Author Topic: قسمت ۔۔۔رائیٹر عابد قازمی  (Read 86673 times)

Offline MANHIL

  • life for fun.
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1917
  • Reputation: +20/-50
  • آج کے دن کو آخری سمجھ کر جیو ۔
    • View Profile
    • Yumstories.com
قسمت ۔۔۔رائیٹر عابد قازمی
« on: December 30, 2019, 09:57:12 pm »

معمول کے مطابق وہ آج بھی سکول سے واپس آ رہی تھی۔ اچانک وحید اُس کے سامنے آیا اور اُس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچتا ہوا اُس ویران مکان میں لے گیاجس میں سے وہ نمودار ہوا تھا۔ وہ ہکا بکا اور گم سم سی اُس کے ساتھ کھنچتی چلی گئی تھی۔ یہ مکان اُس کی گلی سے پہلے آنے والی گلی میں کافی عرصے سے نامکمل صورت میں بنا ہوا تھا۔ اس کے مالک نے دیواریں اٹھا کر اُسے یوں ہی چھوڑ دیا تھا۔ اندر کمرے وغیرہ بنے ہوئے تھے لیکن نجانے اُسے کیوں مکمل نہیں کیا گیا تھا۔ اس آبادی میں ابھی زیادہ مکانات بھی نہیں بنے تھے اور یہ قصبے کی گنجان آبادی سے الگ ابھی نوآباد جگہ تھی اس لیے بھی یہاں کم کم لوگ ہی نظر آتے تھے۔ اُس دن بھی گلی میں کوئی نہیں تھا اسی لیے وحید نے اتنی جرأت کا مظاہرہ کیا تھا۔ کسی کے ہوتے ہوئے وہ ایسا ہر گز نہ کرتا۔
بہرحال وحید اُسے کھینچتا ہوا گیراج سے گزر کر ٹی وی لاؤنج والی جگہ سے گزار کر ایک تاریک کمرے میں لے آیا تھا اور وہاں پہنچتے ہی اُس کے چہرے کو تھام کر اپنے ہونٹ اُس کے نرم و نازک گلابی ہونٹوں پر ثبت کر دیے تھے۔ وہ اس اچانک صورتحال سے گھبرا کر بالکل خاموش ہو گئی تھی۔ اُس کا دل تیز رفتار سے دھڑک رہا تھا۔ ایک ڈر تھا کہ کوئی آ گیا تو کیا ہوگا؟ وحید اُس کی حالت سے بے پرواہ اُس کے ہونٹوں کو چومنے میں لگا ہوا تھا اور ساتھ ہی ساتھ اُس کی کمر پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔ پھر ہونٹ ہٹا کر اُس نے سعدیہ کو گلے سے لگا لیا اور زور سے بھینچ لیا۔ اس دوران وہ سعدیہ کی کمر سے کولہوں تک ہاتھ لے گیا اور انھیں بھی دبانے لگا۔ انھیں دبانے کے ساتھ ساتھ وہ ہاتھ اُس کی کمر تک پھیرتا ہوا لاتا، کندھوں تک اُسے کے سراپے کو محسوس کرکے وحید کے ہاتھ پھر سے کولہوں کی گولائیوں اور اُن سے بھی کچھ نیچے تک پہنچ جاتے۔ سعدیہ اُس کے ہاتھوں کے ہر ہر لمس پر ہولے سے کانپ جاتی تھی۔ اُس کے بدن کو پہلی بار کوئی لڑکا اِس طرح چُھو رہا تھا اس لیے غیر ہاتھوں کا لمس اُسے ناپسندیدہ لگ رہا تھا۔ اُسے پتا بھی نہیں چلا اور اُس کی آنکھیں خود بخود بند ہو گئی تھیں۔ اُس کے دانت دانتوں پر جمے ہوئے تھے اور چہرے پر ایک عجیب طرح کا اضطراب پھیل گیا تھا۔ وحید بھی کچھ بولے بغیر اپنا کام کیے جا رہا تھا۔
اب وحید نے اُسے چھوڑتے ہوئے ذرا پیچھے ہٹ کر اُس کے زیرو سائز کے ابھار پکڑ لیے اور انھیں دبا دیا۔ سعدیہ کو ایک کرنٹ سا لگا اور وہ کسمسا کر رہ گئی۔ اُس کے ہاتھ خود بخود اوپر آگئے تاکہ وہ اپنے سینے پر اُن اجنبی ناپسندیدہ ہاتھوں کو لگنے سے باز رکھے مگر اُن ہاتھوں نے سعدیہ کے ہاتھوں کو پکڑ کر جھٹک دیا اور ابھار پکڑ کر بھینچنے لگا۔ سعدیہ کی آنکھیں اور بھنچ گئیں اور ماتھے پر شکنیں بھی مزید نمایاں ہو گئیں۔ وہ مزید کانپ گئی جب وحید نے اُس کی قمیص اوپر اٹھاتے ہوئے برا تک ہاتھ پہنچا دیے۔ سعدیہ نے اُن ہاتھوں کو پکڑ کر پیچھے ہٹانے کے لیے کمزور سا زور لگایا جنھیں وہ کبھی پکڑنا نہیں چاہتی تھی لیکن خود کو بچانے کے لیے یہ اضطراری طور پر ہو رہا تھا۔ برا بھی اوپر کر دی گئی اور چھوٹے چھوٹے کنوارے ابھار وحید کے ہاتھوں میں آگئے۔ سعدیہ کی سانسیں کھنچ گئیں اور پہلی بار وحید کی وحشی سانسوں کے علاوہ اُس کی سرگوشی سعدیہ کے کانوں میں گونجی۔ اُف۔۔۔ مزیدار۔۔۔۔ اور یہ کَہ کر وحید انھیں مسلنے لگا۔ دبانے لگا۔ نپل کے دانوں پر انگلیاں پھیرتے ہوئے جب دونوں نپلوں کو اُس نے چٹکیوں میں لیا تو سعدیہ کی مریل سی ’’اُونہھ۔۔ اُونہھ‘‘ اُس کے نتھنوں سے برآمد ہوئی۔ انھیں چٹکیوں میں دباتے ہوئے وحید اُس کے ساتھ لگ گیا اور اُس کی شرم گاہ پر ہلکا ہلکا دباؤ محسوس ہونے لگا۔ تب کہیں دور سے اُس کی سوچ نے اُسے احساس دلایا کہ شرم گاہ پر وحید کی ٹانگوں کے درمیان سے کوئی سخت چیز ٹکرا رہی ہے۔ سعدیہ کو یہ سوچتے ہی ایک جھرجھری سی آئی۔ اسی وقت وحید نے اُس کے چہرے پر بوسے ثبت کرنا شروع کیے اور ہونٹ چوس کر گردن سے ہوتا ہوا اُس کے ابھاروں تک جا پہنچا۔ جب اُسے احساس ہوا کہ ایک طرف کا نپل وحید کے منہ میں چلا گیا ہے اور وہ اُسے چوس رہا ہے تو اُسے تیز جھرجھری آئی جس کا اندازہ وحید کو بھی ہو گیا لیکن وہ دوسرے نپل کو مسلتے ہوئے سعدیہ کا چھوٹا سا کنوارا نپل تیز تیز چوسنے میں مگن رہا۔ باری باری اُس نے دونوں نپل چوسے۔ ان کچے ابھاروں کو اچھی طرح چاٹا۔ پھر سینہ چومتے چومتے اچانک سعدیہ کی شلوار کے الاسٹک میں ہاتھ ڈال کر ایک جھٹکے سے شلوار نیچے اتار دی۔ سعدیہ نے جلدی سے اپنی ٹانگیں سمیٹ لیں اور وحید کو دھکا دینے کی کوشش کی لیکن اُس کی طاقت کے مقابلے میں وحید کی پکڑ مضبوط تھی۔ یہ تو اُسے تب پتا چلا جب سعدیہ کو دیوار کے ساتھ لگا کر وحید نے اُس کی ٹانگوں میں اپنا عضو پھنسا دیا۔ ایک دو دھکوں پر ہی وحید کے کانوں میں سسکیوں کی آواز پڑی جو چند سیکنڈ میں ہی رونے میں تبدیل ہو گئی۔
یہ صبح کا منظر بھی قیامت سا حسیں ہے
 تکیہ ہے کہیں ____ زلف کہیں ___ خود وہ کہیں ہے

YUM Stories

قسمت ۔۔۔رائیٹر عابد قازمی
« on: December 30, 2019, 09:57:12 pm »

Offline MANHIL

  • life for fun.
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1917
  • Reputation: +20/-50
  • آج کے دن کو آخری سمجھ کر جیو ۔
    • View Profile
    • Yumstories.com
Re: قسمت ۔۔۔رائیٹر عابد قازمی
« Reply #1 on: December 30, 2019, 10:00:09 pm »

