Author Topic: قسمت ۔۔۔رائیٹر عابد قازمی  (Read 86671 times)

Offline MANHIL

  • life for fun.
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1917
  • Reputation: +20/-50
  • آج کے دن کو آخری سمجھ کر جیو ۔
    • View Profile
    • Yumstories.com
Re: قسمت ۔۔۔رائیٹر عابد قازمی
« Reply #8 on: December 30, 2019, 10:10:41 pm »

۔ یعنی لڑکا پھدی مار رہا ہو تو کہتے ہیں کہ وہ لڑکی کو چود رہا ہے اور لڑکی پھدی مروا رہی ہو تو کہتے ہیں کہ وہ کسی لڑکے سے چُدوا رہی ہے۔ بہن چود اور ماں چود کا مطلب بھی اُسے ماموں نے بتایا کہ اگر بھائی اپنی بہن کی پھدی مارے یعنی بہن کو چودے تو اُسے بہن چود کہتے ہیں۔ اور جو بیٹا اپنی ماں کو چودے اُسے ماں چود کہتے ہیں۔ اسی لیے یہ گندی گالیاں ہیں کیوں کہ بھائی اپنی بہنوں کی پھدی نہیں مارتے اور بیٹے اپنی ماؤں کو نہیں چودتے۔ یہ گناہ ہوتا ہے۔ اُسے ماموں نے وہ منی بھی نکال کر دکھائی تھی، جس کو اگر پھدی کے اندر ہی نکال دیں تو بچہ پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ اُسے بہت بُری لگی تھی لیکن یہ ہو گیا تھا کہ ماموں کی وجہ سے وہ بہت سی ایسی باتوں کے بارے میں جان گئی تھی جو اُس کی سہیلیوں کو پتا نہیں تھیں اور جن کے بارے میں بات کرتے ہوئے خود اُسے بھی تجسس رہتا تھا لیکن اُس کی کسی سہیلی کو اس سب کے بارے میں مکمل جان کاری نہیں تھی اس لیے اُسے بھی پتا نہیں چل سکا تھا۔ کچھ اُس کے معاشرے میں ایسی باتیں کرنا بھی گندا کام سمجھا جاتا تھا اور ایسے لوگوں کو بے شرم کہا جاتا تھا اس لیے بھی وہ کھل کر کسی سہیلی سے اس بارے میں کبھی نہیں پوچھ پائی تھی۔ لیکن ماموں نے جہاں اُس کا جینا حرام کیا تھا، وہیں اُسے وقت سے پہلے بہت کچھ سے آگاہ بھی کر دیا تھا۔ نیز ماموں نے اُسے یہ بھی بتا دیا تھا کہ ’’اگر کسی کو پتا چل جائے کہ کوئی لڑکی کسی لڑکے سے پھدی مرواتی ہے تو محلے کے لوگ اُن کی بہت بے عزتی کرتے ہیں اور قتل بھی کر دیتے ہیں۔ یہ شادی کے بعد جتنا ضروری کام سمجھا جاتا ہے، ہمارے ہاں شادی سے پہلے اُتنا ہی گندا کام سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے شادی سے پہلے کبھی کسی کے ساتھ ایسا کچھ ہو بھی جائے تو خبردار کسی کو نہ بتانا۔ کسی کو پتا نہ چلنے دینا۔ ورنہ سمجھ لو کہ تم جان سے گئی۔‘‘ یہی وجہ تھی کہ آج کے واقعے کے وقوع پذیر ہوتے ہوئے اُس کا وہ دوسال پہلے کا ڈر اور خوف فوراً عود کر آیا تھا اور وہ چاہتے ہوئے بھی شور نہیں مچا سکی تھی کہ کہیں کسی کو پتا چل گیا تو محلے والے اُس کے گھر والوں کو بدنام کر دیں گے اور ہو سکتا ہے کہ اُسے جان سے ہی مار دیں۔
اچانک واش روم کا دروازہ بجا۔ سعدیہ اپنے خیالات سے چونکی۔ اُسے احساس ہوا کہ وہ ہولے ہولے اپنی شرم گاہ میں انگلی پھیرتے ہوئے اُسے سہلا کر مزا لے رہی ہے۔ امی کی آواز آئی: ’’خیر تو ہے؟ اندر سو تو نہیں گئیں؟‘‘ اُس نے جلدی سے شاور پکڑتے ہوئے شرم گاہ پر پانی ڈالنا شروع کیا اور دھوتے ہوئے اونچی آواز میں بولی: ’’آئی امی۔‘‘
یہ صبح کا منظر بھی قیامت سا حسیں ہے
 تکیہ ہے کہیں ____ زلف کہیں ___ خود وہ کہیں ہے

