Author Topic: نادانی سے جوانی کا سفر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر بابا جی  (Read 109767 times)

Offline ShaziAlee

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 22
  • Reputation: +5/-1
  • Gender: Female
    • View Profile

جی میں نے اپنے پاس موجود جتنی بھی اقساط تھیں آپ کو ای-میل کر دی ہیں
Masti and just Masti

YUM Stories


Offline dexter

  • nothhing is weird ! but might not be my choice
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 9740
  • Reputation: +540/-314
  • Gender: Male
  • I love to know,think,learn, understand and discuss
    • View Profile
    • Guidelines for New Comers
سعد بھائی کی سائٹ تھی انہوں نے یہ ماریا سے خريدی تھی ۔سعد بھائی کو اتنا علم نہیں تھا سائٹ کا تو اس لیے انہوں نے ایک ای ٹی والا رکھا تھا ۔جو کہ نكام ہو گیا اور سائٹ ساری کو برباد کر گیا ۔جو کہ مجھے لگتا ہے ۔جبکہ حقیقت مختلف بھی ہو سگتی ہے ۔
Mere samny voh site 3,4 bar to band hoi he for sure.Ye in ka tareeqa he shyed.Voh group site banata hePhir us ko sale karts heOr phir khud hi band kar deta he take phir banaye or phir sale karts...Ye mera guess he main ney aaj take kabhi koi site itni bar band hoty naheen dekhi
mujhy apni kund zahani ki waja se akser dosron ki asaan baten samajh naheen aten:( © 2020

Offline MANHIL

  • life for fun.
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1930
  • Reputation: +21/-50
  • آج کے دن کو آخری سمجھ کر جیو ۔
    • View Profile
    • Yumstories.com
بہت بہت شکریہ شازیہ جی

فرید کو اپنے ساتھ بیڈ پر بیٹھا لیا صرف اتنا کہا کہ اس بات کا کسی کو بھی پتانہیں چلناچاہیے کسی کو بھی !
سمجھے؟فرید نے سر ہلا دیا
اسی وقت باہر زوردار کھٹکا ہوا
______________             اب آگے ،،،،،،،،،،،،،،،