وحید نے سر اٹھا کر دیکھا تو سعدیہ آہستہ آہستہ رو رہی تھی۔ وحید نے آہستہ آواز میں اُسے ڈانٹنے جیسے انداز میں کہا کہ ’’شش! چپ ہو جاؤ، ورنہ کوئی آجائے گا۔ آواز نہیں۔‘‘
سعدیہ نے رونے کی آواز دبانے کے لیے کھلے ہونٹوں کو بھینچ لیا مگر رونا جاری تھا۔ وحید نے ہاتھ کے زور سے اُس کی ٹانگیں کھولیں اور عضو کو عین اُس کی شرم گاہ کی لائن میں رکھ کر دھکا لگایا لیکن خشک ہونے کی وجہ سے مزا نہیں آ رہا تھا۔ وحید نے عضو پر تھوڑا تھوک لگا کر ٹانگیں کھولیں اور شرم گاہ کی لائن میں عضو رکھتے ہوئے دھکا لگایا تو وہ پھسلتا ہوا سعدیہ کی ٹانگوں میں سما گیا۔ وحید کو یوں لگا جیسے عضو سعدیہ کی شرم گاہ میں گھس گیا ہو۔ ٹانگوں کی گرم گرم آغوش اتنی مزیدار تھی کہ وہ سعدیہ کو خود سے لپٹا کر دھکے لگانے لگا۔ اُس کا عضو سعدیہ کی ٹانگوں کو رگڑتا ہوا اور شرم گاہ سے لگتا ہوا ٹانگوں میں اندر باہر ہونے لگا۔ اس کے ساتھ ہی سعدیہ نے پہلے سے بھی اونچی آواز میں رونا شروع کر دیا۔ وحید نے اُسے شش۔شش کہہ کر چپ کرانے اور اپنا دایاں ہاتھ اُس کے منہ پر رکھ بھی خاموش کرانے کی کوشش کی لیکن سعدیہ نے وحید کا ہاتھ جھٹک دیا اور روتی رہی بلکہ وحید کو پوری قوت سے دھکے دینے لگی۔
وحید کو محسوس ہو گیا کہ اب اسے کنٹرول کرنا مشکل ہے اس لیے وحید نے بھی اپنی گرفت ڈھیلی کر دی اور پیچھے ہٹ گیا۔ لیکن سعدیہ کو ہلکی آواز میں سمجھانے لگا۔ ’’اچھا۔ اچھا۔ میں پیچھے ہو گیا ہوں۔ بس ! اب تو چپ ہو جاؤ۔ پلیز۔‘‘ یہ کہہ کر وحید نے اپنی شلوار اوپر کر لی اور ازاربند باندھنے لگا۔ سعدیہ نے بھی اپنی شلوار جلدی سے اوپر کر لی اور کپڑے درست کرنے لگی۔ پھر وہ تیزی سے باہر جانے کو پلٹی۔ لیکن وحید کو حواس باختگی میں بھی عقل کی بات سجھائی دے گئی اور اُس نے سعدیہ کو پکڑ کر روکنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ رکو ایک منٹ۔ سعدیہ بدستور خاموش تھی۔ اُس نے غصے سے وحید سے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا۔ لیکن وحید فوراً بولنے لگا۔ ’’پلیز سمجھنے کی کوشش کرو۔ پہلے میں باہر جا کر دیکھتا ہوں کہ گلی میں کوئی ہے تو نہیں۔ ایسے تم یہاں سے باہر جاؤ گی اور اگر کسی نے دیکھ لیا تو بہت بُرا ہو گا۔‘‘ سعدیہ کو بھی بات سمجھ میں آ گئی۔ وہ غصے سے منہ ایک طرف موڑ کر کھڑی ہو گئی۔ وحید اُسے دیکھا اور پھر باہر چلا گیا۔ بڑی احتیاط سے اُس نے باہر جھانکا۔ گلی میں کوئی نہیں تھا۔ اُس نے قریب آ کر سعدیہ کو کہا کہ ’’نکل جاؤ جلدی سے۔ کوئی نہیں ہے۔‘‘ سعدیہ مڑ کر جانے لگی تو وحید نے ایک بار پھر اُس کا راستا روک کر اُس کے ہونٹوں کو چومنے کی کوشش کی لیکن سعدیہ نے نظریں جھکائے اور منہ پر غصہ سجائے ہوئے اُسے پیچھے دھکیل دیا اور جلدی سے باہر نکل گئی۔
گلی میں پہنچتے ہی سعدیہ کو فوراً اُس ڈر نے بھی آ لیا جو مکان میں داخل ہوتے ہوئے اُس کے دل میں پیدا ہوا تھا اور وحید کی حرکت پر آنے والا غصہ فوراً کہیں غائب ہو گیا۔ وہ احتیاط سے مڑ کر پیچھے اور ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے تیز تیز قدم اٹھاتی اپنے گھر کی جانب چلتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ گھر پہنچ کر اُسے سکھ کا سانس آیا۔ ماں نے اُس کے سپاٹ لہجے والے سلام کا جواب دے کر اُس کا تمتماتا ہوا چہرہ دیکھا تو پوچھا کہ خیریت ہے؟ کیا ہوا؟ اُس نے کہا ’’کچھ نہیں‘‘ اور کمرے میں داخل ہو کر بستہ اپنی جگہ پر رکھتے ہی واش روم میں گھس کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ لیکن اُس نے اس بات کا خیال رکھا کہ رونے کی آواز باہر کمرے تک نہ جائے اس لیے بنا آواز کے اُس کا رونا سسکیاں بنتا رہا۔ تمتماتے ہوئے سرخ گال گرم آنسوؤں سے بھیگتے رہے۔ دو چار منٹ وہ خالی ذہن سے صرف روتی رہی اور پھر آنسو پونچھ کر وہ شلوار اتار کر لیٹرین پر بیٹھی تو پچھلا واقعہ اُس کی آنکھوں کے سامنے آنے لگا اور پھر سے اشک اُس کی آنکھوں کے کنارے سے باہر چھلکنے لگے۔ اُس کی نگاہ کسی غیر مرئی نقطے پر مرکوز تھی اور وہ سوچ رہی تھی کہ آخر میرے ساتھ ہی کیوں؟ اُسے یاد آ رہا تھا کہ کیسے پچھلے دو ماہ سے وحید اُس کا پیچھا کر رہا تھا۔ راستے میں کئی دفعہ اُس نے سعدیہ کو بلا کر بات کرنے کی بھی کوشش کی تھی لیکن سعدیہ چپ چاپ چلتی رہتی اور اپنی رفتار تیز کر لیتی تھی۔ وحید لڑکی کو چھیڑنے کے جرم میں پکڑے جانے کے ڈر سے پیچھے رہ جاتا تھا۔ وہ اُس کے گھر سے دو تین گھر چھوڑ کر اُن کے ہمسایوں کا بیٹا تھا اور اکثر اپنی ماں کے ساتھ اُن کے گھر آتا جاتا تھا۔
سعدیہ کی عمر پندرھویں سال کو چھو رہی تھی اور وہ نہم جماعت میں ہو چکی تھی۔ وحید کے ساتھ کبھی کبھار اُس نے بات چیت کی تھی لیکن اُسے یہ نہیں پتا تھا کہ سترھویں سال میں قدم رکھتا وحید اُسے کس نظر سے دیکھ رہا تھا۔ وہ اُسے وحید بھائی کہہ کر ہی پکارتی تھی مگر پچھلے دو ماہ سے جس طرح وحید راستے میں اُس سے دل کی بات کہنے لگا تھا اور اُسے اکیلے میں ملنے کا کہنے لگا تھا،۔
یہ صبح کا منظر بھی قیامت سا حسیں ہے
 تکیہ ہے کہیں ____ زلف کہیں ___ خود وہ کہیں ہے

YUM Stories

Re: قسمت ۔۔۔رائیٹر عابد قازمی
« Reply #1 on: December 30, 2019, 10:00:09 pm »

Offline MANHIL

  • life for fun.
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1917
  • Reputation: +20/-50
  • آج کے دن کو آخری سمجھ کر جیو ۔
    • View Profile
    • Yumstories.com
Re: قسمت ۔۔۔رائیٹر عابد قازمی
« Reply #2 on: December 30, 2019, 10:01:27 pm »

