Author Topic: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی  (Read 66730 times)

Offline rabiarabia338

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 5906
  • Reputation: +38/-13
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #24 on: March 30, 2020, 01:55:49 pm »
nice dear
O Mery Nal Janb No Payer V Koi Nahi Avey Farzi Lad Karena A
Hanjo Kad Kay Katal Akhein Chu Kiday Yar Farad Karena A ..

YUM Stories

Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #24 on: March 30, 2020, 01:55:49 pm »

Offline nadeempk0

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 37
  • Reputation: +1/-0
    • View Profile
Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #25 on: March 30, 2020, 08:25:09 pm »
@nadeempk0
دوست اتنی محنت تو  اینکر اور صحافی بھی نہیں کرتے وہ بھی سنی سنائی باتیں آگے کر دیتے ہیں۔ :rockon: بہرحال کہانی لکھیے اور جسے پسند ہو گی وہ پڑھے گا۔اور تنقیدی کمنٹس کو اتنی اہمیت نہ دیں۔
ہم میں اور صحافیوں میں یہی تو فرق ہے۔  :punk:
کبھی وہی چیز بڑی پسند کر کے طلب کرتے ہیں اور کسی رائٹر کی اسی چیز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔۔۔ ان لوگوں کا کوئی ایک معیار ہونا چاہیے ناں۔۔۔۔۔ اسی لیے انہی صاحب کے اپنے کمینٹس کوٹ کیے

YUM Stories

Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #25 on: March 30, 2020, 08:25:09 pm »

Offline nadeempk0

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 37
  • Reputation: +1/-0
    • View Profile
Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #26 on: March 30, 2020, 08:26:49 pm »
Sexy story thi bhot!!!


Wesy incen ko bhot ganda jawab diya hay apne hehehe gud1
میں نے تو کوئی "گندا" جواب نہیں دیا۔۔۔ جہاں جہاں آپ کو "گندگی" نظر آئی ہے ذرا غور کریں تو وہاں وہاں میں صرف انہی کے الفاظ کوٹ‌ کر کر دہرائے ہیں

Offline nadeempk0

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 37
  • Reputation: +1/-0
    • View Profile

Offline nadeempk0

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 37
  • Reputation: +1/-0
    • View Profile
Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #28 on: March 30, 2020, 08:31:09 pm »
اپڈیٹ 4
سیمی کے ہوش و حواس یہ سن کر اڑ گئے اور گھبرا کر وہ پھر سے رونے لگی۔۔۔
ندیم ہنسنے لگا اور اسے چومتے ہوئے بولا: "اچھا اچھا بیٹا رو مت، چلو تمہاری گانڈ ابھی نہیں مارتا پر ایک بار اور چودوں گا ضرور اور پھر آفس جاؤں گا

