Author Topic: ---اُس بازار میں  (Read 465 times)

Offline Nazli

  • T. Members
  • 1 stars
  • *
  • Posts: 48
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #24 on: January 12, 2019, 11:27:39 am »
نازلی جی بمب وجے توانوں
کی نشہ لا دتہ جے
یقین کریں اردو تحریر ایک عرصے بعد پڑھی لیکن جیسا کے میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ لفظی غلطیاں کافی ہیں مگر پھر بھی ایک عجیب سا لطف ہے اردو تحریر میں پھر الفاظ کو سمجھنا اور بر محل جملے آعا شورش کاشمیری کی تحریر واہ سبحان اللہ  بہت اعلی کام  واہ
zabardast sisila  please keep it up Nazli sahebah
app dono ka bahut bahut shukriya . imla mein ghaltiyan hein jahan se coppy kar rahi hoon wahein proofreading mistakes ki wajeh se hein .

YUM Stories

Re: ---اُس بازار میں
« Reply #24 on: January 12, 2019, 11:27:39 am »

Offline Nazli

  • T. Members
  • 1 stars
  • *
  • Posts: 48
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #25 on: January 12, 2019, 11:47:40 am »

میں نے سوال کیا ’’ آپ موسیقی کی تاریخ جانتی ہیں ؟‘‘ مختار نے یہ سمجھا کہ میں اس سے موسیقی کے اجزا پوچھ رہا ہوں ، اس کا جواب نہایت مختصر تھا۔
’’ موسیقی کا مدارار کانِ ثلاثہ پر ہے ، لے ، تال اور سُر۔‘‘ لیکن جب میں نے اپنے سوال کی وضاحت کی تو اُس نے کہا۔۔۔ !
’’ آپ جانتے ہیں ، میں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ آغا حشرکاشمیری کی رفاقت میں بسر کیا ہے وہ میرے راہنما بھی تھے ۔ شوہر بھی ، اُستاد بھی اور محبوب بھی ، وہ ایک فاضل اجل تھے ۔ جب موڈ میں ہوتے تو باتوں کے دھنی تھے۔ کسی موضوع پہ طبیعت بندنہ تھی۔ ہر فن کی روح کو سمجھتے تھے ، ایک دن بہت سے دوست جمع تھے۔ کسی نے سوال کیا۔
’’ آغا جی ! غنا کا موجد کون ہے ‘‘؟
فرمایا۔۔۔ ’’ فطرت ‘‘ ! پھر کیا تھا ایک دریا موج میں آگیا۔ کہنے لگے ’’ انسان کو بولنا ہنسنا اور رونا تو پہلے دن ہی سے ودیعت ہوچکا تھا۔ ان کے امتزاج یا ترکیب سے گانا بھی مل گیا ، فطرت کے مظاہر پر غور کریں ہواؤں کی سر سراہٹ، پرندوں کی چہچہاہٹ، بادلوں کی گھن گرج لے ، تال اور سُر ہی تو ہیں‘‘۔
’’موسیقی یونانی لفظ ہے ۔ اور موسیٰ سے مشتق ۔ معنی ہیں ایجاد کرنا یا پیدا کرنا۔ جس طرح اُردو ، فارسی عربی میں نسبت کے لئے یائے معروف لگا دیتے ہیں۔ اسی طرح لاطینی اور یونانی میں ق لگایا جاتا ہے۔ عربوں نے موسیقی کے حرفِ نسبت پر تو غور کیا، لیکن ایک اوریائے نسبتی بڑھا دی جس سے موسیٰ موسیقی ہوگیا۔ بعض نکتہ طرازوں کا خیال ہے کہ حضرت موسیٰ نے پتھر پر جو عصا مارا تھا اور جس سے پانی کی بارہ نہریں یا سات چشمے پھوٹ نکلے تھے اُس سے زیرو بم کی جو مختلف صدائیں پید اہوئی تھیں۔ موسیٰ فی حقی ، حضرت موسیٰ نے انہیں یاد کرلیا اور وہ آوازیں ہی موسیقی کے سات یا بارہ سُر ہیں‘‘۔
ضرور پڑھیں: پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان تیسرا ٹیسٹ کب شروع ہو گا اور ٹیم میں کسے شامل کیا جا سکتا ہے؟ صحیح وقت اور معلومات جانئے
’’ فخر الدین راری نے لکھا ہے کہ اہل فارس کے نزدیک موسیقی کا موجد حکیم فیثا غورث ہے جو حضرت سلیمانؑ کا شاگرد تھا، لیکن اس سے بھی پہلے کی کتابوں میں موسیقی کا سراغ ملتا ہے ہندوؤں کے ہاں موسیقی کے لئے سنگیت کا لفظ ہے ، جس کے مفہوم میں گانے کے علاوہ ناچ اور گانا بھی میں ان کا عقیدہ ہے کہ موسیقی موجد دیوتا تھے اور سنگیت کے موجد شوجی مہاراج ۔۔۔ بھرت رشی نے علم اپسراؤں (جنتی رقاصاؤں) کو سکھایا ، نارورشی نے انسان کو سکھایا ، چنانچہ اندر کے دربار میں جو لوگ رقص و غنا پر مامور تھے۔ ان میں سے رقاصہ کو اپسرا، گویے کو گندھر اور سازندے کو کنر کہتے تھے ، اس کے برعکس ایک دوسرا خیال یہ ہے کہ اس کے موجد مہادیو ہیں ، ان کی خدمت میں چھ دیوا اور تین پریاں رہتی تھیں ان کا کام صرف گانا بجانا تھا۔ چھ دیو ، چھ راگ ہیں ۔ بھیروں ، مالکونس ، ہنڈول ، دیپک ، میگھ اورسری علیٰ ہذالقیاس۔ پریوں کے نام بھیروں ، ٹوڈی ، اساوری اور راسکلی وغیرہ تھے۔ ان کے علاوہ جو کچھ ہے وہ نائکوں کی ایجادیں ہیں جنہیں پتر (بیٹا ) اور بھاوجا(بہو) کہتے ہیں۔ ہندوستان میں موسیقی کا پہلا نقش سام وید کے منتر ہیں جن کو رک کہتے ہیں۔ مصریوں کا دعویٰ ہے کہ موسیقی اور سازوں کے مودجدان کے دیوتا ہیں۔ اور ایک یونانی حکیم نے بھی اس کی تائید کی ہے لیکن یونانیوں کا اصرار ہے کہ ان کے دیوتا زیوس کی بیٹیاں ’’ میوزس‘‘ اس کی بانی ہیں اور انہی کے نام پر میوزک یا موسیقی کا لفظ بنا ہے ‘‘۔
’’ تورات سے بنی اسرائیل کے اشغال موسیقی کا پتہ چلتا ہے ، حضرت آدم سے ساتویں پشت میں جو بل نام کا ایک شخص ہوا ہے اُس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ چنگ و ارغنون کا بانی تھا۔ حضرت داؤد کے مزامیر مشہور ہیں انہوں نے مذہبی رسوم کی ادائی کے لئے موسیقی کی چوکیاں مقرر کی تھیں ، چنانچہ اس زمانے میں چنگ ، رباب ، طنبورہ ، جھانجھ ، قرنا ، ترہیون وغیرہ کی موجودگی کا پتہ چلتا ہے۔ حضرت سلیمانؑ کے عہد میں بھی موسیقی کا زور بندھا رہا، پھر کچھ دیر کے لئے اس کی ہوا اکھڑ گئی ، اور معابد یہود سے موسیقی کا فن قطعاً علیٰحدہ ہوگیا۔‘‘
’’ یونان کے دور میں موسیقی کو عروج ہوا ، اور وہ بہت کچھ آگے نکل گئے۔ رومیوں ہی سے ایرانی متاثر ہوئے ، اور بڑا نام پایا۔ خود عربوں کا فنِ موسیقی کچھ نہ تھا، اُن کا تمام تر مواد ایران کی ساسانی موسیقی سے ماخوذ ہے۔
’’ ابو مسحج پہلا عرب تھا جس نے فارس اور روم کے شہروں سے موسیقی کاسرمایہ جمع کیا۔ پھر اضافہ سے عربی میں سہل و سادہ دُھنیں قائم کیں۔ اس کے بعد اسحاق موصلی جیسا نا مورمغنی پیدا ہوا، جس کے کمال موسیقی کا شہرہ اُس عہد کے اطراف و اکناف میں تھا۔ ابو نصر فارابی نے قانون پر ایک مستقل رسالہ لکھ ہے، ابنِ سینا اس فن میں بڑا ہی با کمال تھا۔ شہنائی اسی کی ایجاد ہے‘‘۔
’’ چونکہ موسیقی الفاظ و معانی کی چیز نہیں بلکہ اس کا تعلق الحان و ایقاع سے ہے ، اس لئے حرف و لفظ اس پر قادر نہیں ہوسکتے ، یہی وجہ ہے کہ فاتح قو میں کبھی مفتوح قوموں میں اپنا فن موسیقی منتقل نہیں کر سکی ہیں ۔ بلکہ ان میں گھلنے ملنے کی وجہ سے انہی کے رنگ میں رنگی گئی ہیں۔ اس کی بڑی مثال ہندوستان کی مسلمان بادشاہتیں ہیں۔ انہوں نے ہندوستانی سنگیت کا بڑا اثر قبول کیا۔ چند برائے نام تبدیلیاں کیں۔ لیکن وہ تبدیلیاں جڑ میں نہیں شاخوں میں تھیں چنانچہ مسلمان بادشاہتوں میں خلجی اور تغلق خاندانوں کی موسیقی سے دلچسپی کے واقعات عام ہیں۔ جس شاہی خاندان نے موسیقی سے بحیثیت فن اعتنا کیا وہ شرقی خاندان تھا۔ سلطان حسین شاہ شرقی نے موسیقی میں بعض نئی طرحیں لگائی ہیں ان کے علاوہ بہمنی اور نظام شاہی خاندانوں نے اپنے شوق و ذوق کو نمایاں کیا۔ چنانچہ ابراہیم عادل شاہ کو ظہوری نے جگت گوروکہا ہے‘‘۔
’’ مغلوں میں اکبر کا عہد گویوں اور مغنیوں کی سرپرستی کے لئے مشہور یہ جہانگیر خود موسیقی کی نوک پلک سے واقف تھا ۔ تمام ملک میں دہلی، آگرہ ، لاہور ، بیجاپور ، احمد نگر اور احمد آباد کے گویے امراء کے ہاں ملازم تھے۔ علاالملک تونی اورنگزیب کے وزراء میں سے تھا لیکن موسیقی کا ایسا ماہر سمجھا جاتا تھا کہ بڑے بڑے اساتذہ اس کی صحبت میں بیٹھتے تھے۔ ابو الفضل اور فیضی کے والد ملامبارک موسیقی کے نکتہ شناسوں میں تھے۔ انہوں نے تان سین کا گانا سنا تو صرف یہ کہا تھا۔’’ ہاں گا لیتا ہے‘‘۔
ملا عبدالقادر بدایونی بین بجانے میں مہارت نامہ رکھتا تھا۔ ملا عبدالسلام لاہور ، علامہ سعد اللہ شاہجہانی ، شیخ علاؤالدین موسیقی کے فاضلوں میں سے تھے۔ بیرم خاں کو موسیقی سے جو شغف رہا اس کی شہادت اس کے بیٹے عبدالرحیم خاتحاناں کی فیاضیوں سے ملتی ہے۔ شیخ سلیم چشتی کا پوتا اسلام خاں جہانگیر کے عہد میں بنگال کا گورنر تھا۔ وہ اسی ہزار روپیہ سالانہ صرف رقص و سرود کے طائفوں پر خرچ کرتا تھا۔ شہزادہ مراد بخش کو اورنگ زیب نے قید کیا تو اپنے ہمراہ سرس بائی کو لے گیا جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس عہد کے خیال گانے والوں میں اُس کا ثانی نہ تھا۔ دورِ آخر میں مظہر جانجاناں اور میردرد بڑے مشتاق تھے ان کے ہاں بڑے بڑے کا اونت اصلاحیں لیتے تھے ‘‘۔
مختار آغا کی تقریرسنا رہی تھی۔ اور میں بڑے غور سے اس کے چہرے کو تک رہا تھا ، جوانی مر چکی ہے لیکن آواز نہیں مری۔ اس میں لدے پھندے دنوں کا کرارا پن باقی ہے۔

(جاری ہے۔۔۔ )

YUM Stories

Re: ---اُس بازار میں
« Reply #25 on: January 12, 2019, 11:47:40 am »

