Author Topic: نادانی سے جوانی کا سفر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر بابا جی  (Read 101837 times)

Offline MANHIL

  • life for fun.
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1918
  • Reputation: +21/-50
  • آج کے دن کو آخری سمجھ کر جیو ۔
    • View Profile
    • Yumstories.com
یعنی اس کے لن میں اوپر کی طرف خم تھا اس کے لن کی رنگت گلابی تھی وہ نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اس نے عذرا کی لیس دار پانی سے چمکتی ہوئی لمبوتری پھدی پر لن سیٹ کیا اور ایک زور دار جھٹکے سے سارا لن اندر اتار دیا عذرا کی زوردار آہ نکلی اس نے کمال کی کمر میں ہاتھ ڈالا اور بولی کمال زور سے کر اب کمال نے زوردار جھٹکے شروع کر دیے نیچے عذرا بھی ہل ہل کر اس کا ساتھ دینے لگ گئی اس کی آہیں کمرے میں گونجنے لگ گئی پھر بولی زور سے کر کمال زور سے کمال نے کہا اور کتنا کرو پورا زور تو لگا رہا ہوں کمال تھک گیا اور سانسیں بحال کرنے لگ گیا عذرا بولی چوہدری تجھے پتا تو مجھے کیسی چدائی پسند ہے تم اب سانس لینے لگ گئے ہو کمال بول میں کیا کرو تم زور اتنا لگواتی ہو عذرا اچھا اب باتیں نا کرو جلدی کرو زور سے کرو کمال نے پھر سے جھٹکے مارنے شروع کر دیے عذرا نیچے سے پہلے سے بھی زیادہ زور شور سے ہل رہی تھی کمال بولا عذرا میرا ہونے والا ہے وہ بولی نہیں ابھی نہیں کنٹرول کرو مجھے آنے دو اسی دوران کمال جھٹکوں کے دوران ہی اس کی پھدی کے اندر ہی فارغ ہوگیا عذرا بولی چوہدری کہا بھی تھا رکو ابھی فارغ نہ ہونا کمال بولا آج مجھ سے کنٹرول ہی نہیں ہوا ،اب لن نا نکالنا مجھے فارغ ہونے دو عذرا بولی، کمال نے پھر سے ہولے ہولے سے جھٹکے لگانا شروع کیے نیچے سے عذرا زور سے اس کی کمر کو جکڑ کر جھٹکے لگا رہی تھی کچھ سیکنڈوں کے بعد عذرا کا جسم کانپنے لگ گیا اور پاؤں نیچے لگا کر اپنا نیچے کا جسم اوپر نیچے کرتے ہوئے فارغ ہوگئی تھی اور تیز تیز سانسیں لینے لگ گئی عذرا بولی چوہدری آج ایسا کیا ہوا کہ تم پہلے فارغ ہوئے ہو تم بہت جاندار تھے پورے گاؤں میں میں نے کسی کو گھاس نہیں ڈالی اور عذرا کا دل تیرے لئے مان گیا تمہیں پتا کہ بس بالو سے دنیاوی رشتہ نبھا رہی مگر وہ میرے قابل نہیں ہے آئندہ احتیاط کرنا مجھ سے پہلے فارغ نا ہونا ورنہ تمہیں چھوڑ دونگی
[/size][/color]
کمال بولا بس آج مستی بہت چڑھی ہوئی تھی شاید اسی وجہ سے ایسا ہوا آئندہ ایسا نہیں ہوگا میری جان اس کو چومنے لگ گیا عذرا اس کے انداز پرہنسی پڑی اور چل اب بس کر عاشقی کی اب اتر میرے اوپر سے مجھے نہانا ہے اور رات کے لیے تندور کی تیاری کرنی ہے خرم انکی بات سن کر عذرا کے گھر سے دبے پاؤں دیوار پھلانگ کر نکل آیا اور سوچ رہا تھا کہ اس مطلب ہے یہ چکر پہلے سے چل رہا ہے اس کا ایک دوست لنگوٹیااسے اچھو کہتے ہیں سب اسکو وہ گاؤں کی سب باتیں خرم کو بتاتا تھا وہ بڑا چالو لڑکا تھا خرم دل میں سوچ رہا تھا کہ وہ یہ بات اچھو کو بتائے گا وہ بڑا خوش ہوگا یہ بڑی خبر ہے یہی سوچتے ہوئے وہ اپنے گھر کے دروازے پر آیا آگے سے دروازہ بند تھا اس نے دروازے کے دونوں پٹؤں کے درمیان سے حسب عادت ہاتھ ڈالا اور اندر سے کنڈی کھول لی کیونکہ پہلے بھی اس کی ماں یا بہن دروازہ لگا کر سو جاتیں تو وہ ایسے دروازہ کھول لیتا تھا کیونکہ اس کا ہاتھ چھوٹا ہونے کی وجہ سے آسانی سے گزر جاتا اور دروازہ کھل جاتا تھا دروازہ کھول کر وہ سامنے کمرے کی طرف آیا وہ بے دھیانی میں اندر داخل ہوگیا
اندر کا منظر دیکھ کروہ جوں کا توں رہ گیا
اس کے قدم اس سے اٹھائے نہیں جا رہے تھے
یہ صبح کا منظر بھی قیامت سا حسیں ہے
 تکیہ ہے کہیں ____ زلف کہیں ___ خود وہ کہیں ہے

