Author Topic: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی  (Read 88302 times)

Offline nadeempk0

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 37
  • Reputation: +1/-0
    • View Profile
بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« on: March 22, 2020, 10:30:21 pm »
دوستو کچھ سال قبل میں نے کچھ کہانیاں لکھی تھیں لیکن بعد ازاں دانے پانی کے چکر میں ایسا مصروف ہوا کہ کچھ لکھ نہیں پایا۔۔۔
اسی سلسلے کی ایک کہانی سلسلہ وار پیش کرنا چاہ رہا ہوں۔۔۔ کہانی مکمل موجود ہے لہِذا ادھوری چھوڑنے کا کوئی چانس نہیں اگر آپ کو پسند آئی تو پیش کرتا رہوں گا۔
ندیم اور اس کی بیوی نجمہ ان دنوں لاہور میں تھے اور خوب مزے کر رہے تھے۔ انہی دنوں ندیم کے گاؤں میں تعلیم کا معیار کچھ بہتر نہ ہونے کے باعث اس کے والدین نے اس کی چھوٹی بہن سیمی کو پڑھائی کے لیے اس کے پاس لاہور بھیج دیا جو ان کے ساتھ ان کے گھر رہنے لگی۔ ندیم نے سیمی کو ایک اچھے پرائیویٹ سکول میں داخل کروا دیا تھا۔

سیمی بے حد حسین و جمیل تھی لیکن چونکہ ابھی کمسن تھی اور شباب کی دہلیز پر قدم رکھ ہی رہی تھی لہٰذا لڑکپن نے اس کے حسن کو نکھار دیا تھا۔ اس کے مموں نے ابھی سر ابھارنا شروع ہی کیا تھا جن کا ابھار اس معصوم کی قمیضوں اور کرتوں میں سے صاف دکھائی دینے لگا تھا۔ اس کے اسکول کے یونیفارم کی پتلی سی قمیض شلوار میں سے جھانکتا اس کا گورا بدن ندیم کو دیوانہ بنا دیتا تھا۔ سیمی تھی بھی بڑی شوخ و چنچل اور ہر لمحہ ہنسنے مسکرانے والی۔ ندیم بھی اس کی انہی اداؤں پر مر مٹا تھا لیکن جانتا تھا کہ اپنی ہی سگی چھوٹی کنواری بہن کو چودنے کی خواہش درست نہیں لیکن مجبور تھا کہ سیمی کے مدھر لڑکپن نے اسے دیوانہ بنا رکھا تھا۔ جب سے وہ ان کے ہاں رہنے آئی تھی ندیم اس کچی کلی کی جوانی کا رس پینے کو بے تاب تھا مگر درست موقع نہ ملنے پر پریشان تھا۔
لیکن اب دو ماہ گزرنے پر اسے ایسا لگنے لگا تھا کہ وہ خود پر زیادہ دن قابو نہیں رکھ پائے گا اور تبھی اس نے فیصلہ کیا کہ خواہ زور زبردستی ہی کیوں نہ کرنی پڑے لیکن سیمی کو ضرور چودے گا۔
ایک بات اور تھی کہ وہ اپنی بیوی نجمہ سے یہ کہتے ہوئے بھی شرماتا تھا کہ وہ ہماری نوکرانی صدف کی طرح میری اپنی سگی چھوٹی بہن کو بھی مجھ سے چدوانے میں مدد کرے اور نجمہ سے چھپ کر چدائی کرنے کو اس کا دل نہیں مانتا تھا کہ اگر نجمہ کو بعد میں معلوم ہو گیا تو نجانے وہ غصے میں کیا قیامت برپا کر دے۔ ندیم تو نجمہ کا دیوانہ تھا وہ اس کی ناراضگی بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا۔

