Author Topic: ---اُس بازار میں  (Read 1207 times)

Offline Nazli

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 105
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #12 on: January 06, 2019, 12:59:53 am »

لاہور کا موجودہ چکلہ بوڑھے راوی کا ہم عمر ہے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانہ انحطاط سے اس کا آغاز ہوتا ہے ، اس سے پیشتر بازار وچوک چکلہ سے رسالہ بازار تک جس میں نئی اور پرانی انارکلی کا علاقہ شامل ہے۔ کسبیاں بیٹھا کرتی تھیں اردگرد مغلوں کی سرکاری عمارتیں یا اُن کے کھنڈر تھے ، مہاراجہ رنجیت سنگھ کے عہد میں شہر لاہور کا نصف چکلہ تھا۔ ممکن ہے رنڈیوں کی اس بہتات کا ایک سبب یہ بھی ہو کہ لاہور ہمیشہ فوجوں کی گزر گاہ رہا ، جب غیر ملکی حملہ آور خیر پار سے ہندوستان میں داخل ہوتے تو اُن کا پہلا پڑاؤ لاہور ہوتا اس کے علاوہ سندھ ، سرحد اور دہلی کے فوجیوں نے بھی لاہور کو جولا نگاہ بنائے رکھا۔ ظاہر ہے کہ جب کوئی شہر فوج کی زد میں ہو تو اُس کی دولت ہی نہیں عصمت بھی لٹتی ہے۔ فاتحین چکلے بناتے اور مفتوحین کسبیاں جنتے ہیں۔
برعظیم ہندوپاک کے چار بڑے چکلوں میں لاہور کا چکلہ چوتھے درجے پر تھا۔ بیس سال پہلے اقوام متحدہ کی ثقافتی کمیٹی نے مختلف ملکوں کی کسبیوں کے جواعداد و شمار فراہم کئے تھے اُس کے مطابق اوّل کلکتہ تھا دوم بنگلور سوم بمبئی اور چہارم لاہور۔
تب کلکتہ میں ایک لاکھ سے زائد رنڈیاں تھیں اور اُن میں لگ بھگ پچانوے فی صد ٹکیائیاں تھیں۔ جس ادارہ کا نام طوائف ہے وہ یا تو لکھنؤ میں رہا یا آگرہ میں یا دہلی میں یا پھر لاہور میں۔
لاہور کا بازار عام بازاروں کے طرز پر نہیں۔ کئی بازاروں اور کئی محلوں کے وصل سے ایک بڑے قصبے کے برابر ہے، تمام علاقہ کو اجتماعاً ہیرا منڈی کہتے ہیں۔ اس کی سطح لاہور کے ہر حصہ سے بلند ہے اگر راوی کا پانی مار کرتا ہوا اس سطح تک آجائے تو نہ صرف لاہور غرق ہوجاتا بلکہ ملتان تک کا سارا علاقہ ڈوب جاتا ہے۔
ہیرا منڈی ایک تکون کی طرح ہے ، عالمگیری مسجد اور اکبری قلعہ کے بائیں سمت بالا خانوں کی دور تک پھیلی ہوئی ایک قطار ہے جس میں ٹیڑھی ترچھی کئی قطاریں ضم ہوتی ہیں ، ٹکسالی دروازہ سے داخل ہوں تو سب سے پہلے نکڑ شاہی وقتوں کی ایک منزلہ مسجد ہے جس کے چہرے پر برص کے داغ ہیں ۔۔۔ سیاہ دیواروں پر سفید دھبے ۔۔۔ اس کی تعمیر مغلئی طرز پر ہے اس مسجد سے چند ہی قدم آگے رنڈیوں کے کوٹھے شروع ہوجاتے ہیں ۔
بازار شیخو پوریاں کے وسط سے محلہ سمیاں کو جو راستہ جاتا ہے اس کی دو یا چار دُکانیں چھوڑ کر ایک گلی مڑتی ہے جس کو ٹبی کہتے ہیں۔ یہ ایک بازار نما کوچہ ہے جس کا دوسرا سربازار چکماں کے آغاز پر ختم ہوتا ہے ۔ ایک پہلومیں بازار جج عبداللطیف ہے ، دوسرا موڑ ٹبی تھانے کے ساتھ سے ہو کر گذر تا ہے۔ ٹھیک وسط میں گیتی تھیٹر کا چوک ہے جہاں بازار شیخوپوریاں ، چیت رام روڈ ، شاہی محلہ ، ہیرا منڈی ، بارو دخانہ کا تھبی حصہ اور اڈہ شہباز خاں ایک دوسرے سے بغلگیر ہوتے ہیں۔
اس زہرہ گداز فضا کے صحیح تماشائی اورنگ زیب کی مسجد ۔۔۔ یا کعبہ کی بیٹی کے وہ بلند قامت مینار ہیں جو سالہا سال سے انسان کی بیٹی کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔ ٹبی ایک دندانہ دار کوچہ ہے اس کے اُوپر نیچے دوکانیں اور مکان ہیں جہاں ہر رنگ اور ہر عمر کی عورتیں بھری پڑی ہیں۔
یہ بازار نہیں ، ایک سنگین بستر ہے ، جہاں عورت کی عفت تھک کر ہمیشہ کی نیند ہوگئی ہے ۔ اس بوچڑ خانہ میں عورت قتل ہوتی ہے۔ اس کا گوشت بکتا ہے عورت کو گوشت ۔۔۔ میمنے کا گوشت ۔۔۔ دو شیزہ کا گوشت ۔۔ بروہ کا گوشت ۔۔۔ باکرہ کا گوشت ۔۔۔ آہوکا گوشت ۔۔۔ نمیار کا گوشت ۔۔۔ گائے گوشت ۔۔۔ ہیر کا گوشت ، سوہنی کا گوشت ، صاحباں کا گوشت ، سدا سہاگنوں کا گوشت ۔ اُن سہاگنوں کا گوشت جو سہاگ رات ہی میں بیوہ ہو جاتی ہیں۔ کسی بھی گاہک کے لئے کوئی قید نہیں، ہر بوٹی کی قیمت مقرر ہے۔ آٹھ آنے سے تین روپے تک ۔۔۔ آپ نے دام پوچھا اور پھر جیسا گوشت چاہا حرید لیا تازہ ، باسی ، جوان ، بوڑھا ، سُرخ ، سفید ، گوشت ہی گوشت جسم ہی جسم ؟
آپ کی چاندی اور عورت کی چمڑی ، اس منڈی کا اصل الاصول ہے ۔ہمیشہ سے تازہ مال آتا ہے۔
اس پیچدار مارکیٹ میں کہیں اور کوئی سیدھا نہیں ۔تمام بازار میں جوڑ ہی جوڑ ہیں ، وسط میں ایک چھوٹا سا چوک ہے۔ غربی حصہ میں ایک کٹڑی ہے اور کٹڑی سے ایک طرف تکون موڑ ہے اس موڑ پر حضرت سید قاسم شاہ مشہدیؒ کا مزار ہے۔ اس مزار کے پہلو میں مسجد ہے ۔مسجد کے دروازے پر عموماً تالا پڑا رہتا ہے۔ متولی کا کہنا ہے کہ جو لوگ چوری چھپے آتے ہیں وہ حضرت سید قاسم شاہؒ کے مزار کی دیوار کا سہارا لے کر مسجد کے عقب سے نکل جاتے ہیں۔ لیکن بعض کھلنڈرے مسجد کی اہانت کو محسوس نہیں کرتے اور اسی کو چور دروازہ بنا لیتے ہیں۔
حضرت سید قاسم ؒ شاہ رنجیت سنگھ کے ابتدائی زمانہ میں مشہد سے لاہور تشریف لائے تھے اور اس جگہ قیام فرمایا جہاں دفن ہیں۔ مزار کے پڑوس میں ایک کھلے صحن کا مکان ہے جس کا چوبی دروازہ اندر سے بند رہتا ہے سید اولاد شاہ گیلانی ایم اے جو آپ کی پوتی کے بیٹے ہیں ۔اس مکان میں رہتے ہیں۔ شاہ صاحب مدرس رہ چکے ہیں۔ تقریباً بیس سال تک ڈسٹرکٹ بورڈ ملتان میں سیکرٹری رہے۔ کئی کتابوں کے مصنف اور مترجم ہیں۔ ان کا بیان ہے کہ ٹبی اسم تصغیر ہے۔ ابتداء میں اس جگہ ٹبہ (ٹیلا) ہوتا تھا ، حضرت قاسم شاہؒ نے اس کو اقامت و عبادت کے لئے چُن لیا ، مسجد کی نیور کھی ، حجرہ بنوایا اور یاد اللہ میں مشغول ہوگئے ، تھوڑے ہی دنوں میں ان کے فقرو استغنا کا چر چا ہوگیا۔
انہی دنوں چیچو کی ملیاں (شیخوپورہ) کے بعض خانہ بدوشوں کے نشیب میں قیام کیا، یہ لوگ اپنے آپ کو پنجاب کی مختلف ذاتوں سے منسوب کرتے تھے ، ان کا کام چٹائیاں بننا اور چقین بنانا تھا۔ لیکن پیٹ کی مار صورتوں کے ساتھ سیر تیں بھی بگاڑ دیتی ہے ۔ان کی عورتیں خوبصورت تھیں ، ان سے چوری چھپے پیشہ کرنا شروع کیا۔ حضرت قاسم شاہؒ کے فرزند حضرت میرن شاہ ؒ جو اس وقت دس گیارہ برس کی عمر میں تھے ، اُن کی جھونپڑیوں میں شب کو گھس جاتے ، دیے گل کرتے اور چلاتے : ۔
’’سور آگئے سور ، سور آگئے سور ‘‘
اس پر چند لوگ حضرت قاسم شاہ ؒ کی خدمت میں پہنچے اور مرشد زادے کی شکایت کی ، شاہ صاحب نے فرمایا:
’’میرن ! ان کے لئے دُعا کرو بددُعا نہ دو۔ سور بھی تو خدا کی مخلوق ہے ان خانہ بدوشوں ہی کی اولاد ہیرا منڈی کے پشتینی کنچنوں کی مورث ہے اور ان کی بڑی بڑی حویلیاں ہیں۔

جب حضرت میرن شاہ کا 1878ء میں وصال ہوگیا تو ٹبی کا نام کوچہ میرن شاہ رکھا گیا ۔ لیکن 1920 ؁ء یا 1921 ؁ء میں پولیس کے ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ علی گوہر نے اپنے نام سے منسوب کر لیا ، وہ انتقال کر گیا تو کوچہ گاڈیاں کہلایا اب ٹبی یا چکلہ کہتے ہیں۔

(جاری ہے۔۔۔ )

YUM Stories

Re: ---اُس بازار میں
« Reply #12 on: January 06, 2019, 12:59:53 am »