YUM Stories


Offline MANHIL

  • life for fun.
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1918
  • Reputation: +21/-50
  • آج کے دن کو آخری سمجھ کر جیو ۔
    • View Profile
    • Yumstories.com
سامنے اس کی ماں نسیم چارپائی کے کنارے پر مکمل ننگی الٹی ہوکر گھوڑی بنی ہوئی تھی اس کا باپ فرید اس کی ماں کے پیچھے کھڑا ہوا تھا وہ نسیم کے موٹے چوتڑو کے درمیان سے لن گزار کر اس کی پھدی میں ڈال کر زور زور سے جھٹکے مار رہا تھا
[/size][/color]
خرم کے لیے یہ منظر عجیب تھا اس کی ماں کا گندمی رنگت کا چمکدار بدن مکمل ننگا تھا اس کے باپ کا اوپری جسم ننگا تھا نیچے سے دھوتی باندھی ہوئی تھی فرید نے بس دھوتی لن کے آگے سے ہٹائی ہوئی تھی مگر ماں کا جسم دیکھ کر خرم کو عجیب سا لگا رہا تھا
نسیم بولی فرید زور سے کر اور جلدی کر زری نا اٹھ جائے ،
فرید بولا زور سے تو کر رہا ہوں اور کتنا زور لگاؤں
نسیم :اتنا زور لگاؤ جتنا چھوٹی چوہدرائن کے ساتھ لگاتے ہو
فرید : جتنا زور میں لگاتا ہوں اتنا ساتھ وہ خود دیتی ہے تو ایسا کرتی نہیں ہے
خرم ،ماں باپ کی باتیں سن کر گنگ رہ گیا ایک اندر کا منظر اوپر ماں باپ کی باتیں اس کے لیے یہ سب نیا تھا کیونکہ آج سے پہلے اس نے کبھی بھی ماں باپ کو ایسی حالت میں نہیں دیکھا تھا ،وہ دبے پاؤں ،واپس دروازے پر سے ہٹ گیا اس کے ماں باپ اپنے کام میں اتنے مشغول تھے کے انہیں اس کے آنے اور جانے کا پتا نہیں چلا وہ دوسرے کمرے میں آگیا جہاں پہلے زری سو رہی تھی دوسری چارپائی پر آکر لیٹ گیا ،
باہر جب وہ لڑکوں کے ساتھ کھیلتا تھا تو وہ آپس میں باتیں کرتے تھے کہ کسی نے اپنے ماں باپ کو چدائی کرتے دیکھا تو کسی نے اپنے بڑے بھائی اور بھابھی کو ننگا دیکھا کیوں کہ گاؤں میں
خاندان بڑے اور لوگوں کے کمرے کم پھر سب مل کر سوتے تھے اسی وجہ سے گاؤں کے لڑکے لڑکیاں جلدی مرد عورت کے تعلق کے بارے میں سب کچھ جان جاتے ہیں
آج خرم نے اپنے باپ اور ماں کی چدائی دیکھ لی تھی مگر اس نے سوچ لیا کہ اس بارے میں وہ اپنے کسی دوست سے بات نہیں کریگا جیسے دوسرے سب آپس میں کرتے ہیں
اور دوسرا چھوٹی چوہدرائن کا ذکر بیچ میں آیا اس کی اسے کچھ سمجھ آئی کچھ نہ آئی
انہی سوچوں میں اسے نیند آگئی ،شام ہورہی تھی جب خرم کی آنکھ کھلی وہ کمرے سے باہر نکل آیا صحن میں زری نے چارپائیاں ڈال رکھیں تھیں اور کچے فرش پر پانی سے چھڑکاؤ کر رہی تھی ،خرم نے زری سے ماں کا پوچھا اس نے بتایا کہ وہ حویلی چلی گئی ہے اور ابا کھیتوں میں گیا ہے چکر لگانے پھر بھینسوں کا دودھ نکال کر حویلی دے کر آئے گا کیونکہ چوہدری صاحب کا بھینسوں کا ملازم چھٹی گیا ہوا زری نے خرم کو ساری بات بتائی خرم نلکے پر آگیا منہ دھو کر باہر نکل آیا پیچھے سے زری نے آواز دی جلدی آجانا میں گھر میں اکیلی ہوں اماں تو پہلے دیر سے آتی ہے آج ابا بھی دیر سے آئے گا خرم نے چلتے ہوئے اچھا کہا اور گھر سے کچھ فاصلے پر سرکاری سکول ہے جس میں یہ پڑھتا وہی سکول کے میدان میں شام کو بچے کرکٹ گلی ڈنڈا وغیرہ کھیلتے ہیں خرم سکول کی طرف جا رہا تھا کافی سارے لڑکے بچے واپس گھروں کو جا رہے تھے اس نے ان لڑکوں سے پوچھا
اچھو کو دیکھا کہیں ان میں سے ایک لڑکے نے بتایا کہ وہ پیچھے آ رہا ہے خرم اس کی طرف چل پڑا سامنے اچھو ایک لڑکے سے باتیں کر رہا جو کہ تقریبا خرم کا ہم عمر تھا صحت میں خرم سے کچھ کم تھا خرم نے پاس آکر دیکھا تو وہ ماسی برکت کا چھوٹا بیٹا بلو تھا
اچھو اسے قریب آتے دیکھ کر چپ ہو گیا
خرم سے بولا آج کدھر رہ گیا تھا کھیلنے نہیں آیا ،
اچھو خرم سے تقریبا دو تین سال بڑا تھا یعنی 12،یا 13سال کا تھا مگر قد و قامت سے زیادہ لگتا تھا جیسے کے گاؤں کے لڑکے لگتے ہیں
وہ بہت تیز اور با خبر لڑکا تھا اور خرم کا یار تھا اچھو نے ماسی برکت کے بیٹے بلو کو کہا جو میں نے سمجھایا سمجھ گیا ہے بلو نے ہاں میں سر ہلایا تو اچھو نے اسے کہا کہ پھر ٹھیک تو جا کل ملیں گے بلو سر ہلا کر چلا گیا
اس کے جاتے ہی خرم بولا کیا فلم چلا رہا ہے تو میرے بغیر ،اچھو اس کے کندھے سے ہاتھ گزار کر گلے میں ڈال کر بولا اپنے یار کے بنا کچھ نہیں کرتا میں چل آ گھر چلیں
