Author Topic: ملک آباد کا عالی  (Read 94110 times)

Offline Ali istemal

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 52
  • Reputation: +0/-0
  • Gender: Male
    • View Profile
ملک آباد کا عالی
« on: April 18, 2020, 10:14:39 pm »

کمرے میں گونجنے والی دھپ دھپ اور آہوں اور سسکیوں کی آوازیں باہر تک سنائی دے رہی تھیں،، راہداری کے نیم تاریک اور خاموش ماحول میں شہوت ہچکولے کھاتی پھرتی تھی،، اس کے لئے یہ سب کچھ نیا نہیں تھا وہ عادی ہو چکا تھا،،، وہ جانتا تھا کہ رات کے اس پہر حویلی کے اس حصے کی جانب کوئی بھی آنے کی جرات نہیں کرتا، منشی کرم جیسا خاص اور طاقتور آدمی بھی یہاں اپنے طور پر نہیں آ سکتا تھا.. یہ وہ آسمان تھا جہاں صرف اس کی ہی پرواز تھی،، باقی سب کے پر یہاں جلتے تھے،


 اسے سختی سے حکم تھا کہ رات کو جب ملک صاحب اپنے اس خاص کمرے میں پدھاریں تو حویلی کے کسی بھی فرد کو یہاں تک نہ آنے دیا جائے،، وہ کمرے تک لے جانے والی اس لمبی چوڑی راہداری کے اس حصے پر بیٹتھا تھا جو حویلی کے مردانے سے متصل تھا.. راہداری کو بھاری  چوبی دروازے کی مدد سے مردانے سے جدا کیا گیا تھا....وہ اسی دروازے کے پاس کرسی پر بیٹتھا تھا.. اگر کبھی کوئی بہت ہی بڑی آفت آن پڑتی تو... وہ بھاری دروازے پر لگی ہوئی چھوٹی سی کھڑکی سے پیغام وصولتا تھا... اور ملک صاحب تک پہنچاتا تھا... یہ لمبی چوڑی راہداری حویلی کے اندرونی یا زنانہ حصے کی جانب جاتی تھی.... اس جانب بھی جہاں زنان خانہ اور راہداری ملتے تھے ایک ہلکا سا دروازہ حد بندی کے لئے نصب تھا.... مگر وہاں کوئی چوکیداری کے لئے نہیں بیٹتھا تھا،، راہداری میں فقط تین ہی کمرے تھے جس میں  سب سے آخری کمرہ ملک جی کا تھا...وہ کمرہ سب سے زیادہ آباد رہتا تھا.... باقی دونوں کمرے وقتاً فوقتاً کھلتے رہتے اور ملک جی کے طرح طرح کے مہمانوں کا مسکن بنتے رہتے تھے


وہ آٹھ برس کی عمر سے اسی علاقے کا گویا داروغہ تھا وہ ایسی شہوت انگیز  آوازیں اس وقت سے سنتا چلا آرہا تھا جب اس کے اندر یہ آوازیں کوئی طوفان تو کیا ہلکی سی گدگدی بھی پیدا نہ کر پاتی تھیں..اب وہ تیرہ برس کا لڑکا تھا.. اب تو گویا طوفان اٹھتے تھے،،، پوری جسم کی رگیں تنی رہتی تھیں اس کا عضو تناسل سختی میں لوہے کو بھی مات دیتا معلوم ہوتا تھا شہوانی جذبات خون کے دورانیہ کو بڑھاتے گھٹاتے رہتے تھے عقل جذبات کے تابع ہو رہی تھی وہ چاہتا اپنی اس مخصوص اہمیت کا فائدہ اٹھا سکتا تھا مگر وہ اپنی حد جانتا تھا اسے بڑے اچھے اسلوب سے اطاعت کرنا سکھایا گیا تھا،، جبھی لڑکپن کی اس عمر میں کہ جب باغیانہ خیالات دماغ کو گھیرے رہتے ہیں اس کا دماغ اور دل اطاعت اور عقیدت کے جذبوں سے شرابور تھا