سیمی اپنے بھائی کی یہ بات سن کر سہم سی گئی لیکن مجبور تھی کہ کچھ کر نہیں سکتی تھی۔
ندیم نے اب پیار سے اپنی بہن کے چہرے، گالوں اور آنکھوں کو چومنا شروع کر دیا۔ اس نے سیمی سے اپنی زبان باہر نکالنے کو کہا اور اسے منہ میں لے کر سیمی کے منہ رس پیتے ہوئے کینڈی کی طرح اس کومل لال لال زبان کو چوسنے لگا۔ اس کے ہاتھ سیمی کے چھوٹے چھوٹے بوبیز کو دبا اور سہلا رہے تھے۔
تھوڑی ہی دیر میں اس کا لنڈ پھر کھڑا ہو گیا اور وہ دوبارہ سے اٹھ کر اپنی بہن کی ٹانگیں کھول کر خود بیچ میں آ کر بیٹھ گیا۔
ندیم نے ایک تکیہ اٹھا کر سیمی کے چوتڑوں کے نیچے رکھا اور اس کی ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھیں اور دوسری بار اپنی بہن کی چدائی شروع کر دی۔
چپچپی منی سے سیمی کی چوت اب ایک دم چکنی ہو گئی تھی اسی لیے اب اسے زیادہ تکلیف نہیں ہوئی۔ 'پچک پچک پچک' کی آواز کے ساتھ یہ چدائی قریب آدھا گھنٹہ چلی۔
سیمی بہت دیر تک چپ چاپ یہ چدائی برداشت کرتی رہی لیکن بالآخر چد چد کر بالکل نڈھال ہو کر وہ درد سے سسکنے لگی۔ آخر ندیم نے زور زور سے دھکّے لگانے شروع کیے اور تقریباً پانچ منٹ بعد وہ اس بچی کی چوت کے اندر ہی ڈسچارج ہو گیا۔ فارغ ہونے کے بعد کچھ دیر تو ندیم مزے لیتا ہوا اپنی کمسن بہن کے نیم بے جان بدن پر یونہی پڑا رہا۔ پھر اٹھ کر اس نے اپنا لنڈ باہر نکالا۔ وہ 'پکک' کی آواز سے باہر نکلا۔ لنڈ پر منی اور چوت کے پانی کا ملا جلا گاڑھا مواد لگا تھا۔
سیمی بیہوش پڑی تھی۔ ندیم نے اس کا چہرہ چوما اور پھر اسے بیڈ پر ویسے ہی لیٹی ہوئی چھوڑ کر باہر آ گیا اور دروازہ بند کر دیا۔
باہر نکل کر دیکھا تو نجمہ واپس آ چکی تھی اور باہر ٹی وی لاؤنج میں بیٹھی بڑی بے صبری سے ندیم کا انتظار کر رہی تھی۔ شوہر کی نشیلی آنکھیں دیکھ کر وہ سمجھ گئی کہ چدائی مست ہوئی ہو گی۔۔۔
ندیم کو دیکھتے ہی بڑی ادا سے مسکراتے ہوئے بولی: "ظالم بھائی جان، چود آئے میری گڑیا جیسی پیاری نند کو"؟
ندیم دیوانہ ہو کر اسے چومتا ہوا بولا: "ہاں میری جان، چود چود کر بیہوش کر دیا سالی کو، بہت رو رہی تھی، درد کا ڈراما بھی خوب کیا لیکن میں نے ایک نہیں سنی اس کی۔ اف کیا مزا آیا اس ننھی سی چوت کو چود کر"۔
نجمہ ہوس کے جوش میں گھٹنے کے بل ندیم کے سامنے بیٹھ گئی اور اس کا رس بھرا لنڈ اپنے منہ میں لے کر چوسنے لگی۔ لنڈ پر سیمی کی چوت کا پانی اور ندیم کی منی سوکھ چکی تھی اور ان کا مکسڈ ذائقہ نجمہ کے منہ میں آ رہا تھا۔ اچھی طرح چاٹ اور چوس کے ندیم کا لنڈ پوری طرح صاف کر کے ہی وہ اٹھی۔
ندیم کپڑے پہن کر آفس جانے کو تیار ہو گیا۔ اس نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ اب وہ کیا کرے گی؟
نجمہ بولی: "اس بچی کی رسیلی چوت پہلے چوسوں گی جس میں تمہارا یہ مست رس بھرا لنڈ گیا ہے۔ پھر اس سے اپنی چوت چسواؤں گی۔ ہم لڑکیوں کے پاس مزا کرنے کے لیے بہت سے پیارے پیارے طریقے ہوتے ہیں۔ آج ہی سب سکھا دوں گی اسے"۔
ندیم نے پوچھا، "آج رات کا کیا پروگرام ہے رانی"؟
نجمہ اسے کس کر چومتے ہوئے بولی: "جلدی آنا، آج ایک ہی پروگرام ہے۔ رات بھر تمہاری بہن کی تنگ گانڈ مارنے کا۔ خوب ستا ستا کر، رلا رلا کر گانڈ ماریں گے سالی کی، جتنا وہ روئے گی اتنا مزا آئے گا۔ میں کب سے اس گھڑی کا انتظار کر رہی ہوں۔ "
ندیم مسکرا کے بولا: "بڑی رنڈی ہو۔ بچی کو تڑپا تڑپا کر چودنا چاہتی ہو"؟
نجمہ بولی: "تو کیا ہوا، شکار کرنے کا مزا ہی الگ ہے۔ بعد میں اتنا ہی پیار بھی تو کروں گی اپنی لاڈلی نند کو۔ اس کی چوت کو ایسے مزے دوں گی کہ وہ میری غلام بن جائے گی۔ ہفتے بھر میں ہم میاں بیوی سے چد چد کر کھلی ہو جائے گی تمہاری بہن، پھر درد بھی نہیں ہو گا اسے اور خود ہی چدائی کی تڑپ میں ہم سے چدوانے کی منتیں کیا کرے گی۔ پر آج تو اس کی کنواری گانڈ مرنے کا مزا لے لوں"۔
ندیم ہنس کر آفس چلا گیا اور نجمہ بڑی بیتابی سے بیڈروم میں جا پہنچی اور اندر سے چٹخنی لگا لی۔

