Author Topic: نادانی سے جوانی کا سفر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر بابا جی  (Read 92518 times)

Offline ZEEM8187

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 136
  • Reputation: +2/-0
    • View Profile
کس ویب سائیٹ پہ چل رہی ہے

YUM Stories


Offline rajraj

  • Newbie
  • Posts: 7
  • Reputation: +0/-0
    • View Profile
سٹوری بوہت اچھی جا رہی ہے اور انداز بیان کمال کا ہے۔ گاؤں کے ماحول کو بڑے  قریب سے مشاہدہ کر کے بیان کیا گیا ہے

YUM Stories


Offline Shani012

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 12
  • Reputation: +0/-0
    • View Profile

20
شبنم مسکراتے بولی خرم تجھے مہرو بھابھی کے ساتھ انکے گھر  بھیجوں چلے جاؤ  گے  وہی رہنا ہے انکے ساتھ اور پڑھنا بھی وہیں ہے
خرم نے سوالیہ انداز سے اپنی ماں کی طرف دیکھا  پھر بولا ابا کو پتا ہوگا
شبنم بولی تیرے ابا منع نہیں کرینگے  تو اپنی بتا  تو رہ لے گا،خرم کو چونکہ پتا تھا کہ انکی روزی روٹی  ان کۓ سہارے چل رہی وہ کیسے انکار کر سکتا تھا ، چوہدری انکے سردار یہ بات تو بچپن سے انکے ذہن میں نقش ہو چکی تھی
خرم ہولے سے بولا رہ لوں گا ،اس وقت مہرو بولی خرم تو جب کہے گا تجھے ملوا دیا کریں گے تو وہی پڑھے گا شام کو چندا اور فراز کے ساتھ کھیلنے پارک میں جایا کرنا ،خرم نے سر جھکا کر کہا ٹھیک ہے بی بی جی  ،مہرو نے اپنے پرس سے اسے سو روپے نکال کر دیا جاؤ چیز کھا لو نسیم روکتی رہ گئی مگر مہرو بی بی نے بضد ہو کر خرم کو دے دئیے ،خرم باہر آگیا اس کا دل تو نہیں کر رہا تھا ماں باپ اور بہن کو چھوڑ کر جانے کو مگر وہ انکار بھی نہیں کر سکتا تھا ،پھر اس نے کھانے کی چیزیں لیں اور گھر آگیا  بہن ،زری کو بھی دیں زری پوچھا اتنے پیسے تیرے پاس کیسے آئے تو اس نے ساری تفصیل بتا دی ،تو زری بولی خرم تو اب سچی شہر جائے گا انکے ساتھ  ،اس کے لہجے میں اشتیاق تھا خرم ہولے سے بولا اب ابا کو پتا ہوگا وہ کہیں تو ،
زری ہنس دی کیونکہ اتنا تو زری کو بھی پتا چل چکا تھا کہ چھوٹی چوہدرائن شبنم اور اس کے باپ فرید کے درمیان میں جو کچھ ہے
باقی اس کی ماں کو بھی پتا ہے جب اتنا کچھ ہو رہا ہے تو خرم کوابا بھیج دے گا یہ کونسی بات ہے  ،اس بارے میں زری نے خرم سے کوئی بات نہیں کی  ،پھر خرم کو دروازہ کھٹکنے کی آواز سنائی دی باہر آکر دیکھا تو ماسی برکت تھی اس نے کہا کہ تجھے  شبنم بی بی بلا رہی ہے  وہ سیدھا حویلی پہنچ گیا ،سیدھا شبنم بی بی کے پاس گیا شبنم بی بی نے کہا خرم جا اپنے ابا کو بلا کر  اسے کہہ کہ چھوٹی چوہدرائن بلا رہی ہیں  وہ اچھا جی کہہ کر بھینسوں والے ڈیرے کی طرف چل پڑا جہاں اسکا ابا موجود تھا دوپہر کا وقت ہو رہا تھا  