Author Topic: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی  (Read 66438 times)

Offline nadeempk0

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 37
  • Reputation: +1/-0
    • View Profile
Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #16 on: March 25, 2020, 05:21:50 pm »
اپڈیٹ 3
اس کی زبان جب سیمی کے چھوٹے سے لیکن اکڑے ہوئے لال کلائٹوریس پر سے گزرتی تو سیمی نہ چاہتے ہوئے بھی مستی سے بے خود ہو کر ہمکتے ہوئے اپنی رانیں اپنے بھائی کے سر کے دونوں جانب جکڑ کر دھکّے مارنے لگتی۔
کچھ ہی دیر میں سیمی ایک میٹھی سی چیخ کے ساتھ فارغ ہو گئی۔ اس کی چوت سے شہد کی جیسے ندی بہہ اٹھی جسے ندیم بڑی بیتابی سے چاٹنے لگا۔ اسے سیمی کی چوت کا پانی اتنا اچھا لگا کہ اپنی چھوٹی بہن کو فارغ کروانے کے بعد بھی وہ اس کی چوت چاٹتا رہا اور جلد ہی سیمی پھر سے مست ہونا شروع ہو گئی۔ مزے سے سسکتے ہوئے وہ پھر اپنے بڑے بھائی کے منہ کو اپنی چوت سے چودنے لگی۔ اسے اتنا مزا آ رہا تھا جیسا کبھی خود لذتی میں نہیں آیا تھا۔ ندیم اپنی زبان اس کی گیلی پیاری چوت میں ڈال کر چودنے لگا اور کچھ ہی منٹس میں سیمی دوسری بار فارغ ہو گئی۔ ندیم اس امرت کو بھوکوں کی طرح چاٹتا رہا۔ پورا فارغ ہونے کے بعد ایک سکون کی سانس لے کر وہ کمسن بچی سمٹ کر ندیم سے الگ ہونے لگی۔۔۔ کیونکہ اب مستی اترنے کے بعد اسے اپنی ڈسچارج ہوئی ہوئی چوت پر ندیم کی زبان کا ٹچ برداشت نہیں ہو رہا تھا۔
ندیم اب سیمی کو چودنے کے لیے بیتاب تھا۔ وہ اٹھا اور بیڈ کے سامنے لگی ڈریسنگ ٹیبل پر سے نجمہ کی ناریل کے تیل کی بوتل اٹھا لایا ۔ تھوڑا سا ناریل کا تیل اس نے اپنے ٹوپے پر لگایا اور سیمی کو سیدھا کرتے ہوئے بولا: "چل چھوٹی، بیٹا چدوانے کا وقت آ گیا ہے"۔
سیمی گھبرا کر اٹھ بیٹھی۔ اسے لگا تھا کہ اسے ننگی کرنے اور چوت چاٹنے کے بعد اب شاید اس کے بھیا اسے چھوڑ دیں گے لیکن ندیم کو اپنے بری طرح سوجے ہوئے لنڈ پر تیل لگاتے دیکھ اس کا دل ڈر کے مارے زور زور سے دھڑکنے لگا۔
سیمی خوف سے کانپتے ہوئے بیڈ سے اتری اور بھاگ کر دروازے کی طرف بڑھی کہ پیچھے سے ندیم نے ایک چھلانگ لگا کر ایک ہاتھ سے سیمی کا بازو پکڑا دائیں ہاتھ سے اس معصوم کے گالوں پر لگاتار تین چار تھپڑ رسید کر دیے اور اس پر غرایا: حرام زادی، کتیا اپنا مزا لے کر بھاگ رہی ہے۔۔۔ رنڈی مجھے بھی تو مزا لینے دے۔۔۔
پھر ندیم اپنی بہن کو بازو سے دبوچ کر کھینچتا ہوا بیڈ کے پاس لے گیا اور اسے بیڈ پر پٹخ دیا۔ پھر اس نے اپنی بہن کے دونوں نازک سے بازو کہنیوں سے موڑ کر اس کی پشت پر گھما کر اس کے اپنی ہی جسم کے نیچے دبا دیے اور خود اس کے اوپر چڑھ بیٹھا۔ اب وہ بے چاری اس سانڈ بھائی کے نیچے سے کہاں نکل سکتی تھی۔۔۔ ندیم نے اپنی گڑگڑاتی، روتی معصوم بہن کی ایک نہ سنی اور اس کی ٹانگیں پھیلا کر ان کے بیچ میں بیٹھ گیا۔ تھوڑا سا تیل سیمی کی کومل چوت میں بھی چپڑا۔ پھر اپنا ٹماٹر جیسا ٹوپا اس نے اپنے بہن کی کنواری چوت پر رکھا اور اپنے لنڈ کو ایک ہاتھ سے تھام لیا۔