YUM Stories

Re: قسمت ۔۔۔رائیٹر عابد قازمی
« Reply #8 on: December 30, 2019, 10:10:41 pm »

Offline MANHIL

  • life for fun.
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1917
  • Reputation: +20/-50
  • آج کے دن کو آخری سمجھ کر جیو ۔
    • View Profile
    • Yumstories.com
Re: قسمت ۔۔۔رائیٹر عابد قازمی
« Reply #9 on: December 30, 2019, 10:12:20 pm »

رات سوتے ہوئے اُسے یاد آنے لگا کہ کیسے وحید اُس کے ابھار دبا رہا تھا اور پھر کس طرح اُس نے اُس کی قمیص اوپر کر دی تھی۔ پھر برا بھی اوپر کر کے ابھار ننگے کر لیے تھے اور پھر۔۔ ۔ اُف! وحید نے نپل منہ میں ڈال لیے تھے ا ور چوسنا شروع ہو گیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ اُس نے اُس کے سینے پر اور ابھاروں کی گولائیوں پر زبان بھی پھیری تھی۔ پھر کیسے اچانک اُس نے اُس کی شلوار اتار دی تھی۔ اپنا عضو نکال کر اُس کی ٹانگوں میں دیا تھا اور کیسے وہ گرم گرم اور ملائم ملائم سلاخ جیسا عضو اُس کی شرم گاہ سے ٹکرا رہا تھا اور اُس کی ٹانگوں میں اندر باہر رگڑ کھانے لگا تھا۔ اُسے یہ سب سوچتے ہوئے مزا آ نے لگا تھا۔ اُسے احساس ہوا کہ وہ غیر ارادی طور پر اپنا ہاتھ وہاں لے جا چکی ہے اور اُسے سہلا رہی ہے جب کہ دوسرا ہاتھ ابھاروں پر ہولے ہولے پھیر رہی ہے۔ کچھ دیر وہ اپنے دونوں پرائیویٹ حصے یوں ہی سہلاتی رہی۔ پھر اُسے اچانک یاد آیا کہ نہیں یہ سب گناہ ہے۔ ایسا نہیں کرتے۔ اور ایسا سوچتے ہی اُس نے جلدی سے اپنے ہاتھ دونوں جگہ سے ہٹائے اور کروٹ بدل کر لیٹ کر سونے کی کوشش کرنے لگی۔ لیکن سونے میں بھی اُسے خاصی دیر لگی۔
دو چار دن اور گزر گئے۔ اس دوران وحید اُسے راستے میں نظر نہیں آیا۔ پھر ایک دن جب وہ سکول سے گھر آ رہی تھی، وحید نے اُس کے ساتھ چلنا شروع کیا اور اُس دن کے حوالے سے اُس سے معذرت کرنے لگا۔ سعدیہ نے اُس کی باتوں کو ان سنا کرتے ہوئے اپنی رفتار تیز کر لی۔ وحید کچھ دیر اُسے کہتا رہا ہے کہ وہ اُسے معاف کر دے لیکن وہ کچھ نہ بولی۔ بالآخر وحید نے راستہ بدل لیا۔ اگلے دن سے سعدیہ نے بھی راستہ بدل کر دوسری گلی سے گھر آنا شروع کر دیا۔ یہ ایسی گلی تھی کہ اس میں کوئی ویسا مکان نہیں تھا اور دوبارہ اُس طرح کی کسی حرکت کے ہونے کے امکانات ختم ہو گئے تھے۔ پہلے راستے کو سعدیہ نے اسی لیے چھوڑ دیا تھا کہ اُسے ڈر تھا کہ اگر دوبارہ وحید نے ویسی حرکت کی تو شاید پہلے سے آگے بڑھ جائے۔ نیز یہ بھی کہ اُس دن تو خوبیٔ قسمت سے گلی میں کوئی موجود نہیں تھا لیکن ہر بار تو ایسا نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ معاشرے میں اس طرح کے کام کرنے والی لڑکی کو کس قدر مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور گھر والوں کی عزت الگ نیلام ہوتی ہے۔ اس لیے دل کے چور گوشے میں موجود ہلکے ہلکے مزے کے باوجود وہ قصداً اس عمل سے کترا رہی تھی۔
اُس کی کلاس کی سہیلیاں اکثر ذومعنی باتیں کرتی تھیں اور مزے لیا کرتی تھیں۔ نہم جماعت میں ہونے کی وجہ سے تقریباً سبھی کو ماہواری ہونے لگی تھی اور سبھی ایسی کھٹی میٹھی باتوں کو انجوائے کرنے لگی تھیں۔ وہ بھی اُن کی اُن باتوں میں شامل ہوتی لیکن ہنسنے مسکرانے اور ہوں ہاں کرنے کے علاوہ اپنی طرف سے کوئی بات شامل نہ کرتی۔ اپنے اسی رویے کی وجہ سے وہ اپنی سہیلیوں میں شریف اور معصوم لڑکی مشہور تھی اور اُسے بھی اچھا لگتا تھا کہ لوگ اُسے ایسا ہی سمجھیں۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اپنی کسی بات کی وجہ سے بُرے لفظوں سے جانی جائے۔ حالانکہ اُسے علم تھا کہ جس بارے میں اُس کی کلاس فیلوز باتیں کرتی ہیں، وہ شاید اُن سب سے زیادہ جانتی ہے کیوں کہ اُسے اُس کے ماموں نے دو سال پہلے خاصی معلومات دی تھیں۔ ماموں کا پروگرام تو اگلے سال ہی آنے کا تھا لیکن پتا نہیں کیوں وہ پچھلے سال نہیں آ سکے تھے اور اس سال بھی گرمیوں کی چھٹیوں تک ہی شاید اُن کا چکر لگتا۔ ویسے بھی یہ سعدیہ کے حق میں اچھا تھا کہ اُس کے ماموں پچھلے سال نہیں آ پائے تھے۔ وہ خود بھی گھبرا رہی تھی کہ وہ آئیں گے تو موقع ملنے پر پھر سے اُس کے سامنے اپنے کپڑے اتار کر ننگے ہو جائیں گے اور اُسے بھی ننگا کر دیں گے۔ وہ فطرتاً شرمیلی طبیعت کی تھی اور اُسے بہت برا لگا تھا جب ماموں نے اُس کے ساتھ دو سال پہلے ایسا کیا تھا۔ اُس کا بس نہیں چلا تھا کہ وہ اُس وقت کہیں جا کر چھپ جائے جب وہ ماموں کے سامنے الف ننگی لیٹی ہوئی تھی۔

یہ صبح کا منظر بھی قیامت سا حسیں ہے
 تکیہ ہے کہیں ____ زلف کہیں ___ خود وہ کہیں ہے

YUM Stories

Re: قسمت ۔۔۔رائیٹر عابد قازمی
« Reply #9 on: December 30, 2019, 10:12:20 pm »

