Author Topic: انگارہ  (Read 38309 times)

Offline 514حیدر رضا

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 56
  • Reputation: +0/-3
    • View Profile
انگارہ
« on: March 26, 2020, 07:51:41 pm »

اپ ڈیٹ
نمبر 01


دوستوں میں جو اسٹوری آپ کی خدمت میں پیش کرنے جا رہا ہوں
یہ اصل میں ایک اور رائٹر کی انگلش میں لکھی ہوئی اسٹوری ہے
جس کو کچھ چینجز کے بَعْد میں نے کافی ٹائم پَہْلے آپ سے شیئر کیا تھا
مگر جیسا کا آپ صاحب جانتے ہَیں کے کافی
دوستوں کو انگلش اسٹوری پرنے میں مزہ نہیں
آتا  تو اسی لیے میں اِس اسٹوری کو اب اُرْدُو
میں ٹرانسلیٹ کر کے آپ کی خدمت میں دوبارہ
پیش کر رہا ہوں

ہمیشہ کی طرح میں نے اِس اسٹوری میں اپنی طرف سے کچھ مصالحہ لگا کر کچھ اچھا کرنے کی کوشش کی ہے

تاکے پرانے والوں کو کچھ ساواد اور مزہ مل
سکے

میں اپنی اِس کوشش میں کتنا کامیاب رہا اِس کا فیصلہ صرف آپ کے کمنٹس ہی کر سکتے  ہے  . .

شکریہ



میرا نام چودہری راحیل حسین ہے میری
عمر اِس وقت 27 سال ہے
میں ایک گورا چٹا تندرست قسم کاجوان ہوں اور اِس وقت اپنی فیملی کے ساتھ میں کراچی میں رہائش پذیر ہوں

آج جو کہانی میں آج آپ کو سننے جا رہا ہوں اس کا آغاز پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر
گجرات سٹی کے پاس واقعہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں ہُوا

آج سے چند سال پَہْلے زامیندارا کالج
گجرات سے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بَعْد جب مجھے ایک دوست کی مہربانی سے لاہور میں ایک پِرائِیویٹ کمپنی میں جاب ملی تو میں اپنے گاوں کو خدا حافظ کہہ کر لاہور چلا آیا اور اپنے دو دوستوں کے ساتھ ایک فلیٹ میں رہنے لگا . . . .


مجھے لاہور میں جاب شروع کی ابھی تقریباً چھے مہینے ہی ہوئے تھے کے گاؤں سے آنے والی ایک منحوس خبر نے میرے دِل کو توڑ دیا . . .


خبر یہ تھی کے گجرات شہر سے اپنے گاؤں
جاتے ہوئے میرے ابو کے ٹریکٹر کا ایک ٹرک
سے ایکسڈینٹ ہو گیا ہے
اور اِس ایکسڈینٹ میں میرے 23 سالا چھوٹا بھائی اعجاز اور میرے 55 سالا ابو چودہری قدیر حسین دونوں کا انتقال ہو
گیا تھا


یہ خبر 50‬ سال سے کچھ اوپر میری امی
فاخرہ اور میری 24 سالا چھوٹی بہن مدیحہ کے لیے تو بری تھی ہی مگر ان دونوں کے ساتھ میرے لیے زیادہ بری اِس لیے تھی کے نا صرف اب مجھے لاہور جیسے بڑے شہر کو چھوڑ کر واپس اپنے گاؤں جانا پر گیا تھا
بلکہ ساتھ ہی ساتھ اپنے والد کی ساری زمین کی دیکھ بھال اور اپنے گھر کو سنبھالنے کی ساری ذمہ داری میرے کندھوں پر آں پری تھی


بزنس میں گریڈویشن کرنے کے بَعْد کھیتی باری  کرنے کو میری ہر گز دِل نہیں تھا
مگر اپنے والد کا اکلوتا بیٹا رہ جانے کی
وجہ سے اب چار او نا چار اپنی زمین کی
دیکھ بھال اب مجھے ہی کرنی تھی

اِس لیے اپنے بھائی اور والد کے کفن دفن کے
بَعْد میں نے اپنی زمیں کو سنبھال لیا اور اب
میں پچھلے چھے مہینے سے دن رات کھیتی باڑی میں مصروف ہو گیا

ویسے تو اپنی زندگی میں میرے والد ہماری
زمین پر زیادہ تر سبزیاں ہی اگاتے تھے


مگر ان کی موت کے بَعْد میں نے  کوئی مختلف
فصل لگنے کا سوچا اور چند دوسرے لوگوں سے
صلاہ مشورہ کرنے کے بَعْد میں نے اپنی
زمین پر گنا لگا دیا

اگست کے مہینے میں گنے کی فصل کھڑی تو
ہو گئی مگر اِس کے باوجود اسے کاٹنے کے لیے
مجھے ایک مہینہ مزید انتظار کرنا تھا

اِس دوران چونکہ فصل کی رکھوالی کے علاوہ
مجھے کھیتوں پر اور کوئی کام نہیں تھا

اِس لیے میں نے اپنے کچھ ملازموں کو کچھ وقت کے لیے چھٹی دے دی اور صرف رات کی نگرانی کے لیے دو ملازموں کو روک لیا
جو کے رات کو دیڑے پر رہتے اور صبح ہوتے ہی اپنے گھر واپس چلے جاتے


چونکہ ہماری زمین ہمارے گاؤں کے باقی
لوگوں کی زمینوں اور مکانوں سے کافی ہٹ کر
واقعہ تھی
اِس لیے میں ایک بار جب اپنے گھر سے نکل کر
اپنی زمین پر آ جاتا
تو پِھر میری گھر وآپسی شام سے پَہْلے نہیں ہوتی تھی