سیمی ہوش میں آ گئی تھی لیکن ویسے ہی ننگی بیڈ پر لیٹی ہوئی درد سے سسک رہی تھی۔ چدائی کی پیاس ختم ہونے پر اب اس کی چدی ہوئی چوت میں بے انتہا درد ہو رہا تھا اور اس میں اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ اٹھ کر کپڑے پہن لے۔
نجمہ کو دیکھ کر سیمی گھبرا گئی اور اپنا ننگا بدن چھپانے کے لیے بیڈ شیٹ کھینچ کر اپنے اوپر ڈالنے کی کوشش کرنے لگی لیکن بیڈ شیٹ اس کے اپنے وزن اور میٹرس کے نیچے دبی ہوئی تھی جو اس معصوم سے کھینچ کر نکالی نہ جا سکی۔
نجمہ سیمی کے پاس بیٹھ کر اس کے ننگے بدن کو پیار سے سہلانے لگی اور بولی: "کیا ہوا میری سیمی رانی کو؟ ننگی کیوں پڑی ہے اور یہاں تمہاری ٹانگوں کے بیچ سے چپچپا سا کیا بہہ رہا ہے"؟
بیچاری سیمی شرم سے رو دی اور بولی: "بھابھی، بھیا نے آج مجھے چود ڈالا"۔
نجمہ حیرت کا ڈراما کرتے ہوئے بولی: "اوہ، چود ڈالا۔۔۔ اپنی ہی ننھی بہن کو؟ کیسے"؟
سیمی سسکتی ہوئی بولی: "میں گندی کتاب دیکھتی ہوئی پکڑی گئی تو مجھے سزا دینے کے لیے بھیا نے میرے کپڑے زبردستی اتار دیے، پھر میری چوت چوسی اور پھر مجھے خوب چودا۔ میری چوت پھاڑ کر رکھ دی بھابھی۔ وہ تو گانڈ بھی مارنا چاہتے تھے پر میں نے جب خوب منّتیں کیں تو چھوڑ دیا"۔
نجمہ نے بیڈ پر چڑھ کر اسے پہلے پیار سے چوما اور بولی: "اف اتنا سب کچھ کر دیا؟ مجھے دکھاؤ ذرا"۔۔۔ سیمی نے شرماتے ہوئے اپنی نازک سی ٹانگیں پھیلا دی۔ نجمہ جھک کر چوت کو پاس سے دیکھنے لگی۔
کچی کمسن چوت سوجی ہوئی تھی اور اس کے ارد گرد لال لال خون لگا دیکھ کر نجمہ کو بخوبی اندازہ ہو گیا کہ وہ بے چاری بہت بری طرح چدی ہے۔
اس کمسن چوت کی یہ حالت دیکھ کر لمحے بھر کو نجمہ کو ترس تو آیا لیکن ساتھ ہی اس کے منہ میں پانی بھر آیا اور اس کی خود کی چوت مچل کر گیلی ہونے لگی۔ وہ بولی: "سیمی بیٹا، ڈرو مت، جو ہونا تھا وہ ہو گیا ہے اور ویسے بھی یہ تو ہر لڑکی کے ساتھ ہوتا ہے۔۔۔ میری چوت کی بھی یہی حالت کی تھی تمہارے بھائی نے۔۔۔ ویسے تمہاری چوت پھٹی نہیں ہے، بس تھوڑی سی کھل گئی ہے۔ درد ہو رہا ہو گا، جلن بھی ہو رہی ہو گی ناں۔ میں پھونک مار کر ابھی ٹھنڈی کر دیتی ہوں تمہاری چوت"۔
نجمہ اپنا منہ بالکل سیمی کی چوت کے پاس لے جا کر اس پر ہلکی ہلکی پھونکیں مارنے لگی۔ سیمی کو تھوڑی راحت ملی تو اس کا رونا بند ہو گیا۔ پھونکتے پھونکتے نجمہ نے جھک کر اس پیاری چوت کو چوم لیا۔ پھر زبان سے اسے دو تین بار چاٹا، خاص کر لال لال انار جیسے دانے پر زبان پھیری۔
سیمی چہک اٹھی: "بھابھی، کیا کر رہی ہیں"؟
"رہا نہیں گیا رانی، اتنی پیاری نوجوان چوت دیکھ کر، ایسے مال کو کون نہیں چومنا اور چوسنا چاہے گا؟ کیوں، تمہیں اچھا نہیں لگا کیا"؟
نجمہ نے اس کی چکنی دبلی پتلی رانوں کو سہلاتے ہوئے کہا۔
سیمی نے شرما کر آنکھیں بند کر لیں اور بھابھی کی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔
نجمہ پھر سے بولی: "بیٹا، اگر برا لگ رہا ہے تو میں رک جاتی ہوں" اور ساتھ ہی وہ پیچھے ہٹ گئی۔
سیمی نے مچل کر آہستہ سے کہا: "بہت اچھا لگ رہا ہے بھابھی، اور کرو نا"۔
