Author Topic: نادانی سے جوانی کا سفر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر بابا جی  (Read 109764 times)

Offline dexter

  • nothhing is weird ! but might not be my choice
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 9740
  • Reputation: +540/-314
  • Gender: Male
  • I love to know,think,learn, understand and discuss
    • View Profile
    • Guidelines for New Comers
Abhi yahi copy paste ki hi jin mein bhut mushkil pesh ai hi .kal mazeed post kar do ga update
Kiya mushkil pesh aai he ? Ganja hona para he ?
mujhy apni kund zahani ki waja se akser dosron ki asaan baten samajh naheen aten:( © 2020

YUM Stories


Offline MANHIL

  • life for fun.
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1930
  • Reputation: +21/-50
  • آج کے دن کو آخری سمجھ کر جیو ۔
    • View Profile
    • Yumstories.com
Abhi yahi copy paste ki hi jin mein bhut mushkil pesh ai hi .kal mazeed post kar do ga update
Kiya mushkil pesh aai he ? Ganja hona para he ?
Nhi jano story PDF mein is leye waha se copy paste mushkil ho raha hi mobil se
یہ صبح کا منظر بھی قیامت سا حسیں ہے
 تکیہ ہے کہیں ____ زلف کہیں ___ خود وہ کہیں ہے

Offline MANHIL

  • life for fun.
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1930
  • Reputation: +21/-50
  • آج کے دن کو آخری سمجھ کر جیو ۔
    • View Profile
    • Yumstories.com
اچھو نے اپنا ہاتھ اس کے مموں پر پھیرا پھیر کے ننگے پیٹ پر سے ہوتے ہوئے اس کی شلوار پر پھدی کے مقام پر آکر ہاتھ روک لیا  شادو تڑپ اٹھی بولی  اچھو نہیں اس کومت ہاتھ لگاؤ اچھو نے ہاتھ روک  لیا کہ کہیں یہ بھڑک نا جائے شادو۔ بولی  صرف میرے سینے کو پیار کرو ادھر  اچھو کا چار انچ کا عضو جو ابھی  کسی لڑکی کی پھدی میں نہیں گیا تھا وہ  پھڑک رہا تھا اس نے احتجاج شروع کیا ہوا تھا کہ  کچھ کرنے دو وہ شادو کی ٹانگوں سے رگڑ کھا رہا تھا اچھو  شادو کےممے چاٹنے کے بعد اس کی ناف پر آگیا اس کا پیٹ ایک دم سڈول تھا جب اچھو کی زبان  شادو کی ناف کی گہرائی میں گئئ تو شادو تڑپ اٹھی اور اور اسے گلے سے لگا لیا اچھو نے شادو کی شلوار پکڑی اور نیچے کر دی شادو روکتی رہ گئی مگر اب اس کے روکنے کے انداز میں نرمی تھی شادو نے اپنی پھدی کے اوپر ہاتھ رکھ لیے  چھپانے کی کوشش کرنے لگ گئی  اچھو نے اس کی پھدی سے ہاتھ ہٹا دیئے  اور اس کی کھلی ٹانگوں میں بیٹھ کر اپنی زبان اس کی تازہ صاف کی ہوئی پھدی پر رکھ دی  شادو کی شرم کے مارے آنکھیں بند ہوگئیں تھیں جب شادو کو اچھو کی زبان کے لمس کا پتا چلا وہ تو تڑپ اٹھی اور بولی اچھو اے کی