مسرت بیگم نے فرید سے کہا باہر دیکھو کس چیز کا کھٹکا ہے فرید نے اپنا حلیہ درست کیا اور باہر نکلا   دیکھا تو بلی نے باہر پڑے ہوئے میز پر چھلانگ لگائی تھی جس کی وجہ سے کھٹکا ہوا تھا 
فرید اندر آیا بی بی جی باہر بلی ہے اس نے چھلانگ لگائی ہے اس کے بعد فرید واپس اپنے بستر پر آگیا ،،،_____________
فرید  بولا  نسیم پھر جب جب بی بی کو ضرورت ہوتی مجھے بلا لیتی تھیں ،پھر تمہارے ساتھ میرا عشق لگ گیا
ایک دن بی بی جی نے رات کو مجھے بلایا میں گیا مگر میں پریشان تھا میری تمہارے ساتھ شادی کے لیے تیرے گھر والے مان نہیں رہے تھے
مسرت بیگم نے مجھے چدائی کے لیے کہا مگر میں دلی سے کر رہا تھا کوئی خاص رغبت نہیں تھی اس وقت  میں فارغ ہوگیا وہ ادھوری رہ گئی تب انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا مسلہ ہے تم پہلے فارغ ہوگئے ہو اور آج سہی طرح سے نہیں کیا ہے
میں نے بتایا کہ میں ذہنی طور پر پریشان انہوں نے بات پوچھی میں بتا دیا کہ میں نسیم سے شادی کرنا چاہتا ہوں اور اس کے گھر والے مان نہیں رہے ہیں انہوں نے کہا کہ تم جاؤ میں صبح کچھ کرونگی اس بارے میں
پھر انہوں نے مجھے بلا کر کہا کہ وہ مان گئے
تم شادی کی تیاری کرو مگر ایک وعدہ کرو
میں نے پوچھا وہ کیا جی تو انہوں نے جب مجھے تمہاری ضرورت ہوگی تم آؤ گے اور مکمل مجھے سکون دے کر جاؤ گے
میں اتنا خوش تھا کہ فورا وعدہ کر لیا
پہلی بار بیگم کو خود سے چوم کر باہر بھاگ گیا اس کے بعد تیری میری شادی ہوگئ
پھر جب۔کبھی بلاتی تو چلا جاتا تھا ایک بار رات کو شبنم بی بی نے مجھے انکے کمرے سے نکلتے ہوئے دیکھ لیا تھا تب تو اس نے کچھ نہیں کہا مگر جب سے طلاق ہوکر آئی میرے پیچھے پڑ گئی
نسیم :یہ بات تم نے مجھے  کیوں نہیں بتائی
- فرید : شبنم والی بتا دی تھی  اس کا کبھی موقع ہی  نہیں آیا  مسرت بیگم سے آخری بار میں نے انکے مرنے سے پانچ سال پہلے کیا تھا اس کے بعد وہ بیمار رہنے لگ گئی تھیں  پھر کبھی نہیں کیا انکے ساتھ
بیگم کے فوت ہونے سے پہلے دوسال پہلے شبنم بی بی طلاق لیکر واپس آگئیں بس چند دن تو اس نے گزارا کیا اس کے بعد مجھے دھمکانے لگ گئی آخرکار میں نے پوچھ لیا کہ اس وقت آپ نے بات کسی کو نا بتائی جب مجھے بڑی بیگم صاحبہ کے کمرے سے نکلتے دیکھا اب ایسا کیا ہوگیا ہے اب تو ایسا کچھ نہیں ہوا جو آپ مجھے یوں دھمکا رہی ہیں
آخرکار بلی تھیلے سے نکل آئی کہ تم میرے پاس رات کو کمرے میں آنا تب بتاؤں گی تب سے لیکر اب تک شبنم بی بی کے ساتھ سلسلہ چل رہا ہے بڑی بیگم کے ہوتے ہوئے محتاط انداز سے بلاتی تھی دو سال ہوگئے ہیں انکو فوت ہوئے اب اسے کسی کا ڈر نہیں ہے
یہ صبح کا منظر بھی قیامت سا حسیں ہے
 تکیہ ہے کہیں ____ زلف کہیں ___ خود وہ کہیں ہے

Offline رضا

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 90
  • Reputation: +5/-1
  • Gender: Male
    • View Profile
زندگی پیار کا گیت ہے
اسے ہر دل کو گانا پڑے گا

Offline MANHIL

  • life for fun.
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1930
  • Reputation: +21/-50
  • آج کے دن کو آخری سمجھ کر جیو ۔
    • View Profile
    • Yumstories.com
15 حصہ