اس بات نے سعدیہ کو پریشان کر دیا تھا اور وحید سے اُسے ڈر لگنے لگا تھا۔ اس سب کے باوجود اُس نے گھر کچھ نہیں بتایا تھا۔ اِسی کا نتیجہ تھا کہ آج وحید نے اتنی بڑی حرکت کر دی تھی۔
لیکن جب وحید اُسے کھینچ کر مکان کے اندر لے جا رہا تھا تو وہ کچھ بولی کیوں نہیں؟ اُس نے شور کیوں نہیں مچایا؟ اِن سوالوں کے جواب میں اُسے دو سال پہلے کا واقعہ یاد آنے لگا جب اُس کے ماموں مراد اُن کے گھر آئے ہوئے تھے۔ ماموں مراد اپنی بھانجی سے آٹھ سال بڑے تھے۔ ایک دن جب سعدیہ کی امّی کسی کام سے باہر گئی ہوئی تھیں تو ماموں نے ٹی وی دیکھتے ہوئے پاس لیٹی سعدیہ کے ساتھ جڑ کر اُس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرنا شروع کیا تھا۔ پھر وہ ہاتھ آہستہ آہستہ نیچے ہوتا ہوا سعدیہ کی شرم گاہ پر جا پہنچا تھا۔ سعدیہ عمر کے اُس حصے میں تھی جہاں کوئی بچی لڑکی میں تبدیل ہونے کے مراحل میں ہوتی ہے۔ اُسے پیٹ پر ماموں کا ہاتھ پھیرنا تو بہت اچھا لگ رہا تھا مگر وہاں ہاتھ لگنے پر ایک ناگوار سی الجھن ہونے لگی تھی جسے وہ ابھی سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ آخر اُس نے ماموں کے ہاتھ کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی اور جھنجھلائے ہوئے لہجے میں کہا: ’’ماموں نہ کریں۔‘‘ ماموں نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا اور کچھ دیر کنکھیوں سے سعدیہ کو دیکھتے رہے پھر کچھ سوچ کر وہ اٹھے اور سعدیہ سے کہا کہ ’’چلو آج میں تمھیں کچھ سکھاتا ہوں۔‘‘ ماموں سے سعدیہ کا بہت پیار تھا اس لیے وہ اُن سے بہت مانوس تھی۔ وہ بھول گئی کہ ابھی چند لمحوں پہلے کیا ہو رہا تھا۔ بلکہ بچکانہ معصومیت سے اُس نے خوش ہو کر پوچھا۔ ’’کیا؟‘‘ ماموں نے کہا کہ وہ اُسے بڑوں والا پیار کرنا سکھائیں گے۔ اور پھر ماموں نے اُسے سیدھا لیٹنے کو کہا۔ جب وہ سیدھی لیٹ گئی تو ماموں اُسے کے دونوں طرف گھٹنے رکھ کر اُس پر جھک گئے اور اُس کے چہرے کو ہاتھوں میں لے کر بولے کہ ایسے کرتے ہیں بڑے پیار۔ اور پھر اُس کے چہرے کو ہر جگہ سے چومنا شروع کیا۔ اس دوران اُن کا وجود سعدیہ کے بدن کے ساتھ جڑ چکا تھا اور اُسے کوئی سخت سی چیز اپنے نچلے بدن پر لگتی ہوئی محسوس ہونے لگی تھی جسے ماموں آہستہ آہستہ اُس کے بدن پر دبا رہے تھے۔ کمرے میں صرف ٹی وی کی روشنی تھی۔ دروازہ بند تھا اور کمرے میں اندھیرا تھا۔ اس دھیمی دھیمی روشنی میں ماموں سعدیہ کو بڑوں کی طرح پیار کرنا سکھا رہے تھے۔ ماموں نے سعدیہ کے چہرے کو چوم لیا تو مسکرا کر اُس کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا کہ ’’ہونٹوں کو چومنے کو کِس کرنا کہتے ہیں اور وہ بڑے اِس طرح کرتے ہیں۔ اپنے ہونٹ ذرا سے کھولو۔‘‘ سعدیہ نے ہونٹ کھولے تو ماموں نے اُس کا اوپر کا ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لے کر چوسنا شروع کیا۔ سعدیہ کے بدن میں عجیب سی بے چینی پیدا ہوئی۔ تھوڑی سی دیر بعد ہی اُس نے کسمساتے ہوئے ماموں کو پیچھے کرنا چاہا تو ماموں نے ہونٹ ہٹا کر اُسے کہا کہ ’’میری پیاری سی گڑیا! تھوڑی دیر صبر کرو۔ یہ جو تم سیکھ رہی ہو یہ بڑے ہو کر تمھارے بہت کام آئے گا۔ بڑوں والا پیار کرتے ہوئے جسم میں تھوڑی بے چینی سی ہوتی ہے۔ ہو رہی ہے نا!‘‘ سعدیہ نے اثبات میں سر ہلایا۔ ماموں نے کہا: ’’ہاں! بس اُس بے چینی کو کنٹرول کرنا تب تم ٹھیک طرح سے سیکھ سکو گی ورنہ کچھ بھی نہیں سیکھو گی۔ چلو اب وعدہ کرو کہ چپ کر کے لیٹی رہو گی اور جو میں کروں گا اور بتاؤں گا اُس پر شور نہیں مچاؤ گی بلکہ جو مَیں کہوں وہ کرو گی۔ بولو!‘‘ سعدیہ نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے بے دلی سے ہاں کہہ دیا۔ بڑوں کے ادب کے تحت وہ ناگواری محسوس کرتے ہوئے بھی انھیں انکار نہیں کر سکی۔ ماموں نے اُس کے گال کو چومتے ہوئے کہا۔ ’’شاباش۔ چلو اب ہونٹ کھولو!‘‘ اُس نے پھر سے ہونٹ کھولے اور ماموں انھیں باری باری چوسنے لگے۔ اُس کے بعد وہ اُس کی گردن کو چومنے لگے۔ پھر اُس کے سینے کو اور پیٹ کو چومتے ہوئے نیچے جانے لگے۔ پیٹ تک چوم کر ماموں نے سعدیہ کو حکم دیا کہ چلو اب اٹھو۔ سعدیہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔ ماموں نے کہا کہ ہاتھ اوپر اٹھاؤ۔ سعدیہ نے ہاتھ اوپر اٹھائے۔ ماموں نے اُس کی قمیص اتار دی۔ سعدیہ نے روکنے کی کوشش کی لیکن ماموں نے اُسے سمجھایا کہ قمیص اتار کر چومیں تو زیادہ مزا آتا ہے۔

یہ صبح کا منظر بھی قیامت سا حسیں ہے
 تکیہ ہے کہیں ____ زلف کہیں ___ خود وہ کہیں ہے

Offline MANHIL

  • life for fun.
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1917
  • Reputation: +20/-50
  • آج کے دن کو آخری سمجھ کر جیو ۔
    • View Profile
    • Yumstories.com
Re: قسمت ۔۔۔رائیٹر عابد قازمی
« Reply #3 on: December 30, 2019, 10:03:10 pm »