،،اس کی ماں نے اسے سمجھایا تھا کہ غریبوں کے پلے صرف اطاعت ہوتی ہے اطاعت... اب چاہے اسے اپنے دل و دماغ کا روگ بنا لو چاہے طاقت... اور اگر اسی اطاعت میں عقیدت کا جذبہ بھی  شامل کر لو تو  دو دھاری تلوار... اپنی خوبصورت ماں کو تو وہ دیوی کی طرح پوجتا تھا..... سیرت سے تو ہر ماں ہی دیوی ہوتی ہے اس کی ماں تو صورت کی دیوی تھی... یونان کی حسن کی دیوی زہرہ کی جدید صورت.....اس کے بالے جسم کے اندر کا مرد اپنی جبلی مردانہ حس شامہ سے سونگھ کر اسے بتا چکا تھا کہ اس کی ماں کسی بھی مرد کی خرد اور عقیدت کا محور بننے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس کے اندر کے مرد نے بچپن سے ہی اسے اپنے ماں کے آگے سجدہ ریز ہونے کی تلقین کر دی تھی.... ماں کی ممتا کا تو ہر بیٹا ہی عقیدت مند ہوتا ہے وہ تو اپنی ماں کی نسوانیت کا پجاری تھا اس وقت سے!! کہ جب اسے گاؤں کی عورتوں کے ابھرے ہوئے اور آگے کی جانب تنے ہوئے سینوں کا صرف ایک ہی مصرف سمجھ میں آتا تھا... روتے بلکتے سوکھی چمڑیوں والے بچوں کو تسکین پہنچانے  کا مصرف.... وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ بھرے ہوئے... کمزور کپڑوں کو پھاڑتے ہوئے سینے..... جانے کیسے کیسے استعمال میں لائے جاتے ہیں اور بچوں کو تسکین پہنچانا تو گویا اضافی ذمہ داری ہے در حقیقت تو یہ بالغوں کی تسکیں کا ذریعہ ہوتے ہیں... بچوں کے ننھے منے ہاتھ تو وقت گزاری ہے اصل منزل تو کھیتوں میں گندم کی بیجائی کرنے والے کھردرے مردانہ ہاتھ ہیں... اس کا اپنی متناسب جسم والی ماں سے محبت اور عقیدت کا رشتہ بہت گہرا تھا... وہ ہمہ وقت اپنی ماں کے جسم سے اٹھنے والی سوندھی مہک کے حصار میں رہتا تھا وہ کیسے اپنی ماں کی نصیحت فراموش کر سکتا تھا اس کی ماں نے اس ملک صاحب کی وفاداری کرتے رہنے کی تلقین کی تھی کسی بھی حد تک.... ملک صاحب کا ان کے کتوں سے بھی زیادہ ان کا   وفادار رہنے کی تلقین  اور حقیقی وفاداری تو وہ ہے جو پیٹھ پیچھے کی جائے ورنہ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل کے مصداق وفادار تو بہت مل جائیں


وہ کیسے حد پھلانگ سکتا تھا اپنی تنی ہوئی رگوں اور اپنی شلوار میں انگڑائی لیتے نئے نئے جوان ہوتے لوڑے کو سنبھالنا گو کہ بہت مشکل تھا لیکن ملک صاحب سے عقیدت اور محبت کا رشتہ اور دیوی جیسی ماں کی تلقین ہمیشہ اس کے آڑے آتی اس کے منہ زور جذبات روز اس کے کان میں کچھ کرنے کچھ دیکھنے کی سرگوشی کرتے بارہا اس نے چاہا کہ وہ جائے اور کسی درز کسی سوراخ سے ملک صاحب کے کمرے مہں جھانکے اور ان آوازوں کا منبع تلاش کرے جو اس کے جوان خون میں ابال پیدا کرتی ہیں  مگر وہ حد  پھلانگنا جانتا ہی نہیں تھا یہی وجہ تھی کہ آج وہ ملک صاحب کے خاص پنجرے کا پکھیرو تھا...
رات بھر لوڑے کو رکھا یاد نے تیری کھڑا