یہ بات تو اسے بعد میں معلوم ہوئی کہ اس کی بیوی اس کی اس خواہش کو شروع سے جان چکی تھی۔ سیمی کو گھورتے ہوئے ندیم کی آنکھوں سے جھلکتی ہوس کی چنگاریاں نجمہ کی نظروں سے کیسے پوشیدہ رہ سکتی تھیں۔
دراصل سچ تو یہ تھا کہ نجمہ خود اتنی گرم تھی کہ ندیم ہر رات چود کر بھی وہ اس کو ٹھیک سے ٹھنڈی نہیں کر پاتا تھا۔ دوپہر کو وہ بے چین ہو جاتی تھی اور انگشت زنی کر کے اپنی آگ ٹھنڈی کرتی تھی۔ اس نے اپنے اسکول کے دنوں میں اپنی کچھ خاص سہیلیوں کے ساتھ جنسی تعلقات بنا لیے تھا اور اسے ان لیزبین تعلقات میں بڑا مزہ آتا تھا۔ اپنی امی کی عمر کی اسکول پرنسپل کے ساتھ تو اس کے بہت گہرے جنسی تعلقات استوار ہو گئے تھے۔ ہاں، شادی کے بعد وہ اور کسی مرد سے تعلق نہیں رکھنا چاہتی تھی کیونکہ ندیم کی جوانی اور مضبوط لنڈ اسے مردانہ چدائی کے مزے دینے کے لیے کافی تھا۔ اسے بھوک تھی تو لیزبین تعلقات کی۔ ویسے تو اسے اپنی ساس یعنی ندیم کی امی بھی بہت اچھی لگی تھیں۔ وہ اسے اپنی اسکول پرنسپل جیسی ہی دکھتی تھیں پر ساس کے ساتھ کچھ کرنے کی خواہش اس کے من میں ہی دبی رہ گئی۔ موقع بھی نہیں ملا کیونکہ ندیم شہر میں رہتا تھا اور اس کے والدین گاؤں میں۔ اب اس کی خواہش یہی تھی کہ کوئی اس کے جیسی چداسی لڑکی، چھوٹی یا بڑی، صرف سیکس کے لیے مل جائے تو مزہ آ جائے۔

پچھلے دو ماہ میں وہ خود بھی سیمی کی کچی جوانی کی جانب بہت مائل ہونے لگی تھی۔ سیمی اسے اپنے بچپن کی پیاری سہیلی سلمی کی یاد دلاتی تھی۔ اب نجمہ موقع ڈھونڈ رہی تھی کہ کیسے سیمی کو اپنے چنگل میں پھنسایا جائے۔ ندیم کی آنکھوں سے اس کے دل کا حال جاننے پر اسے لگا کہ اس کا یہ کام تھوڑا آسان ہو گیا ہے۔