ندیم کو پتا تھا کہ چوت میں اتنا موٹا لنڈ جانے پر سیمی درد کے مارے بہت زور سے چیخے چلّائے گی۔ اسی لیے پہلے تو اس نے سوچا کہ اپنے ایک ہاتھ سے وہ اس کا منہ بند کر دے تا کہ اس کی آواز نہ نکل سکے لیکن پھر اسے نجمہ کی بات یاد آئی کہ اگر سیمی کی چیخیں گھر سے باہر نکلیں بھی تو انہیں سننے والا کوئی نہیں کیونکہ اس نئی کالونی میں ان کا گھر دوسرے گھروں سے کافی ہٹ کر تھا اور ان کے نزدیک ترین گھر بھی کم از کم پانچ چھ پلاٹس چھوڑ کر بنا ہوا تھا۔ یہ سوچ کر اس نے سیمی کا منہ کھلا چھوڑ دیا تا کہ اس کی درد بھری چیخیں اور منتیں سن کر وہ مزید مزے لے سکے۔
پھر ہوس سے تھرتھراتا ہوا اپنا لنڈ وہ اپنی بہن کی چوت کے اوپر دبانے لگا، اس کا لنڈ اور سیمی کی چوت دونوں ناریل کے تیل سے چپڑ کر کافی چکنے ہو چکے تھے۔۔۔
ندیم اپنا لنڈ اپنی بہن کی چوت میں آہستہ آہستہ پیلنے لگا۔ تنگ کنواری چوت دھیرے دھیرے کھلنے لگی اور سیمی نے درد سے کراہنا اور رونا شروع کر دیا۔ ندیم نے تھوڑا زور سے دبایا تو اس کے لنڈ کا ٹوپا گھپ کی آواز سے اس کی چھوٹی بہن کی انتہائی تنگ چوت کے اندر داخل ہو گیا اور ساتھ ہی سیمی کی چیخوں کا ایک طوفان آ گیا۔۔۔ وہ بے چاری نجانے کیا کیا کہہ رہی تھی جو سمجھ سے بالا تر تھا۔۔۔ مر گئی۔۔۔ بھااااااااااائی، اففففففففففف، بچااااااااااؤ میں مری، امی جی ی ی ی ی ی ہائے اللہ ہائے ے ے ے ے ے آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ۔۔۔ وہ مسلسل بلک بلک کر روئے جا رہی تھی۔۔۔
لیکن ابھی اس معصوم کو یہ کہاں معلوم تھا کہ اصل قیامت تو ابھی برپا ہونا باقی تھی۔۔۔ ابھی تو ندیم کے لنڈ کا ٹوپا صرف سیمی کے پردۂ بکارت تک پہنچا تھا جسے پھاڑنا باقی تھا۔
ایک بلا کی خوبصورت اور کمسن بچی اور وہ بھی اپنی سگی بہن کو چودنے میں اسے اتنا مزا آ رہا تھا کہ ندیم سے رہا نہ گیا اور اس نے لنڈ کو تھوڑا سا پیچھے کیا اور پھر کس کے ایک دھکّا لگایا۔ ندیم کے لنڈ کا ٹوپا پھر سے اس کی بہن کی کومل کنواری چوت میں پھچک سے گھس گیا۔۔۔ سیمی کا پردۂ بکارت شاید ابھی کافی سخت تھا اور اس جھٹکے میں بھی پورا نہیں پھٹا تھا اس لیے ندیم کے لنڈ کو رکاوٹ محسوس ہو رہی تھی لیکن سیمی کا تڑپنا اور بلکنا مزید بڑھ گیا تھا۔
