوجاتی ہے۔
اور جب ہر طرف بکھری ہوئی مسجدوں کے میناروں سے’’ الصلواۃُ خیر من النوم ‘‘کی آواز گونجتی ہے تو خانزادوں کی رنگا رنگ کاریں بھرویں میں سارے گاما پا دھانی گاتے ہوئے بگٹٹ ہوجاتی ہیں اور اُن کے تعاقب میں کتوں کے مدھر گیت دور تک چلے جاتے ہیں۔ سورج جاگتا ہے قحبہ سوجاتی ہے اور اگر کچھ رہ جاتا ہے تو حکایت شبینہ کے غیر مرئی حروف جن سے چہروں پر ایک تھکن سی ہوتی ہے۔

(جاری ہے۔۔۔)

Offline Nazli

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 103
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #14 on: January 06, 2019, 01:17:04 am »
بازار کیا ہے لالہ زار ہے ۔ہر شاخ کی کونپلیں شبنم سے نہیں سیم سے کھلتی ہیں ، انہیں دن کی چمک سُلادیتی اور رات کی کھٹک جگا دیتی ہے ، ان میں سے بعض عورتیں اناروں کے کُنج ہیں کہ دانہ دانہ پر مُہر لگی ہے ، بعض انگوروں کا گچھا ہیں کہ رندوں کا حلقہ نچوڑتا ہے ، بعض گوؤں کا چونا ہیں کہ گوالے دودھ دوہتے ہیں بعض کیلوں کی گہل ہیں کہ شوقین مزاج گودا کھا جاتے اور چھلکا پھینک دیتے ہیں ، بعض روٹیوں کی تھئی ہیں کہ نفس بھوکے ٹوٹے پڑتے ہیں اور بعض پانوں کی ڈھول ہیں کہ بانکے پتیاں چباتے اور چباتے ہی چلے جاتے ہیں ۔ ؂
عورتیں نہیں ، ساز کی دُھن ، طبلہ کی تھاپ ، رقص کا زاویہ ، اور بستر کی تنہائی ۔