ہائے یہ طرز ستم اک ناز کے پالے کے ساتھ

YUM Stories

ملک آباد کا عالی
« on: April 18, 2020, 10:14:39 pm »

Offline Ali istemal

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 52
  • Reputation: +0/-0
  • Gender: Male
    • View Profile
Re: ملک آباد کا عالی
« Reply #1 on: April 18, 2020, 10:28:10 pm »

اس دن بھی وہ ذہن میں آنے والے عجیب عجیب خیالات اور بشیرے مالی کی سب سے بڑی بیٹی صغراں ( جو کہ ابھی بچپنے اور لڑکپن کے دوراپے پر کھڑی تھی...) کے سینے پر ابھر آنے والی ان ڈودے نما گھنڈیوں کا تصور کر کے اپنی شلوار میں اکڑے ہوے اپنے نازک سے لوڑے کی گلابی چمڑی پر خارش کر رہا تھا (اسے ہمیشہ اپنے لن پر خارش کر کے تسکین ملتی تھی اور پچھلے کچھ عرصے سے کہ جب وہ بلوغت کی جانب بڑھنا شروع ہوا تو یہ اس کا معمول بنا ہوا تھا) کہ راہداری کے چوبی دروازے پر ڈری ڈری دھیمی دستک ہوئی.....یہ خلاف معمول تھا.. اس نے چونک کر دروازے کی جانب دیکھا اور اپنی قمیص کا دامن درست کرتے ہوئے دروازے میں لگی کھڑکی کا پٹ کھول دیا... باہر بڑی بڑی مونچھوں اور پتلے سے منہ والا منشی کرم کھڑا تھا.... جو اسے کبھی بھی پسند نہیں رہا تھا.... کیا ہوا لالہ جی اس نے منشی کو دیکھتے ہوئے ناگواری سے پوچھا... اس حویلی کے ملازمین میں بڑے سے بڑا پھنے خان بھی منشی سے اس لہجے میں بات نہیں کر سکتا تھا... حتی کے حویلی کے مالکان بھی منشی سے بات کرتے ہوئے نسبتاً احتیاط برتتے تھے کجا کہ کوئی اس جیسا بچہ اس لہجے میں بات کرے مگر اس کو یہ اختیار حاصل تھا... وہ کوئی عام نوکر یا کمی نہیں تھا وہ ملک صاحب کا خاص پرندہ تھا... اور اس وقت تو منشی ویسے بھی اس کی راجدھانی میں کھڑا تھا...


اس کے طرز تخاطب سے منشی کو مانو آگ لگ گئی  جس کے شعلے منشی کی آنکھوں میں لپیٹے کھانے لگےحالانکہ منشی اور اس کی عمر میں زمین و آسمان کا فرق تھا مگر جانے کیوں پوری حویلی میں منشی کو یہ لڑکا ہی اپنی راہ کا کانٹا لگتا تھا
.
'' او ملک صاحب کو بتا چھوکرے بشیرا مالی پولیس لے آ یا ہے.... وہ دربان کو چکمہ دے کر نکل گیا تھا حویلی سے.


لیکن ہوا کیا ہے منشی جی اس کے چہرے پر حیرت تھی صبح تک تو بشیرا ٹھیک ٹھاک تھا اب کیا ہو گیا ایک دم کہ اسے پولیس کے پاس جانے کی ضرورت پڑ گئی


او یہ تو تو ملک صاحب سے پوچھنا... پینو کے پتر.. منشی کے ہونٹوں پر زہریلی مسکراہٹ... اور لہجے میں کاٹ دینے والا طنز اتر آیا.. پینو اس کی ماں کا نام تھا... نام تو پروین تھا مگر پینو مشہور ہو گیا تھا.... پینو کے نام پر ایسا طنز آمیز تاثر اس کو لئے نیا نہیں تھا...