ندیم نے اپنی بہن کی کپکپاتی چوت کا مزا لیتے ہوئے اس کی آنسو بھری آنکھوں میں جھانکا اور اپنی بہن کی حالت زار دیکھ کر کچھ دیر ویسے ہی بیٹھا رہا۔ سیمی کے منہ سے نکلتی فریادیں اور چیخیں سن کر اسے اور زیادہ مزا آ رہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ جیسے وہ ایک شیر ہے جو ہرن کے بچے کا شکار کر رہا ہے۔
کچھ دیر بعد جب لنڈ بہت مستی سے اچھلنے لگا تو اس نے ایک جاندار دھکّا اور لگایا۔ اس بار ندیم کا آدھا لنڈ بچی کی چوت کو چیرتا ہوا اور پردۂ بکارت کو پھاڑتا ہوا اندر گھس گیا اور سیمی درد کے مارے اتنی زور سے اچھلی جیسے بکری قصائی کے چھری پھیرنے پر اچھلتی ہے۔۔۔ اس بار وہ چیخ یا چلا نہیں رہی تھی بلکہ واقعتاً کسی ذبح ہوتی بکری کی طرح ہی ڈکرا رہی تھی۔۔۔ اسے لگا کہ جیسے ندیم بھائی نے لنڈ نہیں بلکہ کوئی چھرا چوت کے راستے اس کے پیٹ میں گھسا دیا ہو۔ چوت میں ہوتے اس بے پناہ درد کی شدت کو وہ بیچاری کہاں سہہ سکتی تھی۔۔۔ بمشکل تمام دو چار سیکنڈز میں ہی وہ بے چاری بیہوش ہو گئی۔
ندیم کو فی الحال اس کی کوئی پروا نہیں تھی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ درد وقتی ہے جو ہر لڑکی کے سہنا ہی ہوتا ہے۔۔۔ اسی لیے اس نے مسلسل دھکّے مار مار کر اپنا موسل جیسا لنڈ اس نازک چوت میں گھسیڑنا جاری رکھا۔۔۔ ہر دھکے میں لنڈ آدھا آدھا سینٹی میٹر مزید گہرائی میں اس کنواری چوت میں اتر جاتا اور سیمی کے منہ سے بیہوش ہونے کے باوجود چیخیں اور کراہیں نکلتی رہیں۔۔۔ بالآخر جب لنڈ جڑ تک سیمی کی چوت کے اندر اتر گیا اور ندیم کو لنڈ کا ٹوپا اپنی بہن کی بچہ دانی کو دبا کر اس میں گھستا محسوس ہونے لگا تو وہ ایک گہری سانس لے کر اپنی بہن کے اوپر لیٹ گیا۔ نرم و نازک سی سیمی کے کمسن پستان اس کے سانڈ جیسے بھائی کی چھاتی سے دب کر رہ گئے اور چھوٹے چھوٹے اکڑے ہوئے نپلز ندیم کو دبا کر اسے مست کرنے لگے۔