[/size]کر دیتا
[/size]اچھو۔نا۔رکا۔  شادو  نے سر ادھر ادھر مارنا شروع کر دیا  اس کی پھدی مسلسل پانی چھوڑ رہی تھی  شادو کی اب سسکاریاں چیخوں میں بدل گئیں تھیں۔ اچانک اس کے جسم نے آہ کی۔آواز کے ساتھ  جھٹکا لیا اچھو کے منہ پر پانی چھوڑ دیا اور چارپائی پر ساری شادو کی منی گر رہی تھی اچھو پیچھے ہٹ گیا اس نے شادو کے دوپٹے سے منہ پرسے اس کی منی کے چھینٹے صاف کئے  شادو   اٹھ کر بیٹھ گئی اس نے شلوار اوپر کر لی اور کھڑی ہوگئی  ادھر اچھو کا شہوت سے عضو کھڑا ہوا تھا اور اچھو کا برا حال تھا  شادو بولی چلو بس بہت ہوگیا چلیں اب اچھو منت بھرے لہجے میں بولا شادو  کچھ دیر ٹھہر جا تو ٹھنڈی ہوگئی ہے مجھے تو ٹھنڈا کر دے شادو بولی ابھی نہیں ابھی کوئی ادھر آسکتا ہے اچھو نے دل میں کہا گشتیے اس وقت ڈر نہیں تھا پھدی چٹوا رہی تھی اب نخرے کرتی ہے  مگر اچھو جو دل میں سوچ رہا تھا اسے کہہ نہیں سکتا کیونکہ ابھی اس کا مطلب پورا نہیں ہوا تھا اچھو اس کی منت سماجت پر اتر آیا آخر کار شادو نے کہا ادھر آ تجھے فارغ کرواتی ہوں اچھو اس کے قریب ہوگیا شادو نے اس کا عضو خاص پکڑ لیا محسوس کرتے ہوئے بولی کیا کھاتا ہے تو  جو اتنا بڑا اور موٹا کیا ہوا اتنی۔عمر تو نہیں ہے تری جتنا یہ بن چکا اچھو بولا یہ ایسے ہی ہے میں کچھ نہیں کرتا، شادو بولی اچھا نالا کھول اچھو نے کھول دیا شادو نے اپنی ہتھیلی پر تھوک پھینکا اور چکنی کرکے اچھو کے عضو خاص کو پکڑ لیا اچھو کی آہ نکل گئی شادو نے نیچے 
[/size]بیٹھ کر اس کے عضو خاص کو آگے پیچھے کرنا شروع کر دیا شادو کے ہاتھوں میں کیا جادو تھا  کچھ ہی منٹوں میں اچھو کے عضو خاص نے اپنا پانی اگل دیا ہے اچھو چارپائی پر بیٹھ کر لمبی لمبی سانسیں لینے لگ گیا  شادو اٹھی اس نے اپنے کپڑے درست کیے اور باہر جانے لگی اچھو نے پیچھے سے آواز دے کر پوچھا پھر کب ملو گی  شادو نے کوئی جواب نہیں دیا اور ہنستے ہوئے نکل گئی  خرم باہر بیٹھا پسینے سے پانی پانی ہوچکا تھا اس کا حلق خشک ہوچکا تھا اس کی جسمانی ساخت بدل رہی تھی اسے آج یہ سب دیکھ کر مزہ آیا تھا اس کا دل نہیں کر رہا تھا مگر وہاں اب رہ ہی کچھ نہیں گیا تھا  اچھو بھی اپنے کپڑے درست کر کے نکل آیا تھا وہاں سے۔ خرم ان دونوں کے جانے کے بعد  وہاں سے نکل آیا تھا اور حویلی میں آگیا تھا آج کے منظر اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم رہے تھے ، دن آہستہ آہستہ ڈھل رہا تھا ، حویلی کے صحن میں سب بیٹھے ہوئے تھے اس کی ماں اور شبنم بی بی کھانے کا۔انتظام کررہیں تھیں  وہ انکا پاس بیٹھ گیا آج وہ شبنم بی بی کے سینے کی طرف دیکھ رہا تھا جو کہ شبنم کی قد و قامت کے حساب سے انتہائی مناسب تھا اس  سینے پر سے دوپٹہ ہٹا ہوا تھا مموں کی درمیانی لکیر نظر آ رہی تھی جہاں سے ہاتھ ڈال کر آج شبنم بی بی نے اسے پیسے دیے تھے اس کی نظریں بار بار شبنم کے سینے پر پڑ رہیں تھیں
[/size]اچانک اسے شادو حویلی میں آتی دکھائی دی اس وقت اس نے کپڑے بدلے ہوئے تھے اور نہائی ہوئی لگ رہی تھی
یہ صبح کا منظر بھی قیامت سا حسیں ہے
 تکیہ ہے کہیں ____ زلف کہیں ___ خود وہ کہیں ہے

Offline MANHIL

  • life for fun.
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1930
  • Reputation: +21/-50
  • آج کے دن کو آخری سمجھ کر جیو ۔
    • View Profile
    • Yumstories.com