خرم پہلے بات بتا بلو سے کیا بات کر رہا تھا
اچھو وہی کھیت کی پگڈنڈی پر بیٹھ گیا اور خرم سے بولا نیچے بیٹھ بتاتا ہوں وہ بھی بیٹھ گیا،
اچھو بولا ماسی برکت کی بیٹی شادو میکے آئی ہوئی ہے مجھے دیکھ کر کل مسکرا رہی تھی اور اشارے کر رہی تھی کھیتوں سے چارا لاتے ہوئے ساتھ میں بلو بھی تھا میں نے آج اسے پکڑ لیا اسے وعدہ کیا ہے کہ تجھے سائیکل چلانا سیکھاؤ گا شادو کو میرا سلام کہنا اور کسی سے کچھ نہیں کہنا ورنہ تیری گانڈ مار دونگا اس نے وعدہ کیا ہے کہ سلام دے گا اور کسی کو کچھ بتائے گا بھی نہیں کیونکہ اسے سائیکل چلانے کا بہت شوق ہے
خرم پر سائیکل تو تیرا ابا لیکر جاتا ہے پھیری لگانے کے لیے ،اچھو ابا شام کو آجاتا ہے اور میں سائیکل اسے سکول والے میدان میں سکھا دونگا ا گر اس نے شادو کو پیغام دیکر اس کا جواب بھی دیا تو خرم بولا ٹھیک ہے
ماسی برکت خود چالیس سالہ بیوہ عورت تھی جو کہ چوہدری صاحب کے گھر میں کام کرتی ہے اور پیشہ ور دائی بھی تھی
اس کی ایک پچیس چھبیس سالہ جوان شادی شدہ بیٹی ہے ،دوسرا بیٹا کاشف ہے تقریبا بیس سال کا ہے اس کی شادی اپنی بہن کی نند نسرین سے ہوئی ہے وٹہ سٹہ رواج کے مطابق، اس کی بیوی اس کی بہن سے بھی بڑی ہے تقریبا اٹھائیس سال کی لڑکی ہے
اور شادو کا گھر والا تقریبا پینتس سالہ بندہ ہے جو کہ راج مستری ہے وہ اپنے سالے کاشف کو ساتھ لیکر شہر میں محنت مزدوری کرتے ہیں اور ماسی برکت کا چھوٹا بیٹا بلو اسکے پیٹ میں تھا جب ماسی برکت کا شوہر سانپ کے کاٹنے سے مر گیاتھا،
خرم بولا شادو نے کیا اشارہ تھا اچھو اس کے سر پر چارہ رکھا ہوا اس کی وجہ سے اس کے ممے زیادہ اچھل کر واضع ہو رہ تھے میری نظر اس کے مموں پر تھی تب شادو نے مجھے ممے تاڑتے ہوئے دیکھ لیا اور اشارے سے پوچھا کہ کیا۔دیکھ رہا اور ساتھ میں مسکراتی ہوئی گزر گئی میں نے کچھ دور تک اس کا پیچھا بھی کیا چلتے ہوئے کیا لگتی ہے اس کی لچکدار کمر نیچے سے اس کے ہلتے ہوئے چوتڑ بس مت پوچھ یار اس نے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہا
خرم چلو دیکھتے ہیں کیا کرتی ہے و ہ سلام کا جواب دیتی ہے یا نہیں اچھو اس کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے بولا اس کی ماں بھی جواب دے گی
خرم اس کے جواب کا کیا کرے گا یہ بات کہہ کر ہنسنے لگ گیا ،اچھو بولا باز آجا ،آ گھر چلیں خرم بولا ٹھہر ایک بات میں نے بھی بتانی ہے اچھو بولا ہاں بتا کیا بات ہے خرم
چوہدری کمال۔اور عذرا ماچھن کا سارا واقعہ سنا دیا اچھو کا منہ کھلا رہ گیا وہ بے ساختہ بولا اوہ تیری خرمی تو نے تو کمال کر دیا اب مزہ آئے گا ،اچھو بولا خرم عذرا پر نظر رکھنی ہے یہ۔تو بڑی چھپی رستم نکلی ،خرم بولا اب نظر میں بات اگئی ہے اب نہیں بچ سکتے
اچھو بولا آ گھر چلیں کل سکول میں بات کریں گے دونوں گھروں کی طرف چل پڑے خرم گھر آگیا ابھی تک اسکا باپ گھر نہیں آیا تھا اور ناہی اسکی ماں آئی تھی گھر میں صرف اس کی بہن زری تھی جو کہ چارپائی پر لیٹی ہوئی تھی زری نے اسے دیکھا تو بولی خرم حویلی چلا جا اماں سے اپنی اور میری روٹی لے بہت بھوک لگی ہے آج ،اماں کو بھی دیر ہوگئی ہے شاید کوئی مہمان نا آگئے ہوں چوہدری صاحب کے ،خرم بولا اچھا میں جاتا ہوں وہ حویلی آگیا وہاں کافی گہما گہمی تھی قریب جا کر پتا چلا کہ چوہدری جمال کا چھوٹا بھائی چوہدری ریاست ملنے آیا ہوا ہے اپنی فیملی کے ساتھ ، چوہدری ریاست اپنے بڑے بھائی چوہدری جمال سے دس سال چھوٹا تھا چالیس سال کا خوبرو شخص تھا اس کی بیوی تقریبا پینتس سالہ خوب صورت اور انتہائی جاذب نظر خاتون تھی انکے کے دو بچے ایک بیٹی جو بارہ سال کی تھی ایک بیٹا جو کہ نو سال کا تھا ،
حویلی میں سب ایک جگہ بیٹھے ہوئے گپ شپ کر رہے تھے کھانا کھانے کے بعد چائے پی رہے تھے خرم کچن میں گیا جہاں اس کی ماں برتن سمیٹ رہی تھی اور چھوٹی چوہدرائن شبنم پاس کھڑی اسے کام سمجھا رہی تھی ،خرم کو دیکھ کر شبنم بولی نسیم خرم آگیا ہے
یہ صبح کا منظر بھی قیامت سا حسیں ہے
 تکیہ ہے کہیں ____ زلف کہیں ___ خود وہ کہیں ہے