Offline Nazli

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 105
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #13 on: January 06, 2019, 01:06:46 am »
ہر سال عرس کے موقع پر پشتینی رنڈیاں حضرت قاسم شاہؒ کے مزار پر حاضر ہوتیں اور مجرا کرتی ہیں۔ انہی حضرت قاسم شاہ ؒ کے برادرزادے حضرت علامہ میر حسن سیالکوٹیؒ ۔ علامہ اقبال کے اُستاد تھے۔ علامہ حسن ؒ کے دو بیٹے تھے نقی شاہ اور تقی شاہ ۔ نقی شاہ سے علامہ اقبال کے دو ستانہ مراسم تھے۔ ’’امروز ‘‘ کے ’’اقبال‘‘ میں نقی شاہ کے نام علامہ اقبال کے جس خط کا عکس چھپاتھا اُس میں امیر کا ذکر تھا، امیر ایک نامور طوائف ہوتی ہے۔ !
ٹبی میں کوئی دو سو کے لگ بھگ دوکانیں ، مکانیں یاڈیرے ہیں جہاں کوئی چار ساڑھے چار سو کے قریب عورتیں بیٹھتی تھیں ان کا کام صرف جسم فروشی کا تھا کیونکہ عصمت نام کی کوئی چیز بھی وہاں نہ تھی۔ ان کی دوکانیں صبح بارہ بجے کھلتیں اور رات بارہ بجے بند ہوجاتیں۔ چونکہ یہ عورتیں بیگاری مال تھیں اس لئے ان کے ٹھیکیدار ان ٹھیکیداروں کے گماشتے سر پر کھڑے رہتے۔ نرخ اور ہوس با قی سب موقوف۔ عورتیں کیا ؟ تاش کے پتے ، چوسر کی نردیں ، آم کی گٹھلیاں ، کیلے کا چھلکا ، خربوزے کے پھانک ، گنے کی پوریں ، سگریٹ کا دھواں ، عورت نہیں شارع عام ان کا وجود ایک خوفناک قہقہہ تھا ، ایک عریاں گالی ، ایک سنگین احتجاج ایک اوپن ایر تھیٹر ، ۔۔علماء سے معذرت کے ساتھ ایک عوامی شاہکار ۔
عورتیں نہیں ۔۔۔ قبریں عورتیں نہیں۔۔۔ چتائیں
عورتیں نہیں ۔۔۔۔ ہچکیاں عورتیں نہیں ۔۔۔ آنسو،
فطرت کے آنسو ، انسان کے آنسو ، عورت کے آنسو ، خون کے آنسو ، آنسو ہی آنسو ۔۔
آدمی محسوس کرتا ہے خدا خاموش ہے۔ ٹبی سے باہر بازار شیخوپوریاں ہے ۔ہیرا منڈٰ کے چوک تک رنڈیوں کے مکان اور دوکانیں ہیں۔ اس علاقہ کا سب سے بڑا چودھری سیالکوٹ کا ہے۔ کوئی درجن ڈیڑ ھ درجن لڑکیاں اس کے تصرف میں ہیں ، اس کی روزانہ آمدنی چار پانچ سو روپے ہوگی ۔اس کے پاس رائفل ہے ، گولیاں ہیں کار ہے ، سواریاں ہیں ، تانگہ ہے گھوڑیاں ہیں ، دولت ہے ، اثر ہے ، رسُوخ ہے ، غرض سبھی کچھ ہے اس لئے کہ لڑکیاں ہیں۔
شاہی محلہ کی مختلف ٹکڑیوں میں یہ خانے ہی یہ خانے ہیں۔ ایک طرف ڈینٹل ہسپتال کے نکڑ پر ، دوسری طرف شاہی مسجد کو نکلتے ہوئے چوک میں بہت سے نوجوان کھڑے رہتے ہیں۔ ان کا کام دلالی ہے ، کھُسر پھُسر ہوتی ہے ، سودا چکتا اور جسم لے کر نکل جاتی ہے۔
ہیرا منڈی کے چوک سے کوچہ شہباز خاں کے آخری سرے تک پشتینی کنچنیوں کے مکانات ہیں۔ کچھ خاندانی رنڈیاں مدرسہ نعمانیہ کے آس پاس رہتی ہیں ، اکثر مرکھپ چکی ہیں۔ بعض کی اولاد بڑے بڑوں کے گھر میں اُٹھ گئی ہے اور بعض ابھی تک پُرانے ڈگر پر چل رہی ہیں۔
ہیرا منڈی او ٹبی بازار میں بڑا فرق ہے، ٹبی محض قصاب خانہ ہے، ہیرا منڈی تصویر خانہ ایک آرٹ گیلری جہاں راتیں جاگتی اور دن سوتے ہیں۔ اس علاقہ کے بالا خانوں میں دن ڈھلے قحبہ انگڑائیاں لے کر اُٹھ بیٹھتی ہیں ، رات کی پہلی کروٹ کے ساتھ ہی بازار جگمگانے لگتاہے، کوئی نو بجے شب دروازے کھل جاتی ہیں ، ہر بیٹھک کی تیاری مکمل ہو چکی ہے ، ہر کوئی آجا سکتا ہے لیکن ان بالا خانوں میں جانے کے لئے روپیہ اور ہمت کی ضرورت ہے۔ کئی حویلیاں نسلی کنچنوں کی ہیں ، یہ لوگ مالدار ہیں ، ہر ایراغیران کے ہاں نہیں آجا سکتا، ان کے ٹھاٹھ شاہانہ ہیں ، اُن کے جسم شاہی کھلونا ہیں، اُن کی محل سرائیں جدید و قدیم کے امتزاج کا نمونہ ہیں ۔ڈرائنگ روم ہیں ، خاصہ خانے اور خلوت خانے ہیں، قالین ہیں۔ ڈوریوں سے کسے ہوئے پلنگ ہیں ، فرش پر کھچی ہوئی ستھری چاندنی ہے ، چاندی کے نقشی پاندان ہیں ، پھولدار اُگالدان ہیں ، مغلئی حقے ہیں ، دیواروں پر جلی آئینے ہیں اور چھت گیریاں ہیں ، وسط میں جھاڑہیں۔ !
ایک طرف میراثی ساز لئے بیٹھے رہتے ہیں اور جب تک گاہک نہ آئیں پھبتیاں کستے ، لطیفے جھاڑتے اور حُقے پیتے ہیں ، ان کی شکلیں عجیب سی ہوتی ہیں ہر کوئی گھن لگا ایندھن ہے اکثر جواری ڈھنڈاری ہیں ، جو کچھ رات میں کماتے دن کو ہار دیتے ہیں ، خرانٹ صورت ہیں ، چرکٹے ہیں ، نٹ کھٹ ہیں ، چیپرغٹو ہیں ، اول جلول ہیں لیکن ہیں آٹھویں گانٹھ کمید ، انہیں رنڈیوں کے لاحقے اور سابقے کا نام دینا زیادہ بہتر ہے ، عام گنوارنیں انہیں اُستاد جی کہتی ہیں ۔فطرت نے رنڈی کے چہرے سے حیا اور میراثی کے چہرے سے رونق دونوں چھین رکھی ہیں۔
جب شوقین مزاج آتے ہیں تو یہ ایک نظر میں اُن کا جائزہ لیتے ہیں ۔ان کا قیافہ عموماً درست ہوتا ہے ۔کوئی مالدار ہو تو اُن کی آنکھیں شکرانہ پڑھتی نظر آتی ہیں ۔ان کے چہروں کا اُتار چڑھاؤ گاہک کی جیب پر ہوتا ہے ۔وزنی جیب ، مرمریں جسم ، طبلہ کی تھاپ ، گھنگھروؤں کی چھن چھن ، سارنگی کا لہرا ، باجے کی کمک آواز کا شعلہ ، غرضیکہ ہر شے سروں میں گھنی ہوتی ہے ، گاہک آتے اور جاتے ہیں جب کوئی آتا ہے تو کواڑ بند ہوجاتے ہیں ، نہیں تو کھلے رہتے ہیں۔ کواڑ کھلے ہوں تو کسبیاں بھی کھلی ہوتی ہیں ، کچھ فلمی رسالے یا جنسی ناول پڑھتی ہیں ، کچھ گاہکوں کی راہ تکتی ہیں کچھ سگرٹ سُلگا کر دھوئیں کے مرغولوں میں ان اجنبی مردوں کا تصور باندھتی ہیں جو انہیں کھلونا سمجھتے اور جنہیں یہ کھلونا سمجھتی ہیں ، لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی یا دکی ٹیسیں چھوڑ جاتے ہیں ، ان کسبیوں کے والدین ان کے ساتھ رہتے اور کمائی کھاتے ہیں۔ فی الجملہ ان سے پورا خاندان پلتا ہے ۔
ضرور پڑھیں: امریکی کانگریس میں دو نومنتخب مسلم اراکین نے قرآن پاک پر حلف اٹھا لیا
جب رات ذرا اور گہری ہوجاتی ہے تو شاہی محلہ کی اندھیری گپھاؤں اور قلعہ کی سیڑھیوں کے نشیبی دورا ہہ پر طرح طرح کی کاریں آکر رُک جاتی ہیں اور اُس وقت تک کھڑی رہتی ہیں جب تک عشق کے ساز ٹوٹ نہیں جاتے اور حُسن کی موتیا کملا نہیں جاتی یا جب تک سوہنی کا جسم تھک نہیں جاتا اور مہینوال کی ہمت ٹھٹھر کریخ بستہ نہیں ہوجاتی ۔ بعض کن رسیے محض دیوارکے سہارے کھڑے رہتے اور کبھی کبھار سایہ دیوار ہی میں ان کی رات بستر ہوجاتی ہے۔
اور جب ہر طرف بکھری ہوئی مسجدوں کے میناروں سے’’ الصلواۃُ خیر من النوم ‘‘کی آواز گونجتی ہے تو خانزادوں کی رنگا رنگ کاریں بھرویں میں سارے گاما پا دھانی گاتے ہوئے بگٹٹ ہوجاتی ہیں اور اُن کے تعاقب میں کتوں کے مدھر گیت دور تک چلے جاتے ہیں۔ سورج جاگتا ہے قحبہ سوجاتی ہے اور اگر کچھ رہ جاتا ہے تو حکایت شبینہ کے غیر مرئی حروف جن سے چہروں پر ایک تھکن سی ہوتی ہے۔

(جاری ہے۔۔۔)

YUM Stories

Re: ---اُس بازار میں
« Reply #13 on: January 06, 2019, 01:06:46 am »

Offline Nazli

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 105
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #14 on: January 06, 2019, 01:17:04 am »
بازار کیا ہے لالہ زار ہے ۔ہر شاخ کی کونپلیں شبنم سے نہیں سیم سے کھلتی ہیں ، انہیں دن کی چمک سُلادیتی اور رات کی کھٹک جگا دیتی ہے ، ان میں سے بعض عورتیں اناروں کے کُنج ہیں کہ دانہ دانہ پر مُہر لگی ہے ، بعض انگوروں کا گچھا ہیں کہ رندوں کا حلقہ نچوڑتا ہے ، بعض گوؤں کا چونا ہیں کہ گوالے دودھ دوہتے ہیں بعض کیلوں کی گہل ہیں کہ شوقین مزاج گودا کھا جاتے اور چھلکا پھینک دیتے ہیں ، بعض روٹیوں کی تھئی ہیں کہ نفس بھوکے ٹوٹے پڑتے ہیں اور بعض پانوں کی ڈھول ہیں کہ بانکے پتیاں چباتے اور چباتے ہی چلے جاتے ہیں ۔ ؂
عورتیں نہیں ، ساز کی دُھن ، طبلہ کی تھاپ ، رقص کا زاویہ ، اور بستر کی تنہائی ۔