ندیم تو جیسے جنّت کے مزے میں ڈوبا ہوا تھا کیونکہ اس کی چھوٹی بہن کی تنگ اور کومل مخمل جیسی ملائم چوت نے اس کے لنڈ کو ایسے جکڑا ہوا تھا جیسے کہ کسی نے اپنے ہاتھوں میں اسے بھینچ کر پکڑا ہوا ہو۔ سیمی کے گلابی ہونٹوں کو چومتا ہوا ندیم دھیرے دھیرے اسے بیہوشی میں ہی چودنے لگا۔ چوت میں چلتے اس سوجے ہوئے لنڈ کے درد سے سیمی کچھ دیر میں خود ہی ہوش میں آ گئی۔ اس نے درد سے بلکتے اور کراہتے ہوئے اپنی آنکھیں کھولیں اور سسک سسک کر رونے لگی۔ "ندیم بھائی، میں مر جاؤں گی، ہائے امی جی، بہت درد ہو رہا ہے، میری چوت پھٹی جا رہی ہے، مجھ پر رحم کریں، بھائی میں آپ کے پاؤں پڑتی ہوں مجھے چھوڑ دیں"۔
ندیم نے جھک کر دیکھا تو اس کا موٹا تازہ لنڈ سیمی کی پھیلی ہوئی چوت سے پسٹن کی طرح اندر باہر ہو رہا تھا۔ چوت کا لال چھید بری طرح کھنچا ہوا تھا اور بیڈ شیٹ جو کبھی سفید ہوتی تھی اب اس کی بہن کے خون سے سرخ ہو چکی تھی۔۔۔ بچی درد سے بلبلا رہی تھی اور ندیم مست ہو کر اپنی بہن کو اور زور سے چودنے لگا۔ ساتھ ہی اس نے سیمی کے گالوں پر بہتے آنسو اپنے ہونٹوں سے سمیٹنا شروع کر دیا۔ سیمی کے چیخنے کی پروا نہ کرتے ہوئے وہ زور زور سے اس کنواری مست چوت میں اپنا لنڈ پیلنے لگا۔
"ہائے کیا مست چکنی اور مخمل جیسی چوت ہے تیری سیمی، کاش سال دو پہلے ہی چود ڈالتا تجھے۔ چل اب بھی کچھ نہیں بگڑا ہے، دیکھ اب روز تجھے کیسے تڑپا تڑپا کر چودتا ہوں"۔
ٹائٹ چوت میں لنڈ چلانے سے 'پھچ پھچ پھچ' جیسی مست آوازیں کمرے میں گونجنے لگیں۔ جب سیمی اور زور سے رونے لگی تو ندیم نے سیمی کے کومل گلابی ہونٹ اپنے منہ میں دبا لیے اور انھیں چوستے ہوئے دھکّے مارنے لگا۔ ایسے ہی سیمی کی چیخوں اور ندیم کے جھٹکوں میں تقریباً آدھا گھنٹا گزر گیا اور سیمی کی چیخیں اب کراہوں اور سسکیوں میں تبدیل ہو چکی تھیں۔
آخر کار جب مزا برداشت سے باہر ہونے پر وہ فارغ ہونے کے قریب آ گیا اور اس کے جھٹکے جنونی کیفیت اختیار کر گئے تو سیمی کو شدید درد ہونے لگا اور اس کی ہچکیاں اور بلکنا پھر سے بڑھ گیا لیکن اب سیمی کو یہ لگا کہ شاید ندیم بھائی اب فارغ ہونے والے ہیں اسی لیے بیچاری بڑی امید سے اپنی چوت کو پھاڑتے لنڈ کے فارغ ہونے اور سکڑنے کا انتظار کرنے لگی۔ لیکن ندیم ابھی اور مزا لینا چاہتا تھا۔۔۔ پوری طاقت لگا کر وہ رک گیا جب تک کہ اس کا جھٹکے کھاتا اور اچھلتا لنڈ تھوڑا شانت نہ ہو گیا۔

