Author Topic: گھر کا بھیدی ' لن گھسائے  (Read 586667 times)

Offline Sumeer

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 35
  • Reputation: +0/-0
    • View Profile
Re: گھر کا بھیدی ' لن گھسائے
« Reply #8 on: January 27, 2020, 12:47:51 am »
Nice g

YUM Stories

Re: گھر کا بھیدی ' لن گھسائے
« Reply #8 on: January 27, 2020, 12:47:51 am »

Offline Sumeer

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 35
  • Reputation: +0/-0
    • View Profile
Re: گھر کا بھیدی ' لن گھسائے
« Reply #9 on: January 27, 2020, 12:48:14 am »
Waiting for more

YUM Stories

Re: گھر کا بھیدی ' لن گھسائے
« Reply #9 on: January 27, 2020, 12:48:14 am »

Offline khanlala1

  • 3 Stars
  • ***
  • Posts: 273
  • Reputation: +1/-0
    • View Profile
Re: گھر کا بھیدی ' لن گھسائے
« Reply #10 on: January 27, 2020, 02:08:50 am »
wah g wah aik aur shandar story start hogai

Offline Hotboy444

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 133
  • Reputation: +0/-0
    • View Profile
Re: گھر کا بھیدی ' لن گھسائے
« Reply #11 on: January 27, 2020, 02:38:43 am »
Wow bht aala continue rakhein bht achi aur hot story lag rahi maza aaye ga

Offline i4every1

  • 3 Stars
  • ***
  • Posts: 351
  • Reputation: +3/-5
    • View Profile
Re: گھر کا بھیدی ' لن گھسائے
« Reply #12 on: January 27, 2020, 03:13:42 am »
Nice start

Offline Hanisheikh

  • 3 Stars
  • ***
  • Posts: 372
  • Reputation: +3/-0
    • View Profile
Re: گھر کا بھیدی ' لن گھسائے
« Reply #13 on: January 27, 2020, 05:02:47 am »
Very nice
Keep it Up

Offline Awais Arshad

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 65
  • Reputation: +0/-0
    • View Profile
Re: گھر کا بھیدی ' لن گھسائے
« Reply #14 on: January 27, 2020, 07:50:23 am »
Nice story
Update

Offline Raheela.Mumtaz

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 88
  • Reputation: +6/-1
    • View Profile
Re: گھر کا بھیدی ' لن گھسائے
« Reply #15 on: January 27, 2020, 09:22:26 am »