وہ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے جا رہا تھا وہ ڈیرے پر پہنچ گیا جانور سارے تو درختوں کے نیچے چھاؤں پر بندھے ہوئے تھے وہ اپنے باپ کو ڈھونڈتا ہوا  مال خانے کے کمروں کی طرف آگیا جہاں جانوروں کی دیکھ بھال کرنے والے ملازم رہتے اور سوتے تھے ابھی وہ کمرے میں داخل ہوا  تو دوسرے کمرے سے کسی کی آہوں کی آواز سنائی دے رہی تھی  وہ کھڑکی کی طرف آیا تو اس کی ماں نیچے پڑی ہوئی تھی اس کا باپ اس کے اوپر چڑھا ہوا تھا اسے زور و شور سے چود رہا تھا
نسیم نیچے سے بولی جا رہی تھی جلدی کر لے ایک تو جلدی فارغ نہیں ہوتا ،میری قسمت خراب تھی جو تجھے روٹی دینے آگئی  اب مجھے نہانے پڑے گا پھر حویلی جاؤں گی شبنم بی بی کو پتا چل جائے گا وہ پھر مجھے کہے گی کہ فرید سے کہہ کہ موقع دیکھ کر مجھے سے ملنے آئے،،،  نیچے پڑی بولے جا رہی تھی اس کی ٹانگیں اٹھیں ہوئیں تھیں خرم کو نظر آ رہی تھی زیادہ اندر جھانک نہیں سکتا تھا اسے اپنے دیکھے جانے کا ڈر تھا ،
پھر نسیم نے کہا اب زور سے کر میں ہونے والی ہوں اندر سے اب تھپ تھپ کی آوازیں آ رہیں تھیں  فرید بولا اندر ہی رہنے دو یا باہر فارغ ہوں نسیم بولی اب اندر ہی چھوڑ دے اور شبنم بی بی کے اندر نا چھوڑا کر پانی کہیں حمل ٹھہر ہی نا جائے تجھےمارڈالیں گے چوہدری
فرید بولا ٹھیک ہےدونوں کی باتوں کی آواز رک گئی کچھ دیر بعد دونوں اٹھ کھڑے ہوئے خرم جلدی سے واپس بھاگ کر اسی راستے پر آگیا جہاں سے پہلے آیا تھا ،وہ واپس پھر ڈیرے کی طرف چل پڑا سامنے سے اسے ماں آتی دکھائی دی وہ رک گئی اس نے خرم سے پوچھا تو اس وقت کیا کرنےآیا ہے خرم نے بتایا کہ اسے شبنم بی بی نے بھیجا ہے اپنے ابا کو بلا کر لا نسیم نے وہی سے فرید کو آواز لگائی وہ کمرے سے نکل آیا ،نسیم نے پیغام دیا کہ تجھے چھوٹی چوہدراہن بلا رہی ہے  ،فرید نے وہی سے جواب دیا کہ انہیں کہنا کہ شام کو آؤ گا
- ابھی کام رہتا ہے  نسیم کہا اچھا ٹھیک ہے وہ دونوں ماں بیٹا گھر آگئے نسیم نے برتن اندر رکھے اور زری سے کہا کہ مجھے کپڑے دینا میں نہانے جارہی ہو ں اور خرم سے بولی کہ تو حویلی جا کر شبنم بی بی کو اپنےابا کاجواب بتا کر آجامیرا پوچھے تو کہنا کہ اماں کے سر میں درد ہے وہ سوئی پڑی تھی میں کچھ دیر آرام کر لوں  ،خرم حویلی آکر شبنم بی بی کو فرید کا جواب دے کر گھر آگیا تھا اور کمرےمیں لیٹ گیا اس کی آنکھ لگ گئی رات کااندھیرا ہو رہا تھا وہ اٹھا منہ دھوکرحسب معمول حویلی آگیا  ابھی وہ صحن میں پہنچا تھا کہ اس کی ماں نے آواز دی خرم باہر سے لکڑی تو لے آ خرم سیدھا وہیں آگیا جہاں سے رات کو لکڑیاں اٹھائیں تھیں جب وہ وہاں پہنچا غور کیا تو نہانے والے باتھ کی لائٹ جل رہی تھی خرم بے ساختہ لکڑیوں پر چڑھ گیا روشندان سےاندر کیطرف دیکھاتودنگ رہ گیا