کچھ ہوش میں آنے پر اس نے سیمی سے کہا: "میری پیاری بہن، اتنی جلدی تھوڑی ہی چود کے چھوڑ دوں گا تجھے۔ محنت سے لنڈ گھسایا ہے تیری کنواری چوت میں تو خدا کی قسم، کم سے کم گھنٹے بھر تو ضرور چودوں گا"۔
یہ کہہ کر وہ پھر سے اپنی بہن کو چودنے کے کام میں لگ گیا۔

دس منٹ بعد سیمی کی پھٹی چوت کا درد بھی تھوڑا کم ہو گیا۔ وہ بھی آخر ایک مست اور پیاسی لڑکی تھی اور اب چدواتے چدواتے اسے درد کے ساتھ ساتھ تھوڑا مزا بھی آنے لگا تھا۔ ندیم جیسے خوبصورت جوان سے چدوانے میں اسے دل ہی دل ایک عجیب خوشی ہو رہی تھی، اور اوپر سے اپنے بڑے بھائی سے چدوانا اسے زیادہ پرجوش کر رہا تھا۔ جب اس نے تصویروں میں دیکھی چدواتی ہوئی عورتوں کو یاد کیا تو ایک سنسناہٹ اس کے بدن میں دوڑ گئی۔ چوت میں سے پانی بہنے لگا اور مست ہوئی چوت چکنے چپچپے رس سے گیلی ہو گئی۔ جس کی وجہ سے ندیم کا لنڈ اور آسانی سے اندر باہر ہونے لگا اور چودنے کی آوازیں بھی تبدیل ہو کر 'پھکاک پھکاک پھکاک' نکلنے لگی۔

بالآخر رونا بند کر کے سیمی نے اپنی بانہیں ندیم کے گلے میں ڈال دیں اور اپنی پتلی پتلی نازک ٹانگیں کھول کر ندیم کے بدن کو ان میں جکڑ لیا۔ وہ ندیم کو بے تحاشہ چومنے لگی تھی اور خود بھی اپنے چوتڑ اچھال اچھال کے چدوانے لگی۔ "چودیں مجھے بھیا، زور زور سے چودیں۔ ہائے، بہت مزا آ رہا ہے۔ میں نے آپ کو رو رو کر بہت تکلیف دی، اب چود چود کر میری چوت پھاڑ دیجیے، میں اسی لائق ہوں"۔
ندیم ہنس پڑا اور اپنی بہن سے بولا: "ہائے، ہے نا آخر میری ہی بہن، میرے جیسی چودو ہی ہے۔ پر یہ تو بتا سیمی، تو اتنی جلدی چدائی کا مزا کیسے لینے لگی ہے؟ لگتا ہے بہت مٹھ مارتی ہے، سچ بول، کیا ڈالتی ہے؟ موم بتی یا ککڑی"؟
سیمی نے شرماتے ہوئے بتایا کہ زیادہ اندر کچھ نہیں لیا اس نے لیکن انگلی اور گاجر سے مٹھ مارنے کی اسے عادت ہے اس لیے چوت کو مزے کی عادت پڑ چکی ہے۔
دونوں بھائی بہن اب ہچک ہچک کر ایک دوسرے کو چودنے لگے۔ ندیم تو اپنی ننھی نازک معصوم بہن پر ایسے چڑھا ہوا تھا جیسے کہ کسی بازاری چداسی رنڈی پر چڑھ کر چودا جاتا ہے۔
سیمی کو مزا تو آ رہا تھا لیکن ندیم کے لنڈ کے بار بار اندر باہر ہونے سے اس کی چوت میں بھیانک درد بھی ہو رہا تھا۔ اپنے لطف کے لیے وہ اس درد کو بھی اب کسی نہ کسی طرح درد برداشت کر رہی تھی اور مزا لیتی ہوئی چدواتی بھی رہی پر ندیم کے ہر وار سے اس کے منہ سے درد اور مزے کی ملی جلی سسکیاں بھی برآمد ہو رہی تھیں۔