تو خود معاملہ سنبھال لو، تم کس مرض کی دوا ہو اس نے جوابی وار کیا... جس نے یقیناً منشی کے تن بدن میں لگی آگ کو مزید ہوا دی

[/size][size=78%]اوئے عالی ٹیم کھوٹا نہیں کر..اگر ڈرتا ہے تو.[/size]
[/size][size=78%] دروازہ کھول میں خود جا کر بتا دیتا ہوں ....منشی کا کھردرا لہجہ مزید سخت ہو گیا... [/size]


اس نے ایک لمحے کو منشی کی آنکھوں میں دیکھا اور دروازے کی زنجیر ہٹا کر دونوں پٹ کھول دئے...


جاؤ لالہ خود بتا دو... اس نے سرد لہجے میں کہا اور ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا...


منشی نے خود راہداری میں قدم رکھنے کا کہہ کر اس کی انا کو للکارا تھا ..... یہی تو اس کا غرور تھا کہ ملک صاحب کے نہایت نجی معاملات کی کی کنجی اس کے پاس تھی... یہ راہداری اور ان کمروں کا اختیار ہی اسے دوسرے نوکروں سے ممتاز بناتا تھا وہ چاہتا تھا کہ منشی اور باقی پھنے خانوں کے ذہن میں یہ بات مضبوطی سے بیٹھا دی جاوے کہ اس سے اس کا یہ امتیاز نہیں چھینا جا سکتا... اسے جانے منشی سے کیا ضد تھی اگر اس کی جگہ پر کوئی اور ملازم یہ پیغام لاتا تو وہ ہرگز یوں تماشا نہ کرتا مگر منشی کی انا کو کچوکے لگانا تو اس کا دلپسند  مشغلہ تھا..


منشی بھی جانتا تھا کہ یہ لڑکا جس کا نام عالی الدین ہے، آسان خوراک نہیں کہ آسانی سے ہضم کر لی جائے... اور ڈکار بھی نہ مارا جائے....


عالی نے دروازہ کھول کر جو پینترا کھیلا تھا وہ منشی کو چاروں خانے چت کر گیا .. منشی جانتا تھا کہ وہ اگر قیامت آنے کی خبر بھی ملک صاحب کے اس خلوت خانہ میں خود لیکر جائے گا تو اپنی منشی گیری کی پگڑی تو کجا شاید اپنا سر بھی نہ بچا سکے... وہ جانتا تھا کہ وہ عالی کا محتاج ہے


اس نے ٹھنڈی سانس بھر کے اپنے لہجے کے کھردرے پن کو کم کرنے کی کوشش کی..


کوئی نیا افسر آیا ہے ملک آباد کے تھانے میں ملک صاحب جانتے ہیں وہ ہمارے بس کا نہیں ورنہ میں خود دیکھ لیتا  ملک صاحب کو بتا دربان اتنی دیر تک پولیس کو الجھا کر نہیں رکھ سکتے..اگر اس انسپکٹر نے اسلحہ نکال لیا تو یہ مادر چود فیر (فائر) کھول دیں گے ..میں جا کر صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کرتا ہوں... منشی عالی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے سے گریز کرتا ہوا بولا...


ٹھیک ہے لالہ بتاتا ہوں، تم جا کر سنبھالو ان مادر چودون کو... عالی کے ہونٹوں پر ابھر آنے والی فتحمندی کی مسکراہٹ شاید منشی برداشت نہیں کر پایا اور جلدی سے پلٹ گیا....