گنے کی کاشت  کے بَعْد اب میرا روز کا معمول یہ بن گیا تھا کے صبح صبح دیڑے پر چلا آتا اور میں سارا دن اپنے اس دیڑے پر بیٹھ کر اپنے کھیتوں کی نگرانی کرتا جسے میرے والد نے اپنی زندگی میں تعمیر کیا تھا

ابو نے یہ دیڑہ ہماری ساری زمین کے بلکل درمیان میں بنایاتھا
جس میں دو کمرے  بنے ہوئے تھے

ان دونوں کمروں میں سے ایک میں ٹیوب ویل لگا ہُوا تھا
جس سے میں اپنی ساری فصل کو پانی دیتا
تھا
اِس کمرے کی چھت کی اونچائی کم تھی
جب کے دوسرا کمرہ آرام کرنے کے لیے بنایا
گیا تھا اور اِس کمرے کی چھت ٹیوب ویل
والے کمرے سے کافی اونچی تھی


ٹیوب ویل والے کمرے کی پچھلی طرف لکڑی کی ایک سریاں لگی ہوئی تھی
جس کے ذریعے اوپر چھڑ کر ٹیوب ویل کی چھت پر جایا جا سکتا تھا

یہاں پر ایک روشن دان بھی بنا ہوا  تھا جو کے آرام کرنے والے بڑے کمرے کو ہوادار بنانے کے لیے تھا

اِس روشندان پر لکڑی کی ایک چھوٹی سی کھڑکی لگی ہوئی تھی جو ہمیشہ آدھی بند ہی رہتی
جب کے روشندان کے باہر کی طرف اسٹیل کی ایک جالی بھی لگی ہوئی تھی

اِس روشاندان کی بناوٹ کچھ اِس طرح کی تھی کے اگر کوئی انسان ٹیوب ویل کی چھت پر کھڑے ہو کر بڑے کمرے کے اندر جھانکتا تو کمرے کے اندر موجود لوگوں کو باہر کھڑے شخص کی موجودگی کا علم نہیں ہو سکتا تھا


ٹیوب ویل کی چھت پر بھی ایک سیری رکھی ہوئی تھی
جس کے ذریعے آرام والے کمرے کی اونچی چھت پر چرا جا سکتا تھا

اِس چاٹ سے چونکہ ہماری پوری زمین پر
نظر رکھی جا سکتی تھی
اِس لیے دن میں اکثر میں سیڑیوں  کے  ذریعے اوپر چلا جاتا اور چھت پر
بیٹھ کر اپنی فصل کی حفاظت کرتا رہتا


ہر روز دن میں میری چھوٹی بہن مدیحہ
میرے لیے گھر سے كھانا لاتی
اور جب تک میں کھانے سے فارغ نہ ہو جاتا وہ بھی میرے ساتھ ہی کمرے میں سامنے والی چارپائی پر بیٹھ کر اپنے موبائل فون سے کھلتی رہتی

جب میں كھانا کھا کر فارغ ہو جاتا تو مدیحہ
برتن سمیٹ کر گھر وآپس چلی جاتی اور میں
کمرے میں جا کر آرام کر لیتا

یہ روٹین پچھلے دو مہینے سے چل رہی تھی
کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا کے مدیحہ کی جگہ میری امی فاخرہ میرے لیے كھانا لے آتیں

لاہور سے وآپس اپنے گاؤں آ کر اب پچھلے چھے ماہ سے میری زندگی ایک ہی ڈاگر پر چل رہی
تھی
جس کی وجہ سے میں اب تھوڑا بور ہونے لگا
تھا
اور میری اِس بوریت کی صاحب سے بڑی وجہ
چوت سے محرومی تھی

اصل میں لاہور میں قیام کے دوران میں نے
اپنے روم میٹ کے ساتھ مل کر بڑی عمر کی دو
آنٹیوں کا بندوبست کر لیا تھا
اور پِھر جتنا عرصہ میں وہاں رہا میں ہفتے میں کام از کام دو دفعہ تو ان آنٹیوں میں سے ایک کی چوت کا ذائقہ چھک ہی لیتا تھا

اِس لیے یہ ہی وجہ تھی کے گاؤں میں آ کر میں
عورَت کے مزے سے محروم ہو گیا تھا

ویسے تو میں نے دیڑے پر دو تِین ننگی
فوٹوز والے میگزینز چھپا کر رکھے ہوئے
تھے
جن کو میں لاہور سے اپنے ساتھ لیا تھا

اِس لئے جب بھی میرا دِل چاہتا تو میں موقع پا کر دیڑے پر بنے کمرے میں جاتا اور چارپائی پر
لیٹ کر ان میگزینز میں ماجود لڑکیوں کی
گندی فوٹوز کو دیکھ دیکھ کر مٹھ لگتا اور
اپنے جسم کی آگ کو ہلکا کر لیتا تھا

بے شک میں مٹھ لگا کر فارغ تو ہو جاتا
مگر میرے لنڈ کو عورت کی چوت کا ایسا نشہ
لگ چکا تھا کے اب میرے لنڈ کو ایک گرم
پھدی کی شدت سے طلب ہو رہی تھی

میرا لوڑا میری شلوار میں صبح صبح کھڑا ہو
کر ہر روز کسی گرم پھدی کی مانگ کرتا
مگر میں ہمیشہ تھپڑ مار مار کر اپنے لنڈ کو خاموش کر دیتا تھا

وہ کہتے ہَیں نہ کے
“سو سال بعد تو گونگے کی بھی سنی جاتی ہے”
بلکل یہ میرے ساتھ ہُوا کے جس گرم اور پیاسی چوت کی میرے لنڈ کو تلاش تھی