نجمہ چوت چوسنے کے لیے جھکتی ہوئی بولی: "اصل میں تمہارے بھیا کا کوئی قصور نہیں ہے۔ تم ہو ہی اتنی پیاری کہ عورت ہو کر بھی میرا دل کرتا ہے کہ تم پر چڑھ جاؤں تو تمہارے بھیا تو آخر مست جوان ہیں"۔
اب تک سیمی کافی گرم ہو چکی تھی اور اپنی چوتڑ اچکا اچکا کر اپنی چوت نجمہ کے منہ پر رگڑنے کی کوشش کر رہی تھی۔ سیمی کی بے صبری دیکھ کر نجمہ بنا کسی ہچکچاہٹ کے اس کومل چوت پر ٹوٹ پڑی اور اسے بے تحاشا چاٹنے لگی۔ چاٹتے چاٹتے وہ اس مسحور کن سواد سے اتنی پرجوش ہو گئی کہ اپنے دونوں ہاتھوں سے سیمی کی چدی ہوئی چوت کے سوجے ہوئے لبوں کو پھیلا کر اس کے گلابی چھید میں زبان اندر ڈال کر آگے پیچھے کرنے لگی۔ اپنی بھابھی کی لمبی گیلی ملائم زبان سے چدوانا سیمی کو اتنا بھایا کہ وہ بمشکل تمام ایک منٹ ہی برداشت کر پائی اور پھر ایک کلکاری مار کر ڈسچارج ہو گئی۔
دراصل حقیقت یہ تھی کہ سیمی کو بھی اپنی خوبصورت بھابھی بہت اچھی لگتی تھیں۔ اپنی ایک دو سہیلیوں سے اس نے لیزبین تعلقات کے بارے میں سن رکھا تھا۔ اس کی ایک سہیلی نے تو بتا رکھا تھا کہ وہ تو اپنی سگی خالہ کے ساتھ کافی لیزبین مزے کرتی تھی۔ سیمی بھی یہ قصّے سن سن کر دل ہی دل میں اپنی بھابھی کی جانب مائل ہو کر کب سے یہ چاہتی تھی کہ بھابھی اسے بانہوں میں لے کر پیار کریں۔ اب جب اس کی فینٹسی کے مطابق اس کی پیاری بھابھی اپنے لال سرخ ہونٹوں سے اس کی چوت چوس رہی تھیں تو سیمی جیسے جنّت میں پہنچ گئی۔ اس کی چوت کا رس نجمہ کی زبان پر لگا تو نجمہ مستی سے اسے نگلنے لگی۔ چوت کے رس اور ندیم کی منی کا ملا جلا سواد نجمہ کو اس وقت آب حیات لگ رہا تھا اور وہ اسے مزے لے لے کر پینے لگی۔
اب نجمہ بھی بہت گرم ہو چکی تھی اور اپنی رانیں رگڑ رگڑ کر فارغ ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔ سیمی نے ہاتھوں میں نجمہ بھابھی کے سر کو پکڑ کر اپنی چوت پر دبا لیا اور ان کے گھنے لمبے بالوں میں پیار سے اپنی انگلیاں چلاتے ہوئے بولی: "بھابھی، آپ بھی ننگی ہو جاؤ نا، مجھے بھی آپ کی چوچیاں اور چوت دیکھنی ہے"۔
نجمہ اٹھ کر کھڑی ہو گئی اور اپنے کپڑے اتارنے لگی۔ اس کی معصوم نند اپنی ہی چوت کو رگڑتے ہوئے بڑی بڑی آنکھوں سے اپنی بھابھی کی جانب دیکھنے لگی۔ اس کی خوبصورت بھابھی اس کے سامنے ننگی ہونے جا رہی تھی۔
نجمہ نے ایک ہی جھٹکے میں اپنی قمیض اتار پھینکی اور پھر ناڑا کھول کر شلوار بھی اتار دی۔ اب نجمہ نے ہاتھ اوپر کر کے جب اپنی شمیض اتاری تو اس کی سٹریپ لیس برا میں کسے ہوئے ابھرے پستان دیکھ کر سیمی کی چوت میں ایک بجلی سی دوڑ گئی۔ بھابھی کئی بار اس کے سامنے کپڑے بدلتی تھیں پر اتنی قریب سے ان کے مچلتے ہوئے مموں کی گولائیاں اس نے پہلی بار دیکھی تھیں اور یہ سیکسی بریزیئر بھی اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اب نجمہ کے گدرائے بدن پر صرف سفید انڈرویئر اور ٹائٹ سفید برا بچی تھی۔
سیمی بولی: "بھابھی یہ قینچی جیسی برا آپ کہاں سے لائی ہیں؟ آپ تو بالکل اپسرا لگتی ہیں اس میں"۔
