Author Topic: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ  (Read 275183 times)

Offline Sexystranger

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 121
  • Reputation: +3/-0
    • View Profile
سب سے پہلے میں تمام لکھاریوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔۔ جو ہماری انجوائےمینٹ کے لیے اپنا وقت لگاتے ہیں اور لکھتے ہیں۔۔ اس چیز کا اندازہ مجھے یہ کہانی لکھتے ہوا۔۔ جن سطور کو پڑھتے ہم پانچ منٹ لگاتے ہیں۔۔ ان کو لکھنے میں کتنی محنت اور توانائی لگتی ہے۔۔ یہ ایک لکھاری ہی سمجھ سکتاہے۔۔۔ اس کہانی کو لکھنے سے پہلے میں نے کبھی اردو فونٹ میں ایک پوری لائین بھی نہیں لکھی تھی۔۔ اور مجھے امید بھی نہیں تھی کہ میں اتنا لکھ سکوں گا۔۔ لیکن جب لکھنا شروع ہوا تو لکھتا ہی چلا گیا۔۔ اور سوچ لیا کہ اس کو مکمل کر کے ہی اپ لوڈ کرونگا۔۔ تاکہ پڑھنے والے اپڈیٹ کے لیے بےچین ہی نہ ہوں۔۔ یہ الگ بات ہے کہ پتہ نہیں یہ کہانی اپڈیٹ کئے جانے کے قابل ہے بھی یا نہیں۔۔ اب جو بھی ہے اور جیسی ہے۔۔ آپکی خدمت میں حاضر ہے۔۔ یہ کہانی کچھ حقیقی ہے اور کچھ میرے تصورات ہیں۔۔ جو اب تک حقیقت میں تبدیل نہیں ہو سکے۔۔ لیکن کوشیش جاری ہے۔۔ کبھی نہ کبھی پورے ہو ہی جائیں گے۔۔۔
ميری پہلی کوشيش ہے تو املا کی درستگي کے بجاے کہانی کو انجواے کريں۔۔
کہانی شروع کرنے سے پہلے اپنا تعارف کروا دوں۔۔ نام ہے شيراز, عمر ہے 28 سال۔۔ جسماني طور پر مضبوط اور مناسب وزن کے ساتھ دراز قد بھی ہوں اور رنگت صاف ہے۔۔  سيکس کا تعارف ميرے ساتھ بھی اسی طرح ھوا جيسے عموما ہم سب کا ھوتا ہے... جي ھاں کسی دوست کي وجہ سے.. اب عمر کے اس حصے ميں بس سوچ سوراخ سے شروع ہوتي ہے اور سوراخ پر ہی ختم ہوتي ہے کہ بس کوئی نرم گرم سا سوراخ ھو اور ميرا ہتھيار ہو۔۔۔خیر بات ہو رہی تھی دوست کی۔۔ تو اس وقت میں کوئی ۸ ویں کلاس میں ہوں گا۔۔ جب میں نے محسوس کیا کہ میرے کچھ دوست بریک کے وقت اپنا الگ گروپ بنا کر کھڑے ہوتے ہیں۔۔۔ اور راز و نیاز کی باتیں چل رہی ہوتی ہیں۔۔۔ اور جب میں پاس جاتا ہوں تو سب خاموش ہو جآتے ہیں۔۔۔ پہلے تو میں اپنا وہم سمجھا۔۔۔ لیکن کچھ ہی دنوں میں یہ وہم یقین میں بدل گیا۔۔۔ شاید میں اس بات کو اتنی اہمیت نہ دیتا ۔۔۔ اگر اس گروپ میں میرا بہت قریبی دوست سلیم بھی شامل نہ ہوتا ۔۔۔۔ سلیم میرا ہمسایہ بھی تھا اور کلاس فیلو بھی تھا۔۔ ہم سکول بھی اکٹھے آتے جآتے تھے۔۔۔ اور سکول کے بعد بھی زیادہ تر ایک دوسرے کے گھر پائے جآتے تھے۔۔۔ کہنے کو وہ مجھ سے بس ۱ سال بڑا تھا ۔۔۔۔ لیکن میرے پر رعب ایسے ڈالتا تھا جیسے ۱۰ سال کا فرق ھو۔۔۔ مجھے اس بہن چود پر زیادہ غصہ تھا ۔۔۔۔۔ کہ سارہ دن مجھے بہن پیش کرتا ہے ۔۔۔ اور سکول جا کر دوسروں کی گانڈ میں گھس جاتا ہے۔۔ اور جب میں سب پر غصہ کرتا ہوں۔۔۔ کہ مجھ سے چھپ کر باتیں کیوں کرتے ہو۔۔۔ تو سب کو منع بھئ یہی بہن چود کرتا ہے ۔۔۔ کہ شیراز ابھی چھوٹا ہے اسکو کچھ نہیں بتانا۔۔۔ جب یہ سب میری برداشت سے باہر ہو گیا۔۔۔ تو ایک دن سکول سے واپسی پر میں سلیم سے لڑ پڑا۔۔۔ کہ یہ کیا بہن یکی لگائی ہوئی ہے ۔۔۔ یا تو آج مجھے بات بتا ۔۔۔۔ یا آج سے تیری میری دوستی ختم ۔۔۔ اس نے مجھے پھر سمجھانے کی کوشیش کی کہ تھوڑے بڑے ہو جاو پھر بتا دوں گا۔۔۔ میں نے کہا جا دفع ہو اور آج کے بعد اپنی شکل نہ دیکھانا۔۔۔ سلیم نے جب دیکھہ میں زیادہ تپ گیا ہوں۔۔ تو بولا۔۔۔ اچھا یار غصہ نہ کر شام کو گھر پر بات کرئیں گے۔۔۔ میں نے کہا وعدہ ۔۔۔ وہ بولا پکا وعدہ ۔۔۔۔ اور ہم گھر کی طرف چل پڑے ۔۔۔ شام کو میں وقت سے پہلے اس کے گھر پہنچ گیا ۔۔۔ وہ لاونج میں بیٹھا ٹی وی دیکھ رھا تھا ۔۔۔ اور اس کی امی لاونج کے ساتھ کچن میں تھیں۔۔۔ میں نے آنٹی کو سلام کیا اور سلیم کے پاس جاتے ہی کہا۔۔۔ چل شروع ہوجا اور بتا کیا چکر ہے؟ اس نے مجھے گھوری ڈالی ۔۔۔ اور بولا۔۔۔ چل چھت پر چلتے ہیں ۔۔۔ تو کیا ادھر ماما کے سامنے ہی شروع ہو گیا ہے۔۔۔ میں نے کہا ۔۔۔ اچھا یار سوری ۔۔ چل چھت پر چلتے ہیں۔۔ اور ہم اوپر آ گئے۔۔۔ سلیم بولا ۔۔۔ اسی لیے میں تجھے نہیں بتانا چاہ رہا تھا ۔۔۔ کہ تجھے عقل ہے کوئی نہیں کہ کونسی بات کدھر کرنی ہے۔۔۔ میں نے کہا ۔۔۔ اچھا یار سوری کیا تو ہے ۔۔۔ چل اب بتا بھی دے ایسی کونسی بات ہے جو کسی کے بھی سامنے نہیں ہو سکتی۔۔۔ ؟؟ سلیم بولا ۔۔۔ پہلے وعدہ کر کیسی سے بھی یہ باتیں نہیں کرے گا۔۔۔ میں نے کہا پکا وعدہ ۔۔۔ سلیم سرگوشی میں بولا۔۔۔ تجھے پتہ ہے کہ بچہ کیسے ہوتا ہے؟ میں بولا نہیں مجھے نہیں پتا۔۔۔ وہ اپنی لولی کی جگہہ ہاتھ رکھ کربہت سنجیدہ شکل بنا کر بولا۔۔  یہ جدھر ہماری نونو ہوتی ہے ۔۔۔ اس جگہہ پر لڑکیوں کا سوراخ ہوتا ہے ۔۔۔ اور شادی کے بعد جب لڑکا اپنی نونو لڑکی کے سوراخ میں ڈالتا ہے تو بچہ ہوتا ہے۔۔۔ میں بولا۔۔۔ چل جھوٹا۔۔۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ ہمارے ماما بابا اتنا گندہ کام کسے کر سکتے ہیں؟ سلیم بولا الو ایسا ہی ہوتا ہے۔۔ اور ایسا سب کرتے ہیں۔۔۔ میں نے کہا تم کو کس نے بتایا؟   ظفر نے۔۔۔ سلیم نے بڑی کلاس کے ایک لڑکے کا نام لیا۔۔۔ جس سے سلیم کی دوستی تھی ۔۔۔ پھر سلیم بولا۔۔۔ اصل بات تو سن لے۔۔۔ میں نے کہا وہ کیا؟  سلیم بولا۔۔۔ ظفر کہتا ہے کہ لڑکی کے سوراخ میں ڈالنے کے لیے نونو کو بڑا اور پکا کرنا پڑتا ہے۔۔۔ اسکے لیے روزانہ نونو کی تیل سے مالیش کرنی ہوتی ہے ۔۔۔ تم اب بڑے ہو رہے ہو۔۔۔ ابھی سے مالش نہ شروع کی تو تمہاری نونو کچی رہ جاے گی۔۔۔ اور بچہ نہیں ہوگا ۔۔۔ میں نے سلیم سے حیران ہو کر پوچھا ۔۔۔۔ تو تم نے مالش شروع کر دی ہے؟ وہ بولا ہاں تو اور کیا ۔۔۔۔ میرا تو اب پکا بھی ہونا شروع ہو گیا ہے۔۔۔ میں ناراضگی سے بولا۔۔۔ اور مجھے بتایا بھی نہیں۔۔۔ سلیم بولا۔۔۔ اب بتا تو رہا ہوں ۔۔۔۔ تم بھی شروع کر دو۔۔۔ میں بولا۔۔۔۔ مجھے تو مالیش کرنی بی نہیں آتی ۔۔۔ سلیم بولا ۔۔۔ ٹھرو میں کر کے دیکھاتا ہوں ۔۔۔ تم ادھر رکو میں تیل لیےکرآیا۔۔۔ اور بھاگتا ہوا نیچے چلا گیا ۔۔۔ تھوڑی دیر بعد واپس آیا ۔۔۔۔ اور پینٹ کی جیب سے تیل کی بوتل نکالی ۔۔۔ سلیم کا گھر ڈبل سٹوری تھا ۔۔۔ اور ارد گرد والے قریبی گھر سنگل سٹوری ۔۔۔ اس لیے سلیم کی چھت پر کسی کی نظر نہیں پڑ سکتی تھی ۔۔۔ بوتل نکال کر ۔۔۔ سلیم نے اپنی پینٹ اتاری ۔۔۔ اسے ننگا دیکھ کر مجھے بڑی شرم آئی ۔۔۔ لیکن مالیش سیکھنا بھی ضروری تھا ۔۔۔ تو میں اسکو دیکھنے لگ گیا۔۔۔ سلیم کی نونو لٹک رہی تھی ۔۔۔ اس نے نونو پر تیل ڈالا ۔۔۔ اور مسلنہ شروع کیا۔۔  اسکی نونو کھڑی ہو گئ ۔۔۔ سلیم نے فخر سے میری طرف دیکھا اور بولا ۔۔۔ جب ایسے کھٹرا ہو جائے ۔۔۔ توہاتھ  پر تیل لگا کر ۔۔۔ اس کا سوراخ بنا کر۔۔۔ اس میں نونو ایسے آگے پیچھے کرتے ہیں ۔۔۔ یہ کہہ کر وہ اپنا ہاتھ اپنی نونو پر چلانے لگا ۔۔۔ اس کو ایسا کرتے دیکھ کر ۔۔۔۔ میرا دل بھی مچلنا شروع ہو گیا ۔۔۔ اور میری نونو اکڑنے لگ گئی ۔۔۔ یہ محسوس کرکے میں سلیم کو بڑے جوش سے بولا۔۔۔ اوے ۔۔۔ میرا کھڑا ہو بھی گیا ہے۔۔۔ سلیم بولا ۔۔۔ جلدی سے تیل ڈال اور مالش شروع کر دے ۔۔۔ میں نے بھی اپنی پینٹ اتاردی ۔۔۔ اور اپنی نونو دیکھی جو سخت ہوی تھی ۔۔۔ میں نے سلیم کی طرح اس پرتیل ڈالا ۔۔۔ اور ہاتھ چلانا شروع کیا ۔۔۔ یہ تھی میری زندگی کی پہلی مٹھ۔ ۔۔ جو میں مزہ لینے کی بجائے نونو کو بڑا اور پکا کرنے کے لیے لگا رہا تھا ۔۔۔ مجھے تب پتہ بھی نہیں تھا کہ اب یہ کبھی ناں رکنے والا سلسلہ شروع ھو گیا ہے۔۔۔ خیر اب میں دوبارہ اس گروپ کا حصہ بن گیا ۔۔ جس میں روزانہ نونو کو پکا اور بڑا کرنے پر باتیں ہوتی تھیں ۔۔۔ اور سب اپنے تجربے بتاتے تھے۔۔۔ وقت گزرا ۔۔۔۔ میں اور سلیم اپنی اپنی نونو پکی کرتے رہے۔۔۔ اس دوران پہلی دفع جب سلیم کی سفید گاڑھی منی نکلی ۔۔۔۔ تو اسے پہلی دفع مٹھ مارنے کا مزا آیا ۔۔۔ اسے ظفر نے پہلے ہی منی کا بتایا ھوا تھا ۔۔۔ کہ جب سفید مادہ نکلنا شروع ھو جائے ۔۔۔ سمجھ تیری نونو پکی ھو کر لن بن گئ ہے۔۔۔۔ اس لیے منی نکلتی دیکھ کر سلیم بڑا خوش ہوا۔۔۔ اگلی صبح جلدی میرے گھر آیا ۔۔۔ بڑے جوش سے مجھے خبر دی ۔۔۔ کہ اسکی نونو اب سے لن ہے۔۔۔۔۔ سکول میں بریک ٹائم اس خوشی میں سلیم نے سارے گروپ کو بوتلیں پلائیں۔۔۔ آخر اس گروپ میں سب سے پہلے اسکی نونو پکی ھو کر لن بنی تھی۔۔۔ مجھ سمیت باقی سب ابھی کچی نونو والے تھے۔۔۔ شام کو سلیم کی چھت پر جا کر میں اسکے پیچھے پڑ گیا۔۔۔۔  مجھے منی دیکھنی ہے۔۔۔ آپس میں ہمارے شرم تو ہے کوئی نہیں تھی۔۔۔ وہ فورا تیل لایا۔۔۔ پینٹ اور انڈر ویر اتارا۔۔۔ لن کو پکڑا۔۔۔ تیل ڈالا۔۔۔ اور شروع ھو گیا۔۔۔  اسکے اور میرے لن کا سائز برابر ہی تھا۔۔ بلکہ میرا موٹا تھوڑا زیادہ ہی تھا۔۔۔  سلیم شروع تھا۔۔۔ آخر کار تھوڑی دیر بعد۔۔۔ وہ چھوٹنے کے قریب ہوا تو۔۔۔ منہ سے اسکے عجیب آوازیں نکلنا شروع ہوی۔۔۔ رنگ اسکا لال ہو گیا۔۔۔۔ میں اسکی حالت دیکھ کر ڈر گیا۔۔۔ ادھر وہ چھوٹنا شروع ہوگیا۔۔۔ اور اس کی منی کے فوارے نکلنے لگے ۔۔۔ اور اس حرامی نے اپنے لن کا رخ میری طرف کر دیا۔۔۔ جس کی وجہ سے اس کی منی کے کچھ قطرے میرے ہاتھ پر گرے۔۔۔ اور میں نے اس کی ماں بہن ایک کرنی شروع کر دی ۔۔۔۔ جبکہ وہ بہن چود میری حالت دیکھ کر قہقہے لگاتا رہا۔۔۔ میں غصے سے بولا۔۔۔ یہ کیا بہن یکی کی ہے۔۔۔۔ سلیم ہنستے ہوئے بولا۔۔۔ بیٹا بڑا شوق تھا تجھے منی نکلتی دیکھنے کا ۔۔۔ لے اب غور سے جی بھر کر دیکھ لے۔۔۔۔ میں نے جلدی سے چھت پر لگی ٹوٹی کی طرف دوڑ لگائی اور رگڑ رگڑ کر اپنے ہاتھ دھوئے۔۔۔۔ اور سلیم کی طرف دیکھا ۔۔۔ وہ اپنی پینٹ کی جیب میں سے ٹشو پیپر نکال کر اپنا لن صاف کر رہا تھا۔۔۔۔ میں نے کہا بہن چود تو پورا انتظام کرکے آیا ہے۔۔۔ وہ ہنس کر بولا۔۔۔ لن رکھنا ہے تو انتظام بھی سارے ہونے چاہے۔۔۔ میں نے سلیم سے پوچھا۔۔۔ اچھا منی نکالتے کیا بہت درد ہوتا ہے ۔۔؟ اس نے کہا۔۔۔ نہیں بلکل بھی نہیں ہوتا۔۔۔ کیوں ۔۔۔؟ میں نے کہا۔۔ پھر تم وہ عجیب عجیب آوازیں کیوں نکال رہے تھے؟ اورتمہارا رنگ بھی اتنا لال کیوں ھو رھا تھا۔۔؟  سلیم بولا۔۔۔  بہن چود ۔۔۔ وہ آوازیں تو مزے کی وجہ سے نکل رہیں تھیں۔۔۔ اف تجھے کیا بتاوں۔۔۔ جب تیرا وقت آئییگا۔۔۔ تب تجھے پتہ لگےگا۔۔۔۔ اس کے ۳،۴ مہنے بعد ۔۔۔۔ دن رات کی مالش سے۔۔۔ آخر وہ دن آ ھی گیا۔۔۔۔ میں واش روم میں شاور کے نیچے کھڑا نیم گرم پانی سے نہا رہا تھا۔۔۔۔ پانی لن پر گرنے سے آج عجیب مزہ آ رہا تھا ۔۔۔ ایسا مزہ پہلے کبھی نہ آیا تھا۔۔۔۔ میں نے شاور فل کر دیا اور مکسر سے گرم پانی زیادہ کرنا شروع کیا۔۔۔ ادھر تک کہ قابل برداشت رہے۔۔۔ میرا لن فل ٹائٹ ہوا کھڑا تھا۔۔۔ اس پر شاور سے تیز اور گرم پانی گر رہا تھا۔۔۔ میں نے لن کو پکڑ کر ہلانا شروع کیا۔۔۔ اور ایک نئی دنیا میں پہنچ گیا۔۔۔۔ میں جتنا ہلاتا ۔۔۔ اتنا مزاہ آتا۔۔۔  آہستہ آہستہ میں اپنی سپیڈ بڑھاتا ہی چلا گیا۔۔۔ یہاں تک کے مجھے لگنے لگا ۔۔۔۔ کہ میری ساری جان میرے لن میں آ گئی ہے۔۔۔ میری آنکھیں خود با خود مزے سے بند ہو گئیں۔۔۔ اور میرے لن نے پہلی منی کے فوارے نکل دئے۔۔۔۔۔ اس کے بعد مجھے ایسا سکون ملا۔۔۔ کہ اس کے بعد کی ساری مٹھیں۔۔۔ وہ سکون ڈھونڈتے مارئیں لیکن وہ سرور نہیں ملا ۔۔۔ خیراب میں بھی پکے لن کا مالک بن چکا تھا۔۔۔۔ وقت گزرا میٹرک میں پہنچ کر مجھے اپنا الگ کمرہ مل چکا تھا۔۔۔ اور پڑھائی کے بہانے کمپیوٹر بھی کمرے میں آ چکا تھا۔۔۔ اب سلیم اور میں مٹھیں مارنے کے علاوہ کمپیوٹرپر گیمزبھی کھلتے تھے۔۔۔۔ ان دنوں سلیم کا ایک نیا دوست بنا۔۔۔ جس نے سلیم کو ٹریپل ایکس مویز کا بتایا۔۔۔ اور سلیم نے مجھے۔۔۔۔۔ اس کے بعد ہمارہ مشن شروع ھوا۔۔۔ ٹریپل ایکس مویزکی تلاش کا۔۔۔ اس میں بھی کامیابی سلیم گانڈو کو ملی۔۔۔ ایک دوپہر وہ دوڑتا ہوا ۔۔۔ میرے کمرے کے دروزے کو روندتا ہوا کمرے میں آیا ۔۔۔ میں نے پوچھا ۔۔۔ اوئے کیا ہو گیا ہے؟؟  گانڈو اتنا بھاگ کس سے رہا ہے؟ سلیم نے ڈرامائی انداز میں جیب سے ایک سی ڈی نکالی ۔۔۔ اور۔۔۔ میری طرف اچھالی۔۔۔  جومیں نے کیچ کی اور کہا۔۔ بہن چود پھر کوئی نیو گیم لے آیا ہے۔۔؟ سلیم نے کمرے کا دروازہ بند کرتے کہا۔۔۔ یہ وہ گیم ہے جو ہماری زندگی بدل دیےگی۔۔۔ میں بولا ۔۔۔ ڈرامے نہ کر اور بتا یہ کیا ہے۔۔؟ سلیم بولا۔۔۔ باتیں کم اور کام زیادہ ۔۔۔ چپ کر کے سی ڈی لگا۔۔۔۔ میں نے سی ڈی کمپیوٹر میں ڈالی۔۔۔ اور چلا دی۔۔۔ آگے کوئی فلم چلنا شروع ہوئی۔۔۔ میں بولا اوئے گانڈو۔۔۔ یہ کونسی فلم ہے؟ سلیم بولا۔۔۔ وہی جس کے لیے تو اپنی بنڈ بھی دینے کو تیار تھا۔۔۔۔ بلیو فلم۔۔۔۔ میں نے خوشی سے اچھل کر پوچھا ۔۔۔ واقعی ۔۔؟؟؟ سلیم اکڑ کے بولا۔۔۔ بہن کو لن اس چیز کے۔۔۔ جس کے پیچھے سلیم ہو۔۔۔ اور وہ نہ ملے۔۔۔۔ میں نے سکرین کی طرف دیکھتے ہوئے۔۔۔  جس پر ابھی کسی نارمل فلم جیسا سین چل رھا تھا۔۔۔ کہا۔۔ یہ تو کوئی سادہ فلم لگ رہی ہے۔۔۔۔ اس کی سکرین بلیو تو نہیں ہے۔۔۔ ( اسوقت تک ہمارے خیال میں یہی تھا۔۔۔ کہ بلیو فلم میں سارہ کچھ ہلکی نیلی لائٹ میں ہوتا ھوگا۔۔۔ بمشکل کچھ نظر آتا ھو گا۔۔۔) سلیم بولا۔۔۔ گانڈو صبر کر لیے۔۔۔ جب وہ والا سین شروع ھوگا سکرین بلیو ہو جائے گی۔۔۔۔ اسی وقت سکرین پر موجود گورے نے گوری کو پکڑا۔۔۔ اور۔۔۔ کسنگ شروع کی۔۔۔۔ ہم دونوں کی بولتی بند ہو گی۔۔۔۔ کسنگ کرتے گوری نے گورے کی جینز اتاری۔۔۔ اور۔۔۔ اس کا لن اپنے مونہہ میں لے کر چوسنے لگی۔۔۔۔ اس فلم نے تو واقعی میری زندگی بدل کر رکھ دی تھی ۔۔۔۔  ایک تواس سے پہلے مجھے نہیں پتہ تھا۔۔۔ کہ ایسے چوپا بھی لگواتے ہیں۔۔۔ اوپر سے دھندلی نیلی روشنی کے بجائے۔۔۔ بلکل صاف ۔۔۔ اور۔۔۔ روشن سکرین۔۔۔۔ اوپر سے کمرے میں چھپ کر۔۔۔ کنڈی لگا کر۔۔۔ بیڈ پر لیٹ کر۔۔۔۔ کام ڈالنے کے بجائے۔۔۔ دن کی روشنی میں۔۔۔ کسی سڑک کےکنارے۔۔۔ گاڑی کے ساتھ کھڑے ہو کر۔۔۔۔ چوپا لگواتا یہ گورہ۔۔۔۔۔۔ میری اور سلیم کی بولتی بلکل بند تھی۔۔۔۔ اٌدھر۔۔۔ گورہ، گوری کے کپڑے اتر چکے تھے۔۔۔۔ گورے نے جب گوری کی پھدی چاٹنا شروع کی۔۔۔ میرے منہ سے نکلا۔۔۔ اخ گندہ۔۔۔۔  کدھر منہہ ڈال رہا ہے۔۔۔۔ اس وقت سوچا بھی نہ تھا۔۔۔۔ کہ آگے چل کر خود میں نے کتنی پھدیاں چاٹنی ہیں۔۔۔۔ اٌدھر گورے نے گوری کی ٹانگیں اٹھائیں۔۔۔ اور۔۔۔ اپنا لوڑہ اسکی چوت میں ڈالا۔۔۔  إدھر۔۔۔ ہم دونوں کے لوڑے نکل آئے۔۔۔ گورہ جتنی سپیڈ سے گوری چود رہا تھا۔۔۔ اتنی ہی سپیڈ سے  ہمارے لوڑے۔۔۔ ہمارے ہاتھوں کو چود رہے تھے۔۔۔ لیکن ہمارے خیالوں میں بس گوری کی چوت تھی۔۔۔۔ یہ فلم دیکھنے سے ۲ چیزوں کا پتہ لگا۔۔۔۔ پہلی یہ کہ۔۔۔  سیکس کے لیے لڑکی کا بس ایک سوراخ نہیں ھوتا۔۔۔۔ پھدی کے ساتھ ساتھ گانڈ بھی ماری جاتی ہے۔۔۔ اور۔۔ چوپے بھی لگوائے جا سکتے ہیں۔۔۔۔ دوسری یہ کہ۔۔۔ صنف نازک کو دیکھنے والی میری نظر ہی بدل گی۔۔۔۔ پہلے لڑکی۔۔۔ چاچا زاد ۔۔۔ تایا زاد ۔۔۔ یا خالہ زاد ۔۔۔  ہہن تھی۔۔۔ اورعورت۔۔۔ آنٹی۔۔۔ خالہ۔۔۔ یا۔۔۔ پھوپھو تھی۔۔۔ جبکہ اب سے میری نظر میں۔۔۔ وہ بس مموں۔۔۔  گانڈ ۔۔۔ اور پھدی ۔۔۔ کا مجموع تھی۔۔۔ اور آج سے زندگی کا مقصد تھا۔۔۔ تو بس۔۔۔ پھدی کی تلاش۔۔۔ اب خیالی چوت نہیں اصلی چاہیے تھی۔۔۔۔ میں نے سلیم کو کہا۔۔۔ بہن چود بہت ہو گئیں مٹھیں ۔۔۔ اب یا تو پھدی ڈھونڈ کر دے۔۔۔ یا پھر اپنی بنڈ دے۔۔۔۔ سلیم بولا۔۔۔ گانڈو حالت میری بھی ایسی ہی ہے۔۔۔ صبر کرلے ۔۔۔۔ کرتے ہیں کچھ ۔۔۔۔ لیکن کچھ کام اتنے آسان بھی نہیں ہوتے ۔۔۔ اور ۔۔۔ اپنے وقت پر ہونے ہوتے ہیں۔۔۔ اور۔۔۔ وقت کی اچھی بات یہ ہے کہ۔۔۔  وقت ۔۔۔۔ گزر جاتا ہے۔۔۔ ہمارا بھی گزر گیا۔۔۔۔ امی کو اپنی چکوال والی بہن کی یاد آئی۔۔۔ اور۔۔۔ میرا آیا اچھا وقت۔۔۔  پہلے کبھی امی چکوال جانے کا کہتی۔۔۔۔  تو میرا موڈ خراب ہو جاتا۔۔۔ کیونکہ چکوال والی خالہ سے امی کی دوستی اتنی تھی۔۔۔ کہ امی جاتیں تھیں۔۔۔ تو جلدی واپسی نہیں ہوتی تھی۔۔۔۔ کم از کم ہفتہ پار ہو جاتا تھا۔۔۔ اور۔۔۔ میرا ادھر دل نہیں لگتا تھا۔۔۔۔ کہ ان کا کوئی بیٹا نھیں تھا۔۔۔ اور۔۔۔ خالومسقط ہوتے تھے۔۔۔ تو مجھے کمپنی دینے۔۔۔ یا ۔۔۔۔ باھر گھمانے والا کوئی نہیں ہوتا تھا ۔۔۔ لیکن اس دفع ۔۔۔  امی سے بھی زیادہ ۔۔۔ چکوال جانے کے لیے میں پرجوش تھا۔۔۔۔ اس کی وجہ یہ تھی۔۔۔ کہ ان کا بیٹا نہیں تھا۔۔۔۔ تو کیا ہوا ۔۔۔ بیٹیاں تو تھی ناں۔۔۔ اور۔۔ وہ بھی ۲ عدد ۔۔۔ جن میں سے بڑی کی شادی ہوئی۔۔۔ اور شادی کے ایک سال بعد ہی ۔۔۔ اس کے شوہر کی کار ایکسیڈنٹ میں ڈیتھ ہو گئی۔۔۔ اور وہ واپس خالہ کی طرف آ گئی۔۔۔ تو خیر۔۔۔ امی کو بہت حیرانگی تھی۔۔۔ کہ میں اتنے آرام سے چکوال جانے کے لیے کیسے مان گیا ہوں۔۔۔  اب ان کو کیا پتہ ۔۔۔ کہ میں چکوال جانے کے لیے پرجوش کیوں نہ ہوتا۔۔۔ آخر ۲پھدیوں کی قربت ملنے والی  تھی۔۔۔۔  جانے کا فائنل ہوا ۔۔۔ تو سب سے پہلے۔۔۔ میں نے۔۔۔ سلیم کو بتا کر۔۔۔ اس کی چووں میں آگ لگائی۔۔۔۔ اگلے دن شام تک ہم خالہ کے گھر پہنچ گئے ۔۔۔ ان کی بیٹیوں سے ملاقات میری پہلے بھی تھی۔۔۔ لیکن پہلے میں نے ان کو اس نظر سے نہیں دیکھا تھا۔۔۔ آج دیکھا۔۔۔ تو پتہ لگا۔۔۔ کہ یہ تودونوں کمال کی ہیں۔۔۔  لیکن جو قیامت۔۔۔۔  بڑی سعدیہ تھی ویسی۔۔۔ نادیہ ناں تھی۔۔۔ میرے سے۴سال بڑی تھی۔۔۔ اس وجہ سے۔۔۔ میں ان کو سعدیہ باجی کہتا تھا۔۔۔باجی سعدیہ کافی شوخ مزاج تھی۔۔۔ اور۔۔۔ تھی بڑی سیکسی سی۔۔۔ چھتیس سائز کے ممے تھے۔۔۔ جو قمیض میں بھی باہر کو نکلے نظر آتے تھے۔۔۔ اور موٹی موٹی آنکھیں۔۔۔ پیٹ نہ ھونے کے برابر تھا۔۔۔ اور ۔۔۔ ان کی گانڈ تو کمال کی تھی۔۔۔ بلکل گول ۔۔۔ اور ۔۔۔ باہر کو نکلی ہوئی۔۔۔ انہوں نے کپڑے بھی بڑے فٹنگ والے پہنے تھے۔۔۔ جس سے ان کے ممے ۔۔۔ اور گانڈ ۔۔۔ بلکل نمایاں نظرآ رہی تھی۔۔۔ اور جب وہ چلتی۔۔۔ تو پیچھے سے ہلتی ھوئی گانڈ کا نظارا ھی الگ ھوتا تھا۔۔۔ رنگ تھوڑا گندمی۔۔۔  مگرصاف تھا ۔۔۔ اور رنگ میں کشش تھی۔۔۔ ۔ مجھے تو یہی خیال آیا۔۔۔  کہ ایک سال کی شادی میں ان کے مرحوم شوہر نے ان کو بہت احتیات سے چودہ ہے۔۔۔ سعدیہ کو دیکھ دیکھ میرا لوڑا بے قابو ہوا جا رہا تھا۔۔۔۔  نادیہ میرے سے ۴ سال چھوٹی تھی۔۔۔ رنگ گورہ تھا۔۔۔ چہرے پر معصومیت تھی۔۔۔ موٹی تو نہیں۔۔۔  لیکن جسم تھوڑا بھرا بھرا سا تھا ۔۔۔ قد مناسب سا تھا اور۔۔۔ ممے قمیض میں اتنے نمایاں نہیں تھے۔۔۔ اس وجہ سے گول مٹول سی لگتی تھی۔۔۔ خالہ وغیرہ نے بہت خوشی اور چاہت سے ہمارہ استقبال کیا۔۔۔ اپنی کزنز سے دوستی میری پہلے بھی تھی۔۔۔ لیکن اب تو میں اور زیادہ گھل مل رہا تھا۔۔۔ گپیں لگا رہا تھا۔۔۔ ہنسی مزاق کر رہا تھا۔۔۔ کہ یہ فرینک ہوں گی تو بات بن جائے گی۔۔۔۔ خالہ بولی۔۔ شیراز! ہردفع تم آتے ہی دوسرے دن واپسی کا شور ڈالتے ہو۔۔۔ لیکن اس دفع میں پہلے بتا رہی ہوں۔۔۔ میں نے کم از کم  ایک ہفتے سے پہلے تم لوگوں کو نہیں جانے دینا۔۔۔ میں شوخی سے بولا خالہ! بس ایک ہفتہ۔۔۔ میں اور امی تو ایک مہینے کا زیہن بنا کر آئے تھے۔۔۔ خالہ بڑے جوش سے بولیں۔۔۔ ہائے خالہ صدقے۔۔۔ کاش تم واقعئ اتنے اچھے ہو جاو کہ مہینہ رہ سکو۔۔۔ تم تو ۲ دن میں ہم سے تنگ پڑ جاتے ہو۔۔۔ باجی پتہ نہیں کتنی منتیں ترلے کر کے تمھیں منا کر لائی ہیں۔۔ یہ سن کر امی بولیں۔۔۔ نہیں اس دفع تو یہ خود بڑی خوشی سے آیا ہے۔۔۔ خالہ حیران ہو کربولئیں ۔۔۔ یہ موجزہ کیسے ہوگیا۔۔۔ میں نے ہنس کرکہا ۔۔۔ خالہ! اب مجھے عقل آ گئی ہے۔۔۔ یہ سن کے سب ہنس پڑے۔۔
میں نے کہا ۔۔۔ خالہ! اصل میں۔۔۔  میں اب بڑا ہو گیا ہوں۔۔۔ خود گھوم پھر سکتا ہوں۔۔۔ چکوال کا میں نے بہت سنا ہے۔۔۔ ادھر گھومنے پھرنے کی بہت سی جگہہیں ہیں۔۔۔  آپ بس مجھے جگہہوں کا بتاتی جانا۔۔۔ گھوم میں خودی لوں گا۔۔۔ یہ سن کر نادیہ بولی۔۔۔ ساری جگہہوں کا میں بتاوں گی۔۔۔ لیکن آپ اکیلے نہیں جاو گے۔۔۔ میں اور باجی بھی آپ کے ساتھ جائنگے۔۔۔ امی ہمیں اکیلے جانے نہیں دیتیں۔۔۔ اور۔۔۔ ناں خود ساتھ لیکر جاتیں ہیں۔۔۔ خالہ نادیہ کو گھور کر بولیں۔۔۔ ایک تو تمھاری شکایتیں ختم نہیں ہوتیں۔۔۔ امی بولیں۔۔۔ کیوں ڈانٹ رہی ہو بچی کو؟ صحیح تو کہہ رہی ہے۔۔۔ شیراز ہے تو بچیاں بھی گھول پھر لیں گی۔۔۔ سارہ دن گھر بیٹھ کر بور ہوتی ہیں۔۔۔ ویسے بھی آجکل چھٹیاں ہی ہیں۔۔ خالہ بولیں۔۔۔ اس نے اس سال میٹرک کے امتحان دینے ہیں۔۔۔ اس کی تیاری کے لیے اس کے سکول میں سمر کیمپ چل رہا ہے۔۔۔ روزانہ صبح ۴ گھنٹے کے لیے انکو بلآتے ہیں۔۔۔ نادیہ بولی۔۔۔  ہاں تو وہ تو صبح ۶ سے ۱۰ ہوتا ہے۔۔۔ اس وقت تک تو باجی بھی سوی ہوتی ھیں۔۔۔ اور شیراز بھائی بھی جلدی کدھر اٹھتے ہوں گے۔۔۔ گھومنے تو شام کو ہی جایا کرنا ہے۔۔۔ خالہ بولی۔۔۔ اتنا دماغ پڑھائی میں لگاو تو آرام سے ڈاکڑ بن جاو۔۔۔  مجھے تو پہلے ہی انکے قریب رہنے کا بہانہ چاہیے تھا۔۔۔ میں جلدی سے بولا۔۔۔ ہاں خالہ میں نے کونسا اتنی صبح جایا کرنا ہے۔۔۔ شام کو ہی جا یا کروں گا۔۔۔ تو ان دونوں کو بھئ ساتھ لیے جاوں گا ۔۔ میرا بھی ساتھ بن جائے گا۔۔۔ خالہ نادیہ کو بولیں۔۔۔  اچھا دیکھتے ہیں۔۔۔ ابھی جا کرکچن میں بہن کی مدد کرو۔۔۔ خالہ اور بھائی کے کھانے پینے کا بندوبست کرو۔۔ نادیہ خوش ہو کر بولی۔۔۔ سب تیار ہے۔۔۔ باجی بس سلاد بنا رہی ہیں۔۔۔ میں جا کر ٹیبل سیٹ کرتی ہوں۔۔۔ خالہ کا گھر چھوٹا لیکن کافی صاف ستھرا تھا۔۔۔ اور۔۔ سجاوٹ بھی اچھی ہوئی تھی۔۔۔ ۲ بیڈ روم ود اٹیچ واش روم تھے۔۔ ٹی وی لانج کے ساتھ کچن اور ڈرائینگ روم تھا۔۔ باھر صحن تھا جس میں کافی بڑا نیم کا درخت لگا تھا۔۔ جسکی وجہ سے صحن میں چھاوں رہتی تھی۔۔ اوپر سیڑھیوں کے ساتھ ایک کمرہ تھا۔۔ جس میں فالتو اور پرانا سامان پڑا تھا۔۔۔ میں لاونج میں بیٹھا سعدیہ کوکچن میں کام کرتا دیکھ رھا تھا۔۔۔ اس کے مموں۔۔ اور۔۔ مٹکتی گانڈ کے نطارے لیتا سوچ رہا تھا۔۔۔ کہ گھر میں ایسی کونسی جگہہ ہو سکتی ہے جدھر میں اس جوانی کا مزہ لیے سکوں گا۔۔۔ پھر سوچا ابھی سعدیہ کو سیٹ تو کر لوں باقی بعد میں سوچیں گے۔۔۔ رات کا کھانہ کھا کر ہم ٹی وی دیکھنا شروع ھو گئے۔۔۔ نادیہ لوڈو لے آئی۔۔۔ میں سعدیہ اور نادیہ کھیلنے لگ پڑے۔۔۔ ۹ بجے خالہ اٹھ گئیں اور بولئیں۔۔ میں تو سونے لگی ہوں۔۔۔ صبح فجرٹائم اٹھنا ہوتا ہے۔۔۔ امی کا مجھے پتہ تھا کہ وہ بھی فجر کے لیے اٹھتی ہیں۔۔۔۔ اس لیے وہ بھی رات جلدی سو جائیں گی۔۔۔ اور وہی ہوا خالہ کے اٹھتے ہی وہ بھی اٹھ گئیں۔۔۔۔ خالہ نے سعدیہ سے پوچھا۔۔۔ بستر لگا دئے ہیں؟ وہ بولی ہاں جی۔۔۔۔ خالہ نادیہ سے ب

YUM Stories


Offline Sexystranger

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 121
  • Reputation: +3/-0
    • View Profile
وہ بولی ہاں جی۔۔۔۔ خالہ نادیہ سے بولیں۔۔۔۔ جلدی گیم ختم کرو اور آ کر سو جاو۔۔۔ صبح تم سے اٹھا نہیں جاتا۔۔۔۔ وہ بولی ہاں جی بس میں آئی۔۔۔۔ اب امی کی باری تھی۔۔۔  وہ بولی ۔۔۔۔ شیراز تم بھی جلدی سو جانا یہ نہ ہو ساری رات ٹی وی کے دیھان لگے رہو۔۔۔ گرمی بھی بہت ہے۔۔۔۔ میں بولا۔۔۔ اچھا ماں جی۔۔۔ آپ دونوں ماوں کی کلاس ختم ہو گئ ہو تو ہم گیم پر دیھان دے لئیں۔۔۔ یہ سعدیہ باجی ہمیں دیہان لگا دیکھ کر چیٹنگ کئے جا رہی ہیں۔۔۔ سعدیہ بولی۔۔۔ جھوٹے میں نے کونسی چیٹنگ کی ہے۔۔۔ میں نے کہا۔۔۔ ابھی آپکی دو گوٹیاں اندر تھی ۔۔۔ اب ایک رہ گئی ہے ۔۔۔۔اور باہر والی گھر کیسے پہنچ گئیں؟؟ وہ بولی ۔۔۔ میرے چھ بھی تو اتنے آئیے تھے۔۔۔ نادیہ بولی۔۔۔ ہاں سارے آپکے ہی تو آتے ہیں۔۔۔ گیم کا نتیجہ یہ آیا کہ۔۔۔ تھوڑی دیر میں سعدیہ جیت گئ۔۔۔ میں دوسرے نمبر پر آیا۔۔۔۔ میں بولا باجی آپ چیٹنگ سے جیتی ہو۔۔۔۔ وہ بولی تم ابھی بچے ہو۔۔۔ میں نے کہا ۔۔۔ چلیں آپ کی یہ غلط فہمی دور کر دیتا ہوں ۔۔۔ ایک اور گیم ہو جائے۔۔۔ انہوں نے کہا ۔۔۔ ٹھیک ہے ۔۔۔ دوسری گیم میں جیت گیا ۔۔۔ اب سعدیہ بولی ۔۔۔ تم چیٹنگ سے جیتے ہو۔۔۔ چلو بیسٹ آف تھرئ ہو جائے۔۔۔ میں نے اوکے کہا ۔۔۔ اب نادیہ بولی ۔۔۔ میں تو سونے چلی ۔۔۔ آپ دونوں کھیلں ۔۔ میں ویسے بھی دونوں دفع ہاری ہوں ۔۔۔ ہم نے کہا اوکے ۔۔ اور گیٹیاں سیٹ کرنی شروع کی ۔۔۔ سعدیہ بولی ۔۔۔ آج گرمی بہت ہے ۔۔۔ یہ کہہ کر اس نے سینے پر لیا ہوا دوپٹہ اتار کے سائیڈ پر رکھ دیا ۔۔۔ اب اس کے بڑےبڑے ممے میرے سامنے اکڑ کے کھڑے تھے۔۔ ہاف وائٹ قمیض میں بلیک بریزیر اور اس میں قید ممے صاف نظر آ رہے تھے ۔۔۔ ایسا لگ رہا تھا ابھی قید توڑ کر باہر آ جائیں گے ۔۔۔ ہم دونوں آمنے سامنے نیچے قالین پر بیٹھے تھے ۔۔۔ درمیان میں لوڈو تھی ۔۔۔ سعدیہ کی قمیض ڈیپ نیک والی تھی ۔۔۔ اب ہو یہ رہا تھا ۔۔۔ کہ جب سعدیہ باری کرنے یا اپنی گوٹ چلانے جھکتی ۔۔ تو اس کی کیلویج اورہاف کپ برا ۔۔۔۔ جس نے اس کے گندمی مموں کے نپلززتک کے حصے کو بمشکل قید کیا ہوا تھا ۔۔۔ یعنی نیپلز سے اوپر والا سارہ ننگا حصہ ۔۔۔ سب نظر آتا تھا ۔۔ اب میں نے گیم خاک کھیلنی تھی ۔۔۔ میری نظر مموں سے ہٹتی تو گیم پر جاتی ۔۔۔ نہ میری نظریں میرے قابو میں تھیں ۔۔۔ اور نا میرا لوڑا ۔۔۔ انڈر وئیر نا پہنا ہوتا اور پینٹ لوز فٹ نہ ہوتی  تو اب تک میرا پول کھل گیا ہونا تھا ۔۔۔ گیم کا نتیجہ وہی ہوا جو دیھان نہ ہونے کی وجہ سے ہونا تھا ۔۔۔۔ یعنی میں بری طرح ہار رہا تھا ۔۔۔ ایسے میں سعدیہ مجھے چڑاتے ھوے ڈبل باری کرنے لگی ۔۔۔ جو وہ مجھے اپنے مموں میں الجھا کر۔۔۔ پہلے بھی پتہ نہیں کتنی بار کر چکی تھی ۔۔۔ لیکن اس دفع مجھے پتہ لگ گیا ۔۔۔ اور میں نے شور ڈال دیا ۔۔۔ کہ ڈبل ڈبل باریاں کر رہی ہو۔۔۔ ساتھ ہی میں نے ڈبی اور دانہ اس کے ہاتھ سے چھیننے کے لیے اس کا ہاتھ پکڑا ۔۔۔ اس نے بچانے کے لیے اپنا ہاتھ اپنے سر کے پیچھے کیا ۔۔۔ [/font]