وہ اسے میری بہن مدیحہ کی سہیلی شکیلہ کی
شکل میں بلآخر ایک دن مل ہی گئی

شکیلہ ویسے تو میری بہن مدیحہ سے عمر میں
ایک سال بڑی تھی
مگر گاؤں میں ہمارے گھر ساتھ ساتھ ہونے کی وجہ سے ان دونوں میں بچپن ہی سے بہت اچھی دوستی تھی

جب کے اسکول کی پہلی کلاس سے لے کر میٹرک تک اکٹھے ایک ہی کلاس میں پڑھنے کی وجہ سے جوان ہوتے ہوتے ان دونوں کی دوستی مزید گہری ہوتی چلی گئی

میری بہن کی سہیلی ہونے کی حیثیت سے شکیلہ کا اکثر ہمارے گھر آنا جانا لگا رہتا تھا

شکیلہ جب بھی میری بہن مدیحہ کو ملنے
ہمارے گھر آتی تو مدیحہ اسے لے کر اپنے کمرے میں چلی جاتی
جہاں دونوں سہیلیاں بیٹھ کر کافی دیر تک گپ شپ لگاتی رہتی تھیں

شکیلہ چونکہ عمر میں مدیحہ سے ایک سال
بڑی تھی
اِس لیے اُس کے گھر والوں کو اُس کی شادی کی شاید کچھ زیادہ ہی جلدی تھی

یہ ہی وجہ تھی کے جن دنوں میں زمیندارا
کالج میں بی اے کر رہا تھا تو اسی دوران شکیلہ کی شادی ہو گئی

اُس کے سسرال والے چونکہ ملتان کے پاس ایک
گاؤں میں رہتے تھے
اِس لیے شادی کے بعد شکیلہ ہمارے گاؤں سے رخصت ہو کر اپنے شوہر کے ساتھ ملتان میں رہنے لگی

اب جن دنوں میرا لنڈ کسی عورت کی پھدی میں جانے کے لیے تڑپ رہا تھا
تو انہی دنوں شکیلہ اپنے ماں باپ کو ملنے اپنے گاؤں واپس آئی ہوئی تھی
تو اُس دوران وہ میری بہن مدیحہ کو بھی ملنے  ہمارے  گھر چلی آئی


اُس دن میں بھی اتفاق سے دیڑے سے جلدی گھر وآپس آ گیا تھا
اِس لیے مدیحہ کے ساتھ شکیلہ
کے ساتھ میری بھی ملاقات ہو گئی

میں نے اُس دن شکیلہ کو تقریباً دو سال بعد
دیکھا تو اُس کو دیکھتے ہی میں اُس کا حسن کا دیوانہ ہو گیا

شکیلہ شادی کے ان دو سالوں میں لڑکی سے ایک بھرپور عورت بن چکی تھی
اُس کی قمیض میں سے اُس کے گول گول موٹے ممے بہت ہی مزیدار نظر آ رہے تھے
جن کو دیکھتے ہی میرے منه میں پانی آ گیا تھا

جب کی شکیلہ کی شلوار میں پوشیدہ اُس کی لمبی گداز رانوں کو دیکھتے ہی میرا دماغ اُس کی رانوں کے درمیان موجود چوت کا سوچ کر ایک دم میری شلوار میں تنمبو بننے لگا تھا

مدیحہ اور شکیلہ ہمارے گھر کے صحن میں ہی بیٹھ کر آپس میں باتوں میں مشغول تھی
جب کے اِس موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے
میں اِس دوران شکیلہ کے جسم کو بھوکی نظروں سے دیکھنے میں لگا رہا

شکیلہ نے مدحیہ سے باتوں کے دوران اپنے
جسم پر پڑنے والی میری گرم نظروں کو
محسوس تو کر لیا تھا
مگر اُس نے اپنے چہرے سے مجھے یہ محسوس نہیں ہونے دیا کے میرا یوں ترانا اسے اچھا لگا ہے یا نہیں

دوسرے دن دوپہر کو میں دیڑے کے کمرے میں
چارپائی پر لیٹ کر آرام کر رہا تو مدیحہ
میرے لیے كھانا لے کر آئی
تو اُس دن میری بہن مدیحہ کے ساتھ اُس وقت  شکیلہ بھی تھی
شکیلہ کو یوں دوبارہ اپنے سامنے دیکھ کر میرے لنڈ میں ایک عجیب سی ہلچل مچ گئی

میں جب كھانا کھانے بیٹھا تو مدیحہ اور
شکیلہ سامنے والی چارپائی پر بیٹھ کر آپس
میں باتیں کرنے لگیں


اِس دوران میں نے محسوس کیا کے مدیحہ سے
باتوں کے دوران شکیلہ چوری چوری میری طرف بھی دیکھ رہی تھی

اِس دوران میری نظر ایک دو دفعہ شکیلہ کی نظر سے ملی
تو اُس کی نظروں میں میرے لیے جو ہوس کا پیغام تھا اسے پرھنا میرے لیے کچھ مشکل نہیں تھا

“ہاے  لگتا ہے کے شکیلہ بھی میری طرح
چدائی کی آگ میں جل رہی ہے”
اپنی بہن کی سہیلی کی آنکھوں میں چدائی کی پیاس دیکھ کر میرے دِل میں خیال آیا اور میری شلوار میں میرا لوڑا گرم ہو گیا

میں روٹی سے فارغ ہُوا تو مدیحہ نے برتن
اٹھاے اور شکیلہ کو ساتھ لے کر گھر چلی گئی
جب کے میں چارپائی پر لیٹ کر شکیلہ کے
بارے میں سوچنے لگا