ایک دن جب نجمہ نے ندیم کو اسکول کے ڈریس کو ٹھیک کرتی سیمی کو ہوس بھری نظروں سے گھورتے دیکھا تو سیمی کے اسکول جانے کے بعد ندیم کو طعنہ مارتے ہوئے بول پڑی: "کیوں جی، مجھ سے جی بھر گیا ہے کیا جو اب اس کچی کلی کو گھورتے رہتے ہو۔۔۔ اور وہ بھی اپنی ہی سگی چھوٹی کمسن بہن کو؟"
ندیم کے چہرے پر تو ہوائیاں اڑنے لگیں کہ وہ آخر کار پکڑا گیا۔ وہ کچھ بھی نہ بول پایا۔ اسے ایک دو کڑوے کسیلے طعنے اور مارکر نجمہ سے نہ رہا گیا اور اپنے شوہر کا چما لیتے ہوئے وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی اور جب اس نے ندیم سے کہا کہ وہ بھی اس گڑیا کی دیوانی ہے تو ندیم خوشی سے اچھل پڑا۔
نجمہ نے ندیم سے کہا کہ دوپہر کو اپنی آگ ٹھنڈی کرنے میں اسے بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ "تم تو کام پر چلے جاتے ہو اور ادھر میں مٹھ مار مار کر پریشان ہو جاتی ہوں اس چوت کی آگ ہے کہ ٹھنڈی ہی نہیں ہوتی۔ تم ہی بتاؤ میں کیا کروں۔" پھر اس نے اپنے بچپن کی ساری لیزبین رام کہانی ندیم کو سنا دی۔
ندیم اسے چومتے ہوئے بولا: "پر میری جان، دو بار ہر رات تجھے چودتا ہوں، تیری گانڈ بھی مارتا ہوں، چوت چاٹتا چوستا ہوں اور میں کیا کروں؟"
نجمہ اسے دلاسا دیتے ہوئے بولی: "تم تو لاکھوں میں ایک جوان ہو میرے راجا۔ اتنا مست لنڈ تو قسمت سے ملتا ہے۔ پر میں ہی زیادہ گرم ہوں۔۔۔ ہر وقت چدائی کروانا چاہتی ہوں۔۔۔ دل کرتا ہے کسی لڑکی سے اپنی چوت چسواؤں۔ تم رات کو خوب چوستے ہو اور مجھے بہت مزہ آتا ہے پر کسی لڑکی سے چسوانے کی بات ہی اور ہے۔ اور مجھے بھی کسی کی پیاری رسیلی چوت چاٹنے کا دل کرتا ہے۔ سیمی پر میری نظر بہت دنوں سے ہے۔ کیا رسیلی لڑکی ہے، دوپہر کو میری یہ ننھی نند میری بانہوں میں آ جائے تو میرے تو نصیب ہی کھل جائیں۔"
نجمہ نے ندیم سے کہا کہ وہ سیمی پر چڑھنے میں ندیم کی مدد کرے گی پر اسی شرط پر کہ پھر دوپہر کو وہ سیمی کے ساتھ جو چاہے کرے اور ندیم کچھ نہیں کہے گا۔ روزانہ دن میں وہ خود سیمی کو جیسے چاہے چودے گی اور رات میں ہم دونوں میاں بیوی مل کر اس بچی کے کمسن بدن کا من چاہا لطف لیں گے۔

اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔۔۔ ندیم فوراً ہی مان گیا۔ نجمہ اور سیمی کے آپس میں سیکس کی سوچ سے ہی اس کا لنڈ کھڑا ہونے لگا۔

وہ دونوں سوچنے لگے کہ کیسے سیمی کو پٹایا اور چودا جائے۔
ندیم نے کہا کہ دھیرے دھیرے پیار سے اسے بہلا پھسلا کر منایا جائے۔
نجمہ نے کہا کہ اس میں یہ خطرہ ہے کہ اگر نہیں مانی تو امی کو بتا کر سارا بھانڈا پھوڑ دے گی۔ ایک بار سیمی چد جائے تو پھر اس کے بعد کچھ نہیں کر پائے گی۔ چاہے یہ زبردستی ہی کرنا پڑے۔

پھر نجمہ نے پلان پیش کیا کہ کل وہ سیمی کو اسکول نہیں جانے دے گی۔ آفس جانے سے پہلے وہ سیمی کو کسی بہانے سے اپنے بیڈروم میں بھیج دے گی اور خود دو گھنٹے کے لیے کام کا بہانہ کر کے گھر سے باہر چلی جائے گی۔ سیمی بیڈروم میں چدائی کی تصویروں کی کتاب دیکھ کر اسے ضرور پڑھے گی۔ اسی اثنا میں جب وہ ننگی تصویریں دیکھ رہی ہو گی، ندیم اوپر سے اچانک پہنچ جائے گا اور اسے پکڑ کر اسے ڈانٹنے کے بہانے سے اسے دبوچ لے گا اور پھر دے گھچا گھچ چود ڈالے گا۔ جی بھر کے اس خوبصورت لڑکی کو ٹھوکنے کے بعد وہ آفس نکل جائے گا اور پھر نجمہ آ کر روتی بلکتی سیمی کو سنبھالنے کے بہانے خود اسے دوپہر بھر چودے گی اور آئندہ کے لیے تیار کرے گی۔
اور پھر ندیم کے آفس سے واپس آنے پر اس رات تو جیسے چدائی کا دریا ہی بہہ پڑے گا۔ پھر اس کے بعد تو دن رات اس دوشیزہ کی چدائی ہوتی رہے گی۔ صرف صبح اسکول جانے کے وقت اسے آرام دیا جائے گا۔ باقی وقت دن بھر چودم چدائی ہو گی۔ اس نے یہ بھی کہا کہ شروع میں بھلے سیمی روئے دھوئے لیکن جلد ہی اسے بھی اپنے خوبصورت بھیا بھابھی کے ساتھ مزا آنے لگے گا اور پھر وہ خود ہر وقت چدوانے کو تیار رہے گی۔