وہ اگرچہ بچی تھی مگر اتنی بھی ناسمجھ نہیں تھی۔ اُسے محسوس ہو رہا تھا کہ ماموں اُس کے ساتھ وہ کام کر رہے ہیں جو لوگوں کے سامنے نہیں کیا جاتا۔ کئی فلموں میں اُس نے پیار کرنے کے سِین دیکھے تھے اور اب اُسے سمجھ میں آنے لگ پڑا تھا کہ ماموں بھی اُس کے ساتھ وہی کچھ کر رہے ہیں جو فلموں میں ہیرو ہیروئن کے ساتھ کرتا ہے۔ اُس کے جسم کو چومتا ہے۔ اُسے بازوؤں میں لے لیتا ہے وغیرہ۔ ان سینز پر اُسے بھی کچھ کچھ ہوتا تھا مگر اُسے یہ نہیں پتا تھا کہ ماموں اُس کے ساتھ ایک دن یہ سب کریں گے۔ اب جب وہ کر رہے تھے تو الجھن کے ساتھ ساتھ اُسے ہلکا ہلکا مزا بھی آ رہا تھا۔ اسی لیے اُس نے قمیص اتروانے پر ماموں کو روکا نہیں بلکہ اُسے تجسس پیدا ہونے لگ پڑا تھا کہ آگے کیا ہوگا؟ ماموں نے جب اُس کو لِٹا کر اُس کے ننگے سینے کو چومنا شروع کیا تو ایک عجیب سی گدگدی کے ساتھ اُسے مزا بھی آنے لگا۔ وہ مسکراتے ہوئے وقفے وقفے سے اُس کے بدن کو چھوتے ہوئے ماموں کے ہونٹوں کے لمس پر جھرجھریاں لینے لگی۔ پیٹ سے کمر کی طرف ماموں چومتے ہوئے گئے تو وہ ہنسنے لگی۔ ماموں نے رُک کر پوچھا کہ کیا ہوا؟ تو اُس نے آنکھیں بند رکھتے ہوئے کہا کہ گدگدی ہو رہی ہے۔ اُسے تب احساس ہوا کہ اُس کی آنکھیں خود بخود بند ہو گئی تھیں۔ تب اُس نے ذرا سی آنکھیں کھول کر ماموں کو دیکھنے کی کوشش کی۔ وہ اُس کے پیٹ کو چوم رہے تھے اور چاٹ بھی رہے تھے اور نیچے بڑھتے جا رہے تھے۔سعدیہ کا سر تکیے پر تھا اس لیے اُسے ماموں کا سر نظر آ رہا تھا۔ پھر اُس کے ماموں نے اُس کی شلوار کو دونوں طرف سے پکڑا اور کھینچ کر گھٹنوں تک اتار دیا۔ وہ اس اچانک حرکت پر گھبرا گئی اور جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔ ماموں اُس کی طرف متوجِہ ہوئے اور کہا۔ لیٹ جاؤ لیٹ جاؤ۔ کچھ نہیں ہوا۔ جب بڑے پیار کرتے ہیں تو سارے کپڑے اتار کر کرتے ہیں۔ لیٹ جاؤ شاباش!‘‘ انھوںنے سعدیہ کو کچھ اس انداز سے پچکار کر کہا کہ وہ آنکھیں بند کرتے ہوئے لیٹ گئی کیوں کہ اب اُسے واقعی شرم آ رہی تھی۔ بچپن سے اُسے سمجھایا گیا تھا کہ کسی کے سامنے شلوار نہیں اتارتے۔ پیٹ پر سے بھی قمیص نہیں اٹھاتے۔ شیم شیم ہوتی ہے۔ لیکن ماموں نے تو اُس کی شلوار اپنے سامنے اتار دی تھی۔ پھر اُسے اور زیادہ شرم آنے لگی جب ماموں نے اُس کی شلوار پاؤں سے نکال کر اُسے مکمل ننگی کر دیا۔ اُس نے ایک بازو اپنی آنکھوں پر رکھ لیا۔ یہ شاید اس لیے تھا کہ اس طرح وہ ماموں کی آنکھوں سے چھپ گئی ہے مگر یہ فعل اس کبوتر کی طرح تھا جو بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ بازو آنکھوں پر رکھ لینے سے ٹی وی کی جو ہلکی روشنی اُس کی آنکھوں کو محسوس ہو رہی تھی وہ بھی ختم ہو گئی اور آنکھوں کو مکمل اندھیرا محسوس ہونے لگا تھا اس لیے اُس کے دل کو کچھ تسلی محسوس ہو رہی تھی کہ وہ بالکل اندھیرے میں ہے اور ماموں اُسے نہیں دیکھ رہے۔ لیکن وہ کانپ سی گئی جب ماموں نے سیدھا اُس کی شرم گاہ پر اپنا ہاتھ رکھ کر سہلانا شروع کیا۔ سعدیہ نے دوسرے ہاتھ سے ماموں کے ہاتھ کو ہٹانے کی کوشش کی لیکن ماموں کی آواز اُسے کہیں دور سے آتی محسوس ہوئی۔ ’’کچھ نہیں ہوتا چھونے! آرام سے لیٹی رہو۔‘‘ پھر ماموں نے اُس کی ٹانگوں کو کھول دیا جنھیں وہ جوڑ کر لیٹی ہوئی تھی اور تھوڑی دیر نجانے کیا کرتے رہے۔ اُس نے بازو بہت آہستگی سے اوپر کر کے آنکھیں ذرا سی کھول کر دیکھا تو ماموں اُس کے سامنے پلنگ پر کھڑے ہوئے تھے اور بنیان اتار رہے تھے۔ اُن کا عضو سیدھا آگے کو تنا ہوا ہوا میں لہرا رہا تھا۔ اُس نے جلدی سے آنکھیں بند کر لیں اور اُسے کچھ ڈر لگنے لگا کہ ماموں یہ کیا کر رہے ہیں؟
کچھ دیر بعد اُسے ماموں کے ہونٹ اپنی ٹانگوں کو چومتے ہوئے محسوس ہوئے۔ اُسے اپنی رانوں پر ماموں کے ہونٹوں سے گدگدی ہو رہی تھی اس لیے وہ بار بار کانپ رہی تھی۔ پھر ماموں اُس کی پنڈلیوں کو چومتے ہوئے پاؤں تک پہنچے اور پاؤں کو بھی ہر جگہ سے چوم کر انگلیوں اور انگوٹھے کو چوسنے لگے۔ سعدیہ کے اندر کئی طرح کے جذبات ایک ساتھ اکٹھے ہو گئے تھے۔ اُس کے دل میں ڈر بھی تھا۔ شرم آنے کی وجہ سے ناگواری بھی تھی۔ ایک بے نام سی الجھن بھی تھی اور دل کے کسی کونے میں اس نئے فعل کو لے کر تجسس والا مزا بھی تھا۔ اُس نے یہ سب فلموں میں نہیں دیکھا تھا۔ یہ اُس سب سے بہت آگے کا کام تھا۔ اپنی سہیلیوں سے اُس نے یہ سن رکھا تھا کہ مرد عورت ننگے ہو کر گندا کام کرتے ہیں تو بچہ پیدا ہوتا ہے۔ مگر اُسے یہ نہیں پتا تھا کہ گندا کام کیسے ہوتا ہے اور یہ سب کرتے ہوئے جسم میں کیسی کیسی بے چینی پیداہوتی ہے۔ کیا کیا محسوس ہوتا ہے۔ یہ سب تو آج اُسے پہلی بار پتا چل رہا تھا کہ ایسا کرنے سے جسم میں کیسی کھلبلی مچ جاتی ہے۔

یہ صبح کا منظر بھی قیامت سا حسیں ہے
 تکیہ ہے کہیں ____ زلف کہیں ___ خود وہ کہیں ہے

Offline MANHIL

  • life for fun.
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1917
  • Reputation: +20/-50
  • آج کے دن کو آخری سمجھ کر جیو ۔
    • View Profile
    • Yumstories.com
Re: قسمت ۔۔۔رائیٹر عابد قازمی
« Reply #4 on: December 30, 2019, 10:03:38 pm »

وہ اگرچہ بچی تھی مگر اتنی بھی ناسمجھ نہیں تھی۔ اُسے محسوس ہو رہا تھا کہ ماموں اُس کے ساتھ وہ کام کر رہے ہیں جو لوگوں کے سامنے نہیں کیا جاتا۔ کئی فلموں میں اُس نے پیار کرنے کے سِین دیکھے تھے اور اب اُسے سمجھ میں آنے لگ پڑا تھا کہ ماموں بھی اُس کے ساتھ وہی کچھ کر رہے ہیں جو فلموں میں ہیرو ہیروئن کے ساتھ کرتا ہے۔ اُس کے جسم کو چومتا ہے۔ اُسے بازوؤں میں لے لیتا ہے وغیرہ۔ ان سینز پر اُسے بھی کچھ کچھ ہوتا تھا مگر اُسے یہ نہیں پتا تھا کہ ماموں اُس کے ساتھ ایک دن یہ سب کریں گے۔ اب جب وہ کر رہے تھے تو الجھن کے ساتھ ساتھ اُسے ہلکا ہلکا مزا بھی آ رہا تھا۔ اسی لیے اُس نے قمیص اتروانے پر ماموں کو روکا نہیں بلکہ اُسے تجسس پیدا ہونے لگ پڑا تھا کہ آگے کیا ہوگا؟ ماموں نے جب اُس کو لِٹا کر اُس کے ننگے سینے کو چومنا شروع کیا تو ایک عجیب سی گدگدی کے ساتھ اُسے مزا بھی آنے لگا۔ وہ مسکراتے ہوئے وقفے وقفے سے اُس کے بدن کو چھوتے ہوئے ماموں کے ہونٹوں کے لمس پر جھرجھریاں لینے لگی۔ پیٹ سے کمر کی طرف ماموں چومتے ہوئے گئے تو وہ ہنسنے لگی۔ ماموں نے رُک کر پوچھا کہ کیا ہوا؟ تو اُس نے آنکھیں بند رکھتے ہوئے کہا کہ گدگدی ہو رہی ہے۔ اُسے تب احساس ہوا کہ اُس کی آنکھیں خود بخود بند ہو گئی تھیں۔ تب اُس نے ذرا سی آنکھیں کھول کر ماموں کو دیکھنے کی کوشش کی۔ وہ اُس کے پیٹ کو چوم رہے تھے اور چاٹ بھی رہے تھے اور نیچے بڑھتے جا رہے تھے۔سعدیہ کا سر تکیے پر تھا اس لیے اُسے ماموں کا سر نظر آ رہا تھا۔ پھر اُس کے ماموں نے اُس کی شلوار کو دونوں طرف سے پکڑا اور کھینچ کر گھٹنوں تک اتار دیا۔ وہ اس اچانک حرکت پر گھبرا گئی اور جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔ ماموں اُس کی طرف متوجِہ ہوئے اور کہا۔ لیٹ جاؤ لیٹ جاؤ۔ کچھ نہیں ہوا۔ جب بڑے پیار کرتے ہیں تو سارے کپڑے اتار کر کرتے ہیں۔ لیٹ جاؤ شاباش!‘‘ انھوںنے سعدیہ کو کچھ اس انداز سے پچکار کر کہا کہ وہ آنکھیں بند کرتے ہوئے لیٹ گئی کیوں کہ اب اُسے واقعی شرم آ رہی تھی۔ بچپن سے اُسے سمجھایا گیا تھا کہ کسی کے سامنے شلوار نہیں اتارتے۔ پیٹ پر سے بھی قمیص نہیں اٹھاتے۔ شیم شیم ہوتی ہے۔ لیکن ماموں نے تو اُس کی شلوار اپنے سامنے اتار دی تھی۔ پھر اُسے اور زیادہ شرم آنے لگی جب ماموں نے اُس کی شلوار پاؤں سے نکال کر اُسے مکمل ننگی کر دیا۔ اُس نے ایک بازو اپنی آنکھوں پر رکھ لیا۔ یہ شاید اس لیے تھا کہ اس طرح وہ ماموں کی آنکھوں سے چھپ گئی ہے مگر یہ فعل اس کبوتر کی طرح تھا جو بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ بازو آنکھوں پر رکھ لینے سے ٹی وی کی جو ہلکی روشنی اُس کی آنکھوں کو محسوس ہو رہی تھی وہ بھی ختم ہو گئی اور آنکھوں کو مکمل اندھیرا محسوس ہونے لگا تھا اس لیے اُس کے دل کو کچھ تسلی محسوس ہو رہی تھی کہ وہ بالکل اندھیرے میں ہے اور ماموں اُسے نہیں دیکھ رہے۔ لیکن وہ کانپ سی گئی جب ماموں نے سیدھا اُس کی شرم گاہ پر اپنا ہاتھ رکھ کر سہلانا شروع کیا۔ سعدیہ نے دوسرے ہاتھ سے ماموں کے ہاتھ کو ہٹانے کی کوشش کی لیکن ماموں کی آواز اُسے کہیں دور سے آتی محسوس ہوئی۔ ’’کچھ نہیں ہوتا چھونے! آرام سے لیٹی رہو۔‘‘ پھر ماموں نے اُس کی ٹانگوں کو کھول دیا جنھیں وہ جوڑ کر لیٹی ہوئی تھی اور تھوڑی دیر نجانے کیا کرتے رہے۔ اُس نے بازو بہت آہستگی سے اوپر کر کے آنکھیں ذرا سی کھول کر دیکھا تو ماموں اُس کے سامنے پلنگ پر کھڑے ہوئے تھے اور بنیان اتار رہے تھے۔ اُن کا عضو سیدھا آگے کو تنا ہوا ہوا میں لہرا رہا تھا۔ اُس نے جلدی سے آنکھیں بند کر لیں اور اُسے کچھ ڈر لگنے لگا کہ ماموں یہ کیا کر رہے ہیں؟
کچھ دیر بعد اُسے ماموں کے ہونٹ اپنی ٹانگوں کو چومتے ہوئے محسوس ہوئے۔ اُسے اپنی رانوں پر ماموں کے ہونٹوں سے گدگدی ہو رہی تھی اس لیے وہ بار بار کانپ رہی تھی۔ پھر ماموں اُس کی پنڈلیوں کو چومتے ہوئے پاؤں تک پہنچے اور پاؤں کو بھی ہر جگہ سے چوم کر انگلیوں اور انگوٹھے کو چوسنے لگے۔ سعدیہ کے اندر کئی طرح کے جذبات ایک ساتھ اکٹھے ہو گئے تھے۔ اُس کے دل میں ڈر بھی تھا۔ شرم آنے کی وجہ سے ناگواری بھی تھی۔ ایک بے نام سی الجھن بھی تھی اور دل کے کسی کونے میں اس نئے فعل کو لے کر تجسس والا مزا بھی تھا۔ اُس نے یہ سب فلموں میں نہیں دیکھا تھا۔ یہ اُس سب سے بہت آگے کا کام تھا۔ اپنی سہیلیوں سے اُس نے یہ سن رکھا تھا کہ مرد عورت ننگے ہو کر گندا کام کرتے ہیں تو بچہ پیدا ہوتا ہے۔ مگر اُسے یہ نہیں پتا تھا کہ گندا کام کیسے ہوتا ہے اور یہ سب کرتے ہوئے جسم میں کیسی کیسی بے چینی پیداہوتی ہے۔ کیا کیا محسوس ہوتا ہے۔ یہ سب تو آج اُسے پہلی بار پتا چل رہا تھا کہ ایسا کرنے سے جسم میں کیسی کھلبلی مچ جاتی ہے۔