بڑا چوہدری سارا دن ڈیرے پر ، نیلم ،بی بی ،حنا بی بی اپنی پڑھائی میں اور ٹی وی پر مصروف کمال بھی پڑھنے میں کھیل کود  لگا رہتا اس پر نظر کس نے رکھنی ہے  ،
ساری بات سنا کر فرید نے کہا اب راضی ہو نسیم بولی میں تو بڑی بیگم کی بات سن کر حیران رہ گئی ہوں وہ ایسی نہیں لگتیں تھیں
فرید بولا عورت ذات بڑی عجیب چیز ہے
اگر کچھ کرنے پر آئے سات پردوں میں کر جاتی ہے نا کر ے تو کھلے گھروں اور میدان میں بھی رہے تو کچھ نہیں کرتی ،باقی بات بڑے گھروں کے مردوں کی جب تک اپنی بیویوں کو وقت نہیں دینگے ایسا ہوتا رہے گا
نسیم بولی کہہ تم ٹھیک ہی رہے ہو
فرید بولا چلو سو جاؤ اب مجھے بھی نیند آ رہی ہے میں تھکا ہوا  دونو ں میاں بیوی باتیں کرتے کرتے سو گئے ،،،،،،،،،،،،،
مگر خرم کروٹ لیے جاگ رہا تھا اس اپنے باپ اور ماں کے درمیان ساری گفتگو سن لی تھی کافی باتوں کی اسے سمجھ آگئی تھی کچھ چند باتیں تھی جن کا اس نے سوچا صبح اچھو سے پوچھو گا یہ سوچتے ہوئے سو گیا،
___
صبح آنکھ کھلی خرم نے نہا دھو کر ناشتہ کیا جو کہ نسیم بنا کر دے کے چلی گئی تھی اسے زری نے دیا وہ کرکے سکول چلا گیا
سکول میں تفریح کے وقفے کے وقت کھیلنے کے میدان کی نکر پر اچھو ،  شادو کے بھائی بلو کے ساتھ  باتیں کر رہا تھا  خرم بھی انکی طرف چل پڑا  اچھو نے خرم کو اپنی طرف آتا دیکھ کر بلو کے کندھے پر تھپکی دی وہ چلا گیا
خرم ،اچھو کے پاس آکر بولا اوئے کنجر جب بھی میں آرہا ہوتا ہوں مجھے دیکھ کر اس بہن کے یار کو بھگا کیوں دیتا ہے 
اچھو گانڈو میں ایسا جان بوجھ کر کرتا ہوں کہ اسے ایسا لگے کۓ جو بات میں اس سے کر رہا ہوں اس۔بات کا اور کسی کو نہیں پتا ہے
ورنہ وہ اپنی بہن کو بتا بھی سکتا ہے کہ اچھو کے ساتھ خرم بھی ہے کہیں وہ سالی بدک ہی نا جائے
خرم چل جو مرضی کر اپنی اس شاد و کے لیے  پر یار یہ بتا وہ کیسے مانے گی تیرے لیے
وہ تیرے دس بارہ سال بڑی ہے
اچھو تو کیا ہوا ہم بڑی چھوٹی کا کیا کرنا ہے ہم نے تو سودا لینا ہے اسے بھی سواد ملے گا ہمیں بھی ، خرم بولا یہ ہمیں کون ہے۔ ؟،،   بھئی تیرے اکیلے کا کام ہے میرا کام نہیں ہے اورنہ ہی میں ایسے کسی کام میں پڑوں گا
©
 
یہ صبح کا منظر بھی قیامت سا حسیں ہے
 تکیہ ہے کہیں ____ زلف کہیں ___ خود وہ کہیں ہے

Offline MANHIL

  • life for fun.
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1930
  • Reputation: +21/-50
  • آج کے دن کو آخری سمجھ کر جیو ۔
    • View Profile
    • Yumstories.com