Offline Shani012

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 12
  • Reputation: +0/-0
    • View Profile

21
خرم کے لیے یہ منظر بلکل نیا تھا،
اندر وہ شخصیت ننگی کھڑی نہا رہی تھی جس کے بارے میں خرم کو  وہم و گمان  نہیں تھا وہ کوئی اور نہیں شہر والی بیگم یعنی ،مہرو بی بی تھی وہ کھڑی ہو کر نہا رہی تھی اس کا گورا سفید جسم بلکل بے داغ تھا سینے پر کم از کم اڑتیس سائز کے بھاری ممے اور انکے اوپر ہلکے براون کلر کے نپل  نیچے سڈول قسم کا پیٹ تھا پیٹ پر ٹانکوں کے نشان تھے اس بات کا خرم کو بعد میں پتا چلا کہ دونوں بچے بڑے آپریشن کے ساتھ پیدا ہوئے تھے ،اس نے جھک کر سر پر شیمپو لگایا اس کے لٹکے ہوئے ممے
خرم کی سانسیں تیز کر رہے تھے اس نے سیدھی ہو کر بدن پر صابن لگانا شروع کیا تو اس کی ناف کے نیچے کا حصہ بلکل صاف نظر آ رہا تھا اس پر تقریبا ایک دو دن کے بال نظر آ رہے تھے مگر پھدی کی لکیر ابھری ہوئی تھی اس کے لب بھی کچھ لوز نظر آ رہے تھے خرم تو اس کا خوبصورت بدن دیکھ کر مدہوشی کی کیفیت میں تھا اب تک جتنی بھی عورتوں کے جسم دیکھے تھے کوئی بھی عورت مہرو بیگم کے پاسنگ نہیں تھی خوبصورت بلوری آنکھیں تیکھے نین نقش ، دراز قد موٹے اور گول مٹول ممے  تھے  ، مہرو بیگم نے نہا لیا تھا اب وہ ٹاول سے جسم خشک کر رہی تھی خرم آہستہ آہستہ سے لکڑیوں سے اتر رہا تھا کہ اسی وقت عذرا ماچھن دروازے سے باہر نکل کر لکڑیوں کی طرف آئی اس نے خرم کو لکڑیوں سے اترتے ہوئے دیکھ لیا اسے سمجھ آگئی تھی کہ خرم لکڑیوں پر کیوں چڑھا ہوا کیونکہ روشندان سے جلتی ہوئی لائٹ بتا رہی تھی کہ اندر کوئی ہے اور وہ روشنی بھی غسل خانے والے روشندان سے نکل رہی تھی ،
عذرا کو دیکھ کر  خرم کا حلق خشک ہوگیا تھا عذرا نے اسے بازو سے پکڑ لیا اور بولی اوئے کمینے اوپر چڑھ کر کیا کر رہا تھا  ،خرم سے ڈر  کےمارے کوئی بات ہی نہیں ہو رہی تھی وہ چپ کھڑا رہا ، بولتا کیوں نہیں خرم آہستہ سے بولا غلطی ہوگئی معافی دے دیں معافی کے بچے میرے سے کیوں معافی مانگ رہا ہے چوہدیوں سے معافی جن کی عورتوں کو ننگا دیکھتا ہے یہی تمیز سکھائی تجھے تیری ماں نے ،ٹھہر آج بتاتی ہوں تیری ماں اور تیرے باپ کو ،لیکن چودہریوں کو نہیں بتاتی وہ تجھے مار ڈالیں گے تیرا احساس کر رہی ہوں مگر تیرے گھر ضرور بتاؤں گی ایک بار تو خرم کی ٹانگیں کانپنے لگ گئیں تھیں کہ یہ اب اس۔کی شکایت اس کے ماں باپ کو لگائے گی ،
تب۔اچانک خرم کے دماغ میں بات آئی اس نے کہا ٹھیک ہے تو میری شکایت میرے گھر لگا میں تیری اور چوہدری کمال کی بات چاچے بالو کو اور بڑے چوہدری صاحب کو بتاؤں گا
عذرا کو جیسے بچھو نے کاٹ لیا،  کک کیا بتائے گا ہکلا کر بولی، خرم یہی کہ چوہدری کمال تیرے گھر آ کر تجھے چودتا ہے،
عذرا کا خرم کے منہ سے چودنے کا لفظ سن کر حیران رہ گئی وہ تو اسے بچہ سمجھتی تھی مگر۔یہ تو بڑی چیز نکلا ، عذرا اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے بولی تجھے یہ سب کس نے بتایا  خرم بولا  مجھے کسی نے نہیں بتایا ،عذرا بولی تو پھر تم اتنی بڑی بات کیسے کہہ رہے ہو جب تمہیں کسی نے نہیں بتایا ہے خرم نے کہا میں نے خود تم دونوں کو گندہ کام کرتے ہوئے دیکھا ہے ، عذرا کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا حیرت سے  وہ بولی کب ؟؟؟ خرم نے اسے بتایا کہ جس۔دن میں ٹیوب ویل سے کپڑے اٹھوا کر ساتھ لایا تھا اس دن پھر۔اس نے سارا دیکھا منظر بتا دیا عذرا تو مارے شرم۔کے پانی پانی ہوگئی تھی ،وہ بولی دیکھ تو اچھا بچہ ہے یہ بات کسی کو مت بتانا ،میں بھی کسی کو کچھ نہیں بتاؤ گی غسل خانے والی بات کا  ،اور تجھے انعام بھی دونگی ،خرم نے اپنی جان بچنے پر سکھ کا سانس لیا ،عذرا نے پوچھا تم نے یہ بات کسی کو بتائی تو نہیں ،خرم نے کہا بلکل بھی نہیں ،حالانکہ کہ اس نے یہ بات اپنے یار اچھو کو بتا دی تھی اور اس نے شادو کو بتا دی تھی مگر یہاں اس نے جھوٹ بول دیا عذرا بولی اچھا لکڑیاں اٹھا ،تجھے تیری ماں نے بھیجا تھا اور تو ادھر اور ہی نظارے  کر رہا تھا اس نے مجھے کہا  پتا کروں اتنی دیر کیوں دی ہے خرم نے، وہ بولی ابھی یہی کہنا کہ لکڑیاں پھنسی پڑیں تھیں نکالنے میں دیر ہوگئی ان دونوں نے مل کر لکڑیاں اٹھائیں اور حویلی کے اندر آگئے نسیم نے عذرا سے پوچھا اتنی دیر کر دی تم نے بھی۔ عذرا بولی لکڑیاں پھنسی پڑی تھیں بڑی مشکل سے نکالی ہیں خرم اکیلے سے نہیں نکلنی تھی  عذرا کو ریشم بی بی نے آواز لگائی وہ انکی طرف کمرے میں چلی گئی
خرم حویلی میں ماں کے پاس بیٹھ گیا ،
نسیم نے پوچھا خرم تجھے مہرو بیگم اپنے ساتھ لیکر جانا چاہ رہیں ہے تو جائے گا انکے ساتھ ،رہ لے گا وہاں ،خرم پہلے تو شاید انکار کر دیتا مگر جب سے مہرو بیگم کو نہاتے ہوئے دیکھا تھا اس کے اندر تو عجیب سے ہلچل مچی ہوئی تھی اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ نظارہ کبھی ختم نا ہو اس نے کہا اماں اگرتو کہے اور جانا پڑا تو چلا جاؤں گا،
نسیم بولی ارے صدقے جاؤں میرا پتر اسے اپنے ساتھ لگا کر خرم کا ماتھا چوم لیا  ©