سارا دن ایک عجیب کشمکش میں گزارنے کے بعد بھی طاہرہ یہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ آخر اسے اپنے بیٹے کو اپنی ماں کے برا کو چومتے اور سونگھتے ہوے مٹھ مارتے دیکھ کر اچھا کیوں لگا تھا ۔۔۔ وہ کبھی خود کو کوسنے لگتی تو کبھی وہ منظر اسکی آنکھوں کے سامنے لہرانے لگتا ۔۔۔ ایک طرف بیٹے کی اس حرکت پر مصنوئی غصہ اور دوسری طرف اپنے بیٹے کی محبت کی شدت ۔۔۔ وہ پریشان تھی کہ آخر کس جذبے کو چھپائے ۔۔۔
۔
۔
اسی بےچینی کے عالَم میں سارا دن گزارنے کے بعد رات کو جب طاہرہ بیڈ پر آ کر لیٹی تو وہاں پہلے سے لیٹے اپنے بیٹے آصف کو زیرو بلب کی مدھم روشنی میں دیکھنے لگی ۔۔۔ وہ نیند میں بہت پر سکون اور معصوم لگ رہا تھا ۔۔۔ طاہرہ نے ایک پل کے لئے سوچا کہ اپنی ماں کی نیند اور ہوش اڑانے کے بعد خود مزے سے سو رہا ہے ۔۔۔ اسکو دیکھتے ہوئے نا جانے کیوں طاہرہ کو اس پر پیار آنے لگا اور وہ دل ہی دل میں سوچنے لگی ۔۔۔
۔
۔
طاہرہ : " ۔۔۔۔۔۔۔۔ آخر ایسا کیا دیکھا اس نے مجھ میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ چالیس سال کی عورت میں ایسی کیا دلچسبی ہو سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکے باپ نے تو کبھی نظر بھر کر نہیں دیکھا مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اس طرح چاہا جانا اتنا حسین احساس ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا میں اتنی اچھی لگتی ہوں اسکو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ یہ میرا برا چومتے ہوے مجھے یاد کر کہ اپنے لن کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے خوبصورت لن کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنا موٹا اور پیارا لن ۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے تو کبھی احساس ہے نہیں ہوا کہ میرا بیٹا اتنا بڑا ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نا جانے کیا سوچ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کیا تصور کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے چومنے کا تصور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے چھونے کا تصور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری برا کے ساتھ کھیل رہا تھا ضرور میرے مموں کو چوسنے کا تصور کر رہا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شیطان کہیں کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "
۔
۔
طاہرہ کی بے چینی اب ایک انوکھی خوشی میں بدل چکی تھی ۔۔۔ وہ اپنے بیٹے کو اپنے ممے چوستے ہوے تصور کرنے لگی ۔۔۔ طاہرہ آصف پر جھکی اور اسکا گال چوم لیا ۔۔۔ آصف گہری نیند میں تھا ۔۔۔ طاہرہ نے جیسے ہے اپنے جوان بیٹے کو چوما تو ایک عجیب اور میٹھی سنسناہٹ اسے اپنی ریڑھ کی ہڈی میں محسوس ہوئی ۔۔۔ وہ پیچھے ہٹتے ہوے ایک بار رکی اور پھر سے بہت آرام سے اور پیار سے اپنے بیٹے کو چوم لیا ۔۔۔ طاہرہ کو بہت پیار آ رہا تھا ۔۔۔ اور ایک مرد کا ساتھ اسے اچھا لگ رہا تھا ۔۔۔ اپنے بیٹے کو چومتے ہوے طاہرہ کے دل کی دھڑکن بہت تیز ہو چکی تھی ۔۔۔ طاہرہ کچھ سوچے بغیر اپنے ہاتھ کو اپنی شلوار کے اوپر سے اپنی پھدی پر رگڑنے لگی ۔۔۔ ایک میٹھا احساس اسے چاروں طرف سے جکڑ رہا تھا ۔۔۔ اسکی پھدی پہلے سے ہی کافی گیلی ہو چکی تھی ۔۔۔
۔
۔
طاہرہ آنکھیں بند کر کے بیڈ پر لیٹ چکی تھی ۔۔۔ وہ اپنی آنکھیں بند کے اپنے بیٹے کو مٹھ مارتے ہوے دیکھ سکتی تھی ۔۔۔ طاہرہ کا ہاتھ اسکے مموں کو دبانے لگا اور دوسرا ہاتھ اسکے قمیض کے دامن کو ہٹا کر اسکی شلوار کے اندر اسکی پینٹی میں گھس چکا تھا ۔۔۔ طاہرہ نے اپنی انگلیوں کو اپنی پھدی پر رگڑتے ہوے دو انگلیاں اندر گھسا دیں ۔۔۔ ایک ' پچ ' کی آواز کے ساتھ دو انگلیاں اسکی گیلی پھدی میں گھس چکی تھیں ۔۔۔ ایک مزے کی شدید لہر اسے بہا لے جا رہی تھی ۔۔۔ طاہرہ بغیر کسی خوف اور شرمندگی کے اپنے بیٹے کے لن کا تصور کرتے ہوے اپنی پھدی میں انگلیاں اندر باہر کر رہی تھی ۔۔۔ اپنے ممے دباتے ہوے طاہرہ کی آنکھوں کے سامنے اپنے بیٹے کا جھٹکے کھاتا ہوا جوان لن لہرانے لگا ۔۔۔ طاہرہ کی آنکھیں بند اور منہ کھل چکا تھا ۔۔۔ اسے اپنا سارا خون ٹانگوں کی طرف جاتا محسوس ہوا ۔۔۔ اسکی انگلیوں کی رفتار اور کمرے میں گونجتی پچ پچ کی آواز شدت اختیار کر چکی تھی ۔۔۔ آخری بار یہ احساس اسے کب ہوا شاید اسے یاد بھی نہیں تھا اور نا ہی وہ یاد کرنا چاہتی تھی ۔۔۔
۔
۔
ایک منٹ سے بھی کم وقت میں وہ فارغ ہونے لگی تھی ۔۔۔ طاہرہ نے جھٹکے کھاتے ہوے آنکھیں کھول کر اپنے بیٹے کو سوتے ہوے دیکھا ۔۔۔ اور اپنے بیٹے کو دیکھتے ہوے وہ فارغ ہونے لگی ۔۔۔  طاہرہ کا پوراجسم جھٹکے کھاتا ہوا اچھل رہا تھا ۔۔۔ اسکی ساری پینٹی گیلی ہو چکی تھی ۔۔۔ اور وہ فارغ گئی ۔۔۔
۔
۔
طاہرہ نے اپنی گیلی انگلیوں کو دیکھا تو اسکے ذہن میں شرارت سوجھی ۔۔۔ اس نے جھک کر ان گیلی انگلیوں کو اپنے بیٹے کے ہونٹوں پر پھیرا ۔۔۔ آصف نیند میں ہی اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتا ہوا کروٹ بدل کر سوگیا ۔۔۔ طاہرہ کی ایک دم ہنسی نکل گئی کہ ابھی ابھی اسکے بیٹے نے اپنی ماں کی پھدی کو ٹیسٹ کیا ۔۔۔ وہ ابھی تک مکمل ہوش میں نا تھی ۔۔۔ وہ اپنے بیڈ سے اٹھی اور باتھ روم میں چلی گئی ۔۔۔ وہاں طاہرہ نے خود کو صاف کیا اور کچھ سوچتے ہوے اس نے اپنی گیلی پینٹی کھونٹی پر ہی لٹکا دی اور باہر آ کر سو گئی ۔۔۔
۔
۔
صبح آصف کو ناشتے کے لئے اٹھا کر خود کچن میں چلی گئی ۔۔۔ طاہرہ کو کچن میں کام کرتے ہوے رات کا منظر یاد آیا تو اسے شرمندگی کا ایک ایسا جھٹکا لگا کہ اسے خود سے ہی گھن آنے لگی ۔۔۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور مرد کا سوچے گی ۔۔۔ اور وہ مرد کوئی اور نہیں اسکا سگا بیٹا تھا ۔۔۔ رات کو شاید وہ مکمل ہوش میں نا تھی مگر اب ہوش آیا تو پچھتاوا اسکی سانس روکنے لگا ۔۔۔ ایک دم اسے اپنی پینٹی کا خیال آیا ۔۔۔ وہ بھاگی بھاگی اپنے کمرے کی طرف گئی تو آصف نہا کر باہر نکل آیا تھا ۔۔۔ طاہرہ نے اسے کچن میں بھیج کر باتھ روم کی طرف رخ کیا ۔۔۔ باتھ روم میں جاتے ہی اسے ایک بار پھر اسے شرمندگی نے گھیر لیا ۔۔۔ کیونکہ اسکی پینٹی ایک کھونٹی سے دوسری کھونٹی پر شفٹ ہو چکی تھی ۔۔۔
۔
۔
۔

 

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.