Poll

آپ کو کہانی کیسی لگی ؟؟؟ جواب ضرور دیجئیے گا ۔

Author Topic: سوتیلی ماں  (Read 463478 times)

Offline Raheela.Mumtaz

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 89
  • Reputation: +2/-0
    • View Profile
سوتیلی ماں
« on: August 27, 2019, 12:38:58 am »
میرا نام وقاص ہے ۔ میری عمر 20 سال ہے ۔ میرے ابو ان کا نام فرہاد ہے اور انکی عمر 50 سال ہے ۔ وہ شہر سے باہر  کپڑے کا کاروبار کرتے ہیں ۔ اور اس کے لئے وہ مہینے میں صرف 2 دن کے لئے ہی گھر آتے ہیں ۔ اور گھر میں میں اور میری سوتیلی ماں فرح ہوتے ہیں ۔ میری سوتیلی ماں کی عمر 30 سال ہے ۔ میں انھیں پیار سے چھوٹی امی یا کبھی کبھی صرف امی بلاتا ہوں ۔وہ میرے ابو سے 20 سال چھوٹی ہیں ۔ اور عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں انکی جسم کی گرمی بڑھتی جا رہی ہے ۔ دوسری شادی کے بعد ابو نے بچہ پیدا نا کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ اور اس وجہ سے میری چھوٹی امی کا جسم بلکل ٹائٹ تھا ۔ انکا جسم تھوڑا بھرا بھرا تھا لیکن موٹا بلکل نہیں تھا ۔ انکے ممے قدرتی طور پر کافی بڑے اور گانڈ باہر کو نکلی ہوئی تھی ۔ انکو دیکھ کر بلکل نہیں لگتا تھا ک وہ شادی شدہ ہیں ۔ وہ ایسے لگتیں جیسے کوئی کنواری لڑکی جسے قدرت نے خوب مالا مال کیا ہوا ہو ۔ ابو مہینے میں صرف دو دن ہی گھر آتے ہیں اس میں بھی ایک دن آرام کرنے میں گزارتے ہیں اور اگر گھر پر مہمان آ جائیں 2 دن وہ امی کو وقت ہی نہیں دے پاتے اور اس سے امی کی مشکل اور بڑھ جاتی ہے ۔ ایسے میں میں نے اپنی سوتیلی ماں کی حالت کا فائدہ اٹھانے اور انکی مدد کرنے کا فیصلہ کیا ۔ کیوں کے میں نے انھیں کی بار روتے دیکھا ۔ ابو اور امی کا کمرہ گراؤنڈ فلور پے ہے اور میرا فرسٹ فلور پہ ۔ اور اکثر ہی میں کچن سے کچھ لینے نیچے آتا تو چھوٹی امی کے کمرے سے انکی رونے کی آواز آ رہی ہوتی تھی۔ میرے پوچھنے پر وہ ہمیشہ خراب طبیعت کا بہانہ کر کے ٹال دیتیں ۔ میں  نے انکی مدد کا فیصلہ تو کر لیا مگر یہ تب ممکن تھا جب امی کو بھی اس مدد کی خواہش ہو ۔ اور انکے دل میں یہ خواہش جگانے کے لئے میں نے اس دن  کے بعد سے میں نے پلان بنانا شروع کر دیا ۔ اگر سچ بتاؤں تو امی کی مدد تو صرف ایک بہانہ تھا۔  اصل مقصد تو اپنے اندر کی آگ کو بجھانا تھا جو میری سوتیلی ماں نے 5 سال پہلے جلائی تھی ۔