18
اس کو دیکھتے ہی خرم کی آنکھوں کے سامنے دوپہر والا منظر آگیا   شادو کے ممے بڑے تھے اور چلتے ہوئے ہلتے  بھی زیادہ تھے وہ شبنم بی بی کے پاس آئی اور کوئی بات کان میں بتا کر چلی گئی تھی اس کی ماں نسیم نے کوئی خاص نوٹس نہیں لیا تھا اس کے آنے کا اور شبنم بی بی کے کان میں بات کرنے کا ،
خرم ادھر ہی بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں ،شبنم ،کی چھوٹی بھابھی مہرو ان کے پاس آ کر بیٹھ گئی تھی  شبنم نے مہرو کے لیے چارپائی پر  بیٹھنے کے لیے جگہ بنائی ،مگر مہرو نے خرم کی طرف دیکھا بولی خرم وہ کرسی اٹھا لاؤ خرم جلدی سے اٹھ کر کرسی لے آیا مہرو بی بی کے پاس رکھ دی مہر و انکے پاس بیٹھ گئی  شبنم ، اور مہرو آپس میں باتوں میں لگ گئیں گاہے بگاہے  نسیم بھی انکی باتوں میں حصہ لے رہی تھی ،اچانک انکا موضوع بدل گیا ،مہرو بولی شبنم تم اب شادی کر لو کیسے گزارا ہوتا ہے تیرا ،معنی خیز انداز میں ہنستے ہوئے کہا
اسی لمحے میں شبنم اور نسیم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا  پھر شبنم بولی کیا کرنا ہے ،مہرو بھابھی بس ایک بندے کا منہ دیکھ کر دل بھر گیا ہے اب دل نہیں مانتا ہے ،
مہرو بولی  پتہ نہیں تم کیسے رہ لیتی ہو تیرا بھائی دو دن نا آئے تو میں اس کے پاس چلی جاتی ہوں یہ تو ایک نشہ ہے جو پورا ہی نہیں ہوتا جنتا کرو اتنا اور کرنے کو دل کرتا ہے
شبنم بولی بس بھابھی گزر رہی ہے گھر کے کام کاج میں بچیاں پڑھ رہیں ہیں اب انکے ہاتھ پیلے کرنے کی ذمہ داری میری ہے انکی ماں ہوتی تو اور بات تھی بڑے بھائی جان ذیادہ وقت ڈیرے پر اور زمینوں پر رہتے ہیں ،اب کرنا چاہوں تو بھی نہیں کرسکتی شادی،
لوگ کہیں گے کہ پہلے بھابھی کی زندگی میں  بیٹھی رہی ہے شادی نہ کی اب جب وہ نہیں رہی ذمہ داری شبنم پر آگئی تو اس نے اپنا گھر بسا لیا اور چل دی اب تو دل کرے بھی تو نہیں کرونگی ،مہرو بولی ابھی تم جوان ہو میرے سے چھوٹی ہو اتنی منہ زور جوانی کو کیسے کنٹرول کرتی ہو یا کرو گی
یہ سب  باتیں وہ خرم کۓ سامنے کر رہیں تھیں ،جیسے گاؤں میں عورتیں اتنا خاص دھیان نہیں کرتیں ،ویسے بھی وہ اس کا قد بڑا ہوگیا ہے  مگر وہ اسے چھوٹا  بچہ سمجھتی تھیں مگر وہ غلط فہمی کا شکار تھیں یہ بچہ نہیں رہا تھا  اب مرد بننے کے قریب ہوتا جا رہا تھا سب سمجھنے لگ گیا تھا
شبنم بولی مہرو بھابھی بس گذر رہی ہے