ندیم کو بھی یہ پلان پسند آیا۔
وہ رات بڑی مشکل سے کٹی کیونکہ نجمہ نے اسے اس رات چودنے نہیں دیا اس کے لنڈ کا زور تیز کرنے کو جان بوجھ کر اسے پیاسا رکھا۔

سیمی کو دیکھ دیکھ کر ندیم یہی سوچ رہا تھا کی کل جب یہ بچی بانہوں میں ہو گی تب وہ کیا کرے گا۔

باقی آئندہ

Offline pajal20

  • T. Members
  • 4 Stars
  • ****
  • Posts: 897
  • Reputation: +14/-2
    • View Profile
Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #1 on: March 23, 2020, 05:54:47 am »
Wah gi wah. Mast khani hai dost..... :clap: :clap: :clap:

Offline Gandabacha873

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 14
  • Reputation: +0/-0
  • Gender: Male
    • View Profile
Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #2 on: March 23, 2020, 06:12:54 am »
Niceeeeeeee ..
Any girl or aunty from multan &khanewal who wants secret relationship contact me on gandabacha873@gmail.com

Offline Gandabacha873

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 14
  • Reputation: +0/-0
  • Gender: Male
    • View Profile
Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #3 on: March 23, 2020, 06:14:14 am »
Lakin is kahani main apna, najma or nokrani wala qissa bhi shamil kr do to maza a jayga
Any girl or aunty from multan &khanewal who wants secret relationship contact me on gandabacha873@gmail.com

Offline nadeempk0

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 37
  • Reputation: +1/-0
    • View Profile

Offline nadeempk0

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 37
  • Reputation: +1/-0
    • View Profile
Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #5 on: March 23, 2020, 01:21:20 pm »
Wah gi wah. Mast khani hai dost..... :clap: :clap: :clap:
بہت شکریہ

Offline nadeempk0

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 37
  • Reputation: +1/-0
    • View Profile
Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #6 on: March 23, 2020, 01:24:51 pm »
Lakin is kahani main apna, najma or nokrani wala qissa bhi shamil kr do to maza a jayga
وہ کافی پرانی کہانی ہے جو میں نے اردو فنڈا پر لکھی تھی اور اس کے بعد انٹرنیٹ پر ہزاروں نہیں تو سینکڑوں جگہوں پر تو کاپی ہو ہی چکی ہو گی۔ کیا فنڈا تو کیا یم سٹوریز تو کیا فیس بک پیجز۔ کسی نے اسلام آباد سے کراچی کر دیا تو کسی نے صدف کو شازیہ بنا دیا۔
::)
یہ دیکھیں گوگل سے یم سٹوریز کے ہی دو لنکس مل گئے:
https://yumstories.com/index.php?topic=63278.0
https://yumstories.com/index.php?topic=12187.0