۔
۔
۔
میری عمر 10 سال تھی جب میری امی اس دنیا سے انتقال کر گئیں ۔ میں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھا ۔ امی کے گزر جانے کی بعد ابو اور میں ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہوے بھی اکیلا محسوس کرتے تھے ۔ سب لوگوں نے ابو کو دوسری شادی کرنے کا مشورہ دیا ۔ لیکن ابو اپنے کام میں اس طرح مصرروف رہتے کے انھیں کبھی ٹائم ہی نہیں ملا کے وہ دوسری شادی کرتے ۔ اس مصروفیت کی وجہ سے ہے امی نے دوسرا بچا پیدا نا کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ کیوں کے انکے لئے مجھے سمبھالنا ہے بہت مشکل کام تھا ۔
۔

امی کے انتقال کو 5 سال گزر گئے ۔
میں 15 سال کا تھا اور میٹرک کے امتحان دینے کے بعد چھٹیاں منا رہا تھا ۔ تب ایک دن میں نے اپنی دادی امی جو کے چھوٹے چاچو اور چچی کے ساتھ رہتیں تھی انکو ابو کو دوسری شادی کے لئے اصرار کرتے سنا ۔ ابو بار بار منع کر رہے تھے اور کہ رہے تھے کے انکی مصروفیت اتنی زیادہ ہے کے وہ دوسری شادی کے بعد نئی بیوی کے لئے وقت نہیں نکال پائیں گے ۔ جبکے دادی بار بار ایک ہی بات دوہرا رہی تھیں کہ انکے جانے کے دوسری شادی کروانے میں انکی کوئی مدد نہیں کرے گا اور یہ بات انکو کھاے جا رہی تھی انکا
بیٹا ساری زندگی اکیلا رہے
۔
۔( دادی کو ہمیشہ چھوٹے چاچو سے زیادہ لگاؤ تھا کیوں کے انکی اولاد نہیں تھی ۔ میرے چاچو کام نام ریحان ہے اور چچی کا نام یاسمین ہے ۔ میرے چاچو کے بارے میں نے کسی سے سنا تھا کے وہ نا مرد ہیں اور انکا لن کھڑا ہی نہیں ہوتا تھا ۔چچی کو یہ بات ان سے شادی کے بعد پتا چلی ۔ اور  چچی اپنے جسم کی بھوک مٹانے کے لئے انگلیوں اور کبھی لمبی سبزیوں کا سہارا لیتیں ۔ چاچو انکی مدد کے لئے کبھی انکی پھدی چاٹ لیتے تھے ۔ تو کبھی انگلیوں سے انکی پھدی کا جوس نکالنے کی کوشش کرتے ۔ مختصر یہ کے چچی یاسمین کی پھدی نے کبھی اصلی لن کا مزہ چکھا ہی نہیں تھا ۔)
۔
ابو کے منع کرنے پر دادی نے اچانک رونا شروع کر دیا ۔ تنگ آ کر آخر ابو نے انکے آگے ہار مان لی اور دوسری شادی کی حامی بھر لی ۔ میں یہ سب سن کر کمرے میں داخل ہوا اور ابو کے پاس جا کر انکو اور دادی کو مخاطب کر کے بولا کے ابو کی شادی ضرور ہونی چاہیے ۔ میرا یہ کہنے کا مقصد تھا کے ابو میرے لئے پریشان نا ہوں ۔ آخر میں اب جوان ہو گیا تھا ۔ اور ابو کا اکیلے پن کا مجھے صحیح معنوں میں احساس ہونے لگا تھا ۔ یہ سن کر مانو جیسے ابو کے کندھے سے بوجھ اتر گیا ہو ۔ ابو فوراً دادی کو بولے کے وہ انکا رشتہ دیکھنا شروع کر دیں ۔ اس بات پر دادی بھی مسکرا دیں اور بولیں کے انہوں نے پہلے سے ہی ایک لڑکی پسند کر رکھی ہے ۔ ابو کے پوچھنے پر انہوں نے اسکا نام فرح بتایا ۔ ابو نے کچھ سوچا اور اثبات میں سر ہلایا ۔
۔
فرح میرے چھوٹے چاچو کی سالی ہے ۔ جس کی اس وقت عمر 25 سال تھی اور ماسٹرز تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ گھر میں ہی رہتی تھیں ۔ میری ان سے بہت بنتی تھی کیوں کے میں انہی کے ٹیوشن پڑھ پڑھ کر پاس ہوتا تھا ۔اسکے ٹھیک 2 مہینے بعد ابو کی شادی بہت سادگی سے کر دی اور ابو چھوٹی امی کو لے کر گھر آ گئے ۔
۔
۔
شادی کے بعد ایک مہینے تک ابو پہلے سے زیادہ وقت گھر گزارتے ۔ اور چھوٹی امی کو وقت اور پیار دونوں دیتے ۔ مگر شادی کی ایک مہینے بعد ہی ابو واپس اپنی پہلے والی روٹین پے کام کرنے لگے ۔ چھوٹی امی ہر وقت اداس رہتیں ۔ انکا کسی چیز میں دل نا لگتا ۔ میں نے انکا موڈ ٹھیک کرنے کی بہت کوشش کی لیکن وو تھوڑا سا مسکرا کر پھر خاموش ہو جاتیں ۔
جیسے کیسے مہینے گزرا اور ابو کے آنے کا وقت قریب آیا تو چھوٹی امی کے چہرے پر پھر سے خوشی نظر آنے لگی ۔ اور وو سارا دن مجھ سے پوچھتیں کے کپڑے کونسے پہنو کھانے میں کیا بنانا چاہیے ۔ میں انکی مدد کرتا رہتا تھا ۔ ایک دن میں کالج کے لئے تیار ہو کر نکلا مگر وہاں جا کر معلوم ہوا کے ٹیچرز اور کالج کے مالک کے درمیان تنخواہ کو لے کر جھگڑا ہوا اور ٹیچرز احتجاج پر تھے جسکی وجہ سے کالج بند تھا ۔ میں نے کچھ وقت وہاں اپنے دوستوں کے ساتھ گزارا اور واپس گھر کی طرف روانہ ہوا ۔ اس وقت میرے وہم و گمان میں نہیں تھا کے آج کے دن سب کچھ بدلنے والا تھا ۔ میری سوتیلی ماں جسے ہمیشہ میں نے ماں کی نظر سے ہی دیکھا تھا آج انکے لئے میری سوچ اور نظر بدلنے والی تھی ۔ آج میرے اندر وہ آگ لگنے والی تھی جسے بجھانے میں مجھے 5 سال لگے ۔
۔
۔