یہ صبح کا منظر بھی قیامت سا حسیں ہے
 تکیہ ہے کہیں ____ زلف کہیں ___ خود وہ کہیں ہے

Offline MANHIL

  • life for fun.
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1917
  • Reputation: +20/-50
  • آج کے دن کو آخری سمجھ کر جیو ۔
    • View Profile
    • Yumstories.com
Re: قسمت ۔۔۔رائیٹر عابد قازمی
« Reply #5 on: December 30, 2019, 10:05:29 pm »

پاؤں چومنے اور چوسنے کے بعد ماموں اُس کے اوپر لیٹ گئے اور اُسے اپنی شرم گاہ پر اُن کا عضو محسوس ہوا تو وہ لرز گئی۔ ایک سنسنی اور ایک ڈر....... بہ یک وقت اُس کے بدن میں دوڑتا چلا گیا۔ اُس نے سہیلیوں سے سنا تھا کہ مرد اپنا ’’وہ‘‘ عورت کی پیشاب والی جگہ کے اندر ڈال دیتا ہے اور بڑا درد ہوتا ہے۔ اس لیے اُسے جہاں عضو کے اپنی شرم گاہ پر لگنے سے مزا آ رہا تھا وہیں ڈر بھی لگ رہا تھا کہ ماموں اُسے اندر ہی نہ ڈال دیں۔ لیکن ایسا کچھ نہ ہوا بلکہ ماموں نے سعدیہ کی ٹانگوں کو اٹھا کر اپنے کاندھوں پر رکھ لیا اور اُن کا عضو اُس کی شرم گاہ پر آگے پیچھے ہونے لگا۔ سعدیہ کی حالت عجیب تھی۔ اُسے پتا چل گیا تھا کہ ماموں اُس کے ساتھ گندا کام کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے اُسے ماموں پر غصہ آنے لگا تھا۔ ڈر بھی لگ رہا تھا کہ اب اُسے بہت درد ہو گا۔ اور ساتھ ہی اُس پہلے پہلے لمس کا مزا بھی کہیں ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ وہ بالکل خاموشی سے بازو آنکھوں پر رکھے لیٹی تھی کہ ماموں نے اُس کا بازو آنکھوں سے ہٹا کر اپنے ہاتھوں سے اُس کے دونوں بازوؤں کو پکڑ لیا اور سرگوشی میں اُس کے چہرے کے پاس منہ کر کے بولے: ’’آنکھیں کھولو سعدیہ!‘‘ اُس نے ڈرتے ڈرتے تھوڑی سی آنکھیں کھولیں۔ ماموں کا چہرہ اُس کے بالکل سامنے تھا اور اُن کا عضو بدستور اُس کی شرم گاہ پر آگے پیچھے ہو رہا تھا۔ وہ بولے: ’’مزا آ رہا ہے؟‘‘ سعدیہ نے کوئی جواب نہیں دیا اور آنکھیں جلدی سے بند کر لیں۔ ماموں کی سپیڈ تیز ہو گئی تھی۔ پھر ماموں تیز آہوں کے ساتھ اچانک بھاگ کر اٹیچ واش روم میں گھس گئے۔ وہ ننگی وہیں لیٹی رہی۔ دو منٹ ایسے ہی گزر گئے۔ اُس نے آنکھیں کھول کر دیکھا۔ ماموں واش روم ہی میں تھے۔ ٹی وی بدستور چل رہا تھا۔ اُس نے پوری آنکھیں کھول دیں اور پھر اپنے جسم پر نظر ڈالی۔ کمرے میں پورے کپڑے اتار کر لیٹی ہوئی ہونے پر اُسے شرم محسوس ہوئی مگر اُسی وقت واش روم کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی تو سعدیہ نے جلدی سے اپنی آنکھیں بند کر کے ٹانگیں آپس میں جوڑتے ہوئے ایک ہاتھ سے شرم گاہ چھپا لی اور ایک بازو آنکھوں پر رکھ لیا۔
ماموں تھوڑی دیر بعد بیڈ پر آگئے اور اُس کے ساتھ لیٹ کر اُس کے چہرے کو چوما۔ پھر اُسے نارمل انداز میں آواز دی۔ دو تین بار آواز دینے پر اُس نے ہلکا سا جی کہا۔ اُسے ابھی تک شرم آ رہی تھی کیوں کہ وہ بالکل ننگی تھی۔ ماموں نے اُس کی آنکھوں سے بازو ہٹایا اور پھر اُسے کھینچ کر بیڈ کی ٹیک کےساتھ ٹیک لگا کر بٹھا دیا۔ اُس نے آنکھیں بند ہی رکھیں۔ ماموں نے اُس کا منہ اپنی طرف گھمایا اور ہونٹ چوم کر ہنستے ہوئے اُسے کہا: ’’ارے گڑیا! کیا ہوا؟ آنکھیں تو کھولو۔‘‘ سعدیہ نے آنکھیں کھولیں مگر منہ نیچے کر لیا۔ اس دوران اُس کی نظر ماموں کی ٹانگوں کی طرف گئی تو وہاں اُن کے موٹے عضو کی ایک جھلک اُسے نظر آ گئی۔ ماموں اُسے دھیرے دھیرے بتانے لگے کہ اس طرح مرد اور عورت آپس میں کپڑے اتار کر ملتے ہیں۔ پیار کرتے ہیں تو بچہ پیدا ہوتا ہے۔ ’’اور بچہ پتا ہے کیسے پیدا ہوتا ہے؟‘‘ ماموں نے اُس کا ہاتھ دباتے ہوئے پوچھا۔ وہ خاموش رہی۔ پھر ماموں اُس کی طرف گھوم گئے۔ اُن کا عضو اُس کے ہاتھ کے قریب تھا۔ ماموں نے اُس کا ہاتھ اپنے عضو پر رکھا اور کہا کہ آنکھیں کھول کر میری بات پوری طرح سنو۔ ورنہ تمھیں سمجھ نہیں آئے گی۔ یہ بڑے کام کی باتیں ہیں۔ بعد میں تمھیں مسئلہ نہیں بنے گا بڑے ہو کر۔ اُس نے ہاتھ کھینچنے کی کوشش کی تو ماموں نے ذرا سختی سے کہا۔ ’’تمھیں کہہ رہا ہوں نا کہ کچھ نہیں ہوتا۔ چپ کر کے دھیان سے میری باتیں سنو۔ اور جو سمجھا رہا ہوں وہ سمجھتی جاؤ۔ بڑوں کا کام ہوتا ہے چھوٹوں کو سمجھانا۔ انھیں برے بھلے سے آگاہ کرنا۔ اور تم ہو کہ ایسے کر رہی ہو۔‘‘ ماموں کے اس سخت لہجے پر وہ ڈر گئی اور آنکھیں پوری طرح کھول دیں۔ مگر شرم ابھی بھی موجود تھی اس لیے اس نے چہرہ نیچے ہی رکھا۔
ماموںنے اپنا ہلکا ہلکا گیلا عضو اُس کے ہاتھ میں پکڑایا اور کہا: ’’جب مرد اپنا یہ عورت کے اس جگہ ڈالتا ہے۔‘‘ ایسا کہتے ہوئے انھوں نے سعدیہ کی شرم گاہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ اُس نے ٹانگیں جوڑنے کی کوشش کی لیکن ماموں نے ’’ ٹانگیں کھولو نا۔‘‘ کہتے ہوئے اپنے ہاتھ سے اُس کی رانوں میں جگہ بنانے کی کوشش کی تو اُس نے بھی شرماتے ہوئے ٹانگیں کھول دیں۔ ماموں نے اُس کی شرم گاہ کے سوراخ میں انگلی رکھتے ہوئے کہا۔ ’’یہاں ڈالتے ہیں اِسے۔‘‘ پھر وہ اُس جگہ کو آہستہ آہستہ سہلانے لگے۔ سعدیہ کو کچھ کچھ ہونے لگا۔ ماموں نے اُسے بتایا کہ جب مرد اِس پر ہاتھ پھیرتا ہے تو عورت کو بہت مزا آتا ہے اور جب عورت مرد کے ’’اِس‘‘ کو ہِلاتی ہے تو مرد کو بہت مزا آتا ہے۔ مرد کے ’’اِس‘‘ کو ’’لن‘‘ کہتے ہیں اور پھر سعدیہ کی شرم گاہ میں انگلی کا دباؤ ڈالتے ہوئے بولے کہ عورت کی اس جگہ کو ’’پھدی‘‘ کہتے ہے ۔
یہ صبح کا منظر بھی قیامت سا حسیں ہے
 تکیہ ہے کہیں ____ زلف کہیں ___ خود وہ کہیں ہے