مہرو اچھا جیسے تیری مرضی  ،ویسے اگر تو کہے تو کوئی گھر داماد جیسا رشتہ ڈھونڈ لوں تیرے لیے کہ تو ادھر کی ذمہ داری بھی پوری کر لے گی اور تیرا گھر بھی بن جائے گا
شبنم مسکراتے ہوئے  چلو دیکھ لے بھابھی مگر خاندان سے باہر کا ہو تو بہتر ہے بس میری یہ شرط ہے
مہرو بولی چل ٹھیک ہے کرتی ہو ں تیرے بھائی سے بات کہ شبنم مان گئی ہے مگر اس کی یہ شرط ہے   ، اس طرح نسیم سے بھی باتیں ہو رہیں تھیں  ،خرم حویلی سے باہر نکل کر سکول کے میدان کی طرف آگیا ابھی لڑکے کھیل رہے تھے  اچھو نظر نہیں آ رہا تھا  تھوڑی دیر بعد اچھو سائیکل چلا کر آتا نظر آیا بلو جو ایک طرف بیٹھا ہوا تھا اس کی طرف چل پڑا اچھو نے اس کو سائیکل چلانے کا طریقہ بتایا اور سہارا دیکر چلانا سیکھا رہا تھا کچھ دیر کے بعد اچھو نے بس کر دی اور بلو سے کہا کہ باقی کل سیکھاؤ گا ،بلو چلا گیا اچھو خرم کے پاس آ کر بیٹھ گیا اور ہاں بھئی کہاں رہ گیا تھا آج تجھے دوپہر کو بڑا ڈھونڈا تھا  ،خرم غصے  سے  بولا کیوں ، اچھو نے بتایا  یار وہ شادو نے اچانک پیغام بھیجا تھا بلو کے ہاتھ کے ابھی آو شام کو میں نہیں آسکتی ،میں اسی وقت تیرا پتا کرنے گھر گیا تیرے وہاں زری نے بتایا کہ باہر نکلا ہے ، خرم کا سارا غصہ جو اچھو پر تھا ٹھنڈا ہوگیا  کیونکہ جب وہ اس کا پتا کرنے اس کے گھر گیا تھا اس وقت وہ حویلی میں تھا جب شبنم نے پیسے دئے تھے یا پھر چاچی کی دوکان پر ہوسکتا ہے   
خرم بولا اچھا پھر تو گیا تھا اچھو مسکراہٹ کے ساتھ ہاں گیا تھا خرم بولا پھر کیا ہوا
اچھو نے ساری روداد سنا دی  مگر چوہدری کمال اور عذرا ماچھن والی بات نا بتائی
خرم بولا تو عذرا ماچھن اور چوہدری کمال والی بات جو وہاں ہوئی ہے وہ بھول گیا ہے یا بتانا نہیں چاہتا بے غریتا
اچھو  چونکا اور بے ساختہ بولا تجھے کس نےکہا خرم ہنستے ہوئے میں نے تیری ساری پین یکی دیکھی اور سنی ہے
اچھو ہکا بکا رہ گیا۔ اور بڑا گانڈو ہے تو ،کدھر تھا
- خرم نے شادو کے پیچھا کرنے سے لیکر  نکلنے تک کی ساری کاروائی سنا دی اچھو نے اس کی کمر پر ہاتھ مارا بڑا بے غیرت ہے تو نے پتا ہی چلنے دیا اسکو اور مجھے بھی ، دونوں دوست ہنستے ہوئے وہاں سے چل پڑے شام کا اندھیرا پھیل رہا تھا  خرم سیدھا گھر آیا اور نلکے میں نہانے لگ گیا کپڑے پہن کر باہر آیا زری کے پاس بیٹھ کر اس سے ابا کا پوچھا  زری نے بتایا کہ دوپہر کو گھر آئے تھے کھانا کر چلے گئے اب رات کو ہی آئیں گے ،
یہ صبح کا منظر بھی قیامت سا حسیں ہے
 تکیہ ہے کہیں ____ زلف کہیں ___ خود وہ کہیں ہے