YUM Stories

سوتیلی ماں
« on: August 27, 2019, 12:38:58 am »

Offline Raheela.Mumtaz

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 89
  • Reputation: +2/-0
    • View Profile
Re: سوتیلی ماں
« Reply #1 on: August 27, 2019, 11:36:20 am »
Update # 02
۔

کالج سے سیدھا گھر پہنچا اور اپنی چابی سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگیا ۔ اندر جا کر چھوٹی امی کو بتانا چاہا مگر وہ اپنے کمرے میں نہیں تھیں ۔ انکے کمرے کا واش روم بھی کھلا تھا ۔ وہاں سے کچن میں گیا تو وہاں بھی نہیں تھیں ۔ یہ بات کافی حیران کن تھی کیوں کے چھوٹی امی کو اس گھر میں آےُ 2 مہینے ہو گئے تھے اور آج تک کبھی وہ مجھے بتاےُ بغیر کہیں نہیں گئی تھیں ۔ لیکن پھر میرے ذہن میں چچی یاسمین کا خیال آیا اور سوچا شاید وہاں گئی ہوں گی آخر وہ چھوٹی امی کی سگی بہن ہیں ۔ یہ سوچ کر میں سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جانے لگا مگر آخری کچھ سٹیپس پہ ہی میں رک گیا ۔ میرا مانو جیسے اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے رہ گیا ۔ ٹانگوں میں جیسے سریا گھس گیا ہو اور ہلنا محال ہو گیا ہو ۔ یہ وہ لمحہ تھا جس نے میرے اندر حوس کی آگ کو بھڑکایا تھا ۔
۔
چھت پر میرے روم کے باہر چارپائی پر چھوٹی امی بلکل ننگی بیٹھی تھیں انہوں نے اپنی ٹانگیں کھول کر تھوڑا سا اوپر اٹھا رکھی تھیں اور اپنی پھدی کی طرف جھکی ہوئی تھیں ۔ ایک دم جو مجھے جھٹکا لگا تھا اس سے میرا ذہن رک سا گیا تھا اور میں یہ سمجھنے سے قاصر تھا کے آخر ہو کیا رہا ہے ۔ چھوٹی امی نے بال پیچھے کو باندھ کر جوڑا بنا رکھا تھا ۔ کپڑے ساتھ تار پر لٹک رہے تھے ۔ جسم اس قدر خوبصورت کے خوبصورتی بھی شرما جائے ۔ انکے ممے بلکل شیپ میں تھے موٹے اور گول ۔ انکے نپل ہلکے براؤن رنگ کے تھے ۔ جسم پورا بلکل ٹائٹ' موٹی رانیں' سفید دودھ جیسی رنگت ' اور انکی پھدی ' اف ' ۔۔۔ میں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر بہت سی پورن فلمز دیکھ رکھی تھیں ۔ لیکن آج تک میں نے ایسی قدرتی خوبصورتی کبھی نہیں دیکھی تھی ۔ اور زندگی میں پہلی بار کسی لڑکی کو ننگا دیکھ رہا تھا ۔ اور وہ بھی اس قدر حسین ۔ انکی پھدی بہت خوبصورت اور ٹائٹ لگ رہی تھی ۔ ایسی پھدی کے بندہ سارا دن چاٹتا رہے پھر بھی دل نا بھرے ۔
۔
جب میں اپنے ہوش میں آیا اور غور سے دیکھا تو اندازہ ہوا کے چھوٹی امی اپنی پھدی کے بال صاف کر رہی تھیں ۔ شاید وہ اپنی ٹانگوں اور جسم کے باقی حصوں کے بال پہلے صاف کر چکی تھیں اس وجہ سے انکا جسم بہت ملائم اور صاف تھا ۔ اور یہ سب ابو کے لئے کیا جا رہا تھا ۔ میں کچھ لمحے وہاں رکا اور واپس جانے ہی والا تھا کے چھوٹی امی کی نظر مجھ پر پڑی  انہوں نے فوراً اپنی ٹانگیں سمیٹ لیں اور انکے منہ سے ہلکی چیخ نکلی ۔ میں بھی فوراً نیچے کی طرف مڑا اور جاتے جاتے اونچی آواز میں غصے میں بولا " سیڑھی کا دروازہ لاک کر لیا کریں "