Offline Shani012

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 12
  • Reputation: +0/-0
    • View Profile

22
اسی دوران شبنم بی بی اندر آگئی اس نے کہا خیر تو ہے آج ماں پتر میں بڑے لاڈ ہو رہے ہیں
نسیم بولی جی بی بی جی خرم سے شہر جانے کا پوچھا ہے ، شبنم بولی کیا کہتا ہے ،نسیم نے کہا کہتا ہے ماں تو کہے تو چلا جاؤں گا
شبنم نے کہا واہ بھئی بڑا سمجھدار ہوگیا ہے
اسی وقت ماسی برکت اندر سے آئی اس نے کہا کہ
 بی بی جی فرید آیا ہے آپ نے بلایا تھا شبنم ہاں اسے کہو ڈیوڑھی میں بیٹھے میں آتی ہوں پھر وہ نسیم کو اور خرم کو ساتھ لیکر کر چل پڑی فرید پیڑھے پر بیٹھا ہوا تھا اٹھ کھڑا ہوا شبنم نے کہا فرید ،بھابھی مہرو خرم کو ساتھ شہر  لے جانا چاہتی ہیں ،وہیں پڑھے گا اور کوٹھی پر رہے گا بچوں کے ساتھ بھابھی اور بھائی اپنے بزنس کے حوالے سے نکلے رہتے چلو بچوں کا آپس میں دل لگا رہے گا فرید نے سر جھکا کر کہا جیسے آپ کو اچھا لگا مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ، شبنم نے کہا کہ ہر ماہ ملانے لایا کریں گے بھائی یا بھابھی چلو اسی کے بہانے جلدی چکر لگایا کریں گے
فرید نے کہا جی بہتر ہے
خرم اندر سے بہت خوش ہو رہا تھا ایک تو شہر دیکھنے کی خوشی اوپر سے مہرو بیگم جیسی حسین و جمیل عورت کے پاس رہنے کی خوشی تھی ،شبنم نے نسیم سے کہا کہ رات کو خرم کے ایک دو جوڑے کپڑوں شاپر میں رکھ دینا باقی کپڑے بھابھی خود لیکر دینگی ،فرید باہر چلا گیا  خرم سیدھا گھر واپس آگیا اس نے زری کو بتایا کہ وہ صبح شہر جا رہا ہے وہ بولی سچی تو جا رہا ہے اس نے کہا ہاں ابا نے بھی کہہ دیا ہے
زری بولی خرم تو اداس نہیں ہوگا ہمارے بغیر خرم کچھ سوچتے ہوئے ہاں اداس تو ہونگا مگر اماں ابا نے کہا ہے جانا پڑے گا  زری بولی اچھا ٹھیک ہے دھیان سے رہنا وہاں کوئی شرارت نا کرنا ،خرم بولا اچھا ٹھیک ہے چارپائی پر لیٹ گیا پھر اسے اپنے یار اچھو کی یاد آئی کہ اسے ابھی بتا دوں صبح تو میں نے چلے جانا ہے اور وہ صبح سکول ہوگا اسی وقت وہ اٹھ کر باہر کی طرف چل پڑا پیچھے سے زری نے آواز دی کدھر جا رہے ہو اب اس نے کہا ابھی آتا ہوں دوسری گلی میں اچھو کے گھر آگیا اسے اچھو کے گھر سے شادو نکلتی ہوئی دکھائی دی رات کا اندھیرا تو تھا مگر اردگرد گھروں کے بلبوں کی روشنی کی وجہ سے خرم اسے پہچان گیا اور حیران بھی ہوا کہ وہ اچھو کے گھر اس وقت کیا کرنے آئی تھی ، اسے دیکھ کر شادو نے منہ چھپانے کی کوشش کی مگر خرم پہچان چکا تھا وہ تیزی سے نکل گئی تھی
خرم اچھو کے گھر کے  اندر آیا تو اچھو کمرے کی طرف جاتا دکھائی دیا خرم اس کے پیچھے پیچھے اندر آگیا اچھو اسے اس وقت دیکھ کر حیران رہ گیا تھا اس نے کہا اوئے خرم تو اس وقت ؟؟خیر تو ہے نا  خرم ہاں خیر ہے مگر یہ بتا یہ سالی ادھر کیا کرنے آئی تھی اس وقت