Offline nadeempk0

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 37
  • Reputation: +1/-0
    • View Profile
Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #7 on: March 23, 2020, 01:40:32 pm »
اپڈیٹ 2
اگلی صبح ندیم نہا دھو کر تیار تو ہوا لیکن آفس فون کر کے بتا دیا کہ آج وہ لیٹ آئے گا۔
نجمہ نے پلان کے مطابق آج جان بوجھ کر سیمی کو نیند سے ہی نہیں جگایا اور اس کے اسکول کا ٹائم مس ہو جانے پر اسے کہا کہ آج اسکول سے بنک مار لے۔ سیمی تو خوشی خوشی مان گئی۔ ندیم نے چدائی کی ننگی تصویروں والی ایک کتاب اپنے بیڈروم میں تکیے کے نیچے رکھ دی اور خود باہر جا کر اخبار پڑھنے لگا۔
نجمہ نے سیمی سے کہا: سیمی بیٹا تم اندر جا کر ذرا بیڈروم تو ٹھیک کر دو کیونکہ میں باہر جا رہی ہوں اور دوپہر تک واپسی ہو گی۔
سیمی "جی اچھا بھابھی" کہہ کر اندر چلی گئی۔۔۔
نجمہ نے ندیم سے سرگوشی میں کہا: "ڈارلنگ، جاؤ، مزے لوٹو اپنی چھوٹی بہن کے معصوم بدن کا۔ اور ہاں، سیمی آج جتنا بھی روئے چلّائے تم بالکل اس کی پروا نہیں کرنا۔۔۔ ہماری کالونی ابھی نئی بنی ہے تو ہمارے گھر کے ارد گرد کے پلاٹس ویسے بھی خالی ہیں اس لیے اس بچی کی چیخیں باہر چلی بھی گئیں تو کوئی سننے والا نہیں۔۔۔ میں دروازہ باہر سے لاک کر کے جاؤں گی۔۔۔ لیکن پلیز پلیز پلیز ابھی اپنی بہن کی صرف چوت چودنا۔۔۔ گانڈ مت مارنا۔ اس کی گانڈ بہت ہی کومل اور تنگ ہو گی۔۔۔ اس لیے جب تمہارا اتنا موٹا اور لمبا لوڑا اس بے چاری کی گانڈ میں گھسے گا تو وہ بہت روئے گی اور بے انتہا چیخے گی۔ میں بھی اس کی گانڈ پھٹتی دیکھنے کا مزا لینے کے لیے اور اسے سنبھالنے کے لیے ساتھ موجود رہنا چاہتی ہوں۔ اس لیے اس کی گانڈ ہم دونوں مل کر رات کو ماریں گے۔ "
یہ کہہ کر نجمہ ندیم کو آنکھ ماری اور دروازہ بند کر کے گھر سے باہر نکل گئی۔

پانچ منٹ یونہی گزار کر ندیم نے چپکے چپکے جا کر چھپ کر بیڈ روم کے دروازے سے دیکھا تو پلان کے مطابق سیمی تکیے کے نیچے وہ کتاب ملنے پر برداشت نہیں کر پائی تھی اور بیڈ پر بیٹھ کر وہ اسی کتاب میں تصویریں ہی دیکھ رہی تھی۔ لڑکوں اور لڑکیوں کی چدائی کی ننگی تصویریں کو دیکھ دیکھ کر وہ معصوم بچی اپنی پتلی پتلی نازک سی ٹانگیں آپس میں رگڑ رہی تھی اور اپنے ایک سے ہاتھ سے شلوار کے اوپر سے ہی وہ اپنی چوت کو سہلا رہی تھی۔ وہ تصویریں دیکھ کر اس کا چہرہ گلابی سے سرخ ہو گیا تھا۔
موقع دیکھ کر ندیم آہستگی سے بیڈروم میں داخل ہو گیا اور سیمی سے بولا: "دیکھوں تو سہی، میری پیاری بہنا کیا پڑھ رہی ہے؟"
سیمی گھبرا گئی اور کتاب چھپانے لگی۔
ندیم نے اس کے ہاتھ سے چھین کر دیکھا تو فوٹو میں ایک عورت کو تین تین جوان مرد چوت گانڈ اور منہ میں چودتے دکھے۔
ندیم نے سیمی کے منہ پر ایک کرارا طمانچہ رسید کیا اور چلّایا "تو تو آج کل ایسے کتابیں پڑھتی ہے بےشرم لڑکی۔ تو بھی ایسے ہی مروانا چاہتی ہے؟ تیری ہمّت کیسے ہوئی یہ کتاب دیکھنے کی؟ دیکھ آج تیرا کیا حال کرتا ہوں۔"
سیمی اپنے گال پر ہاتھ رکھ کر رونے لگی اور بولی: بھائی، اللہ کی قسم، میں نے پہلی بار یہ کتاب دیکھی ہے اور وہ بھی اس لیے کہ اسے وہ تکیے کے نیچے پڑی ملی تھی"۔
ندیم ایک نہ مانا بولا: بکواس مت کرو، اگر تکیے کے نیچے ملی تو وہیں کیوں نہ چھوڑ دی؟ اپنی چوت سہلاتے ہوئے خود کیوں دیکھ کر مزے لے رہی تھیں؟"
سیمی کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا اور یوں بھی اپنے بڑے بھائی کے منہ سے "چوت" کا لفظ پہلی بار سن کر حیرت اور شرم کے مارے وہ گنگ سی ہو گئی تھی۔
ندیم نے جا کر بیڈروم کا دروازہ بند کیا اور واپس سیمی کی جانب بڑھا۔ اس کی آنکھوں میں ہوس اور درندگی کی جھلک دیکھ کر سیمی گھبرا کر کمرے میں روتی ہوئی ادھر ادھر بھاگنے لگی لیکن ایک تو کمرہ تھا ہی کتنا بڑا اور پھر کہاں وہ پانچ فٹ کی دھان پان سی 40 کلو سے بھی کم کی بچی اور کہاں سوا چھ فٹ کا سانڈ جیسا ندیم۔۔۔ اس نے اسے پکڑنے میں ایک منٹ نہ لگایا اور اسے یوں دبوچ لیا جیسے باز چڑیا کے بچے کو اپنے پنجوں میں دبوچتا ہے اور لا کر واپس اسے بیڈ پر پٹخ دیا۔