اچھو بولا چل ناراض نہ ہو میرے ساتھ  تو چلے گا کچھ کرے گا نہیں تو دیکھ کر مزے تو لے گا ،خرم بولا مطلب وہ مان گئی ہے
اچھو ہنستے تیرا یار ایویں نہیں کسی کے پیچھے پڑتا ،
خرم بولا کیا مطلب کیا کہا۔اس نے
اچھو بولا یار کیاکہنا ہے،، توقف کے بعد بولا اس نے کہا کہ شام سے پہلے وہ چارا کاٹنے چوہدریوں کے کھوہ پر  جائی گی بلو کے ساتھ وہیں سے وہ کیھتوں میں پیشاب کے بہانے گھس کر کھوہ کے ٹیوب ویل والے کمرے میں آجائے گی ہم نے شام سے پہلے ادھر جانا ہے  میں اگلی طرف بیٹھوں گا اور توں پیچھے کماد کی طرف کھیت میں بیٹھنا جب ہم کمرے میں گھس جائیں تو باہر نظر رکھنا کوئی مسلہ ہوتو مجھے دروازہ ہلکا سا ہلا کر بتا دینا
خرم بولا تو نے ساری تیاری کر لی ہے ،اچھو بولا دیکھتا جا  خرم اچھا ٹھیک ہے اتنے میں تفریح ختم ہونے کی گھنٹی بجی دونوں واپس کلاس میں آگئے ،چھٹی کے بعد گھر آیا زری گھر پر اکیلی تھی اس نے خرم کو کھانا دیا خرم کھانا کھانے کے بعد باہر جانے لگا تو زری نے پوچھا کہاں جا رہے ہو ،خرم میں اماں کی طرف حویلی جا رہا ہوں زری جلدی آنا میں گھر میں اکیلی ہوں
خرم اچھا آتا ہوں ،وہ حویلی میں آگیا اسے اگلے دن والا واقعہ ذہن میں آیا جو نلکے پر گیا تو نیلم کو نہاتے ہوئے دیکھ لیا تھا اس کا آج پھر دل کر رہا تھا کہ نیلم چوہدری کو پھر سے نہاتے ہوئے دیکھے مگر اسے پتا تھا کہ کھلے عام باہر نلکے پر کھڑے ہو کر کیسے دیکھے گا کوئی نا کوئی نلکے پر آتا جاتا رہتا ہے یا دوسرے ٹوائلٹ میں آجاتا ہے اس سے پوچھ سکتے ہیں کیا کر رہا کسی بہانے کے بنا تو نلکے پر رکا نہیں جا سکتا تھا اسے پتا تھا کہ نیلم چوہدری سکول سے آنے والی ہے اور وہ روزانہ سکول سے آنے کے بعد یونیفارم اتار کر نہا کر کپڑے بدلتی ہے چھوٹی حنا چوہدری وہ سست طبیعت کی تھی وہ ہمیشہ سکول سے آنے کے بعد کھانا کھاتی پھر سو جاتی تھی شام کو کپڑے بدلتی تھی وہ۔نیند کی بڑی شیدائی تھی