دَڑبے

چکلہ میں اُوپر نیچے ٹیکائیاں ہی ٹیکیائیاں ہیں۔۔۔ سستی عورتیں جن کی دوکانیں دوپہر کو کھلتی اور رات گئے بند ہوجاتی ہیں ۔۔۔ بارہ بجے دن سے بارہ بجے رات تک ۔۔۔۔ ( یہ وقت پولیس کا مقرر کیا ہوا ہے ۔ شفق ڈھلتی ہے تو بازار کی چہل پہل بھی بڑھ جاتی ہے ۔تمام دوکانیں ہنڈولوں سے جگمگانے لگتی ہیں ۔کہیں سو کینڈل پاور کے بلب لٹکتے دکھائی دیتے ہیں اور کہیں سُرخ لالیٹین۔ نیکی کے دم واپسیں کی طرح جھلملاتی نظر آتی ہیں ، بازار کا بھاؤ دو سے تین روپے تک ہے۔ کہیں کوئی جسم آٹھ آنے میں بھی مل جاتا ہے ۔ زیادہ تراٹک پارکی عورتیں ہیں جو اکثر و بیشتر پشاوری حقے کے کش لگاتی ہیں ، پنجاب کی عورتیں لگاتار سگریٹ پیتی ہیں ، جب رات اور بڑھ جاتی ہے تو ہر عمر کے تماشائی پلے پڑتے ہیں ، ایک ہجوم اور آتا ہے ، کھوے سے کھوا چلتا ہے ۔ان کے قہقہے اور تماشائیوں کے آوازے یا پھر اُن کے آوازے اور تماشائیوں کے قہقہے یکساں گونجتے ہیں ۔کچھ منچلے گالیاں لڑھکاتے اور گالیاں کھاتے ہیں ، ہر دریچہ کے باہر ٹھیکیداریا اُن کا گماشتہ کھڑا رہتا یا ٹہلتا ہے، جب سودا ہوچکتاہے تو رقم گماشتہ لے لیتا ہے یا ٹکیائی اندر رکھی ہوئی بند صندوقچی میں ڈال دیتی ہے ، تب دروازے پر کُنڈی چڑھا دی جاتی ہے۔ گاہک پردے پیچھے توشک پر چلا جاتا ہے۔وہ بدنصیب بستر سے پہلے بخشیش مانگتی ہے ۔حسن کے زور پر جسم کی آڑ میں ، اسلام ورسول کے نام پر ، کوئی خدا ترس اُس کے ہاتھ میں چونی یا اٹھنی تھما دیتا ہے تو وہ تشکر کے لہجہ میں کہتی ہے دیکھیو ! وہ جان جو باہر بیٹھا ہے اُس سے نہ کہنا، مجھ سے چھین لے گا ، اس مرحلے میں کبھی کبھار اُس کی عورت جگہ اُٹھتی ہے۔ اُس کے روح کے کھرنڈ کو کریدنے سے لہو کے جو ذرے اُبھرتے ہیں ان میں کیا کچھ نہیں ہوتا ؟ عورت ہوتی ہے ، ماں ہوتی ہے، بہن ہوتی ، بیوی ہوتی ہے، بیٹی ہوتی ہے ۔۔۔ ہونٹ ہلتے ہیں لیکن پکارتے ضرورہیں۔
خورشید نام کی ایک لڑکی اسی گلی میں اکہرے مکان کے چو بارے پر بیٹھی ہے اُس کے ایک ہم نشین زمرد ہے۔ دونوں کی عمر میں تھوڑا ہی فرق ہے ۔خورشید کا رنگ ملیح ہے۔ آنکھیں گول ۔پلکیں لانبیں۔ قد میانہ ۔ناک نقشہ تیکھا۔ آواز کی اصل پنجابی ہے لیکن لہجہ میں دہلی کا پیوند بھی لگا ہوا ہے، عموماً لٹھے کی شلوار اور پھولدار قمیص پہنتی ہے ۔کانوں میں سونے کی بالیاں جھلمل جھلمل کرتی ہیں ، نظربہ ظاہر کسی اچھے گھرانے کی ’’آبرو‘‘ معلوم ہوتی ہے لیکن زمانے کی ٹھوکر سے بے راہ ہوگئی ہے ، خورشید اور زمرد ، دونوں ہمارے پاس آبیٹھیں ، خورشید نے چھٹتے ہی سوال کیا ، کہیے کیا حکم ہے۔‘‘
’’ہم سات ہیں ‘‘
’’ہم دو ہیں ‘‘
’’صرف تم ؟ ‘‘
’‘ فی مہمان پانچ روپیہ ہوں گے کل 35روپے ۔‘‘
’’ہونہہ‘‘ زینہ کی طرف انگلی اُٹھاتے ہوئے ’’ آپ جا سکتے ہیں ۔تیس روپے میں تو مرغی بھی نہیں ملتی ہے۔‘‘
ہم نے تکلفاً مڑنا چاہا اُس نے روک لیا۔
’’ چار روپے ‘‘
’’جی نہیں تین روپے ‘‘
اُس نے سرد آدہ کھینچی اور کہا’’ اچھا تو نکالئے اکیس روپے ‘‘
ہم سب ٹھٹھر گئے۔ اختر اور قاضی میرا منہ تکنے لگے۔ قاضی کے رخساروں پر لٹکتا ہوا گوشت اور بھی لٹک گیا۔ اُس نے عینک کو دبیز شیشوں پر کمخواب کی پٹی پھرتے ہوئے دبے الفاظ میں کہا۔’’21روپے‘‘
وہ تاڑ گئی کہ خالی خولی جنٹلمین ہیں ، اُن کے ہونٹ ایک غلیظ سا فقرہ لڑھکانے کے لئے مضطرب ہی تھے کہ اختر نے جیب سے دوسرخے نکالے اور کہا ’’یہ لو بیس روپے ہیں۔ کچھ معلومات لینے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارا کوئی مقصد نہیں‘‘
ؔ ’’معلومات‘‘
’’جی ہاں ‘‘
’’کیسی‘‘
’’ یہی آپ کے پیشہ کے متعلق ؟‘‘
’’تو آپ صبح تشریف لائیے ، اُس نے دس دس کے دو نوٹ مٹھی میں بھنیچتے ہوئے کہا آپ چاہیں تو یہ نوٹ واپس بھی لے سکتے ہیں‘‘
’’نہیں ، دن میں آنا مناسب نہیں ۔ اس وقت ہر خصوصیت معلوم ہو سکتی ہے۔ ‘‘
اُس نے ماتھے پر دو چار شکنیں ڈالیں کچھ سوچا اور کہا۔
’’ اچھا تو پوچھئے آپ کیا چاہتے ہیں۔‘‘
؂’’تمہارانام ‘‘
’’خورشید ‘‘
’’گھر کہاں ہے‘‘
’’جہاں آپ دیکھ رہے ہیں‘‘
’’ ہمارا مطلب ماں باپ کے گھر سے ہے ‘‘
’’یہ نہ پوچھیئے ؟ اس بازار کی کوئی عورت بھی اپنا صحیح پتہ بتانے کو تیار نہ ہوگی۔ ‘‘ ایک سردآہ کھینچتے ہوئے ’’بھلا یہاں عورتیں کہاں؟ یہ سب جسم ہیں یا گالی ! جو عورتیں بہ اصرار اپنا نام یا پتہ بتاتی ہیں وہ فریب دیتی ہیں سب جھوٹ ہوتا ہے‘‘ایک ملے جلے سوال کے جواب میں اُس نے کہا؟
’’غور سے دیکھئے یہ سب مکان نہیں ڈربے ہیں ۔ایک چھوٹے سے حجم کے ڈربہ کا کرایہ بھی سو سوا سو سے کیا کم ہے ، شہر میں ایسا مکان پانچ یا چھ روپے ماہانہ پر مل جاتا ہے لیکن اس لنکا میں ہر کوئی باون گز کا ہے ، مالک کا منشی ہر روز کرایہ وصولتا ہے ، تمام گلی کے مکان تین یا چار افراد کی ملکیت ہیں ، ان کی ہزار ہا روپیہ ماہوار آمدنی ہے ، جو عورت روزانہ کرایہ نہ دے سکے اُس کا سامان بلا توقف باہر پھینک دیا جاتا ہے۔ کئی لوگ پگڑی دینے کو تیار رہتے ہیں چونکہ آجکل کسا دبازاری ہے اس لئے بعض ڈربوں میں دو دو چار چار بیٹھتی اور گزر کرتی ہیں ، اکثر ٹھیکیدار کی مملوکہ ہیں اُن کا معاملہ دو لفظی ہے۔ جب تک ان کے جسم کی مانگ رہے وہ ٹھیکیدار کی دولت میں تواتر سے اضافہ کرتی چلی جاتی ہیں ۔جسم ڈھلتے ہی ٹھیکیدار نکال دیتے ہیں ، وہ دیکھئے سامنے ایک ڈلے ہوئے جسم کی کل سری لوہے کی کرسی پر بیٹھی ہے۔ اس نے اپنے مالک کے قحبہ خانے کی بنیاد رکھی جوانی بھر کما کر دیتی رہی ، اسی کی کمائی سے اُس نے گوشت پوشت کے بعض کھلونے خریدے ہیں۔ پر سوں ہی اُس نے مالک سے کہا گرمی زیادہ ہے ، مجھے بھی ایک پنکھالے دو ، اُس نے گالی لڑھکاتے ہوئے کہا یہ منہ اور مسور کی دال ۔تین روپے روز اڈے کا کرایہ۔ آٹھ آنے کی بجلی۔ آٹھ آنے پنکھے کے۔ ڈیڑھ روپے روز کی روٹی اور پھر کپڑالتا ۔ کماتی کیا ہو؟ کبھی چار اور کبھی پانچ ‘‘ اُس نے اصرار کیا تو اس بری طرح پیٹا کہ پناہ بخداد وہ چاہتا ہے یہ چلی جائے تو اس کی جگہ ایک اور جوان جسم آسکتا ہے۔
’’تو یہ چلی کیوں نہیں جاتی ‘‘۔۔۔ اختر نے سوال کیا
’’کہاں جائے ؟ اب ہڈیوں کا خول ہی تو ہے آپ نہیں جانتے ایک کسبی کا بڑھاپا بڑا ہی ویران ہوتا ہے۔ وہ دیکھئے ، اس طرف ایک معمر عورت مونڈھے پر بیٹھی ہے۔ اس کی کہانی بھی اس سے مختلف نہیں اب چارونا چار ’’آزاد ‘‘ ہے۔ بڑی مشکل سے دو چار روپیہ پیدا کرتی ہوگی۔ اس نے دو چھوٹی چھوٹٰی بچیاں خرید رکھی ہیں جنہیں بھائی کی بیٹیاں بتاتی ہیں ، خود گور کنارے آلگی ہے لیکن اس کے باوجود ان کی جوانی کے تصور سے مطمئن ہے‘‘
’’آخر یہ سب لڑکیاں کہاں سے آتی ہیں‘‘
اس نے زور کا ایک قہقہہ لگایا پھر بات اُٹھاتے ہوئے کہا’’اس گلی میں اس وقت کوئی چار سو کے لگ بھگ لڑکیاں ہوں گی ، آتی کہاں سے ہیں ؟ سنیئے ! کوئی دوڈھائی سو تو سرحد کے ٹھیکیداروں کی ملکیت ہیں جو سرحد ہی کے مضافات سے خرید کی گئی ہیں۔ ان میں سے بعض کو ان کے والدین روپیہ لے کر بیاہ دیتے اور ’’مصنوعی ‘‘ خاوند انہیں یہاں لا بٹھاتے ہیں ، کئی بردہ فروشوں سے مول لی گئی ہیں ، ان بردہ فروشوں کی کڑیاں دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں ، جب کوئی عورت ایک چکلہ میں خاصی ہتھے چڑھ جاتی ہے تو پھر اُس کو دوسرے شہر کے لئے بیچ دیا جاتا ہے جو عورتیں اپنے طور پر بیٹھی ہیں اُن کی حیثیتیں مختلف ہیں مثلاً بعض یتیم خانوں سے اغوا کی گئی ہیں ، بعض کے والدین بیچ جاتے ہیں ، بعض سوتیلی ماں کے سولک سے تنگ آکر بھاگ آتی ہیں ، بعض کو جنسی لذت لے آتی ہے ، بعض کے آشنا دغادے جاتے ہیں ، بعض کا مسئلہ صرف پیٹ کا ہے اور اب بیسیوں مہاجرہ ہیں‘‘
’’کیا انہیں اس زندگی سے گھن نہیں آتی ؟‘‘
’’ضرور آتی ہے لیکن مجبور ہیں ۔‘‘
’’کیا مجبوری ہے ؟‘‘
اس نے پھر زناٹے کا ایک قہقہہ لگایا اور زمرد سے کہا ’’ سمندر کو آواز دو چینک چائے لے آئے۔مجبوری ڈھکی چھپی نہیں جو مالکوں کی قید میں ہیں ، وہ بے بس ہیں ، انہیں یقین ہو چکا ہے کہ ان کے متمول مالکون کا کچھ نہیں بگڑ سکتا وہ انہیں مجازی خدا سمجھتی ہیں۔
عورت اور روپیہ طاقت ور سفارش ہیں ، اُن کے سامنے قانون اور انصاف بھی گھٹنے ٹیک دیتے ہیں ، ان بدنصیبوں میں سے بعض کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ چکلے کے باہر کوئی اور دنیا بھی ہے یہ گاؤں کی لڑکیاں لاہور کو بھی گاؤں ہی سمجھتی ہیں ، اُن کے نزدیک ساری دُنیا ایک چکلہ ہے اور یہ اس چکلے کی ایک فرد ، پھر ایک کسبی کی فریاد سنتا کون ہے دُنیا مردوں کی ہے اور ان کے مالک مرد ہیں ، دُنیا دولت والوں کی ہے اور اُن کے آقا دولت والے ہیں ، فرض کیجئے یہاں سے بھاگ جائیں تو جائیں کہاں ؟ کیا کوئی مرد بستر بنائے بغیر عورت کو سہارا دینے کے لئے تیار ہے‘‘ ہم سن رہے تھے ،وہ قہر سامانی سے دل پر سچائیوں کی نوکدار حقیقتیں پھوڑ رہی تھی۔
(جاری ہے۔۔۔)

Offline dewta_mastermind

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1475
  • Reputation: +4/-2
  • Gender: Male
  • بہت انتظار کر لیا اب تو مل جا
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #15 on: January 06, 2019, 12:16:16 pm »
واہ اعلی بہت اعلی کام
نازلی جی جیو
تصویر بنا کہ میں تیری جیون دا بہانا لبھیا اے

توں نہ میلوں وچھڑ کہ چن  سجناں اساں  سارا زمانہ لبھیا اے

Offline Nazli

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 105
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #16 on: January 11, 2019, 12:12:16 pm »
واہ اعلی بہت اعلی کام
نازلی جی جیو
Bahut bahut shukriya . Story tu ab shuroo jone ja rahi hai .


Offline Nazli

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 105
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #17 on: January 11, 2019, 12:12:53 pm »
سوال کیا ’’اور یہ جو خود بیٹھی ہیں ان کی مجبوری کیا ہے ؟ ‘‘

’’آپ ٹھیک کہتے ہیں بظاہر کوئی مجبوری نہیں یہ جا بھی سکتی ہیں لیکن ان سے احساس زیادہ جاتا رہا ہے ، ان کی عادئیں پختہ ہو کر ان کی فطرت بن چکی ہیں پس منظر میں ایک تو پیٹ کا مسئلہ ہے دوسرے ان کی عادتیں اتنی خراب ہو چکی ہیں کہ اس ماحول سے نکلتے ہوئے گھبراتی ہیں ، جب وہ اس ٹھکانہ پر آبیٹھی ہیں تو اُن کے لئے کوئی دوسرا ٹھکانہ باقی نہیں رہتا۔‘‘

’’کیا انہیں ماں باپ کا خیال آتا ہے؟‘‘

وہ چُپ ہوگئی لیکن زمرد نے چائے کی پیالیاں پیش کرتے ہوئے کہا ’’ آپ کا سوال احمقانہ ہے ! عورت کا دل بڑا ہی نرم و نازک ہے ہر بیٹی ماں کے گود کو ضرور یاد کرتی ہے ‘‘، خورشید کا چہرہ اشکبار ہوگی اُس نے پلو سے آنسو پونچتے ہوئے کہا۔

اس سوال کا تعلق دماغ سے نہیں دل سے ہے۔

’’آپ کسی کے عقد میں کیوں نہیں چلی جاتیں؟‘‘

’’عقد تو روز ہوتا ہے لیکن ہر عقد کے ساتھ ہی طلاق بھی ہوجاتی ہے۔‘‘


’’معاف کیجئے مردوں میں شادی کی خواہش بستر تک ہی رہتی ہے جب خون کی حرارت ٹھنڈی ہوجاتی ہے تو پھر شادی کا خیال بھی اُڑجاتا ہے۔ ‘‘



’’ کیا آپ کو لائسنس لینا پڑتا ہے ؟‘‘

’’جی نہیں تھانے میں رپٹ لکھوادی جاتی ہے۔‘‘

’’کوئی ٹیکس وغیرہ ؟ ‘‘

’’پیشہ کا ٹیکس تو کوئی نہیں ویسے کئی ٹیکس ہیں ۔‘‘


’’مثلاً‘‘

’’یہ مثلاً نہ پوچھئے۔ اس مثلاً میں بڑے خطرے ہیں ؟ مثلاً مرد کی بیگار اُس کی محنت ہے ، اور عورت کی بیگار اُس کی عصمت ۔!کیا یہ صحیح ہے کہ کارپوریشن کے ڈاکٹر پر مہینے معائنہ کرتے ہیں ۔ ‘‘

’’ جی ہاں ہر مہینہ تو نہیں ، لیکن سوماہی ششماہی چلے آتے ہیں۔‘‘

’’ مشہور ہے کہ مہلک مردانہ امراض ان گھروں ہی سے تقسیم ہوتے ہیں۔‘‘


’’ہوسکتا ہے بعض عورتیں مریضہ ہوں ،لیکن جو کچھ مرد دے جاتے ہیں وہی لے جاتی ہیں ، اس قسم کے مرض عورت کا مرد سے صحیح انتقام ہیں۔‘‘

’’تمہاری آمدنی کیا ہے ؟‘‘

’’ یہ ایک کاروباری راز ہے!‘‘

’’ان عورتوں کی آمدنی کیا ہوگی ۔‘‘

’’ہر عورت کی آمدنی مختلف ہے بعض دن میں سو بھی کما لیتی ہیں۔ بعض پچاس بعض چالیس بعض پندرہ اور بعض چوبیس گھنٹے میں دو چار سے آگے نہیں بڑھتیں کئی معمریں کئی کئی روز کچھ نہیں کماتیں آجکل ویسے ہی مندا ہے ۔‘‘

’’ اور یہ جو ٹھیکیداروں کے قبضہ میں ہوتی ہیں اُنہیں کیا ملتا ہے ؟‘‘


ؔ ’’روٹی کپڑا ،‘‘

’’اس کے علاوہ ؟‘‘

’’اس کے علاوہ وصول دھپا ، گالی گلوچ ، باور کیجئے ان میں سے اکثر نے یہ پاس کی شاہی مسجد کو مینار تک نہیں دیکھے ہیں؟ شہر کا تو ذکر ہی کیا ہے۔‘‘

’’تو گویا یہ عورتیں نہیں ہیں۔‘‘

’’جی ہاں کھلونے ہیں دلچسپ کھلونے ، جن سے کائنات کی ہر شے کھیلتی ہے۔‘‘

’’کیا سال کی تین سو پینسٹھ دنوں میں آپ کوئی چھٹی بھی مناتی ہیں؟‘‘

’’عاشورہ کی دس دن ‘‘

’’ اور عید ، شبرات ۔‘‘
ضرور پڑھیں: امریکا میں پاکستان کے نئے سفیر اسد مجید ٹرمپ کو آج اسنادِ سفارت پیش کریں گے

’’ یہ تو ہماری کمائی کے دن ہوتے ہیں ۔‘‘

ؔ ’’رمضان المبارک میں؟‘‘
ضرور پڑھیں: علیمہ خان اپنے معاملات کا خود جواب دیں گی، آصف زرداری کے خلاف ناقابل تردید ثبوت ہیں:خرم شیر زمان

’’ہمارا کاروبار رات کو شروع ہوتا ہے اور روزہ کا تعلق دن سے ہے۔‘‘

’’آپ کا عاشورہ سے کیا تعلق ہے؟‘‘
 

’’حسین علیہ الصلوۃ والسلام کی شہادت کے دن ہیں اور ہم مذہباً ان دنوں کا احترام کرتی ہیں۔‘‘