دَڑبے

چکلہ میں اُوپر نیچے ٹیکائیاں ہی ٹیکیائیاں ہیں۔۔۔ سستی عورتیں جن کی دوکانیں دوپہر کو کھلتی اور رات گئے بند ہوجاتی ہیں ۔۔۔ بارہ بجے دن سے بارہ بجے رات تک ۔۔۔۔ ( یہ وقت پولیس کا مقرر کیا ہوا ہے ۔ شفق ڈھلتی ہے تو بازار کی چہل پہل بھی بڑھ جاتی ہے ۔تمام دوکانیں ہنڈولوں سے جگمگانے لگتی ہیں ۔کہیں سو کینڈل پاور کے بلب لٹکتے دکھائی دیتے ہیں اور کہیں سُرخ لالیٹین۔ نیکی کے دم واپسیں کی طرح جھلملاتی نظر آتی ہیں ، بازار کا بھاؤ دو سے تین روپے تک ہے۔ کہیں کوئی جسم آٹھ آنے میں بھی مل جاتا ہے ۔ زیادہ تراٹک پارکی عورتیں ہیں جو اکثر و بیشتر پشاوری حقے کے کش لگاتی ہیں ، پنجاب کی عورتیں لگاتار سگریٹ پیتی ہیں ، جب رات اور بڑھ جاتی ہے تو ہر عمر کے تماشائی پلے پڑتے ہیں ، ایک ہجوم اور آتا ہے ، کھوے سے کھوا چلتا ہے ۔ان کے قہقہے اور تماشائیوں کے آوازے یا پھر اُن کے آوازے اور تماشائیوں کے قہقہے یکساں گونجتے ہیں ۔کچھ منچلے گالیاں لڑھکاتے اور گالیاں کھاتے ہیں ، ہر دریچہ کے باہر ٹھیکیداریا اُن کا گماشتہ کھڑا رہتا یا ٹہلتا ہے، جب سودا ہوچکتاہے تو رقم گماشتہ لے لیتا ہے یا ٹکیائی اندر رکھی ہوئی بند صندوقچی میں ڈال دیتی ہے ، تب دروازے پر کُنڈی چڑھا دی جاتی ہے۔ گاہک پردے پیچھے توشک پر چلا جاتا ہے۔وہ بدنصیب بستر سے پہلے بخشیش مانگتی ہے ۔حسن کے زور پر جسم کی آڑ میں ، اسلام ورسول کے نام پر ، کوئی خدا ترس اُس کے ہاتھ میں چونی یا اٹھنی تھما دیتا ہے تو وہ تشکر کے لہجہ میں کہتی ہے دیکھیو ! وہ جان جو باہر بیٹھا ہے اُس سے نہ کہنا، مجھ سے چھین لے گا ، اس مرحلے میں کبھی کبھار اُس کی عورت جگہ اُٹھتی ہے۔ اُس کے روح کے کھرنڈ کو کریدنے سے لہو کے جو ذرے اُبھرتے ہیں ان میں کیا کچھ نہیں ہوتا ؟ عورت ہوتی ہے ، ماں ہوتی ہے، بہن ہوتی ، بیوی ہوتی ہے، بیٹی ہوتی ہے ۔۔۔ ہونٹ ہلتے ہیں لیکن پکارتے ضرورہیں۔
خورشید نام کی ایک لڑکی اسی گلی میں اکہرے مکان کے چو بارے پر بیٹھی ہے اُس کے ایک ہم نشین زمرد ہے۔ دونوں کی عمر میں تھوڑا ہی فرق ہے ۔خورشید کا رنگ ملیح ہے۔ آنکھیں گول ۔پلکیں لانبیں۔ قد میانہ ۔ناک نقشہ تیکھا۔ آواز کی اصل پنجابی ہے لیکن لہجہ میں دہلی کا پیوند بھی لگا ہوا ہے، عموماً لٹھے کی شلوار اور پھولدار قمیص پہنتی ہے ۔کانوں میں سونے کی بالیاں جھلمل جھلمل کرتی ہیں ، نظربہ ظاہر کسی اچھے گھرانے کی ’’آبرو‘‘ معلوم ہوتی ہے لیکن زمانے کی ٹھوکر سے بے راہ ہوگئی ہے ، خورشید اور زمرد ، دونوں ہمارے پاس آبیٹھیں ، خورشید نے چھٹتے ہی سوال کیا ، کہیے کیا حکم ہے۔‘‘
’’ہم سات ہیں ‘‘
’’ہم دو ہیں ‘‘
’’صرف تم ؟ ‘‘
’‘ فی مہمان پانچ روپیہ ہوں گے کل 35روپے ۔‘‘
’’ہونہہ‘‘ زینہ کی طرف انگلی اُٹھاتے ہوئے ’’ آپ جا سکتے ہیں ۔تیس روپے میں تو مرغی بھی نہیں ملتی ہے۔‘‘
ہم نے تکلفاً مڑنا چاہا اُس نے روک لیا۔
’’ چار روپے ‘‘
’’جی نہیں تین روپے ‘‘
اُس نے سرد آدہ کھینچی اور کہا’’ اچھا تو نکالئے اکیس روپے ‘‘
ہم سب ٹھٹھر گئے۔ اختر اور قاضی میرا منہ تکنے لگے۔ قاضی کے رخساروں پر لٹکتا ہوا گوشت اور بھی لٹک گیا۔ اُس نے عینک کو دبیز شیشوں پر کمخواب کی پٹی پھرتے ہوئے دبے الفاظ میں کہا۔’’21روپے‘‘