عالی نے دروازہ بند کیا اور ملک کے کمرے کی جانب چل دیا وہ جانتا تھا... کہ ملک صاحب کے کمرے کا دروازہ اندر سے لاک نہیں ہوتا ہے...کمرے کے پاس پہنچتے ہی... اندر کی ہیجانی آوازیں مزید واضح ہو گئیں..... اندر کی آوازوں سے اندازہ ہوتا تھا کہ ملک کے ساتھ اس وقت کم از کم دو نسوانی وجود.... وصل کا لطف کشید کر رہے ہیں...



رات بھر لوڑے کو رکھا یاد نے تیری کھڑا

ہائے یہ طرز ستم اک ناز کے پالے کے ساتھ

YUM Stories

Re: ملک آباد کا عالی
« Reply #1 on: April 18, 2020, 10:28:10 pm »

Offline Ali istemal

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 52
  • Reputation: +0/-0
  • Gender: Male
    • View Profile
Re: ملک آباد کا عالی
« Reply #2 on: April 18, 2020, 10:40:07 pm »



اس نے دستک دینے سے پہلے کان لگا کر سنا... اندر شاید کریم بی بی تھی بشیرے مالی کی بیوی..... وہ چونکہ اکثر ملک صاحب کو مالش کرنے آتی رہتی تھی اس لئے  عالی اس کی آواز پہنچاتا تھا..... اور ویسے بھی وہ جب بھی عالی کو ملتی اس کا سر اپنے بھاری بھرکم مموں کے درمیان پھنسا کر اسے پیار ضرور کرتی..وہ تو شاید عالی اور اپنی عمر کے تفاوت کی وجہ سے اسے گلے لگاتی تھی مگر عالی اس معانقے سےاپنی جوانی کی امنگوں کی تسکین کرتا تھا.. یہی وجہ تھا عالی اس کی آواز پہچانتا تھا


کریم بی بی غالباً کسی ناگفتہ بے حالت میں تھی...


بس پتر سکون کر... ہلسیں تے ہور درد تھیسی آ (بیٹا آرام کرو ہلو گی تو اور درد ہو گا) کریم بی بی کی آواز جذبات سے بوجھل تھی


اماں مینڈا ہاں گھٹدا پیا اے (اماں میرا دل بند ہو رہا ہے) عالی یہ آواز بھی  پہچانتا تھا یہ بشیرے کی بڑی بیٹی صغراں کی آواز تھی...جس کی پھولتی ہوئی گھنڈیاں کئی دن سے عالی کے سکون کی دشمن بنی ہوئی تھیں...


بس مینڈی پتری ہنڑے تنڈا ہاں کھل ویسی    (بس میری بچی ابھی تیرا دل پھول کی مانند کھل جائے گا)   ٹنگاں کھول دے پوریاں (ٹانگیں پوری کھول دو) جنس میں ڈوبی ہوئی یہ آواز ملک صاحب کی تھی..


عالی اب کڑی سے کڑی ملاتے ہوئے  بشیرے کی اس حرکت کا مطلب کچھ کچھ سمجھ رہا تھا... بشیرے مالی جو ایک عرصے سے اپنی بیوی کے بڑی ملکانی کی مالش کے بہانے ملک صاحب کی خوابگاہ میں راتیں گزارنے پر صبر کئے ہوئے تھا... آج شاید اپنی کمسن بیٹی کو بھی ماں کے ساتھ تیل کی شیشی پکڑے حویلی کی جانب جاتے دیکھ کر صبر نہ کر سکا اور راتوں رات حویلی سے نکل کر ملک آباد کے پولیس اسٹیشن جا پہنچا....  اب پولیس کے ساتھ حویلی کے دروازے پر کھڑا اپنی بیٹی کی اد کھلی جوانی کا حساب مانگ رہا تھا....


پولیس کا خیال آتے ہی عالی نے آوازوں پر سے کان ہٹائے اور خوابگاہ کے دروازے پر  دھیمی آواز میں مخصوص دستک دی..


اندر کھٹر پٹر کی اوازیں پیدا ہوئیں... صغراں کی ہلکی سی چیخ بھی سنائی دی... پھر خاموشی ہو گئی..