انھیں اس بات کا احساس نا ہوا کے میں کافی دیر سے انکے جسم کا خاکہ اپنے ذہن میں بنا رہا تھا ۔ گھر سے میں اسی وقت اپنی بائیک پر باہر نکلا اور شہر میں گھومنا شروع کر دیا ۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا اب میں چھوٹی امی کا سامنا کیسے کروں گا ۔ اور اگر انہوں نے ابو کو سب بتا دیا تو ابو کیا سوچیں گے ۔ جب سڑک پر بائیک چلا چلا کر تھک گیا تو واپس گھر کی طرف روانہ ہوا ۔ اب تک شام ہو چکی تھی ۔ گھر پہنچ کر میں سیدھا چھت پر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔ ابو نے اگلے دن شام کو آنا تھا ۔ اور میرا یہ سوچ کر دل گھبرا رہا تھا کہ ابو کا رد عمل کیسا ہوگا ۔ ابھی میں کچھ دیر اپنے بیڈ پر لیٹا ہی تھا کے کمرے کا دروازہ بجنے کی آواز آئ ۔ میں ہمت کر کے اندر آنے کا بولا ۔ چھوٹی امی دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی ۔ وو اب نہا کر نئے کپڑوں میں تھیں بال انکے ابھی بھی گیلے تھے ۔ وہ ٹائٹ قمیض میں ملبوس تھیں اور انکے جسم کے ابھار صاف نظر آ رہے تھے ۔ وہ ابھار جنہیں میں کچھ دیر پہلے جی بھر کر دیکھ چکا تھا ۔ اسی لمحے مجھے احساس ہوا کے میں اب اپنی چھوٹی امی کو ماں کی نظر سے نہیں دیکھ رہا تھا ۔ بلکہ میری نظر میں اب وہ ایک حسین اور سیکسی عورت تھیں ۔ چھوٹی امی میرے ساتھ آ کر بیڈ پر بیٹھ گئیں ۔ کچھ دیر ہم دونوں اسی طرح خاموش بیٹھے رہے ۔ پھر چھوٹی امی نے بولنا شروع کیا ۔
۔
چھوٹی امی :  دیکھو بیٹا میں بہت زیادہ شرمندہ ہوں اس وقت ۔ مجھے اپنے کمرے میں تیار ہونا چاہیے تھا ۔ اوپر میں اس لئے گئی کے وہاں روشنی میں آسانی رہے ۔ مگر مجھے اندازہ نہیں تھا کے تم اتنا جلدی واپس آ جاؤ گے ۔ میں وعدہ کرتی ہوں کے آئندہ میں احتیاط کروں گی آپ بس اس بات کا کسی سے ذکر مت کرنا ۔ خاص طور پر اپنے ابو سے تو بلکل نہیں ۔
۔
اس وقت میرے ذہن سے ایک بوجھ اتر گیا ۔ اور میں نے انھیں ہڑتال کے بارے میں بتایا ۔ اور بولا " امی میں بھی شرمندہ ہوا ہوں بہت ۔ اگر مجھے علم ہوتا تو میں اوپر کی طرف نا آتا ۔ آگے سے میں بھی احتیاط کروں گا ۔ "
۔
چھوٹی امی نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور پیار سے بولیں " میں امید کرتی ہوں کے آج جو بھی ہوا ہم اسے بھول کر دوبارہ سے نارمل رہیں گے " میں نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ اب سب کچھ بدل گیا تھا اور نارمل ہونے کی کوئی امید نہیں تھی ۔
۔
۔