نجمہ نے مسکرا کر کہا، "ایک فیشن میگزین میں دیکھ کر منگوائی ہے، تمہارے بھیا یہ دیکھ کر اتنے مست ہو جاتے ہیں کہ رات بھر مجھے چودتے ہیں"۔
"بھابھی رکو، انہیں میں اتاروں گی"… یہ کہہ کر سیمی بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہوئی اور لنگڑاتی ہوئی نجمہ کے پیچھے آ کر کھڑی ہو گئی۔۔۔ نجمہ اس بے چاری کی لنگڑاہٹ دیکھ کر تصور ہی تصور میں دیکھ رہی تھی کہ ندیم نے کتنے ظالمانہ انداز سے اس معصوم کو چودا ہو گا کہ اس کے لیے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا اور چلنا بھی محال تھا۔
سیمی اپنی بھابھی کے پیچھے آ کر اس کی بھری بھری پیٹھ پیار سے چومنے لگی۔ پھر اس نے برا کے ہکس کھول دیے اور برا اچھل کر نجمہ کے موٹے موٹے مموں سے الگ ہو کر نیچے گر پڑی۔ ان مست پپیتے جیسے مموں کو دیکھ کر سیمی مست ہو کر انھیں چومنے لگی اور بولی: "بھابھی، کتنی مست چوچیاں ہیں آپ کی۔ تبھی تو بھیا ہر وقت آپ کی طرف ایسے بھوکوں کی طرح دیکھتے رہتے ہیں"۔
نجمہ کے نپلز بھی مست ہو کر کڑک انگوروں کی طرح کھڑے ہو گئے تھے۔ اس نے سیمی کے منہ میں ایک نپل دے دیا اور اس گرم بچی کو بھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ سیمی آنکھیں بند کر کے بچوں کی طرح اپنی بھابھی کا نپل چوسنے لگی۔
نجمہ کے منہ سے جوش کے مارے سسکیاں نکلنے لگیں اور وہ اپنی نند کو بانہوں میں بھر کر بیڈ پر لیٹ گئی"۔
"ہائے میری پیاری بچی، چوس لے میرے نپل، کھو جا میرے بوبز، تجھے تو میں اب اپنی چوت کا پانی بھی پلاؤں گی"۔
سیمی نے جی بھر کر اپنی بھابھی کی چوچیاں چوسیں اور بیچ میں ہی منہ سے نکال کر بولی: "بھابھی اب جلدی سے امی بن جاؤ، جب ان میں دودھ آئے گا تو میں ہی پیا کروں گی، اپنے بچے کے لیے اور کوئی انتظام کر لینا"۔
نجمہ ہنسنے لگی اور سیمی دوبارہ من لگا کر ان ملائم پستانوں کا رس چوسنے لگی"۔
ضرور پلاؤں گی میری رانی، تیرے بھیا بھی یہی کہتے ہیں کہ میں ان کا دودھ پیوں گا۔۔۔ میں تم دونوں بھائی بہن کو پلاؤں گی اپنا دودھ۔۔۔ ایک چوچی سے تم پینا اور ایک سے تمہارے بھیا"۔۔۔ نجمہ سیمی کے منہ کو اپنے پستان پر دباتے ہوئے بولی۔
اپنے نپل میں اٹھتی میٹھی چبھن سے نجمہ نہال ہو گئی تھی۔ اپنی پینٹی اس نے اتار پھینکی اور پھر دونوں رانوں میں سیمی کے بدن کو جکڑ کر اسے جھٹکے مارتے ہوئے نجمہ اپنی چوت اس کی کومل رانوں پر رگڑنے لگی۔
نجمہ کے اکڑے ہوئے کلائیٹوریس کو اپنی ران پر رگڑ کھاتا محسوس کر کے سیمی مست ہو اٹھی اور بولی: "بھابھی، مجھے اپنی چوت چوسنے دو ناں پلیز"۔
"میری پیاری بہنا، چل آج جی بھر کے چوس اپنی بھابھی کی چوت، پی جا اس کا نمکین پانی"۔۔۔ یہ کہہ کر نجمہ اپنی بھری بھری رانیں پھیلا کر بیڈ پر لیٹ گئی۔ ایک تکیہ اس نے اپنے چوتڑوں کے نیچے رکھ لیا جس سے اس کی چوت اوپر اٹھ کر صاف دکھنے لگی۔
ہوس کی آگ میں جھلستی وہ کمسن لڑکی اپنی بھابھی کی ٹانگوں کے بیچ لیٹ گئی۔ نجمہ کی رسیلی چوت ٹھیک اس کی آنکھوں کے سامنے تھی۔ گھنی کالی جھانٹوں کے بیچ کی گہری لکیر میں سے لال لال چوت کا چھید دکھ رہا تھا۔ "ہائے بھابھی، کتنی گھنی اور ریشم جیسی جھانٹیں ہے آپ کی، کاٹتی نہیں ہیں انہیں کبھی"؟ اس نے چوت کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے پوچھا۔