’’کیا تمہیں مذہب سے دلچسپی ہے۔‘‘


’’کیوں نہیں ! ہم بھی بفضلہ تعالیٰ مسلمان ہیں یہ ٹھیک ہے کہ ہم گنہگار ہیں لیکن خدا کی رحمت کے دروازے تو ہم پر بند نہیں سب بہنیں پیر فقیر مناتی ہیں نذر نیاز دیتی ہیں مزاروں پر چڑھاوے چڑھائی ہیں ، خانقا ہوں کے سلام کو جاتی ہیں ، عاشورہ کے دنوں میں ماتم کرتی ہیں تعزیہ نکالتی ہیں علم اُٹھاتی ہیں۔‘‘

میں نے جائزہ لیا تو اُس کا مکان ڈربہ نہیں تھا دو کمرے تھے۔ پہلا کمرہ ’’انتظار ‘‘ تھا جہاں وہ کرسی پر بیٹھی گاہکوں کا راہ تکتی ہیں دوسرا کمرہ خلوت خانہ تھا جہاں ایک چوبی پلنگ پڑا تھا، اس پر ایک تو شک تھی اور تو شک پر سفید چادر ، پلنگ کے چوکھٹوں میں دوننگی تصویریں جڑی ہوئی تھیں ، اُوپر دیوار پر اخباروں کے تصویری تراشے لئی سے چسپاں تھے ۔ثریا ، کامنی ، نرگس ، نمی، صبیحہ اور نور جہاں کے فوٹو فریم کئے ہوئے تھے ، ایک کونے میں جستی حمام پڑا تھا ، اس کے پہلے میں مٹی کا گھڑا اور مٹی کا لوٹا رکھا تھا غالباً شہتیروں کی بدنمائی کو چھپانے کے لئے اخباروں کے پُرزے چھت میں چپکا دیئے گئے تھے۔ معنی خیر سرخیاں ، دلچسپ عبارتیں:

حکومت پاکستان چکلے اُٹھا دینے کے مسئلہ پر غور کر رہی ہے، زمیندار

’’چٹان ‘‘ کو فحاشی کے الزام میں بند کر کے حکومت نے مستحسن قدم اٹھایا ہے۔ آفاق

پاکستان کا دستور شرعی بنیادوں پر بنایا جارہا ہے۔ سید سلیمان

ندوی کی توصیحات۔ احسان

بیڈن روڈ پر ایک نوجوان عطاء الرحمن نے خود کشی کر لی ، وہ کئی روز سے بھوکا تھا۔ امروز

مجھے عصمت فروشنی کے لیے مجبور کیا جاتا رہا ہے ، عدالت میں حُسن بانو کا بیان۔ نوائے وقت

یہ حکومت غیر اسلامی بنیادوں پر قائم ہے۔ مولانا ابو الاعلیٰ مودوی کی تصریحات۔ تسنیم

****


Offline Nazli

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 105
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #18 on: January 11, 2019, 12:24:27 pm »
نیلم کی کہانی

غور سے دیکھا تو نیلم کے چہرے پر ابھی تک عورت کا رُوپ تھا ۔پہلے اُس کا مکان چیت رام روڈ پر تھا اب بازار شیخو پوریاں میں ہے ان پانچ سالوں میں اُس پر مصیبت کی ایک پوری کہانی بیت چکی ہے اب وہ ایک خرانٹ عورت ہے اس کا مکان بہت سی نوواردوں کا اڈا ہے وہ اُن کی مالکن ہے وہ اُن کی معلمہ ہے وہ اُن کا آپا ہے وہ ایک داستان گوہے لیکن خود بھی ایک سرگزشت ہے اب اُس کا گورا رنگ مدہم ہوچکا ہے اُسکی چپٹی ناک اور بھی بیٹھ گئی ہے ۔وہ میانہ قامت ، لیکن بالا بلندوں سے شانے ملاتی ہے اُس کی آنکھوں میں مضمحل سارس ہے لیکن ڈورے سر مئی ہیں اُس کے یاقوتی ہونٹوں پر بہت سی کانٹیں ہیں جن سے ان گنت تماشائیوں کی شب بسری کا سراغ ملتا ہے اس کا لہجہ بے وقار ہونے کے باوجود خنک ہے اس کی زندگی کئی مخاصمتوں اور مفاہمتوں کا سنگم ہے وہ ان عورتوں کا صحیح نمونہ ہے جن میں اُفتادِ زمانہ ہے کئی عورتوں کی خصوصیتیں جمع ہوجاتی ہیں ۔حرافہ کا شہد پن ۔۔۔ رنڈی کا فحش ۔۔۔ نائکہ کا تجربہ اور مدخولہ کی سینہ زوری۔

’’آپ اس بازار میں کہانیاں جمع کر رہے ہیں ؟‘‘ اُس نے کہا ۔۔ ۔ ’’ مشغلہ تو اچھا ہے لیکن آپ اس سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھا سکتے جتنی بھی عورتیں اس بازار میں ہیں سب ایک ہی ٹہنی کی پتیاں ہیں۔ سب کا دردیکساں ہے سب کی کہانی ایک سی ہے ، سب خوش ہیں سب ناخوش سب عورتیں ہیں اور کوئی بھی عورت نہیں۔ بھلا وہ عورت عورت رہ جاتی ہے جس کی آبرو کے دروازے پر ہر کوئی دستک دے سکتا ہو جس کی کوئی سی ذات بھی اپنی نہ ہو اور جس کا بستر کرایہ کی چیز ہو ۔۔۔ ہاں ! آپ میری کہانی پوچھنا چاہتے ہیں تو سنیئے
۔۔۔ یہ اس عورت کی کہانی ہے جو سب کچھ ہارچکی ہے۔
میرے والد پٹیالے میں اپنے گاؤں کے نمبردار تھے ان کا نام شیخ عطا محمد ہے وہ تین سو بیگھے بارانی اور تین سو پینسٹھ بیگھے نہری زمین کے مالک تھے ، جب بٹوارہ ہوگیا تو ہمیں گاؤں چھوڑنا پڑا ۔ریاست نے مسلمان پناہ گزینوں کے لئے بہادر گڑھ کیمپ جاری کر رکھا تھا سا را کنبہ وہیں پہنچ گیا۔ ہزار ہا لوگ تھے ہٹوارہ کیا تھا ایک زلزلہ تھا۔ چاروں طرف خون ہی خون تھا۔ ہند و صرافوں نے لاکھوں روپے کا سونا تیس 30روپے کے حساب سے خرید کیا۔ مہاراج کے فوجی صبح و شام کیمپ کا چکر لگاتے جو عورت پسند ہوتی اُٹھا کر لے جاتے ۔ ‘‘

اس پر اُس کی آواز کسی قدر روندھ گئی ۔۔۔ اکالی دل نہیں ٹڈی دل ۔۔۔ انسانی آبرو کو بری طرح اُجاڑ رہا تھا۔۔۔ ہزار ہا مسلمان بے حق دھاتوں کی طرح تھے باپ اور بھائی کے سامنے اُن کی بیٹی اور بہن کو ٹٹولا جاتا۔ حکم ہوتا نقابیں اُلٹ دو ۔سور ما لڑکیاں چُن لیتے۔ گویا لڑکیاں نہیں جامنیں ہیں ، کوئی قانون اور انصاف نہ تھا۔ بیس 20روپے سیر آٹا، دو آنے میں پانی کا گلاس اور چالیس 40روپے سیر نمک !‘‘

’’تم پر کیا بیتی۔۔۔ ؟ ‘‘

’’ ہم پر ۔۔۔ ماں نے تو کیمپ ہی میں دم توڑ دیاوالد کی عمر اسی برس کی ہے اور ہمیں اس حالت میں دیکھنے سے پہلے ہی اندھے ہو چکے ہیں ہم کل آٹھ جی ہیں بڑی بہن ، چھوٹی بہن ، بھتیجی ، تین چھوٹے بھائی باپ اور میں سب کا بوجھ میرے کندھوں پر ہے ‘‘

’’تمہارے ؟‘‘

’’جی ہاں ‘‘


’’ اور تم یہاں کیسے آئی ہو ؟ ‘‘

’’پاکستان تک تو خدا لایا تھا ، اِ س بازار میں پیٹ لے آیا ہے۔‘‘

’’کیا تمہارا سور ماؤں کے ہاتھ سے بچ نکلنا معجزہ نہیں ؟‘‘

’’جی ہاں ۔۔۔ وہ تو میں نے عرض کیا ناکہ خدا لے آیا ہے خان لیاقت علیخاں کی بدولت سپیشل ٹرین کا انتظام ہوگیا اور ہم شاہدرہ پہنچ گئے۔ ‘‘

’’پھر کیا ہوا‘‘

’’ہوتا کیا ؟ کئی روز تک وہاں کھلے میدان میں پڑے رہے ۔ پھر ادھیڑ عمر کے ایک شخص نے دستگیری کی اور خدا ترسی (اس پر وہ ذرا مسکرائی) کے جذبے میں گھر لے گیا۔ اُس کا مکان انار کلی میں تھا۔ ہمیں چھینٹ کے کپڑے سلوا دیے۔ اس کی باتوں میں شہدتھا۔ والد مکان وغیرہ الاٹ کرانے کی فکر میں تھے ہمارا یہ اجنبی مدد گار درخواستیں لے جاتا لیکن بے سود ، تیسرے چوتھے روز ایک عورت نے آنا شروع کیا اُس کا نام گلزار تھا۔ پہلے اکیلی آتی رہی ، پھر اُس کے ساتھ کچھ جوان لڑکیاں آنے لگیں۔ تمام ریشمی کپڑوں اور سونے کے زیورات میں لدی پھندی ہوتیں ایک دن اُس نے مجھے بہکانہ شروع کیا۔ ‘‘

’’ دیکھو تمہارا باپ اندھا ہوگیا اور قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھا ہے غیر کب تک روٹی کھلائی گا۔۔۔ گانا سیکھ لو اس میں کوئی برائی بھی نہیں ۔۔۔ ایک آرٹ ہے خدا مسبّب الاسباب ہے اس طرح روٹی کی فکر سے آزاد ہوجاؤ گی ۔ ‘‘ یہ میرے لئے ایک نیا مرحلہ تھا ۔ میرا انگ انگ کانپ گیا کئی خوف میرے سامنے آگئے خدا خوف ضمیر کا خوف انسان کا خوف باپ کا خوف اور اس ماں کی قبر کا خوف ، جس کی چھاتی سے ہم نے دودھ پیا تھا گلزار گھاٹ گھاٹ کا پانی پئے ہوئے تھی اُدھر اُس کی چکنی چپڑی باتیں تھیں ادھر ہمارا پیٹ خالی تھا، سو چادل نہ مانا ۔ انکار کیا تو اس کا اصرار بڑھا ۔۔۔ وہ شخص جو ہمیں اس مکان میں لایا تھا کئی روز سے غائب تھا۔

گلزار نے دیکھا سیدھی اُنگلیوں سے گھی نہیں نکلتا تو مطالبہ کیا تم پر اب تک آٹھ سو روپیہ خرچ ہوچکا ہے ادا کرو اور چلی جاؤ۔ اُس کا یہ کہنا تھا کہ پاؤں تلے سے زمین نکل گئی مرتا کیا نہ کرتا آخر اس بازار میں پہنچ گئے۔ اگلی صبح اُستاد جی اگئے۔ تعلیم شروع ہوگئی آواز میں لوچ تھا ہی اب ترتیب پاگیا اور ناچنا کچھ تو اس فضا سے سیکھا کچھ فلموں سے ۔ تھوڑے ہی دنوں میں آواز کی آڑ میں جسم کا چرچا ہوگیا۔ آپ یقین کیجئے میں نے ضمیر کی ایک ادنیٰ سی گھبراہٹ کے بعد اپنا جسم بیچ ڈالا اب ہم دونوں بہنیں بازار کا مال تھیں۔‘‘

’’تمہارا دل اس سے متنفر نہ ہوا ؟‘‘

’’کیوں نہیں ؟ لیکن یہ ماحول ہی ایسا ہے کہ جب کوئی آدمی کسی نی کسی طرح یہاں آپہنچتا ہے تو پھر یہیں کا ہوجاتا ہے۔‘‘
’’ کیا پٹیالہ میں تمہارا نکاح ہوچکا تھا ؟‘‘

’’جی ہاں ! میرے بہن نے خود طلاق حاصل کی اور مجھے طلاق مل گئی تھی ۔‘

’’کیا وجہ ہوئی ؟‘‘

’’یہ خاندانی جھگڑے کچھ عجیب سے ہوتے ہیں ، ان کے ذکر سے آپ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔‘‘

’’ اچھا تم نے کچھ راگ بھی سیکھے ہیں ؟‘‘

’’ صرف ایک راگ جس کا کوئی نام نہیں۔۔۔ اور گانے والیاں تو اس بازار میں دو چار ہی ہوں گی ، ہمارا کام تو صرف خوش وقتی ہے۔‘‘

’’گلزار نے تمہیں کیا دیا ؟‘‘

’’ مجھے اور میرے متعلقین کو روٹی کپڑا۔‘‘

’’ اور تم نے اُس کو کیا دیا ؟‘‘

’’میں نے اس کو ایک سال میں چالیس ہزار سے زائد روپیہ کما کر دیا جس سے وہ ایک عالیشان بلڈنگ خرید چکی ہے۔‘‘

’’اب کہاں ہے وہ ؟‘‘

’’اسی بازار میں ہے اور کئی لڑکیوں کی مالکن ہے مجھ پر جب اُس کا جبر بڑھا تو میں نے ایک آدمی کے مشورے سے علیٰحدہ کاروبار شروع کیا۔ یہ دو کمرے ڈیڑھ سو روپیہ ماہوار کرایہ پر لے رکھے ہیں۔ خدا کے فضل سے اچھے دن گزر رہے ہیں۔‘‘

’’خدا کا فضل ۔۔۔ ؟‘‘

’’کیوں آپ کو اس پر تعجب ہے ؟ خدا کا فضل نہ ہو تو ہمارے لئے کوئی ٹھکانہ نہیں ، ہر کوئی ہمیں خانگی کر پُکارتا اور مویشی سمجھ کر ہنکارتا ہے ہماری عزت یا محنت صرف بستر تک ہے ، اس کے سوا کوئی عزت نہیں ۔‘‘

’’ تو آپ لوگ یہ پیشہ ترک کر دیں؟‘‘

’’ ہم تیار لیکن جائیں کہاں اور قبولے کون؟ لوگ کھیلتے ہیں بیاہتے نہیں ، کئی دفعہ اخباروں نے چکلے اُٹھا دینے کا شور برپا کیا ہے ، لیکن ہوتا ہواتا کچھ نہیں ، جو اُٹھانے والے ہیں وہ راتوں کو چوری چھپے آتے ہیں اورجو شور مچا رہے ہیں وہ صرف اس لئے کہ انگور کھٹے ہیں کس کا جی چاہتا ہے کہ شارع عام بنے اور محفوظ بہ لحظہ بکتی رہے ، عورت نہ ہوئی اخبار ہوگیا۔‘‘