اب ندیم نے اس کے کپڑے اتارنا شروع کیے۔ سیمی روتے ہوئے اپنے بھائی کی منتیں کر رہی تھی "بھائی، مجھے معاف کر دیں۔۔۔ میں آئندہ کبھی نہیں دیکھوں گی ایسا کچھ۔۔۔ میں آپ کی چھوٹی بہن ہوں یہ آپ کیا کر رہے ہیں بھائی؟ میرے کپڑے کیوں اتار رہے ہیں بھائی نہ کریں میں ہاتھ جوڑتی ہوں پلیز بھائی پلیز۔۔۔"
لیکن ندیم کہاں سن رہا تھا اپنی بہن کی منتیں اور واسطے۔۔۔ اس نے اپنی بہن کی شلوار اتارنے کے لیے ازاربند کھولنا چاہا تو اسے پتا چلا کہ سیمی کی شلوار میں ازاربند کی بجائے الاسٹک ہے جو اس کا کام مزید آسان بنا رہا تھا۔۔۔ ندیم نے کھینچ کر اس کی شلوار اتار دی۔ سیمی ہچکیوں کے ساتھ رو تو پہلے ہی رہی تھی اب وہ بے چاری خوف سے پتے کی طرح کانپنے بھی لگی۔
پھر ندیم نے سیمی کی قمیض کے گریبان کو دونوں ہاتھوں سے پکڑا اور ایک ہی جھٹکے میں اس بچی کی قمیض گریبان سے دامن تک چرررر کی آواز سے پھٹتی چلی گئی۔۔۔ ندیم نے اپنی بہن کی پھٹی ہوئی قمیض کو اس کے بازوؤں سے نکال کر اس کے  بدن سے الگ کر دیا۔
اب سیمی کے چکنے گورے بدن پر صرف ایک چھوٹی سی سفید سپورٹ برا اور ایک پینٹی بچی۔ وہ معصوم ابھی دو ماہ پہلے ہی تو اپنی بھابھی کے کہنے پر 28 بی سائز کا بریزیئر پہننے لگی تھی۔