Offline MANHIL

  • life for fun.
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1917
  • Reputation: +20/-50
  • آج کے دن کو آخری سمجھ کر جیو ۔
    • View Profile
    • Yumstories.com
Re: قسمت ۔۔۔رائیٹر عابد قازمی
« Reply #10 on: December 30, 2019, 10:13:26 pm »

دو ماہ اور گزر گئے۔ وہ نہم کے امتحانات سے فارغ ہوئی تو فری تھی۔ اس لیے کچھ دن چاچو کے ہاں رہنے کو چلی گئی۔ چاچو عامر کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ بڑا بیٹا وسیم سعدیہ سے ایک سال بڑا تھا۔ چھوٹا شفیق اُس کا ہم عمر ہی تھا اور بہن نازیہ سعدیہ سے دو سال چھوٹی تھی۔ ان سب کے ساتھ بچپن سے ہی وہ کھیلتی کودتی جوانی کی عمر کو پہنچی تھی۔ وسیم ذرا شوخی طبیعت کا تھا اور اپنے آپ کو پتا نہیں کیا سمجھتا رہتا تھا۔ شفیق کی طبیعت سعدیہ سے ملتی جلتی تھی۔ اس لیے سعدیہ کی شفیق کے ساتھ زیادہ بنتی تھی۔ ابھی گرمیاں شروع نہیں ہوئی تھیں اس لیے سب کمروں ہی میں سوتے تھے۔ ورنہ گرمیوں میں صحن میں پنکھا لگا کر سویا کرتے تھے۔ بچوں کے لیے الگ کمرا تھا اور چاچو چاچی الگ کمرے میں سویا کرتے۔ بچوں کے کمرے میں ایک ڈبل بیڈ اور ایک سنگل پلنگ تھا۔ پہلی رات وہ بھی تینوں کے ساتھ ڈبل بیڈ پر لیٹ گئی۔ اب ترتیب یہ تھی کہ کنارے کی طرف شفیق اور پھر وسیم جبکہ اُس سے آگے نازیہ اور پھر دوسرے کنارے پر سعدیہ لیٹ گئی۔ رات کے کسی پہر سعدیہ کی آنکھ کھلی تو اُسے محسوس ہوا کہ کوئی ہاتھ اُس کے ابھاروں کو سہلا رہا ہے۔ وہ بڑی حیران ہوئی۔ اُس نے نازیہ کی طرف کروٹ لے رکھی تھی اس لیے بڑے غیر محسوس طریقے سے اُس نے ایک آنکھ کھول کر دیکھنے کی کوشش کی۔ یہ وسیم تھا جس کا ہاتھ نازیہ پر سے گزرتے ہوئے اُس کے سینے تک پہنچا ہوا تھا۔ اُسے سمجھ آ گئی کہ جناب جوان ہو رہے ہیں اس لیے انھیں بھی اس طرح کی حرکتوں کا چسکا پڑ گیا ہے۔ وہ بالکل نہ ہِلی اور دیکھنے لگی کہ وسیم کیا کیا کرتا ہے۔ سعدیہ بائیں کروٹ لے کر لیٹی ہوئی تھی اور وسیم کا ہاتھ اُس کے دائیں طرف کے ابھار پر پھر رہا تھا کیوں کہ نچلا ابھار ذرا دبا ہوا تھا اس لیے دائیں ابھار پر ہاتھ پھیرنے میں آسانی تھی۔ وسیم نچلے ابھار پر ہاتھ پھیرنے کی بھی کوشش کرتا تھا لیکن اُس کے صرف کچھ ہی حصے پر ہاتھ لگا پاتا تھا۔ پھر اُس نے دایاں ابھار پکڑ کر دبانا آہستہ آہستہ دبانا شروع کر دیا۔ سعدیہ کو بھی زیرو لائٹ میں ایسی چھیڑ چھاڑ سے کچھ کچھ مزا آ رہا تھا اس لیے وہ آنکھیں بند کیے ساکن لیٹی ہوئی تھی۔ وسیم نے بڑھتی ہوئی خواہش کے تحت سعدیہ کے گریبان میں انگلیاں ڈالنے کی کوشش شروع کر دی اور جلد ہی اُس کی انگلیاں سعدیہ کے بریزیئر کے کنارے کو چھونے لگیں۔ زیرو لائٹ میں باریکیاں تو نہیں دیکھی جا سکتی تھیں اسی لیے سعدیہ کی بہت معمولی سی کھلی ہوئی آنکھیں شاید وسیم کو نظر نہیں آ رہی تھیں لیکن سعدیہ کو یہ ضرور نظر آ رہا تھا کہ وسیم دوسرے ہاتھ سے اپنا عضو پکڑ کر سہلا رہا ہے۔ اس احساس نے کے وسیم کو اُسے چھونے پر مزا آ رہا ہے، اُس کے اندر بھی مستی کی لہر دوڑا دی۔ اُسے احساس ہو گیا کہ وسیم کو ہاتھ اندر لے جانے میں مشکل ہو رہی ہے اس لیے وہ بہانے سے حرکت کرتے ہوئے کروٹ لے کر سیدھی لیٹ گئی اور اپنی آنکھوں پر ایک بازو رکھ لیا۔ کروٹ لینے کے دوران وہ نازیہ کے مزید قریب ہو گئی تاکہ وسیم کو ہاتھ پہنچانے میں آسانی رہے۔
وسیم نے ایک دم ہاتھ پیچھے کر لیا اور سونے کی ایکٹنگ کرنے لگا۔ اُس کا دن تیز تیز دھڑک رہا تھا کہ کہیں سعدیہ اُسے ڈانٹنے نہ لگے لیکن تھوڑی دیر بعد اُس نے نیم وا آنکھوں سے دیکھا تو وہ خوش ہو گیا کہ اب سعدیہ کے ابھاروں پر وہ آسانی سے ہاتھ پھیر سکتا ہے۔ اُس نے پھر سے بہت آہستگی سے سعدیہ کے گریبان میں ہاتھ ڈالنے کی کوشش شروع کر دی۔ کچھ ہی دیر میں وہ کامیاب بھی ہو گیا اور بریزیئر کے اندر ہاتھ پہنچنے تک اُس کا عضو پھٹنے کے قریب ہو گیا۔دایاں نپل انگلیوں کو محسوس ہوتے ہی اُس کے اندر مزے کی لہریں دوڑنے لگیں۔ ادھر سعدیہ کا بھی یہی حال تھا۔ اگلے پانچ منٹوں کے دوران وہ اپنا عضو بھی سہلا رہا تھا اور سعدیہ کے دونوں نپلوں کو باری باری مسل رہا تھا۔ وسیم کو محسوس ہوا کہ شاید وہ چھوٹ نہ جائے اس لیے اُس نے عضو پر سے ہاتھ ہٹا لیا اور صرف ابھاروں پر ہاتھ پھیرنا جاری رکھا۔ زندگی میں پہلی بار اُس نے کسی لڑکی کے ننگے ابھاروں کو محسوس کیا تھااس لیے وہ مزے سے پاگل ہوا جا رہا تھا۔ کچھ ہی دیر بعد وہ ابھاروں سے بھی آگے کی سوچنے لگا۔ ہوس چیز ہی ایسی ہے۔ انسان ایک منزل حاصل کر لے تو اُس کا سرور پھیکا پڑ جاتا ہے اور آگے کی طلب شروع ہو جاتی ہے۔ سعدیہ کو محسوس ہوا کہ وسیم نے ابھاروں سے ہاتھ نکال لیا ہے اور اُس کے پیٹ پر سے آہستہ آہستہ قمیص اوپر کر رہا ہے۔ جب قمیص اوپر ہو گئی تو اُسے وسیم کی انگلیاں اپنے پیٹ پر محسوس ہوئیں۔ وہ ایک ذرا سا لرزی۔ پھر ساکن ہو گئی۔ وسیم کو بھی شاید اس ارتعاش کا اندازہ ہو گیا تھا اس لیے وہ تھوڑی دیر رُکا اور پھر الاسٹک کو بڑے آرام سے انگلیوں سے اٹھاتے ہوئے انگلیاں اندر لے جانے لگا۔ ذرا سی دیر میں اُس کا ہاتھ سعدیہ کے چھوٹے چھوٹے بالوں کو چھو رہا تھا۔
یہ صبح کا منظر بھی قیامت سا حسیں ہے
 تکیہ ہے کہیں ____ زلف کہیں ___ خود وہ کہیں ہے