’’لیکن حکومت پر زور تو دیا جا رہا ہے۔‘‘

وہ کھکھلا کر ہنس پڑی ۔۔۔ ’’ آپ بھی انجان بنتے ہیں حکومت کے لئے اورتھوڑے کام ہیں ، یہ ایک اخلاقی مسئلہ ہے اور اس کا تعلق پورے معاشرہ سے ہے۔‘‘

’’لیکن حکومت کے بھی تو کچھ فرائض ہوتے ہیں؟‘‘

’’جی ہاں ! کیوں نہیں ؟ وہ اپنے فرائض کو بڑی خوبی سے پورا کرتی ہے مثلاً ایک دفعہ قلعہ کی سیڑھیوں پر لیاقت علی خاں نے سلامی لی تھی تو قلعہ کی سیڑھیوں پر جو قالین بچھائے گئے تھے ہمارے ہی مکانوں سے گئے تھے۔ جب کبھی قلعہ سے باہر یا قلعہ کے اندر کوئی سرکاری تقریب ہوتی ہے قالین ہمارے ہاں ہی سے جاتے ہیں۔‘‘

’’ او ہو ! یہ تو ایک خبر ہے ۔‘‘

’’خبر کیسی ؟ راعی کا رعایا پر حق ہوتا ہے ہمیں تو سرکاری دنگل کے لئے بھی ٹکٹ خریدنے پڑتے ہیں۔‘‘

’’ آپ لوگ انکار کیوں نہیں کر دیتے ۔‘‘

’’خوب ! آپ بھی ہوا میں گرہ لگا رہے ہیں ۔ تو بعض اوقات تھانیدار کے مہمانوں کے لئے بستر بھیجنے پڑتے ہیں ، ایسا نہ کریں تو ہمارا کاروبار ایک دن میں ٹھپ ہوجائے۔ ہم لوگ عیبوں کی گٹھڑی ہیں جو شخص بھی یہاں آتا ہے وہ اخلاقی چور ہوتا ہے پولیس سے جھگڑا مول لے کر بھوکوں مرنے والی بات ہے بلکہ قید ہونے والی ۔‘‘

’’تم بیاہ کیوں نہیں کر لیتیں ۔‘‘

’’مجھ سے اور میرے جسم سے تو بیاہ کرنے والے کئی ہیں۔ نہ بھی ہوں تو پیدا ہو سکتے ہیں۔ لیکن میرے بوڑھے باپ اور ناچار کنبہ کی ذمہ داری کوئی نہیں لیتا۔ ایک دفعہ ایک مقامی بنک کا منیجر مجھے گھر لے گیا لیکن دوسرے ہی مہینے اُکتا گیا مجھے رکھنے کے لئے تیار تھا گھر والوں کو نہیں اور اب تو میں بیاہ کے لفظ ہی کو مذاق سمجھتی ہوں۔‘‘

’’اچھا تم نے کبھی کسی سے محبت کی ہے ؟‘‘

’’ محبت ۔۔۔ ‘‘ وہ ایک گہری سوچ میں ڈوب گئی

(جاری ہے۔۔۔


Offline Nazli

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 105
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #19 on: January 11, 2019, 12:34:25 pm »
وہ یکا یک بولی’’ کبھی نہیں اور بالکل نہیں۔ محبت ایک فضول چیز ہے ۔ اس سے معزز خاندانوں کی کنواریوں کو تو دھوکا دیا جا سکتا ہے ہمیں نہیں ، ہم دوکاندار ہیں دوکاندار کا کام گاہک سے محبت کرنا نہیں ۔ جب کوئی شخص محبت جتاتا ہے تو ہم اُسے پاگل سمجھتی ہیں یا پھر یہ سمجھتی ہیں کہ اس کی گرہ میں مال نہیں رہا۔ ہمیں صرف ایک چیز سے محبت سے اور وہ ہے روپیہ ۔۔۔ ‘‘ اُس نے چاندی کا روپیہ کھنکھناتے ہوئے کہا ۔ ’’ اس روپیہ سے ؟‘‘
’’اور جو لوگ تہمارے مکانوں پر آتے ہیں ؟‘
’’وہ بے وقوف ہوتے ہیں یا اوباش ۔ بعض عجیب الخلقت بھی آتے ہیں، کوئی کہتا ہے تم میرے بن جاؤ ، میں تمہارے لئے بیوی چھوڑ سکتا ہوں ، کوئی ہمیں خار دینے کے لئے خواہ مخواہ بیوی کا ذکر لے آتا ہے ۔ اصل میں اس قسم کے لوگ گاودی ہوتے ہیں۔ جس مرد نے سہروں سے بیاہی ہوئی بیوی کی عزت نہ کی وہ ایک طوائف کی عزت کیسے کر سکتا ہے۔ ‘‘
’’ بہر حال یہ کام تو بُرا ہی ہے ۔‘‘
’’کیوں نہیں لیکن اس کی ذمہ دار عورتیں نہیں مرد ہیں ۔۔۔ ظالم مرد خدا کے دشمن ۔‘‘
’’ اس کا کوئی حل ہے ‘‘
’’ ضرور ہے یہاں کوئی تین ساڑھے تین ہزار عورتیں ہوں گے ۔ میر ابس ہو تو بڑے بڑے کنچنوں کی دولت مضبوط کرلوں اور جتنی اس پیشہ کی عورتیں ہیں ان میں برابر بانٹ دوں۔ دولت اتنی ہے کہ عمر بھر کے لئے سب کی کفالت کر سکتی ہے، ان میں سے اسی فیصدی کا نکاح ہوسکتا ہے اور جو معذور ہیں ، ان کے لئے کنچنوں کی دولت ہی سے ریسکیو ہوم RESCUE HOMEکھولے جا سکتے ہیں۔‘‘
’’ کیا اس کے لئے سب تیار ہوں گی ۔‘‘
’’ کیوں نہیں ! حرام کی چکنی روٹی سے آرام کی سوکھی روٹی کہیں بہتر ہے۔‘‘
’’کیا اس طرح فحاشی رُک سکتی ہے؟‘‘
’’یہ تو میں نہیں کہہ سکتی کہ فحاشی رُک سکتی ہے یا نہیں ؟ البتہ چکلہ ضرور ختم ہو سکتا ہے۔‘‘
وہ ہمیں بیشک سے اُٹھا کر خلوت خانے میں لے گئے ۔ ایک چھوٹا س کمرہ تھا لیکن وہ قرینہ سے سجا ہوا ایک طرف صوفہ سیٹ ایک ریڈیو دوسری طرف نواری پلنگ اُس کے اُوپر کی دیوار پر دو بڑے چوکھٹے لٹک رہے تھے، جن میں بہت سی تصویریں ایک ساتھ مڑھی ہوئی تھیں۔ اس کے نیچے بوڑھے اخبار ’’زمیندار ‘‘ کا ایک دلچسپ تصویری ترشہ تھا۔
’’ خان لیاقت علی خان پاک پارلیمنٹ میں قرار داد مقاصد پیش کر رہے ہیں۔‘‘
اس نے کھڑکی کھول دی ہمیں صوبے پر بیٹھنے کے لئے کہا خود پلنگ پر دراز ہوگئی ۔ سامنے ایک قطعہ لٹک رہا تھا۔
ؑ ؑ عصیاں سے کبھی ہم نے کنارا نہ کیا پر تونے دل آزردہ ہمارا نہ کیا
ہم نے تو جہنم کی بہت کی تدبیر لیکن تیری رحمت نے گوارا نہ کیا
اُس نے زاویہ قائمہ کے انداز میں انگڑائی لیتے ہوئے کہا ’’ مجھے شادی کرنے میں اب بھی کوئی غدر نہیں ۔ لیکن میں شوہر چاہتی ہوں ۔ اگر کوئی شخص مجھے اس امرکا یقین دلا دے کہ وہ عمر بھی مجھے یہ طعنہ نہ دے گا کہ اُس بازار سے آئی ہو تو میں موٹا جھوٹا پہن کر اور روکھی سوکھی کھا کر بھی گزارا کر سکتی ہوں زندگی بھر مکان کی چار دیواری سے باہر میری آواز نہ سنیں گے ۔ لیکن مجھ میں ماضی کا طعنہ سُننے کی ہمت نہیں ۔ جوعورتیں یہاں سے اُٹھ کر مردوں کے ساتھ چلی جاتی ہیں وہ غلط اُمیدوں پر جاتی ہیں۔ انہیں گر ہستن کہلانے کا واقعی شوق ہوتا ہے لیکن جب وہ محسوس کرتی ہیں کہ اب بھی اُن کے وجود پر گالی چڑھی ہوئی ہے تو اُن کی عورت پھر مرجاتی اور طوائف جاگ اُٹھتی ہے ، آخر کار وہ یہیں چلی آتی ہیں۔‘‘
ایک اور سوال کے جواب میں اُس نے کہا ۔ ’’ اب یہاں خاندانی کنچنوں کے مکان نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہی کوئی دس بیس گھر ہوں گے ، یہ جو آپ بھرا بازار دیکھ رہے ہیں۔ یہ سب نو ساختہ کنچنیوں کا ہے جنہیں بعض دوسرے اسباب یہاں کھینچ لائے ہیں۔ ‘‘
’’ وہ اسباب کیا ہیں ؟‘‘
’’ یہ ایک بڑی لمبی کہانی ہے ۔ کچھ دن اس بازار میں پھرئیے۔ آپ سب کچھ معلوم کر لیں گے مجھ سے نہ پوچھئے تو بہتر ہے ۔‘‘
تاہم ہمارے اصرار پر اس نے بتایا۔
’’ اس بازار کی آمدنی کے بڑے بڑے اڈے کو ٹھی جانے ہیں۔ ان کوٹھی جانوں میں سب کچھ ہوتا ہے مثلاً جسم بکتے ہیں ، شراب بکتی ہے ، افیون بکتی ہے اور جوا ہوتاہے۔ ‘‘
’’تو کیا یہ قانوناً جرم نہیں؟‘‘
’’جرم ہے ، لیکن قانون ، عورت اور روپیہ کے مقابلہ میں ہیچ ہے۔ ویسے تو کوٹھی خانے قائم کرنا ہی خلافِ قانون ہے ، لیکن ان پر پردہ ڈالنے کے لئے ساز رکھے ہوتے ہیں۔ ‘‘
ضرور پڑھیں: قلات اور گردونواح میں شدید زلزلے کے جھٹکے
’’کتنے کوٹھی خانے ہوں گے؟‘‘
’’چھوٹے چھوٹے کوٹھی خانے تو کئی ہیں ، لیکن بڑے چار ہیں۔ ‘‘
ا۔۔۔ کاکوٹھی خانے : ۔ یہ سیالکوٹی چودھری سب سے بڑی کوٹھی خانے کا مالک ہے۔ اس کے پاس دنیوی و جاہت کی ہر شے موجود ہے ۔ تقریباً ایک درجن لڑکیاں ہیں سب شکل و صورت میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ہیں۔ اس نامراد کا کہناہے کہ جب تک وہ پانچ لاکھ روپیہ پیدا نہیں کر لے گا اس پیشہ کو چھوڑے گا نہیں۔ اس کا ذاتی خرچ روز کا سو ، سوا سو روپیہ ہے ۔ ہر وقت شراب میں دُھت رہتا ہے۔ اُس کی نائکہ بیوی جس کی شکل ڈراؤنی ہوتی جار ہی ہے اپنے فن میں بڑی ماہر ہے۔ اس کا کام صرف گاہکوں کو لوٹنا ہے جو اجنبی ایک دفعہ پھنس جائے وہ دوبارہ نہیں آتا ، آدمی آدمی کو پہچانتی ہے لیکن ایک نئے پنچھی کے پر کترنے میں اسے کمال حاصل ہے۔ ‘‘
’’ یہ لڑکیاں کہاں سے آتی ہیں؟‘‘
’’ کچھ تو باہر سے خریدی گئی ہے۔ بعض سے چودھری ’’صاحب ‘‘ نے نکاح پڑھایا ہے۔ یہ شخص اپنے حواریوں کی ایک جمعیت لے کر کسی گاؤں میں چلا جاتا ہے ۔وہاں اپنی رئیسی کا رُعب جماتا پھر ایک طے شدہ پروگرام کے مطابق کوئی نہ کوئی عورت بیاہ لاتا ہے ، خود نامرد ہے ۔ اُس کے پاس جتنی لڑکیاں ہیں سب اُس کے دھوکے کا شکار ہیں۔ وہ ان سے دولت پیدا کرتا ، دوستوں کونذر گردانتا اور عیاش افسروں کو چڑھاوا چڑھاتا ہے۔ بار ہا رائفل کے بے جا استعمال میں پکڑا گیا لیکن ہمیشہ چھوٹ گیا۔ اُس کی رائفل بھی ضبط نہیں ہوتی ۔یہ ان لڑکیاں کو رات بھر کے لئے باہر نہیں بھیجتا صرف ’’بڑوں‘‘ کی کوٹھیوں میں بھیجتا ہے۔ اس کا نرخ بھی گساں ہے۔ ایک شب کی قیمت سوسے اسی تک ، ایک مرحلہ کے بیس 20روپے ، دو روپے بستر کا کرایہ ، دو روپے دلال کے اور خلوت خانے میں جو کچھ لڑکی چھین لے وہ اس پر مستزاد۔‘‘
’’کیا ان لڑکیوں کا جی نہیں اُکتاتا۔۔۔؟‘‘
اس کے پاس جتنی بھی لڑکیاں ہیں اُن کی حالت بڑی قابل رحم ہے لیکن وہ ایک سنگدل قصائی کے قبضہ میں ہیں اور قرونِ وسطیٰ کے قید خانے کی زندگیاں گزار رہی ہیں۔ جس طرح گرہستنوں کا کام محض بچے پید اکرنا ہوتا ہے اسی طرح ان کا کام محض دولت پیدا کرنا ہے اور وہ بھی چودھری اور اس کی نائکہ کے لئے ۔۔۔ ان کے لئے اگر کچھ ہے تو روٹی یا کپڑا ، باقی اُنہیں کھڑکی سے باہر جھانکنے کی بھی اجازت نہیں۔۔۔ اُن کی زندگی ایک پھوڑا ہے ۔۔۔ ایک دفعہ ایک لڑکی نے بھاگنا چاہا ۔پکڑلی گئی پھر جو سلوک اُس سے کیا گیا وہ اثنا ظالمانہ تھا کہ تصور ہی سے روح کانپ اُٹھتی ہے۔ اس بدنصیب کو کئی روز تک بلاناغہ گھنٹہ دوگھنٹے لٹکایا گیا۔۔ ۔ اور مرچوں کی دھونی دی گئی۔۔۔ آخر کئی مردوں کے حوالے کیا گیا خود حُقہ کی نے منہ میں لئے تماشا دیکھتا رہا۔‘‘
’’ کیا اس کو خدا کا خوف نہیں ؟‘‘
اس نے استہزاً ہنستے ہوئے کہا۔ ’’ آپ بھی عجیب لوگ ہیں ۔۔۔ خدا کے خوف کا اس بازار سے کیا تعلق ؟ ہمیشہ قصرِ شہی اور قصرِ عیش خدا کے خوف سے خالی رہے ہیں۔ خدا ہوتا ۔۔۔ ؟ ‘‘ وہ جذباتی ہوگئی ۔’’ تو اس سامنے کو بڑی مسجد کے مینار صدیوں سے ساکت رہتے ؟ اور راوی کا پانی منٹو پارک تک آکر لوٹ جاتا ؟ انسانوں نے خدا کو لوٹ لیا ہے معاذ اللہ ۔‘‘
۲۔۔۔ دوسرا بڑا کوٹھی خانہ۔ اس کا مالک مغویہ عورتوں کی کمائی کھاتا ہے خود جواری ڈھنڈاری ہے جو لڑکیاں گھر سے بھاگ آتی اور ان کے آشنا دغادے جاتے ہیں اس ظالم کے کارندے انہیں پھنسا لاتے اور آہستہ آہستہ پیشہ پر لگا دیتے ہیں۔ اس پر کئی مقدمے چل چکے ہیں لیکن ہمیشہ بری ہوجاتا ہے ابھی حال ہی میں حسن بانو نام کی ایک لڑکی نے اس کے خلاف عدالت میں ایک دردناک بیان دیا تھا۔ خود چونکہ قانون کی نوک پلک جانتا ہے ، اس لئے ضابطہ کے اندررہ کر کاروبار کرتا ہے۔ اس کے ساتھ شہر کے خوفناک غنڈے ہیں۔ اُس کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک رات بھی حوالات میں نہیں رہ سکتا ہے۔۔۳۔۔۔ کا کوٹھی خانہ ہے ، خیر سے حافظ جی ہیں بظاہر محلہ شیخو پوریاں میں واشنگ فیکٹری کھول رکھی ہے ایک حرافہ جو دل سے ساتھ نہیں اس کے نرغہ میں ہے۔ یہ اس سے نصف کی پتی لیتا اور چوری چھپے الکحل بیچتا ہے۔ جب سے حکومت نے شراب بند کی ہے یہ اور ایسے کئی لوگ سپرٹ میں کیمیاوی اجزا ملا کر شراب کے نام سے فروخت کر رہے ہیں جس سے اکثر موتیں واقع ہوچکی ہیں۔ ‘‘