اور باقی گھر والے کدھر ہیں چاچا چاچی ،اور اس کی بہن  جو کہ اس بڑی تھی ،اچھو وہ ساتھ والے گاؤں میں میرے مامے کے پتر کے ختنے ہیں اس کے لئے گئے ہیں میں نے صبح جانا ہے گھر اکیلا نہیں چھوڑنا تھا  خرم بولا ہاں وہ تو مجھے شادو کو جاتے ہوئے دیکھ کر سمجھ آگئی تھی کہ گھر اکیلا کیوں نہیں چھوڑنا اچھو ہنسنے لگ گیا ،خرم نے پوچھا کیا کرنے آئی تھی اس وقت اچھو ادھوری ملاقات پوری کرنی آئی تھی خرم نے کہا مطلب آج پھدی دے کر گئی ہے تجھے  اچھو ہنستے ہوئے بولا ہاں دیکر گئی ہے  اسے کیسے پتا چلا کہ تیرےگھر والے نہیں ہیں اچھو نے کہا کہ شام کو میں نے پیغام بھیجا تھا  بلو کے ہاتھ ،خرم اس کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے بڑا حرامی ہے تو ، اچھا سن میں تو تیرے سے ملنے آیا ہوں میں صبح شہر جا رہا چوہدری ریاست کے ساتھ ان کے گھر رہنا ہے پڑھنا بھی وہیں ہے
اچھو اوہ تری سچ کہہ رہا ہے تو خرم نے ہا ں میں سر ہلایا۔ ،چل پھر میں بھی شہر آیا کروں گا تجھ سے ملنے میری ماسی وہیں شہر میں رہتی ہے وہ  کوٹھیوں میں کام کرتی ہے خرم بولا چل پھر ضرور آنا اب میں چلتا ہوں ابا آنے والا ہے ،خرم گھر واپس آ رہا تھا کہ اچھو کے گھر سے نکل کوئی چوتھے گھر کے قریب تھا کہ  اسے  کسی  نے بازو سے پکڑ لیا اس کے منہ سے چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی  کیونکہ پکڑنے والے نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا تھا اس لیے اسکی چیخ نا نکل۔سکی خرم نے غور کیا تو پکڑنے والا نسوانی جسم تھا جو اسے گھسیٹ کر سامنے والے گھر کے دروازے کے اندر لے آیا تھا
پکڑنی والی ہستی نے اس کے کان میں آہستہ سے کہا خرم شور مت کرنا  میں شادو ہوں تم سے ضروری بات کرنی ہے اس نے پوچھا شور تو نہیں کرو گے منہ سے ہاتھ ہٹاؤ تو خرم نے سر ہلا کر کہا کہ نہیں کرونگا ، شادو نے منہ سے ہاتھ ہٹا لیا خرم نے زور سے سانس لیا اس نے غور سے دیکھا تو وہ گھر ماسی برکت کا ہی تھا یعنی شادو اسے گھسیٹ کر اپنے گھر لے کر آئی تھی اس نے خرم کو اندر کمرے میں آنے کا اشارہ کیا خود اندر کی طرف چل پڑی خرم بھی سوچوں میں گم اس کے پیچھے اندر کمرے کی طرف چل پڑا گھر میں لگتا ہے۔     ©

Offline ZEEM8187

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 136
  • Reputation: +2/-0
    • View Profile
کہانی اچھی جا رہی ہے اپڈیٹ دیتے رہو

Offline Shani012

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 12
  • Reputation: +0/-0
    • View Profile