کی اے عالی بھین یکا،،، کیوں ماں یدانا پیا ایں (کیا ہے عالی بہن چود کیوں ماں چدوا رہے ہو) اندر آ ونج بوہا کھلا ای (اندر آ جا دروازہ کھلا ہے) ملک کی مخصوص آواز گونجی


ایسا نہیں تھا کہ عالی نے زندگی میں کبھی ملک صاحب کی خوابگاہ کے جنسی مناظر دیکھے نہیں تھے پہلے بھی دو ایک بار وہ ایسے بے وقتے پیغامات لا چکا تھا... مگر ملک صاحب ہمیشہ دروازہ پر آ کر.. اس کی بات سنتے تھے.... اور وہ دروازے کی اوٹ سے کسی نا کسی جذبات انگیز منظر کی جھلک دیکھ لیتا تھا... مگر یہ پہلا موقع تھا.... کہ ملک صاحب اسے خوابگاہ کے اندر بلا رہے تھے...


یہ تصور کرتے ہی کہ اندر کم از کم دو عورتیں......اپنی تما تر نسوانیت عیاں کیے موجود ہیں... اس کے جسم میں سنسنی کی ایک شدید لہر دوڑ گئی اور ایک ایک رونگٹا کھڑا ہو گیا... اس نے کانپتے ہاتھوں سے دروازہ کھولا اور شاید جذبات کی شدت سے اس نے کچھ زیادہ ہی زور لگا دیا......دروازہ ایک دھماکے سے چوپٹ کھل گیا..... سامنے جہازی سائز کی مسہری پر لیٹی ہوئی ننھی منی صغراں کو بغل میں دبائے ملک صاحب کا لمبا چوڑا خوبصورت بے لباس مردانہ بدن گویا ریفلیکس ایکشن کے تحت اچھلا....اور ہاتھ دیوار پر آویزاں کلہاڑی کی جانب بڑھا مگر دروازے پر تنہا عالی کو دیکھ کر واپس مسہری پر ڈھے گیا.... صغراں بھی شاید دروازے کے دھماکے سے ڈر گئی تھی کیوں کہ وہ کسی سہمی ہوئی چڑیا کی طرح اپنا منہ ملک کے سینے میں گھسانے کی کوشش کر رہی تھی ملک نے اپنا مضبوط بازو صغراں کے ننگے کمسن بدن کے گرد زور سے کسا اور اس کی چھوٹی سی بنڈ کے داہنے پٹ  کو اپنے لمبے چوڑے ہاتھ میں تھام کر ہلکے ہلک بھینچنے لگا......
رات بھر لوڑے کو رکھا یاد نے تیری کھڑا

ہائے یہ طرز ستم اک ناز کے پالے کے ساتھ

Offline Ali istemal

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 52
  • Reputation: +0/-0
  • Gender: Male
    • View Profile
Re: ملک آباد کا عالی
« Reply #3 on: April 18, 2020, 10:50:04 pm »

اوئے آرام نال بھین یکا.. کی اگ لگی ہوئی ہے تواں (اوئے آرام سے بہن چود... کیا آگ لگی ہوئی ہے تجھے) ملک صاحب کی بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں میں غصہ اور جھنجھلاہٹ دیکھ کر عالی گھبرا سا گیا....


مگر اچھی بات یہ ہوئی کہ ملک  ایک لحظہ اسے گھورنے کے بعد دوبارہ صغراں کی جانب متوجہ ہو گیا تھا.... جو خوف کی وجہ سے ابھی بھی گھگیا رہی تھی اور ملک ایک ہاتھ سے اس کی نرم و نازک بنڈ کو بھینچ رہا تھا اور دوسر ہاتھ سے اس کی چمکدار سنہری کمر کو سہلا رہا تھا.....