دوسرے دن شکیلہ  پِھر میری بہن مدیحہ کے
ساتھ مجھے روٹی دینے آئی
اُس دن کھانے کے بعد مدیحہ نے برتن سمیٹے اور انہیں دھونے کے لیے اکیلی ہی باہر ٹیوب ویل کی طرف چلی گئی
جس کی وجہ سے اب کمرے میں صرف میں اور شکیلہ ہی رہ گئے تھے

مدیحہ کے باہر جاتے ہی میں نے موقع غنیمت
جانا اور شکیلہ کی طرف دیکھا تو وہ بھی میری طرف ہی دیکھ رہی تھی

“تمہارا  شوہر کیسا ہے شکیلہ”
شکیلہ کو اپنی طرف دیکھتے ہی میں نے اپنے آپ میں ہمت پیدا کی اور اپنی چارپائی سے اٹھ  کر اُس کے نزدیک ہوتے ہوئے یہ سوال کر دیا

“ٹھیک ہے وہ”
شکیلہ نے جواب تو دیا مگر مجھے اپنے نزدیک آتے دیکھ کر شکیلہ ایک دم گھبرا گئی اور اُس کی سانسیں اوپر نیچے ہونے لگیں


“تم خوش تو ہو نہ اُس کے ساتھ”
میں نے شکیلہ کے مزید قریب ہوتے ہوئے اُس کے نرم ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں پکڑتےہوئے پوچھا

شکیلہ نے کوئی جواب نہیں دیا تو میرا حوصلہ
بڑھا اور میں نے اُس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر
اُس کے گداز جسم کو اپنے قریب کھینچ لیا

اب اُس کا جسم میرے جسم سے جڑ گیا اور ہم
دونوں کے منه ایک دوسرے کے آمنے سامنے
آ گئے

“چھوڑو  مجھے مدیحہ اَتی ہی ہو گی”
اپنے آپ کو میرے بانہوں کے گہرے میں آتے دیکھ کر شکیلہ ایک دم گھبرا گئی اور میری بانہوں سے نکلنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی

شکیلہ کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے
میں نے اپنے منه کو آگے بڑھایا اور اپنے
ہونٹ شکیلہ کے گرم ہونٹوں پر رکھ دیے

ایک لمحے کے لیے شکیلہ نے مزاحمت کی مگر
اِس کے ساتھ ہی اُس نے اپنے منه کو کھولا تو میری زُبان اُس کے منه میں داخل ہو کر اُس کی زُبان سے ٹکرانے لگی

آج اتنے مہینے بعد ایک عورت کے جسم کو
چھونے اور لبوں کو چومتے ہوئے مجھے بہت
مزہ آیا
تو میں نے مستی میں آتے ہوئےشکیلہ کے جسم کے گرد اپنی بانہوں کو کسا
جس کی وجہ سے شکیلہ کا جسم میرے جسم کے ساتھ چمٹتا چلا گیا اور ساتھ ہی اُس کے گداز ممے میری چھاتی میں دابتے چلے گئے

اِس سے پہلے کے میں مزید آگے بڑھتا شکیلہ نے  ایک دم مجھے دھکا دیتے ہوئے اپنے آپ کو میرے بازوں کی گرفت سے الگ کیا
اور پِھر جلدی سے کمرے کے دروازے کے پاس
جا کر كانپتی آواز میں بولی
“تمھیں  تمیز ہونی چاہیے کے شادی شدہ عورتوں سے کیسے پیش آتے ہیں”

“اگر ایک چانس دو تو میں تمھیں بتا سکتا ہوں کے شادی شدہ عورتوں کے ساتھ پیش آنے
کی مجھے کتنی تمیز ہے
ویسے اب دوبارہ كب ملو گی مجھے”
شکیلہ کی بات کے جواب دیتے ہوئے میں نے میں اُس کی طرف دیکھ کر بے شرمی سے شلوار میں کھڑے ہوئے اپنے لنڈ پر ہاتھ پھیرا  اور اُس سے سوال کیا

“کل ،
اسی وقت اور اسی جگہ”
میری اِس حرکت پر شکیلہ  نے شرماتے ہوئے ایک دم اپنی نظریں نیچے کی اور پِھر میری بات کا جواب دیتے ہوئے تیزی کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گئی


جاری ہے . . . .

YUM Stories

انگارہ
« on: March 26, 2020, 07:51:41 pm »

Offline Rehan979

  • 3 Stars
  • ***
  • Posts: 272
  • Reputation: +3/-1
    • View Profile
Re: انگارہ
« Reply #1 on: March 26, 2020, 11:33:54 pm »
Nice start snd story seems to be good.

Plz increase font size.

Waiting for next update eagerly.

YUM Stories

Re: انگارہ
« Reply #1 on: March 26, 2020, 11:33:54 pm »

Offline 514حیدر رضا

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 56
  • Reputation: +0/-3
    • View Profile
Re: انگارہ
« Reply #2 on: March 27, 2020, 08:34:42 am »
کوئی ہیلپ کر سکتا ہے کے فونٹ سائز کیسے سیٹ ہوگا

Offline Rehan979

  • 3 Stars
  • ***
  • Posts: 272
  • Reputation: +3/-1
    • View Profile
Re: انگارہ
« Reply #3 on: March 27, 2020, 10:22:04 am »
Next update plzz

Offline timmy asif

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 35
  • Reputation: +0/-0
    • View Profile
Re: انگارہ
« Reply #4 on: March 27, 2020, 11:26:35 am »