Offline MANHIL

  • life for fun.
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1918
  • Reputation: +21/-50
  • آج کے دن کو آخری سمجھ کر جیو ۔
    • View Profile
    • Yumstories.com
اس کو کھانا دیکر بھیج دے
[/size][/color]
فرید کا اور ان دونوں بہن بھائی کا نسیم بولی جی بی بی جی شبنم باہر چلی گئی نسیم نے کھانا۔ڈال کر دیا اور خرم سے کہا کہ تم کھانا کھا لو اور اپنے ابا کا زری سے کہنا ٹوکرے کے نیچے رکھ دے کہیں بلی نا کھا جائے خرم کھانا لیکر صحن سے گزر رہا تھا کہ اس نیلم چوہدری نے بلایا ،خرم پاس چلا گیا اور بولا جی نیلی بی بی جی نیلم کو سب گھر میں نیلی بلاتے ہیں ،اس وقت نیلم ،حنا،،اور انکی چاچی یعنی چوہدری ریاست کی بیوی مہر بانو ،جسے سب مہرو بی بی کہتے ہیں اور اس کے دونوں بچے بیٹھے ہوئے تھے
مہرو بولی نیلی یہ لڑکا کون ہے نیلی بولی آنٹی آپ نے نہیں پہچانا اسے مہرو آنکھیں سکڑتے ہوِ ئے بولی ارے یہ تو نسیم کا بیٹا لگتا خرم ،نیلی بولی آنٹی یہ وہی ہے
مہرو حیرت اتنی جلدی بڑا ہوگیا ہے یہ تو بلکل چھوٹا سا بچہ تھا ،
نیلی آنٹی یہ دس۔سال کا لیکن لگتا بڑا ہے آپکو
مہرو بولی ہاں یہ تو چندہ سے چھوٹا ہے مگر لگتا بڑا ہے چندہ اسکی بارہ سالہ بیٹی کا نام ہے،اسکے بیٹے کا نام فراز ہے ،
نیلی بولی جی آنٹی ایسا ہی ہے ،نیلی بولی خرم ایسا کرو یہ کھانا یہاں رکھو ہمیں سامنے دوکان سے بوتل لا دو
خرم بوتل لینے چلا گیا واپس آیا تو نیلی بی بی اور باقی سب اٹھ کر اندر جا چکے تھے
صحن میں ماسی برکت اور اس کی بیٹی شادو کھڑی تھیں خرم نے بوتل والا شاپر ماسی برکت کی طرف کیا اور بولا ماسی یہ نیلی بی بی جی کو دے دیں ،ماسی برکت نے شادو سے کہا یہ خرم سے پکڑ لے اور اندر نیلی بی بی کو دے آ شادو نے ہاتھ آگے کرکے شاپر خرم کے ہاتھ سے پکڑا تو دونوں کے ہاتھ آپس میں ٹکرائے شادو کا تو پتا نہیں مگر خرم کے اندر تک کرنٹ دوڑ گیا خرم اپنی روٹی وہاں سے اٹھا کر حویلی سے سیدھا گھر آگیا زری جاگ رہی تھی زری نے کہا اتنی دیر کر دی کھانا لانے میں خرم بولا ہاں چوہدری صاحب کے گھر مہمان آئے ہوئے پھر نیلی بی بی نے دوکان پر بھیجا واپس آکر ادھر آگیا کھانا پکڑ مجھے بھی دے خود بھی۔کھا اور ابا کا کھانا ٹوکرے کے نیچے رکھ دے زری اٹھی اسے کھانا دے کر اپنا ڈال کر کھانا کھانے لگ گئی کھانا مہمانوں کی وجہ سے چٹ پٹا بنا ہوا تھا مزے دار بھی تھا دونوں بہن بھائی کھانا کر لیٹ گئے ایک چھوٹا سا بجلی والا فرشی پنکھا لگا ہوا تھا پنکھے کے آگے زری کی چارپائی اس کےبعد انکی ماں پھر فرید کی اور آخر میں خرم کی چارپائی تھی دونوں بہن بھائی باتیں کرتے کرتے سو گئے ،
رات نجانے کونسے پہر خرم کی پیاس سے آنکھ کھل گئی چٹ پڑا اور مصالحے دار کھانا کھانے کی وجہ سے پیاس لگی ورنہ پہلے ایسے کبھی رات کو پیاس نہیں لگتی تھی
اس کا رخ اپنے باپ فرید کی چارپائی کی طرف تھا اسکی آنکھ کھلی تو چارپائی خالی تھی اس ماں کی چارپائی کی طرف دیکھا تو وہ بھی خالی تھی ایک بار تو وہ پریشان ہوگیا کہ ابھی تک اسکی ماں اور باپ نہیں آئے وہ اٹھ کر بیٹھ گیا مگر جب اس نے غور سے ماں کی چارپائی کی طرف دیکھا تو اس پر نسیم کا دوپٹہ پڑا ہوا تھا اور فرید کی قمیض بھی اس کے سراہنے پڑی ہوئی تھی خرم نے مڑ کر کمرے کی طرف دیکھا تو اندر بلب کی روشنی جل رہی تھی اس کا مطلب ہے کہ دونوں اندر تھے
خرم آرام سے اٹھا اس نے صحن کی نکڑ پر پڑے ہوئے گھڑے سے پانی پیا اور چارپائی کی طرف چل پڑا اچانک اسے شیطانی خیال کہ اندر دیکھے تو سہی اندر ہو کیا رہا وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا بند دروازے کے پاس آگیا دو پٹوں والا دوازہ تھا اس کی درمیانی لکیر سے اندر کا منظر صاف نظر آ سکتا تھا خرم نے جب جھک کر اندر دیکھا تو اندر کے منظر نے اسے دنگ کر دیا نسیم۔اور فرید بلکل ننگے تھے فرید کھڑا ہوا تھا اور نسیم پاؤں کے بل نیچے بیٹھی ہوئی تھی وہ فرید کے تقریبا چھ انچ کا موٹا لن پکڑ کرہاتھ سے سہلا رہی تھی اور سائیڈ سے چاٹ رہی تھی یہ منظر خرم کے لیے نیا تھا نسیم بولی بس فرید بولا نہیں اور کرو بہت مزہ آ رہا ہے نسیم بولی پھر کروا لینا ابھی مجھے بس چودو اور مجھے جانے دو میں بہت تھکی ہوئی ہوں آج کام بہت تھا
فرید بولا اچھا ایک بار منہ میں لو نا پھر بے شک نا کرنا نسیم پتا نہیں یہ گندہ کام کہاں سے سیکھا ہے تم نے کیا چھوٹی یوکرائن کرتی ہے یہ سب ،فرید نہیں بڑی چوہدرائن کرتی ہے
نسیم کا ہاتھ رک گیا کیا مطلب تم بڑی چوہدرانی مطلب مسرت بیگم کی بات کر رہے ہو ،
فرید بولا ہاں ،نسیم مگر اس بات کا تم نے مجھے کبھی نہیں بتایا
فرید بولا بتاؤ گا ابھی تم کام کرو مزہ خراب نہ کرو نسیم نہیں ابھی بتاؤ جھنجھلاہٹ سے فرید بولا کہا نا بعد میں بتاتا ہوں ابھی جو کر رہی ہو وہ کرو نسیم نے ایک بار لن منہ میں ڈالا اور اس کو چوس کر باہر نکال دیا پھر چارپائی پر لیٹ گئئ خرم ماں اور باپ کی حرکات و سکنات کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا سامنے اس کی ماں ٹانگیں اٹھا کر لیٹی ہوئی تھی ۔
یہ صبح کا منظر بھی قیامت سا حسیں ہے
 تکیہ ہے کہیں ____ زلف کہیں ___ خود وہ کہیں ہے