چدائی کا یہ دور کافی دیر تک چلا۔ ندیم پورے تاؤ میں تھا اور مزے لے لے کر لنڈ کو فارغ ہونے سے بچاتا ہوا اس ننھی جوانی کو چود رہا تھا۔ سیمی کئی بار ڈسچارج ہوئی اور آخر کار نڈھال ہو کر بیڈ پر پڑ گئی۔ چدائی کا نشہ اترنے پر اب وہ پھر سے رونے لگی۔ جلد ہی درد سے سسک سسک اور بلک بلک کر اس کا برا حال ہو گیا کیونکہ ندیم کا موٹا لنڈ ابھی بھی بری طرح سے اس کی چوت کی چدائی کر رہا تھا۔ ندیم تو اب پورے جوش سے سیمی پر چڑھ کر اسے چود رہا تھا جیسے وہ اس کی چھوٹی بہن یا انسان نہیں بلکہ کوئی کھلونا ہو۔ سیمی بے چاری کے نازک بدن کو اتنی زور کی چدائی برداشت نہیں ہوئی اور سات آٹھ زوردار چیخوں کے بعد وہ ایک ہلکی سی چیخ کے ساتھ ایک مرتبہ پھر سے بیہوش ہو گئی۔
لیکن ندیم اس پر مسلسل چڑھا رہا اور اسے ہچک ہچک چودتا رہا۔ اس نے اپنی معصوم بہن کی چدائی کو مزید لمبا کھینچنے کی پوری کوشش کی لیکن آخر اس سے بھی رہا نہیں گیا اور وہ زور سے ہمکتا ہوا ڈسچارج ہو گیا۔
گرما گرم گاڑھی منی کا فوارہ ہی سیمی کی چوت میں چھوٹ پڑا تو وہ معصوم بھی ہوش میں آئی اور اپنے بھیا کو فارغ ہوتا دیکھ کر اس نے رونا بند کر کے سکون کی ایک سانس لی۔ اسے لگا کہ اب ندیم اسے چھوڑ دے گا پر ندیم اسے بانہوں میں لے کر پڑا رہا۔ سیمی رونے والی آواز میں اس سے بولی: "بھیا، اب تو چھوڑ دیجیے، میرا پورا بدن دکھ رہا ہے آپ سے چد کر"۔
ندیم نے ہنس کر اپنی بہن کے ننگے چوتڑوں پر ہاتھ پھیرا اور بیدردی سے اس بے چاری کو ڈراتا ہوا بولا: "ابھی تو کچھ بھی نہیں ہوا ہے سیمی بیٹا۔ اصل کام تو رہتا ہے۔۔۔ ابھی تو تمہاری یہ گانڈ بھی مارنی ہے تمہارے بھائی نے"۔


YUM Stories

Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #16 on: March 25, 2020, 05:21:50 pm »

Offline Donseye143

  • 3 Stars
  • ***
  • Posts: 458
  • Reputation: +1/-4
    • View Profile
Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #17 on: March 25, 2020, 05:37:40 pm »
Good and hot update

YUM Stories

Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #17 on: March 25, 2020, 05:37:40 pm »

Offline incense

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1187
  • Reputation: +14/-11
    • View Profile
Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #18 on: March 25, 2020, 10:23:42 pm »
Horrible update !
This was product of sick mind where an underage girl was ruthlessly abused and raped

Offline nadeempk0

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 37
  • Reputation: +1/-0
    • View Profile
Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #19 on: March 26, 2020, 02:45:42 am »
Horrible update !
This was product of sick mind where an underage girl was ruthlessly abused and raped

کہانی "محبت کی قیمت" پر آپ لکھتے ہیں
Ye story thi ya zulm ki dastaan
Absolutely disgusting
Product of a sick diseased mind
I dont know how was it approved by athe admin !!