"نہیں ری، تیرے بھیا منع کرتے ہیں، انہیں میری گھنی جھانٹیں بہت اچھی لگتی ہیں۔" نجمہ مسکراتے ہوئے بولی۔
"ہاں بھابھی، بہت پیاری ہیں، مت کاٹا کرو، میری بھی اگ آئیں تو میں بھی نہیں کاٹوں گی" سیمی بولی۔
اس سے اب اور نہ رہا گیا۔ اپنے سامنے لیٹی بھرپور جوان بھری بھری عورت کی گیلی رستی چوت میں اس نے اپنا منہ چھپا لیا اور اسے بے خود ہو کر چاٹنے لگی۔ نجمہ ہوس سے کراہ اٹھی اور سیمی کا منہ اپنی جھانٹوں پر دبا کر رگڑنے لگی۔ وہ اتنی گرم ہو گئی تھی کہ فوراً ہی ڈسچارج ہو گئی۔ "ہائے مر گئی رے سیمی بٹیا، تیرے پیارے منہ کو چودوں، سالی کیا چوستی ہے تو، اتنی سی بچی ہے پھر بھی پوری رنڈی کی طرح چوستی ہے۔ پیدائشی چداسی ہے تو۔۔۔"
دو منٹ تک وہ صرف ہانپتے ہوئے فارغ ہونے کا مزا لیتی رہی پھر مسکرا کر اس نے سیمی کو چوت چوسنے کا درست انداز سکھانا شروع کیا۔ اسے سکھایا کہ لبوں کو کیسے الگ کیا جاتا ہے، زبان کو کیسے ایک چمچ کی طرح رس پینے کو کے لیے گھمایا جاتا ہے اور چوت کو مست کر کے اس میں سے اور امرت نکالنے کے لیے کیسے کلائیٹوریس کو زبان سے رگڑا جاتا ہے۔
تھوڑی ہی دیر میں سیمی کو صحیح ڈھنگ سے چوت کو چوسنا آ گیا اور وہ اتنی مست چوت چوسنے لگی جیسے برسوں سے چوت چوس رہی ہے۔ نجمہ یونہی پڑی رہی اور سسک سسک کر چوت چسوانے کا پورا مزا لیتی رہی۔
"چوس میری پیاری بہنا، اور چوس اپنی بھابھی کی چوت، زبان سے چود مجھے، آہ! ہاں، ایسے ہی سیمی بٹیا، شا۔۔۔ با۔۔۔ ش"۔
کئی مرتبہ فارغ ہونے کے بعد اس نے سیمی کو اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا اور اسے چوم چوم کر پیار کرنے لگی۔ سیمی نے بھی بھابھی کے گلے میں بانہیں ڈال دیں اور اسے چومنے لگی۔ ایک دوسرے کے ہونٹ دونوں چداسیاں اپنے اپنے منہ میں دبا کر چوسنے لگیں۔ نجمہ نے اپنی زبان سیمی کے منہ میں ڈال دی اور سیمی اسے بے تحاشا چوسنے لگی۔ بھابھی کے منہ کا رس پینا اسے بہت اچھا لگ رہا تھا۔ نجمہ اپنی زبان سے سیمی کے منہ کے اندر کے ہر حصّے کو چاٹ رہی تھی، اس بچی کے گال، مسوڑھے، تالو حتیٰ کہ گلے کو بھی نہیں چھوڑا نجمہ نے۔ پوری شیطان بن کر اس نے سیمی کے حلق میں اپنے لمبی زبان اتار دی اور گلے کو اندر سے چاٹنے اور گدگدانے لگی۔ اس بچی کو یہ گدگدی برداشت نہیں ہوئی اور وہ کھانس پڑی۔ نجمہ نے اس کے کھانستے ہوئے منہ کو اپنے ہونٹوں میں کس کر دبائے رکھا اور سیمی کی اپنے منہ میں بہتی رسیلی رال کا مزا لیتی رہی۔
آخر جب نجمہ نے اسے چھوڑا تو سیمی کا چہرہ لال ہو چکا تھا۔۔۔ وہ کھانستے ہوئے بولی:‌"کیا کرتی  ہیں بھابھی، آپ بڑی حرامی ہو، جان بوجھ کر ایسا کرتی ہو نا"۔۔۔
نجمہ اس کا منہ چومتے ہوئے ہنس کر بولی: "تو کیا ہوا رانی؟ تیرا مزے دار رس چوسنے کا یہ سب سے آسان طریقہ ہے۔ میں ایک بلو فلم میں دیکھا تھا"۔