اپنی بہن کے نیم برہنہ کومل کمسن بدن کو دیکھ کر ندیم کا لنڈ اب بری طرح تن کر کھڑا ہو گیا تھا۔ اس نے بہن کو چھوڑا اور اپنا ٹراؤزر اور شرٹ بھی دو سیکنڈز میں اتار دیے اور مکمل ننگا ہو گیا۔۔۔ انڈرویئر تو ندیم گھر میں پہنتا ہی نہیں تھا۔
ندیم کے مست موٹے تازے کھڑے لنڈ کو دیکھ کر سیمی کے چہرے پر دو احساسات ایک ساتھ امڈ پڑے۔ ایک گھبراہٹ اور خوف کا اور دوسرا ہوس کا۔
آخر تھی تو وہ بھی ایک جوانی ہوتی لڑکی ہی اور پھر ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو اس نے چدائی کی اتنی ننگی تصویریں دیکھی تھیں۔ پھر وہ گاؤں میں اپنی سہیلیوں سے بھی ایسی باتیں اکثر سنتی اور کبھی کبھار ان کے موبائل فونز پر ننگی تصاویر اور چدائی کی ویڈیوز بھی دیکھتی تھی اور پھر ان میں موجود مست لڑکوں کے لوڑے یاد کر کے رات کو انگشت زنی بھی کرتی تھی۔
جب سے وہ لاہور بھائی کے گھر آئی تھی اکثر اپنے بھائی کے ٹراؤزر کا ابھار دیکھتی تھی جسے دیکھ کر بار بار اس کے دماغ میں آتا تھا کہ اس کے ہینڈسم بھیا کا لوڑا کیسا ہو گا۔ آج سچ میں اس مست لوڑے کو دیکھ کر اسے ڈر کے ساتھ ایک عجیب گدگدی بھی ہوئی۔

اسی اثنا میں اس کے کانوں میں اپنے بھائی کی آواز پڑی۔۔۔
"چل میری نٹ کھٹ بہنا، ننگی ہو جا اور اپنی سزا بھگتنے کو آ جا۔۔۔"
یہ کہتے ہوئے ندیم نے زبردستی کھینچ کر سیمی کی برا اور پینٹی بھی اتار دیے۔ سیمی اپنا آپ چھڑوانے کو ہاتھ پیر ہی مارتی رہ گئی پر ندیم کی طاقت کے سامنے اس معصوم کی ایک نہ چلی۔ اب وہ مادر زاد ننگی اپنے بھائی کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔ اس نے اپنے دونوں بازو اپنی چھوٹی چھوٹی چھاتیوں پر رکھے ہوئے تھے اور رانیں آپس میں جوڑ کر چوت کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔۔۔ اس کمسن کا گورا، نازک اور چکنا بدن اپنی پوری آن بان کے ساتھ ندیم کے سامنے تھا اور اس پر قیامتیں ڈھا رہا تھا۔

ندیم نے تھوڑا سا زور لگا کر سیمی کے بازو اس کے سینے سے الگ کیے اور اسے اپنی بانہوں میں بھر کر اپنی جانب کھینچا اور پھر اپنے دونوں ہاتھوں میں سیمی کے ملائم ننھے ننھے سے پستان پکڑ کر سہلانے لگا۔ وہ چاہتا تو نہیں تھا پر اس سے نہ رہا گیا اور انھیں زور سے دبانے لگا۔ وہ درد سے کراہ اٹھی اور روتے ہوئے بولی "بھیا، درد ہوتا ہے، اتنی زور سے مت مسلیں میری چوچیوں کو"۔