Offline MANHIL

  • life for fun.
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1917
  • Reputation: +20/-50
  • آج کے دن کو آخری سمجھ کر جیو ۔
    • View Profile
    • Yumstories.com
Re: قسمت ۔۔۔رائیٹر عابد قازمی
« Reply #6 on: December 30, 2019, 10:06:46 pm »

ایسا کہتے ہوئے ماموں کا لہجہ گھمبیر ہو گیا تھا۔ سعدیہ کو یہ بہت بعد میں پتا چلا کہ یہ بتاتے ہوئے ماموں دوبارہ گرم ہو چکے تھے۔ ماموں کا نرم ’’لن‘‘ سعدیہ کے ہاتھ میں بہت سخت ہو گیا تھا جیسے وہ اُس وقت تھا جب وہ اُس کی ’’پھدی‘‘ پر اُسے آگے پیچھے کر رہے تھے۔ اسی لیے ماموں نے اپنے ہاتھ سے چھڑوایا اور سعدیہ کی ٹانگوں کے درمیان میں آ گئے۔ پھر اُس کی ٹانگوں کو کھولتے ہوئے کہنے لگے: ’’میری طرف دیکھو سعدیہ!‘‘ غالباً انھیں بھی محسوس ہو گیا تھا کہ اُن کی بھانجی انھیں اب منع نہیں کر رہی ہے اور بڑا ہونے کی وجہ سے اُن کے احترام میں کچھ نہیںبولے گی بلکہ جو بھی وہ حکمیہ انداز میں کہیں گے، اُسے مان لے گی۔ اسی لیے اب وہ اُس سے اپنی ہر بات منوا رہے تھے۔ سعدیہ نے جھجکتے ہوئے اُن کی طرف دیکھا۔ ماموں نے اُس کی ٹانگوں کو کھول کر اپنا لن اُس کی پھدی کے پاس کرتے ہوئے بتایا کہ ’’ایسے ٹانگیں اٹھا کر مرد اپنا لن عورت کی پھدی میں اندر ڈالتا ہے۔ پتاہے کیوں؟‘‘ پھر اُس کی طرف دیکھ کر دوبارہ گویا ہوئے: ’’اس لیے کہ ٹانگیں اٹھانے سے اور کندھوں پر رکھنے سے پھدی صحیح طرح کھل جاتی ہے اور لن ڈالنے میں آسانی ہوتی ہے۔‘‘
ماموں نے بھی اب اشاروں والی گفتگو، یعنی مرد کا یہ اور عورت کی یہ، کے بجائے بے باک ہوتے ہوئے نام لے کر سمجھانا شروع کر دیا تھا۔ یقیناً انھیں نام لے کر زیادہ مزا محسوس ہو رہا تھا جسے سعدیہ آنے والے سالوں میں صحیح طرح سمجھ سکی تھی۔ پھر ماموں نے کہا: ’’لیکن لن کو پھدی میں ڈالنے سے پہلے اِسے تھوک لگا کر گیلا کرنا پڑتا ہے تاکہ یہ عورت کی پھدی میں آرام سے جائے اور عورت کو زیادہ درد نہ ہو۔ اور تھوک لگانے کے لیے عورت اِسے اپنے منہ میں ڈالتی ہے۔ پھر اِسے چوس کر اِس پر اچھی طرح تھوک لگاتی ہے تو یہ آرام سے اندر چلا جاتا ہے۔ درد نہیں ہوتا۔ چلو اب تم بھی اِسے چوس کر گیلا کر لو تاکہ تمھیں بھی درد نہ ہو۔‘‘ یہ کہہ کر ماموں اٹھ کر آگے آئے اور سعدیہ کو اُن کا موٹا لن اپنے منہ کے قریب ہوتا نظر آیا تو اُس نے اُس لن سے بچنے کے لیے ہاتھ اٹھا کر آگے کیا اور منہ ایک طرف موڑتےہوئے آنکھیں بند کر لیں۔
ماموںنے اُسے پچکارتے ہوئے کہا: ’’گڑیا! چلو شاباش! منہ کھولو۔ ورنہ تمھیں درد ہوگا نا!‘‘ لیکن سعدیہ نے منہ سیدھا نہیں کیا۔ ماموں کچھ دیر خاموش رہے اور پھر کہنے لگے۔ ’’اچھا تمھیں دکھاتا ہوں کہ تھوک لگائے بغیر کیاہوتا ہے۔‘‘ اور پھر اُس کی ٹانگیں اٹھا کر اُس کی ننھی سی پھدی کے سوراخ میں لن کا ٹوپا رکھ کر جب دھکا لگایا تو سعدیہ کے بدن میں درد کی تیز لہر پھیل گئی اور وہ آہ کرتے ہوئے چیخ اٹھی۔ ماموں کو تو پتا تھا کہ بھانجی کی پھدی میں ابھی لن نہیں جا سکتا۔ وہ کچی کلی ہے۔ لیکن وہ سعدیہ سے اپنا لن چُسوانا چاہ رہے تھے اور اسی لیے انھوںنے بات بنائی تھی۔ جب سعدیہ کو درد ہوا تو ماموں نے لن ہٹا لیا اور کہا: ’’میں نے کہا تھا نا کہ سوکھا لن اندر نہیں جائے گا۔ اس لیے ضد نہ کرو۔ اِسے گیلا کردو۔ تھوک سے یہ زیادہ ملائم ہو جاتا ہے۔ اور آرام سے چلا جاتا ہے۔‘‘ وہ پھر سے اُس کے منہ کے پاس اپنا لن لے آئے۔ تب سعدیہ آہستہ سے بولی: ’’میں نہیں۔ گندا ہوتا ہے۔‘‘ ماموں نے یہ سنا تو اُسے پچکارتے ہوئے بولے: ’’نہیں گڑیا! بالکل گندا نہیں ہوتا۔ وہ تو جب پیشاب کرتے ہیں تو وہ پیشاب گندا ہوتا ہے۔ یہ تو باہر سے صاف ہوتا ہے بالکل۔ اچھا میں اِسے دھو کر لاتا ہوں۔ پھر چوس لینا۔ ٹھیک ہے؟‘‘ یہ کہہ کر وہ جلدی سے واش روم گئے اور تھوڑی دیر بعد واپس آ گئے۔ سعدیہ وہیں نظریں نیچی کیے ایک ہاتھ شرم گاہ پر رکھ کر بیٹھی رہی۔ ماموں آکر اُس کے سامنے کھڑے ہوئے اور کہا: ’’چلو شاباش! دیکھو اب میں نے اسے اچھی طرح دھو لیا ہے۔ چلو منہ کھولو!‘‘ سعدیہ نے بڑی بے دلی سے جھجکتے ہوئے منہ کھولا کیوں کہ وہ خود نہیں چاہ رہی تھی کہ اُس کی پھدی میں دوبارہ سے درد ہو۔ اس لیے وہ بادلِ ناخواستہ ماموں کا لن چوسنے کے لیے راضی ہو گئی تھی۔ ماموں نے اُس کے ہونٹوں پر ٹوپا رکھ کر آگے کیا لیکن سعدیہ کے ہونٹ پورے نہیں کھلے ہوئے تھے اس لیے اندر نہیں گیا۔ ماموں نے اُسے پورا منہ کھولنے کا کہا۔ پورا منہ کھلنے پر سعدیہ کے منہ میں لن کا ٹوپا داخل ہو گیا۔ وہ ابھی چھوٹی تھی اور یہ اُس کا پہلا پہلا تجربہ تھا اس لیے ماموں نے زور لگایا تو ٹوپے سے کچھ آگے تک اُس کے منہ میں گھس سکا۔ جب اُسے لگا کہ منہ میں اور اندر نہیں جائے گا بلکہ ماموں بے سود زور لگا رہے ہیں تو اُس نے منہ کو تھوڑا گھمانے کی کوشش کرتے ہوئے لن کو پکڑ کر نکالنے کی کوشش کی۔ ماموں کو بھی احساس ہو گیا کہ وہ زیادتی کر رہے ہیں۔ اس لیے انھوں نے اُسے منہ گھمانے سے روکا اور کہا کہ ’’اچھا اور اندر نہیں ڈالتا۔ بس اِسے ہی چُوسو۔‘‘
سعدیہ نے ٹوپے پر زبان پھیری تو اُسے پھیکا پھیکا ذائقہ عجیب سا لگا۔
یہ صبح کا منظر بھی قیامت سا حسیں ہے
 تکیہ ہے کہیں ____ زلف کہیں ___ خود وہ کہیں ہے

Offline MANHIL

  • life for fun.
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1917
  • Reputation: +20/-50
  • آج کے دن کو آخری سمجھ کر جیو ۔
    • View Profile
    • Yumstories.com
Re: قسمت ۔۔۔رائیٹر عابد قازمی
« Reply #7 on: December 30, 2019, 10:08:52 pm »

ماموں نے تیز آہ بھرتے ہوئے حکم دیا: ’’ چوسو اِسے۔‘‘ وہ اتنے موٹے ٹوپے کو چوسنے کی کوشش کرنے لگی۔ مگر وہ اُس طرح نہیں چوسا جا رہا تھا جیسے وہ قلفی یا لولی پوپ چوسا کرتی تھی۔ اس لیے وہ محض اُس پر زبان پھیرنے لگی اور پھر زبان نیچے ٹکا کر اُسے تھوڑا تھوڑا چوسنا آ گیا۔ ساتھ ہی ماموں نے اُس کا ایک ہاتھ لن کے پچھلے حصے پر رکھ کر کہا: ’’ اِسے بھی ہلاؤ آگے پیچھے۔‘‘ وہ اناڑی پن سے اُسے ہِلانے لگی۔ سعدیہ کو وہ ملائم ملائم پھیکا ٹوپا عجیب سا لگ رہا تھا اور اُسے چوسنا بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ مگر ماموں کے حکم کے مطابق اور اپنی پھدی میں ہونے والے درد سے بچنے کے وہ اُسے چُوسے جا رہی تھی۔ ماموں جذبات سے مغلوب ہو کر آہ آہ کرنے لگے تھے۔ اُن سے کنٹرول مشکل ہو گیا تھا۔ اس لیے اُن کے ذہن سے یہ بھی نکل گیا کہ سعدیہ ابھی بچی ہے اور اُس کے ساتھ سیکس کرنا خطرناک ہوگا۔ لہٰذا اُنھوں نے مزے کی انتہا پر پہنچتے ہوئے اپنا لَن سعدیہ کے منہ سے نکلوایا اور اُسے کہا کہ ’’چلو لیٹو۔ اندر ڈالوں!‘‘ سعدیہ کو ایک دم خیال آیا۔ اور وہ روہانسی ہوتے ہوئے کہنے لگی۔ ’’میں نہیں ماموں۔ میری شادی نہیں ہوئی اور ایسے تو مجھے بچہ ہو جائے گا۔‘‘ ماموں نے یہ سنا تو اُسے سمجھاتے ہوئے کہنے لگے۔ ’’ارے نہیں میری جان! اندر ڈال کر جب تیز تیز ہلائیں تو آخر میں لن سے گاڑھا گاڑھا پانی نکلتا ہے جسے منی کہتے ہیں۔ وہ اگر تمھارے اندر نکالوں گا تو بچہ ہو گا لیکن اگر اُس سے پہلے لن نکال لوں گا تو بچہ نہیں ہوگا۔ چلو جلدی سے سیدھی ہو نا! ضد نہیں کرتے اچھے بچے۔‘‘ سعدیہ کو کچھ سمجھ نہ آئی کہ ماموں کیا کہہ رہے ہیں لیکن وہ اُن کے حکم کے مطابق ڈرتے ڈرتے لیٹ گئی۔ ماموں نے سعدیہ کی ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھیں اور لن کو اپنے منہ سے بھی تھوک نکال کر اچھی طرح لگایا پھر سعدیہ کی پھدی پر لن کا ٹوپا پھیرنے لگے۔ سعدیہ نے پھر سے آنکھیں بند کر لی تھیں۔ ٹوپا سعدیہ کی پھدی کو سہلا رہا تھا اور سعدیہ کے اندر بھی ہلچل سی پیدا ہو رہی تھی لیکن وہ اسے ابھی نہیں سمجھ پا رہی تھی۔ پھر ماموں نے اپنا لن اُس کی پھدی کے سوراخ میں رکھا۔
اچانک دروازہ بجنے لگا۔ دونوں کے ہوش اڑ گئے۔ جلدی جلدی ماموں نے شلوار پکڑی اور پہنتے ہوئے سعدیہ سے کہا کہ جلدی سے کپڑے پہنو۔ اور خبردار اگر امی کو بتایا کہ میں تمھیں کیا سکھا رہا تھا۔ ورنہ تمھیں بہت مار پڑے گی اور ہو سکتا ہے وہ تمھیں گھر سےباہر نکال دیں۔ خبردار! یہ کسی کو بھی نہ بتانا ورنہ جس کو بھی پتا چلا وہ تمھاری بہت بِستی کر ے گا۔ چلو جلدی جا کر دروازہ کھولو۔ میں واش روم جا رہا ہوں۔ سعدیہ اِس دوران شلوار پہن کر قمیص پہن رہی تھی۔ دروازہ دوسری بار بج چکا تھا۔ ماموں نے بنیان پہن کر قمیص پکڑتے ہوئے واش روم میں دوڑ لگائی اور سعدیہ نے گھبراہٹ چھپاتے ہوئے جا کر دروازہ کھولا تھا اور جیسے تیسے اپنی سرخ رنگت کے بارے میں ماں کو کوئی جواب دیا تھا۔ لیکن اُس کے بعد ماموں ہفتہ بھر وہاں رہے اور ہر روز ہی اُسے چھیڑتے رہے۔ جب بھی موقع ملتا، اُس کی شرم گاہ پر ہاتھ پھیر دیتے یا اپنا عضو پکڑنے کا کہتے۔ دو مرتبہ موقع ملنے پر انھوں نے سعدیہ کو اپنا عضو چُسوایا تھا۔ یہ دھمکی دے کر کہ اگر اُس نے نہ چوسا تو وہ سوکھا ہی اُس کی پھدی میں ڈال دیں گے اور اگر وہ چوسے گی تو پھدی میں نہیں ڈالیں گے۔ اب یا تو لن چوس کر جان چھڑوا لے یا پھر پھدی میں ڈالوانے والا گندا کام کروا لے۔ ان دو آپشنز میں سے سعدیہ کو لن چوسنے والا آپشن آسان لگتا اور وہ نظریں جھکا کر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر ماموں کا لن پکڑ کر اپنے منہ میں ڈال کر چوسنے لگتی۔ دھلا نہ ہونے کی وجہ سے اُسے شروع میں ذائقہ نمکین لگتا جو بعد میں پھیکا ہو جاتا۔
آخر اُس کی جان چھوٹی اور ماموں کا روانگی کا وقت آیا۔ اُس دن لن تو نہ چُسوا سکے لیکن ساتھ بیٹھ کر اُس کی پھدی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اور اپنا لن سعدیہ کے ہاتھ میں دے کر سہلواتے ہوئے انھوں نے سعدیہ کو بتایا کہ تم ابھی چھوٹی ہو۔ اس لیے کسی بھی لڑکے سے اپنی پھدی میں لن نہ ڈلوانا ورنہ وہ پھٹ جائے گی۔ دو سال بعد تمھاری پھدی لن ڈلوانے کے قابل ہو جائے گی۔ پھر کچھ نہیں ہوگا۔ جب دوبارہ میرا چکر لگے گا تو میں تمھیں پھدی میں لن ڈلوانا بھی سکھا دوں گا۔ پھر تمھارے لیے آسانی ہو جائے گی۔ اس لیے میرے آنے سے پہلے کسی لڑکے سے بھی پھدی نہ مروانا۔‘‘ وہ جواب میں ہولے ہولے سر ہلاتی ہوئی مریل سی ’’ہوں، ہوں‘‘ کرتی رہی۔ گذشتہ دنوں میں ماموں نے اُسے اچھی طرح بتا دیا تھا کہ اگر لڑکی اپنی پھدی میں کسی لڑکے کا لن ڈلوائے تو اُسے پھدی مروانا کہتے ہیں اور اگر لڑکا کسی لڑکی کی پھدی میں لن ڈال کر اندر باہر کرے تو اُسے پھدی مارنا کہتے ہیں۔ یعنی لڑکا پھدی مارتا ہے اور لڑکی پھدی مرواتی ہے۔ علاوہ ازیں اِسے چودنا اور چُدوانا بھی کہتے ہیں۔