قسط نمبر 23
اس وقت کوئی بھی نہیں تھا  نا اس کی بھابھی اور نا ہی چھوٹا بھائی بلو ،ماسی برکت تو تھی ہی حویلی میں وہ لیٹ آتی ہے وہاں سے ،دونوں آگے پیچھے کمرے میں داخل ہوگئے تھے
شادو نے کہا بیٹھو چارپائی کی طرف اشارہ کیا اور خرم نے کہا نہیں مجھے گھر جانا ہے آپ بات بتاؤ جو کرنی ہے شادو شش و پنج میں مبتلا کھڑی تھی کہ کیسے بات کرو آخر کار بولی خرم ایک چھوٹا سا کام ہے تجھ سے کرو گے سوالیہ انداز میں پوچھا۔ ؟خرم نے کہا اگر کرنے والا ہوا تو ضرور کرونگا ،شادو نے خرم کو قریب آکراپنے سینے سے لگا لیا خرم کۓ منہ شادو کے مموں کے بلکل اوپرآگیا تھا خرم کو اس مموں کے نپل محسوس ہونے لگ گئے تھے شادو بولی کام یہ کہ تم کسی کو نہیں بتانا کہ میں اچھو کے گھر گئی تھی اور تم نے مجھے نکلتے دیکھا ہے ، خرم نے کہا  نہیں بتاؤ گا منہ اس کا بدستور  اس کے مموں پر تھا شادو نے اچانک ایک کام کیا اس نے خرم کو تھوڑا سا پیچھے کیا اور اپنی قمیض کا دامن اٹھا کر ممے ننگے کر دئے جو کہ  بغیر بریزیر کے تھے
شادو نے اپنے دائیں ممے پر خرم کامنہ رکھ دیا بولی اس کا ذائقہ چکھو گے  خرم یہ تو دیکھ چکا تھا کہ ممے چوستے بھی ہیں اس کے لئے اچانک یہ سب کرنا مشکل ہو رہی تھی جھجک رہا تھا  شادو نے اپنا پستان اپنے ہاتھ سے پکڑ کر اس کا نپل خرم کے بند ہونٹوں پر رگڑنا شروع کردیا تو خرم نے ہونٹ کھول کر نپل منہ میں لے لیا اس نےایسے چوسا جیسے بچہ دودھ پیتا ہے شاد و کی سسکی نکل گئی وہ اس کے سر میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی خرم تو بڑے اچھے سے چوستا ہے ،
خرم نے منہ ہٹا کر اچھو سے بھی اچھا چوستا ہوں ؟؟؟؟
شادو بولی تجھے کیسے پتا ہے کہ اچھو میرے ممے چوستا ہے  ،حیرت سے بولی
خرم نے کہا مجھے تو یہ بھی پتا ہے کہ وہ تری یہ بھی چاٹتا ہے پھدی پر ہاتھ لگا کر بتایا میں نے سب دیکھا ہے
شادو بولی تم نے کب دیکھا ہے کیونکہ آج تو وہ اچھو کے گھر سے باہر نکلی تھی تو یہ راستے میں نظر آیا تھا ،،،،،آج کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا
خرم نے کہا میں اس دن تجھے اور اچھو کو چوہدریوں کے ٹیوب ویل والے کمرے میں   دیکھا  تھا شادو پر تو کاٹو تو بدن میں لہو نہیں والی کیفیت طاری ہوگئی تھی
شادو کو اپنے ننگے ممے چوسوانے بھول گئے تھے جو کہ وہ جان بوجھ کر ایسا کر رہی تھی کہ خرم چاہ کر بھی اس کے اور اچھو کے بارے میں کسی کو کچھ نا بتائے یہ ایک قسم کی لالچ دے رہی تھی وہ جو اسے دے رہی تھی
شادو حیرانگی کی کیفیت سے نکل کر بولی تم کہاں تھے اس دن 
خرم نے اس کا پیچھا کرنے سے لیکر کر ٹیوب ویل والے کمرے کی ساری کاروائی کی تفصیل بتا دی  شادو اس کے سر چپت لگاتے ہوئے بڑے تیز ہو تم تمہیں تو میں بچہ سمجھتی تھی
خرم ہنستے ہوئے  بولا عذرا ماچھن اور   چوہدری کمال کی کاروائی بھی میں نے دیکھی تھی اور اچھو کو میں نے بتایا تھا
شادو حیرانگی سے بولی  تو چیز کیا ہے ہر بات کا تجھے پتا ہے ،،،،،،
خرم بولا بس پتا چل جاتا ہے ،شادو بولی اچھا یہ بتاؤ پچھلی بار جب تو مجھے اور اچھو کو ٹیوب ویل والے کمرے میں دیکھا تھا ،تب کسی کو اس بارے میں بتایا تھا خرم نے کہا نہیں بتایا تھا صرف مجھے پتا ہے شادو بولی شاباش آئندہ بھی کسی کو نہیں بتانا تمہیں انعام ملتا رہے گا ،خرم نے کہا کیا انعام دوگی شادو نے  اس کا سر پکڑ کر اس کے منہ کو اپنے ننگے ممے پر سیٹ کیا شادو کے پستان کا نپل جو پہلے اکڑا ہوا تھا وہ نرم ہوچکا تھا خرم کے ہونٹوں کا لمس  پاکر پھر سے اکڑنا شروع کردیا  خرم بڑے مزے سے اس کے ممے کو چوس رہا تھا شادو نے اس کو دوسرا پستان چوسنے کو کہا خرم نے دوسرے پستان پر منہ رکھا تو اکڑا ہوا نپل خرم کے منہ میں جاتے ہی شاد و کی  آہ نکل گئی  اس کے بے اختیار ہاتھ  خرم کی رانوں کے درمیان گیا ہاتھ خرم کی للی جسے ابھی لن تو نہیں کہا جاسکتا ،کو محسوس کرتے ہی شادو کو کرنٹ لگ گیا کیونکہ وہ تو اسے بچہ سمجھ کر لالچ کے طور پر اس کی للی پکڑنے لگی تھی مگر وہ حیران رہ گئی اس نے پھر تسلی کے لیے خرم کی للی کو پکڑا تو اب یقین ہوا کہ جو محسوس کیا ہے وہ سہی ہے خرم کی للی اس وقت تقریبا ڈھائی انچ کی تھی مگر اسکی موٹائی حیران کن تھی اس عمر کے آم لڑکوں سے دوگنا موٹی للی تھی اس کی جو بلکل ڈنڈے کی طرح اکڑی ہوئی ،خرم کو جب اپنے للی پر شادو کے ہاتھ کا  احساس ہوا اس کو شادو کے ممے چوسنے سے زیادہ مزہ آیا اس کی زندگی میں اس کی ماں کے علاوہ شادو پہلی غیر ہستی تھی جس نے۔اس کی للی کو پکڑا ہو ،ماں تو چونکہ اسے نہلاتی تھی اس کا ہاتھ تو لگ جاتا تھا مگر۔آج تو کسی نے اکڑی ہوئی للی کو پکڑا ہوا تھا شادو اس بات پر حیران تھی کہ اس کا بھائی بلو ،تقریبا خرم کا ہم عمر تھا اسکو اب بھی وہ نہلاتی تھی مگر اس کی للی تو اتنی لمبی اور موٹی نہیں تھی ،آخر کار شادو نے اپنے ممے چوستے ہوئے ©