نمبر 01


دوستوں میں جو اسٹوری آپ کی خدمت میں پیش کرنے جا رہا ہوں
یہ اصل میں ایک اور رائٹر کی انگلش میں لکھی ہوئی اسٹوری ہے
جس کو کچھ چینجز کے بَعْد میں نے کافی ٹائم پَہْلے آپ سے شیئر کیا تھا
مگر جیسا کا آپ صاحب جانتے ہَیں کے کافی
دوستوں کو انگلش اسٹوری پرنے میں مزہ نہیں
آتا  تو اسی لیے میں اِس اسٹوری کو اب اُرْدُو
میں ٹرانسلیٹ کر کے آپ کی خدمت میں دوبارہ
پیش کر رہا ہوں

ہمیشہ کی طرح میں نے اِس اسٹوری میں اپنی طرف سے کچھ مصالحہ لگا کر کچھ اچھا کرنے کی کوشش کی ہے

تاکے پرانے والوں کو کچھ ساواد اور مزہ مل
سکے

میں اپنی اِس کوشش میں کتنا کامیاب رہا اِس کا فیصلہ صرف آپ کے کمنٹس ہی کر سکتے  ہے  . .

شکریہ



میرا نام چودہری راحیل حسین ہے میری
عمر اِس وقت 27 سال ہے
میں ایک گورا چٹا تندرست قسم کاجوان ہوں اور اِس وقت اپنی فیملی کے ساتھ میں کراچی میں رہائش پذیر ہوں

آج جو کہانی میں آج آپ کو سننے جا رہا ہوں اس کا آغاز پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر
گجرات سٹی کے پاس واقعہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں ہُوا

آج سے چند سال پَہْلے زامیندارا کالج
گجرات سے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بَعْد جب مجھے ایک دوست کی مہربانی سے لاہور میں ایک پِرائِیویٹ کمپنی میں جاب ملی تو میں اپنے گاوں کو خدا حافظ کہہ کر لاہور چلا آیا اور اپنے دو دوستوں کے ساتھ ایک فلیٹ میں رہنے لگا . . . .


مجھے لاہور میں جاب شروع کی ابھی تقریباً چھے مہینے ہی ہوئے تھے کے گاؤں سے آنے والی ایک منحوس خبر نے میرے دِل کو توڑ دیا . . .


خبر یہ تھی کے گجرات شہر سے اپنے گاؤں
جاتے ہوئے میرے ابو کے ٹریکٹر کا ایک ٹرک
سے ایکسڈینٹ ہو گیا ہے
اور اِس ایکسڈینٹ میں میرے 23 سالا چھوٹا بھائی اعجاز اور میرے 55 سالا ابو چودہری قدیر حسین دونوں کا انتقال ہو
گیا تھا


یہ خبر 50‬ سال سے کچھ اوپر میری امی
فاخرہ اور میری 24 سالا چھوٹی بہن مدیحہ کے لیے تو بری تھی ہی مگر ان دونوں کے ساتھ میرے لیے زیادہ بری اِس لیے تھی کے نا صرف اب مجھے لاہور جیسے بڑے شہر کو چھوڑ کر واپس اپنے گاؤں جانا پر گیا تھا
بلکہ ساتھ ہی ساتھ اپنے والد کی ساری زمین کی دیکھ بھال اور اپنے گھر کو سنبھالنے کی ساری ذمہ داری میرے کندھوں پر آں پری تھی


بزنس میں گریڈویشن کرنے کے بَعْد کھیتی باری  کرنے کو میری ہر گز دِل نہیں تھا
مگر اپنے والد کا اکلوتا بیٹا رہ جانے کی
وجہ سے اب چار او نا چار اپنی زمین کی
دیکھ بھال اب مجھے ہی کرنی تھی

اِس لیے اپنے بھائی اور والد کے کفن دفن کے
بَعْد میں نے اپنی زمیں کو سنبھال لیا اور اب
میں پچھلے چھے مہینے سے دن رات کھیتی باڑی میں مصروف ہو گیا

ویسے تو اپنی زندگی میں میرے والد ہماری
زمین پر زیادہ تر سبزیاں ہی اگاتے تھے


مگر ان کی موت کے بَعْد میں نے  کوئی مختلف
فصل لگنے کا سوچا اور چند دوسرے لوگوں سے
صلاہ مشورہ کرنے کے بَعْد میں نے اپنی
زمین پر گنا لگا دیا

اگست کے مہینے میں گنے کی فصل کھڑی تو
ہو گئی مگر اِس کے باوجود اسے کاٹنے کے لیے
مجھے ایک مہینہ مزید انتظار کرنا تھا

اِس دوران چونکہ فصل کی رکھوالی کے علاوہ
مجھے کھیتوں پر اور کوئی کام نہیں تھا

اِس لیے میں نے اپنے کچھ ملازموں کو کچھ وقت کے لیے چھٹی دے دی اور صرف رات کی نگرانی کے لیے دو ملازموں کو روک لیا
جو کے رات کو دیڑے پر رہتے اور صبح ہوتے ہی اپنے گھر واپس چلے جاتے


چونکہ ہماری زمین ہمارے گاؤں کے باقی
لوگوں کی زمینوں اور مکانوں سے کافی ہٹ کر
واقعہ تھی
اِس لیے میں ایک بار جب اپنے گھر سے نکل کر
اپنی زمین پر آ جاتا
تو پِھر میری گھر وآپسی شام سے پَہْلے نہیں ہوتی تھی

گنے کی کاشت  کے بَعْد اب میرا روز کا معمول یہ بن گیا تھا کے صبح صبح دیڑے پر چلا آتا اور میں سارا دن اپنے اس دیڑے پر بیٹھ کر اپنے کھیتوں کی نگرانی کرتا جسے میرے والد نے اپنی زندگی میں تعمیر کیا تھا