خرم۔یہ۔سب سوچتے ہوئے حویلی آگیا تھا وہاں آکر پتا چلا کہ تینوں بہن بھائی آج سکول گئے ہی نہیں کیونکہ انکی چاچی ،اور چاچا کافی دنوں بعد ملنے آئے ہوئے تھے   وہ سیدھا ماں کی طرف چل پڑا نسیم اس وقت دوپہر کی روٹی کا انتظام کر رہی تھی گاؤں کی رسوئی کا ماحول تھا ،شبنم چوہدری نسیم کے پاس چارپائی پر بیٹھی ہوئی تھی  باتیں بھی کر رہی تھی خرم کو آتا دیکھ کر دونوں چپ ہوگئیں
نسیم بولی ہاں کیا کرنے آیا ہے اس نے کہا ماں مجھے پیسے دے میں نے دوکان سے چیز لینی ہے ،نسیم نے کہا ٹھہر جا گھر جاکےدیتی ہوں یہاں میرے پاس نہیں ہیں ، شبنم اسے اپنے قریب بلایا خرم اس کے پاس چلا گیا  اس نے اپنے سینے سے دوپٹہ ہٹایا اور اپنے برا میں ہاتھ ڈال کر وہاں رکھے ہوئے پیسے نکالے بولی کتنے لینے ہیں خرم چپ کھڑا رہا اس سے بتایا نہیں جا رہا  شبنم  اسے پچاس روپے کا نوٹ پکڑا دیا نسیم نوٹ دیکھ کر بولی شبنم بی بی اسے اتنے زیادہ پیسے نا دیں یہ ایویں خرچ کرتا پھرے کوئی کام شئے نہیں لینی اس نے شبنم بولی کچھ نہیں ہوتا جانے دے اسنے خرم کو جانے کا اشارہ دیا  خرم چھلانگیں مارتا ہوا حویلی سے نکل آیا ، دوپہر کے تین بج رہے تھے  گرمی اپنا کام دکھا رہی تھی ہر کوئی اپنے گھر یا درختوں کے نیچے بیٹھا آرام کر رہا  ،خرم حویلی سے نکل کر باہر  اپنی کی نکڑ گلی میں کھیلتے ہوئے بچوں کے پاس کھڑا ہوگیا ،پھر وہ دوکان پر آیا وہاں عذرا ماچھن کھڑی ہوئی گھر کے لیے سودا لے رہی تھی اس کے ہاتھوں پر ابھی تک آٹا لگا ہوا تھا لگ رہا تھا کہ ابھی تندور بند کر کے آئی ہے،  دوکاندار دو بڈھے میاں بیوی تھے باری باری دوکان چلاتے ہیں ،اس وقت دکان پر بڈھی عورت بیٹھی ہوئی جسے سارے گاؤں والے چاچی کہتے تھے ،عذرا بولی چاچی پتہ ،دے دے (پتہ گاؤں میں بال صفا پاوڈر کے ساشے کو کہتے ہیں) چاچی نے اس ایک چھوٹا سا پیکٹ دیا۔ ،چاچی بولی  اب تو کریم اور لوشن بھی آگیا خوشبو بڑی آتے ہی اس
عذرا بولی اچھا وہی دے دے چاچی نے پتہ واپس اٹھا لیا اور  کریم کی ڈبی دے دی ،عذرا بولی چاچی ساتھی (کنڈوم) بھی دے دے چاچی نے وہ بھی دے دیا،خرم چپ چاپ کھڑا دیکھ رہا تھا وہ دونوں چیزوں کے بارے میں جانتا تھا اکثر سکول میں دوسرے لڑکے اور اچھو ایسی باتیں کرتا رہتے تھے