ماموں نے تیز آہ بھرتے ہوئے حکم دیا: ’’ چوسو اِسے۔‘‘ وہ اتنے موٹے ٹوپے کو چوسنے کی کوشش کرنے لگی۔ مگر وہ اُس طرح نہیں چوسا جا رہا تھا جیسے وہ قلفی یا لولی پوپ چوسا کرتی تھی۔ اس لیے وہ محض اُس پر زبان پھیرنے لگی اور پھر زبان نیچے ٹکا کر اُسے تھوڑا تھوڑا چوسنا آ گیا۔ ساتھ ہی ماموں نے اُس کا ایک ہاتھ لن کے پچھلے حصے پر رکھ کر کہا: ’’ اِسے بھی ہلاؤ آگے پیچھے۔‘‘ وہ اناڑی پن سے اُسے ہِلانے لگی۔ سعدیہ کو وہ ملائم ملائم پھیکا ٹوپا عجیب سا لگ رہا تھا اور اُسے چوسنا بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ مگر ماموں کے حکم کے مطابق اور اپنی پھدی میں ہونے والے درد سے بچنے کے وہ اُسے چُوسے جا رہی تھی۔ ماموں جذبات سے مغلوب ہو کر آہ آہ کرنے لگے تھے۔ اُن سے کنٹرول مشکل ہو گیا تھا۔ اس لیے اُن کے ذہن سے یہ بھی نکل گیا کہ سعدیہ ابھی بچی ہے اور اُس کے ساتھ سیکس کرنا خطرناک ہوگا۔ لہٰذا اُنھوں نے مزے کی انتہا پر پہنچتے ہوئے اپنا لَن سعدیہ کے منہ سے نکلوایا اور اُسے کہا کہ ’’چلو لیٹو۔ اندر ڈالوں!‘‘ سعدیہ کو ایک دم خیال آیا۔ اور وہ روہانسی ہوتے ہوئے کہنے لگی۔ ’’میں نہیں ماموں۔ میری شادی نہیں ہوئی اور ایسے تو مجھے بچہ ہو جائے گا۔‘‘ ماموں نے یہ سنا تو اُسے سمجھاتے ہوئے کہنے لگے۔ ’’ارے نہیں میری جان! اندر ڈال کر جب تیز تیز ہلائیں تو آخر میں لن سے گاڑھا گاڑھا پانی نکلتا ہے جسے منی کہتے ہیں۔ وہ اگر تمھارے اندر نکالوں گا تو بچہ ہو گا لیکن اگر اُس سے پہلے لن نکال لوں گا تو بچہ نہیں ہوگا۔ چلو جلدی سے سیدھی ہو نا! ضد نہیں کرتے اچھے بچے۔‘‘ سعدیہ کو کچھ سمجھ نہ آئی کہ ماموں کیا کہہ رہے ہیں لیکن وہ اُن کے حکم کے مطابق ڈرتے ڈرتے لیٹ گئی۔ ماموں نے سعدیہ کی ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھیں اور لن کو اپنے منہ سے بھی تھوک نکال کر اچھی طرح لگایا پھر سعدیہ کی پھدی پر لن کا ٹوپا پھیرنے لگے۔ سعدیہ نے پھر سے آنکھیں بند کر لی تھیں۔ ٹوپا سعدیہ کی پھدی کو سہلا رہا تھا اور سعدیہ کے اندر بھی ہلچل سی پیدا ہو رہی تھی لیکن وہ اسے ابھی نہیں سمجھ پا رہی تھی۔ پھر ماموں نے اپنا لن اُس کی پھدی کے سوراخ میں رکھا۔
اچانک دروازہ بجنے لگا۔ دونوں کے ہوش اڑ گئے۔ جلدی جلدی ماموں نے شلوار پکڑی اور پہنتے ہوئے سعدیہ سے کہا کہ جلدی سے کپڑے پہنو۔ اور خبردار اگر امی کو بتایا کہ میں تمھیں کیا سکھا رہا تھا۔ ورنہ تمھیں بہت مار پڑے گی اور ہو سکتا ہے وہ تمھیں گھر سےباہر نکال دیں۔ خبردار! یہ کسی کو بھی نہ بتانا ورنہ جس کو بھی پتا چلا وہ تمھاری بہت بِستی کر ے گا۔ چلو جلدی جا کر دروازہ کھولو۔ میں واش روم جا رہا ہوں۔ سعدیہ اِس دوران شلوار پہن کر قمیص پہن رہی تھی۔ دروازہ دوسری بار بج چکا تھا۔ ماموں نے بنیان پہن کر قمیص پکڑتے ہوئے واش روم میں دوڑ لگائی اور سعدیہ نے گھبراہٹ چھپاتے ہوئے جا کر دروازہ کھولا تھا اور جیسے تیسے اپنی سرخ رنگت کے بارے میں ماں کو کوئی جواب دیا تھا۔ لیکن اُس کے بعد ماموں ہفتہ بھر وہاں رہے اور ہر روز ہی اُسے چھیڑتے رہے۔ جب بھی موقع ملتا، اُس کی شرم گاہ پر ہاتھ پھیر دیتے یا اپنا عضو پکڑنے کا کہتے۔ دو مرتبہ موقع ملنے پر انھوں نے سعدیہ کو اپنا عضو چُسوایا تھا۔ یہ دھمکی دے کر کہ اگر اُس نے نہ چوسا تو وہ سوکھا ہی اُس کی پھدی میں ڈال دیں گے اور اگر وہ چوسے گی تو پھدی میں نہیں ڈالیں گے۔ اب یا تو لن چوس کر جان چھڑوا لے یا پھر پھدی میں ڈالوانے والا گندا کام کروا لے۔ ان دو آپشنز میں سے سعدیہ کو لن چوسنے والا آپشن آسان لگتا اور وہ نظریں جھکا کر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر ماموں کا لن پکڑ کر اپنے منہ میں ڈال کر چوسنے لگتی۔ دھلا نہ ہونے کی وجہ سے اُسے شروع میں ذائقہ نمکین لگتا جو بعد میں پھیکا ہو جاتا۔
آخر اُس کی جان چھوٹی اور ماموں کا روانگی کا وقت آیا۔ اُس دن لن تو نہ چُسوا سکے لیکن ساتھ بیٹھ کر اُس کی پھدی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اور اپنا لن سعدیہ کے ہاتھ میں دے کر سہلواتے ہوئے انھوں نے سعدیہ کو بتایا کہ تم ابھی چھوٹی ہو۔ اس لیے کسی بھی لڑکے سے اپنی پھدی میں لن نہ ڈلوانا ورنہ وہ پھٹ جائے گی۔ دو سال بعد تمھاری پھدی لن ڈلوانے کے قابل ہو جائے گی۔ پھر کچھ نہیں ہوگا۔ جب دوبارہ میرا چکر لگے گا تو میں تمھیں پھدی میں لن ڈلوانا بھی سکھا دوں گا۔ پھر تمھارے لیے آسانی ہو جائے گی۔ اس لیے میرے آنے سے پہلے کسی لڑکے سے بھی پھدی نہ مروانا۔‘‘ وہ جواب میں ہولے ہولے سر ہلاتی ہوئی مریل سی ’’ہوں، ہوں‘‘ کرتی رہی۔ گذشتہ دنوں میں ماموں نے اُسے اچھی طرح بتا دیا تھا کہ اگر لڑکی اپنی پھدی میں کسی لڑکے کا لن ڈلوائے تو اُسے پھدی مروانا کہتے ہیں اور اگر لڑکا کسی لڑکی کی پھدی میں لن ڈال کر اندر باہر کرے تو اُسے پھدی مارنا کہتے ہیں۔ یعنی لڑکا پھدی مارتا ہے اور لڑکی پھدی مرواتی ہے۔ علاوہ ازیں اِسے چودنا اور چُدوانا بھی کہتے ہیں۔
یہ صبح کا منظر بھی قیامت سا حسیں ہے
 تکیہ ہے کہیں ____ زلف کہیں ___ خود وہ کہیں ہے

 

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.