Offline MANHIL

  • life for fun.
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1917
  • Reputation: +20/-50
  • آج کے دن کو آخری سمجھ کر جیو ۔
    • View Profile
    • Yumstories.com
Re: قسمت ۔۔۔رائیٹر عابد قازمی
« Reply #11 on: December 30, 2019, 10:15:28 pm »

ہاتھ آگے بڑھتا بڑھتا اُس کی شرم گاہ کی لائن تک پہنچ گیا لیکن وسیم نے انگلیاں اٹھا رکھی تھیں۔ وہ ابھی صرف ہاتھ زیادہ سے زیادہ اندر گھسانا چاہ رہا تھا تاکہ سعدیہ کی شرم گاہ کو تسلی سے چھو سکے۔ آخر جب وسیم کی ہتھیلی سعدیہ کے بالوں سے آگے تک پہنچ گئی تو اُس نے انگلیاں نیچے رکھیں۔ سعدیہ پھر سے کانپ گئی۔ وہ انگلیاں بھی وہیں رک گئیں۔ غالباً وسیم کو بھی احساس ہو گیا تھا کہ سعدیہ جاگ رہی ہے لیکن اُسے کچھ نہیں کہہ رہی اس لیے اب وہ اُس کے ہلنے پر ہاتھ پیچھے نہیں کھینچتا تھا بلکہ وہیں روک لیتا تھا۔
جب وسیم کی درمیانی انگلی نے سعدیہ کی لائن میں اپنا احساس دلایا تو سعدیہ کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ وسیم اپنی انگلی لائن میں پوری لِٹا کر آہستہ آہستہ اُس کی لائن کو دبانے لگا۔ پھر دیگر انگلیوں سے اُس نے شرم گاہ کو گرفت میں لے لیا اور درمیانی انگلی پر شرم گاہ کے دونوں کنارے دبانے لگا۔ پھر وہ انگلی آگے پیچھے ہونے لگی۔ سعدیہ نے بے چینی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ اُس کے نتھنوں سے ایک لمبی سانس خارج ہوئی۔ وسیم نے انگلی کی پور سے اُس کے سوراخ کو دبانا شروع کر دیا۔ اور پھر وہ پور اُس سوراخ کے اندر چلی گئی۔ سعدیہ کو جہاں مزا آ رہا تھا وہیں وہ ایسی کیفیت سے دوچار تھی جسے سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ اُس کا دل چاہ رہا تھا کہ منہ سے آوازیں نکالے، یا جسم کو ہِلا جُلا کر اپنی بے چینی کو دور کرنے کی کوشش کرے لیکن دراصل اُسے کیا چاہیے تھا، یہ ابھی اُسے اندازہ نہیں ہوا تھا۔ عجیب بات تھی کہ اُس کے ماموں نے بے چینی پیدا ہونے کا تو بتایا تھا لیکن اِسے دور کیسے کرنا ہے؟ یہ بتایا ہی نہیں۔
اُدھر وسیم اُس کی شرم گاہ کو مسلسل دبانے لگا تھا اور انگلی کی پور اندر ڈال کر اندر باہر کرنے لگ پڑا تھا۔ سعدیہ کو خود کو قابو کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ وہ اپنی بے چینی کا اظہار وسیم کے سامنے نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے جب اُس کی بس ہو گئی تو اُس نے حرکت کی۔ وسیم کی چھٹی حِس نے اُسے باخبر کیا کہ جس تیزی سے وہ سعدیہ کی پھدی کو چھیڑ رہا ہے ایسے میں تو کوئی بھی جاگ جاتا ہے، اس لیے اب وہ یا تو کروٹ لے گی یا آنکھیں کھول کر اُسے کچھ کہہ دے گی۔ چناں چہ اُس نے جلدی سے اپنا ہاتھ واپس کھینچا۔ سعدیہ نے کروٹ بیڈ کے کنارے کی طرف بدلی اور ٹانگیں آپس میں بھینچ کر گھٹنے سینے سے جوڑتے ہوئے لیٹ گئی۔ وسیم بھی عضو سہلا سہلا کر آخر تک پہنچا ہوا تھا۔ اُس کی بھی بس ہو گئی اور اُس نے شلوار میں کرتے ہوئے عضو کو جلدی سے دبا لیا۔ پہلی دفعہ میں اتنا کچھ مِل گیا تھا، اُسے اور کتنے کی توقع ہو سکتی تھی اس لیے یہی خیال اُسے ڈسچارج کرنے کے لیے کافی ہو گیا تھا کہ اُس نے ایک جوان لڑکی کے ممے نہ صرف اوپر سے چھوئے، بلکہ بریزیئر کے اندر ہاتھ ڈال کر نرم نرم نپلوں کو بھی محسوس کر لیا، یہی نہیں بلکہ اُس کی پھدی کو بھی اچھی طرح ہاتھ میں لے کر دبایا اور سوراخ میں انگلی بھی ڈال لی تھی۔ دوسری طرف سعدیہ اپنی شرم گاہ کو ٹانگوں میں دبائے شانت کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
یہ صبح کا منظر بھی قیامت سا حسیں ہے
 تکیہ ہے کہیں ____ زلف کہیں ___ خود وہ کہیں ہے