ابو نے یہ دیڑہ ہماری ساری زمین کے بلکل درمیان میں بنایاتھا
جس میں دو کمرے  بنے ہوئے تھے

ان دونوں کمروں میں سے ایک میں ٹیوب ویل لگا ہُوا تھا
جس سے میں اپنی ساری فصل کو پانی دیتا
تھا
اِس کمرے کی چھت کی اونچائی کم تھی
جب کے دوسرا کمرہ آرام کرنے کے لیے بنایا
گیا تھا اور اِس کمرے کی چھت ٹیوب ویل
والے کمرے سے کافی اونچی تھی


ٹیوب ویل والے کمرے کی پچھلی طرف لکڑی کی ایک سریاں لگی ہوئی تھی
جس کے ذریعے اوپر چھڑ کر ٹیوب ویل کی چھت پر جایا جا سکتا تھا

یہاں پر ایک روشن دان بھی بنا ہوا  تھا جو کے آرام کرنے والے بڑے کمرے کو ہوادار بنانے کے لیے تھا

اِس روشندان پر لکڑی کی ایک چھوٹی سی کھڑکی لگی ہوئی تھی جو ہمیشہ آدھی بند ہی رہتی
جب کے روشندان کے باہر کی طرف اسٹیل کی ایک جالی بھی لگی ہوئی تھی

اِس روشاندان کی بناوٹ کچھ اِس طرح کی تھی کے اگر کوئی انسان ٹیوب ویل کی چھت پر کھڑے ہو کر بڑے کمرے کے اندر جھانکتا تو کمرے کے اندر موجود لوگوں کو باہر کھڑے شخص کی موجودگی کا علم نہیں ہو سکتا تھا


ٹیوب ویل کی چھت پر بھی ایک سیری رکھی ہوئی تھی
جس کے ذریعے آرام والے کمرے کی اونچی چھت پر چرا جا سکتا تھا

اِس چاٹ سے چونکہ ہماری پوری زمین پر
نظر رکھی جا سکتی تھی
اِس لیے دن میں اکثر میں سیڑیوں  کے  ذریعے اوپر چلا جاتا اور چھت پر
بیٹھ کر اپنی فصل کی حفاظت کرتا رہتا


ہر روز دن میں میری چھوٹی بہن مدیحہ
میرے لیے گھر سے كھانا لاتی
اور جب تک میں کھانے سے فارغ نہ ہو جاتا وہ بھی میرے ساتھ ہی کمرے میں سامنے والی چارپائی پر بیٹھ کر اپنے موبائل فون سے کھلتی رہتی

جب میں كھانا کھا کر فارغ ہو جاتا تو مدیحہ
برتن سمیٹ کر گھر وآپس چلی جاتی اور میں
کمرے میں جا کر آرام کر لیتا

یہ روٹین پچھلے دو مہینے سے چل رہی تھی
کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا کے مدیحہ کی جگہ میری امی فاخرہ میرے لیے كھانا لے آتیں

لاہور سے وآپس اپنے گاؤں آ کر اب پچھلے چھے ماہ سے میری زندگی ایک ہی ڈاگر پر چل رہی
تھی
جس کی وجہ سے میں اب تھوڑا بور ہونے لگا
تھا
اور میری اِس بوریت کی صاحب سے بڑی وجہ
چوت سے محرومی تھی

اصل میں لاہور میں قیام کے دوران میں نے
اپنے روم میٹ کے ساتھ مل کر بڑی عمر کی دو
آنٹیوں کا بندوبست کر لیا تھا
اور پِھر جتنا عرصہ میں وہاں رہا میں ہفتے میں کام از کام دو دفعہ تو ان آنٹیوں میں سے ایک کی چوت کا ذائقہ چھک ہی لیتا تھا

اِس لیے یہ ہی وجہ تھی کے گاؤں میں آ کر میں
عورَت کے مزے سے محروم ہو گیا تھا

ویسے تو میں نے دیڑے پر دو تِین ننگی
فوٹوز والے میگزینز چھپا کر رکھے ہوئے
تھے
جن کو میں لاہور سے اپنے ساتھ لیا تھا

اِس لئے جب بھی میرا دِل چاہتا تو میں موقع پا کر دیڑے پر بنے کمرے میں جاتا اور چارپائی پر
لیٹ کر ان میگزینز میں ماجود لڑکیوں کی
گندی فوٹوز کو دیکھ دیکھ کر مٹھ لگتا اور
اپنے جسم کی آگ کو ہلکا کر لیتا تھا

بے شک میں مٹھ لگا کر فارغ تو ہو جاتا
مگر میرے لنڈ کو عورت کی چوت کا ایسا نشہ
لگ چکا تھا کے اب میرے لنڈ کو ایک گرم
پھدی کی شدت سے طلب ہو رہی تھی

میرا لوڑا میری شلوار میں صبح صبح کھڑا ہو
کر ہر روز کسی گرم پھدی کی مانگ کرتا
مگر میں ہمیشہ تھپڑ مار مار کر اپنے لنڈ کو خاموش کر دیتا تھا

وہ کہتے ہَیں نہ کے
“سو سال بعد تو گونگے کی بھی سنی جاتی ہے”
بلکل یہ میرے ساتھ ہُوا کے جس گرم اور پیاسی چوت کی میرے لنڈ کو تلاش تھی

وہ اسے میری بہن مدیحہ کی سہیلی شکیلہ کی
شکل میں بلآخر ایک دن مل ہی گئی

شکیلہ ویسے تو میری بہن مدیحہ سے عمر میں
ایک سال بڑی تھی
مگر گاؤں میں ہمارے گھر ساتھ ساتھ ہونے کی وجہ سے ان دونوں میں بچپن ہی سے بہت اچھی دوستی تھی

جب کے اسکول کی پہلی کلاس سے لے کر میٹرک تک اکٹھے ایک ہی کلاس میں پڑھنے کی وجہ سے جوان ہوتے ہوتے ان دونوں کی دوستی مزید گہری ہوتی چلی گئی

میری بہن کی سہیلی ہونے کی حیثیت سے شکیلہ کا اکثر ہمارے گھر آنا جانا لگا رہتا تھا

شکیلہ جب بھی میری بہن مدیحہ کو ملنے
ہمارے گھر آتی تو مدیحہ اسے لے کر اپنے کمرے میں چلی جاتی
جہاں دونوں سہیلیاں بیٹھ کر کافی دیر تک گپ شپ لگاتی رہتی تھیں

شکیلہ چونکہ عمر میں مدیحہ سے ایک سال
بڑی تھی
اِس لیے اُس کے گھر والوں کو اُس کی شادی کی شاید کچھ زیادہ ہی جلدی تھی

یہ ہی وجہ تھی کے جن دنوں میں زمیندارا
کالج میں بی اے کر رہا تھا تو اسی دوران شکیلہ کی شادی ہو گئی

اُس کے سسرال والے چونکہ ملتان کے پاس ایک
گاؤں میں رہتے تھے
اِس لیے شادی کے بعد شکیلہ ہمارے گاؤں سے رخصت ہو کر اپنے شوہر کے ساتھ ملتان میں رہنے لگی

اب جن دنوں میرا لنڈ کسی عورت کی پھدی میں جانے کے لیے تڑپ رہا تھا
تو انہی دنوں شکیلہ اپنے ماں باپ کو ملنے اپنے گاؤں واپس آئی ہوئی تھی
تو اُس دوران وہ میری بہن مدیحہ کو بھی ملنے  ہمارے  گھر چلی آئی


اُس دن میں بھی اتفاق سے دیڑے سے جلدی گھر وآپس آ گیا تھا
اِس لیے مدیحہ کے ساتھ شکیلہ
کے ساتھ میری بھی ملاقات ہو گئی

میں نے اُس دن شکیلہ کو تقریباً دو سال بعد
دیکھا تو اُس کو دیکھتے ہی میں اُس کا حسن کا دیوانہ ہو گیا

شکیلہ شادی کے ان دو سالوں میں لڑکی سے ایک بھرپور عورت بن چکی تھی
اُس کی قمیض میں سے اُس کے گول گول موٹے ممے بہت ہی مزیدار نظر آ رہے تھے
جن کو دیکھتے ہی میرے منه میں پانی آ گیا تھا

جب کی شکیلہ کی شلوار میں پوشیدہ اُس کی لمبی گداز رانوں کو دیکھتے ہی میرا دماغ اُس کی رانوں کے درمیان موجود چوت کا سوچ کر ایک دم میری شلوار میں تنمبو بننے لگا تھا

مدیحہ اور شکیلہ ہمارے گھر کے صحن میں ہی بیٹھ کر آپس میں باتوں میں مشغول تھی
جب کے اِس موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے
میں اِس دوران شکیلہ کے جسم کو بھوکی نظروں سے دیکھنے میں لگا رہا

شکیلہ نے مدحیہ سے باتوں کے دوران اپنے
جسم پر پڑنے والی میری گرم نظروں کو
محسوس تو کر لیا تھا
مگر اُس نے اپنے چہرے سے مجھے یہ محسوس نہیں ہونے دیا کے میرا یوں ترانا اسے اچھا لگا ہے یا نہیں

دوسرے دن دوپہر کو میں دیڑے کے کمرے میں
چارپائی پر لیٹ کر آرام کر رہا تو مدیحہ
میرے لیے كھانا لے کر آئی
تو اُس دن میری بہن مدیحہ کے ساتھ اُس وقت  شکیلہ بھی تھی
شکیلہ کو یوں دوبارہ اپنے سامنے دیکھ کر میرے لنڈ میں ایک عجیب سی ہلچل مچ گئی

میں جب كھانا کھانے بیٹھا تو مدیحہ اور
شکیلہ سامنے والی چارپائی پر بیٹھ کر آپس
میں باتیں کرنے لگیں


اِس دوران میں نے محسوس کیا کے مدیحہ سے
باتوں کے دوران شکیلہ چوری چوری میری طرف بھی دیکھ رہی تھی

اِس دوران میری نظر ایک دو دفعہ شکیلہ کی نظر سے ملی
تو اُس کی نظروں میں میرے لیے جو ہوس کا پیغام تھا اسے پرھنا میرے لیے کچھ مشکل نہیں تھا

“ہاے  لگتا ہے کے شکیلہ بھی میری طرح
چدائی کی آگ میں جل رہی ہے”
اپنی بہن کی سہیلی کی آنکھوں میں چدائی کی پیاس دیکھ کر میرے دِل میں خیال آیا اور میری شلوار میں میرا لوڑا گرم ہو گیا

میں روٹی سے فارغ ہُوا تو مدیحہ نے برتن
اٹھاے اور شکیلہ کو ساتھ لے کر گھر چلی گئی
جب کے میں چارپائی پر لیٹ کر شکیلہ کے
بارے میں سوچنے لگا


دوسرے دن شکیلہ  پِھر میری بہن مدیحہ کے
ساتھ مجھے روٹی دینے آئی
اُس دن کھانے کے بعد مدیحہ نے برتن سمیٹے اور انہیں دھونے کے لیے اکیلی ہی باہر ٹیوب ویل کی طرف چلی گئی
جس کی وجہ سے اب کمرے میں صرف میں اور شکیلہ ہی رہ گئے تھے