Offline MANHIL

  • life for fun.
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1918
  • Reputation: +21/-50
  • آج کے دن کو آخری سمجھ کر جیو ۔
    • View Profile
    • Yumstories.com
اس کی پھدی پر ہلکے کالے بال تھے فرید آگے بڑھکر نیچے بیٹھ گیا اس نے نسیم کی پھدی پر لن۔سیٹ کیا ایک جھٹکے میں ڈال دیا نیسم کی آہ نکل گئی اس نے اپنی ٹانگیں مزید اٹھا لیں فرید نے زور دار جھٹکے مارنے شروع کر دیے نیچے سے نسیم بھی ہلنے لگ گئی خرم کا ہاتھ نیچے خارش کرنے کے لیے گیا تو اپنی للی جو کہ عنقریب لن بننے والی اس پر گیا توحیران رہ گیا کیونکہ وہ فل اکڑی ہوئی تھی فرید نسیم کے ممے چوسنے لگ گیا نسیم بولی زور زور سے چوس فرید زور سے چوسنے لگ گیا نسیم نے فرید کے سر پر ہاتھ رکھا اور بولی کھا جا انکو فرید ممے چوسنے کے ساتھ زور سے جھٹکے مار رہا تھا نسیم نے پہلے سے زیادہ زور و شور سے نیچے سے ہلنا شروع کر دیا کچھ جھٹکوں کے بعد نسیم کی پھدی نے پانی چھوڑ دیا وہ لمبے سانس لے رہی تھی مگر فرید ابھی فارغ نہیں ہوا تھا اس نے اس کی ٹانگیں پکڑ کر دو ملا لیں اس طرح کرنے سے نسیم کی گیلی پھدی مزید ٹائٹ ہوگئی فرید کے زوردار جھٹکوں سے نسیم کے بھاری ممے زور سے ہلنے جلنے لگ گئے اسی دوران فرید فارغ ہوگیا وہ وہی چارپائی پر لیٹ گیا ہانپنے لگ گیا نسیم چارپائی پر اٹھ کر بیٹھ گئی اس نے قمیض پہنی۔خرم کو پتا چل گیا کہ اس کی ماں اور باپ اب باہر آنے والے ہیں وہ دبے قدموں سے واپس اپنی چارپائی پر آکر لیٹ گیا اس کی۔للی۔ابھی بھی سخت تھی وہ چارپائی پر بائیں پہلو کے بل لیٹ گیا مخالف سائیڈ پر اس کے باپ کی چارپائی تھی
[/size][/color]
وہ۔سوتا بن گیا تھوڑی دیر بعد اسے کمرے کی کنڈی کھلنے کی آواز سنائی دی پھر نلکا چلنے کی آواز آئی اس کا مطلب ہے اس کی ماں اور باپ نہا رہے تھوڑی دیر چارپائی پر آکر لیٹ گئے ،نسیم ہلکی آواز میں بولی فرید اب بتاؤ بڑی چوہدرانی والی کیا بات ہے ،یہ تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا ،فرید بولا اب سو جاؤ صبح پوچھ لینا اب نیند نہیں آئی تجھے اندر تو بڑا کہہ رہی تھی کہ جلدی کرو مجھے بہت نیند آئی ہے نسیم بولی یہ بات سن کر میری نیند۔اڑ گئی ہے فرید بولا اچھا صبح بتاؤ گا
نسیم نہیں ابھی بتاؤ ورنہ میں نے تم سے بات نہیں کرنی فرید کیوں ناراض ہوتی ہوں
کہا ہے نے صبح بتاؤ گا
نسیم نہیں تجھے میری قسم ابھی بتا یہ بڑی چوہدرانی سے کب کر رہے تھے اب فرید کے پاس کوئی جائے فرار نہیں تھی کیونکہ وہ اپنی بیوی نسیم سے بہت پیار کرتا تھا اور سب کو پتا ہے کہ ان دونوں کی شادی عاشقی کی شادی ہے دونوں میں آج بھی ویسے ہی پیار ہے ،
فرید بولا سن پھر
میں میری عمر اس وقت کوئی سولہ سترہ برس تھی میری مونچھیں داڑھی ہلکی نکل رہی تھی اسی طرح ٹھنڈی میٹھی موسم تھی
بڑے چوہدری صاحب شکار کے شوقین تھے شروع سے یہ۔اکثر ان دنوں بٹیروں کا شکار کھیلنے اپنی زمینوں پر چلے جاتے تھے میں چوہدری صاحب کے گھر کام کاج کرتا تھا ابا اس وقت چوہدری صاحب کے ڈنگروں کی دیکھ بھال کرتا تھا جب چوہدری صاحب شکار پر جاتے تو ہفتہ ،ہفتہ گھر نہیں آتے تھے
پھر ابا جی کے ذمے لگا کر جاتے تھے کہ فرید کو حویلی کی چھت پر سلانا تاکہ رات کو کوئی مسلہ ہو تو باہر آکر تمہیں بتا سکے ان دنوں میں مسلسل حویلی میں رہتا تھا جب تک چوہدری صاحب شکار سے واپس نا آجاتے ،اسی طرح چوہدری صاحب شکار پر گئے ہوئے تھے اس وقت نیلم بی بی دو سال کی تھی اور چھوٹی حنا بی بی ایک سال کی تھی
تین دن گزر گئے تھے میں اپنے گھر بھی نہیں گیا تھا کیونکہ چوہدری صاحب شکار پر گئے ہوئے تھے مجھے بس باہر کوئی کام ہوتا توجاتا ورنہ گھر چھوٹی بیبیوں کو اٹھا کر حویلی میں پھیرتا کبھی کبھار باہر لے جاتا پھر حویلی میں واپس آجاتا اس دن بھی بڑی بی بی جی نے مجھے کہا کہ نیلم سو رہی ہے اور حنا جاگ رہی ہے اس اٹھا لو میں ذرا نہا لوں جواں سال مسرت بیگم خوبصورت تو شروع سے تھیں دو بچوں کے بعد اور نکھر گئیں تھیں مگر میرے دل میں اس وقت ایسا ویسا کچھ نہیں تھا
میں حنا بی بی کو لیکر چھت پر آگیا اس کے ساتھ کھیلتا رہا پھر حنا تنگ کرنے لگ گئی رونے لگ گئی چپ نہیں کر رہی تھی میں اسے لیکر نیچے بیگم صاحبہ کے کمرے میں آگیا وہ اسی وقت نہا کر آئیں تھیں انکے بال گیلے تھے کمر پر جھول رہے اسکی وجہ سے انکی کمر سے قمیض گیلی ہوچکی تھی حنا رو رہی تھی بیگم صاحبہ کو میں نے بتایا کہ چپ نہیں کر رہی تو انہوں کہا اسے بھوک لگ ہوئی ہے لاؤ مجھے دو وہ بیڈ پر پہلو کے بل بیٹھی ہوئی تھیں اٹھ کربیٹھ گئیں میں حنا کو انہیں پکڑا دیا انہوں نے میرے سامنے ہی قمیض آگے سے اٹھائی اور کالے رنگ کا بریزیر اٹھا کر اپنا پستان باہر نکالا اور حنا کو دودھ پلانے لگ گئیں
یہ منظر دیکھ کر تو میرا حلق خشک ہوگیا تھا چوہدرائن کاکم از کم اڑتیس سائز کا ننگا پستان وہ بھی گورا سفید میرے سامنے تھا اور چوہدرائن نے چھپانا ضروری نہیں سمجھا میں زندگی میں پہلی بار یہ نظارہ دیکھا میری تو ٹانگیں کانپنے لگ گئی
یہ صبح کا منظر بھی قیامت سا حسیں ہے
 تکیہ ہے کہیں ____ زلف کہیں ___ خود وہ کہیں ہے