Offline MANHIL

  • life for fun.
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1930
  • Reputation: +21/-50
  • آج کے دن کو آخری سمجھ کر جیو ۔
    • View Profile
    • Yumstories.com



19

خرم حویلی آگیا ادھر خوب گہما گہمی لگی ہوئی تھی اچھو کو دیکھ کر نیلی چلا کر بولی وہ دیکھو خرم آگیا ہے اب مزہ آئے گا  نیلم ،حنا، چندہ ،فراز کوئی کچھ کھیل رہے تھے شاید ،خرم انکے پاس آگیا نیلم بولی خرم آ چھپن چھپائی کھیل رہے ہیں ہم ، شبنم مہرو چوہدری جمال ،چوہدری فراست اکٹھے بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے ،
نیلی نے خرم سے کہا کہ سب نے باری دی ہے اب تم دو تم حویلی کے گیٹ پر جا کر پچاس تک گنتی گنو اور پھر آکر ہمیں ڈھونڈ لو  خرم گیٹ پر آکر گنتی گن کر گیا وہ چاروں چھپ چکے تھے  خرم نے ڈھونڈنا شروع کر دیا حویلی کافی بڑی تھی اس کے دس بارہ کمرے آگے پیچھے بنے ہوئے تھے اندر ہی اندر سے راستے بھی تھے خرم کو اس کی ماں نے آنکھوں کے اشارے سے اوپر کا اشارہ کیا تو اسے سمجھ آگئی اس کی ماں بیٹھی مسکرا رہی تھی ،خرم سڑھیاں چڑھتا ہوا چھت پر بنے کمر ے اور برآمدے کی طرف آگیا اوپر برآمدے میں  چارپائیاں پڑی ہوئی تھیں خرم چپکے سے آیا اس نے وہاں چارپائیوں کے پیچھے چھپے وجود کو پکڑا تو سیدھا ہاتھ اس کا نرم و ملائم گوشت  میں پیوست ہوگیا اس نے زور سے پکڑ لیا تھا اس کے ہاتھ ذرا زیادہ پیوست ہوئے تھے وہ وجود اچھل کر کھڑا ہوا وہ کوئی اور نہیں نیلی تھی اس کے ممے خرم کے ہاتھ میں آگئے تھے جو خرم نے پیچھے سے ہاتھ ڈال  کر پکڑے تھے  ،خرم زور سے بولا پکڑ لیا نیلی بولی ہاں پکڑ لیا اب چھوڑ تو دے اسی وقت خرم نے چھوڑ دیا یہ سارا حادثہ لمحوں میں ہوا تھا
مگر خرم کو اندازہ ہوا کہ اس نے تو نیلی بی بی کے ممے پکڑے تھے اس کے تو دل و دماغ میں عجیب سے سر شاری آگئی تھی نیلی کے ممے اس وقت بغیر بریزر کے تھے اس لیے زیادہ نرمی محسوس ہوئی تھی 
- نیلی نے  ہنستے ہوئے پوچھا تمہیں کیسے پتا چلا ،خرم بولا میں اندازے پر ڈھونڈتا ہوا اوپر آیا ہوں ،اس نے نا بتایا کہ اسے اس کی ماں نے اشارہ کرکے بتایا ہے ، نیلی  بولی چل نیچے چلیں وہ دونوں نیچے اتر آئے سب کو بلایا لیا سب نیچے آئے اسی دوران کھانا لگنے کی آواز آ گئی تھی سب نے کھیل ختم کیا اور اگلی رات کھیلنے کا پروگرام بنا کر بس کر دی ،
- سب کھانا کھانے میں مصروف ہوگئے تھے کچھ دیر بیٹھے باتیں کرتے رہے ،
- نسیم نے خرم کو بلایا کہ حویلی کے پچھلے دروازے پاس  سوکھی لکڑیاں پڑی ہوئی ہیں وہ اٹھا لا چائے بنانی ہے لکڑیاں ختم ہوگئیں ہیں  خرم  پچھلے صحن میں آگیا جدھر باتھ روم بھی اور کھیتوں کو جانے کا راستہ اور سامان وغیر لانے کے لیے دروازہ رکھا ہوا ہے  ،
- خرم باہر آیا باتھ روم کی بیرونی دیوار کے پاس آیا جہاں  لکڑیوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا
- عموما ً دیہاتوں میں ایسے ہی ہوتا ہے کہ
- دیوار کے  ساتھ باتھ روم ہوتا ہے اور فلش ٹوائُلٹ الگ بناتے ہیں اور نہانے کے لیے الگ ہوتا ہے  اور روشن دان کا رخ باہر کی طرف ہوتا ہے ادھر بھی ایسے ہی تھا  لکڑیاں اسی جگہ پڑیں ہوئی تھیں   خرم نے لکڑیاں اٹھانے شروع کر دی کہ اچانک ٹوائلٹ والے باتھ روم کی لائٹ روشن ہوئی خرم کی نظر روشن دان پر پڑ گئی  اس کے دماغ میں فورا بات آئی کہ رات کا اندھیرا ہے اس طرف اب کس نے آنا ہے دیکھو ں تو سہی کہ کون ہے وہ آرام آرام سے لکڑیوں کے اوپر چڑھ گیا اور روشن دان سے اندر کی طرف دیکھا تو شبنم بی بی فلش پر بیٹھی ہوئی پیشاب کر رہی تھی روشن دان کی طرف ہی اس کا رخ تھا اس لیے اسے پھدی نظر آ رہی تھی  شبنم نے پانی کا لوٹا بھرا اور پھدی کو دھونا شروع کر دیا اس کی انگلی جب پھدی کی درمیانی لکیر میں گئئ تو خرم نے اپنی شلوار پر ہاتھ رکھا تو ادھر اس کی للی فل اکڑ چکی تھی  ادھر وہ کھڑی ہوئی تو اس کی پھدی کی لکیر  مزید واضع طور پر نظر آ رہی تھی  شبنم نے شلوار اوپر کر لی اور دروازہ کھول کر باہر نکل گئی  خرم آرام سے  نیچے اتر آیا اسنے لکڑیاں اٹھائیں اور حویلی آگیا تھا  آج کے دن اس نے دو عورتوں کو پیشاب کرتے ہوئے اور انکی پھدیاں دیکھیں تھیں  اور ایک لڑکی کے مموں کو چھونے کا حادثہ بھی ہوا تھا  اس کے دماغ میں بس یہی فلم چل رہی وہ پسینے سے شرابور تھا
- وہ لکڑیاں ماں کو دے کر  کھانا لیکرحویلی سے  نکل آیا گھر آکر کھانا کھایا  اور چارپائی پر لیٹ گیا اس کی آنکھوں میں آج کبھی چوہدرائن شبنم آتی تو کبھی شادو آتی کبھی اسے نیلی کے مموں کی نرمی کا خیال آجاتا تھا،وہ سو گیا  صبح اٹھا تو اس کی طبیعت آج سکول جانے کو نہیں مان رہی تھی  وہ آ ج سکول نا گیا
- گھر پر ہی رہا  حویلی سے پیغام آیا کہ خرم کو شبنم بی بی بلا رہی ہے یہ سن کر ہی اسکے اوسان خطا ہوگئے تھے کہیں شبنم بی بی کو پتا تو نہیں چل گیا کہ میں نے انکو پیشاب کرتے ہوئے دیکھا ہے ڈرتے ڈرتے وہ حویلی چلا گیا شبنم بی بی ، مہرو بی بی اور اس کی ماں نسیم بیٹھیں ہوئیں تھیں  شبنم بی بی نے اسے اپنے پاس پڑے پیڑھے پربیٹھنے کا اشارہ کیا وہ بیٹھ گیا
یہ صبح کا منظر بھی قیامت سا حسیں ہے
 تکیہ ہے کہیں ____ زلف کہیں ___ خود وہ کہیں ہے

Offline رضا

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 90
  • Reputation: +5/-1
  • Gender: Male
    • View Profile
 :rockon: :rockon: :rockon:


Good work MANHIL ji good look for your story
زندگی پیار کا گیت ہے
اسے ہر دل کو گانا پڑے گا

Offline MANHIL

  • life for fun.
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1930
  • Reputation: +21/-50
  • آج کے دن کو آخری سمجھ کر جیو ۔
    • View Profile
    • Yumstories.com
:rockon: :rockon: :rockon:


Good work MANHIL ji good look for your story
شاباش کی اصل حقدار شازیہ جی ہے
یہ صبح کا منظر بھی قیامت سا حسیں ہے
 تکیہ ہے کہیں ____ زلف کہیں ___ خود وہ کہیں ہے

Offline رضا

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 90
  • Reputation: +5/-1
  • Gender: Male
    • View Profile
:rockon: :rockon: :rockon:




Good work MANHIL ji good look for your story
شاباش کی اصل حقدار شازیہ جی ہے




میرے نزدیک آپ دونوں ہی حقدار ہیں
گڈ لک
مناہل اینڈ شازیہ
یو آر گریٹ ورک
زندگی پیار کا گیت ہے
اسے ہر دل کو گانا پڑے گا

 

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.