Offline MANHIL

  • life for fun.
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1917
  • Reputation: +20/-50
  • آج کے دن کو آخری سمجھ کر جیو ۔
    • View Profile
    • Yumstories.com
Re: قسمت ۔۔۔رائیٹر عابد قازمی
« Reply #12 on: December 30, 2019, 10:16:16 pm »
جاری ہے !!!!!!!!!!!!
یہ صبح کا منظر بھی قیامت سا حسیں ہے
 تکیہ ہے کہیں ____ زلف کہیں ___ خود وہ کہیں ہے

Offline Massom fairy

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 87
  • Reputation: +5/-0
    • View Profile
Re: قسمت ۔۔۔رائیٹر عابد قازمی
« Reply #13 on: December 30, 2019, 11:03:41 pm »
Next update kitni dair ma aya ge

Offline Mussawer

  • Newbie
  • Posts: 3
  • Reputation: +0/-0
    • View Profile
Re: قسمت ۔۔۔رائیٹر عابد قازمی
« Reply #14 on: December 31, 2019, 10:08:52 pm »
Zabrdast waiting for more  :walkman:

Offline Gay403

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 120
  • Reputation: +2/-3
  • Gender: Male
  • Ek piyari se larki dost chahye
    • View Profile
    • https://www.google.com.pk/search?client=ucweb-b-bookmark&biw=360&bih=469&tbm=isch&sxsrf=ACYBGNSc72sJ9D0jrVK4lgqbyns5QMtZSw%3A1576752341118&sa=1&q=Ladyboy+fucks+gay&oq=Ladyboy+fucks+gay&aqs=mobile-gws-lite..#imgrc=OXIdvxpTuX
Re: قسمت ۔۔۔رائیٹر عابد قازمی
« Reply #15 on: January 01, 2020, 07:13:20 pm »
Ufff o itnasab kuch wo bpheli mulaqat main ap ne to mujhy b kuch yaad dila dia ha balky bohat sharminda kar dia ha
COME ON my hangout.
Iqbalfarhan403@gmail.com
Let's to chat

 

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.