Offline Shani012

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 12
  • Reputation: +0/-0
    • View Profile

قسط نمبر 24
خرم سے پوچھا  اوئے کیا کرتا ہے جو تیری  للی اتنی بڑی اور موٹی ہے  خرم نے اس کے ممے سے منہ ہٹا کر کہا  کچھ نہیں کرتا  ،شادو نے اپنی قمیض نیچے کر لی ممے ڈھانپ لیے اور پیروں کے بل نیچے بیٹھ گئی اور خرم کی قمیض اوپر کرکے اسکی لاسٹک والی شلوار نیچے کی تو خرم کی للی بدستور اکڑی ہوئی تھی خرم نے پوچھا کیا کرنے لگی ہوں شاد و نے کہا کچھ نہیں تو چپ کر کے کھڑا رہ  شادو حالانکہ ابھی کچھ دیر پہلے تو اچھو سے چدوا کر آئی تھی مگر اس کی للی دیکھ کر اس پھدی میں پھر سے سرسراہٹ پیدا ہونے لگ گئی تھی کیونکہ خرم کی للی اس کی عمر کے حساب سے دوگنی موٹی اور جاندار لگ رہی تھی شادو نے اس کی ننگی للی کو پکڑا تو وہ گرم تھی ادھر خرم کو اسکے ہاتھ کا لمس لگتے ہی بڑا مزہ آیا اس کا دل کر رہا تھا کہ شادو پکڑے رکھے چھوڑے ہی ناشادو بولی خرم سچ بتا کیاکرتا ہےتوں اس کے ساتھ
خرم نےکہامیں کچھ نہی کرتا ہوں بس جس دن سکول سے چھٹی ہوتی ہے اس دن اماں مجھے خود نہلاتی ہے اور میرے پورے جسم کی تیل سے مالش کرتی ہے اور زری کی مالش کرتی تھی مگر اب نہیں کرتیں زری کی مالش اماں کہتی ہیں اب تو بڑی ہوگئ ہے خود اپنی مالش کیا کر ،
شادو اچھا کونسا تیل لگاتی ہے تیری ماں
خرم بولا پتا نہیں کونسا تیل ہے مگر خوشبو بڑی اچھی ہے شاید ابا لایا تھا کہیں سے
شاد و نے ایک بار پھر سے اس کی للی پر ہاتھ پھیرا اور پھر اس کی شلوار اوپر کر دی اور بولی اب تو گھر جا اماں آنے والی ہے
خرم نے پوچھا بلو کدھر ہے ،تواس نۓ بتایا کہ وہ بھابھی کے ساتھ اس کے میکے گیا ہے آج شام کو گیے ہیں  ،خرم نے کہا ٹھیک ہے میں چلتا ہوں  شادو نے کہا میری بات یاد ہے نا کہ کسی کو کچھ نہیں بتانا خرم نے کہا نہیں بتاؤں گا مگر میری بھی ایک شرط ہے شادو ہنستے ہوئے بڑا بدمعاش ہے اب کیا شرط ہے تیری بتا خرم نے کہا کہ تیرے اور میرے درمیان جو کچھ ہوا یا باتیں ہوئیں تم اچھو کو نہیں بتاوگی شادو ہنستے ہوئے نہیں بتاؤ گی پکا وعدہ  ،خرم نے کہا ٹھیک ہے میں چلتا ہوں
وہ اس کے گھر سے نکل کر سیدھا اپنے گھر آیا تو اس کی ماں نسیم حویلی سے آ چکی تھی اس نے پوچھا کہاں گیا تھا خرم نے بتایا کہ اچھو سے ملنے گیا تھا ۔نسیم نے کہا اچھا آ کھانا کھا لے اور سوجا  صبح تو نے جانا بھی ہے
خرم نے کھانا کھایا اور لیٹ گیا اس کی آنکھوں کے سامنے شادو کے ممے بار بار آ رہے تھے