YUM Stories

Re: سوتیلی ماں
« Reply #1 on: August 27, 2019, 11:36:20 am »

Offline Raheela.Mumtaz

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 89
  • Reputation: +2/-0
    • View Profile
Re: سوتیلی ماں
« Reply #2 on: August 27, 2019, 11:39:25 am »
Update # 02
۔

کالج سے سیدھا گھر پہنچا اور اپنی چابی سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگیا ۔ اندر جا کر چھوٹی امی کو بتانا چاہا مگر وہ اپنے کمرے میں نہیں تھیں ۔ انکے کمرے کا واش روم بھی کھلا تھا ۔ وہاں سے کچن میں گیا تو وہاں بھی نہیں تھیں ۔ یہ بات کافی حیران کن تھی کیوں کے چھوٹی امی کو اس گھر میں آےُ 2 مہینے ہو گئے تھے اور آج تک کبھی وہ مجھے بتاےُ بغیر کہیں نہیں گئی تھیں ۔ لیکن پھر میرے ذہن میں چچی یاسمین کا خیال آیا اور سوچا شاید وہاں گئی ہوں گی آخر وہ چھوٹی امی کی سگی بہن ہیں ۔ یہ سوچ کر میں سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جانے لگا مگر آخری کچھ سٹیپس پہ ہی میں رک گیا ۔ میرا مانو جیسے اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے رہ گیا ۔ ٹانگوں میں جیسے سریا گھس گیا ہو اور ہلنا محال ہو گیا ہو ۔ یہ وہ لمحہ تھا جس نے میرے اندر حوس کی آگ کو بھڑکایا تھا ۔
۔
چھت پر میرے روم کے باہر چارپائی پر چھوٹی امی بلکل ننگی بیٹھی تھیں انہوں نے اپنی ٹانگیں کھول کر تھوڑا سا اوپر اٹھا رکھی تھیں اور اپنی پھدی کی طرف جھکی ہوئی تھیں ۔ ایک دم جو مجھے جھٹکا لگا تھا اس سے میرا ذہن رک سا گیا تھا اور میں یہ سمجھنے سے قاصر تھا کے آخر ہو کیا رہا ہے ۔ چھوٹی امی نے بال پیچھے کو باندھ کر جوڑا بنا رکھا تھا ۔ کپڑے ساتھ تار پر لٹک رہے تھے ۔ جسم اس قدر خوبصورت کے خوبصورتی بھی شرما جائے ۔ انکے ممے بلکل شیپ میں تھے موٹے اور گول ۔ انکے نپل ہلکے براؤن رنگ کے تھے ۔ جسم پورا بلکل ٹائٹ' موٹی رانیں' سفید دودھ جیسی رنگت ' اور انکی پھدی ' اف ' ۔۔۔ میں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر بہت سی پورن فلمز دیکھ رکھی تھیں ۔ لیکن آج تک میں نے ایسی قدرتی خوبصورتی کبھی نہیں دیکھی تھی ۔ اور زندگی میں پہلی بار کسی لڑکی کو ننگا دیکھ رہا تھا ۔ اور وہ بھی اس قدر حسین ۔ انکی پھدی بہت خوبصورت اور ٹائٹ لگ رہی تھی ۔ ایسی پھدی کے بندہ سارا دن چاٹتا رہے پھر بھی دل نا بھرے ۔
۔
جب میں اپنے ہوش میں آیا اور غور سے دیکھا تو اندازہ ہوا کے چھوٹی امی اپنی پھدی کے بال صاف کر رہی تھیں ۔ شاید وہ اپنی ٹانگوں اور جسم کے باقی حصوں کے بال پہلے صاف کر چکی تھیں اس وجہ سے انکا جسم بہت ملائم اور صاف تھا ۔ اور یہ سب ابو کے لئے کیا جا رہا تھا ۔ میں کچھ لمحے وہاں رکا اور واپس جانے ہی والا تھا کے چھوٹی امی کی نظر مجھ پر پڑی  انہوں نے فوراً اپنی ٹانگیں سمیٹ لیں اور انکے منہ سے ہلکی چیخ نکلی ۔ میں بھی فوراً نیچے کی طرف مڑا اور جاتے جاتے اونچی آواز میں غصے میں بولا " سیڑھی کا دروازہ لاک کر لیا کریں "