ندیم تو ہوس سے پاگل تھا۔ سیمی کا رونا، سسکنا اور اس کے منہ سے "چوچیوں" کا لفظ اسے مزید پرجوش کرنے لگا۔ اس نے اپنا منہ کھول کر سیمی کے کومل رسیلے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں دبا لیے اور انھیں چوستے ہوئے اپنی بہن کے میٹھے منہ کا رس پینے لگا۔ ساتھ ہی اس نے اپنی بہن کو دھکیلتے ہوئے بیڈ پر لٹا دیا اور اسے پٹخ کر اس پر چڑھ بیٹھا۔
جھک کر اس نے سیمی کے گورے پستان کے براؤن نپل کو منہ میں لے لیا اور چوسنے لگا۔
اس کے دونوں ہاتھ لگاتار اپنی بہن کے بدن پر گھوم رہے تھے۔ اس کا ہر انگ اس نے خوب ٹٹولا۔ جی بھر کر ملائم میٹھی چوچیوں کو باری باری چوسنے کے بعد وہ بولا: "بولو سیمی بیٹا، پہلے چوت چدواؤ گی یا سیدھے گانڈ مرواؤ گی؟"
آٹھ انچ کا تنا ہوا موٹی ککڑی جیسا جھٹکے مارتا لنڈ دیکھ کر سیمی گھبرا گئی اور بلکتے ہوئے اپنے بڑے بھائی سے منّتیں کرنے لگی، "بھیا، یہ لنڈ میری نازک چوت پھاڑ ڈالے گا، میں مر جاؤں گی، مت چودو مجھے پلیز۔ آپ جو کہتے ہیں میں کرنے کو تیار ہوں۔۔۔ میں آپ کی مٹھ مار دیتی ہوں۔"

ندیم کو اپنی نازک دوشیزہ بہن پر آخر ترس آ گیا۔ اتنا تو اب یقینی تھا کہ سیمی چھوٹ کر بھاگنے کی کوشش اب نہیں کر رہی تھی اور شاید چدوانے کو دل ہی دل میں تیار بھی تھی لیکن خوفزدہ تھی۔
اسے پیار سے چومتا ہوا ندیم بولا: "بیٹا، اتنی مست کچی کلی کو تو میں نہیں چھوڑنے والا اور وہ بھی میری پیاری ننھی سی بہنا! چودوں گا بھی اور گانڈ بھی ماروں گا۔ پر چل، پہلے تیری پیاری رسیلی چوت کو چوس لوں جی بھر کر تا کہ تو بھی گرم ہو جائے اور تجھے زیادہ تکلیف نہ ہو، یوں بھی میں تو کب سے اس چوت کا رس پینے کو مرا جا رہا ہوں۔"

پھر ندیم نے سیمی کی گوری گوری چکنی رانوں کو اپنے ہاتھوں سے پھیلا دیا اور جھک کر اپنا منہ بچی کی لال لال کومل گلاب کی کلی جیسی چوت پر جما کر اسے چاٹنے اور چوسنے لگا۔ اپنی زبان سے وہ اس مست چوت کی لکیر کو چاٹنے لگا۔

سیمی کی گوری بچکانہ سی چوت پر ابھی تک بس ذرا سے ریشم جیسے کومل بالوں کے روئیں اگے تھے ورنہ باقی تو اس بچی کی چوت ایکدم صاف تھی۔ اس کی چوت کو انگلیوں سے پھیلا کر بیچ کی لال لال لکیر کو ندیم چاٹنے لگا۔ چاٹنے کے ساتھ ندیم اس کی چکنی ابھری ہوئی چوت کی چمیاں بھی لیتا جاتا۔
دھیرے دھیرے سیمی کا رونا سسکنے میں تبدیل ہوا اور پھر سسکیوں کی جگہ لطف بھری آہوں نے لے لی۔ اس کی چوت پسیجنے لگی اور ایک عجیب سکھ بھری مسحور کن لہر اس کے جوان ہوتے بدن میں دوڑ گئی۔ بالآخر اس کے ہاتھ اٹھے اور اس نے اپنے بھائی کا سر پکڑ کر اپنی چوت پر مزید دبا لیا اور ایک مسحور کن سسکاری بھر کر وہ چہک اٹھی۔۔۔
"بھیا چوسیں، میری چوت اور زور سے چوسیں۔ زبان ڈال دیں میری چوت کے اندر۔"
ندیم نے دیکھا کہ اس کی چھوٹی بہن کی جوان چوت سے چپچپا پانی بہنے لگا ہے جسے آب حیات سمجھ کا جھرنا سمجھ کر وہ پیار سے چاٹنے لگا۔
باقی آئندہ


 

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.
Code for in-page push: