Author Topic: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی  (Read 66742 times)

Offline VickyR

  • Newbie
  • Posts: 6
  • Reputation: +0/-0
  • Gender: Male
  • Feel Me
    • View Profile
Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #32 on: March 31, 2020, 10:52:04 pm »
Good attempt

Waiting for update
Lets Connect on Skype = live:.cid.d83c329d2fea790b

YUM Stories

Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #32 on: March 31, 2020, 10:52:04 pm »

Offline nadeempk0

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 37
  • Reputation: +1/-0
    • View Profile

YUM Stories

Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #33 on: April 01, 2020, 04:21:52 am »

Offline nadeempk0

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 37
  • Reputation: +1/-0
    • View Profile
Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #34 on: April 01, 2020, 04:22:37 am »

Offline nadeempk0

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 37
  • Reputation: +1/-0
    • View Profile
Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #35 on: April 01, 2020, 04:25:44 am »
Good attempt

Waiting for update
Thanks. Posting the update in a minute. :)

Offline nadeempk0

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 37
  • Reputation: +1/-0
    • View Profile
Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #36 on: April 01, 2020, 04:26:49 am »
اپڈیٹ 5
بھابھی کی گوشت سے بھری بھری رانوں میں سمٹ کر سیمی کو تو گویا جنت ہی مل گئی تھی۔۔۔ سیمی دل لگا کر بھابھی کی چوت چوسنے لگی۔ نجمہ نے بچی کی گوری کمسن ٹانگیں پھیلا کر اپنا منہ اس ننھی سی چوت پر جما دیا اور زبان گھسیڑ گھسیڑ کر اسے چاٹنے، چوسنے اور اس کا رس پینے لگی۔ سیمی نے بھی اپنی ٹانگوں کے بیچ بھابھی کا سر جکڑ لیا اور ٹانگیں قینچی کی طرح چلاتی ہوئی بھابھی کے منہ پر چوت مارنے کرنے لگی۔
دس منٹ تک کمرے میں صرف چوسنے، چومنے اور کراہنے کی آوازیں اٹھ رہی تھیں۔ نجمہ نے بیچ میں سیمی کی چوت میں سے منہ نکال کر کہا۔ "رانی میرا کلائیٹوریس دکھتا ہے ناں"؟
سیمی نے ہاں میں سر ہلایا اور بولی: "جی بھابھی، بیر جتنا بڑا تو ہو گیا ہے، لال لال ہے"۔
"تو بیٹا اسے منہ میں لے لو اور چاکلیٹ کی طرح چوسو، اس پر زبان رگڑو، مجھے بہت اچھا لگتا ہے میری بہنا، تیرے بھیا تو ماہر ہیں اس کام میں"۔
نجمہ نے زور زور سے سائکل چلا کر آخر اپنی چوت فارغ کروا لی اور مزے کی سسکاریاں بھرتی ہوئی سیمی کے ریشمی بالوں میں اپنی انگلیاں چلانے لگی۔ سیمی کو بھابھی کی چوت میں سے رستے پانی کو چاٹنے میں دس منٹ لگ گئے۔ تب تک وہ خود بھی نجمہ کی زبان سے چدتی رہی۔ نجمہ نے اس کا ذرا سا مٹر کے دانے جیسا کلائیٹوریس منہ میں لے کے ایسا چوسا کہ وہ بچی بھی بالآخر تڑپ تڑپ کر فارغ گئی۔ سیمی کا دل اپنی بھابھی کے پیار اور سیکس سے بھر اٹھا کیونکہ اس کی پیاری بھابھی اپنی زبان سے اسے دو بار فارغ کروا چکی تھی۔ ایک دوسرے کی چوتوں کو چاٹ چاٹ کر صاف کرنے کے بعد ہی دونوں چداسی بھابھی نند کچھ شانت ہوئیں۔
تھوڑا سستانے کے لیے دونوں رکیں تو نجمہ نے پوچھا۔ "سیمی بیٹی، مزا آیا"؟
سیمی ہمک کر بولی "ہائے بھابھی کتنا اچھا لگتا ہے چوت چوسنے اور چسوانے میں"۔
نجمہ بولی "اپنی پیاری محبوبہ کے ساتھ 69 کرنے سے بڑھ کر کوئی مزا نہیں ہے ہم جیسی چداسی لڑکیوں کے لیے، کتنا مزا آتا ہے ایک دوسرے کی چوت چوس کر۔۔۔۔ آہ ! ہم اب گھنٹوں تک یہی مزا لے سکتے ہیں"۔
"بھابھی چلو اور کرتے ہیں ناں" سیمی نے مستی سے بھری فرمائش کی تو نجمہ مان گئی۔ نند بھابھی کا چوت چوسنے کا یہ سلسلہ دو تین گھنٹے تک لگاتار چلتا رہا جب تک دونوں تھک کر چور نہیں ہو گئیں۔ سیمی کبھی اتنی مرتبہ فارغ نہیں ہوئی تھی۔ آخر نڈھال ہو کر بستر پر ڈھے سی گئی۔ دونوں ایک دوسرے کی بانہوں میں لپٹ کر محبوب محبوبہ کی طرح سو گئیں۔

شام کو نجمہ کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے ساتھ چپک کر ننگی لیٹی ہوئی اپنی نند سیمی کو دیکھا اور پھر اس کے گالوں کو چوم کر بچی کو جگایا۔ "چلو سیمی بیٹا، اٹھو، تمہارے بھیا کے آنے کا وقت ہو گیا ہے۔ کپڑے پہن لو نہیں تو ننگا دیکھ کر پھر تجھ پر چڑھ جائیں گے"۔۔۔ یہ سن کر سیمی گھبرا کر اٹھ بیٹھی۔
"بھابھی مجھے بچا لیں، مجھے بھیا سے بہت ڈر لگتا ہے۔۔۔ آپ پلیز اب انہیں مجھے چودنے مت دینا، بہت درد ہوتا ہے"۔
نجمہ نے اسے ڈانٹا "پر مزے سے ہچک ہچک کے چدوا بھی تو رہی تھیں بعد میں، 'ہائے بھیا، چودو مجھے' کہہ کہہ کے"۔
سیمی شرما کر بولی۔ "بھابھی بس آج رات چھوڑ دیں، میری چوت کو تھوڑا آرام مل جائے، کل سے جو آپ کہیں گی وہی کروں گی"۔
"چلو اچھا، آج تیری چوت نہیں چدنے دوں گی۔۔۔ یہ میرا وعدہ ہے"۔ نجمہ نے وعدہ کیا تو سیمی خوش ہو کر اس سے لپٹ گئی۔
ندیم واپس آیا تو تنا ہوا لنڈ لے کر۔ اس کی پینٹ میں سے بھی اس کا ابھار صاف دکھ رہا تھا۔ سیمی اسے دیکھ کر شرماتی ہوئی اور کچھ گھبرا کر نجمہ کے پیچھے چھپ گئی۔ دوپہر کی چدائی کی تکلیف یاد کر اس کا دل خوف سے بیٹھا جا رہا تھا۔ "بھابھی، بھیا سے کہو ناں کہ اب مجھے نہ چودیں، میری چوت ابھی تک دُکھ رہی ہے۔ اب چودا تو ضرور پھٹ جائے گی!" نجمہ نے آنکھ مارتے ہوئے ندیم کو جھوٹ موٹ ڈانٹتے ہوئے کہا "آپ نے صبح میری پیاری سی معصوم نند کے ساتھ جو کیا ہے اس کے بعد آج رات آپ اس کی چوت کا خیال بھی دل میں لائے تو مجھ سے برا کوئی نہیں"۔
ندیم سمجھ گیا کہ صرف چوت نہ چودنے کا وعدہ ہے، گانڈ کے بارے میں تو کچھ بات ہی نہیں ہوئی۔ وہ بولا "سیمی بیٹا، چلو، آج تمہاری چوت نہیں چودوں گا میری ننھی بہن، پر آج سے تم ہمارے ساتھ ہمارے بیڈ پر ہی سویا کرو گی اور میں اور تمہاری بھابھی جیسا کہیں گے ویسے خود کو چدوایا کرو گی اور ہمیں اپنی کمسن جوانی ک مزے ہر طریقے سے لوٹنے دو گی"۔
وہ معصوم اپنے بڑے بھائی کی بات سن کر کچھ بھی نہ کہہ پائی اور محض گردن جھکا کر نیچے زمین کی طرف دیکھنے لگی۔
"ہائے، کتنی شرمیلی ہے آپ کی بہن۔۔۔ آپ پر تو بالکل بھی نہیں گئی"۔ نجمہ نے سیمی کی طرف دیکھ کر ندیم سے کہا۔
پھر ایسی ہی کچھ باتوں کے بعد ندیم کے کہنے پر نجمہ نے سیمی کی مدد سے جلدی جلدی کھانا بنایا اور ڈنر کر کے کچن کی صفائی کر کے تینوں نو بجے ہی بیڈروم میں گھس گئے۔
نجمہ اور سیمی بیڈ پر چڑھ کر بیٹھ گئیں اور ندیم نے ان کے سامنے کھڑے کھڑے اپنے سارے کپڑے ایک ایک کر کے اتار دیے اور الف ننگا ہو گیا۔ پھر وہ اپنا کھڑا لنڈ ہاتھ میں لے کر اسے سہلاتا ہوا خود کرسی پر بیٹھ گیا اور بھابھی نند کو ایک دوسرے کو ننگا کرنے کو کہہ کر ان کی جانب مزے سے دیکھنے لگا۔
دونوں چداسیوں کے منہ میں اس رسیلے لنڈ کو دیکھ کر پانی بھر آیا۔ سیمی پھر سے تھوڑا ڈر گئی تھی کیونکہ وہ کچھ دیر کے لیے بھول ہی گئی تھی کہ ندیم کا لنڈ کتنا موٹا ہے۔ لیکن اب اس کے دل میں ایک عجیب سی ہوس بھی جاگ اٹھی۔ وہ دل ہی دل سوچنے لگی کہ کاش آج بھیا میرے منع کرنے کے باوجود پھر سے اسے زبردستی چود بھی ڈالیں تو درد تو ہو گا لیکن مزا بھی کتنا آئے گا۔
نجمہ نے پہلے اپنے کپڑے اتارے۔ بریزیئر اور پینٹی سیمی سے اتروائی جس سے سیمی بھی بھابھی کے ننگے بدن کو نزدیک سے دیکھ کر پھر سے گرم ہو گئی۔ پھر نجمہ نے ہنستے ہوئے شرماتی ہوئی اس بچی کی شلوار قمیض اور پینٹی اتاری۔ بریزیئر تو سیمی نے دوپہر کی چدائی کے بعد پہنی ہی نہیں تھی۔ نجمہ اس خوبصورت چھوکری کے ننگے بدن کو بانہوں میں بھرکر بستر پر لیٹ گئی اور چومنے لگی۔ نجمہ کی چوت سیمی کا کمسن بدن بانہوں میں پا کر گیلی ہو گئی تھی۔ ساتھ ہی نجمہ جانتی تھی کہ آج رات سیمی کی کیسی چدائی ہونے والی ہے اور اس لیے اسے سیمی کی ہونے والے ٹھکائی کا تصور کر کر کے اور مزا آ رہا تھا۔
وہ ندیم کو بولی۔ "کیوں جی، وہاں لنڈ کو پکڑ کر ہی بیٹھے رہیں گے کیا؟ ایسے بیٹھے رہنے سے کچھ نہیں ہو گا، یہاں آئیں اور اس مست مال کو لُوٹنا شروع کریں"۔
ندیم اٹھ کر بیڈ پر آ گیا اور پھر دونوں میاں بیوی مل کر اس کومل سی دھان پان بچی کو پیار کرنے کے لیے ایک ساتھ اس پر چڑھ گئے۔
نجمہ سیمی کا پیارا میٹھا منہ چومنے لگی اور ندیم نے اپنا دھیان اس کے ننھے ننھے مموں پر لگایا۔ جھک کر ان چھوٹے گلاب کی کلیوں جیسے نپلوں کو منہ میں لیا اور چوسنے لگا۔ سیمی کو اتنا اچھا لگا کہ اس نے اپنی بانہیں اپنے بڑے بھائی کے گلے میں ڈال دیں اور اس کا منہ اپنی چھاتی پر بھینچ لیا تا کہ بھائی اور زور سے نپل چوسیں۔
ادھر نجمہ نے سیمی کی رسیلی زبان اپنے منہ میں لے لی اور اسے چوستے ہوئے اپنے ہاتھوں سے دھیرے دھیرے اس کی کمسن چوت کی مالش کرنے لگی۔ اپنی انگلی سے اس نے سیمی کے کلائیٹوریس کو سہلایا اور چوت کے لبوں کو دبایا اور کھول کر ان میں انگلی کرنے لگی۔
ادھر ندیم بھی باری باری سے سیمی کے نارنگیوں جیسے بوبز چوس رہا تھا اور ان ملائم نپلز کو ہاتھوں میں لے کر پیار سے سہلا رہا تھا۔ اصل میں اس کا دل تو کر رہا تھا کہ دوپہر کی طرح انہیں زور زور سے بے رحمی کے ساتھ مسلے اور سیمی کو رلا دے لیکن اس نے خود کو قابو میں رکھا۔۔۔ سیمی کی گانڈ مارنے میں ابھی وقت تھا اور وہ ابھی سے اپنی چھوٹی بہن کو ڈرانا نہیں چاہتا تھا۔ اس نے دل ہی دل سوچا کہ گانڈ مارتے وقت وہ اس خوبصورت کمسن گڑیا کے ممے جی بھر کر بھونپو کی طرح دبائے گا۔
سیمی اب تک مست ہو چکی تھی اور اپنی بھابھی کے منہ سے منہ لگا کر اس کے ہونٹوں اور زبان کو چوس رہی تھی۔ اس کی کچی جوان چوت سے اب پانی بہنے لگا تھا۔
نجمہ نے ندیم سے کہا۔ "سنیں، آپ کی بہن تو بہت ہی گرم ہو گئی ہے، چوت تو دیکھیں ذرا کیسے بہہ رہی ہے، اب اس پانی کو آپ چوسیں گے یا میں چوس لوں"؟
ندیم نے اٹھ کر سیمی کے سر کو اپنی جانب کھینچتے ہوئے کہا "میری رانی، پہلے تم چوس لو اپنی نند کو، میں تب تک تھوڑا اس کے منہ کا مزا لے لوں، پھر اس سے اپنا لنڈ چسواتا ہوں۔۔۔ دوپہر کو یہ کام تو رہ ہی گیا تھا، میری بہن بھی سوچ رہی ہو گی کہ بھیا نے لنڈ کا ذائقہ بھی نہیں چکھایا"
ندیم نے اپنے ہونٹ سیمی کے کومل ہونٹوں پر جما دیے اور چوس چوس کر انہیں چومتا ہوا اپنی چھوٹی بہن کے منہ کا رس پینے لگا۔ ادھر نجمہ نے سیمی کی ٹانگیں پھیلائیں اور جھک کر اس کی چوت چاٹنے لگی۔ اس کی زبان جب جب بچی کے کلائیٹوریس پر سے گزرتی تو ایک دھیمی سسکی سیمی کے ندیم کے ہونٹوں کے بیچ دبے منہ سے نکل جاتی۔ اس کمسن چوت سے اب رس کی دھار سی بہہ رہی تھی اور اس کا پورا فائدہ اٹھا کر نجمہ چوت میں زبان گھسیڑ گھسیڑ کر اس پانی کو پینے لگی۔
ندیم نے سیمی کو آخری بار چوم کر اپنی بہن کا سر اپنی گود میں لے لیا۔ پھر اپنا موٹا ٹماٹر جیسا ٹوپا اس کے گالوں اور ہونٹوں پر رگڑنے لگا۔
"لو سیمی بیٹا، ذرا اپنے بھیا کے لنڈ کا مزا تو لے کے دیکھو، چوس کر دیکھو مزا آئے گا۔ ڈالوں تمہارے منہ میں"؟ اس نے پوچھا۔
سیمی کو بھی ٹوپے کی ریشمی سکن کا لمس بہت اچھا لگ رہا تھا۔
"ہائے بھیا، بالکل مخمل جیسا چکنا اور ملائم ہے یہ تو"۔ وہ کلکاری بھرتی ہوئی بولی۔
ندیم نے لنڈ کو مزید سیمی کے ہونٹوں پر دبا کر پھیرتے ہوئے اس کے جوش کو مزید ہوا دی اور پھر اپنا لنڈ سیمی کے منہ میں گھسانے لگا۔
"بیٹا، چوس کر تو دیکھو، ذائقہ بھی اتنا ہی اچھا ہے۔" نجمہ نے سیمی کی رانوں میں سے ذرا منہ اٹھا کر کہا اور پھر چوت کا پانی چوسنے میں لگ گئی۔ سیمی اب مستی میں چور تھی۔ وہ اپنی زبان نکال کر بھائی کے لنڈ اور ٹوپے کو چاٹنے لگی۔
ندیم نے کافی دیر تک تو یونہی اس کا مزا لیا اور پھر سیمی کے گال دباتا ہوا بولا۔ "چلو بہت کھیل ہو گیا، اب منہ میں لو اور صحیح سے چوسو"۔
گال دبانے سے سیمی کا منہ کھل گیا اور ندیم نے اس میں اپنا ٹوپا گھسیڑ دیا۔ ٹوپا کافی موٹا تھا اس لیے سیمی کو اپنا منہ پوری طرح کھولنا پڑا۔ پر ٹوپا اندر جاتے ہی اسے اتنا مزا آیا کہ منہ بند کر کے وہ اسے ایک بڑی لالی پاپ کی طرح چوسنے لگی۔ ندیم نے ایک سکھ کی آہ بھری، اپنی چھوٹی بہن کے پیارے منہ کا لمس اس کے لنڈ سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔
"ہائے نجمہ، میں فارغ والا ہوں اس بچی کے منہ میں ہی۔ نکال لوں لوڑا؟ آگے کا کام شروع کریں۔"
نجمہ کو معلوم تھا کہ ندیم اپنی چھوٹی بہن کی گانڈ مارنے کو بے حد تڑپ رہا ہے۔ اس نے جب ندیم کے پھولے ہوئے لنڈ کا سائز دیکھا تو سمجھ گئی کہ اگر اسے ایک مرتبہ فارغ نہ ہونے دیا اور اسی پھولے ہوئے لنڈ سے بچی کی گانڈ ماری گئی تو بچی کی گانڈ ضرور پھٹ جائے گی اور اس معصوم کی حالت مرنے والی ہو جائے گی۔۔۔ شاید ہسپتال لے جانا پڑ جائے اور ہسپتال جانے کا مطلب تھا ان کا بھانڈا پھوٹنا۔ یہ سوچ کر وہ بولی۔ "ایسا کریں، مٹھ مار لیں سیمی کے منہ میں، اسے بھی ذرا اس گاڑھی گاڑھی منی کا مزا چکھنے دیں۔ میں تو روز ہی پیتی ہوں، آج میری نند کو پینے دیں یہ شہد"۔
ندیم تو دیوانہ ہوا جا رہا تھا۔ اس نے یہ سنتے ہی ایک ہاتھ سے سیمی کے سر کو پکڑ کر سہارا دیا کہ دھکوں سے آگے پیچھے نہ ہو اور دوسرے ہاتھ سے لنڈ کا ڈنڈا مٹھی میں لے کر زور زور سے آگے پیچھے کرتا ہوا مٹھ مارنے لگا۔ منہ میں پھولتا سکڑتا لذیذ ٹوپا اس بچی کو اتنا بھایا کہ زبان رگڑ رگڑ کر آنکھیں بند کر کے وہ اس کے لنڈ کو کسی رسیلے آپ کی طرح چوسنے لگی۔
ندیم سے بھی اتنا مزا برداشت نہیں ہوا اور پانچ ہی منٹ میں وہ فارغ ہو گیا۔
"ہائے بیٹا میری پیاری بچی، تو نے مجھے مار ہی ڈالا، نجمہ، یہ تو لنڈ چوسنے میں استاد ہے، اوہ آہ"۔۔۔
سیمی ملائی جیسی گاڑھی گرم گرم منی بڑے مزے سے نگل رہی تھی۔ پہلی بار منی نگلی اور وہ بھی اپنے بڑے بھائی کی!
ندیم کا اچھلتا لنڈ اس نے آخری بوند نکلنے تک اپنے منہ میں دبائے رکھا جب تک وہ سکڑ نہیں گیا۔
سیمی بھی اب تک نجمہ کے مسلسل چوسنے سے کئی بار فارغ ہو چکی تھی۔ نجمہ چٹخارے لے لے کر اس کی چوت کا پانی چوس رہی تھی۔
ندیم بولا "چلو، بازو ہٹاؤ، مجھے بھی اپنی بہن کی چوت چوسنے دو"۔
سیمی مستی میں بولی "ہاں بھابھی، بھیا کو میری چوت کا شربت پینے دیں، آپ اب ذرا مجھے اپنی چوت چٹائیں بھابھی، جلدی کریں نا"۔۔۔ وہ مچل اٹھی تھی۔
نجمہ اٹھی اور اٹھ کر کرسی پر بیٹھ گئی۔ اپنی بھری بھری گداز ٹانگیں پھیلا کر بولی "آؤ میری رانی، اپنی بھابھی کی چوت میں آ جاؤ، دیکھو بھابھی کی چوت نے کیا رس بنایا ہے اپنی لاڈلی نند کے لیے"۔
سیمی اٹھ کر فوراً نجمہ کے سامنے فرش پر بیٹھ گئی اور بھابھی کی چوت اپنے ہاتھوں سے کھولتے ہوئے اسے چاٹنے لگی۔ اس کومل زبان کا لمس محسوس ہوتے ہی نجمہ مستی سے سسک اٹھی اور سیمی کے ریشمی بالوں میں اپنی انگلیاں گھماتی ہوئی اسے پاس کھینچ کر اور ٹھیک سے چوسنے کو کہنے لگی۔ "ہائے میری گڑیا، کیا زبان ہے تمہاری، چاٹو نا، اور جی بھر کر چاٹو، زبان اندر بھی ڈالو نند رانی، اصلی مال تو اندر ہے"۔
سیمی کے مسلسل چاٹنے سے نجمہ کچھ ہی دیر میں جھڑ گئی اور چدائی کے لیے تڑپتی ہوئی سیمی کے لیے تو گویا رس کی دھار اس کی بھابھی کی چوت سے پھوٹ پڑی۔
ندیم اب تک سیمی کے پیچھے جا کر لیٹ چکا تھا۔ تھوڑا سا سرک کر اس نے سیمی کے چوتڑ اوپر اٹھائے اور اپنا سر اس کے نیچے لا کر پھر سیمی کو اپنے منہ پر ہی بٹھا لیا۔ اس کی رسیلی چوت چوستے ہوئے وہ اپنی چھوٹی بہن کے چوتڑ پیار سے سہلانے لگا۔ سیمی تو اب جیسے مزے کے سمندر میں غوطے لگا رہی تھی۔ ایک طرف اسے اپنی بھابھی کی چوت کا رس چوسنے مل رہا تھا اور دوسری جانب اس کے بھیا اس کی چوت چوس رہے تھے۔ اسے فارغ ہونے میں زیادہ دیر نہ لگی اور اس کی چوت نے پانی چھوڑ دیا۔۔۔ وہ مستی میں اوپر نیچے ہوتے ہوئے ندیم کو اپنی چوت کا رس پلاتے ہوئے اس کا منہ چودنے لگی۔
ندیم نے اپنی زبان سخت کر کے اس کی چوت میں ایک لنڈ کی طرح ڈال دی اور اس کمسن چوت کو چودنے لگا۔ ساتھ ہی اب وہ دھیرے دھیرے سیمی کے کسے ہوئے ملائم چوتڑوں کو پیار سے سہلانے لگا۔ سہلاتے سہلاتے اس نے چوتڑوں کے بیچ کی لکیر میں انگلی چلانا شروع کر دی اور ہولے ہولے اس کی کومل گانڈ کا ذرا سا چھید ٹٹولنے لگا۔
ندیم اب یہ سوچ کر دیوانہ ہوا جا رہا تھا کہ جب اس ننھی سی گانڈ میں اس کا بھاری بھرکم لنڈ جائے گا تو کتنا مزا آئے گا پر بچاری سیمی جو اپنے بھائی کے اس ارادے سے انجان تھی، مستی سے چہک اٹھی۔ گانڈ کو ٹٹولتی انگلی نے اسے ایسا مست کیا کہ وہ اور اچھل اچھل کر اپنے بھائی کا منہ چودنے لگی اور جھڑ کر اسے اپنی چوت سے بہتا امرت پلانے لگی۔
سیمی آخر بار بار جھڑ کر نڈھال پڑنے لگی تھی۔ سیمی کے منہ میں جھڑنے کے باوجود نجمہ کی چوت اب بری طرح سے بہہ رہی تھی کیونکہ وہ سمجھ گئی تھی کہ بچی کی گانڈ مارنے کا وقت نزدیک آتا جا رہا ہے۔ سیمی اب پوری طرح سے مست ہو کر ہار مان چکی تھی اور اپنے بھائی سے منتیں کر رہی تھی کہ اب وہ اس کی چوت مزید نہ چوسے۔ "بھیا، چھوڑ دیں اب، اب نہیں رہا جاتا، چوت دکھتی ہے آپ چوستے ہیں تو، پلیز بھیا، میری چوت مت چاٹیں اب"۔
نجمہ نے سیمی کا سر اپنی جھانٹوں میں کھینچ کر اپنی چوت سے اس کا منہ بند کر دیا اور رانوں سے اس کے سر کو دبا لیا۔ پھر بولی "ڈارلنگ، آپ چوستے رہیں جب تک دل کرے، یہ بچی تو نادان ہے، اور اس کی گانڈ کا سوراخ بھی سہلائیں ذرا، دونوں جانب سے مزا آئے گا تو پاگل ہو جائے گی ہماری پیاری سیمی"۔
اگلے دس منٹ ندیم سیمی کی چوت چوستا رہا اور ساتھ ساتھ تھوک میں بھگو کر انگلی سے سیمی کی گانڈ کا سوراخ بھی سہلاتا اور دباتا رہا۔۔۔ کبھی کبھی وہ اپنی انگلی تھوڑی سی اندر بھی ڈال دیتا لیکن سیمی اس کی موٹی انگلی جانے سے اچھل پڑتی۔ لیکن ساتھ بچی کی گیلی چوت پر اور ننھے سے کلٹ پر جب ندیم کی زبان چلتی تو وہ عجیب سے مزے سے کانپ اٹھتی۔ اس سے یہ برداشت نہیں ہو رہا تھا اور بیچاری رونے والی ہو گئی کہ کب بھیا اس پر ترس کھا کر اس کی یہ میٹھی خدمت گزاری بند کریں گے۔ وہ کمسن بچی منہ بند ہونے کے باعث منہ سے کچھ کہہ بھی نہ سکی اور صرف نجمہ کی چوت میں غوں غوں ہی کرتی رہی۔
نجمہ اب ندیم کا لنڈ چوسنے لگی۔ چوستے چوستے اس نے سرگوشی میں ندیم سے پوچھا "کیوں، سوکھی ہی ماریں گے یا ناریل کا تیل لاؤں؟"
ندیم مستی میں بولا "سوکھی مارنے میں بہت مزا آئے گا میری جان۔"
نجمہ اس کے موٹے لنڈ کو دیکھ کر بولی "ندیم، دیکھیں میں آپ سے روز گانڈ مرواتی ہوں لیکن مجھے بھی آج اس کا سائز دیکھ کر ڈر لگا رہا ہے، پھٹ جائے گی بے چاری کی گانڈ، میں تیل لے کر آتی ہوں، بس آج میرے کہنے پر چکنی کر کے مار لیں پھر تو روز ہی مارنی ہے، سوکھی بعد میں چود لینا۔"
ندیم نے اثبات میں سر ہلایا تو نجمہ اٹھ کر تیل کی بوتل لینے چلی گئی۔ ندیم اوندھی پڑی اپنی چھوٹی بہن کے چوتڑ پیار سے سہلاتا رہا۔ نڈھال پڑی سیمی بھی ویسے ہی اوندھی پڑی آرام کرتی رہی۔ اسے کچھ کچھ سنائی تو دیا لیکن اسے لگا تھا کہ نجمہ اور بھیا میں ان کی آپس کی چدائی کی باتیں چل رہی ہیں، اسے اس سے کیا لینا دینا۔۔۔ لیکن بچاری بچی یہ نہیں جانتی تھی کہ یہ اسی کی گانڈ مارنے کی تیاری ہو رہی ہے۔
نجمہ تیل کی بوتل لے آئی اور ندیم کے ہاتھ میں دے کر آنکھ مارکر بیڈ پر چڑھ گئی۔ سیمی کے ساتھ کمر کے بل سیدھی لیٹ کر اس نے سیمی کو اٹھا کر اپنے اوپر اوندھی کر کے لٹا لیا اور اس کے ہونٹ چومنے لگی۔ سیمی کے ہاتھ اس نے اپنے بدن کے گرد لپٹا لیے اور بڑی اپنی پیٹھ کے نیچے دبا لیے جس سے وہ زیادہ مزاحمت نہ کر سکے۔ ساتھ ہی نجمہ نے سیمی کو اپنی ٹانگوں کے درمیان سیٹ کیا اور اپنی ٹانگیں سیمی کی ٹانگوں کے باہر سے گھما کر اس کے اوپر کیں اور اسے ایسے جکڑ لیا کہ جیسے اسے باندھ سا دیا ہو۔۔۔ اس پوزیشن میں سیمی بے چاری کی ٹانگیں کھل گئی تھیں اور پیچھے سے اس کی گانڈ کا سوراخ واضح ہو کر سامنے آ گیا۔
سیمی کی ملائم گوری گانڈ دیکھ کر ندیم اب اپنی ہوس پر مزید قابو نہ رکھ سکا۔ وہ اٹھا اور سیمی کی کنواری گانڈ مارنے کی تیاری کرنے لگا۔
اب نجمہ بھی مزا لینے لگی تھی۔ اس نے سیمی سے کہا۔ "میری پیاری نند رانی، میں نے تم سے وعدہ کیا تھا نا کہ تمہارے بھیا کو آج تمہاری چوت نہیں مارنے دوں گی"۔
سیمی گھبرا گئی۔ نجمہ نے اسے دلاسا دیتے ہوئے کہا۔ "گھبراؤ مت بیٹا، سچ میں نہیں چودنے دوں گی ان کو تمہاری چوت"۔۔۔ پھر کچھ رک کر مزا لیتی ہوئی بولی "آج وہ تمہاری گانڈ ماریں گے۔"
سیمی سکتے میں آ گئی اور گھبرا کر رونے لگی۔ ندیم اب پوری طرح سے مست ہو چکا تھا۔ اس نے ایک انگلی ناریل کے تیل میں چپڑ کر سیمی کی گانڈ میں گھسیڑ دی۔ اس نازک گانڈ کو صرف ایک انگلی میں ہی ایسا درد ہوا کہ وہ ایک چیخ مار کر ہچکیوں کے ساتھ رو پڑی۔
ندیم کو اس کی چیخ سن کے مزا ہی آ گیا اور اس نے سیمی کا سر اٹھا کر اپنا لنڈ اس بچی کو دکھایا۔ "دیکھ بہن، تیری گانڈ کے لیے کیا مست لوڑا کھڑا کیا ہے"۔
اس موٹے پھولے ہوئے لنڈ کو دیکھ کر سیمی کی آنکھیں پتھرا سی گئیں۔ ندیم کا لنڈ اب کم سے کم آٹھ انچ لمبا اور تین انچ سے بھی موٹا ہو گیا تھا۔ وہ ندیم سے اپنی چوت چسوانے کے مزے میں یہ بھول ہی گئی تھی کہ آج اس کی کومل کنواری گانڈ بھی ماری جا سکتی ہے۔
ندیم نے اپنی بہن کا خوف سے سفید پڑتا چہرہ دیکھا تو وہ مستی سے مسکرایا۔ اصل میں اس کی فینٹسی ہمیشہ سے یہی تھی کہ پہلی بار وہ سیمی کی گانڈ مارے تو وہ زبردستی کرتے ہوئے مارے۔ اسی لیے اس نے سیمی کو بار بار چوس کر اس کی ساری مستی اتار دی تھی۔ اسے پتہ تھا کہ مستی اترنے کے بعد سیمی چدائی سے گھبرائے گی اور اس روتی گڑگڑاتی چکنی کمسن حسینہ کی نرم کنواری گانڈ اپنے شیطانی لنڈ سے چودنے میں اسے جنت کا مزا آئے گا۔
نجمہ بھی اب ایک شیطانیت بھری مستی میں تھی۔ بولی "بہن، تیری گانڈ تو اتنی نازک اور تنگ ہے کہ صرف ایک انگلی ڈالنے سے ہی تو رو پڑتی ہے۔ تو اب جب یہ گھونسے جیسا ٹوپا اور تیرے بازو جتنا لنڈ تیرے چوتڑوں کے بیچ جائے گا تو تیرا کیا ہو گا"؟
سیمی اب بری طرح سے گھبرا گئی تھی۔ اس کی ساری مستی اتر چکی تھی۔ اسے اس کی ایک سہیلی نے بتایا ہوا تھا کہ چوت سے کئی گنا زیادہ تکلیف گانڈ مروانے میں ہوتی ہے۔۔۔ وہ روتی ہوئی بستر سے اٹھنے کی کوشش کرنے لگی پر نجمہ کی گرفت سے نہیں چھوٹ پائی۔ روتے روتے وہ گڑگڑا رہی تھی۔ "بھیا، بھابھی، مجھے چھوڑ دیجیے، میری گانڈ پھٹ جائے گی، میں مر جاؤں گی، میری گانڈ مت ماریے، میں آپ کی مٹھ مار دیتی ہوں، لنڈ چوس کر میں آپ کو خوش کر دوں گی۔ یا پھر اگر آپ نے مجھے چودنا ہے تو بے شک میری چوت میں چود لیجیے پر گانڈ مت ماریے"۔


Offline Maryam Aziz

  • Pari
  • T. Members
  • 4 Stars
  • ****
  • Posts: 995
  • Reputation: +44/-17
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #37 on: April 01, 2020, 04:22:15 pm »
بہترین اپڈیٹ ہے
کسی کی زبردست چھترول بھی کی ہے۔

Offline abi Raj

  • Newbie
  • Posts: 7
  • Reputation: +0/-0
    • View Profile
Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #38 on: April 01, 2020, 05:42:02 pm »



Hi
 Its Abi/23/UK
 contact me for play
abirajput59@gmail.com
 THANKS




Offline Sidra Jamal

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 125
  • Reputation: +4/-6
  • Gender: Female
  • خوش خوش جیو اور خوش خوش جینے دو
    • View Profile
Re: بیوی کی مدد سے چھوٹی بہن کی چدائی
« Reply #39 on: April 01, 2020, 07:31:13 pm »



Hi
 Its Abi/23/UK
 contact me for play
abirajput59@gmail.com
 THANKS




Very talented, resourceful, intelligent and innovative Member. Has posted the same text in at least seven topics. Good work.





لہو میں گرمی ہے تو کوئ ہنگامہ کرو

 

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.