انھیں اس بات کا احساس نا ہوا کے میں کافی دیر سے انکے جسم کا خاکہ اپنے ذہن میں بنا رہا تھا ۔ گھر سے میں اسی وقت اپنی بائیک پر باہر نکلا اور شہر میں گھومنا شروع کر دیا ۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا اب میں چھوٹی امی کا سامنا کیسے کروں گا ۔ اور اگر انہوں نے ابو کو سب بتا دیا تو ابو کیا سوچیں گے ۔ جب سڑک پر بائیک چلا چلا کر تھک گیا تو واپس گھر کی طرف روانہ ہوا ۔ اب تک شام ہو چکی تھی ۔ گھر پہنچ کر میں سیدھا چھت پر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔ ابو نے اگلے دن شام کو آنا تھا ۔ اور میرا یہ سوچ کر دل گھبرا رہا تھا کہ ابو کا رد عمل کیسا ہوگا ۔ ابھی میں کچھ دیر اپنے بیڈ پر لیٹا ہی تھا کے کمرے کا دروازہ بجنے کی آواز آئ ۔ میں ہمت کر کے اندر آنے کا بولا ۔ چھوٹی امی دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی ۔ وو اب نہا کر نئے کپڑوں میں تھیں بال انکے ابھی بھی گیلے تھے ۔ وہ ٹائٹ قمیض میں ملبوس تھیں اور انکے جسم کے ابھار صاف نظر آ رہے تھے ۔ وہ ابھار جنہیں میں کچھ دیر پہلے جی بھر کر دیکھ چکا تھا ۔ اسی لمحے مجھے احساس ہوا کے میں اب اپنی چھوٹی امی کو ماں کی نظر سے نہیں دیکھ رہا تھا ۔ بلکہ میری نظر میں اب وہ ایک حسین اور سیکسی عورت تھیں ۔ چھوٹی امی میرے ساتھ آ کر بیڈ پر بیٹھ گئیں ۔ کچھ دیر ہم دونوں اسی طرح خاموش بیٹھے رہے ۔ پھر چھوٹی امی نے بولنا شروع کیا ۔
۔
چھوٹی امی :  دیکھو بیٹا میں بہت زیادہ شرمندہ ہوں اس وقت ۔ مجھے اپنے کمرے میں تیار ہونا چاہیے تھا ۔ اوپر میں اس لئے گئی کے وہاں روشنی میں آسانی رہے ۔ مگر مجھے اندازہ نہیں تھا کے تم اتنا جلدی واپس آ جاؤ گے ۔ میں وعدہ کرتی ہوں کے آئندہ میں احتیاط کروں گی آپ بس اس بات کا کسی سے ذکر مت کرنا ۔ خاص طور پر اپنے ابو سے تو بلکل نہیں ۔
۔
اس وقت میرے ذہن سے ایک بوجھ اتر گیا ۔ اور میں نے انھیں ہڑتال کے بارے میں بتایا ۔ اور بولا " امی میں بھی شرمندہ ہوا ہوں بہت ۔ اگر مجھے علم ہوتا تو میں اوپر کی طرف نا آتا ۔ آگے سے میں بھی احتیاط کروں گا ۔ "
۔
چھوٹی امی نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور پیار سے بولیں " میں امید کرتی ہوں کے آج جو بھی ہوا ہم اسے بھول کر نارمل رہیں گے " میں نے اثبات میں سر ہلا دیا مدار حقیقت تو  یہ تھی کے اب کچھ بھی نارمل نہیں تھا اور سب کچھ بدل گیا تھا ۔
۔
۔