جن سے دن بدن اس کو آگاہی ہوتی جا رہی تھی  عذرا نے اسے دیکھا وہ دونوں چیزیں اٹھا لیں  اور چادر میں چھپا لی پہلے اس نے خرم کو دیکھا نہیں تھا چاچی بولی عذرا سا تھی کیوں استعمال کرتی ہو ،بالو کی  نسل بڑھنے دو ابھی تک بچے نہیں ہوئے ، عذرا بولی چاچی پہلے کبھی نہیں لیا آج لیا اسے خارش ہوگئی ہے وہ مجھے نا پڑ جائے چاچی بولی اچھا وہ وہاں سے چلی گئی  خرم نے کھانے کی چیزیں لیں اور آہستہ آہستہ کھاتا ہوا واپس آ رہا تھا کہ اسے شادو  ہاتھ میں کپڑا اور درانتی( چارہ کاٹنے والی )لیکر چوہدری کے کھوہ کی طرف جاتی نظر آئی
16

خرم کو پتا چل گیا کہ شادو ،اچھو سے ملنے جا رہی ورنہ  اتنی دھوپ میں کوئی بھی چارہ کاٹنے نہیں جاتا ، خرم غیر محسوس انداز میں
اس کے پیچھے چل پڑا  وہ اپنی دھن میں جا رہی تھی وہ گاؤں سے باہر چوہدری کے کھوہ کو جاتے ہوئے راستے پر جا رہی تھی  آگے کماد کی فصل تھی دونوں طرف  درمیان میں کھالا تھا جس سے پانی گزار کر کھیتوں کو لگاتے وہ سوکھا پڑا تھا شادو اس میں چل رہی تھی خرم اس سے کافی فاصلے پر تھا وہ آگے سے موڑ مڑ گئی خرم اس کے پیچھے موڑ مڑ رہا تھا کہ آگے کے منظر نے اسے رکنے پر مجبور کر دیا شادو وہی  کھالے کے درمیان میں شلوار اتار کر نیچے بیٹھی پیشاب کر رہی تھی اس کی خرم کی طرف کمر تھی  ،خرم  رک کر چھپ کر اسے دیکھنے لگ گیا شادو کی شادو رنگت نا گوری تھی اور نا ہی سانولی یہ درمیانی رنگت کی جوان لڑکی تھی اس کے چوتڑ ایک متناسب لڑکی کی طرح تھے مگر خرم کے لیے یہ منظر ہیجان خیز تھا شادو پیشا ب کر کے اٹھ کھڑی ہوئی  پھر آگے ہوکر  کھڑے پانی سے پھدی دھوئی پھر اس نے اپنی شلوار اوپر کر لی اس نے لاسٹک والی شلوار پہنی ہوئی تھی وہ آگے کی طرف چل پڑی خرم بھی دبے پاؤں اس کے پیچھے پیچھے تھا شاد و کھوہ پر پہنچ گئی ٹیوب ویل والا کمرے کا دروازہ کھلا پڑا تھا اچھو وہاں پہلے موجود تھا وہ شادو کو دیکھ کر بیٹھا رہا شادو کمرے میں چلی گئی اچھو اٹھا اس نے ادھر ادھر دیکھ بھال کی اور پھر کمرے میں گھس گیا  اور دروازہ بند کر دیا  خرم جو چھپ کر کھڑا ہوا تھا وہ آہستہ آہستہ
پیچھے بنی کھڑکی پر آگیا جہاں سے اس نے عذرا ماچھن کو بریزیر اتارتے ہوئے دیکھا تھا
وہ کھڑکی پر بنے ہوئے سوراخ پر آنکھ لگا کر بیٹھ گیا تھا ،اندر سے آہستہ آہستہ باتیں کرنے کی آوازیں آ رہیں تھیں ،شادو ،بولی مجھے کیوں بلایا ہے ،  حالانکہ اسے پتا تھا کہ کیوں بلایا مگر وہ عورت ذات ہی کیا جو اپنے اوپر بات آنے دے ،  اچھو گو کہ عمر میں اس 12/13 سال چھوٹا تھا مگر وہ گاؤں کا لڑکا تھا صحت مند اور اپنی عمر سے زیادہ لگتا تھا
اچھو بولا ،تو مجھے اچھی لگتی ہے اس لیے بلایا ہے شادو مسکراتے ہوئے تو میں کیا کرو
اچھو نے ہنستے ا س کا بازو پکڑ لیا اور بولا تو کل کی طرح میری طرف دیکھ کر مسکراتی رہ اور میں تجھے دیکھتا رہو ، شادو مسکراتے ہوئے آیا ؤڈا عاشق اپنی عمر وی ویکھ تے میر ول وی ویکھ ،
اچھو بولا ،دل ہونڑا  چاہیدا جوان عمراں اچ کی رکھیا اے   شادو بولی بڑیاں گلاں آندیاں تینوں ،کدی کسی کڑی دے نیڑے لگا وی ہیں
میں تیرے توں کنی وڈی آں پتا وی ہے
اچھو بولا تیری میری عمراں وچ چوہدری کمال تے عذرا ماچھن نالوں ذیادہ فرق تے نئیں
شادو ،اچھل پڑی ادھر خرم بھی باہر کھڑا انکی باتیں سن رہا تھا چوہدری کمال اور عذرا کا نام سن کر وہ بھی چونک گیا تھا  ،شادو بولی
کیا مطلب یہ تو کیا کہہ رہا ہے اچھو بولا  چوہدری کمال اور عذرا ماچھن کا نین مٹکا چل رہا ہے ،شادو بولی تجھے کس نے بتایا ہے
اچھو بولا میں نے خود انہیں دیکھا ہے  کل وہ عذرا کے گھر آیا تھا اور کام ڈال کر گیا ہے
شادو نے حیرت سے منہ پر ہاتھ رکھ لیا اور بولی ہائے میں مرگئی ،اتنی میسنی نکلی عذرا اسنے تو سیدھا چوہدری پر ہاتھ ڈال دیا  اور بڑی پارسا بنتی ہے ،اچھو بولا دیکھ لے پھر اس نے شادو کا دوسرا ہاتھ بھی پکڑ لیا اسے اپنے قریب کرنے لگا ،شادو بولی کیا کرنے لگے ہو  اچھو بولا کچھ نہیں  تمہیں سینے سے لگا کر اپنے آپ کو ٹھنڈ ڈالنے لگا ہوں اس کی بات سن کر شادو ہنس پڑی اور اس مکا مارتے ہوئے بولی تجھے تو بڑی باتیں آتیں ہیں  اچھو بولا باتوں کے علاوہ بھی بڑا کچھ آتا ہے  ،شادو بولی کیا کیا آتا ہے مجھے بھی پتا چلے ،اچھو نے بڑے آرام سے اس کی قمیض کا دامن پکڑا اور اوپر کرنے لگا شادو بولی کیا کرنے لگے ہو اچھو نے اس کے ہاتھ نیچے کرتے ہوئے کہا کہ بتانے لگا ہوں کہ کیا کیا آتا ہے مجھے اور اس کی قمیض اوپر کر دی دوپٹہ بھی اوپر کر دیا قمیض کا دامن اوپر کیا تو شادو کے  تقریبا چھتیس سائز کے گول مٹول ممے بغیر بریزیر کے باہر نکل آئے اچھو نے سیدھا دائیں پستان کے براؤن نپل کو منہ میں لے لیا  شادو کے منہ سے سسکاری نکلی اچھو نے نپل چوسنے کے ساتھ ساتھ ہولے اس کے ممے دبانے شروع کر دیے  شادو سے اب بے چینی کے مارے کھڑا نہیں ہوا جا رہا تھا وہ گرنے والے انداز میں اسکے پیچھے پڑی ہوئی چارپائی پر بیٹھ گئی اچھو نے اسے لیٹا دیا اور خود اس کے اوپر آگیا شادو تو نشیلی آنکھوں کے ساتھ اس کو تک رہی تھی اچھو نے اب دوسرا پستان چوسنا شروع کر دیا  شاد و اس کو اپنے ممے چوستے ہوئے تک رہی تھی اس نے اپنے ہاتھ اچھو کی کمر پر پھیرنے شروع کر دیے اچھو ممے چھوڑ کر اس کے گالوں پر آگیا اسنے اس کے گالوں پر بوسے لینے شروع کردیے تھے شادو نے اس کے سر کو پکڑا اور اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے اور  بھرپور انداز میں کسنگ شروع کر دی 

یہ صبح کا منظر بھی قیامت سا حسیں ہے
 تکیہ ہے کہیں ____ زلف کہیں ___ خود وہ کہیں ہے

Offline MANHIL

  • life for fun.
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1930
  • Reputation: +21/-50
  • آج کے دن کو آخری سمجھ کر جیو ۔
    • View Profile
    • Yumstories.com
Abhi yahi copy paste ki hi jin mein bhut mushkil pesh ai hi .kal mazeed post kar do ga update
یہ صبح کا منظر بھی قیامت سا حسیں ہے
 تکیہ ہے کہیں ____ زلف کہیں ___ خود وہ کہیں ہے

Offline رضا

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 90
  • Reputation: +5/-1
  • Gender: Male
    • View Profile
Abhi yahi copy paste ki hi jin mein bhut mushkil pesh ai hi .kal mazeed post kar do ga update


بہت خوب مناہل جی میں آپ کی اس محنت کا صلہ تعریف کی شکل میں پیش کر سکتا ہوں
بہت اچھے انداز میں کہانی کو آگے بڑھا رہی ہیں آپ
نائس ورک اینڈ گڈ جاب
زندگی پیار کا گیت ہے
اسے ہر دل کو گانا پڑے گا

 

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.