وہ تاڑ گئی کہ خالی خولی جنٹلمین ہیں ، اُن کے ہونٹ ایک غلیظ سا فقرہ لڑھکانے کے لئے مضطرب ہی تھے کہ اختر نے جیب سے دوسرخے نکالے اور کہا ’’یہ لو بیس روپے ہیں۔ کچھ معلومات لینے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارا کوئی مقصد نہیں‘‘
ؔ ’’معلومات‘‘
’’جی ہاں ‘‘
’’کیسی‘‘
’’ یہی آپ کے پیشہ کے متعلق ؟‘‘
’’تو آپ صبح تشریف لائیے ، اُس نے دس دس کے دو نوٹ مٹھی میں بھنیچتے ہوئے کہا آپ چاہیں تو یہ نوٹ واپس بھی لے سکتے ہیں‘‘
’’نہیں ، دن میں آنا مناسب نہیں ۔ اس وقت ہر خصوصیت معلوم ہو سکتی ہے۔ ‘‘
اُس نے ماتھے پر دو چار شکنیں ڈالیں کچھ سوچا اور کہا۔
’’ اچھا تو پوچھئے آپ کیا چاہتے ہیں۔‘‘
؂’’تمہارانام ‘‘
’’خورشید ‘‘
’’گھر کہاں ہے‘‘
’’جہاں آپ دیکھ رہے ہیں‘‘
’’ ہمارا مطلب ماں باپ کے گھر سے ہے ‘‘
’’یہ نہ پوچھیئے ؟ اس بازار کی کوئی عورت بھی اپنا صحیح پتہ بتانے کو تیار نہ ہوگی۔ ‘‘ ایک سردآہ کھینچتے ہوئے ’’بھلا یہاں عورتیں کہاں؟ یہ سب جسم ہیں یا گالی ! جو عورتیں بہ اصرار اپنا نام یا پتہ بتاتی ہیں وہ فریب دیتی ہیں سب جھوٹ ہوتا ہے‘‘ایک ملے جلے سوال کے جواب میں اُس نے کہا؟
’’غور سے دیکھئے یہ سب مکان نہیں ڈربے ہیں ۔ایک چھوٹے سے حجم کے ڈربہ کا کرایہ بھی سو سوا سو سے کیا کم ہے ، شہر میں ایسا مکان پانچ یا چھ روپے ماہانہ پر مل جاتا ہے لیکن اس لنکا میں ہر کوئی باون گز کا ہے ، مالک کا منشی ہر روز کرایہ وصولتا ہے ، تمام گلی کے مکان تین یا چار افراد کی ملکیت ہیں ، ان کی ہزار ہا روپیہ ماہوار آمدنی ہے ، جو عورت روزانہ کرایہ نہ دے سکے اُس کا سامان بلا توقف باہر پھینک دیا جاتا ہے۔ کئی لوگ پگڑی دینے کو تیار رہتے ہیں چونکہ آجکل کسا دبازاری ہے اس لئے بعض ڈربوں میں دو دو چار چار بیٹھتی اور گزر کرتی ہیں ، اکثر ٹھیکیدار کی مملوکہ ہیں اُن کا معاملہ دو لفظی ہے۔ جب تک ان کے جسم کی مانگ رہے وہ ٹھیکیدار کی دولت میں تواتر سے اضافہ کرتی چلی جاتی ہیں ۔جسم ڈھلتے ہی ٹھیکیدار نکال دیتے ہیں ، وہ دیکھئے سامنے ایک ڈلے ہوئے جسم کی کل سری لوہے کی کرسی پر بیٹھی ہے۔ اس نے اپنے مالک کے قحبہ خانے کی بنیاد رکھی جوانی بھر کما کر دیتی رہی ، اسی کی کمائی سے اُس نے گوشت پوشت کے بعض کھلونے خریدے ہیں۔ پر سوں ہی اُس نے مالک سے کہا گرمی زیادہ ہے ، مجھے بھی ایک پنکھالے دو ، اُس نے گالی لڑھکاتے ہوئے کہا یہ منہ اور مسور کی دال ۔تین روپے روز اڈے کا کرایہ۔ آٹھ آنے کی بجلی۔ آٹھ آنے پنکھے کے۔ ڈیڑھ روپے روز کی روٹی اور پھر کپڑالتا ۔ کماتی کیا ہو؟ کبھی چار اور کبھی پانچ ‘‘ اُس نے اصرار کیا تو اس بری طرح پیٹا کہ پناہ بخداد وہ چاہتا ہے یہ چلی جائے تو اس کی جگہ ایک اور جوان جسم آسکتا ہے۔
’’تو یہ چلی کیوں نہیں جاتی ‘‘۔۔۔ اختر نے سوال کیا