۴۔۔۔ کا کوٹھی خانہ ۔ یہ واحد عورت ہے جس نے بہت بڑے پیمانہ پر اپنا کاروبار چلا رکھاہے۔ اس کی آمدنی کئی قسم کے لوگ کھا جاتے ہیں ، اس کے ہاں مستقل لڑکیوں کے علاوہ باہر سے بھی کچھ لڑکیاں آتی ہیں۔ ‘‘
یہ واقعہ ہے کہ کئی لڑکیوں کے والدین انہیں رات بھر کے لئے چھوڑ جاتے ہیں اور وہ دن چڑھے کمائی لے کر واپس چلی جاتی ہیں۔ کچھ ازخود چلی آتی ہیں ایک لڑکی جو کچھ کماتی اس کا نصف مالکن لیتی ہے۔ کچھ مکان کے کرایہ میں وضع ہوجاتا ہے کچھ دلال لے جاتے ہیں اور لڑکی کے حصہ میں ایک تہائی رہ جاتا ہے ۔‘‘

’’ ان لڑکیوں میں سے کسی کا پتہ معلوم ہے ؟‘‘
کیوں نہیں ۔۔۔ لیکن کسی کے ماں باپ کا پتہ دینا ہمارے ہاں کا رواج نہیں ہے ۔
ان کے علاوہ جو چھوٹے چھوٹے کوٹھی خانے ہیں وہ کمی بیشی سے انہی لائنوں پر چل رہے ہیں۔ ایک بڑی مصیبت یہ آپڑی ہے کہ اب پڑھی لکھی لڑکیاں بھی شامل ہوتی جار ہی ہیں۔ ادھر ایک لڑکی صغریٰ رہتی ہے جو فرفر انگریزی بولتی ہے لیکن ماں باپ کی غلطی سے یہاں آ بیٹھی ہے۔ اس نے کالج میں کسی نوجوان سے دوستی پیدا کی اور اسی کے ساتھ نکل گئی۔ وہ ذلیل انسان ہفتہ عشرہ ہی میں غائب ہوگیا ۔ صغریٰ نے ماں باپ کی طرف لوٹنا چاہا کہ خاندانی عزت کا بت مزاحم ہوگیا اب بقول خود والدین کے شہر ہی میں والدین کی غیرت سے انتقام لے رہی ہے وہ کہا کرتی ہے ’’ میرا وجود ایک دعوت ہے اُن لوگوں کے لئے جو ہمیں کھلونا سمجھتے اور اپنی خواتین کوعزت کا موتی کہتے ہیں۔ میرا ماضی ایک احتجاج ہے اُس معاشرت کے خلاف جو محض رواج ہی رواج ہے ، میرا حال ایک طنز ہے اُن باپوں کے خلاف جن کی بیٹیاں چوری چھپے معاشقے کرتی ہیں ، میرا مستقبل ایک قبر ہے اور اس پر ایک ہی کتبہ ٹھیک بیٹھ سکتا ہے۔
دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو
میں نے سوال کیا ۔’’ اگر تمہیں اس ملک کا وزیراعظم بنا دیا جائے تو تم کیا کرو؟‘‘
وہ مسکرائی اور کہا۔ ’’ میں سب سے پہلے تمام معاشقے بند کر ڈالوں ۔ شراب ، چرس ، بھنگ ، افیون ، چانڈو۔!‘‘

’’کیوں ‘‘؟
’’ اس لئے نہیں کہ شرعاً حرام ہیں ، صرف اس لئے کہ ان کے استعمال سے جوان ، جوان نہیں رہتا ۔‘‘
ہم بے اختیار ہنسے ، اُس نے کہا ’’معاف کیجئے ہمارے مکان میں ہر قوم کی عزت اس کے جوان ہوتے ہیں میں دعوے سے کہہ سکتی ہوں کہ سو میں سے ستر چہروں سے تو جوان ہیں لیکن ان کی ہمتیں بوڑھی ہوچکی ہیں۔
‘‘ (جاری ہے)

Offline Nazli

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 105
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #20 on: January 11, 2019, 01:07:03 pm »
ممتاز کی زبانی