نہ ڈر مینڈی دھی ای تے اپنڑا عالی اے چل سدھی تھی ونج ماں گل کرن دے(ڈر نہیں میری بیٹی یہ تو اپنا عالی ہے سیدھی ہو جا اور مجھے بات کرنے دے) ملک صاحب نے یہ  کہتے ہوئے اس کو ہلکا سا زور دے کر مسہری پر سیدھا لیٹا دیا.... وہ ابھی تک رو رہی تھی.... وہ سیدھی ہوئی تو گویا ایک اور ویسی ہی سنسنی کی لہر عالی کے جسم میں دوڑ گئی.. عالی کو سیدھی پڑی صغراں کوئی جنت کی حور معلوم ہو رہی تھی.... سنہرا نرم و نازک چھوٹا سا بدن.... تھوک سے چمکتی ہوئی چھوٹی چھوٹی گھنڈی نما چھاتیاں.،،سختی کے ساتھ تنے ہوئے مٹیالے رنگ کے نپلز.... لمبی لمبی اور پتلی ہرن نما ٹانگوں کے درمیان... لال سوجی ہوئی چھوٹی سی چوت جس پر لگا خون گواہی دے رہا تھا کہ بشیرے کی ادھ کھلی کلی وقت سے پہلے ہی پھول بن گئی ہے... وہ چھاتیاں جو قمیص سے نیزے کی نوک کی مانند باہر کی جانب تنی ہوتی تھیں.. اور ہر آنے جانے والی نظر سے خراج عقیدت مانگتی تھیں ....آج  ننگی دیکھ کر عالی کا نیا جوان ہوتا لن فورا تن گیا....


ادھر ملک بہت پیار سے صغراں کی غزالی آنکھوں کو چومتے ہوئے اس کی چھاتی کے نپلز کو اپنی انگلی اور انگوٹھے کے درمیان مثل رہا تھا... شاید وہ اسے نارمل کرنے کو کوشش کر رہا تھا عالی نے غورسے دیکھا تو اسے صغراں کے مخملیں ہونٹ بھی کچھ پھولے ہوئے لگے گویا... ملک صاحب کافی دیر انہیں اپنے منہ میں رکھ کر چوستے رہے ہوں..... ملک صاحب چونکہ صغراں کے اوپر جھکے ہوئے تھے تو ان کا سفیدی مائل بڑا سا لنڈ نیم مرجھائی حالت میں صغراں کی چمکدار ٹانگوں پر رگڑ کھا رہا تھا....


صغراں سے فراغت ملی تو عالی کی نظر کریم بی بی پر پڑی... جو مسہری کے ساتھ ہی لگ کر نیچے اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھی ہوئی تھی شاید عالی کی اس منظر نامے میں مداخلت سے پہلے وہ نیچے بیٹھی اپنی ننگی  بیٹی کے سر کو  پیار سے سہلا  کر اس کی ہمت بڑھا رہی ہو گی  اور مسہری کے اوپر ملک صاحب کسی مضبوط باز کی طرح نوخیز چڑیا نما صغراں کو عورت ہونے کا احساس دلوا رہے ہوں گے... کریم کا اوپری  دھڑ عریاں تھا.... عالی کے آنے پر اس نے جو چھوٹا سا کپڑا اپنی بڑی بڑی چھاتیوں کو چھپانے کے لئے اپنے اوپر اوڑھا تھا وہ اس کام کے لئے ناکافی تھا..... پیٹ مغمولی سا باہر کی جانب نکلا ہوا تھا اور نیچے ایک چھوٹا سا جانگیہ تھا جو محض اس کی پھدی کو چھپا رہا تھا ننگی ٹانگیں کیلے کے تنے کی طرح مضبوط اور ٹھوس معلوم ہوتی تھیں... موٹی موٹی قدرے ڈھلکی ہوئی چھاتیوں کے موٹے  موٹے نپلز ظاہر کر رہے تھے کے ان کو بہت استعمال کیا گیا ہے... جو کپڑا کریم بی بی نے چھاتیوں کو ڈھکنے کے لئے پکڑا تھا اس پر لگا خون بتا رہا تھا کہ یہ اس کی کمسن بیٹی کی جوان پھدی سے نکلنے والے خون کو صاف کرنے کے کام بھی آیا ہے....کریم کا ایک ہاتھ اب بھی بیٹی کے سر میں گردش کر رہا تھا..... نظریں عالی کی جانب تھیں جن میں شرمندگی اور تاسف کا تاثر واضح تھا.... شاید وہ اپنی بیٹی سے بھی کچھ چھوٹی عمر کے لڑکے کہ جس کو اس نے ہمیشہ بیٹا سمجھا کے سامنے یوں عریاں اور عیاں ہونے پر شرمندہ تھی....