پھر اس جوان لڑکی نے اس دوشیزہ کے پورے کمسن بدن کو سہلایا اور خاص کر اس کے کومل چھوٹے چھوٹے پستانوں کو پیار سے ہولے ہولے مسلا۔۔۔ پھر اس نے سیمی کو سکھایا کہ کیسے نپلوں کو منہ میں لے کر چوسا جاتا ہے۔ بیچ میں ہی وہ ہولے سے ان کومل نپلوں کو دانت سے کاٹ بھی لیتی تھی تو سیمی درد اور مزے سے ہمک اٹھتی تھی۔
"نپل تو نہ کاٹیں ناں بھابھی، درد ہوتا ہے، نہیں، رک جائیں پلیز۔۔۔ نہ کریں، ہائے! اف اور کاٹو، اچھا لگتا ہے"۔
آخر میں اس نے سیمی کو ہاتھ سے مزا لینے (انگشت زنی) کا طریقہ سکھایا "دیکھ سیمی، ہم عورتوں کو اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے لنڈ کی کوئی اتنی زیادہ ضرورت نہیں ہے۔ لنڈ ہو تو بڑا مزا آتا ہے پر اگر اکیلے ہو، تو بھی کوئی بات نہیں"۔
سیمی بھابھی کی جانب اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے دیکھتی ہوئی بولی: "بھابھی اس کتاب میں ایک عورت نے ایک موٹی ککڑی اپنی چوت میں گھسیڑ رکھی تھی"۔
نجمہ ہنس کر بولی: "ہاں میری رانی بٹیا، ککڑی، کیلے، گاجر، مولی، لمبے والے بینگن، ان سب سے مٹھ ماری جا سکتی ہے۔ موٹی موم بتی سے بھی بہت مزا آتا ہے۔ دھیرے دھیرے سب سکھا دوں گی پر آج نہیں۔ آج تجھے انگلی کرنا سکھاتی ہوں۔ میری طرف دیکھ"۔۔۔
نجمہ رنڈیوں کی طرح ٹانگیں پھیلا کر بیٹھ گئی اور اپنے انگوٹھے سے اپنے کلائیٹوریس کو سہلانا شروع کر دیا۔ سیمی نے بھی ایسا ہی کیا اور لطف کی ایک لہر اس کی چوت میں دوڑ گئی۔ نجمہ نے پھر بیچ کی انگلی اپنی کھلی لال چوت میں ڈال لی اور اندر باہر کرنے لگی۔
بھابھی کی دیکھا دیکھی سیمی بھی اسی طرح انگلی کرنے لگی۔ پر اس کا انگوٹھا اپنے کلٹ پر سے ہٹ گیا۔ نجمہ نے اسے سمجھایا، "بیٹا، انگلی سے مٹھ مارو تو انگوٹھا چلتا ہی رہنا چاہیے اپنے کلٹ پر"۔۔۔
دھیرے دھیرے نجمہ نے دو انگلیاں گھسیڑ لیں اور آخر میں وہ تین انگلیوں سے مٹھ مارنے لگی۔ پھچک پھچک پھچک جیسی آوازیں اس کی گیلی چوت میں سے نکل رہی تھیں۔
شروع میں سیمی کو لگا تھا کہ وہ تین انگلیاں اپنی چوت میں نہیں گھسا پائے گی لیکن جب خودبخود بڑے آرام سے اس کی تینوں انگلیاں اس کی کومل چوت میں چلی گئیں تو اس کے منہ سے ایک مزے سے بھری کلکاری نکل پڑی۔
نجمہ ہنسنے لگی اور بولی: "ابھی ابھی بھیا کے موٹے لنڈ سے چدی ہے ناں اس لیے اب تو تیری چاروں انگلیاں بھی چلی جائیں گی اندر۔ ویسے مزا دو انگلیوں سے سب سے زیادہ اتا ہے"۔
وہ دونوں اب ایک دوسرے کو دیکھ کر اپنی اپنی مٹھ مارنے لگیں۔ نجمہ اپنے دوسرے ہاتھ سے اپنے پستان دبانے لگی اور نپلوں کو انگوٹھے اور ایک انگلی میں لے کر مسلنے لگی۔ سیمی نے بھی ایسا ہی کیا اور مستی میں جھوم اٹھی۔ اپنی چوچیاں خود ہی دباتے ہوئے نند بھابھی دونوں اب لگاتار انگشت زنی کر رہی تھیں۔ نجمہ بیچ بیچ میں اپنی انگلی اپنے منہ میں ڈال کر اپنا ہی چپچپا رس چاٹ کر دیکھتی اور پھر مٹھ مارنے لگاتی۔ سیمی نے بھی ایسا ہی کیا تو اسے اپنی خود کی چوت کا ذائقہ بہت مزے دار لگا۔
نجمہ نے شیطانیت سے مسکراتے ہوئے اسے اپنے پاس کھسکنے اور منہ کھولنے کو کہا۔ جیسے ہی سیمی نے اپنا منہ کھولا، نجمہ نے اپنی چوت کے رس سے بھری چپچپی انگلیاں اس کے منہ میں ڈال دیں۔