Offline MANHIL

  • life for fun.
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1918
  • Reputation: +21/-50
  • آج کے دن کو آخری سمجھ کر جیو ۔
    • View Profile
    • Yumstories.com
مسرت بیگم نے پوچھا کوئی بات کرنی ہے فریدتم نے میں چونک اٹھانن نہیں بی بی جی
[/size][/color]
مسرت بیگم بولی اچھا ٹھیک ہے اور مسکرانے لگ گئیں میں شرم کے مارے باہر برآمدے میں آکر بیٹھ گیا تھوڑی دیر بعد بی بی جی نے آواز لگائی میں اندر گیا تو وہ بال بنا رہیں تھیں شیشے کے آگے بیٹھ کر انہوں نے ایک۔دو کام میرے ذمے لگائے مگر میں انکے بال اور کمر کی طرف دیکھتا رہا کیونکہ اس سے پہلے کبھی ایسا ہوا نہیں تھا جو آج ہوا تھاانکی نند
چھوٹی چوہدرائن شبنم کی عمر اس وقت تقریبا 14،سال تھی میں کمرے سے باہر نکل آیا اور بڑی بی بی کے بتائے کام کرنے لگ گیا شام کے وقت میں ڈیرے پر سے دودھ حویلی لے آیا کھانا کھا کر اوپر چھت پر بنے ہوئے برآمدے میں آکر لیٹ گیا سارا دن کا تھکا ہوا ابھی آنکھ لگنے لگی تھی کہ مجھے بی بی جی کی آواز قریب سے سنائی میں جلدی سے اٹھ بیٹھا میری عادت تھی رات کو قمیض اتار کر سونے کی اسی معمول کے مطابق میں قمیض اتار کر سو رہا تھا میں مطمئن تھا کہ اب اوپر کوئی نہیں آئے گا مگر بڑی بی بی جی آگئیں میں نے جلدی جلدی قمیض سرہانے والے طرف سے اٹھا کر پہنی اور پوچھا جی بی بی جی مسرت بیگم بولی فرید آج برکت نہیں آئی مجھے پاؤں میں موچ آنے کی وجہ سے درد ہے میرے پاؤں کی مالش کردو میں جی بی بی جی کہہ کر نیچے انکے کمرے میں آگیا دونوں بچیاں سو رہی تھیں جھولے میں انکے روم کی لائٹ جل رہی تھی وہ آگے چل رہی تھیں میں پیچھے چل رہا تھا انکے چوتڑ چلتے ہوئے محسوس کروا رہے تھے کہ ان پر کافی گوشت چڑھا ہوا ہے انکی کمر پر جب نظر پڑی تو بریزیر کی پٹی نظر نہیں آئی اس کا مطلب تھا کہ وہ بغیر بریزیر کے تھیں انہوں نے ہلکے فیروزی رنگ کی قمیض پہنی ہوئی تھی جب انہوں اس کی طرف رخ کیا تو مجھے یقین ہوگیا کہ انہوں نے نیچے کچھ نہیں پہنا ہوا تھا
انکے اڑتیس سائز کے ممے ہل رہے تھے انکے چھوٹے چھوٹے نپل اکڑے ہوئے نظر آ رہے تھے انہوں نے سائیڈ ٹیبل پر پڑی ہوئی تیل کی چھوٹی سی بوتل اسے پکڑائی اور خود پہلو کے بل لیٹ گئئ بیڈ پر اور کہا کہ دائیں پاؤں اور پنڈلی کی مالش کرو فرید بیڈ کے کنارے پر بیٹھ گیا ہلکا سا ہتھیلی پر تیل لگا کر پاؤں کے تلوے اور اوپر کی مالش شروع کر دی
الٹی لیٹے ہوئے انکے چوتڑ مزید باہر کو نکلے ہوئے محسوس ہو رہے تھے فرید کے دل کی دھڑکن زیر و زبر ہو رہی تھی پہلی بار وہ یوں کسی غیر عورت کے قریب ہوا تھا بیگم صاحبہ کے جسم سے ایک مسحورکن خوشبو تھی جس کی وجہ فرید کے دماغ میں عجیب عجیب خیالات آ رہے تھے مگر وہ ڈر بھی بہت رہا تھا کہ کہیں بیگم صاحبہ کو کوئی الٹا سیدھا ہاتھ لگ گیا تو اس کی خیر نہیں ہوگی اسی دوران بیگم صاحبہ نے اپنی پنڈلی سے شلوار اوپر کی پنڈلی پر بال تھے ہی نہیں گوری چٹی پنڈلی پر جب فرید کے ہاتھ لگا ادھر سے مسرت بیگم کی سی کی آواز نکل گئی وہ بولی ہاں ایسے ہی دباؤ اور اس آہستہ آہستہ پنڈلی دبانی شروع کر دی پھر مسرت بیگم نے دوسرے پاؤں اور پنڈلی کو دبانے کو کہہ دیا اب دونوں پنڈلیوں سے شلوار کے پائنچے اوپر ہوچکے تھے مسرت بیگم شادی سے پہلے تو بلکل سمارٹ تھی مگر دو بچیوں کے بعد جسم ان کا فربہی مائل ہو گیا تھا ہلکا سا پیٹ بھی باہر نکلا ہوا تھا اور چوتڑ تو بہت بھاری ہوگئے تھے ،مسرت اب بلکل الٹی لیٹ گئی اس نے فرید سے کہ پوری ٹانگیں دباؤ بہت درد ہو رہی ہے پتا نہیں آج کیا ہوا فرید بیڈ کے کنارے سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور کھڑے ہو کر دبانے لگ گیا کھڑے ہو کر دبانے سے وہ پنڈلیوں سے لیکر گھٹنوں تک دبا رہا تھا
مسرت بیگم نے گردن موڑ کر پیچھے دیکھا اور بولی فرید میری کمر دباؤ اور کندھے دباؤ فرید نے ٹانگیں چھوڑ دیں اور کندھوں کے پاس آکر کندھے دبانے شروع کر دیے کیا نرم و ملائم۔جسم یہ سوچ کر ہی فرید کے اندر ہلچل مچ گئی تھی اور اس کے لن نے سر اٹھانا شروع کر دیا مسرت بیگم کے سر کا رخ فرید کی مخالف سمت پر تھا فرید اپنے دھیان میں دبانے میں مگن تھا مسرت بیگم نے اپنی گردن موڑ کر سر جس طرف فرید کھڑا تھاادھرکر لیا
مسرت بیگم نے فرید سے کہا ایسا کرو میری کمر کی دونوں سائیڈ سے گوشت کو دباؤ فرید نے مسرت بیگم کی دونوں بغلوں کے نیچے سے سائیڈ سےدبانا شروع کیا تھوڑا سا نیچے ہاتھ آیا تو اسے چوہدرانی کے مموں کی نرمی محسوس ہوئی مموں کے گوشت پر ہاتھ لگتے ہی فرید کے لن نے سر اٹھا لیا فرید بڑی مشکل سےکنڑول کر رہا تھا اپنی کیفیت کو اور ڈر بھی رہا تھا کہیں بی بی جی ڈانٹ نا دیں مگر وہ چپ کر کے لیٹی رہی مسرت بیگم کن اکھیوں سے فرید کی شلوار پر بنے ہوئے ابھار کی طرف دیکھ رہی تھی اس بات کا فرید کو نہیں پتا تھا دباتے وہ کمر تک آگیا پھر واپس اوپر کی طرف آگیا جب مموں کے پاس آتا اس کی نا چاہتے ہوئے رفتار آہستہ ہوجاتی تھی اس کا دل کر رہا کہ۔وہ اس کے ممے مکمل دبائے مگر
یہ صبح کا منظر بھی قیامت سا حسیں ہے
 تکیہ ہے کہیں ____ زلف کہیں ___ خود وہ کہیں ہے

Offline MANHIL

  • life for fun.
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1918
  • Reputation: +21/-50
  • آج کے دن کو آخری سمجھ کر جیو ۔
    • View Profile
    • Yumstories.com
ایسا کر نہیں سکتا تھا
[/size][/color]
اسی دوران مسرت بیگم نے کہا فرید میری کمر پر سے قمیض ہٹاؤ اور آہستہ آہستہ مالش کرو فرید نے انکی قمیض کا دامن ہٹایا مگر نیچے والے دامن کی وجہ سے مکمل۔قمیض اوپر نہیں ہوئی جب چوہدرانی کو پتا چلا اس نے اپنا پیٹ تھوڑا سا اوپر اٹھایا تو فرید نے انکی قمیض اوپر کر دی رات کے وقت تیز روشنی والے کمرے میں مسرت بیگم کی ننگی کمر فرید کے سامنے تھی وہ اس کی گوری رنگت کی کمر کو دیکھ مبہوت رہ گیا تھا مسرت بیگم بولی مالش کرو رک کیوں گئے ہو وہ چونک گیا اس نے ہتھیلی پر تیل لگایا اور آہستہ آہستہ مالش شروع کردی اس کے نرم و ملائم جسم پر ہاتھ لگتے ہی اس کے جسم میں کرنٹ دوڑ گیا فرید جیسے پینڈو نوجوان لڑکے کے لیے یہ منظر ناقابل برداشت تھا وہ آہستہ سے مالش کرتا رہا مسرت بیگم نے گردن موڑ کر اور ہاتھ بھی پیچھے کیا اور کمر کولہوں کے جوڑ پر ہاتھ رکھ کر بولی یہاں بھی مالش کرو فرید نے اپنا رخ موڑ لیا شلوار کے اوپر سے اس کے چوتڑو کے ابھار اس کی جان نکالنے کے لیے کافی تھے کہ نیا حکم مل گیا فرید مزید پریشان ہوگیا تھا کیونکہ اس کا لن شدت شہوت سے پھٹنے والا ہو گیا اب اسے درد محسوس ہونے لگ گیا تھا لن میں ،فرید نے اپنے دونوں ہاتھوں سے کمر سے کولہوں کے جانب مالش شروع کردی جب وہ کمر سے اوپر پہنچا اور جوڑ پر شلوار تھی تھی وہاں رک گیا مسرت بیگم نے پوچھا رک کیوں گئے ہو وہ بولا بی بی وہ آپ کی کہتے ہوئے اٹک گیا مسرت نے گردن گھما کر دیکھا تو اس نے کہا شلوار نیچے کر دو اس جگہ پر درد ہو رہی ہے اس پر مالش کرو
فرید نے بیگم کے کہنے کے باوجود ڈرتے ہوئے شلوار کے نیفے والی جگہ کو پکڑ کر تھوڑا سا نیچے کردی الاسٹک ہونے کی وجہ سے شلوار اندازے سے ذرا زیادہ نیچے ہوگئی تھی شلوار نیچے ہوتے ہی جو منظر فرید کو نظر آیا اس سے اسکا کلیجہ منہ کو آگیا تھا ،مسرت بیگم کے چوتڑوں کا اوپری حصہ ننگا ہوگیا اس کی وجہ اس کے کولہوں کی پھاڑیوں کی درمیانی لکیر بھی نظر آنے لگ گئی اس کے گورے رنگت کے چوتڑو کی اوپر سائیڈ کے منظر نے اس کی دل کی دھڑکن بے تحاشا تیز ہوگئی تھی وہ تو گرنے والا ہوگیا تھا اس نے کبھی ایسا سوچا بھی نہیں تھا جو ہو رہا تھا
اس کے ہاتھ رک گئے چوہدرانی بولی فرید رک کیوں گئے ہو وہ جی بی بی جی کر رہا ہوں اس نے ہاتھ چلانے شروع کردیے اس کے ہاتھ کی انگلیاں اس کے چوتڑو کے نرم گوشت سے ٹکرا رہیں تھیں مسرت بیگم بولی فرید اس ماس کو دباؤ،(ماس ،گوشت) کو کہتے ہیں
فرید نے مسرت بیگم کے چوتڑو کے ماس کو دبانا شروع کیا نرم نرم چوتڑ تھے فرید کے اوپر تو نشہ طاری ہوگیا تھا اب مسرت بیگم کی آہستہ آہستہ سے سسکاریوں کی آواز نکل رہیں تھیں مگر وہ کوشش کر رہی تھی کہ آوازیں نا نکلیں مگر مسرت بیگم کے بس باہر ہوچکی تھی بات
کیونکہ آج اس کے ماہانہ ایام ختم ہوئے تھے اور اسے سیکس کی بہت طلب ہو رہی تھی چوہدری جمال جو پہلے کم آتا تھا
اس کے پاس اب وہ بچوں کی وجہ سے نہیں آتا تھا ڈیرے پر سوتا تھا اوپر سے وہ تیسرے دن سے گھر پر نہیں تھا چھوٹی بیٹی حنا کے پیدا ہونے بعد سے مسرت بیگم میں ویسے ہی جسمانی طلب بڑھ گئی تھی ،
یہ وہ باتیں ہیں جن کا فرید کو بعد میں پتا چلا تھا،
فرید کو چوہدانی کی سسکاریوں کی آوازیں اب سنائی دے رہی تھیں اس کا جسم بھی گرم ہو رہا تھا جو کہ فرید کو گرمائش محسوس ہو رہی تھی اچانک مسرت بیگم سیدھی ہوگئی اس کمر کے ساتھ ساتھ پیٹ پر سے بھی قمیض ہٹی ہوئی تھی فرید کی نظر جب پیٹ اور اس کی گول ناف پر پڑی تو اس کا حلق خشک ہوگیا تھا اس نے بڑی مشکل سے گھونٹ بھر کر حلق کو تر کیا تھا اس کا لن مکمل اکڑا ہوا تھا اور اسکی قمیض کے دامن پر تنمبو بنا ہوا تھا فرید کی نظریں جب چوہدرانی سے ملیں تو مسرت بیگم کی آنکھیں سرخ نشیلی ہوچکیں تھیں ،چوہدرانی بولی فرید ادھر آؤ وہ انکے پاس ہوگیا انہوں نے اس کے لن۔کی طرف اشارہ کیا اس کیا ہوا ہے
فرید نے شرمندگی سے سر جھکا لیا مگر بولا کچھ نہیں ،مسرت بیگم بولی گبھراؤ نا بتاؤ اسے کیا ہوا فرید بولا پتا نہیں بی بی جی
منہ نیچے کیے کھڑا رہا ،
مسرت بیگم بولی فرید پہلے کبھی کسی لڑکی کے ساتھ چدائی کی ہے تم نے ،فرید انکی اتنی واشگاف بات سن کر دنگ رہ گیا مگر بولا کچھ نہیں ،مسرت بیگم بولی بتاؤ نا؟ فرید بولا کچھ نہیں بولا مگر نا میں سر ہلایا
مسرت بیگم بولی میں کیسی لگتیں ہوں تمہیں وہ چپ کھڑا رہا چوہدرانی بولی بتاؤ بھی ،فرید بس اتنا بولا کہ آپ بہت اچھی ہیں
مسرت بیگم بولی میرے ساتھ چدائی کرنا چاہوں گے فرید اسکی واضع دعوت سن کر پریشان ہوگیا کہیں چوہدرانی اس پھسا کر مروا نا ڈالے وہ چپ کھڑا رہا بولا کچھ نہیں
مسرت بیگم اٹھ کر بیٹھ گئی اس نے بغیر کوئی بات کیے فرید کا لن پکڑ لیا کیونکہ وہ شہوت کے ہاتھوں مجبور ہوچکی تھی اس پتا چل گیا تھا کہ پہل
یہ صبح کا منظر بھی قیامت سا حسیں ہے
 تکیہ ہے کہیں ____ زلف کہیں ___ خود وہ کہیں ہے

Offline MANHIL

  • life for fun.
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1918
  • Reputation: +21/-50
  • آج کے دن کو آخری سمجھ کر جیو ۔
    • View Profile
    • Yumstories.com

اسے کرنی پڑے گی فرید کبھی پہل نہیں کر پائے گاوہ فرید کے لن کو پکڑ کر سہلانے لگ گئی تھی ایک نوخیز نوجوان لڑکے کا لن پکڑ کر چوہدرانی ویسے ہی دیوانی ہو چکی تھی شہوت کے ہاتھوں وپر سے فرید کا لن ایک جاندار لن تھا چوہدرانی بیڈ پر اٹھ کر بیٹھی ہوئی تھی اور فرید بیڈ کے کنارے پر کھڑا ہوا تھا مسرت بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی اس نے فرید کو گلے سے لگا لیا تھا فرید کے تو اوسان خطا ہوچکے تھے چوہدرانی مسرت کے جسم سے اٹھتی خوشبو اس کے ادھ کھلے ہوئے بال ، مسرت نے فرید کے گالوں کو چوم لیا گلے لگانے سے فرید کا اکڑا ہوا لن اس کی ناف سے نیچے ٹکرا رہا تھا مسرت کا قد فرید سے کم تھا فرید قد آور لڑکا تھا مسرت درمیانے قد کی عورت تھی ،فرید اب شہوت کے ہاتھوں مجبور ہو چکا تھا اس نے مسرت کا ساتھ دینا شروع کر دیا اس نے بھی مسرت بیگم کے گورے گالوں کو چوم لیا مسرت بیگم کی سانسیں اب تیز ہوچکیں تھیں وہ بیڈ کے کنارے پر لیٹ گئئ اس نے اپنی شلوار کو پکڑ اتار دیا اور اور ٹانگیں کھول دیں فرید پر شادی مرگ کی کیفیت طاری ہوگئی اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ چوہدرانی اس کے سامنے یوں ننگی ہوکر لیٹے گی اور وہ بھی ٹانگیں کھول کر گھنٹے کھڑے کیے ہوئے تھے فرید نے جب اس کی ٹانگوں کے درمیان دیکھا تو کی تازہ شیو کی ہوئی پھدی کی رنگت سرخی مائل تھی اس کے لب تھوڑے ملے ہوئے تھے مگر ان میں سے مٹری کے دانے جیسا چھولا باہر جھانک رہا تھا
[/size]مسرت بولی دیکھتے رہو گے یا اس کا ذائقہ بھی چکھو گے اس نے فرید سے کہا اس پر زبان رکھو فرید کی یہ سن کرکیفیت عجیب ہوگئی تھی کیونکہ اس سے پہلے اس نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا مسرت سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی فرید گھٹنوں کے بل فرش پر بیٹھ گیا اور اس نے مسرت کی ٹانگوں کے درمیان منہ رکھا اور ہلکی سی زبان باہر نکال کر اس کے مٹری کے دانے جیسے چھولے کو زبان لگائی تو مسرت تڑپ اٹھی اس نے تو فرید کے سر پر ہاتھ رکھا اور بولی اور چاٹو فرید اس کی نرم و ملائم ٹانگوں کو پکڑ کر اس کی پھدی چاٹنے لگ گیا فرید پر مزے کی عجیب و غریب کیفیت طاری ہوگئی تھی زور سے اس کی پھدی کو چاٹنا شروع کردیا[/color]
[/size]اوپر سے مسرت کی زوردار آہیں نکل رہی تھیں مسرت نے فرید کو اوپر اٹھایا اور کھڑا کر دیا اس کی شلوار کا نالا پکڑ کر کھول دیا اور اس کا لن باہر نکال کر دیکھنے لگ گئی پھر اس نے اس کے لن کی ٹوپی منہ میں لے لی فرید کے جسم میں کپکپاہٹ طاری ہو گئی تھی مسرت قلفی کی طرح اس کے لن کو چوس رہی کبھی ہاتھ سے اوپر نیچے کر رہی تھی پھر اس نے فرید کے ہاتھ سے پکڑا اور بیڈ پر لیٹ گئئ اور بولی بس اب اور برداشت نہیں ہوتا آؤ میرے اوپر اور ساتھ ہی اپنی قمیض اتار دی اب وہ فل ننگی ہوچکی تھی فرید اس کے موٹے اور گول مٹول ممے دیکھ کر پاگل ہو چکا تھا[/color]
[/size]مسرت نے فرید کو کہا قمیض اتار دو اس نے اتار دی وہ بھی مکمل ننگا ہوگیا تھا مسرت اس کے بازو سے پکڑ اس اپنے اوپر لیٹایا اور اس کا لن پکڑ کر اپنی پھدی پر سیٹ کیا اور بولی اب اندر ڈالو جھٹکے کے ساتھ فرید نے زوردار جھٹکا مارا مسرت کی نیچے سے زوردار چیخ نکل گئی اس کو بولی ایسے تو نہیں کہا تھا تو نے مجھے ہلا ڈالا ہے فرید بولا آپ خود تو کہا تھا کہ زور سے جھٹکے سے اندر ڈالو ،مسرت بولی ہاں کہا مگر یہ نہیں کہا تھا کہ جانوروں کی طرح ڈالو فرید بولا اچھا جی غلطی ہوگئی ہے مسرت مسکراتی نظروں سے غلطی کے بچے اب آہستہ آہستہ جھٹکے مار فرید اب لن اس کی پھدی میں آگے پیچھے کرنے لگ گیا مسرت نے اپنے دونوں ہاتھ اس کےکولہوں پر رکھ دیے[/color]
[/size]اسے اپنے طرف دبانے لگ گئی مسرت کی پھدی میں اتنی گرمائش تھی کہ بھٹی کی مانند لگ رہی تھی مسرت نے اب زور سے ہلنا شروع کردیا اور فرید سے بولی ہاں زور سے کرو فرید نے سپیڈ بڑھا لی مسرت بولی اور زور سے کرو اب نیچے سے بیڈ کے ہلنے کی آوازیں آ رہی تھیں فرید پورا لن نکال کر پھر پورا ڈال رہا تھا پھر اس نے مسرت کے اکڑے پستان کے نپل کو منہ میں لے لیا اس کے اندر مزے کی لہریں گردش کر رہی تھیں پھر دوسرے پستان کو چوسنا شروع کردیا ادھر مسرت بیگم کا مزے کی شدت سے برا حال ہوچکا تھا اس کی پھدی نے فرید کے لن کو شکنجے کی طرح جکڑا ہوا اسی دوران ہلتے ہوئے زوردار آہ کے ساتھ مسرت فارغ ہونے لگ گئ ادھرفریدبھی اس کی پھدی کی گرمی برداشت نا کر سکا جھٹکوں کے دوران ہی فارغ ہوگیا اور بے حال ہو کر مسرت بیگم کے سینے پر لیٹ گیا کچ دیر دونوں یونہی پڑے رہے پھر مسرت اس اوپر ہونے کا اشارہ کیا وہ اتر گیا اس نے شلوار اور قمیض پہن لی مسرت بیگم نے پہلے قمیض پہنی پھر اپنی اسی شلوار سے پھدی کو صاف کیا اور بیڈ پر بیٹھ گئی فرید کو اپنے ساتھ بیڈ پر بیٹھا لیا صرف اتنا کہ اس بات کا کسی کو بھی پتانہیں چلناچاہیے کسی کو بھی ![/color]
[/size]سمجھے؟فرید نے سر ہلا دیا[/color]
[/size]اسی وقت باہر زوردار کھٹکا ہوا[/color]

یہ صبح کا منظر بھی قیامت سا حسیں ہے
 تکیہ ہے کہیں ____ زلف کہیں ___ خود وہ کہیں ہے

Offline MANHIL

  • life for fun.
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1918
  • Reputation: +21/-50
  • آج کے دن کو آخری سمجھ کر جیو ۔
    • View Profile
    • Yumstories.com
یہ صبح کا منظر بھی قیامت سا حسیں ہے
 تکیہ ہے کہیں ____ زلف کہیں ___ خود وہ کہیں ہے

 

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.