اسںاں ویکھ کریم (اسے دیکھو کریم بی بی) ملک کی آواز نے کریم بی بی کا سکتہ توڑا..... اور وہ جلدی سے اپنی بیٹی کی جانب متوجہ ہو گئی جس کا رونا اب قدرے کم پڑ گیا تھا اور وہ بھی پھٹی پھٹی آنکھوں سے عالی کو ہی دیکھ رہی تھی... ملک صاحب یوں ہی ننگی حالت میں مسہری پر سے کھسک کر پائنتی کا جانب بیٹھ گئے... اور کریم بی بی اپنی جگہ سے اٹھ کر اوپر مسہری پر ملک کہ جگہ آ گئی اور اپنی ننگی بیٹی کو اپنی ننگی چھاتی سے چپکا کر اس کے سر میں پھر سے ہاتھ پھیرنے لگی...


او چادر ماں نپا عالی (وہ چادر مجھے پکڑاؤ عالی) اوراں آآ (ادھر آؤ) ملک صاحب نے کمرے کے ایک کونے میں کھونٹی سے لٹکی چادر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے عالی کو حکم دیا اور عالی کی نظریں جو کہ اب بھی ماں بیٹی کے ننگے جسموں میں الجھ الجھ جاتی تھیں وہاں سے ہٹیں اور ملک صاحب کی نظروں کا پیچھا کرتے ہوئے کھونٹی تک جا پہنچی... اس نے جلدی سے چادر اتار کر ننگے بیٹھے ملک صاحب کو دی... ملک کا انداز بالکل نارمل تھا جیسے وہ مکمل لباس کے ساتھ اپنے دارے میں بیٹھا ہو.... ملک صاحب نے عالی کے ہاتھ سے چادر لیکر اپنے اوپر ایسے اوڑھی جیسے عموماً کپڑوں کے اوپر اوڑھی جاتی ہے....

رات بھر لوڑے کو رکھا یاد نے تیری کھڑا

ہائے یہ طرز ستم اک ناز کے پالے کے ساتھ

Offline sumeer63

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 9
  • Reputation: +0/-0
    • View Profile
Re: ملک آباد کا عالی
« Reply #4 on: April 19, 2020, 03:29:22 am »
Very very nice and very very much good

Offline boxer bhai

  • Newbie
  • Posts: 8
  • Reputation: +0/-0
    • View Profile
Re: ملک آباد کا عالی
« Reply #5 on: April 19, 2020, 12:59:26 pm »

بہت اعلی منظر کشی کی ہے ۔۔ مزہ آگیا

Offline shamshadalam

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 2656
  • Reputation: +11/-3
    • View Profile
Re: ملک آباد کا عالی
« Reply #6 on: April 19, 2020, 01:30:04 pm »
good start

Offline Ali istemal

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 52
  • Reputation: +0/-0
  • Gender: Male
    • View Profile
Re: ملک آباد کا عالی
« Reply #7 on: April 19, 2020, 02:30:01 pm »
Very very nice and very very much good


شکریہ
رات بھر لوڑے کو رکھا یاد نے تیری کھڑا

ہائے یہ طرز ستم اک ناز کے پالے کے ساتھ

 

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.