Offline Raheela.Mumtaz

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 89
  • Reputation: +2/-0
    • View Profile
Re: سوتیلی ماں
« Reply #3 on: August 27, 2019, 11:40:28 am »
۔

Offline woodman

  • 3 Stars
  • ***
  • Posts: 472
  • Reputation: +5/-3
    • View Profile
Re: سوتیلی ماں
« Reply #4 on: August 28, 2019, 01:01:28 am »
بہت اچھی کہانی لکھی ہے پلیز اسے مکمل کرنا۔شکریہ
987uk321 gmail

Offline Baba Butt jee

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 160
  • Reputation: +0/-0
  • Gender: Male
  • Hi i am Butt 58, years old from Lahore.
    • View Profile
Re: سوتیلی ماں
« Reply #5 on: August 28, 2019, 01:09:33 am »
Good Start

Online incense

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1174
  • Reputation: +12/-10
    • View Profile
Re: سوتیلی ماں
« Reply #6 on: August 28, 2019, 06:32:14 am »
Very very nice

Offline dewta_mastermind

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 2001
  • Reputation: +105/-3
  • Gender: Male
  • بہت انتظار کر لیا اب تو مل جا
    • View Profile
Re: سوتیلی ماں
« Reply #7 on: August 28, 2019, 08:45:35 am »
لو جی ایک اور انسیسٹ کہانی
خیر آپڈیٹ پلیز
تصویر بنا کہ میں تیری جیون دا بہانا لبھیا اے

توں نہ ملیوں وچھڑ کہ چن  سجناں اساں  سارا زمانہ لبھیا اے

 

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.