مدیحہ کے باہر جاتے ہی میں نے موقع غنیمت
جانا اور شکیلہ کی طرف دیکھا تو وہ بھی میری طرف ہی دیکھ رہی تھی

“تمہارا  شوہر کیسا ہے شکیلہ”
شکیلہ کو اپنی طرف دیکھتے ہی میں نے اپنے آپ میں ہمت پیدا کی اور اپنی چارپائی سے اٹھ  کر اُس کے نزدیک ہوتے ہوئے یہ سوال کر دیا

“ٹھیک ہے وہ”
شکیلہ نے جواب تو دیا مگر مجھے اپنے نزدیک آتے دیکھ کر شکیلہ ایک دم گھبرا گئی اور اُس کی سانسیں اوپر نیچے ہونے لگیں


“تم خوش تو ہو نہ اُس کے ساتھ”
میں نے شکیلہ کے مزید قریب ہوتے ہوئے اُس کے نرم ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں پکڑتےہوئے پوچھا

شکیلہ نے کوئی جواب نہیں دیا تو میرا حوصلہ
بڑھا اور میں نے اُس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر
اُس کے گداز جسم کو اپنے قریب کھینچ لیا

اب اُس کا جسم میرے جسم سے جڑ گیا اور ہم
دونوں کے منه ایک دوسرے کے آمنے سامنے
آ گئے

“چھوڑو  مجھے مدیحہ اَتی ہی ہو گی”
اپنے آپ کو میرے بانہوں کے گہرے میں آتے دیکھ کر شکیلہ ایک دم گھبرا گئی اور میری بانہوں سے نکلنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی

شکیلہ کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے
میں نے اپنے منه کو آگے بڑھایا اور اپنے
ہونٹ شکیلہ کے گرم ہونٹوں پر رکھ دیے

ایک لمحے کے لیے شکیلہ نے مزاحمت کی مگر
اِس کے ساتھ ہی اُس نے اپنے منه کو کھولا تو میری زُبان اُس کے منه میں داخل ہو کر اُس کی زُبان سے ٹکرانے لگی

آج اتنے مہینے بعد ایک عورت کے جسم کو
چھونے اور لبوں کو چومتے ہوئے مجھے بہت
مزہ آیا
تو میں نے مستی میں آتے ہوئےشکیلہ کے جسم کے گرد اپنی بانہوں کو کسا
جس کی وجہ سے شکیلہ کا جسم میرے جسم کے ساتھ چمٹتا چلا گیا اور ساتھ ہی اُس کے گداز ممے میری چھاتی میں دابتے چلے گئے

اِس سے پہلے کے میں مزید آگے بڑھتا شکیلہ نے  ایک دم مجھے دھکا دیتے ہوئے اپنے آپ کو میرے بازوں کی گرفت سے الگ کیا
اور پِھر جلدی سے کمرے کے دروازے کے پاس
جا کر كانپتی آواز میں بولی
“تمھیں  تمیز ہونی چاہیے کے شادی شدہ عورتوں سے کیسے پیش آتے ہیں”

“اگر ایک چانس دو تو میں تمھیں بتا سکتا ہوں کے شادی شدہ عورتوں کے ساتھ پیش آنے
کی مجھے کتنی تمیز ہے
ویسے اب دوبارہ كب ملو گی مجھے”
شکیلہ کی بات کے جواب دیتے ہوئے میں نے میں اُس کی طرف دیکھ کر بے شرمی سے شلوار میں کھڑے ہوئے اپنے لنڈ پر ہاتھ پھیرا  اور اُس سے سوال کیا

“کل ،
اسی وقت اور اسی جگہ”
میری اِس حرکت پر شکیلہ  نے شرماتے ہوئے ایک دم اپنی نظریں نیچے کی اور پِھر میری بات کا جواب دیتے ہوئے تیزی کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گئی


جاری ہے . . . .

Next update plzz

Offline 514حیدر رضا

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 56
  • Reputation: +0/-3
    • View Profile
Re: انگارہ
« Reply #5 on: March 27, 2020, 11:31:31 am »
جناب شکریہ لیکن ایک بار طریقہ کار مجھے بھی سمجھا دیں نوازش ہو گی

Online woodman

  • 3 Stars
  • ***
  • Posts: 472
  • Reputation: +5/-3
    • View Profile
Re: انگارہ
« Reply #6 on: March 28, 2020, 01:41:24 am »
کہانی اچھی لکھی گئی ہے۔براے مہربانی
اسے مکمل کیجیئےٹیکسٹ کو سیلیکٹ کر کے  فونٹ  سائز بڑا سائز لگا دیں
:walkman:
987uk321 gmail

Offline Gay403

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 137
  • Reputation: +2/-3
  • Gender: Male
  • Ek piyari se larki dost chahye
    • View Profile
    • https://www.google.com.pk/search?client=ucweb-b-bookmark&biw=360&bih=469&tbm=isch&sxsrf=ACYBGNSc72sJ9D0jrVK4lgqbyns5QMtZSw%3A1576752341118&sa=1&q=Ladyboy+fucks+gay&oq=Ladyboy+fucks+gay&aqs=mobile-gws-lite..#imgrc=OXIdvxpTuX
Re: انگارہ
« Reply #7 on: March 28, 2020, 04:57:06 pm »
Story ka start to axha ha umeed ha story apne name r plote ki tarha lamba chaly gi
COME ON my hangout.
Iqbalfarhan403@gmail.com
Let's to chat

 

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.