اور "میرا سسرال (انسسٹ کہانی) پارٹ ٹو" کا تھیم آپ کو پسند نہیں آیا تو اس پر آپ "یہ بکواس بند کروائیں" کہہ کر سائبر کرائم کا کیس چلوانے کا حکم جاری کر دیتے ہیں
Iss bakwaas ko band karayain please
Cyber crime to report karain
:hang:
اور "سوتیلے بھائی" پر آپ فرماتے ہیں
Third class story
Ye tau zulm ki dastaan thi

کہانی "انوکھا سفر" پر آپ کا فرمان
Please iss lanati shakhss ko rokain ye khurafaat bakney se
Please do something

اور "فیملی کے راز" نامی سٹوری کا اختتام آپ کی مرضی کے مطابق نہیں کیا رائٹر نے تو آپ کہتے ہیں کہ ایسے رائٹرز کو فورم پر الاؤ ہی کیوں کیا جاتا ہے
Lapadia kapadia writers ka end aisa he hota hai. nahi maloom aisay writers ko forum per allow kyun kiya jata hai

اور "بھابھی کے دودھ کو چوسنے کا پروگرام" کے رائٹر نے چوتھے پیراگراف میں کوئی جملہ آپ کی مرضی یا پسند سے ہٹ کر لکھا تو آپ نے انتظامیہ کو اسے بین کرنے کا حکم نامہ جاری کر دیا
Iss writer ko ban kar dena chahyee jo bakwas uss ne 4th paragraph mei bakki hai
:ban:
کسی سٹوری پر آپ یہ بتاتے ہیں کہ آپ کا دل ہی نہیں کرتا یہ سٹوری پڑھنے کو۔۔۔
Thisstory has lost its steam and direction. It started well with bro sis theme. Phir khala aa gatee wo bhi theek tha... phir aik mami aye phir doosri aayee ab tau ye story parrhney ko dil he nahi karta
یار تو مت پڑھیں نا جو پڑھنے کو دل نہیں کرتا۔۔۔ رائٹرز آپ کے پاس آ کر آپ پر بندوق تو نہیں تانتے کہ پڑھو ورنہ گولی مار دوں گا۔
--------

ویسے انسیسٹ تو آپ "اسٹرانگلی ریکمنڈ" فرماتے ہیں
I agree and strongly recommend such a story... particularky in**st wife swapping

لیکن انسیسٹ میں آپ صرف اپنی بہن اور خالہ کو چادنا چاہتے ہیں صرف۔۔۔
Behn and khala

اپنی بیٹی کو نہیں چودنا چاہتے
Anyway father daughter sex is never arousing

لائٹ بی ڈی ایس ایم (ہلکی پھلکا تشدد ارو مار پیٹ) بھی آپ کو پسند ہے
Quote from: incense link=topic=61662.msg984308#msg984308 date=1571574300
Light BDSM is liked


[right
تو اس سٹوری میں آپ کی پسندیدہ بھائی بہن کی چدائی بھی ہے اور "لائٹ بی ڈی ایس ایم" کے نام پر دو چار تھپڑ بھی۔۔۔ لیکن آپ اس میں کیڑے نکالنا شروع ہو گئے۔۔۔
شاید آپ کا پسندیدہ ترین "ہیجان" نہ ہونے کے باعث پسند نہیں آئی۔۔۔
اور اب رہ گیا کہ آپ کے لیے پسندیدہ ترین اور "ہیجان انگیز" کیا ہے وہ آپ یہاں بیان فرما چکے۔۔۔ "گانڈ کے سوراخ سے پاخانہ سونگھنا اور گانڈ کے اندر پاخانے میں زبان ڈالنا"۔۔۔ معذرت کہ آپ کی یہ من پسند ہیجان انگیزی میں لکھنے سے قاصر ہوں۔ میں وہی لکھوں گا جو میرا دل چاہے گا، اگر آپ کا دل نہیں چاہتا تو مت پڑھیں، کوئی زور زبردستی تو ہے نہیں۔