Offline Nazli

  • T. Members
  • 1 stars
  • *
  • Posts: 48
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #26 on: January 12, 2019, 11:54:59 am »
اختر جہاں ایک رئیس کے نکاح میں ہے۔ آفتاب اختر بھی ایک رئیس ابن رئیس کے ملازم ہے۔ نایاب اختر کی کم سختی ضرب المثال ہے۔ لیکن اختر کی ماں او ان کی نانی ایک جہاندیدہ نائکہ ہے۔ ایک زمانہ بتا چکی ہے اس کے چہرے پر پھیلی ہوئی جھریاں اس کی مرحوم جوانی کے سنگبھار کا پتہ دیتی ہیں۔ وہ اس سن و سال میں بھی ایک شاہی کھنڈر معلوم ہوتی ہے جب کوئی فرد یا جمعیت گانا سننے آتی ہے تو پہلی نظر میں ان کا جائزہ لیتی ہے ، ایک طرف اُستاد فروکش ہوتے ہیں ، دوسری طرف وہ بیٹھتی ہے۔ مراد آبادی پاندان سامنے رکھا ہوتا ہے ، خود پان بناتی اور خود ہی پیش کرتی ہے۔ لیکن جب جانے پہچانے لوگ ہوں تو فوراً ہی نایاب کو بلا لیتی ہے ، نایاب سمٹے ہوئے ریشم کی طرح آتی ، ہاتھ کو قوس بناتے ہوئے سلام کرتی اور سنبل کے ڈھیر کی طرح بیٹھ جاتی ہے ، اُس کی بڑی بڑی گول آنکھوں پر اس کی دراز پلکیں جھکی رہتی ہیں۔
نایاب عادتاً غنچہ دہن ہے ، ستار خوب بجاتی ہے ، پکاراگ بھی گا لیتی ہے۔ لیکن یوپی کے دھان پان شاعروں کی ہلکی پھلی غزلیں خوب گاتی ہے، اس کی صحبت میں اب بھی دہلی کے بعض کرخند ارنواب ، اور وضعدارا اہل قلم بیٹھتے ہیں۔ اختر جہاں بڑی مجلس آرا ہے ۔ تمام کنبہ ٹھیٹھ اُردو بولتا ہے، اختر نے نایاب سے کہا، ’’ چائے بنوالو‘‘ ۔ کچھ وقت ہوگیا تو اختر نے نایاب سے پوچھا چائے بن گئی ہے ؟‘‘ اُس نے کہا اسٹووپر کیتلی رکھی ہے ۔ حمزی پتی لینے گیاہے ‘‘۔ تھوڑی سی دیر ہوئی ، اختر نے کہا ’’ چائے تیار ہو گئی ؟ ‘‘ وہاں ابھی پانی گرم ہو رہا تھا ۔ نایاب بولی۔
’’ ابھی تو پھول بھی نہیں پڑے ہیں۔‘‘
غرضیکہ ان کے ہاں بات چیت نہایت شستہ ہوتی ہے۔ وہ گنوارپن جو اس بازار کی عام خصوصیت ہے ، سارے گھر میں نہیں ، دونوں بہنیں ایک ہفت روزہ جریدہ رقص و سرود ‘‘ نکالتی رہی ہیں ، اب لاہور سے کراچی چلی گئی ہیں، سنا ہے کہ اچھے گھروں میں اُٹھ گئی ہیں۔
نایاب کا خیال ہے کہ حکماء نے موسیقی کا فن موسیقار سے ایجا دکیا ہے اس پرندے کی عمر ایک ہزار برس ہوتی ہے اور اس کی چونچ میں سات سوراخ ہیں، جب اپنی عمر طبعی کو پہنچتا ہے۔ تو گھانس پھونس اکٹھی کر کے اس کے اردگرد ناچتا اور چہکتا ہے۔ اس کی لے سے انبار میں آگ لگ جاتی ہے ، پھر اس میں بھسم ہوجاتا اور اُس خاکستر ہی سے دوبارہ پیدا ہوتا ہے ، اس پرندے کو ققنس ، یونانی میں فینقس ، پارسی میں آتش زن اور سنسکرت میں دیپک لاٹ کہتے ہیں۔
اختر جہاں کا کہنا ہے ہے کہ ساتوں سرسات جانوروں کی آوازون سے نکلے ہیں گھرج مور کی آواز سے ، رکھپ پپہے سے ، گندھار بکری سے ، مدہم کلنگ سے ، پنچم کوئل سے ، دھیوت گھوڑے سے اور نکہار ہاتھی سے۔
خواجہ نے کہا ’’جتنی معلومات بھی موسیقی کے متعلق اس بازار سے حاصل ہوئی ہیں۔ اُن سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ موسیقی مردوں کی ایجاد ہے اور مردوں ہی نے اسے پروان چڑھایا ہے۔ ‘‘
’’ جی ہاں، ‘‘ اختر جہاں نے بات کاٹتے ہوئے کہا۔ ’’ خود یہ بازار بھی مردوں ہی کی تصنیف ہے اوربالا خانوں کو بھی مردوں ہی نے پروان چڑھایا ہے۔ ‘‘
خواجہ نے کہا ، غالباً آپ اس کو تعریض سمجھ رہی ہیں میں تو واقعہ عرض کر رہا ہوں۔‘‘
تو میں نے بھی تعریضاً نہیں کہا۔ یہ بھی واقعہ ہے ‘‘ اختر جہاں نے جواب دیا۔۔۔ !
قاضی بولا ۔’’ دیکھئے نا ، رقص و غنا اس وقت سہ آتشہ ہوجاتے ہیں جب انہیں ایک حسین عورت اختیار کرتی ہے۔‘‘
اختر جہاں بولی ، ’’ آپ درست فرماتے ہیں ، اگر معلمی سے قطع نظر کرلی جائے تو سنگیت عورتوں کی چیز ہے ۔‘‘
’’ یہ رقص کا موجد کون ہے‘‘؟
’’ اس کا موجد بھی انسان ہے ، بظاہر اس کو کوئی تاریخ نہیں لیکن رقص و غنا دونوں ہم عمر اور ہم رشتہ ہیں۔ کبھی رقص منجملہ عبادات تھا۔ اور توریت میں اس کا ذکر موجود ہے۔ لیکن اب اس کی حیثیت فنی ہوگئی ہے ۔ قدم الایام میں بیت المقدس کے ایک یہودی فرمانروانے ہر دو یا نام کے رقاصہ کے نام سے متاثر ہو کر کہا، مانگ کیا مانگتی ہے ‘‘ ؟ اس نے کہا۔۔۔
’’ بپتسمہ دینے والے یوحنا کا سر‘‘ اور لے کے دم لیا۔ مصر کے ابتدائی طائفوں میں جو رقاصائیں تھیں اُن کا دعویٰ تھا کہ دو خاندان برامکہ میں سے ہیں۔ ہندوستان میں رقاصاؤں کو مرلیاں کہتے تھے۔ جب پہلی دفعہ عرب تاجر ملتان میں وارد ہوئے تو ان کا ناچ دیکھ کر اسیر ہوگئے۔ القصہ جیسے جیسے موسیقی میں دُھنیں بنتی گئیں ویسے ویسے رقص میں پیدا ہوتی گئیں۔ اب رقص حد کمال کو پہنچا ہوا ہے ، جہاں موسیقی کو چپ لگتی ہے وہاں رقص بولتا ہے۔ لیکن غنا کی طرح ایک قوم کا رقص بھی دوسری قوم سے مختلف ہوتا ہے۔‘‘
’’ کیا اس بازار میں بھی کوئی رقاصہ ہے‘‘؟
’’ آپ جانتے ہیں ہم لوگ دہلی سے آئے ہیں اور پناہ گزین ہیں، یہ ایک مکان (پکھراج منزل ) دوسو روپیہ ماہوار پر مل گیا ہے۔ کچھ دنوں محکمہ آبادکاری کا دروازہ کھٹ کھٹائی۔ لیکن دفتروں میں تو شرفاخوار پھرتے ہیں اور ہم ٹھیریں طوائفیں۔ چارونا چار اس مکان میں بیٹھ گئے۔ جو کچھ پس انداز کیا وہ کھا رہے ہیں۔ اب جو لوگ آتے ہیں انہیں آداب ہی کا علم نہیں، جو منہ میں آتا ہے کہہ ڈالتے ہیں اور ہاں ۔۔۔ آپ پوچھ رہے تھے کہ اس بازار میں بھی کوئی رقاصہ ہے ۔ دوچار کے متعلق مشہور ہے کہ اچھاناچ لیتی ہیں۔ ‘‘
شہناز ، فریدہ ، الماس ، کاکو۔۔۔‘‘
کاکو گاتی تو واجبی سا ہے ، لیکن تھرکتا خوب جانتی ہے ، یہ جو آپ لوگوں میں مشہور ہے کہ طوائف جونک ہوتی ہے تو یہ واقعی بعض خاندانوں پر صاد آتا ہے ۔وہ انسان کو انسان نہیں سمجھتے ، ان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ جو کچھ مرد کے پاس ہے ، لوٹ لو پھر دھتکار کر رخصت کردو، مثلاً ۔۔۔ سات بہنیں ہیں، اسی بازار میں ان کی حویلیاں کھڑی ہیں، ہر کہین پہنچ سکتی ہیں۔ لیکن گفتگو ہے تو ملمع ، صورتیں ہیں تو سہانی ، دل میں تو سنگی، جب کسی کی جیب پر ہاتھ صاف کرتی ہیں تو خنجر برآں ہوجاتی ہیں۔‘‘
’’ لیکن یہ تو ہر طوائف کا شیوہ ہے ، کوئی رنڈی بہ استشنا کسی مالدار سے محبت نہیں کرتی۔‘‘
’’ آپ کا خیال درست ہے ؟ لیکن فقدان محبت کے باوجود شرافت برتی جا سکتی ہے۔‘‘
’’ اگر شرافت سے مراد زبان کی مٹھاس ہے تو وہ دوچار مکانوں سے قطع نظر ہر کہیں ہے۔ اور اگر شرافت میں دل کا اخلاص بھی شامل ہے تو مجھے اس کی صحت میں شبہ ہے۔ جب لوگ ان مکانوں میں آتے ہیں توشہنشاہ ہوتے ہیں اور جب اُن کی کنی کٹ جاتی ہے تو ان کی زندگی صرف ایک داغ رہ جاتی ہے۔‘‘
الماس کی آواز بڑی گونجدار ہے ، چہرے پہ جوانی کی تمکنت ہے غالب خوب گاتی اور حفیظ غمزے سے پڑھتی ہے۔
ابھی تو میں جوان ہوں
موسیقی سے متعلق اس کی واقفیت کچھ زیادہ نہیں البتہ طبلے کی تھاپ ، طنبورے کی آس، ہارمونیم کے نخرے اور سارنگی کے لہرے کو خوب جانتی ہے، الماس کے ہم نشینوں میں بڑے بڑے لوگ ہیں۔ اس کا وجود ایک ایسی تحریر میں ہے جس پر بہت سے لوگوں کے دستخط ثبت ہیں۔ اس کے سینہ میں کئی راز ہیں ۔ بلکہ خود ایک راز ہے ۔ اس کے نزدیک عورت مرد کی کمزوری سہی لیکن مرد بھی عورت کی کمزوری ہے۔ اس کے رائے میں جذبات کی شادی خود کشی پر منتج ہوتی ہے عورت شادی سے پہلے روتی ہے اور مرد شادی کے بعد۔ وہ طوائف کے حرم میں بیٹھ جانے کی قائل نہیں۔ اس کا خیال ہے جس طوائف میں بیگم بننے کی ہمت نہیں وہ ہر گز ہرگز بیوی نہ بنے۔ ایک طوائف کے لئے جو اس بازار میں ایک عمر بتا چکی ہو۔ گھر کا آنگن جیل خانہ ہے جس طرح ایک گھریلو عورت طوائف کے ماحول کو سمجھنے سے معذور ہے، اسی طرح ایک طوائف گھر کی فضا سے نابلد ہوتی ہے۔‘‘
اس کی باتیں بڑے ہی مزے کی ہیں۔ وہ کہا کرتی ہے ، عورت مرد کو بزدا بناتی ، شراب ذلیل کرتی اور موسیقی سلاتی ہے، اُس کی نظر میں ’’ طوائفیں مدمکھیوں کا جھلڑ ہیں ، کمیائیاں ، مویشیوں کا کھڑک ہیں اور میراثی سہ پہر کی دھوپ کا تڑکا ‘‘ ۔۔۔!

(جاری ہے۔۔۔ )

Offline Nazli

  • T. Members
  • 1 stars
  • *
  • Posts: 48
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #27 on: January 12, 2019, 12:07:34 pm »
بوڑھا کوچوان کوئی بیس برس سے تانگہ ہانکتا ہے وہ دن چڑھے نوگزے کی قبرکے اڈے پر آجاتا اور رات گئے گھر کو لوٹتا ہے ۔ تمام دن وہ شاہی محلہ سے شہر اور شہر سے شاہی محلے کے پھیرے لگاتا ہے۔ چہرہ جھریا چکا ہے، آواز میں کرارا پن ہے ، فامت منحنی جیسے امچور کی سفید پھانک ، بڑی بڑی آنکھوں سے ابھی تک جوانی جھانکتی ہے داڑھی تیموری ہے۔ ناک چنگیزی ، ہاڑ مفلی فی الجملہ کسی گئے ہوئے وقت کی تصویر ہے۔
’’ میاں ! اب جوانوں کی رتی چڑھی ہوئی ہے۔ ہمارا چراغ بڈھا ہوگیا۔ آپ ہفتوں سے آجا رہے ہیں۔ یہ آپ کی شرافت ہے کہ فقیر کے دل میں بھی آپ کے لئے قدر پیدا ہوگئی ہے، ورنہ خوش پوش لوگ جن پر دولت کا جھوٹا جھول چڑھا ہوتا ہے، ان مکانوں سے نکلتے ہیں، تو اُن کے لہجہ کی آب مرچکی ہوتی ہے ، تانگہ میں بیٹھتے ہی ایسی جلی کٹی باتیں کرتے ہیں کہ ان کے حسب نسب کا اختر بختر کھل جاتا ہے۔ بالخصوص نئی تانتی تونٹ کھٹی کی وہ بات کرتی ہے کہ بسا اوقات طبعیت جھنجھلاجاتی ہے۔ جی چاہتا ہے ان سے کہیں میاں آج کے تھپے آج ہی جلا نہیں کرتے لیکن ایک چپ میں بڑی خیر ہے۔‘‘
’’ میری عمر اس وقت ساٹھ سے کچھ اوپر ہے، زندگی جھجھو جھونٹوں میں نہیں بتائی جو کچھ آج نظر آرہا ہے کبھی نہ تھا اور اب توقلندروں کی بادشاہت ہے، ہر کوئی ہتھیلی پہ سرسوں جماتا ہے۔ پھر یہ اس بازار پہ ہی موقوف نہیں ، سارے شہر کی حیا مرچکی ہے جہاں تہاں جھوٹ کے وارے نیارے ہیں۔ آنکھ کا پانی بہہ گیا ہے۔ ہر کسی کا بہرہ کھلا ہوا ہے ، جو منہ میں آتا ہے کہہ دیتا ہے۔‘‘

بڈھے کی عادت تھی کہ شاذہی بولتا تھا۔ ہر شب ہم اس کے تانگہ ہیں سوار ہوتے اور وہ ہمیں ڈیڑھ روپے میں میکلوڈ روڈ تک چھوڑا آتا، لیکن آج جو قاضی نے چھیڑا تو ایک دفتر کھل گیا ، کسی نے ہمیں بتایا تھا کہ وہ بڈھا جس کے تانگہ میں آپ جاتے ہیں، اس بازار کی پاتال تک جانتا ہے۔ اُس کی دولت یہیں لٹی ہے ، کبھی وہ ایک متمول آدمی تھا ، اس کی حویلیاں تھیں لیکن اب تانگہ ہانکتا اور گزارا کرتا ہے۔
’’ بابا ! ہم تو اس بازار کے حالات پر ایک کتاب لکھ رہے ہیں اور اسی لئے کئی دنوں سے چکر لگاتے ہیں۔‘‘
بڈھے نے پہلی دفعہ سر اُٹھا کر دیکھا پھر مسکراتی ہوئی آنکھیں جھکاتے ہوئے کہا۔
’’ جی ہاں ! تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہیے۔‘‘
معلوم ہو ا، بڈھے کو مذاقِ بھی ہے ۔۔۔ اتفاق سے اس روز شہنشاہ وغیرہ گھر میں نہیں تھیں اور ہم ان سے ملے بغیر واپس آرہے تھے، جب بڈھے کی یہ باتیں سنیں ، تو ہم نے علامہ اقبالؒ کے مزار پر تانگہ رکوا لیا اور چاہا اس سے کچھ پوچھ گچھ لیں۔
’’ سُنا ہے آپ بھی اس بازار میں بہت کچھ گنوایا ہے۔‘‘
میں نے ؟ اس کا لہجہ قدر توانا ہوگیا ۔۔۔ جی نہیں ! میں نے بہت کچھ کمایا ہے۔ یہ آپ سے کس نے کہا؟ وہ الفن کٹ چکی ہے جس سے ہم نے کبھی پیچ لڑایا تھا ، اس گھر کی پرانی صورتیں گور کنارے ہیں البتہ اکی اولاد میں سے دو بہنیں فلاں فلاں کے گھر میں ہیں۔‘‘
خیر اس قصے کو چھوڑیئے’’ صرف مجھے دیکھئے، عبرت کا مرقع ہوں ، آپ کا خون تازہ ہے اسے ضائع نہ کیجئے۔ ان مکانوں سے کبھی کوئی سلامت نہیں گیا۔ ان بتکدوں میں ایمان کو دیمک چاٹ جاتی ہے۔ یہ عورتیں نہیں جونکیں ہیں ، ان کے مرد بچھو ہیں ، ہر کوئی سنپو لیا بلکہ گھٹیا ہے ، ان کی محبت روپیہ سے شروع ہوتی اور روپیہ پر ختم ہوجاتی یہ ان کی ہاں وفا ، صبر ، شرافت ، خلوص وغیرہ نام کی کوئی سی شے نہیں۔ صرف جسم میں یا بستر ، آپ ان سے ایک ہزار برس رسم و راہ رکھیں اور گنج قاروں بھی لٹادیں تو بھی آپ کے دوست نہیں ہوں گے، یہ انسانوں پر شیروں کی طرح دہارٹے اور ہاتھی کی طرح چنگھاڑتے ہیں اور جب جیبیں کتر چکتے ہیں ، تو ان کی عورتیں بلی کی طرح میاؤں کرتی اور مرد کتوں کی طرح بھونکتے ہیں۔‘‘
’’ ہم یہاں یہی معلومات جمع کرنے آتے ہیں ۔‘‘
’’ میاں ! آپ دفعہ کی چاٹ مدتوں پیچھا چھوڑتی ہے۔ یہ پہلا قدم ہی زنجیر ہوجاتا ہے۔ نظر کی گمراہیاں انسان کی دل و دماغ کو ہلادیتی ہیں ، اور نظر اس وقت تک نہیں تھکتی جب تک ہڈیاں نچڑ نہیں جاتی ہیں۔ ‘‘
’’ بابا ! آپ بہت کچھ بتا سکتے ہیں ان کی اصلیت آپ کے تجربہ میں ہے آپ کی کہانی کیا ہے۔‘‘
’’ میری کہانی عام انسانوں سے مختلف نہیں ، یہاں ہر ایک سے یکساں بیتتی ہے۔ میرے باپ دادا متمول لوگ تھے، کئی مربعے زمین تھی ، کئی حویلیاں تھیں۔ میں ان کا اکلوتا بچہ تھا جب والد کا انتقال ہوگیا تو ایک لاکھ کے قریب نقدو روپیہ تھا ، اس وقت میں دسویں جماعت میں پڑھ رہا تھا۔ آپ جانتے ہیں امیروں کے بچے عموماً غبی ہوتے ہیں۔ میں بھی پڑھائی میں کچھ زیادہ ذہین نہ تھا۔ طبیعت کا رجحان کھیلوں کی طرف تھا ۔ والد کی موت نے طبیعت کا ہر بند توڑ ڈالا، ایک دن کچھ دوست ہنسی ہنسی میں گانا سنانے لے گئے ، رفتہ رفتہ عشق کا پینچ لڑگیا۔ اُس کا بھی سن آغاز تھا، میرا بھی ، پہلی سہاگ رات کے پندرہ ہزار روپے ادا کیے۔‘‘

’’ سہاگ رات ؟‘‘

’’ جی ہاں یہ ایک شریفانہ لفظ ہے ، ورنہ ان کے ہاں کوئی سہاگ رات نہیں ہوتی ، باجانہ گاجا مہند نہ ڈھولک، براتی نہ دعوت کچھ نہیں صرف روپیہ ، جسم اور بستر۔‘‘

’’ جب نقدروپیہ ختم ہوگیا تو زمینیں گروی رکھی گئیں، وہ بھی بک گئیں پھر حویلیاں رہن رکھیں، آخر ان کا سودا بھی ہوگیا۔ اور جب سب کچھ دے چکا تو دیگ کی کھرچن کو بھی داؤں پر لگایا مگر پانچ برس میں ملا کیا؟ ایک جسم جو ہمیشہ پرایا تھا۔ ہڈیوں میں نقاہت آگئی۔ عزت قہقہوں میں بٹ گئی کچھ دنوں تو ان کے ہاں پڑا رہا وہ بھی اوپر اسا التفات برتتے رہے لیکن وہ دن بھی آگیا جب مجھے پان بنانے کے لئے کہا گیا اور لگے بندھے جو پہلے جھک کے سلام کہتے تھے اب مسکراکر گزرنے لگے۔ میراثی خفے کی نے تک نہ چھوڑتے۔ اب اُس جسم کے کئی گاہک تھے۔ میں عشق کے بے بصری میں سب کچھ دیکھتا رہا اور آخر ایک دن ایسا آگیا کہ میں ان کے ہاں اِکہ چلانے لگا وہ لوگ جو میرے لئے چلمیں بھرتے تھے اب میں ان کے حقے تازہ کرتا تھا ، یہ تانگہ چلانا میں نے انہی کے ہاں سیکھا ہے۔‘‘
بڈھے کی آواز رندھ گئی ۔۔۔ قاضی نے سہارا دینے کے لئے کہا۔
’’ وہ اب کہاں ہے ؟‘‘
’’ وہ مرکھپ گئی ہے ، اس کی ایک بہن نواب ۔۔۔ کے ہاں ہے ، دو بیٹیاں ۔۔۔ کے گھروں میں ہیں ، البتہ خلیری اور چچیری بہنوں کی اولاد اسی بازار میں بیٹھتی ہے۔‘‘
’’ کیا وہ آپ کو پہچانتی ہیں؟‘‘
’’ جی ہاں ان کے درو دیوار تک پہچانتے ہیں ، آپ بازار میں چلے جائیے وہ تمام بلڈنگیں جو ان کے نام سے منسوب ہیں اس فقیر ہی کے کھنڈر پر تیار ہوئی ہیں۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ ان عمارتوں کی نیو محمد دین ۔۔۔ کی دولت پر رکھی گئی ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ محمد دین اسی بازار میں تانگہ چلاتا ہے۔‘‘
’’لیکن آپ نے یہ پیشہ کیوں اختیار کیا؟‘‘
’’ یہ پیشہ نہیں زندگی گزارنے کا بہانہ ہے ، میری کوئی اولاد نہیِ بیوی نہیں ، رشتہ دار نہیں ، اُس نے مجھ پر ترس کھایا تانگہ دے دیا ، میں چلاتا رہا ، کماتا رہا ، کھاتا رہا۔‘‘
’’ یہ وہی تانگہ ہے؟‘‘
’’ جی نہیں ! یہ دوسرا تانگہ ہے لیکن ہے اُسی تانگہ کی کمائی کا۔‘‘
’’ آُ پکو چاہیے تھا کہ آپ کی ناک کاٹ ڈالتے لیکن یہ ذلت گوارا نہ کرتے۔۔۔‘‘
بڈھے نے روز کا قہقہہ لگایا جیسے وہ یہ سننے کے لئے تیار نہ تھا۔
’’ میاں ! یہ سب کہنے کی باتیں ہیں جو لوگ اس بازار میں آتے ہیں ان کی اپنی ناک آتے ہی کٹ جاتی اور غیرت غائب غلہ ہوجاتی ہے، البتہ جو چیز کچھ دنوں کے لئے طبیعت پر بوجھ بن کے رہتی ہے ، وہ ضمیر کا کانٹا ہے جس کو رفتہ رفتہ عیش کی آگ جھلسا دیتی ہے ، اس وقت تو آپ یہاں بیٹھے ہیں ، بازار میں ہوتے تو میں آپ کو دکھاتا ، بیسیوں لوگ لٹ لٹا کر وہاں بیٹھے ہیں کبھی نوگزے کی قبر پر ملئے میں آپ کو بتاؤں گا کہ کون کس عمارت کی اینٹ ہے؟‘‘
’’ تو ابھی چلئے۔‘‘ ہمارے اصرار پر بڈھا مان گیا ، تانگہ کواڈے میں کھڑا کیا، ایک نعل گیر نوجوان ہے کہا ، ذرا خیال رکھنا ابھی آتا ہوں۔

(جاری ہے)

Offline Nazli

  • T. Members
  • 1 stars
  • *
  • Posts: 48
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #28 on: January 13, 2019, 07:53:59 am »
ہوٹل میں چائے کی میز پر ہم پانچوں بیٹھ گئے۔ دوسری میز پر غالباً اُستاد لوگ کھسر پھسر کر رہے تھے۔ بڈھے نے کہا۔’’ ان کی باتیں سنو، یہ اسی کٹم کے لوگ ہیں،‘‘ ایک کہہ رہا تھا!
ضرور پڑھیں: ملک میں ایل این جی لاناجرم ہے تواس کی سزاکیلئے تیارہوں: شاہد خاقان عباسی

’’ یہ سب محمد دین کی ہڈیاں ہیں جو ان مکانوں کی بنیاد میں پڑی ہیں ، خدا جانے وہ مرگیا ہے یا زندہ ہے۔ لیکن پچھلے دنوں کوئی کہہ رہا تھا کہ تانگہ چلاتا ہے اب جو یہ خانزادہ پھنسا ہے تو اس کے پاس لے دے کے بیس پچیس ہزار روپیہ ہوگا، اور وہ زیادہ سے زیادہ دس بارہ روز کی مار ہے۔‘‘

’’ یہ روپیہ کیونکر ہتھیاتی ہیں؟‘‘

’’ یہی تو ان کا فن ہے ۔ سب سے پہلے تماش بین کی حیثیت کا جائزہ لیتی ہیں، پھر اسی کے مطابق اپنی طلب و خواہش کا نقشہ بناتی ہیں۔ ایک گراں قدر رقم ماہانہ مقرر ہوجاتی ہے ، پھر مجرا ہے ، اُستاد جی ہیں ، لگے بندھے ہیں ، جو اپنے آپ بیٹھے ہیں نوکر آتا ہے‘‘

‘‘ بی جی آج کیا پکے گا۔‘‘

’’ مرغا ، بٹیر، متنجن ، بریانی وغیرہ اور اسُ کی جیب خود بخود کھل جاتی ہے۔‘‘

’’ آپ نے کہا چلئے سیر کو چلتے ہیں ، اُس نے شاپنگ پر اصرار کیا، ہر پھیرے میں کئی کئی ہزار اُٹھ جاتا ہے، ان کے ہاں کپڑے کی کئی کئی سو جوڑے ہوتے ہیں ، اور زیور کا تو کہنا ہی کیا ان کی طلب کبھی ختم نہیں ہوتی، ان کے ہاں رات کا عشق بڑا مہنگا ہوتا ہے ، لیکن دن کا عشق کبھی گراں کبھی ارزاں۔‘‘



’’ وہ دیکھئے چو بارے پر ایک نائکہ بیٹھی ہے ، بڑی مالداراسامی ہے ۔ اس کی اپنی کوئی اولاد نہیں ۔ اِدھر اُدھر سے ایک لڑکی خرید کر جوان کی ہے اور اب اسی کے سہارے جی رہی ہے، اس کی بوٹی بوٹی میں حرام رچا ہوا ہے۔ اُدھر پکھراج منزل کی سج دھج ملاحظہ کیجئے ۔ اس کی مالکن خانہ نشین ہوگئی ہے ، ہے پکاپان، آج ہی مری کل مری ، وہ سامنے ہجرو کنجر کا مکان ہے ، غورفرمایئے ، بلڈنگ کا ناک نقشہ کیا ہے؟ وسط میں کتبہ لگا ہوا ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مکان حاجی چودھری ہجرو

اور اندر کیا ہوتا ہے؟ اس قطار کو دیکھ لیجئے نیچے اُوپر بازاریوں کے مکان ہیں، کیا بن سنورکر بیٹھتی ہیں، اور وہ مسجد ، ان مکانوں میں ایک مریل دوشیزہ کی طرح دبکی بیٹھی ہے۔ وڑینچ کا مکان ایک بڑا مذبح ہے ، اور وہ سامنے کئی کوٹھی خانے ہیں ہر بڑی عمارت پر سنگ مر مر میں بحروف جلی ’’ بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ کھدا ہوا ہے ، یا تو ان کے مالکوں کا اسلام مر چکا ہے یا اللہ میاں ڈھیل دے رہے ہیں۔‘‘

’’ یہ ملا لوگ جو ہر لحظہ اسلام اسلام کرتے ہیں وہ بھی تو آیات الٰہی کی اس امانت پر نہیں بولتے۔‘‘

’’ اور وہاں یہ دیکھئے۔ وہ نوجوانوں کا غول سال ہے ، سب ان کے بھائی بند ہیں ، ہر کوئی دماغ چوٹا ہے۔ یہ تمام بچے ایسے برے اُٹھتے ہیں کہ ان میں کوئی بھی خودکماؤ نہیں، سب بہنوں یا ماؤں کے صدقے میں دندناتے پھرتے ہیں ، ان کی آنکھیں میں روشنی ہے، لیکن غیرت کی دنیا میں اندھیر ہے۔

’’ اُدھر موڑ کی کھٹیا پر ایک کھوسٹ بیٹھا ہے وہ بازار کو چودھری ہے لیکن ان کا با ناغائب ہے اور اب تانا ہی تانارہ گیا ہے۔‘‘


’’ چیت رام روڈ کی بازاریاں اس ڈھائی ڈھوئی کے مینہ کی پیداوار ہیں۔ کنچنوں کے ہاں خمیری روٹی پکتی ہے ان کے ہاں بے خمیر، ان کا کاروبار کچھ لو او رکچھ دو تک محدود ہے، یہ جو گہما گہمی نظر آتی ہے ان میں کچھ کن رسیے ہیں ، زیادہ تر نظر باز جو اپنی جنسی تندرستی کے لئے آجاتے ہیں! یہاں بڑے بڑوں کی اینٹ سے اینٹ بجی ہے تب کہیں ان عمارتوں کی اینٹیں جڑی ہیں۔ ہر حویلی میں کئی خاندانوں کی اینٹیں ہیں خون ہے گارا ہے لیکن اب جو طوائفیں ہیں وہ غبارے ہیں ، اور جو گویا ہیں وہ میراثی ہیں تو وہ ہنچوں ہنچوں کرتے ہیں‘‘

’’ لیکن بابا ! کچھ تو اچھے گویا ہیں۔ ‘‘

’’ مثلاً‘‘

’’ مثلاً مختار حشروالی۔‘‘


’’ اس کا تلفظ غلط ہے۔‘‘

’’ شمشاد۔‘‘


’’ گالیتی ہے ، لیکن اب اس کا زمانہ بیت گیا ہے۔‘‘

’’ فریدہ۔‘‘

’’ وہ گاتی نہیں رانبھتی ہے۔‘‘

’’ الماس۔‘‘

’’ کبھ کوکتی اور کبھی ممیاتی ہے۔‘‘‘

’’ اختری۔‘‘

’’ وہ غٹرغوں کرتی ہے۔‘‘

’’ انور بائی۔‘‘

’’لاحول و لاقوۃ ، وہ ہنہناتی ہے، یا بھن بھناتی ہے۔‘‘

’’زرینہ۔‘‘

’’کڑکڑاتی ہے۔‘‘

’’الٰہی جان۔‘‘

’’چوں چوں کرتی ہے۔‘‘

’’زہرہ و مشتری۔‘‘

’’ کائیں کائیں کرتی ہیں۔‘‘

’’ عنایت بائی۔‘‘

’’بغ بغاتی ہے۔‘‘

’’ شمیم ۔‘‘

’’ جھنکارتی ہے۔‘‘

’’ گلشن آرا۔‘‘

’’ چنگھاڑتی ہے۔‘‘

’’ اس کی بہن شمشاد۔‘‘

’’ چٹ چٹاتی ہے۔‘‘

’’ اور زاہدہ پروین؟‘‘

’’ طوائف تو نہیں ، پیرنی ہے، بس گالیتی ہے۔‘‘

’’شہناز۔‘‘

’’ تھرک لیتی ہے۔‘‘

’’ توگویا آپ اس بازار کی جڑیں تک جانتے ہیں۔‘‘

’’ جی نہیں! ان کی جڑ تو خاکم بدہن ان کا پروردگار بھی نہیں جانتا ،یہ آپ کو جتنی صورتیں بھی نظر آتی ہیں سب چھوٹے زیور ہیں۔‘‘

اور یہ پہناوے اُودے ہرے نیلے پیلے کالے سفید چمپئی جامنی دھانی شنگرفی فالسائی نارنچی لاجوروی زنگاری سردئی پیازی گلابی یا کاکریز۔ جو آپ کو دریچوں میں اُڑتے نظر آتے ہیں ، یہ سب ہماری اور آپ کی جوانی کاکفن ہے۔‘‘(جاری ہے)


Offline Nazli

  • T. Members
  • 1 stars
  • *
  • Posts: 48
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #29 on: January 13, 2019, 07:59:38 am »
سوال کیا ’’ اور یہ بعض تانگے والے بھی تو حراف ہوتے ہیں۔‘‘

’’ جی ہاں حراف کیا ؟ اس سے بھی کئی قدم آگے ‘‘ کچھ تو انہی میں سے ہیں ، کچھ باقاعدہ دلالی کرتے ہیں ، کچھ اس قماش کے ہیں کہ ان پر ایک پنتھ دوکاج کی ضرب المثل صادق آتی ہے ، یعنی خود پیشہ ور ہیں کوٹھی خانہ کھول رکھا ہے ۔ دو چار لڑکیاں ہیں خود گاہک لاتے اور دولت پیدا کرتے ہیں۔‘‘

’’ ایسے کتے ہوں گے؟‘‘

’’ میرے پاس کوئی رجسٹر تو ہے نہیں اور نہ میں نے کبھی گنتی کی ہے لیکن دواڑھائی سو سے کسی طرح بھی کم نہیں ہیں انکی بڑے بڑوں تک رسائی ہے۔ یہ ایک کمپنی کی طرح کام کرتی ہیں ، کچھ تو اس چوک میں رہتے ہیں کچھ میکلوڈ روڈ کے پاس ، کچھ قلعہ گرجر سنگھ کے اڑوس پڑوس ، کچھ میٹرو ہوٹل کے باہر ، کچھ الفنسٹن ہوٹل کے پہلو میں ، اس کے علاوہ مزنگ ، اچھرہ ، مسلم ٹاؤن اور گاف روڈ پر بھی ان کی دوکانداریاں ہیں۔ انہیں ایک اشارہ کافی ہوتا ہے آپ جانتے ہیں گناہ چہرے سے بول اُٹھتا ہے اور خواہش آنکھوں میں جھلک اُٹھتی ہے۔‘‘



’’ اور وہ لوگ جو یہاں آتے ہیں؟‘‘

’’ ہر چور بازاری یہاں آتا ہے۔‘‘

’’ اور یہ عورتیں ؟‘‘

’’ جو کچھ رات کو کماتی ہیں دن کو کھاپی جاتی ہیں ، بعض نکھٹو شوہر ہوتے ہیں ، وہ ان کے لئے سودا لاتے ہیں ہیں بعض محبت بھی کرتی ہیں۔ لیکن گاہکوں سے نہیں اوباشوں سے ، جو کچھ رات کو ہتھیاتی ہیں دن کو انہیں کھلاپلادیتی ہیں اکثر غنڈے انہی کی کمائی پر اینڈتے پھرتے ہیں۔ اگر وہ ان غنڈوں کو کھلائیں پلائیں نہیں یا انہیں ہاتھ میں نہ رکھیں تویہ لوگ اکٹھے ہو کر ایسی دھما چوکٹری مچائیں کہ کوئی بتی بھی روشن نہ رہ سکے۔ ‘‘

’’ تو گویا ان کی زندگی غنڈوں کے ہاتھ میں ہے۔‘‘

’’ جی ہاں نوے فی صد کی زندگی غنڈوں کے ہاتھ میں ، زندگی ہی نہیں کمائی بھی ، میرااندازہ ہے ان بازاریوں کو نوے فیصد روپیہ ٹنگاڑے کھا جاتے ہیں ، جو نشہ کہیں دستیاب نہیں ہوتا وہ یہاں ملتا ہے ، شہر میں شراب بن ہے لیکن یہاں وافر ہے۔ کئی چوباروں میں افیون ، چرس ، چانڈو، کوکین کی تجارت ہوتی ہے۔‘‘

’’ بابا کبھی جوانی بھی یاد آتی ہے۔‘‘وہ کھل کھلا کر ہنس پرا۔

’’ جی ہاں! جوانی مجھے ہی نہیں سب کو یاد آتی ہے لیکن انسان ماضی پر ٹسوے ضرور بہاتا ہے اس سے سیکھتا کچھ نہیں آدمی نے کبھی دوسروں کے تجربے سے فائدہ نہیں اُٹھایا وہ ہمیشہ خود تجربہ کرتا ہے ، ہم کرتے ہیں غلطیاں اور نام رکھتے ہیں تجربہ ۔ کس قدر افسوسناک بات ہے کہ زندگی کے سبق ہمیں اس وقت ملتے ہیں جب وہ ہمارے لئے بیکار ہوجاتے ہیں۔ یاد رکھو دنیا کے بدترین کام ہمیشہ بہترین نیت کے ساتھ کئے جاتے ہیں۔‘‘


محمد شریف (یہ لوگ ہمیشہ اپنا صحیح نام چھپاتے ہیں) ایک گٹھیلا نوجوان ہے وجیہہ ہے عمر بھی کچھ زیادہ نہیں ، یہی کوئی بیس بائیس برس کے پیٹے میں ہوگا، ڈینٹل ہسپتال کے نکڑ پر سات آٹھ نوجوانوں کی ایک منڈلی کھڑی ہوتی ہے۔ سبھی حراف ہیں اور یہ اُن کا سرخیل ہے، بڑا خوش اخلاق ہے۔ شہری پنجابی اور گلابی اُردو خوب بولتا ہے ، اس پیشہ پر برہم نے اُسے کئی دفعہ ٹوکا ، پہلے تو عام عذر کرتا رہا کہ بیکاری ہے، پیٹ پالنا ہے ، چھوٹے چھوٹے بہن بھائی ہیں، باپ مر چکا ہے ماں بوڑھی ہے۔ پھر ایک اور شخص سے پتہ چلا کہ اچھے گھرانے کا نوجوان ہے پہلے گھر کی پونجی ہر ہاتھ صاف کیا اور عیاشی کرتا رہا، جب بڑے بھائی نے نکال دیا تو اپنی ’’ محبوبہ‘‘ کے ہاں رہنے لگا۔ کچھ دنوں اس کی دلالی کرتا رہا اب تقریباً سبھی کوٹھی خانہ کا گماشتہ ہے ، اس قلب ماہیت نے اس کے خیالات پلٹ ڈالے ہیں ، وہ گناہ کے تصور کو محض گفتگو کی چیز سمجھتا ہے، اُس کا خیال ہے جو چیز چوری چھپے کی جاتی ہے وہ گناہ ہے ۔ورنہ اس کے علاوہ گناہ کا تصور محض اضافی ہے ۔

شریف کا کہنا ہے جو لوگ یہاں آتے ہیں ان کی صورتیں زمانے کے لئے ضرور خوف یا تقدس پیدا کرتی ہیں لیکن ہماری لیے نہیں ، اس حمام میں بڑے بڑے لوگ ننگے ہیں ۔ آپ تصور نہیں کر سکتے کہ کون آتا اور کون جاتا ہے، جب رات کے گیارہ بجتے ہیں تو شاہی مسجد کی پیٹھ کی سڑک پر رنگ برنگ کاریں آتی اور مال لے کر اُڑ جاتی ہیں۔ ‘‘

’’ جو لوگ یہاں ٹھہرنا نہیں چاہتے وہ کوٹھیوں یا ہوٹلوں میں چلے جاتے ہیں۔ بعض سیرو تفریح ہی میں خوش ہو لیتے ہیں۔بعض دریا کا کنارہ ڈھونڈھتے اور بعض شہر کی طرف نکل جاتے ہیں وغیرہ۔‘‘

یہ بستی تو ثواب کے تصور ہی سے خالی ہے ‘‘ اُس نے کہا ’’ چوری کرنا جرم نہیں پکڑے جانا جرم ہے۔ سب لوگ گناہ کرتے ہیں۔ کوئی چھپ کے کرتا ہے ، کوئی کھلم کھلا ، کچھ اخلاقی یا قانونی دیواریں ہیں جو درمیان میں چُن دی گئی ہیں ، جو لوگ ان دیواروں کو پھاند جاتے ہیں ان کا گناہ گرفت سے باہر ہو جاتاہے ، جوان دیواروں پر کھڑے رہتے ہیں وہ گناہ و ثواب کی گرفت میں رہتے ہیں اور جوان دیواروں سے اس طرف ہوں وہ بے قید ہوتے ہیں۔‘‘


’’ تمہیں کیا ملتا ہے؟‘‘

’’ صرف گذر اوقات ہوجاتی ہے ، ملے گا کیا؟ اس پیشہ میں کوئی عزت تو ہے نہیں۔‘‘

’’ عجیب بات ہے تم لوگ ذلت کا اقرار بھی کرتے ہو اور پھر اسی کو اختیار کئے ہوئے ہو۔ ‘‘

’’ جی ہاں ! لیکن اس میں ہمارا قصور نہیں ایک تو سوسائٹی ایسی ہے دوسری جب ہڈیوں میں حرام سرایت کرجاتا ہے تو غیرت یا احساس غیرت ختم ہوجاتے ہیں بوئی جی دار ہو تو پانچ دس روپے دے جاتا ہے ورنہ ان عورتوں سے دس فی صد کمیشن مشکل سے ملتی ہے۔ اب لوگوں کے پاس پیسہ نہیں رہا۔ ورنہ مشتاقوں کی قطاریں بندھی رہتی ہیں۔ اب کوئی اکا دکا آنکلتا ہے یا ضرورت مند لوگ رشوت و سفارش کے لئے لے جاتے ہیں۔‘‘

’’ کیا آپ لوگ خدا کے غضب کو قریب نہیں لا رہے؟‘‘

’’ جی ہاں ، خدا کا نام تو چاروں طرف بکھری ہوئی مسجدوں میں روز گونجتا ہے، لیکن خدا کا غضب کہیں نظرنہیں آتا، وہ دیکھئے عالمگیر مسجد کھڑی ہے، اُس کا گنبد بھی کھڑا ہے ، اُس کے مینار بھی کھڑے ہیں ، کبھی ان کی اینٹوں کی جنبش نہیں ہوئی، وہ سامنے قلعہ والیوں کی بلڈنگ ہے ناں،دیکھیں اسکی لوح پر لکھا ہے’’ ھذا من فضل ربی‘‘

اسکی بات سن کر منہ بند کرنا بنتا ہے

(جاری ہے...


Offline Nazli

  • T. Members
  • 1 stars
  • *
  • Posts: 48
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #30 on: January 13, 2019, 08:06:00 am »
اڈہ شہباز خاں میں نوگز کی قبر ہے ، راویوں کا بیان ہے بڑے پہنچے ہوئے بزرگ تھے وہ بھی چپ چاپ پڑے ہیں۔ وہ ٹکٹائیوں کی گلی میں حضرت قاسم شاہ کی خانقاہ ہے ان کی تربت بھی صبح قیامت کے انتظار میں چپ ہے ۔یہ ہفتہ دو ہفتہ میں محرم آرہا ہے ، دسوں دن کاروبار بند رہتا ہے سب حسینؑ کی نیاز دیتی ، علم نکالتی اور مختلف ٹکڑیوں میں عزاداری کی مجلس رچاتی ہیں۔ ایک ایک کی زبان پر اہل بیت کے نام ہوتے ہیں۔ یہ چھاتی پیٹتی ہیں ، ذاکروں کی ہچکی بندھتی ہے اور لوگ روتے ہیں ، کوئی مسلمان شارع عام پر انہیں پاک بیبیوں کے نام لینے سے نہیں روکتا۔ لیکن کسی مسلمان کی بہو بیٹی کا نام بازار میں لو تو وہ مرنے مارنے کو تیار ہوجاتا ہے ، آپ کس کس زخم پر پھا ہارکھیں گے۔ تمام بدن میں ناسور ہیں۔


’’ شریف خدا لگتی کہنا ، ان عورتوں کے متعلق کیا خیال ہے۔‘‘

’’ یہ آج کل کے ’’ شرفا ‘‘ سے اچھی ہیں۔‘‘

’’ وہ کیوں؟‘‘

’’ اس لئے کہ جیسی بھی ہیں ظاہر ہیں لیکن ’’ شرفا‘‘ کی آبرو تو کتابوں کی اوٹ میں جسمانی عیاشی ڈھونڈھتی پھرتی ہے ، بابوجی ‘‘ ۔۔۔ شریف کی آواز میں قدرے گونج پیدا ہوگئی۔۔۔ ’’ قدرت کبھی اپنا انتقام نہیں چھوڑتی ، انہی لوگوں کی بیٹیاں کلنک کا ٹیکہ ثابت ہوتی ہیں جو دوسروں کی آبرو پر ہاتھ صاف کرتے ہیں۔ خدا کے ہاں دیر ہے ، اندھیر نہیں ، اس کے لاٹھی بے آواز ہے ۔‘‘


’’ یہ ٹھیک ہے لیکن ان بازاروں کے متعلق تمہارا صحیح خیال کیا ہے۔‘‘

’’ میرا خیال کیا ہوگا ظاہر ہے کہ انہیں عورتیں کہنا انسانیت کی توہین ہے صحیح عورت تو ڈولی میں نکلتی اور کفن میں جاتی ہے وہ ماں کی کوکھ سے قبر کی گود تک ایک ستر ہوتی ہے۔

حمزی نے سعیدہ کے مکان پر ایک عمر گذار دی ہے۔ اس وقت اس کی عمر پچپن اور ساٹھ کے درمیان ہے ، سعیدہ کی ماں کے عہد میں اُس نے اس کے گھر میں قدم رکھا تھا اور اب بیٹی کا زمانہ بھی گذار رہا ہے ، قدلمبا ہے ، داڑھی صفا چٹ ، مونچھیں خطِ استوار کو جاتی ہیں ، رنگ کا کریزی ہے ، دانتوں میں کھڑکیاں ہیں چہرہ سیاسی مائل ہے۔

اس بازار میں ایک بھی طبلچی اس کا ہم عمر نہیں جو کچھ کمایا اس سے ایک دو مکان خرید لئے ہیں ، خود شرفا کے محلے میں رہتا ہے۔ غالباً دو بچے ہیں اور دونوں پڑھتے ہیں ، ایک کالج میں ہے ، ایک اسکول میں ، اس کو طبلے کی جوڑی سے وہی عشق ہے جو ایک شہسوار کو گھوڑی سے ہوتا ہے یا ایک سپاہی کو تلوار سے یا کسی فسوں کار کو قلم سے۔ وہ بڑے بڑوں کو خاطر میں نہیں لاتا اس کا کہنا ہے۔ اب طبلچی تو اُٹھ گئے ہیں ان کی جگہ ’’ مشلچی‘‘ آگئے ہیں اور مشلچی اُس کی اصطلاح میں حراف کے لئے ہے ۔ وہ ایک فنی طبلچی کو آرٹسٹ سمجھتا ہے، جہاں مغنی کی آواز لڑکھڑاتی ہے وہاں طبلچی سہارا دیتا ہے، اس کے نزدیک طبلے کی آواز نہ صرف گویوں کے عیب کی پردہ پوش ہے بلکہ ان کی لے کو سہہ آتشہ کرتی ہے وہ طبلے کو موسیقی کے ایک اہم ساز سے تعبیر کرتا ہے ، اس کے نزدیک ہندوستانی یا پاکستانی سنگیت طبلہ کے بغیر معریٰ ہے۔ اُس کو فخر ہے کہ طبلہ مسلمانوں کی ایجاد ہے ، امیر خسرو ستار کے موجد تھے ، ابن سینا نے شہنائی ایجاد کی۔ ابو نصر فارابی ’’ قانون‘‘ کے مخترع تھے ، ان کے لئے سیف اللہ ولہ فرمانروائے شام نے اپنے دربارِ خاص میں ارباب نشاط کی بلوایا، ہر کسی نے اپنے اپنے کمال کا اظہار کیا لیکن ابو نصر نے سب کو ان کی غلطیوں پر ٹوکا نتیجہ‘‘ بڑے بڑے فن کار مہربلب ہوگئے۔

سیف الدولہ نے ابو نصر سے پوچھا ۔ ’’ آپ بھی اس فن کو جانتے ہیں؟‘‘

’’ جی ہاں جانتا ہوں۔‘‘

سیف الدولہ نے اصرار کیا کچھ سناؤ۔ ابو نصر نے ایک تھیلی سے لکڑی کے چند ٹکڑے نکالے۔ انہیں ایک خاص ترتیب و ترکیب سے جوڑا، اُن پر تار کھبیخے اور انہیں بجا بجا کر ایک ایسی دُھن میں گانا شروع کیا کہ جو سنتا مارے ہنسی کے لوٹ پوٹ ہوجاتا۔ ابو نصر نے اس ساز کو کھول کے نئی ترکیب سے جوڑا اور سُرملا کے گانا شروع کیا، اب لوگ زارو قطار رو رہے تھے۔ پھر ساز کو کھول ڈالا ایک نئے ڈھنگ سے جوڑا اور بجانا شروع کیا۔ اب سامعین پر غنودگی کا عالم تھی۔ سیف الدولہ سمیت سبھی سوگئے ، ابونصر نے ساز کھولا ہتھیلی میں رکھا اور وہاں سے چلا گیا۔۔۔!

’’ اب وہ کمال نہیں رہے ، لیکن اُن کی گھر فن باقی ہے یار لوگ اُسے بھی چاٹ رہے ہیں۔‘‘


’’ کچھ گنے چُنے لوگ تو ہوں گے۔‘‘

’’ جی ہاں اس بھرے سنسار میں کوئی سافن مرتا تو نہیں مگر گھٹتا ضرورہے کبھی تالی پیٹنا بھی ایک فن تھا۔ اب طبلہ بجانا بھی فن نہیں ، ڈونڈی نہ پیٹی طبلہ پیٹ لیا ، وہ دیکھئے سامنے بیٹھک میں اکہرے بدن کا چھو کرا طبلہ پیٹ رہا ہے کہ نقارہ پر چوب دے رہا ہے، کبھی بائیاں ہمیں اُستاد سمجھتی تھیں اب ان چھوکروں کی وجہ سے مذاق اُراتی ہیں۔‘‘

’’القصہ جیسی روح ، ویسے فرشتے ، نہ انہیں بجانا آتا ہے نہ وہ گانا جانتی ہیں ، فن کے چل چلاؤ کا زمانہ ہے اُدھر قدردان اُٹھتے جا رہے ہیں اِدھر فن مِٹتا جا رہا ہے ، اب طبلہ نہیں بجتا ، بندر گھگھیاتا ہے۔ ؂

’’آپ لوگ تنخواہ پاتے ہیں؟‘‘

’’جی نہیں جو کمائی گانے میں ہوتی ہے اس کا نصف بائی جی لیتی ہیں اور نصف سازندے ۔۔۔ طبلچی سارنگیا اور ہارمونیم ماسٹر۔‘‘

’’روزانہ آمدنی کیا ہوگی؟‘‘

’’ یہ تو گاہکوں پر منحصر ہے جیسا چہرہ ویسے گاہک ، جیسی آواز ویسی آمدنی وہ پہلے سے حالات تورہے نہیں۔ زنامہ ہی تہی دست ہورہا ہے ، کبھی سازندوں میں سے فی آدمی پانچ چھ سو روپیہ ماہوار کما لیتا تھا اور آج بھی دواڑھائی سومل ہی جاتا ہے لیکن اس کا انحصار مختلف گھروں کی ساکھ اور شہرت پر ہے۔ بعض اُلو کی دم فاختہ ہیں ، اُن کے سازندے بھی بچھیا کے باوا ہیں ، اکثر فاقوں مربی ہیں اُن کے کواڑ کئی کئی دن لگاتار کھلے رہتے ہیں، بعض دُو دھیل گائے ہیں اور ان کی لائیں بھی سہہ لی جاتی ہیں جہاں تک میراثیوں کا تعلق ہے، ان میں کانوں کا سچا کوئی کوئی ہے، یا تو پھکڑ ہیں یا حاضر جواب ، یا طناز، یاضلع جگت میں مشاق ! ان میں چٹکی لینے کا ہنر نسلاً بعد نسل چلاآتا ہے، اور منہ آئی بات بے کھٹکے کہہ ڈالتے ہیں بعض گپ مارنے میں آندھی ہیں ، ریڈیو کا سوال تو یہ درزی کی سوئی ہیں کبھی گاڑھے کبھی کمخواب میں!‘‘

’’ اور جو لوگ یہاں آتے ہیں؟‘‘

’’ ظاہر ہے کہ ان ٹہنیوں پر بھانت بھانت کے پر ند چہچہاتے اور اُڑجاتے ہیں ۔ آنکھوں نے ہزاروں قافلے لٹتے دیکھے ہیں ، سینکڑوں خیموں کی رسیاں کاٹ دی گئی ہیں۔ بیسیوں سنگھاسن ڈول گئے ہیں ، لوگ بگولے کی طرح اُٹھتے ، آندھے کی طرح چھا جاتے اور غبار کی طرح بیٹھ جاتے ہیں، ایک ولولہ لے کر آتے ہیں ، ایک حسرت لے کر چلے جاتے ہیں۔ جن میں غیرت ہوتی ہے وہ دولت لُٹا کر عزت بچاتے ہیں ۔ جن کی غیرت مرجاتی وہ دولت کے بعد عزت کی بازی لگا دیتے ہیں۔ بیسوا او رہوا دونوں کا رُخ بدلتا رہتا ہے۔ ‘‘‘

’’ لیکن جو لوگوں کے ساتھ چلی جاتی ہیں۔ ‘‘

’’ کچھ تو واقعی گھروں میں بیٹھ جاتی ہیں اور ایسی کئی مثالیں ہیں۔ لیکن بیشتر لوٹ آتی ہیں۔ ان کے لئے گھر کی زندگی قید کی زندگی ہے ۔ جن عورتوں نے فی الحقیقت گھر کی زندگی قبول کر لی ہے ان کا دامن اب سورج کی طرح اُجلا ہے ، ان کی اولاد بھی نکو نام ہے ۔البتہ اُن کا ماضی کہیں بھی پیچھا نہیں چھوڑتا۔ جب بھی گھریلو عورتیں اکٹھی بیٹھتی ہیں ضرور کھسر پھسر کرتی ہیں اور مرد بھی جب کہیں اکٹھے ہوتے ہیں یہ ضرور کہتے ہیں کہ فلاں کے گھر میں طوائف ہے۔‘‘

’’ یہ ایک عجیب بات ہے کہ طوائفوں کے بچے بالخصوص ان کے جوکسی کے حرم میں چلی جاتی ہیں بڑے ہی ہوشیار ہوتے ہیں اس ہندوستان میں کئی نواب طوائفوں کے بطن سے تھے ، خود پاکستان میں ایک آدھ ریاست کا فرمانروا اسی انگوٹھی کا نگینہ ہے۔ فلاں ادیب یا فلاں وزیر سے اس بازار کا کچھ نہ کچھ ناطہ ضرور ہے۔ آپ لوگ ان عورتوں پر ناک بھوں تو چڑھاتے ہیں مگر داد دیجئے کہ ان کے سینے بڑے بڑے رازوں کے مدفن ہیں ۔ ان کا پیٹ سی آئی ڈی کی خفیہ دستاویزوں سے زیادہ خفیہ رہتا ہے۔ میں اپنے تجربہ اور مشاہدہ کی بنا پر کہہ سکتا ہوں کہ طوائف جب تک نائکہ نہیں ہوجاتی وہ ضرور کوئی نہ کوئی حرم ڈھونڈھتی ہے، اس کے تحت الشعور میں یکسوئی کی خواہش چھپی رہتی ہے، اس کے دل میں دسترخوان بننے کے خلاف ضرور ایک احتجاج سا ہوتا ہے ، لیکن جب دیکھتی ہے کہ اس بازار کی زندگی سے مفر نہیں اور لوگ اسے کھلونا سمجھ کر کھیلتے ہیں ، تو وہ اپنی جوانی کا بدلہ دوسروں کی جوانی سے چکاتی ہے۔ ‘‘


’’نائکہ سراسرا انتقام ہے اور طوائف سراسر کھلونا۔‘‘

’’ اور آپ؟‘‘

’’ہمیں اس بساط کے مہرے کہہ لیجئے۔‘‘ حمزی نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔

’’ فرزین کہ پیادہ؟‘‘

’’ کبھی فرزین کبھی پیادہ۔‘‘

(جاری ہے..
.

Offline Nazli

  • T. Members
  • 1 stars
  • *
  • Posts: 48
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #31 on: January 14, 2019, 08:09:24 am »
ہر نائکہ نسائیت کے ویرانہ آباد میں ایک کھنڈر ہے۔ نائکہ ایک بلاٹنگ پیپر ہے جو سیاہی چوستے چوستے سڑجاتا ہے ، اس برگد کی چھاؤں تلے سینکڑوں مسافر جوانی گزار چکے ہوتے ہیں۔ جب نشست پر بیٹھی ہو تو منہ میں حقہ کی نے لیے یوں نظر آتی ہے، جیسے گھٹا ٹوپ اندھیرا جگنوؤں کی روشنی کا سہارا لے رہا ہے، وہ پان بناتی ہے ، وہ پان اکٹھے کرتی ہے ، اس وقت اس کی زبان بڑی میٹھی ہوتی ہے اور جب معاملہ کرتی ہے تو اس میں قاتل سے زیادہ بیرحمی، چور سے زیادہ پھرتی ، ڈاکو سے زیادہ سنگ دلی اور خائن سے زیادہ کجی آجاتی ہے۔ وہ اپنے ماضی کا قرض اپنی اولاد سے چکلاتی ہے۔
ضرور پڑھیں: حکومت کا فی حاجی 45 ہزار روپے سبسڈی دینے پر غور

کاکو کی ماں اسی قماش کی نائکہ ہے لیکن وزیر کا سبھاؤ ذرا مختلف ہے۔ اُس کا خاندان پشتینی ہے لیکن اب پینٹ اکھڑ چکا ہے۔ وزیر کوئی پینسٹھ برس کی عمر میں ہے۔ اُس نے راجوں کے رنواس اور نوابوں کے محل دیکھے ہیں۔ ان کے خاندان کی مورث اعلیٰ موراں بائی بڑی نامور رنڈی ہوئی ہے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ سے اس کا تعلق تھا۔ وزیر موراں کا نام نہایت ادب سے لیتی ہے، مہاراجہ رنجیت سنگھ موراں کو ملنے کے لئے اس کے مکان واقع چوک متی یا چوک چکلہ میں خود جا یا کرتا تھا ہر جمعرات کو موراں ہاتھی پر سوار ہو کر حضرت داتا گنج بخش ؒ کے مزار پر سلام کے لئے حاضر ہوتی۔ اُس نے چوک متی میں ایک مسجد بنوائی جواب بھی موجود ہے اور مائی موراں کی مسجد کہلاتی ہے۔

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کہ۔۔۔ ؟


ایک دن بعض سرداروں نے مہاراجہ کے کان میں یہ بات پھونکی کہ موراں آپ کی وفادار نہیں آپ کے دھن کی دوست ہے ، خواہ مخواہ آپ اس پر خزانہ لٹا رہے ہیں۔ اور اگر واقعی وہ آپ کی وفادار ہے تو اس سے کہیے کہ آپ کے ساتھ جھٹکا کھائے، مہاراجہ نے موراں کو طلب کیا، پوچھا۔’’ تم جھٹکا کھاتی ہو؟‘‘ اس نے کہا ’’ مہاراج بالکل نہیں !‘‘ حکم ہوا۔’’ آج کھانا پڑے گا۔‘‘ عرض کیا۔۔۔ ’’ مہاراج ! میں نے آپ کی ملازمت کی ہے ، مذہب نہیں بیچا ہے۔‘‘


رنجیت سنگھ کو تاؤ آگیا ۔ تمام جائیداد کی ضبطی کے احکام صادر کئے ، بس پھر کیا تھا جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ تھا۔ سورماؤں نے قبضہ میں لے لیا، موراں ہفتوں پریشان رہی ، اسی دوران میں اس کی ایک درویش سے ملاقات ہوگئی ، اُس نے دعا کی اور مہاراج دوبارہ مہربان ہوگئے۔ موراں حضرت گنج بخش رحمۃاللہ علیہ کے مزار سے گھر واپس آئی تو نہ صرف گاڑیوں میں سامان لدا آرہا تھا بلکہ مہاراج بنفس نفیس تشریف فرما تھے۔ وزیر کا کہنا ہے کہ موراں سے دوسری پشت میں ہم لوگ امرتسر چلے گئے، اور تقسیم تک وہی رہے۔ جو کمایا وہ اللے تللوں کی نذر ہوگیا، امرتسر میں کئی سوایکڑ زمین تھی۔ دو چار کوٹھیاں بھی تھین وہ بھی بٹوارہ میں چھٹ گئیں۔

وزیر کی بیٹی ممتاز نے اپنے شباب میں مہاراجہ اندور کو مسحور کر رکھا تھا۔ مہاراج نے گانے کے لئے طلب کیا پھر وہیں روک لیا۔ ایک آدھ سال یورپ کے مختلف ملکوں میں ساتھ رکھا بکنگھم پیلس میں ملکہ کے ساتھ لنچ کھایا۔ یہ کسی طرح افشا ہوگیا کہ ممتاز رانی نہیں داشتہ ہے تو اس پر سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے سخت سرزنش کی۔

اُدھر ممتاز کا دل ریاستی فضا سے اُکتا چکا تھا۔ ماں باپ امرتسر میں تھے مہاراجہ ملنے نہیں دیتا تھا۔ ایک روز مہاراجہ اور ممتاز مسوری جارہے تھے۔ گاڑی دہلی پہنچی تو ممتاز نے شور مچا دیا یہ سب منصوبہ پہلے سے تیار تھا پولیس نے معاونت کی اور ممتاز والدین کے ہمراہ امرتسر وہاں سے بمبئی کا رُخ کیا جہاں ممتاز نے ایک لکھ پتی تاجر بادلے سے عقد کا فیصلہ کرلیا۔ مہاراجہ کے نوکر چاکر تعاقب میں تھے انہوں نے موقع پاکر سیٹھ کو قتل کر ڈالا اور ممتاز کو گرفت میں لے کر بھاگنا چاہا لیکن دو انگریز فوجی افسروں کو اچانک آمد سے ملزم موقع پر پکڑ لئے گئے۔ مقدمہ چلا ، قائداعظم بادلے کے پیروکار تھے۔ قاتلوں کو پھانسی ہوگئی اور مہاراجہ کو گدی چھوڑنی پڑی ۔ملک بھر کے اخباروں میں مقدمے کاچر چا رہا اور آج وہی ممتاز جس نے بکنگھم پیلس میں بادشاہ اور ملکہ کے ساتھ شرف تناول حاصل کیا تھا ، ٹکسالی کے اندر ایک خستہ حال چوبارے میں زندگی گزار رہی ہے۔ ایک بیٹی ٹکیائی ہے جس کی آمدنی سے کنبہ پلتا ہے۔

وزیر راجواڑوں کی زندگی کا اورکیا کچھ جانتی ہے۔ اس نے نسلاً بعد نسل نوابوں اور رجواڑروں کی چھاتی پر مونگ دلے ہیں ، اُس کا بیان ہے کہ ریاستی فرمانروا خلقتہً عیاش ہوتے ہیں،ان کے ہاں صرف تین شخص رسا ہوتے ہیں حکماء جو ان کے لئے کیمیاے عشرت تیار کرتے ہیں۔ حراف جوان کے لئے لڑکیاں فراہم کرتے ہیں اور طوائفیں جو ان کے حواس پر قابو پاتی ہیں۔

جاری ہے۔


Offline Nazli

  • T. Members
  • 1 stars
  • *
  • Posts: 48
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #32 on: January 14, 2019, 08:18:18 am »
ان فرمانرواؤں کی خوراک کا ذکر کرتے ہوئے ایک دفعہ اُس نے بتایا کہ ان کی غذائیں خاص قسم کے مرکبات سے تیار ہوتی ہیں۔ ایک عام آدمی انہیں ہضم کرنے کا معدہ نہیں رکھتا ۔مہاراجہ صبح کے وقت جو ناشتہ کرتے تھے اُس پر دو سو روپے خرچ ہوتے تھے ۔اعلیٰ حضرت میر عثمان علی خاں جنہیں ان کے خوشہ چین ظل اللہ کہتے رہے، اپنے حرم میں بہت سی بیویاں رکھتے تھے ان کے بے شمار بچے تھے جب کوئی مرجاتا تو اسے ’’ اندرون خانہ‘‘‘ ہی شاہی قبرستان تک پہنچا دیا جاتا تھا ۔ایک بڑی ریاست کے وزیراعظم جن پر مہارانی لٹو تھیں اور بعض روائتوں کے مطابق ریاست کا ولی عہد ان وزیراعظم کے صلب ہی سے تھا خود ایک مشہور طوائف پر جی جان سے فدا تھے ، اس طوائف کے بطن سے ایک لڑکی پیدا ہوئی جب لڑکی جوان ہوگئی تو اس کی ماں کسی بات پر ناراض ہوکر لاہور آگئی اور لڑکی کو بازار میں بٹھانا چاہا تووزیراعظم نے سنا تو پاؤں تلے کی زمین نکل گئی ۔قانونی حق تھا نہیں صرف ایک نام تھا۔ کسی نہ کسی طرح طوائف کو دوبارہ راضی کر لیا اور وہ ریاست میں چلی گئی ۔ایک رات جب ماں اور بیٹی دونوں سو رہی تھیں ایک خدمت گزار نے کئی ہزار روپے معاوضہ لے کر اس لڑکی پر پٹرول کا ڈبہ الٹ دیا اور آگ لگا دی ۔اس طرح وہ لڑکی ایک مقفل کمرے ہی میں بھسم ہوگئی اور وزیراعظم کے دل کا کانٹا نکل گیا کہ اس کے صلب کی یاد گار کو بھی طوائف بنایا جا سکتا ہے۔


ایک اور طوائف جو اب ایک بڑے متمول زمیندار کی منکوحہ ہے۔ مہاراجہ کے دربار کی خاص گویا تھی، اس کو پہاڑی گیت گانے میں خصوصی ملکہ تھا۔ ریذیڈنٹ نے اُس سے مہاراجہ کو زہر دلوانے کی سازش کی اس نے شراب میں زہر ملا دیا مہاراجہ کو قبل از وقت معلوم ہوگیا۔ ریذیڈنٹ کے سامنے وہ بے بس تھا طوائف کر مروایا نہیں لیکن اُس کی تمام جائیداد وضبط کر لی اور ریاست بدر کر دیا۔

وزیر کا کہنا تھا کہ تمام ریاستیں (ب استشنا) با اختیار چکلے ہیں جو کچھ ان ریاستوں میں ہوتا ہے وہ چکلے میں نہیں ہوتا۔ آج بھی اس ملک میں بڑے بڑے نواب اور زمیندار اور اس ملک کے باہر خدا داد سلطنتوں کے بادشاہ عورت کو شراب کے پیگ سے زیادہ وقعت نہیں دیتے۔ ان کے حرم میں بے شمار بیویاں ہیں جن کی فطری خواہش مہینوں بلکہ برسوں تشنہ رہتی ہیں ، چونکہ ایک دفعہ خدا وند مجاز متمتع ہوچکے ہوتے ہیں لہٰذا ان کے جسم کو کوئی چھو نہیں سکتا۔ وہ قلعہ نمامحلوں میں قید رہتی ہیں اور جب انہیں کوئی راستہ ملتاہے تو پرائے مردوں سے ملتفت ہوتی ہیں۔

یہ صحیح ہے کہ فحاشی کے بعض دوسرے اسباب بھی ہیں لیکن ایک بڑی وجہ ان متمول لوگوں کا نفسی ابتلا ہے۔ جب تک مرد اور عورت کے جنسی اختلاط میں توازن پیدا نہیں ہوگا یہ فحاشی اور چکلے کبھی نہیں رُک سکتے؟

‘‘ لیکن اس کی بڑی وجہ اقتصادی بھی ہے۔‘‘

’’ جی ہاں پیٹ تو سب کے ساتھ لگا ہوتا ہے لیکن اس میں جنسی خواہش کے فطری مطالبہ کو بھی بڑا دخل ہے۔‘‘

’’ یہ صحیح ہے کہ آپ کے ہاں بڑے بڑے ادبی و سیاسی راہنما آیا کرتے تھے؟‘‘

’’ جی ہاں! ہر بڑا آدمی اس کوچہ سے رسم وراہ رکھتا تھا۔ یہ دو نسلیں تو میری نظروں کے سامنے گذری ہیں ، در اصل ریبع صدی پہلے کے لوگ طوائف کو ایک ثقافتی ادارہ سمجھ کر اس کے ہاں آتے تھے ان کا معاملہ جسم کا نہ تھا ایک تہذیب کا تھا وہ بالا خانوں کو ایک کلب سمجھتے اور خوش وقت ہوتے تھے ۔ سرسید شوق سے گانا سنتے تھے۔ علی گڑھ یونیورسٹی کے لئے چندہ فراہم کرتے وقت انہوں نے ایک طوائف سے بڑی رقم حاصل کی۔ مولانا شبلی بھی آواز کا شوق فرماتے رہے ہیں شرر مرحوم بھی چوک میں ہو کر آیا کرتے تھے۔ مولانا ابوا لکلام آزاد غبارِ خاطر میں اپنی اشفتہ سری کا اقرار کر چکے ہیں، مولانا محمد علی سیاسی سفر میں بھی فیض آباد کی آواز سُن کر آیاکرتے تھے۔ علامہ اقبال کی امیرا بھی پچھلے دنوں مری ہے اور وہ جونکٹی کی دو بیٹیاں اڈہ شہباز خاں میں بیٹھتی ہیں، ایک بڑی راہنما کے انقلابی مقاصد کا حصہ تھیں، رہا شاعروں یا ادیبوں کا قصہ تو ان کی کہانی ڈھکی چھپی نہیں ، غالباً داغ کے ہاں بھی ایک طوائف تھی۔ ’’ لیلیٰ کے خطوط‘‘ کی محرک کون ہوا۔ منی جان جو قاضی عبدالغفار کے حرم میں تھیں۔ اکبر الہٰ آبادی نے بوٹا بیگم سے نکاح پڑھوایا تھا، الغرض

چرائے کچھ ورق لالے نے ، کچھ نرگس نے ، کچھ گل نے

چمن میں ہر طرف بکھری پڑی ہے داستاں اپنی

ؔ ’’ آپ نے ان لوگوں کو قریب سے کیا محسوس کیا؟‘‘

’’ ہم کیا محسوس کرتے یہ تو جواُن کی صحبتوں میں رہ چکی ہیں وہی کہہ سکتی ہیں۔ ہاں اتنا معلوم ہے کہ حشر مختار کو جی جان سے چاہتے تھے، امیر سے کبھی اقبال کا ذکر آتا وہ مسکرا دیا کرتی۔ کچھ بھی ہو، یہ بہت بڑے آدمی تھے۔ ان میں کوئی بھی گنوار کا لٹھ نہ تھا۔ ‘‘

’’ ابھی آپ نے نوابی غذاؤں کا ذکر کیا تھا ، آپ بھی ان دسترخواں پر بیٹھی ہیں۔ ان کے بارے میں کچھ کہیے؟‘‘

’’ اس میں علم یا خبر کی کوئی بات نہیں مشہور کہا وت ہے ۔’’ کبھی سنوارے سالنا بڑی بہو کا نام۔‘‘ سب باور چیوں کے چوچلے یا چہلیں ہیں۔‘‘

کہتے ہیں واجد علی شاہ صبح کے ناشتہ میں پانچ سیر غذا کا پاؤ بھر جوہر نوش فرماتے تھے۔ ان کے لئے ایک سیر پلاؤ 24 سیر گوشت کی یخنی میں دم ہوتا تھا اور اسے ہضم کرنے کے لئے آبدار خانے میں طبی اصول سے پانی تیار کیا جاتا تھا۔ یہ محض من گھڑت افسانے ہیں کہ کنچنوں کے گھر میں مرغن کھانے پکتے ہیں، جیسی روٹی آپ کھاتے ہیں دیسی یہاں پک جاتی ہے، کوئی مہمان ہوتو ہر کہیں تکلف برتا جاتاہے۔

مائی وزیر نے سگریٹ سلگا لیا اور اس کے تہ بہ تہ دھوئیں پر نظریں گاڑ دیں پھر جب دھوآں ہوا میں تحلیل ہو چکا تو اس نے کہا۔۔۔ ’’ جوانی سلفے کا ایک کش ہے اور بڑھاپا دھوآں۔ جب یہ دھوآں اُڑجاتا ہے تو زندگی ختم ہوجاتی ہے۔‘‘

عجیب و غریب

اُس کی سرد قامتی آہو چشتی سفید رنگت دوہرے دراز گیسویا پھر سُرمئی ڈوپٹہ چوڑی دار پاجامہ اور پاؤں میں کمخواب کی لفٹی۔ شریر نگاہوں کو ضرور اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ جب وہ زاویے بناتا ہوا گزرتا ہے تو عموماً یہ دھوکا ہوتا ہے کہ کوئی بیاہتا عورت سسرال سے میکے جا رہی ہے۔ لیکن وہ پیدائشی مخنث ہے اُس کی گفتگو میں رنگینی نہ سہی ، سنگینی ضرور ہے۔

’’ مجھے چند گھنٹوں ہی کے لئے حکومت سونپ دی جائے تو تین کام کروں گا۔‘‘
 

پہلا ، شراب فروشوں کو قید میں ڈال دوں اورشرابیوں کو دُرے لگاؤں۔

دوسرا، جواریوں کو اُلٹا لٹکا دوں اور نیچے سے آگ کی دھونی دوں۔


تیسرا ، وہ لوگ جو بہن اور بیٹی کی کمائی کھاتے ہیں انہیں توپ دم کردوں۔

یہ ہمارے آخری سوال کا جواب تھا جو خوبرو مخنث شوکت نے دیا اور پھر زاویہ قائمہ بناتا یوں نکل گیا جیسے ترکش سے تیر۔

شوکت کی عمر اس وقت 25 اور 30کے درمیان ہے۔ ہم نے اُس سے پوچھا۔

’’ تم پیدائشی مخنث ہو؟‘‘


’’ جی ہاں! لیکن مخنث تو پیدائشی ہی ہوتے ہیں۔‘‘

’’ یہاں لاہور میں ایک لانبے قد کا مخنث منیر جوگی گھوما کرتا تھا ، جانے اب کہاں ہے؟ اُس نے مخنثوں پر ایک کتابچہ لکھا یا لکھوایا تھا اس میں لکھا تھا کہ پیدائشی مخنث اکاد کاہی ہوتے ہیں ، سو میں سے پچانوے بنائے جاتے ہیں، بعض مرد ہی ہوتے ہیں اور بیشتر بچے کمسنی میں خصی کر لئے جاتے ہیں۔‘‘

’’ ممکن ہے درست ہو اس قسم کی باتیں سننے میں تو آتی ہیں مگر مخنث بنانے کا معاملہ کچھ ٹھیک معلوم نہیں ہوتا۔ یہ ضرور ہے کہ بعض مرد شوقیہ مخنث بن جاتے ہیں۔ مگر ہم نہ تو انہیں اپنے حلقہ میں بیٹھنے دیتے اور نہ اُن سے کوئی تعلق رکھتے ہیں۔‘‘

’’ شوقیہ مخنث کون ہوتے ہیں؟‘‘

شوقیہ مخنث وہ نوجوان ہیں جن کی طبیعتوں میں نسوانیت رچی ہوتی ہے۔ مثلاً ایسے نوجوان جن میں ماحول یا فضا کے باعث زنانہ پن آجاتا ہے ، کچھ ایسے نوجوان بھی ہوتے ہیں جو محنت سے جی چُراتے ہیں ، اُن کے رگ وپے میں حرام سما جاتا ہے ، اور اپنی جنسی خواہشات کو صنفی جذبے یا نسوانی آرزو کے تحت ازخود مفلوج کر دیتے ہیں جیسا کہ عرض کیا ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ، اور نہ ڈیرے دار انہیں اپنے ہاں ٹھہرنے دیتے ہیں۔

’’ ڈیرے دار سے کیا مراد ہے؟‘‘

’’ جیسے خاندانی رنڈیاں ’’ ڈیرہ دارنیاں‘‘ کہلاتی ہیں ایسے ہی ڈیرے دار مخنث ہوتے ہیں جو گدی در گدی چلے آتے ہیں۔‘‘

’’ لیکن کنچنوں کے تو اولاد ہوتی ہے مخنثوں کے ہاں تو اولاد کا سوال ہی نہیں‘‘


’’ ٹھیک ہے مگر ہمارے ڈیرے چیلوں اور بالکوں کی جانشینی سے چلتے ہیں۔ ہم مخنث ایک دوسرے کو اپنا رشتہ دار سمجھتے ہیں ، ہماری ایک خاص معاشرتی زندگی ہے۔ ہم کسی دور دراز شہر میں چلے جائیں تو وہاں کے ڈیرے دار کا فرض ہوجاتا ہے کہ ہمارے قیام وطعام کا انتظام کرے، اُس کو مہمانداری سے ایک عزیزانہ خوشی ہوتی ہے۔ عورتوں کی طرح ہیجڑوں کی بھی قسمیں ہیں باکرہ، دو شیزہ، دُلہن ، ادھیڑ ، بوڑھی ، ہمارا مقام کبھی محلوں میں تھا ، اب جھونپڑوں میں بھی نہیں ، کبھی حرم سراؤں کی محافظت پر مامور تھے، اب در در کی بھیک مانگنے پر مجبور ہیں ، زمانہ زمانہ کی بات ہے۔

کس کی بنی ہے عالمِ پائیدار میں

’’ لیکن یہ مخنث ایشیائی ملکوں ہی میں نظر آتے ہیں کسی یورپی ملک میں تو ان کا وجود ہی نہیں ہے۔‘‘

’’ جب ایشیا میں مخنث ہیں تو یقیناً یورپ میں بھی ہوں گے ، ہوسکتا ہے وہاں انہیں ہماری طرح ادارے کی حیثیت حاصل نہ ہو۔ کیونکہ یورپی ملکوں میں اس کا اظہار عیب سمجھا جاتا ہے ایشیائی ملکوں میں ہمیں ادارے کی حیثیت ا سلئے حاصل ہوئی ہے کہ یہاں ہم لوگ شاہوں کے حرم میں خدمت گزار تھے۔ جب سلطنتیں اُجڑ گئیں تو مخنثوں کا چراغ بھی مدھم ہوگیا، رفتہ رفتہ ہم گانے بجانے میں لگ گئے پھر یہی اوڑھنا بچھونا ہوگیا۔‘‘


’’ مشرقی بادشاہوں کی تاریخ میں تمہارا ذکر بھی ہے۔‘‘

’’کیوں نہ ہو؟ ہمیں لوگ ان کے محلوں میں اعتماد قائم رکھتے تھے ، ورنہ انسانی نفس کی گمراہیاں تو جنگل کی آگ کو بھی پیچھے چھوڑ جاتی ہیں۔‘‘

’’ جواز اچھا ہے لیکن تمہاری تاریخ تو محض بادشاہوں کے زوال کی تاریخ ہے۔‘‘

’’ یہ آپ کی فلسفانہ باتیں ہیں اور مجھے ان کی کچھ خبر نہیں ۔۔۔ اب لوگ ہمیں ہنسی مذاق کا مضمون سمجھتے ہیں ۔ یہ فطرت کا مذاق ہے کہ ہم مخنث پیدا ہوگئے اور یہ معاشرہ کی مہربانی ہے کہ ہم پھٹے حالوں جی رہے ہیں۔ ورنہ ہم کیا اور ہماری بساط کیا ، روئے زناں نہ ردئے مرداں۔ہمارے بادشاہت لے دے کے ملک کا فورسے شروع ہوئی اور ملک کا فور پر ختم ہوگئی یا شجاع الدولہ فامانروائے اودھ کی فوج میں ہمارے بھائی بند مختلف پلٹنوں کے سالار تھے، پھر تو شیرازہ ہی بکھر گیا اب وہ زمانے ہی خواب و خیال ہوچکے ہیں ، کہاں بادشاہوں کی مصاحبت اور کہاں آبرو فروشوں کی معیت۔‘‘

’’کاروبار ۔۔۔؟‘‘ شوکت کے چہرے پر ایک قہقہہ سا پھیل گیا۔۔۔

(جاری ہے)


Offline Nazli

  • T. Members
  • 1 stars
  • *
  • Posts: 48
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #33 on: January 15, 2019, 11:20:53 am »
ہر نائک نسائیت کے ویرانہ آباد میں ایک کھنڈر ہے۔ نائکہ ایک بلاٹنگ پیپر ہے جو سیاہی چوستے چوستے سڑجاتا ہے ، اس برگد کی چھاؤں تلے سینکڑوں مسافر جوانی گزار چکے ہوتے ہیں۔ جب نشست پر بیٹھی ہو تو منہ میں حقہ کی نے لیے یوں نظر آتی ہے، جیسے گھٹا ٹوپ اندھیرا جگنوؤں کی روشنی کا سہارا لے رہا ہے، وہ پان بناتی ہے ، وہ پان اکٹھے کرتی ہے ، اس وقت اس کی زبان بڑی میٹھی ہوتی ہے اور جب معاملہ کرتی ہے تو اس میں قاتل سے زیادہ بیرحمی، چور سے زیادہ پھرتی ، ڈاکو سے زیادہ سنگ دلی اور خائن سے زیادہ کجی آجاتی ہے۔ وہ اپنے ماضی کا قرض اپنی اولاد سے چکلاتی ہے۔

کاکو کی ماں اسی قماش کی نائکہ ہے لیکن وزیر کا سبھاؤ ذرا مختلف ہے۔ اُس کا خاندان پشتینی ہے لیکن اب پینٹ اکھڑ چکا ہے۔ وزیر کوئی پینسٹھ برس کی عمر میں ہے۔ اُس نے راجوں کے رنواس اور نوابوں کے محل دیکھے ہیں۔ ان کے خاندان کی مورث اعلیٰ موراں بائی بڑی نامور رنڈی ہوئی ہے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ سے اس کا تعلق تھا۔ وزیر موراں کا نام نہایت ادب سے لیتی ہے، مہاراجہ رنجیت سنگھ موراں کو ملنے کے لئے اس کے مکان واقع چوک متی یا چوک چکلہ میں خود جا یا کرتا تھا ہر جمعرات کو موراں ہاتھی پر سوار ہو کر حضرت داتا گنج بخش ؒ کے مزار پر سلام کے لئے حاضر ہوتی۔ اُس نے چوک متی میں ایک مسجد بنوائی جواب بھی موجود ہے اور مائی موراں کی مسجد کہلاتی ہے۔

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کہ۔۔۔ ؟
ایک دن بعض سرداروں نے مہاراجہ کے کان میں یہ بات پھونکی کہ موراں آپ کی وفادار نہیں آپ کے دھن کی دوست ہے ، خواہ مخواہ آپ اس پر خزانہ لٹا رہے ہیں۔ اور اگر واقعی وہ آپ کی وفادار ہے تو اس سے کہیے کہ آپ کے ساتھ جھٹکا کھائے، مہاراجہ نے موراں کو طلب کیا، پوچھا۔’’ تم جھٹکا کھاتی ہو؟‘‘ اس نے کہا ’’ مہاراج بالکل نہیں !‘‘ حکم ہوا۔’’ آج کھانا پڑے گا۔‘‘ عرض کیا۔۔۔ ’’ مہاراج ! میں نے آپ کی ملازمت کی ہے ، مذہب نہیں بیچا ہے۔‘‘


رنجیت سنگھ کو تاؤ آگیا ۔ تمام جائیداد کی ضبطی کے احکام صادر کئے ، بس پھر کیا تھا جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ تھا۔ سورماؤں نے قبضہ میں لے لیا، موراں ہفتوں پریشان رہی ، اسی دوران میں اس کی ایک درویش سے ملاقات ہوگئی ، اُس نے دعا کی اور مہاراج دوبارہ مہربان ہوگئے۔ موراں حضرت گنج بخش رحمۃاللہ علیہ کے مزار سے گھر واپس آئی تو نہ صرف گاڑیوں میں سامان لدا آرہا تھا بلکہ مہاراج بنفس نفیس تشریف فرما تھے۔ وزیر کا کہنا ہے کہ موراں سے دوسری پشت میں ہم لوگ امرتسر چلے گئے، اور تقسیم تک وہی رہے۔ جو کمایا وہ اللے تللوں کی نذر ہوگیا، امرتسر میں کئی سوایکڑ زمین تھی۔ دو چار کوٹھیاں بھی تھین وہ بھی بٹوارہ میں چھٹ گئیں۔

وزیر کی بیٹی ممتاز نے اپنے شباب میں مہاراجہ اندور کو مسحور کر رکھا تھا۔ مہاراج نے گانے کے لئے طلب کیا پھر وہیں روک لیا۔ ایک آدھ سال یورپ کے مختلف ملکوں میں ساتھ رکھا بکنگھم پیلس میں ملکہ کے ساتھ لنچ کھایا۔ یہ کسی طرح افشا ہوگیا کہ ممتاز رانی نہیں داشتہ ہے تو اس پر سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے سخت سرزنش کی۔


اُدھر ممتاز کا دل ریاستی فضا سے اُکتا چکا تھا۔ ماں باپ امرتسر میں تھے مہاراجہ ملنے نہیں دیتا تھا۔ ایک روز مہاراجہ اور ممتاز مسوری جارہے تھے۔ گاڑی دہلی پہنچی تو ممتاز نے شور مچا دیا یہ سب منصوبہ پہلے سے تیار تھا پولیس نے معاونت کی اور ممتاز والدین کے ہمراہ امرتسر وہاں سے بمبئی کا رُخ کیا جہاں ممتاز نے ایک لکھ پتی تاجر بادلے سے عقد کا فیصلہ کرلیا۔ مہاراجہ کے نوکر چاکر تعاقب میں تھے انہوں نے موقع پاکر سیٹھ کو قتل کر ڈالا اور ممتاز کو گرفت میں لے کر بھاگنا چاہا لیکن دو انگریز فوجی افسروں کو اچانک آمد سے ملزم موقع پر پکڑ لئے گئے۔ مقدمہ چلا ، قائداعظم بادلے کے پیروکار تھے۔ قاتلوں کو پھانسی ہوگئی اور مہاراجہ کو گدی چھوڑنی پڑی ۔ملک بھر کے اخباروں میں مقدمے کاچر چا رہا اور آج وہی ممتاز جس نے بکنگھم پیلس میں بادشاہ اور ملکہ کے ساتھ شرف تناول حاصل کیا تھا ، ٹکسالی کے اندر ایک خستہ حال چوبارے میں زندگی گزار رہی ہے۔ ایک بیٹی ٹکیائی ہے جس کی آمدنی سے کنبہ پلتا ہے۔

وزیر راجواڑوں کی زندگی کا اورکیا کچھ جانتی ہے۔ اس نے نسلاً بعد نسل نوابوں اور رجواڑروں کی چھاتی پر مونگ دلے ہیں ، اُس کا بیان ہے کہ ریاستی فرمانروا خلقتہً عیاش ہوتے ہیں،ان کے ہاں صرف تین شخص رسا ہوتے ہیں حکماء جو ان کے لئے کیمیاے عشرت تیار کرتے ہیں۔ حراف جوان کے لئے لڑکیاں فراہم کرتے ہیں اور طوائفیں جو ان کے حواس پر قابو پاتی ہیں۔
(جاری ہے)


Offline Nazli

  • T. Members
  • 1 stars
  • *
  • Posts: 48
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #34 on: January 15, 2019, 11:35:43 am »
وہ بولا’’مخنثوں کے گروہ کی ایک زندگی ہوتی ہے اور وہ اس کے مطابق لشتم پشتم بسر کرتا ہے۔ قدرت نے ہمیں اس زندگی کے لئے پیدا کیا ، سوجیسی بھی ہے گزررہی ہے ٹھیک ہے جب معاشرہ کی حوصلہ افزائی اور ہماری تن آسانی نے ہمیں اس ڈگر پر لاڈالا ہے تو یہی کاروبار ہوگیا ہے‘‘
ضرور پڑھیں: سمندرمیں گرنے والے انڈونیشین طیارے کا وائس ریکارڈر ڈھائی ماہ بعد مل گیا

’’ تو کیا تمہارا شغل محض گانا بجانا ہے۔‘‘

’’ جی ہاں، بہ ظاہر یہی ہے ، بازاروں میں ہم محض لوگوں کے اصرار پر ناچتے اور گاتے ہیں کچھ پیٹ کی مار بھی شامل ہوتی ہے لیکن ہمارا کام دو گھروں تک محدود ہوتا ہے ، ایک جہاں بیٹا پیدا ہو ، دوسرا جہاں لڑکے کابیاہ ہو۔ لڑکی کی پیدائش اور شادی پر مانگنا ہمارے کوڈ میں جائز نہیں۔‘‘

’’ لیکن سب مخنث تو خوش آواز نہیں ہوتے۔‘‘

’’ جی ہاں ! آپ کا ارشاد صحیح ہے لیکن مخنث نہ تو خوش چہرہ ہونے کی وجہ سے مانگنے جاتا ہے اور نہ خوش آواز ہونے کے باعث وہ تو محض مخنث کی حیثیت میں مانگتا ہے۔‘‘


’’اور یہ جسمی تعلقات؟‘‘اُس نے فوراً ہی میری بات اُٹھالی اور گونجدار لہجہ میں بولا۔
’’ معاف کیجئے سبھی لوگ ایسے نہیں ہوتے، کچھ ’’ دانے ‘‘ گندے بھی ہوتے ہیں۔ کیا مردوں میں بدکار نہیں ؟ عورتوں میں بدقماش نہیں ، جو حالت آج ہو رہی ہے اور جو کچھ مجھے معلوم ہے مشاہدے ، مطالعے اور تجربے کی بناء پر گاناگفتنی ہے ہمارا وجود تو آٹے میں نمک کے برابر ہے، بلکہ ماش کے دانے کی سفیدی سے بھی کم تر لیکن عورتوں اور مردوں کا تناسب تو چشم بددور روز افزوں ہے، ہاں یہ ضرور ہے کہ ہم من حیث الجماعت بد نام ہیں۔‘‘

لیکن بازار شیخوپوریاں کی ایک تاریک سی گلی میں تو۔۔۔؟‘‘

’’ جی ہاں میں سمجھ گیا۔‘‘

’’ ایک دو مخنث دوکانوں کے چبوترے پر بیٹھے ہوتے ہیں۔‘‘ اُس نے ایک سردآہ کھینچی ۔۔۔ بس یہ سمجھ لیجئے کہ اُن کا بڑھاپا ویران ہوچکا ہے۔ وہ برگد کے ایک ایسے درخت کی اُداس چھاؤں ہیں جس کی دوپہر خانہ بدوشوں کی سہارا دیتی ہے۔‘‘

’’ اچھا ، تم کیا کما لیتے ہو؟‘‘

’’ میں ۔۔۔ ان دنوں تو مندا ہے، لیکن پھر بھی خدا کے فضل سے دواڑھائی سوماہانہ مل جاتے ہیں اس میں ایک تہائی سازندے لے جاتے ہیں اور دو تہائی ہمارا ہوتا ہے ۔۔۔ حضور ! ہماری قدر تو ہندو کیا کرتے تھے، اُن کے ہاں بچہ پیدا ہوتا تو کئی کئی مہینوں کے لئے بے نیاز کر دیتے، ہندو عورتیں ہمیں بابا لوگ کہتی تھیں، لیکن مسلمان تو الفاظ کے پتھر لڑھکاتے ہیں ، بورھے ہیں تو وہ رمز کی بات کرتے ہیں ، جو ان میں تو وہ چٹکی لیتے ہیں ، بچے ہیں تو وہ تالیاں پیٹتے ہیں۔ العرض آوے کا آواہی بگڑا ہوا ہے۔‘‘


’’اتنا روپیہ کیا کرتے ہو؟‘‘

’’ اپنی ذات کے لئے تو لوگوں کا دیا ہوا روٹی کپڑا ہی کافی ہے لیکن میرے کاندھوں پر فرض کا ایک بوجھ بھی ہے۔‘‘
ضرور پڑھیں: سپریم کورٹ میں بڑھتی ہوئی آبادی سے متعلق کیس کی سماعت ، فیصلہ کل سنائیں گے : چیف جسٹس

’’کیا؟‘‘

’’ والد لدھیانے میں ایک بڑے خیاط تھے ، کاروبار اچھا تھا ، اپنے چھ مکان تھے ہم چھ بہن بھائی ہیں ، چار بہنیں ، دو بھائی، میں مخنث نکلا۔ دوسرا بھائی 1947 ؁ء کی قیامت میں کام آگیا، والد ضعیف العمر ہیں، امی بھی اسی سن کو پہنچ چکی ہیں جب تک لدھیانہ میں رہے میری کمائی کا ایک دھیلہ بھی حرام سمجھا، اب جو لُٹ پُٹ کے لاہور پہنچے تو کوئی سہارا نہ تھا، ان کی خواہش کے خلاف میں نے ہاتھ بٹایا ایک بہن بیاہی ہے، اور اُس کا شوہر سرکاری ملازم ہے،دوسری نے اس سال میٹرک کیا ہے ، تیسری نے آٹھویں میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، چوتھی تیسرے درجے میں ہے، پہلی دو بہنوں کو مزید تعلیم سے روک دیا ہے۔‘‘
ضرور پڑھیں: علیمہ خان کو پیغام دیا گیاہے کہ جائیداد کا معاملہ کلیئرکریں، نعیم الحق

’’ کیوں؟‘‘

’’ میاں دریا میں جو کچھ جال دیکھتا ہے ، وہ مچھیرا نہیں دیکھتا ۔ میرا خیال ہے کہ ہماری تعلیم کا موجودہ نقشہ ہمیں اخلاقی انحطاط کی طرف لے جا رہا ہے ایک دن میری بہن نے مجھ سے کہا ۔۔۔ بھائی جان ! سب لڑکیاں ہماری مینڈھیوں کا مذاق اُڑاتی ہیں ، کہتی ہیں ابھی تک پرانی قطع کے بال بنا رہی ہو، کئی دفعہ سفید برقعوں پر ٹوکا ہے ، میں چُپ ہو رہا تیسرے روز دیکھا تو بہن بالوں کو سلجھا رہی ہے، میں نے یہی مناسب سمجھا کہ انہیں سکول سے اُٹھالوں کیونکہ بالوں کا سلجھاؤ ہی دلوں کا اُلجھاؤ بنتا ہے۔‘‘

’’ شوکت تم بڑے باخبرہو۔‘‘

’’ صرف اس لئے کہ آنکھیں ہمیشہ کھلی رکھتا ہوں آپ حیران ہوں گے کہ میں نے گھر میں ریڈیو نہیں رکھا۔‘‘
’’ کیوں؟‘‘

’’ اس لئے کہ ریڈیو مشینی اُستاد جی ہے اور لڑکیاں اس سے تال سُرنکالنا سیکھتی ہیں باور کیجئے ہمارے معاشرتی زندگی میں جو نفسانی بے راہ روی اُبھر آئی ہے،اس کی ایک وجہ ریڈیو بھی ہے۔‘‘

’’ کیا ہر مخنث کے لئے کوئی حلقہ مخصوص ہوتا ہے؟

’’ جی ہاں ! ہر مخنث کے لئے ایک حلقہ مخصوص و مقرر ہے ، وہ کمانے کے لئے اس سے باہر نہیں جا سکتا ، اسی کا ہر حلقہ اس کی موروثی جائیداد ہے، جب وہ مرتا ہے تو اپنے جانشین مخنث کے نام منتقل کر جاتا ہے۔‘‘

’’ قانوناً؟‘‘

’’ جی نہیں، پنچایت کے روبرو ’’ وصیت‘‘ ہوجاتی ہے۔ مثلاً قلعہ گوجر سنگھ کا علاقہ میرا ہے ، یہ حلقہ میرے پاس ایک سکھ ہیجڑے نے تین ہزار روپے میں قبل از تقسیم گروی رکھا تھا، جب بٹوارہ ہوگیا تو وہ اپنے والدین کے ہمراہ مشرقی پنجاب چلا گیا، میں لدھیانے سے لاہور پہنچا اور اپنے تصرف میں لے آیا۔ لاہور کے مخنثوں نے کوشش کی کہ تین ہزار روپے لے کر یہ علاقہ اُن کے نام منتقل کر دوں لیکن میں مہاجر تھا اور مجھے کوئی نہ کوئی حلقہ الاٹ ہونا ضروری تھا۔‘‘

’’ تو کیا یہ حلقہ تمہیں محکمہ بحالیات نے الاٹ کیا ہے؟‘‘

شوکت نے زور کا قہقہہ لگایا۔
’’ جی نہیں ، پنچایت نے ! محکمہ بحالیات نے تو مجھے مخنث سمجھا اور مکان بھی الاٹ نہ کیا حالانکہ میرے والد نو دولتوں سے کہیں زیادہ صاحب جائیداد تھے۔‘‘

’’ تمہارا کوئی پیراُستاد ہے؟‘‘
’’ جی ہاں ! ہم اپنے پیر کو گورو کہتے ہیں ، ہماری بڑی گدی راولپنڈی میں ہے اور بخشو کی گدی کہلاتی ہے اس گدے کی آمدنی خاص ہے، یوں کہیئے سونے میں تلتی ہے عام جائیداد بھی خاصی ہے،دوسری گدی لاہور میں ہے ، ہیرا منڈی کے علاقے میں ، اس کو بابا رکھا کی گدی کہتے ہیں۔‘‘

’’ لیکن اس گدی میں تو سبھی کچھ چلتا ہے !‘‘


’’ یہ سبھی کچھ کیا ہے؟‘‘۔۔۔ شوکت نے بات اُٹھاتے ہوئے کہا ’’ سبھی کچھ کہاں نہیں چلتا؟ کیا زندگی کاکوئی گوشہ خالی ہے؟‘‘

شوکت کے لہجہ میں خود اعتمادی کا عنصر شامل تھا، اُس نے بتایا۔


آپ لوگ ہمیں حقارت سے دیکھے ہیں ہمیں پوچھئے کہ معاشرہ کی حالت کیا ہے، لوگوں کی اخلاقی حالت کہاں سے کہاں نہیں آپہنچی؟ جن لوگوں کو آپ محلوں کے آقا اور مسندوں کے وارث کہتے ہیں ، ان کا باطن ہم پرروشن ہے میں نے گانے بجانے ہی میں عمر نہیں گنوائی ہزاروں انسانوں کو قریب سے دیکھا ہے ۔میں ہر انسان کی آنکھ کو پہچانتا ہوں ایک ہی گردش مجھے کے مافی الضمیر تک لے جاتی ہے۔‘‘

’’ ملک بھر میں کتنے مخنث ہوں گے؟‘‘
’’ شمار تو نہیں کیا لیکن جو ظاہر ہیں ان کی تعداد پانچ چھ ہزار سے کیا کم ہوسکتی ہے۔‘‘

’’ اور جو پوشیدہ ہیں ؟‘‘
ان کے متعلق کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا ، خداہی بہتر جانتا ہے۔‘‘شوکت کے پاس معلومات کا خزانہ تھا جو بانٹے جارہا تھا ۔

(جاری ہے۔۔۔ )


Offline Nazli

  • T. Members
  • 1 stars
  • *
  • Posts: 48
  • Reputation: +18/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: ---اُس بازار میں
« Reply #35 on: January 16, 2019, 10:04:10 am »
شوکت نے اپنے معاشرہ کی رسموں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ جب ہم میں سے کوئی مخنث اپنے چیلے کو نکال دیتا ہے تو کوئی دوسرا اُسے لینے کے لئے تیار نہیں ہوتا جب تک پنچایت اپنا فیصلہ نہیں دیتی۔‘‘


’’ پنچائیت کا فیصلہ کبھی تو سینکڑوں روپے جُرمانہ تک پہنچتا ہے اور کبھی صرف جوتی میں تیل ڈالو لیا جاتا ہے۔‘‘

’’ جوتی میں تیل ۔۔۔؟‘‘

’’ جی ہاں ! ہمارے ہاں اس کو بڑا عیب سمجھتے ہیں۔ بلکہ ہم لوگ جرمانے کو ترجیح دیتے ہیں۔‘‘

شوکت نے کہا، ’’ بعض لوگ ہمارا ڈانڈا بھانڈوں سے ملاتے ہیں، لیکن اُن کے اور ہمارے درمیان دُورکاناطہ بھی نہیں ، ہم نقلیں نہیں کرتے اورنہ کسی پر پھبتیوں کا جھاڑ باندھے ہیں۔ ہمارے زندگی مستعار فقیرانہ ہے جو لوگوں کو دُعائیں دینے میں گزر جاتی ہے!‘‘

’’ کبھی تمہاری میت دیکھنے میں نہیں آتی؟‘‘

وہ ہنسا اور کہا’’ آپ بھی عجیب سوال کرتے ہیں ، معاف کیجئے نہ تو ہم آسمان سے ٹپکتے ہیں اور نہ آسمان پر اُڑ جاتے ہیں ، ہمیں بھی ماں کی کوکھ ہی جنتی اور ہمارا جنازہ بھی مرد ہی لے جاتے ہیں۔‘‘
ضرور پڑھیں:  پنجاب اسمبلی میں اسپیکر کو پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا اختیار دینے کیلئے ترمیم منظور ہوگئی

’’ نماز جنازہ کون پڑھاتا ہے؟‘‘

’’ مولوی‘‘

’’ مولوی؟‘‘

’’جی ہاں !‘‘ شوکت نے اس تحیر کو جھٹلاتے ہوئے کہا۔


’’ کیا ہم مسلمان نہیں۔ ہمارے دل بھی خدا کے خوف سے لبریز ہیں ، ہم بھی اسلام کو مانتے ہیں ، پیر فقیر مناتے ہیں ، نذر نیاز دیتے ہیں ، داتا کی حاضری بھرتے ہیں ، گنج شکر کے روضے پر جاتے ہیں، بری امام کے سلام کو پہنچتے ہیں۔ اب تو خیر وہ دن نہیں رہے لیکن زمانہ تھا کہ ہر سال صابر پیا کی چوکھٹ پر اور خواجہ کی نگری میں حاضری بھرتے تھے، ہر گیارھویں شریف کو شرینی بانٹتے ہیں۔ عیدیں آتی ہیں، شب برأت آتی ہے، عاشورہ کے دنوں میں پنجتن پاک کا سوگ مناتے ہیں ، عید میلاد کو چراغاں کرتے ہیں ، آخری چہار شنبہ کو بتا شے بانٹتے ہیں ، پھر ہم مسلمان بھی ہیں اور ہمارے ہاں کبھی فرقہ وارانہ جھگڑے نہیں ہوتے ، نہ کبھی انسانوں کے خود سے ہاتھ رنگے جاتے ہیں ، نہ کبھی ہم نے سیاسی حقوق کا مطالبہ کیا ہے اور نہ ہمارے کوئی حقوق ہیں، افسوس کہ خدا کی مخلوق سیاسی مخنثوں کے قبضہ میں ہے!‘‘


’’ اور یہ سیاسی مخنث کون ہیں؟‘‘

شوکت کھلکھلا کر ہنس پڑا۔۔۔ ’’ معاف کیجئے، انہیں آپ بھے جانتے ہیں سیاسی مخنثوں کی مضرتیں اجتماعی ہیں اور جنسی مخنثوں کی فردی‘‘ شوکت کے قہقہے فضا میں اس طرح گھل رہے تھے، جیسے کسی کھوکھلی عصمت کی چتاکادھواں خلاؤں میں گھلتا ہو۔۔۔ دھواں اور قہقہے۔
ضرور پڑھیں: بڑھتی ہوئی آبادی ایک بم کی طرح ہے ،پوری قوم کو چیلنج سے لڑنا ہوگا،چیف جسٹس پاکستان

رات کی بات

21 اپریل 1948 ؁ء کی شب پاکستان میں پہلا یوم اقبال تھا، ادھر یونیورسٹی میں حکیم الامت کے عقیدت مند فلسفہ خودی چھانٹ رہے تھے۔ اُدھر ریڈیو سے کلام اقبال نشر ہورہا تھا، اور کہیں کہیں فٹ پاتھ پر خوش لحن فقیر ’’ ساقی نامہ‘‘ الاپ رہے تھے۔۔۔


گیا دورِ سرمایہ داری گیا

خان کو اسرار تھا کہ ہم اس کی معیت میں امیر سے ملیں ، علامہ اقبالؒ آغاز جوانی میں اس امیر ہی کی آواز کے معترف تھے اور یہ حُسن اتفاق تھا کہ آج اس کے ہاں کسی تقریب کا اہتمام تھا۔ سب پشتینی رنڈیاں اس کے ہاں مدعو تھیں۔ امیر کی بیٹیاں جن کا آفتاب ان دنوں نصف النہار پر ہے، اس ڈار میں خوبصورت کبوتریوں کی طرح غٹرغوں غٹرغوں کر رہی تھیں۔ تمام احاطہ بقعہ نور بنا ہوا تھا جیسے اپسراؤں کا کوئی غول ستاروں سمیت کرہ ارضی کی اس ٹکری پر اُتر آیا ہو۔


آج کی رات اُف اومیرے خدا آج کی رات

امیر چھیاسٹھ برس کے سن میں ہے ممکن ہے کبھی خوف روہو ، مگر اب عمر رفتہ کا جھوٹا جھول ہے۔ یا بہ ظاہر چچوڑی ہوئی ہڈیوں کا ایک ڈھیر ، جس میں دھوئیں کی سڑانڈرہ گئی ہے، رنگ سنولا چکا بلکہ سیاہ ہوتا جا رہاہے۔ بال سفید ہوچکے ہیں ، دانتوں میں کھڑکیاں نکل آئی ہیں، اور لہجہ مریل ہو چکا ہے۔
الٰہی جان نے کہا، ’’ خالہ یہ کچھ پوچھنا چاہتے ہیں‘‘ امیر نے آنکھیں کھول دیں، گویا کسی بھولی بسری حکایت کا تعاقب کرہی ہیں ، ہم نے سوال کیا تو اُس کے بوڑھے چہرے کی جھریاں مسکرائیں ، جیسے کسی گمشدہ کہانی کے الفاظ بکھر گئے ہیں اور وہ انہیں ایکا ایکی جوڑ دینا چاہتی ہے۔ اقبال کے نام سے اُس کی جھکی ہوئی آنکھوں میں ایک نور سا جاگ اُٹھا، لیکن بسرعت مدھم ہوگیا، گویا ایک چپ سو سُکھ۔

اُس نے کچھ بتانا قبول نہ کیا، ہمارا اصرار بڑھا تو قدرے جھنجھلا کر کہا۔۔۔
’’ ہمارے ہاں مردوں کے کفن پھاڑنے کا رواج نہیں، انسانی گوشت کی چاٹ بری ہوتی ہے ، ایک دفعہ منہ لگ جائے تو شراب کے نشہ سے بڑھ کر خوار کرتی ہے، اس عمر میں انسان کو خوفِ خدا کے سوا کچھ یاد نہیں رہتا۔ جب خدا کا خوف نہیں تھا تو سب کچھ یاد تھا۔ ‘‘

ہم نے بات کو طول دینا چاہا، اور تقاضا کیا کہ وہ ان صحبتوں کی کوئی کتھا چھیڑے، جب اقبال ، عبدالقادر ، گرامی ، ناظرہ وغیر ہم حاضر ہوتے تھے، لیکن اُس نے کھوکھلے قہقہوں میں ہمارے استفسار کو سمیٹا ، پھر ذرا ترش ہوکر کہا :

’’ خطائے بزرگوں گرفتن خطاست۔ میں کوئی کتاب نہیں کہ اُٹھایا ورق پلٹے جس صفحہ پیرے پر نظر ٹھیری اس کو کھنگالنا شروع کیا، پُرانی باتیں وقت کے ساتھ مر چکی ہیں، ان رازوں ہی کی ٹوہ میں رہیے جو زندگی میں راہنما ہوسکے ہیں۔ ان باتوں کی کھوج سے فائدہ؟ جو آپ کو تو نفع نہیں دے سکتیں لیکن دوسروں کو محض اس لئے نقصان پہنچتا ہو کہ آپ کے کان اس ذائقہ کے عادی ہوچکے ۔

یاد رکھئے ہم لوگ راز فروشی نہیں کرتے یہ کام شریفوں کا ہے۔‘‘

ہمیں یقین ہوگیا کہ امیر اس معاملہ میں ستر خفی ہے گو اُس کا روپ مرچکا لیکن اس کی آن نہیں مری، اس کی خودی زندہ ہے۔

ابھی تقریب کا رنگ نہیں بندھا تھا، ایک طرف اُستاد جی حقوں کا دھوآں اُڑارہے تھے، دوسری طرف رنڈیوں کی رنگا رنگ آوازیں ایک دوسرے سے بغل گیر ہورہی تھیں۔ شب کا پہلا پہر تھا اور مدعوین عموماً رات کے نصف ثانی میں جمع ہوتے ہیں قاضی نے کہا چلو اتنے میں نایاب کے ہاں ہو آتے ہیں ، ہمارے ایک دوست جونا مور باپ کے بیٹے اور خود بھی نامور تھے ، اس طرح گھومتے پھرنے کے خلاف تھے اور اُن کا خوف بڑی حد تک جائز تھا وہ محض چوری چھپے کا تماشا دیکھنے کے لئے چلے آئے تھے، اور اس میں بھی زیادہ ترامیر سے ملاقات کا شوق تھا۔ بالآخر مان گئے اور جب پکھراج منزل کی دہلیز پر قدم رکھا تو ان کا دل دھک دھک کر رہا تھا۔ نایاب ریشم کے ڈھیر کی طرح سامنے آ بیٹھی ، اس نے خندہ پیشانی کے ساتھ آداب عرض کیا، ان حضرت کی آنکھیں بھی چندھیا گئیں۔ خواجہ سے کان میں کہا۔ ’’ بھائی بزرگوں نے غلط نہیں کہا کہ معصیت میں بڑی دلکشی ہوتی ہے۔‘‘
ان گھروں میں گاہکوں کی کھسر پھسر کو ناگوار سمجھا جاتاہے۔ نایاب کی نانی جس کی عقابی نظریں گاہکوں کے تیوروں سے ان کی غایت پہچان لیتی ہے، اس سرگوشی پر کہاں چوکتی، ایک برجستہ فقرہ کسا اور گلوری بڑھاتے ہوئے کہا۔

’’ لیجئے شوق فرمائیے۔‘‘

خواجہ نے کہا۔۔۔ ’’ آ پ نے غالباً زندگی میں پہلی دفعہ یہ چوکھٹ دیکھی ہے؟‘‘

نائکہ نے قطع کلام کیا ’’ جی ہاں تو ابھی ان کی عمر ہی کیا ہے۔۔اور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں۔ محض ہمارے اصرار پر یہاں تک چلے آئے ہیں ورنہ ان کے لئے یہاں دلبستگی کا کوئی سامان نہیں ان کا اوڑھنا بچھونا تو کتابیں ہیں۔‘‘ خواجہ نے کہا:

’’جی ہاں ، وہ تو ان کاچہرہ بول رہا ہے، اوڑھنا بھی کتابیں اور بچھونا بھی کتابیں؟‘‘ راس پر ایک زبردست قہقہہ پڑا، لیکن بڑھانے پہلو بدلتے ہوئے کہا۔

’’ میاں ! یہ حجاب اولیٰ زیادہ دیر نہیں رہتا، ان بازاروں میں ہرن بھی چوکڑی بھول جاتے ہیں ، کون ہے جو اس شاہراہ سے نہیں گزرا، جن لوگوں کی عزت ایک اجتماعی سرمایہ یا قومی ملکیت ہو وہ بھی عمر کے کسی موڑ میں اس کوچہ کی آب و ہوا سے ضرور مستفید ہوتے ہیں ، یہ پھول سرِراہ سہی لیکن پھول تو ہیں ، معاف کیجئے پنجاب میں تو طبیعتوں کا رجحان قدرے مختلف ہے، اور لوگ ہم نشینی کی بجائے ہم جنسی چاہتے ہیں، مگر اُدھر دہلی و لکھنؤ میں بڑے بڑے شرفا مجلس آرائی کے لئے آتے تھے۔۔۔ سر سید کانوں کے رسیا تھے ، انہوں نے علی گڑھ یونیورسٹی کا سنگِ بنیاد رکھا تو کلکتہ کی ایک جانی پہچانی طوائف نے انہیں چندہ میں بہت سا روپیہ دیا تھا، مولانا شبلی مرحوم بھی آواز پر مرتے تھے ، اکبر الہ آبادی نے تواپنے گھر میں ایک طوائف ہی کو بسالیا تھا ، نواب نصیر حسین خیال بھی ایک زندہ دل انسان تھے۔ غرضیکہ اُس دور کا ہر شاعر یا ادیب ان مکانوں کی سیاحت کر چکا ہے ، ادھر سیاسی راہنماؤں میں مولانا محمد علی مرحوم و مغفور جب کبھی کلکتہ جاتے یا لکھنؤ میں مہاراجہ محمود آباد کے ہاں قیام ہوتا تو زہرہ و مشتری کے ہاں بھی ایک آدھ نشست جمالیتے تھے ، چونکہ من اُجلا تھا، اس لئے اس میں کوئی عیب نہ دیکھتے تھے حکیم اجمل خاں کے زہد وورع پر اُنگلی رکھنا خود ایک عیب ہے، لیکن تحریک خلافت کے دنوں میں بھی وہ کبھی کبھار خوش وقت ہولیتے تھے، اور پھر ان کے ہاں جولوگ جمع ہوتے تھے ان کے علم و نظر کی مثال پورے ملک میں عنقا ہے ۔زمانہ زمانہ کی بات ہے، اُس زمانے میں ہم لوگ ایک ادارہ حیثیت رکھتے تھے، اب ہماری حیثیت ایک اڈے کی ہے ، ظاہر ہے کہ اڈوں پر انسانی آبرو زنگ کھا جاتی ہے۔‘‘

’’ تو آپ نے ثابت یہ کیا آپ کے مکانوں کو بڑے بڑے لوگ نوازتے رہے ہیں۔‘‘

’’ آپ کا فقرہ قدرے پہلو دار ہے، میرے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ بڑی بڑی ہستیوں کے سوا نح حیات میں بہت سے ورق نہ سہی چند صفحے ہی سہی، چند صفحے نہ سہی ، کچھ حواشی ہی سہی۔‘‘(جاری ہے