کاش دنیا میں کسی شے کا کوئی نام نہ ہوتا ۔۔۔ شلر
شمشاد ، امتیاز ، ممتاز اور شہناز چار بہنیں ہیں ۔ ان کا والد امرت سر میں برادری کا چودھری تھا۔ لاہور میں ان کی دو چچیری بہنیں ہیں زہرہ اور مشتری، آغا حشر والی مختار ان کی خلیری بہن ہے۔ ملک کی تقسیم سے پہلے چاروں امرت سر میں رہتی تھیں اور وہاں ان کا بڑا نام اور کام تھا۔ اب پانچ برس سے لاہور میں رہ رہی ہیں بڑی ملنسار ہیں ، ان کا وجود ایک ڈیرہ دار طوائف کے خصائص کا صحیح مظہر ہے ، ان سے ملنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ وہ طوائف جس کی سر پرستی بادشاہتیں اور پھر ریاستیں کرتی رہی ہیں اس کی خصوصیات کیا ہوتی تھیں۔ شمشاد اپنے دن بتا چکی ہے اور اب اُن کی جوانی کا دم واپسیں ہے وہ ایک سرو قامت عورت ہے ، رنگ سفید بدن اکہرا، کہاجاتا ہے جب اس کے عروج کا زمانہ تھا تو بڑے بڑے مہاراج ادھیراج اس کے مکان کا طواف کرتے وہ ’’اعلیٰ حضرت میر عثمان علی خاں خلد اللہ ملکہ ، وسلطنت‘‘ کے محل میں گا چکی ہے۔ شہزادہ معظم جاہ اس کو مجرے کے لئے بلُاتا رہا اس نے لاکھوں روپے کھرے کئے ہیں ان پڑھ ہے ، لیکن بات چیت ، لب ولہجہ ، چال چلن اور نشست و برخاست اس قدر تستعلیق ہیں کہ یہاں بعض دوسرے گھروں میں یہ جامعیت بالکل نہیں ہے ، اس کی شعلہ صفت آواز میں اب بھی ایک ٹھیراؤ ہے لیکن جوانی میں بڑے بڑے مغنی لوہا مانتے تھے اُس نے زندگی بھر دیوانے پیدا کئے لیکن خود کبھی دیوانہ نہیں ہوئی ، وہ عشق کو غالب کی ہمنوائی میں دماغ کا جلل سمجھتی ہے ، اس کی مجلس میں آج بھی بڑے بڑے وارفتگان شوق چلے آتے ہیں۔ ادیب آتے ہیں وزیر آتے ہیں صحافی آتے ہیں خطیب آتے ہیں جج آتے ہیں لیڈر آتے ہیں چونکہ امرتسر کی اکثر سیاسی تحریکوں کا بڑا حصہ اس کی نظروں کے سامنے گذرا ہے اس لئے وہ بعض اہم سیاسی معرکوں پر بھی گفتگو کر لیتی ہے۔
امتیاز اور ممتاز جڑواں بہنیں ہیں۔امتیاز ان سب میں جسم کے اعتبار سے گاہکوں کو مرکز رہی ہے لیکن اب اس پیشے ہی سے متنفر ہے اس کا دل محبت کی ٹھوکر کھا چکا ہے کہا کرتی ہے جس شخص نے اس پیشہ کو ایجاد کیا تھا وہ آنکھوں سے اندھا ، کانوں سے بہرا ، زبان سے گونگا اور دماغ سے فاتر تھا، اس کی زبان میں مٹھاس ہے ، وہ ایک ہوشیار سیاست دان کی طرح گھمبیر ہے ، اپنے دل کا راز کسی سے نہیں کہتی ، لیکن کسی کو دھوکا دینا بھی اس کی فطرت کے خلاف ہے ، اب اس کا رنگ روپ ڈھل رہا ہے اور بدن بھی فربہ ہوچکا ہے لیکن پھر بھی محبت کی چیز ہے اس کی سب بہنیں اس سے محبت کرتی ہیں اور وہ سب بہنوں کی منشا کے خلاف کسی اور سے محبت کرتی ہیں۔
ممتاز چھوئی موئی ہے اس کا رنگ کھلتا ہو گندمی ہے ، وہ طوائف ہونے کے باوجود مرد سے نفرت کرتی ہے۔ اس کا محبوب مشغلہ سگریٹ کے دھوئیں کے مرغولوں میں لطائف گھڑنا ہے ، وہ رات کا دیپک ہے لیکن دن میں اس کا چہرہ ایک سپنا سا محسوس ہوتا ہے اُس کی زبان کترنی کی طرح چلتی ہے۔ ہو امیں گرا لگانا اور پانی پر لکیر کھینچنا اس کے بائیں ہاتھ کا کرتب ہے اس نے ایف اے تک تعلیم حاصل کی ہے، اپنے پیشے سے باہر کے واقعات کو بھی جانچ تول لیتی ہے بلا کی ذہن ہے ، بذلہ سنج ہے ، طناز ہے ، موقع محل سے شعر پڑھ لیتی ہے ، فقرہ باز ہے اس کو الفاظ مسخ کرنے اور ذو معنی جملے کہنے میں کمال حاصل ہے ، گاتی بھی خوب ہے ، لیکن ناچتی نہیں ، اس کا خیال ہے ناچنا ہر عورت کے بس کی چیز نہیں اور وہ بے بس ہے اُس کی رائے میں عورت محبت کرنے کی چیز ہے ، سمجھنے کی نہیں اور مرد سمجھنے کی چیز ہے محبت کرنے کی نہیں ، وہ کسی مرد کو بھی محبت کے قابل نہیں سمجھتی ، اس کا لہجہ خواندہ ہونے کے باوجود کبھی کبھار کرخت ہوجاتا ہے لیکن جب وہ چٹکی لیتی ہے تو ایک دفعہ رونی سے رونی صورت بھی مسکرا اُٹھتی ہے۔
شہناز نے اپنا ڈرائنگ روم دکھایا۔ اس میں صرف چہرے کی آرائش کا سامان ہی ہزار دو ہزار روپیہ کی مالیت کا تھا ، ممتاز بولی ’’ یہ سب کنچن باوروں‘‘ کے پھندے ہیں۔
جو عورتیں پیشہ کماتی ہیں اُن کے بچے نک سک ہیں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں ، اسی موضوع پر ایک دن باتیں ہو رہی تھیں۔ نو کر بازار سے چائے لایا۔ پیالیاں ایک دوسرے سے مختلف تھیں۔ شمشاد نے دوکاندار کو لتاڑا، ممتاز نے برحستہ فقرہ سے محفل کو زعفران زار بنا دیا۔
’’ آپ بلاوجہ بگڑتی ہیں ، یہ بھی تو اپنے ہی بچے بچیاں ہیں۔ ‘‘
بعض دفعہ اس کے چھوٹے چھوٹے فقرے بڑے جاندار ہوتے ہیں اور وہ بے تکلف کہہ جاتی ہے مثلاً وہ چکلہ کی ٹکیوں کو رات کا دیپک ، طوائف کو رات کی رانی ، میراثی کو شرافت کی ہچکی ، نائکہ کو معذورت کا بول ، عشق کو تندرستی کی اُبکائی ، حُسن کو مرد کی میراث ، مناکحت کو قید با مشقت ، برات کو جنازے کی تمہید ، اولاد کو گناہ کی دستاویز ، مرد کو عیاشی کا مرقع اور عورت کو انفعالیت کی تصویر سمجھتی ہے۔
وہ مذاقاً کہا کرتی ہے اُس کا پیشہ ایک انقلابی مشن ہے اس کی ابتدا کیسے ہی ہوئی ہو لیکن طوائف نے ہر دور کی رجعتی قوتوں کو ڈبویا ہے اُس نے ہر دولت مند سے مزدور کی محنت کا انتقام لیا ہے ، جو کچھ جاگیردا رمزار عوں سے لوٹتے رہے ہیں طوائف اس معیشی استحصال کا جنسی بدلہ لیتی ہے ۔ اس نے جاگیرداری نظام کو موت کے قریب لانے میں برابر کا حصہ لیا ہے ، وہ ایک نسل کا انتقام دوسری نسل سے لیتی ہے ۔وہ جانتی ہے کہ ایک محنت کش سرمایہ دار کے لئے زائد قدر پیدا کرتا ہے اور وہ اس زائد قدر کو جنسی شبخون مار کر ہتھیالیتی ہے ۔اسی کی بدولت سرمایہ دار کی دولت گردش میں رہتی ہے ۔
’’ معلوم ہوتا ہے تم نے اقتصادیات بھی پڑھی ہیں‘‘ ۔۔۔ میں نے ممتاز سے دریافت کیا۔
’’جی نہیں ، میں نے کوئی کتاب نہیں پڑھی ، میں نے صرف انسان پڑھے ہیں رنگارنگ کے انسان ۔۔۔ مثلاً ان گھروں میں کون نہیں آتا ، سبھی آتے ہیں ، رات کی تاریکی میں آتے اور پوپھٹنے سے پہلے نکل جاتے ہیں وہ لوگ جو دن کو آنکھ ملاتے ہوئے ڈرتے ہیں ، رات کو پیشانیاں گھستے ہیں ، ہر شخص دن کے اُجالے میں طوائف کو گندی موری کہتا ہے لیکن جب رات اپنے بازو پھیلا دیتی ہے تو اس گندی موری ہی سے ان کے بھائی بند پیاس بجھانے چلے آتے ہیں۔
ہر رات دس بجے بعد قلعہ کی سیڑھیوں ، شاہی مسجد کی پیٹھ اور علامہ اقبالؒ کی قبر کے پاس جو پیکارڈ کاریں کھڑی ہوتی ہیں وہ ہمارے ہی شبینہ مہمانوں کی ہوتی ہیں۔ یہ وہی ہیں جن کے قبضہ قدرت میں بالواسطہ یا بلاواسطہ عنان اقتدار ہے۔ یہ جو ہمارے خلاف شور برپا ہے محض نمائشی ہے مذہب ان لوگوں میں ہوتا ہے جن کے پاس دولت نہیں ہوتی اور گناہ سے وہی لوگ ڈرتے ہیں جن کا ہاتھ نہیں پہنچتا۔ گناہ نام ہے صرف ہمارے اپنے احساسات کے نشیب و فرالز کا ، کیا دنیا میں سب سے بڑا گناہ صرف عورت کا عصمت بیچنا ہے یا اس کے علاوہ بھی ، کوئی قول یا فعل گناہ کی زد میں آتا ہے ؟ انسان انسان کا خون چوسے تو وہ سیاست ہے ۔ عوام خواص کو لوٹ لیں تو وہ دنگا ہے ، خواص عوام کو بھڑا دیں تو وہ جنگ ہے ، ملا ضمیر بیچے تووہ مصلحت ہے ، صوفی مداسنت کام لے تو وہ ریاضت ہے ، لیڈر قومی سرمایہ ہڑپ کر لیں تو وہ خدمت ہے ، لیکن عورت بالا خانے پر آبیٹھے تو سوختنی اور کشتی ہے ، گنہگار ہے ، فاحشہ ہے ، چھنال ہے ، چھلاوا ہے ، الغرض گناہ کا ایک ایسا پیکر ہے جس کی انسانیت مر چکی ہے۔!
میں یہ نہیں کہتی کہ عصمت فروشی جائز ہے ؟ عورت کی عصمت واقعی بڑی شے ہے ، اتنی بڑی شے کہ دنیا میں کوئی بھی اس کی ہم مرتبہ نہیں لیکن مردوں نے ہمیشہ دھات اور کاغذ کی فوقیت کا اس کے مقابلہ میں چرچا کیا ہے۔ ابھی تھوڑے دن ہوئے ہیں۔کوئی صاحب کہہ رے تھے ۔گنج قاروں بھی ہوتو کنجروں کے ہاں کو ڑی کوڑی لٹ جاتی ہے۔ کنچن دھن کے بغیر کسی کے نہیں، فلاں شخص کروڑ پتی یا لکھ پتی تھا، ان کے ہاں برباد ہوگیا، فلاں دوست ان کے مکانوں میں ہزارہا روپیہ خراب کر چکا ہے ، کنگال ہوگیا ہے ، طوائفیں نہیں جو نکیں ہیں ۔۔۔ میں پوچھتی ہوں ، ممتاز نے سگریٹ کا ایک لمبا کش کھینچتے ہوئے کہا۔ عورت کی عصمت زیادہ قیمتی ہے یا دھات کا سکہ اور اب تو وہ بھی انہیں رہا کا غذی نوٹ ہوگیا ہے۔
آپ ایک عورت سے اس کے حقوق تسلیم کئے بغیر کھیلتے ہیں ، اس کا کوئی قانونی مستولیت آپ پر عائد نہیں ہوتی۔ لیکن آپ کو شکایت ہے کہ وہ آپ کی جیب سے معاوضہ کیوں لیتی ہے ؟ کبھی کسی مرد نے سوچا کہ وہ کیا دیتا اور کیا لیتا ہے ؟ ہر طوائف کئی کئی خاندانوں کی ’’امانت دار ‘‘ ہے۔ اس کی گود میں جوبچہ یا بچے ہوتے ہیں وہ کسی نہ کسی معزز باپ ہی کی اولاد ہوتے ہیں، ان کی مائیں ان کے باپوں کو خوب جانتی ہیں اور ان کے باپ بھی انہیں جانتے ہیں لیکن سرکار کے ہاں ولدیت کے خانہ میں ماں ہی کا نام لکھا جاتا ہے۔
یہاں کوئی شخص اپنی جائز کمائی نہیں لٹاتا ، اور حلال کی کمائی کبھی سینکڑوں سے آگے بڑھ نہیں پاتی ، جو لوگ یہاں آتے ہیں ان کے روپیہ پر ان کی مہر ملکیت ضرور ہوتی ہے ، لیکن ان کا روپیہ ، ان کا روپیہ نہیں ہوتا وہ یا لوٹ کا ہوتا ہے یا چور بازاری کا ، یا غریب سے کمایا ہوا اور یا کسی نہ کسی واسطہ سے ہتھیایا ہوا ۔۔۔ لٹنا ،لُٹانا ، ہارنا ، گنوانا ، اس قسم کے جتنے لفظی مغالطے ہیں وہ سب مردوں کی ذہنی قسطائیت کا نتیجہ ہے۔ کوئی چیز حرام ہے تو وہ لوٹ کا روپیہ ہے نہ کہ عورت کی عصمت مرد کیا دیتا ہے سکہ؟ اور عورت کیا دیتی ہے عصمت ؟ عجیب بات ہے کہ عصمت پر حرام کی مہر لگ جاتی ہے اور سکہ حلال کہلاتا ہے۔ ‘‘
میں نے کہا’’ ممتاز! تم ایک پڑھی لکھی اور تجربہ کار لڑکی ہو، اس لئے تمہاری زبان فرفر چلتی ہے لیکن کیا تمہاری ہی منطق سے یہ ثابت نہیں ہوتا تاکہ عصمت کا جو ہر بیچنے کی چیز نہیں اور تمہارے ہاں لوگوں کی جیبیں کُترلی جاتی ہیں‘‘
ممتاز بولی ’’ بس مجھے اس آخری فقرے پر اعتراض ہے یہ کرنا ٹھیک نہیں ، یوں کہیے خالی ہوجاتی ہیں اگر آپ اپنے نفس کو تسلی دینا چاہتے ہیں تو یہ کہہ لیجئے‘‘
اتنے میں اس کی بعض سہیلیاں آگئیں اور وہ اپنے مخصوص فقروں سے کھیلنے لگیں اس پر چوٹ ، اُس پر چوٹ ، کسی پر پھبتی ، کسی پر طعن ، کسی کو گالی ، کسی پر طنز اور کسی سے شوخی۔ جب یہ اکٹھی ہوتی ہیں تو اُن کا مذاق مردوں کی سطح پر آجاتا ہے۔
صفیہ نے کہا’’ ممتاز، رات دیوالی ہے کہو کیا ارادہ ہے ؟ تاشین منگوالی ہیں ، کوئی پنچھی نہ آیا ، تو پھر روپیہ پوائنٹ‘‘
ممتاز نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا’’ خال خال رنڈیاں ہی پس انداز کرتی ہیں ورنہ اُن کی کمائی جس رستے سے آتی ہے اس راستے میں نکل جاتی ہے ، کچھ لگے بندھے لے جاتی ہیں کچھ نشوں کی نذر ہوجاتا ہے ، کچھ اسراف کے چولہے میں پھک جاتا ہے ، کچھ جوئے میں ہر جاتا ہے اور جو تھوڑا بہت جمع ہوجاتا ہے وہ رسموں کے پیٹ میں اترجاتا یا بیاہ شادیوں مین تباہی مچتی ہے، کنچنوں کے ہاں خوشی کی رسمیں بڑے ٹھاٹھ سے منائی جاتی ہیں‘‘
اس نے بتایا’’ ابھی حال ہی میں الٰہی جان نے اپنے بیٹے کی مونڈن کرائی اور ہفتہ بھر مجرا ہوتا رہا، ایک خوشی میں ساری برادری کو شریک ہونا پڑتا ہے ، سب ناچتی اور گاتی ہیں ، ان کے ’’ ملاقاتی‘‘ انہیں ’’ سلامیاں‘‘ دیتے ہیں اور اس طرح ہزار ہا روپیہ فراہم ہوجاتا ہے ۔جس گھر میں خوشی ہو، وہاں کئی دن تک مختلف قسم کے کھانے پکتے اور ایک ایک وقت میں سینکڑوں آدمی شکم سیر ہوتے ہیں۔
ہجرووالیوں کی شادی میں دس دن تک ناچ گانے کا بازار گرم رہا، ہر روز طرح طرح کے کھانے پکتے رہے، مختلف رسمیں منائی گئیں ، دورسمیں بڑی ہی عجیب ہوتی ہیں ، ایک تو سندیسہ کی رسم۔ جب برادری کی عورتیں جلوس کی شکل میں مختلف گھروں کو بلاوا دینے جاتی ہیں اور ہر گھر فواکہات و مشروبات سے تواضع کرتا ہے۔ دوسری گھڑا گھڑولی کی رسم ، جب برادری کی رنڈیاں ایک دوسرے یر رنگ پھینکتے ہوئے قریبی کنویں تک جاتیں اور وہاں پانی کے ڈول نکالتی ہیں۔ ہر شب مجرا ہوتا اورگئی رات تک رہتا ہے ، ہر روز مختلف اللوں، کھانے تیار ہوتے ہیں۔ پلاؤ اور پھر اُن کی قسمیں ، موتی پلاؤ، کو کو پلاؤ ، چنبیلی پلاؤ ، نور پلاؤ ، گلزار پلاؤ ، انار دانہ پلاؤ ، نورتن پلاؤ وغیرہ، اس کے علاوہ متنجن ، سفیدہ، شیر برنج ، شیر مال ، قورمہ ، شامی کباب ، مرغ ، مرغا ، مرغابیاں ، بٹیر ، مربے ، اچار ، چٹنیاں ، گوشت اور ان کی مختلف قسمیں بالخصوص پالک گوشت۔جب شادی ہوچکتی ہے تو دلہا والے برادری کی عورتوں کو ارمغانی جوڑے دیتے ہیں ، ہجرووالیوں نے تو اب کے فی گھر ایک ریشمی جوڑا ایک ایک سونے کی انگوٹھی اور ایک ایک چاندی کی پلیٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے‘‘
’’ یہ سب دولت کہاں سے آتی ہے ؟‘‘
’’ کہہ چکی ہوں کہ پنچھیوں کی جیب سے ، جو لوگ نو گرفتار ہوتے ہیں ہم لوگ انہیں پنچھی کہتے ہیں جو رسم وراء میں پختہ ہوجاتے ہیں انہیں طائر آ ہوتی۔ ‘‘
’’ یہ آ ہوتی کیا ہے ؟‘‘
’’ لاہوتی کا معکوس اور میرے ذہن کی ایجاد ہے جو محض حاشیہ نشین ہوتے ہیں صرف نظر باز ، ان کو کنجروں کی اصطلاح میں چامک کہتے ہیں۔ ‘‘
’’ اور یہ شادیاں کہاں ہوتی ہیں ؟‘‘
’’اکثر شادیاں باہر ، غربا کے گھرانوں میں ہوتی ہیں ۔کچھ آپس میں بھی کر لیتے ہیں۔‘‘
’’ آپس میں ؟ ‘‘
’’ جی ہاں ! ۔۔۔ خاندانی چوباروں میں دو طرح کی عورتیں بیٹھتی ہیں۔ ایک وہ جو بہو کی بیٹیاں ہوتی ہیں۔ مثلاً بھائی یا باپ کی بیٹیاں لیکن ان کی ماں جو بہو کہلاتی ہے سخت پردے میں رہتی ہے ۔ اور ہمارے ہاں بہو کی بڑی عزت کی جاتی ہے ۔ بہو بوڑھی ہوکر بھی پرائے مرد کے سامنے نہیں جاتی ۔۔۔ دوسری وہ لڑکیاں جو طوائف کے بطن میں ہوتی ہیں، اور ان میں شاذونادر ہی کوئی لڑکی بیاہی جاتی ہے۔ ‘‘
’’ یہ بازاریاں ، جو خدا جانے کہاں کہاں سے آمری ہیں ، برادری کا ان سے کوئی تعلق نہیں، ہم انہیں اچھوت ہی سمجھتے ہیں انہوں نے ہمارے پیشہ کی ’’لاج ‘‘ گنوادی ہے ۔‘‘
’’ تم نے کہا تھا کہ تمہارے دولت مسرفانہ طور پر ضائع ہوجاتی ہے ، یہ اسراف کون کرتا ہے ؟ ‘‘
’’ کچھ تو رنڈیاں عیبی ہوجاتی ہیں ، مثلاً نصف فیصد کے تو شراب منہ لگی ہوتی ہے ۔ تقریباً نوے فیصد سگریٹ پھونکتی ہیں ان کی مائیں جو جواب نائکہ ہوچکی ہیں انہیں جوئے کا لپکا ہے ۔ایک ایک نشست میں سینکڑوں ہاردیتی ہیں پھر جب ہر جاتی ہیں تو شراب پینے لگتی ہیں، اور اس پر خاندان کے مرد ہیں جو پانچوں عیب شرعی ہوتے ہیں ، اس سے قطع نظریہ صاحبزادیاں خود بھی جوا اور ریس کھیلتی ہیں، ان کے نزدیک پیسہ اور سگریٹ کا دھواں یکساں قیمت رکھتے ہیں۔‘‘
’’یہ صاحبزادیاں ‘‘؟ قاضی نے تعریضاً کہا۔
’’ جی ہاں صاحبزادیاں ! ایک طوائف ہر دولت مند کے ہاتھ عصمت تو بیچ سکتی ہے لیکن گود نہیں ، ان کی گود میں جوبچے ہوتے ہیں آپ ان کے ناک نقشہ پر غور کریں تو ان سے بڑے بڑوں کی غمازی ہوتی ہے ۔ یہ تمام بازار شرفاہی کی کیاریوں سے بھرا پڑا ہے ۔ ‘‘