نجمہ نے سیمی کا بھی ہاتھ کھینچ کر اس کی انگلیاں اپنے منہ میں دبا لیں اور انہیں چاٹنے لگی۔۔۔ "یہی تو امرت ہے جس کے لیے یہ سارے مرد دیوانے رہتے ہے۔ چوت کا رس چوسنے کے لیے سالے حرامی مادر چود مرے جاتے ہے۔ چوت کے رس کا لالچ دے کر تم ان سے کچھ بھی کروا سکتی ہو۔ تیرے بھیا تو رات رات بھر میری چوت چوس کر بھی نہیں تھکتے"۔
کئی بار مٹھ مارنے کے بعد نجمہ بولی: "چل چھوٹی، اب اور برداشت نہیں ہو رہا مجھ سے۔۔۔ اب تجھے 69 پوزیشن سکھاتی ہوں۔ دو عورتوں کے آپس میں سیکس کرنے کے لیے یہ سب سے مست پوزیشن ہے۔ اس میں چوت اور منہ دونوں کو بڑا مزا ملتا ہے"۔
نجمہ اپنی بائیں کروٹ پر لیٹ گئی اور اپنی بھری بھری داہنی ران اٹھا کر بولی: "آ میری پیاری بچی، اپنی بھابھی کی ٹانگوں میں آ جا"۔
سیمی الٹی طرف سے نجمہ کی نچلی ران پر سر رکھ کر لیٹ گئی۔ پاس سے نجمہ کی چوت سے بہتا سفید چپچپا پانی اسے بالکل صاف دکھ رہا تھا اور اس میں سے بڑی مسحور کن خوشبو آ رہی تھی۔ نجمہ نے سیمی کا سر پکڑ کر اسے اپنی چوت میں کھینچ لیا اور اپنی چوت کے لب سیمی کے منہ پر رکھ دیے اور بولی: "چما لے میرے نچلے ہونٹوں کا جیسے میرے منہ کا لے رہی تھی"۔
جب سیمی نے نجمہ کی چوت چومنا شروع کر دی تو نجمہ بولی: "اب زبان اندر ڈال سیمی بٹیا"۔
سیمی اپنی زبان سے بھابھی کو چودنے لگی اور اس کے رستے رس کو پینے لگی۔ نجمہ نے اب اپنی اٹھی ہوئی ران کو نیچے کر کے سیمی کا سر اپنی رانوں میں جکڑ لیا اور ٹانگیں سائیکل کی طرح چلا کے اس کے کومل منہ کو سیٹ بنا کر اس پر مٹھ مارنے لگی۔
۔۔۔جاری ہے۔۔۔


Offline saima naseem

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1515
  • Reputation: +41/-5
  • Gender: Female
  • Piayasee Zindagee.................???
    • View Profile
Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #29 on: March 30, 2020, 10:19:55 pm »
 :rockon:
SAIMA  NASEEM

Offline Sidra Jamal

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 125
  • Reputation: +4/-6
  • Gender: Female
  • خوش خوش جیو اور خوش خوش جینے دو
    • View Profile
Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #30 on: March 31, 2020, 01:04:03 pm »
پھڑاچکپھوس
لہو میں گرمی ہے تو کوئ ہنگامہ کرو

Offline tubarani

  • hi I am Sobia ager joy cal nd video sex karna chaya Skype ya imo pa to to join on whatapps +923454098111 free Rabat n.a. Kara
  • T. Members
  • 3 Stars
  • ***
  • Posts: 267
  • Reputation: +21/-6
  • Gender: Female
  • for cal nd video sex plz whatsapps +923454098111
    • View Profile
Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #31 on: March 31, 2020, 03:12:58 pm »
Good work keep it up
hi I am Sobia ager joy cal nd video sex karna chaya Skype ya imo pa to to join on whatapps +923454098111 free Rabat n.a. Kara

 

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.