’’کہاں جائے ؟ اب ہڈیوں کا خول ہی تو ہے آپ نہیں جانتے ایک کسبی کا بڑھاپا بڑا ہی ویران ہوتا ہے۔ وہ دیکھئے ، اس طرف ایک معمر عورت مونڈھے پر بیٹھی ہے۔ اس کی کہانی بھی اس سے مختلف نہیں اب چارونا چار ’’آزاد ‘‘ ہے۔ بڑی مشکل سے دو چار روپیہ پیدا کرتی ہوگی۔ اس نے دو چھوٹی چھوٹٰی بچیاں خرید رکھی ہیں جنہیں بھائی کی بیٹیاں بتاتی ہیں ، خود گور کنارے آلگی ہے لیکن اس کے باوجود ان کی جوانی کے تصور سے مطمئن ہے‘‘
’’آخر یہ سب لڑکیاں کہاں سے آتی ہیں‘‘
اس نے زور کا ایک قہقہہ لگایا پھر بات اُٹھاتے ہوئے کہا’’اس گلی میں اس وقت کوئی چار سو کے لگ بھگ لڑکیاں ہوں گی ، آتی کہاں سے ہیں ؟ سنیئے ! کوئی دوڈھائی سو تو سرحد کے ٹھیکیداروں کی ملکیت ہیں جو سرحد ہی کے مضافات سے خرید کی گئی ہیں۔ ان میں سے بعض کو ان کے والدین روپیہ لے کر بیاہ دیتے اور ’’مصنوعی ‘‘ خاوند انہیں یہاں لا بٹھاتے ہیں ، کئی بردہ فروشوں سے مول لی گئی ہیں ، ان بردہ فروشوں کی کڑیاں دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں ، جب کوئی عورت ایک چکلہ میں خاصی ہتھے چڑھ جاتی ہے تو پھر اُس کو دوسرے شہر کے لئے بیچ دیا جاتا ہے جو عورتیں اپنے طور پر بیٹھی ہیں اُن کی حیثیتیں مختلف ہیں مثلاً بعض یتیم خانوں سے اغوا کی گئی ہیں ، بعض کے والدین بیچ جاتے ہیں ، بعض سوتیلی ماں کے سولک سے تنگ آکر بھاگ آتی ہیں ، بعض کو جنسی لذت لے آتی ہے ، بعض کے آشنا دغادے جاتے ہیں ، بعض کا مسئلہ صرف پیٹ کا ہے اور اب بیسیوں مہاجرہ ہیں‘‘
’’کیا انہیں اس زندگی سے گھن نہیں آتی ؟‘‘
’’ضرور آتی ہے لیکن مجبور ہیں ۔‘‘
’’کیا مجبوری ہے ؟‘‘
اس نے پھر زناٹے کا ایک قہقہہ لگایا اور زمرد سے کہا ’’ سمندر کو آواز دو چینک چائے لے آئے۔مجبوری ڈھکی چھپی نہیں جو مالکوں کی قید میں ہیں ، وہ بے بس ہیں ، انہیں یقین ہو چکا ہے کہ ان کے متمول مالکون کا کچھ نہیں بگڑ سکتا وہ انہیں مجازی خدا سمجھتی ہیں۔
عورت اور روپیہ طاقت ور سفارش ہیں ، اُن کے سامنے قانون اور انصاف بھی گھٹنے ٹیک دیتے ہیں ، ان بدنصیبوں میں سے بعض کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ چکلے کے باہر کوئی اور دنیا بھی ہے یہ گاؤں کی لڑکیاں لاہور کو بھی گاؤں ہی سمجھتی ہیں ، اُن کے نزدیک ساری دُنیا ایک چکلہ ہے اور یہ اس چکلے کی ایک فرد ، پھر ایک کسبی کی فریاد سنتا کون ہے دُنیا مردوں کی ہے اور ان کے مالک مرد ہیں ، دُنیا دولت والوں کی ہے اور اُن کے آقا دولت والے ہیں ، فرض کیجئے یہاں سے بھاگ جائیں تو جائیں کہاں ؟ کیا کوئی مرد بستر بنائے بغیر عورت کو سہارا دینے کے لئے تیار ہے‘‘ ہم سن رہے تھے ،وہ قہر سامانی سے دل پر سچائیوں کی نوکدار حقیقتیں پھوڑ رہی تھی۔
(جاری ہے۔۔۔)

Offline dewta_mastermind

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1464
  • Reputation: +4/-2
  • Gender: Male
  • بہت انتظار کر لیا اب تو مل جا
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #15 on: January 06, 2019, 12:16:16 pm »
واہ اعلی بہت اعلی کام
نازلی جی جیو
تصویر بنا کہ میں تیری جیون دا بہانا لبھیا اے

توں نہ ملیوں وچھڑ کہ چن  سجناں اساں  سارا زمانہ لبھیا اے

 

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.