افسوس بے شمار سخن ہائے گفتنی
خوفِ فسادِ خلق سے ناگفتہ رہ گئے ‘‘
جاری ہے


Offline Nazli

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 105
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #21 on: January 11, 2019, 01:17:37 pm »
ایک سوال کے جواب میں ممتاز نے کہا’’پنجابی خانہ بدوش قسم کے عیاش ہیں ، ان کا متوسط کاروباری طبقہ جسم و آواز کی عارضی عیاشی کرتا ہے ۔ سندھ کے بڑے بڑے زمینداروں کی عیاشی ساون بھادوں کی ہے لیکن سرحد کے بعض لوگ سدا بہار عشق کے قاتل ہیں ان کے ہاں دولت پھٹی پڑتی ہے۔ یہ لوگ نہ صرف کئی کئی بیویاں کرتے ہیں بلکہ ایک آدھ رنڈی کو گھر میں ڈالنا بھی جزوزندگی سمجھتے ہیں ، ان کا کاٹا ہوا پانی نہیں مانگتا ۔پچھلے ایک برس میں کوئی بتیس رنڈیاں ان کے ہاں گئیں، نکاح پڑھوا یا مگر ایک ہی برس کے اندر لوٹ آتی ہیں ۔ ان میں سے ایک تہائی کو دق ہوگئی ہے ‘‘ممتاز نے بات کو سمیٹتے ہوئے کہا’’ پنجابی کا عشق بھنورے کا عشق ہے ، سندھی کا عشق مکھی کا عشق ہے اور پٹھان کا عشق چمگادڑ کا عشق ہے ۔‘‘
موسیقی
موسیقی تمام بنی نوح انسان کی مشترکہ زبان ہے ۔۔۔ (لانگ فیلو )
شمشاد نے کہا ، ’’ موسیقی اور عورت میں چولی دامن کا ساتھ ہے جن منزلوں سے عورت گزری انہی منزلوں سے موسیقی ، کبھی غناعبادت کا جزو تھا بلکہ بعض روایتوں کے پیش نظر غنا تھا ہی عبادت کے لئے ، لیکن آج اپنی فنی عزت کے باوجود ایک پیشہ ہوگیا ہے ، آواز اور جسم دونوں بکاؤ چیزیں ہیں ہر کوئی گانے کی تاثیر قاتل ہے ‘‘ لیکن سوسائٹی میں جوعزت ایک گویے یا گائن کی ہونی چاہیے وہ نہیں ہے عوام غنا کو جنس اور مغنی یا مغنیہ کو دوکاندار سمجھتے ہیں۔
یہ معلوم کرنا تو بڑا مشکل ہے کہ چکلے میں عورت پہلے آئی یا موسیقی یا دونوں ایک ساتھ ، لیکن یہ صحیح ہے کہ دونوں میں قافیہ و ردیف کا تعلق رہا۔ عبادت گاہوں میں بھی عورت رقص اور غنا اکٹھے رہے اور بالاخانوں میں بھی اکٹھے ہیں ۔۔۔ جب تک موسیقی کا تعلق دھرم یا مذہب ہے رہا دیوداسیاں باقاعدہ فنی تعلیم حاصل کرتی رہیں اور وہ بہترین مغنیہ ورقاصہ ہوتی تھیں ، اسی طرح رقص و غنا کا حصول کنیزوں کے محاسن یا فرائض میں سے تھا۔ چنانچہ کنیزوں میں بڑی بڑی نامور مغنیہ ہوتی ہیں ، ایک خاص دور میں تو خود شاہی بیگمیں موسیقی میں استعداد بہم پہنچایا کرتی تھیں۔
جہانگیر کی بیوی اور شاہجہان کی ماں مان متی کو موسیقی میں جو استغراق رہا یہ اس کا اعتراف تھا کہ جہانگیر نے خواصوں کا ایک طائفہ تعلیم و تربیت کے لئے اس کے سپرد کر رکھا تھا۔ مامون الرشید کی بہن علیہ کو موسیقی میں مجتہدانہ کمال حاصل تھا ۔اس کے متعلق عربوں کا دعویٰ تھا کہ ساری دنیا میں اس پایہ کی مغنیہ موجود نہیں ہے۔
اورنگ زیب کے جانشینوں میں ۔۔۔ بہت سوں نے گویا عورتیں اپنے حرم میں ڈال رکھی تھیں۔ ان کی دیکھا دیکھی شہزادے بھی اسی ڈگر پر چل نکلے۔ آخری دور میں تویہ حال یہ تھا کہ مغنیہ اور مغنی عام تھے صناع اور سپاہی نا پیدا ۔
یہ تو خیر محلوں کی دُنیا کا حال ہے اور اس کے تذکرے تاریخ کے صفحوں کو کھنگالنے سے مل ہی جاتے ہیں لیکن اس بازار سے بڑے پائے کی گویا اُٹھی ہیں نور جہاں کی آواز میں جادو ہے ۔ منور سلطانہ نے نورانی گلاپایا ہے۔ مختار بیگم اس میں بھی بلا ہے فریدہ افسوں پھونکتی ہے۔ دہلی سے اختر جہاں اور اُس کی دو بیٹیاں نایاب اختر اور آفتاب اختر آئی ہیں انہیں اچھی سوجھ بوجھ ہے۔ اختر جہاں خود تو بڑی سمجھدار ہے لیکن نایاب بھی آواز کے تیور جانتی ہے ، ستاربھی خوب بجاتی ہے اور پکے راگ سے آشنا ہے ۔‘‘
’’پکار اگ ‘‘ ؟
شمشاد نے بات اُٹھاتے ہوئے کہا۔ ’’ حقیقی راگ تو پکاراگ ہی ہے۔ باقی سب شاعری ہے جن لوگوں کو راگ یا راگنیوں سے آشنائی ہے وہ ان کے سحر کو جانتے ہیں ۔ یہ کمال صرف راگ ہی میں ہے کہ وہ ایک موسم میں دوسرے موسم کی یاد تازہ کرتا اور انسان کے ذہن کو ایک مجرد کیفیت میں منتقل کر دیتا ہے۔ اس وقت بڑے غلام علی خاں اپنے فن میں یگانہ ہیں۔ لیکن وہ نائک یا گند ہرپ نہیں گنی ہیں۔‘‘
’’ یہ نائک ، گندھرپ اور گنی کیا ہیں ؟ ‘‘
’’ نائک موسیقی کے علامہ فہامہ کو کہتے ہیں۔ وہ شخص جو سنگیت کا علم جانتا ہو دوسرے کو پڑھا سکے، خود تمام راگ گا سکتا ہو ، دوسروں کو سکھا سکے، اور جو کچھ اسلاف نے موسیقی میں پیدا کیا ہے اس میں اضافہ کر سکے۔ اس کو نائک کہتے ہیں ۔ آج تک صرف تیس نائک ہوئے ہیں جن میں خسرو ،ہیجو باورا ورواجد علی شاہ بھی شامل ہیں۔
گندھرپ ، وہ ہے جو کل راگ جانتا ہو لیکن خود مجتہدنہ ہو۔ تان سین ، با خاں ،چاند خاں وغیرہ گندھرپ تھے۔
گُنی ، جو صرف اپنے ہی ملک کے راگ گا سکتا ہو۔ لیکن اس کی نظر مارگ راگوں پر نہیں ہوتی ہے۔ ان سے نیچے کلاونت کا درجہ ہے جو دُھرپد اور تروٹ گاتا ہے۔ ٹپہ ، ٹھمرے ، خیال اور غزل گائے وہ قوال ہوتا ہے ‘‘۔
’’ اور یہ بائی کا مفہوم کیا ہے ‘‘؟
ممتاز نے عادتاً چٹکی لیتے ہوئے کہا بائی کا مفہوم ہے By the way‘‘
’’ لطیفہ اچھا ہے لیکن بائی ہے معزز لفط ‘‘ ۔
’’جی ہاں معزز تو ہے لیکن بعض لفظوں کی شہرت زمانہ کی ٹھوکروں سے داغدار ہوجاتی ہے ، مثلاً خلیفہ کا لفظ ہے اب ہر اُس شخص کو خلیفہ کہتے ہیں جو پاؤں توڑ کے بیٹھا ہو ، ایک بیکار وجود !‘‘
’’ بائی غالباً گجراتی کا لفظ ہے اور اس کا صحیح مادہ ایک گجراتی ہی بتا سکتا ہے لیکن جیسے ترکی میں ہر عورت کو خانم کہتے تھے یا ہمارے ہاں بیگم کا لفظ مروج رہا اسی طرح بائی کا لفظ ہے۔ جو بھارت کے بعض علاقوں اور بعض گوتوں کی عورتوں کے نام کا جزو ہے ۔ گاندھی جی کی اہلیہ محترمہ کا نام کستور ابائی تھا ، راجہ مان سنگھ کی بیٹی جو اکبر کے حرم میں تھی اُس کا نام جودھابائی تھا، ممکن ہے مسلمان اُمراء نے بیگم یا خانم کے الفاظ کی پاسداری میں بائی لفظ استعمال کیا ہو۔؟‘‘
’’ آج کل عورتوں میں اچھی گائک کون ہے ‘‘؟
’’ وہ تو آپا بتا چکی ہیں‘‘۔ ممتاز نے سگریٹ کے دھوئیں کو حلق سے نیچے اتارتے ہوئے کہا ۔۔۔ وہ خود بڑی گنی رہ چکی ہیں‘‘۔
شمشاد نے ایک سرد آہ کھینچی ، جیسے کہہ رہی ہو ۔۔۔
ضرور پڑھیں: پی ٹی وی حملہ،صدر مملکت اور وزیراعظم کی بریت کی درخواست پر سماعت آج ہو گی
ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا
اور بات کو اُٹھاتے ہوئے کہا
’’ میں یہ تو نہیں کہتی کہ مجھ سا کوئی نہ تھا ، لیکن زمانہ تھا کہ بڑے بڑے دہلیز سے آگے نہیں بڑھ پاتے تھے۔ ایک دفعہ آنجہانی مہاراجہ اندور ہمارے ہاں امرتسر چلے آئے تھے ۔ کئی دفعہ شہزادہ معظم جاہ کے بلاوے پر حیدر آباد دکن کا سفر کیا ہفتوں قیام رہا ۔ خود میر عثمان علی خاں کئی مجلسوں مین قدم رنجہ فرماتے۔ معظم جاہ کا مزاج شاہانہ تھا ، جب تک قیام ہوتا روزانہ ایک زرتار ساڑھی چند اشرفیاں اور کوئی نہ کوئی طلائی زیور انعام فرماتے۔ لیکن حضور بندگانِ عالی متعالی پر لے درجے کے کنجوس تھے کبھی کسی کو پھوٹی کوڑی تک نہ دی۔‘‘
’’ ایک دفعہ میں گا رہی تھی ، غزل کا کوئی شعر پسند آگیا، حضور نے جیب میں ہاتھ ڈالا حکم ہو ا شمشاد آگے آجاؤ۔ میں نے فرشی سلام کیا۔ لوگ متحیر تھے کہ اعلیٰ حضرت زندگی میں پہلی دفعہ کسی کو انعام بخش رہے ہیں لیکن نظام نے جیب میں سے قوام کی ڈبیا نکالی اور پوچھا پان کھاتی ہو؟‘‘
’’عرض کیا ، جہاں پناہ ! عادت تو ہے ؟‘‘
فرمایا ،’’ جاؤ تمہیں پان کھانے کی اجازت ہے اور یہ لو قوام ‘‘۔
’’دستور تھا کہ جب اعلیٰ حضرت کسی مجلس میں تشریف فرما ہوتے تو اُن کے سامنے کوئی شخص پان کھانے کی ہمت نہ کرپاتا تھا اور یہ میرے لئے ایک بڑا عزاز تھا۔‘‘
شمشاد نے سر د آہ بھری اور بات کو مختصر کرتے ہوئے کہا۔
’’ اب وہ دن خواب کی طرح بیت چکے ہیں ۔ جوانی جا چکی ہے ، بڑھاپا آرہا ہے اور بڑھاپا ہی اصلاً جوانا مرگی ہے‘‘۔

جاری ہے۔۔[/color]

Offline dewta_mastermind

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1475
  • Reputation: +4/-2
  • Gender: Male
  • بہت انتظار کر لیا اب تو مل جا
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #22 on: January 12, 2019, 02:35:02 am »
نازلی جی بمب وجے توانوں
کی نشہ لا دتہ جے
یقین کریں اردو تحریر ایک عرصے بعد پڑھی لیکن جیسا کے میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ لفظی غلطیاں کافی ہیں مگر پھر بھی ایک عجیب سا لطف ہے اردو تحریر میں پھر الفاظ کو سمجھنا اور بر محل جملے آعا شورش کاشمیری کی تحریر واہ سبحان اللہ  بہت اعلی کام  واہ
تصویر بنا کہ میں تیری جیون دا بہانا لبھیا اے

توں نہ میلوں وچھڑ کہ چن  سجناں اساں  سارا زمانہ لبھیا اے

Offline Kajli

  • T. Members
  • 3 Stars
  • ***
  • Posts: 209
  • Reputation: +12/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #23 on: January 12, 2019, 07:36:27 am »
zabardast sisila  please keep it up Nazli sahebah
For me, the most attractive thing in a man is the ability to make me Scream.