[/right]
Leken khilaf e tawaqo gand k saath pyaar aur gand k sorakh ko chaatna soonghna zaban anadar dalna nahi tha jis se mayoosi hie but maybe aagay chal kar aisay haijaan khez scene atain
Overall bohut garam update thi


پھر یہ حرکتیں کرنے کے بعد جب رائٹر آپ پر چار حرف بھیج کر چلے جاتے ہیں تو آپ فخریہ لکھتے ہو کہ
Bhaag gaya hai baqi writers ki tarah


یار اگر آپ کو اتنا ہی شوق ہے تو خود لکھو سٹوریز اپنی مرضی کی۔۔۔۔ دوسروں پر اپنی مرضی کیوں تھوپنا چاہتے ہیں اور اپنے احکامات کے مطابق سٹوریز لکھوانا چاہتے ہیں؟
لیکن آپ تو کہہ چکے ہیں کہ یہ لکھنا آپ کے بس کی بات نہیں۔۔۔
کیونکہ میں سیکس سین نہیں لکھ سکتا

آخر میں آپ ہی کے الفاظ دہراؤں گا کہ
آپ کو آم کھانے سے غرض ہونی چاہیے۔۔۔ ہر بات میں کیڑے نہ نکالا کریں تو بہتر ہو گا
ریگارڈز

Apko aam khaney se gharz honi chahyee.... har baat mein keerray na nikaalain tau behtar ho ga
Regards

نیز آپ ہی کے مزید الفاظ میں آپ کے لیے مشورہ۔۔۔
آپ ایسا کریں کہ یم سٹوریز چھوڑ دیں اور ایسی سٹوریز اور خیالات کے قریب بھی نہ پھٹکیں
آپ اپنے مشورے اپنے آپ تک رکھیں
مہربانی ہو گی آپ کی
آپ کہیں جا کر صاف ستھرا پلیدی سے پاک (یا اپنا من پسند) سیکس ڈھونڈیں

Aap aisa karain k yum chorr dein aur aisa stories aur khayalaat k qareeb bhi na phatkain
Aap apnay mashwaray apnay aap tuk rakhain
Mehrbani ho gi aap ki
Aap kaheen ja ka saaf suthra paleedi se pak sex dhoondain

Offline incense

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1187
  • Reputation: +14/-11
    • View Profile
Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #20 on: March 26, 2020, 07:20:34 am »
Merey eik comment k baad barri mehnat ki aap ne !!!
Wah !!
Khush rahain
Salamat rahain !!!!

Offline woodman

  • 3 Stars
  • ***
  • Posts: 453
  • Reputation: +5/-3
    • View Profile
Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #21 on: March 29, 2020, 04:20:10 pm »
@nadeempk0
دوست اتنی محنت تو  اینکر اور صحافی بھی نہیں کرتے وہ بھی سنی سنائی باتیں آگے کر دیتے ہیں۔ :rockon: بہرحال کہانی لکھیے اور جسے پسند ہو گی وہ پڑھے گا۔اور تنقیدی کمنٹس کو اتنی اہمیت نہ دیں۔
987uk321 gmail

Offline Yumlaila

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 30
  • Reputation: +115/-0
  • Gender: Female
  • I can't be nude all the time. Why
    • View Profile
Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #22 on: March 30, 2020, 03:29:10 am »
Sexy story thi bhot!!!


Wesy incen ko bhot ganda jawab diya hay apne hehehe gud1
Chahat ho, dikhawa na ho, to apna jism sonp dun wafa ki umeed kiye bghair!!!

Offline incense

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1187
  • Reputation: +14/-11
    • View Profile
Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #23 on: March 30, 2020, 07:21:17 am »
Sexy story thi bhot!!!


Wesy incen ko bhot ganda jawab diya hay apne hehehe gud1
Apki  daad deney ki daad deta hoon
Khush rahain

 

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.