انہی خیالات میں اس کی آنکھ لگ گئی صبح آنکھ کھلی تو ماں نے اس کچھ جوڑے کپڑوں کے شاپر میں پیک کر دیے اور ایک اچھا سا جوڑا پہنا دیا فرید بھی گھر پر ہی تھا سب نے ملکر ناشتہ کیا نسیم اور فرید نے اسے سمجھایا کہ وہاں کوئی بدتمیزی نہیں کرنی آرام سے رہنا ،پڑھائی پر دھیان دینا ،
خرم نے کہا ٹھیک ہے ابا ، پھر سب ملکر حویلی آئے وہاں چوہدری ریاست اور اس کی فیملی سب تیار تھے  چوہدری کمال بھی ساتھ تیار تھا پتا چلا کہ اس کی کلاس کے پیپر ہوچکے ہیں وہ۔فری ہے اور نیلم اور حنا کے ابھی پیپر ہو رہے ہیں اس لیے کمال چاچا کے ساتھ کچھ دنوں کے لیے شہر جا رہا ہے بعد میں بڑا چوہدری جمال ،یا شبنم چوہدری ڈرائیو ر کے ساتھ جا کر نیلم چوہدری اور حنا چوہدری کو کچھ دنوں کے لیے  چھوڑ آئے گے اور کمال واپس آجائے گا ، سب سے ملکر چوہدری ریاست کی فیملی ،کمال اور خرم کو ساتھ لیکر کر وہاں سے روانہ ہو پڑے ،چوہدری ریاست کی بڑی ساری جیپ نما گاڑی تھی تقریبا دو گھنٹے کے بعد لاہور شہر میں انٹر ہوگئے دن کۓ گیارہ بج رہے تھے روڈز پر ٹریفک کا رش تھا  خرم کے لیے یہ سب نیا تھا وہ سارے راستے باہر ہی دیکھتا رہا ،تقریبا آدھے گھنٹے بعد ایک بڑی ساری عالی شان کوٹھی کے گیٹ پر گاڑی رکی ہارن دیا تو چوکیدار نے گیٹ کھولا  ہارن سن کر اندر سے ایک جواں سالہ عورت نکلی جو کہ حلیے سے ملازمہ لگ رہی تھی ،یہ تو بعد میں پتا چلا کہ چوکیدار اور یہ ملازمہ میاں بیوی ہیں ادھر کوٹھی میں بنے ہوئے سرونٹ کوارٹر میں رہتے ہیں ،اس ملازمہ نے سلام کیا سب اندر  بڑے سارے ہال میں آگئے اتنا بڑا کمرہ اور سجا ہوا تھا خرم تو دیکھ کر حیران رہ گیا تھا ،مہرو بیگم نے حیران کھڑے خرم سے کہا کہ آؤ خرم آگے آؤ پھر مہرو بیگم نے ملازمہ جس کانام انہوں نے  بالی پکارا  اسے کہا کہ آج سے یہ تمہارے ساتھ کوارٹر میں رہے گا دوسرا کوارٹر خالی تو ہے مگر اکیلا بچہ ڈر نا جائےبالی نے کہاکوئی بات نہیں بی بی یہ ہمارےساتھ ہی دوسرے کمرے میں رہے گا وہ خرم کو اپنے ساتھ لیکر کوارٹر کی طرف آگئی بالی ایک جواں عورت تھی  وہ اسکی عمر تقریبا تیس سال کی ہوگی اسکی ابھی تک اولاد نہیں تھی کوارٹر پر پہنچ کر اپنے ساتھ والے کمرے میں لۓ گئی وہاں ایک چارپائی اور دو کرسیاں اور میز پڑا تھا دوسرے کمرہ بالی اور اسکے شوہر جس کانام  خالد تھا  انکا سونے کا کمرہ تھا ©

 

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.