میں آگے ہوا ۔۔۔ اور ہماری آپس میں زور آزمائی شروع ہوگئی۔۔۔ دھکم پیل میں سعدیہ لیٹ گئی ۔۔۔ اور میں لوڈو کو بچآتے سعدیہ کے اوپر گر گیا ۔۔۔ اس کے ممے میرے سینے میں کھب گئے۔۔۔ میں نے موقع کا فائدہ اٹھایا ۔۔۔ اور اپنے لن سے سعدیہ کی پھدی پر دو تین گھسے لگا دئے۔۔۔۔ کپڑوں کی وجہ سے سعدیہ کو تو محسوس نہ ہوا ۔۔۔ لیکن مجھے بہت مزا آیا ۔۔۔ میرے ہونٹ سعدیہ کے ہونٹوں کے بہت قریب تھے ۔۔ ہم ایک دوسرے کی سانسوں کو اپنے چہروں پر محسوس کر سکتے تھے۔۔۔۔ ہماری نظریں ملیں ۔۔۔ تو سعدیہ نے جلدی سے مجھے ڈبی پکڑائی ۔۔۔ اور سائیڈ پر دھکیل دیا ۔۔۔۔ دھکے کی وجہ سے میں لوڈو پر گرا ۔۔۔ اور ساری گیٹیاں اپنی جگہہ سے ہل گئیں ۔۔۔ یہ سب اتنی سپیڈ سے ہوا کہ سعدیہ کو محسوس بھی نہ ہوا۔۔۔ ہم دونوں اپنی اپنی جگہہ پر واپس بیٹھ گئے۔۔۔ سعدیہ بولی ۔۔۔  اب بہت رات ہو گئی ہے سونا چاہیے ۔۔۔ ورنہ صبح امی سے بہت کلاس لگے گی ۔۔۔ اور ویسے بھی گیم تومیں جیت ہی چکی تھی ۔۔۔ میری آخری گوٹ تھی ۔۔۔ اور تمھاری دو رہتی تھیں۔۔۔ میں نے کہا ۔۔ آپ نے چیٹینگ کی تھی ۔۔ سعدیہ بولی ۔۔۔ کیا چیٹینگ کی میں نے۔۔۔؟ میں بولا ۔۔۔  آپ نے میرا دیھان گیم سے ہٹا دیا تھا۔۔۔ وہ بولی ۔۔۔ وہ کیس طرح ۔۔۔ ؟ اب میں اسے کیا بتاتا ۔۔ کہ اپنے ممے دیکھا دیکھا کر۔۔ میں نے کہا ۔۔۔ چھوڑئیں اور بتائیں میرا روم کونسا ہے۔۔۔؟ وہ بولی ۔۔۔ بھائیی ہم غریبوں کے گھر دو ہی کمرے ہیں ۔۔۔ اور صرف امی والے روم میں اے سی لگا ہوا ہے ۔۔۔ اس لیے سب کے بستر ادھرہی ہیں ۔۔۔ میں نے کہا ۔۔۔ آپ دو کمرں کی بات کر کے شرمندہ کر رہی ہیں ۔۔۔۔ اتنا پیارہ گھر ہے ۔۔۔ اور اس سے بھی پیارے اس میں رہنے والے لوگ ۔۔۔۔ سعدیہ نے میری طرف دیکھا اور بولی ۔۔۔ عمر چھوٹی ہے اور باتیں بڑی بڑی ۔۔۔ میں بولا آپ جو مجھے چھوٹا بچہ سمجھ رہی ہیں ۔۔۔ بہت جلد آپ کی یہ غلط فہمی دور کر دوں گا ۔۔۔ سعدیہ ھنس کر بولی ۔۔۔ اچھا جی دیکھ لیتے ہیں ۔۔۔ ہم دونوں یہی باتیں کرتے خالہ کے کمرے کے داروزے پر پہنچ گئے ۔۔۔ سعدیہ نے مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کیا ۔۔۔ اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتے مجھے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔ کمرے کے اندر نائٹ لائٹ کی مدہم سی روشنی تھی ۔۔۔ سامنے ڈبل بیڈ پر امی اور خالہ سورہی تھیں ۔۔۔ بیڈ کے ساتھ نیچے قالین پر بستر بچھا تھا ۔۔۔ جس پر نادیہ سو رہی تھی ۔۔۔ اور اس کے ساتھ جگہہ خالی تھی ۔۔۔ میں بہت خوش ۔۔۔ اتنی قریب سونے کا تو میں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا ۔۔۔ میں خالی بستر کی طرف بڑھا ۔۔۔ تو سعدیہ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔ میں نے اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔۔۔ کہ کیا ہے ؟ اس نے اشارے سے پوچھا ۔۔۔ ادھر والے بستر کی طرف کدھر جا رہے ہو ۔۔۔ اور ساتھ ہی بیڈ کی دوسری طرف اشارہ کیا ۔۔۔ جدھر ایک اور بستر لگا تھا ۔۔۔ میں نے شرمندہ سی مسکراہٹ سے اوکے کیا ۔۔۔ اور دل میں اپنی گانڈوقسمت کو گالیاں دیتا اس طرف چل پڑا ۔۔۔ اب بیڈ کے ایک طرف قالین پر لگے بستر پرمیں تھا ۔۔۔ میرے والی سائیڈ پر بیڈ کے اوپر امی ۔۔۔ ان کے ساتھ خالہ ۔۔۔ اور خالہ والی سائیڈ پر نیچے۔۔۔  قالین پر لگے بستر پر سعدیہ اور اس کے ساتھ نادیہ لیٹی تھی۔۔۔ اپنے بستر پر لیٹ کر۔۔۔ میں نے بیڈ کے نیچے سے دوسری طرف دیکھا ۔۔۔ اور سوچا ۔۔۔ بہن چود میری قسمت اتنی بھی گانڈو نہیں ہے۔۔۔۔ بیڈ کی دونوں سائیڈوں والی جگہیں زمین سے اونچی تھیں ۔۔۔ اس وجہ سے مجھے بیڈ کے نیچے سے سعدیہ لیٹی صاف نظر آ رہی تھی ۔۔۔ اس کا منہ دوسری طرف تھا ۔۔۔ اور موٹی سیکسی گانڈ میری طرف ۔۔۔ یہ نظارہ دیکھ کر تو میری نیند ہی اڑ گئ ۔۔۔ بیڈ اور فرش کے درمیان اتنی جگہہ ہے تھی کہ میں رینگتا ہوا سعدیہ کے پاس جا سکتا تھا۔۔۔ اب مجھے وقت گزرنے کا انتظار تھا ۔۔۔ کہ سعدیہ گہری نیند میں چلی جائے۔۔۔۔ میرا لن آنے والے وقت کا سوچ سوچ کے فل تنا ہوا تھا۔۔۔ کوئی ایک ڈیڑھ گھنٹہ انتظار کرنے کے بعد ۔۔۔ جب میں نے دیکھا ۔۔۔ سعدیہ کے جسم میں کوئی حرکت نہیں ۔۔ تو میں بیڈ کے نیچے گھس گیا ۔۔۔۔ اور سعدیہ کی طرف بہت احتیات سے ۔۔۔ بغیر کسی آواز کے ۔۔۔  رینگنا شروع کیا ۔۔۔۔ اس کے قریب پہنچ کر۔۔۔ چیک کرنے کے لیے ۔۔۔۔ پہلے تو میں نے اپنا ایک ہاتھ سعدیہ کے ہاتھ کے ساتھ ٹچ کیا ۔۔۔ میرے دل کی دھڑکن کافی تیز ہوچکی تھی۔۔۔ جب کوئی ہل جل نہ ہوئی ۔۔۔ تو میں نے ہمت کر کے اپنا ہاتھ اس کے بازو پر رکھ دیا ۔۔۔ اس نے پھر کوئی ریسپانس نہ دیا ۔۔۔ تو میں نے اب آہستہ آہستہ ہاتھ اس کے بازو پر پھیرنا شروع کر دیا۔۔۔ اس کے بازو کو ہلکا ہلکا سہلا رہا تھا۔۔۔ اندر سے میں فل ڈرا ہوا بھی تھا۔۔۔ کہ کہیں اٹھ کر شورہی نہ مچا دے ۔۔۔ اسی طرح کرتے ہوئے ۔۔۔ میں نے تھوڑی اور ہمت کی ۔۔۔ اور اپنی انگلی سے اس کے ممے کو چھیڑنے لگ گیا۔۔۔ میں اس وقت کسی اور ہی دنیا میں تھا۔۔۔ زندگی میں پہلی دفع کسی ممے کو ٹچ کر رہا تھا۔۔۔ میں انگلی کی نوک سے ہلکا سا دباتا ۔۔۔ اور چھوڑ کر دیکھتا کوئی رسپونس تو نہیں۔۔۔  مجھے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ میں واقعی ممے کو ٹچ کر رہا ہوں ۔۔۔ خود کو یقین دلوانے کے لیے میں نے ممے پر انگلی کا دباو بڑھایا ۔۔۔ اور ایک کی بجائے دو انگلیوں سے مسلسل دبانا شروع کیا۔۔۔  ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ سعدیہ نے کروٹ بدلی ۔۔۔ جس کی وجہ سے میرے ٹٹے شارٹ ہو گئے ۔۔۔ کہ اٹھ گئی ہے ۔۔۔ لیکن وہ لیٹی رہی ۔۔۔ کروٹ لینے سے اس کا منہ میری طرف ہو گیا ۔۔۔  اس کی قمیض کا گلا جو کہ کافی ڈیپ تھا تھوڑا سا کھل گیا اوراس کی کلیویج نظر آنا شروع ہو گئی۔۔۔ میں نے دوبارہ ہمت کی ۔۔۔ اور اس کی کلیویج کو ٹچ کرنا شروع کر دیا۔۔۔ اسی طرح کرتے میں نے ایک دو دفع اپنے پورے ہاتھ سے سعدیہ کے مموں کو دبایا۔۔۔ وہ کوئی ریسپانس نہیں دے رہی تھی۔۔۔ ادھر میرا لن پینٹ پھاڑ کر باہر آنے کو تیار بیٹھا تھا۔۔۔ میں نے اور ہمت کی اور اس کی قمیض کو تھوڑا سا اوپر اٹھا کر اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرنا شروع کیا۔۔۔ میں بیڈ کے نیچے بلکل سیدھا لیٹا تھا ۔۔۔ ایک ہاتھ سے سعدیہ کے جسم کو چیک کر رہا تھا ۔۔۔ اور دوسرے ہاتھ سے اپنی پنٹ کی زیپ کھول کر۔۔۔ انڈر وئیر نیچے کر کے ۔۔۔ اپنا لن باہر نکال کر ۔۔۔ مٹھ مار رہا تھا۔۔۔ آہستہ آہستہ اس کے پیٹ پر ہاتھ کبھی پھیرنا شروع کردیتا کبھی ڈر کے مارے رک جاتا۔۔۔ پھر اس کی ناف میں انگلی پھیرنا شروع کر دی ۔۔۔ ابھی کچھ ہی دیر گزری ہو گی۔۔۔  جب اس نے ایک بار پھر کروٹ بدلی ۔۔۔ اورسیدھی لیٹ گئی ۔۔۔ تھوڑی دیر تو میں مزید ہلچل کا انتطار کرتا رہا ۔۔۔ لیکن جب اندازہ ہوا کہ وہ سو رہی ہے ۔۔۔ میں نے دوبارہ ہمت کی اور اس کی شلوار کا نالا کھولنا شروع کر دیا۔۔۔ نالا کھول کے شلوار ڈھیلی کر دی ۔۔۔ اور اس کی پھدی اور ناف کے درمیان والے حصے پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا ۔۔۔ تھوڑی دیر بعد اپنی ایک انگلی اس کی پھدی کی جہاں سے لکیر شروع ہو رہی تھی ۔۔۔ وہاں رکھ دی ۔۔۔ شلوار اوپر والی سائیڈ سے تھوڑی نیچے ہونے کی وجہ سے اس کی پھدی اب ننگی ہو چکی تھی ۔۔۔  جبکہ نیچے والی سائیڈ اس کی  گانڈ کے نیچے پھنسی ہوئی تھی۔۔۔ میرے دماغ پر منی چڑھ چکی تھی ۔۔۔ اور اب میں دماغ کی بجائے ۔۔۔ لن سے سوچ رہا تھا ۔۔۔ جس وجہ سے کافی حد تک میرا ڈر بھی ختم ہو چکا تھا۔۔۔ میں نے ہمت کر کے ہاتھ اس کی پھدی پر رکھا۔۔۔ اپنی انگلی سعدیہ کی پھدی کی لکیر میں ڈالی اور انگلی اوپر نیچے کرنا شروع ہوا۔۔۔ میں کبھی انگلی اوپر نیچے کرتا ۔۔۔ کبھی پھدی کو دباتا ۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کے سوراخ کدھر ہے ۔۔۔۔ جدھر لن ڈالتے ھیں۔۔۔ ایک تو میں بیڈ کے نیچے سیدھا لیٹا تھا۔۔۔ اور میرا ہاتھ بمشکل اس کی چوت تک پہنچ رھا تھا ۔۔۔ دوسرے سعدیہ نے ٹانگیں جوڑی ہوئیں تھیں ۔۔۔ اس لیے میں زیادہ نیچے ہاتھ لیے جا نہیں پا رہا تھا ۔۔۔ سعدیہ کی نرم پھدی میں انگلی چلانے کے ساتھ ساتھ میں اپنی مٹھ مار رہا تھا۔۔۔ اتنی سی جگہہ پر میں اور کچھ تو کربھی نہیں سکتا تھا۔۔۔  سو آنکھیں بند کئے۔۔۔  سعدیہ کی پھدی میں موجود اپنی انگلی کو اپنا لن ۔۔۔ اور اپنے لن کو ہلآتے ہاتھ کو سعدیہ کی پھدی سمجھ کر میں فل زوروں سے مٹھ مار رہا تھا۔۔۔ ادھر میں چھوٹنا شروع ہوا ۔۔۔ ادھر اچانک سعدیہ نے اپنی ٹانگیں تھوڑی کھول کر میرے ہاتھ کو تھوڑا اور نیچے جانے دیا۔۔۔ جسے ہی میری انگلی اس کی پھدی کے دانے کو لگی اور میں نے اسے دبایا۔۔۔ سعدیہ نے اپنی ٹانگیں سختی سے آپس میں جوڑ لیں ۔۔۔ اور میرا ہاتھ اندر پھنس گیا۔۔۔ اس کا جسم اکٹرنا شروع ھوا۔۔۔ ساتھ ہی اسکے منہ سے سسکیوں کی ہلکی سی آواز نکلی۔۔۔[/font]
میری تو گانڈ ہی پھٹ گئی ۔۔۔ میری منی نکل چکی تھی اور دماغ جاگ چکا تھا۔۔۔۔ میں نے جلدی سے سعدیہ کی ٹانگوں سے اپنا ہاتھ کھنچ کر نکالا ۔۔۔ اور فل سپیڈ میں رینگ کر واپس اپنے بستر پر آ گیا۔۔۔ اور دوسری طرف منہ کر کے سوتا بن گیا۔۔۔۔ اب مجھے ڈر تھا ۔۔۔ ابھی سعدیہ اٹھے گی اور میری ٹھکائی ہو گی۔۔۔  یا وہ شور مچا کر سب کو اٹھا کر سب بتا دے گی ۔۔۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہ ھوا۔۔۔ میں نے کچھ دیر انتظار کے بعد۔۔۔ ڈرتے ڈرتے پیچھے مڑ کر سعدیہ کی طرف دیکھا ۔۔۔ تو وہ دوسری طرف منہ کئے سکون سے سو رہی تھی ۔۔۔ اسے سوتا دیکھ کر میں نے سوچا۔۔۔ یا تو صبح شامت آئے گی ۔۔۔ یا شائید اس کو پتہ نہیں لگا ۔۔۔ یہ سوچ کر میں نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا اور سو گیا۔۔۔ رات کو دیر سے سویا تھا ۔۔۔ اس لیے صبح کافی دیر سے آنکھ کھلی ۔۔۔ کمرے میں ۔۔۔ میرے علاوہ کوئی بھی نہیں تھا ۔۔۔ مجھے اپنی رات کی واردات یاد آئی ۔۔۔ تو ایک دفع پھر سے ڈر لگنا شروع ہوا۔۔۔۔ کہ اگر سعدیہ کو پتہ لگ گیا ہوا اور اس نے سب کو بتا دیا ہوا تو میرا کیا بنے گا۔۔۔۔؟ پھر سوچا ۔۔ بیٹا اگر امی کو پتا لگ گیا ہوتا تو وہ ابھی تک اپنے لال کے اٹھنے کا انتظار نہ کر رہی ہوتیں۔۔۔  بلکہ اس وقت تک تو جوتے مار مار کے اپنے لال کو نیلا کر چکی ہوتیں۔۔۔ اگرابھی تک سکون ہے تو اس کا مطلب کسی کو کچھ نہیں پتہ۔۔۔  یہ سوچ کر تھوڑا حوصلہ ہوا ۔۔۔ اور میں کمرے سے باہرنکل آیا۔۔۔  سامنے امی اور خالہ بیٹھیں تھیں۔۔۔ میں نے سلام کیا اوران  کے پاس بیٹھ گیا۔۔۔ خالہ نے پیار دیا اور پوچھا۔۔ رات کو نیند صحیح آئی تھی ۔۔۔؟ فرش سخت تو نہیں لگا۔۔۔؟ میں بولا  نہیں خالہ ۔۔۔ بہت مزیے کی نیند آئی تھی ۔۔۔ اور تب ہی کچن سے سعدیہ کی اونچی آواز آئی ۔۔۔ ویسے رات کو جو تمہارے ساتھ ہوئی ہے ۔۔۔ نیند آنی بنتی تو نہیں تھی۔۔۔ میں نے دل میں کہا ۔۔۔ لو جی لگ گئے لوڑے ۔۔۔ یہ بہن کی لوڑی شکایت لگانے کے لیے میرے اٹھنے کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔ خالہ نے پوچھا۔۔ کیوں بھئی رات کوایسا کیا ہوا ہے۔۔۔؟  اس وقت تک سعدیہ کچن سے نکل کر لاونج میں ہمارے قریب پہنچ چکی تھی ۔۔۔  مجھے گھورتے ہوئے بولی ۔۔۔ ہاں بھئ خود بتا رہے ہو کہ میں بتاوں ۔۔؟ میں حقلاتے ہوئے بولا ۔۔ ککیا ہووا ہے ؟؟ میں تو بڑے مزے سے سویا تھا ۔۔۔ سعدیہ بولی ۔۔۔ اور جو سونے سے پہلے ہوا تھا۔۔۔  وہ تو بتاو؟ پھر میری امی کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔ خالہ! آپ کا بیٹا ایک نمبر کا للو ہے۔۔۔ رات کو اسے میں نے لوڈو میں بسٹ آف تھری ماری ہے ۔۔۔ اور یہ کہہ رہا ہے اس کو سکون کی نیند آئی ہے۔۔۔ لوڈو کا سن کر میری جان میں جان آئی اور میں جلدی سے بولا ۔۔۔ آپ ہو ہی چیٹر۔۔۔ دونوں گیمز چیٹنگ سے جیتی ہو۔۔۔ سعدیہ شرارت سے بولی ۔۔۔ کہا نا تم ابھی بچے ہو۔۔۔ تب ہی خالہ نے اسے ڈانٹ کر کہا۔۔۔ [/font]
کیوں اسے چڑا رہی ہو۔۔ ؟ جاو بھائیی کے لیے ناشتہ لے کر آو۔۔۔ پھر مجھے بولئیں۔۔۔  جاو شیراز ہاتھ منہ دھو کر آو۔۔۔ سعدیہ شرارتی لہجے میں بولی ۔۔۔ ہاتھ منہ چھوڑو نہا ہی لو۔۔ گرمی کافی ہے۔۔۔ میں اچھا سا ناشتہ بناتی ہوں ۔۔۔ رات کی کمزوری دور ہو جائے گی۔۔۔ اس کی باتیں سن کر میں جلدی سے اٹھ گیا ۔۔۔ اور امی سے کہا۔۔۔  میرے کپڑے نکال دئیں۔۔۔ رات کو بھی آپ نے پاجامہ شرٹ نہیں دی ۔۔ اور مجھے پینٹ میں ہی سونا پڑا۔۔۔ سعدیہ ہنس کر بولی ۔۔۔ رات کو پینٹ گندی تو نہیں کر دی خالہ کے منے نے۔۔۔؟ خالہ نے سعدیہ کو گھور کر دیکھا اور کہا ۔۔۔ جاو ناشتہ بناو۔۔ نادیہ بھی آنے والی ہو گی۔۔ امی نے کہا۔۔۔ ہاں رات کو مجھے یاد ہی نہیں رہا۔۔ ابھی تم واش روم جاو میں استری کر کے دیتی ہوں۔۔۔ میں جلدی سے واش روم کی طرف نکل گیا۔۔۔ نہاتے ہوے بھی میں سعدیہ کی ذو معنی باتوں کو سوچتا رہا۔۔۔ اب مجھے اندازہ ہو رہا تھا کہ سعدیہ رات کو جاگ رہی تھی اور مزے لیتئ رہی ہے۔۔۔ اور اب اگر جانتے بوجھتے بھی خاموش ہے تو وہ بھی مزے لینا چاھ رہی ہے۔۔۔ فریش ہو کر میں باہر نکلا تو نادیہ بھی آ چکی تھی۔۔۔ ہم نے اکٹھے ناشتہ کیا۔۔۔ ناشتے کے بعد نادیہ بولی۔۔۔ کیا پروگرام ہے گھومنے کا ؟ میں بولا ابھی تو تم آئی ہو۔۔۔ تھوڑا آرام کر لو۔۔۔ نادیہ بولی۔۔۔ آرام تو ہوتا ہی رہتا ہے۔۔۔ آپ بتائیں کیا ارادہ ہے؟ میں بولا میں تو تیار ہوں۔۔۔ جگہ تم نے بتانی ہے۔۔۔ نادیہ بولی ادھر ایک جھیل ہے۔۔۔۔ وہ ہے بھی پہاڑی کے اوپراس لیے ادھر موسم بھی ٹھیک ہوتا ہے۔۔۔ ادھر چلتے ہیں۔۔۔ میں نے کہا ٹھیک ہے۔۔۔۔ نادیہ بولی ۔۔۔ چلیں ہم تیار ھو لئیں۔۔۔  چلو باجی آپ جلدی کرو۔۔۔ آپ بہت ٹائم لگاتی ہو۔۔۔۔ سعدیہ اداسی سے بولی۔۔۔  نہیں آپ لوگ جاو۔۔ مجھے ابھی کھانہ بھی بنانا ہے اور گھر کے کافی کام ہیں۔۔۔ مجھے سعدیہ کے اچانک اسطرح اداس ہونے پر بہت حیرت ہوئی۔۔۔ خالہ بولیں۔۔۔  ایسا کرتے ہیں کہ ہم سب چلتے ہیں ۔۔۔ کھانا بھی ساتھ لیے جاتے ھیں ۔۔۔ ادھر بیٹھ کر ہی کھا لئیں گے۔۔۔ تم دونوں تیارھو تب تک میں کھانہ بنا لیتی ہوں۔۔۔ سعدیہ بولی۔۔ نہیں امی میرا دل نہیں کر رہا۔۔۔۔  میری امی بولیں۔۔۔ سعدیہ بیٹا ضد نہیں  کرتے ۔۔۔ چلو شاباش تیار ہو جاو۔۔۔۔ سعدیہ نے کہا ۔۔۔ خالہ میرا واقعی دل نہیں کر رہا۔۔۔ آپ لوگ ہوآئیں۔۔۔ تب میں جو اتنی دیر سے سب سن رہا تھا بولا۔۔۔ جائیں گے تو سب ورنہ کوئی بھی نہیں جائے گا۔۔۔ اور سعدیہ باجی ہم سب کا بہت دل کر رہا ہے۔۔۔ نادیہ بھی بولی ۔۔۔ پلیز باجی چلو نا۔۔۔ سب کو اسطرح اداس دیکھ سعدیہ بولی ۔۔۔ اچھا بھئی چلو چلتے ہیں۔۔۔ یہ سن کر نادیہ خوشی سے اچھل پڑی اور بولی۔۔۔ باجی یو آر دی بیسٹ۔۔۔ سعدیہ بولی۔۔ اچھا زیادہ مسکے مت لگاو چلو تیار ہونے۔۔۔۔ وہ دونوں اپنے کمرے میں گھس گئیں ۔۔۔ اور خالہ کھانے کی تیاری کے لیے کچن میں چلی گئیں۔۔۔  میں بھی ان کے پیچھے کچن میں آ گیا اور ان سے پوچھا۔۔۔خالہ! یہ سعدیہ باجی اچانک اداس کیوں ہو گئیں تھیں۔۔۔؟ خالہ نے گہرا سانس لیا اور بولیں۔۔۔ بیٹا اپنے مرحوم شوہر کو یاد کرکے۔۔۔ راحیل بہت اچھا انسان تھا اور اس سے بھی اچھا شوہر۔۔۔ سعدیہ کو اس نے بہت خوش رکھا ہوا تھا ۔۔۔ لیکن یہ خوشی بہت کم دن کی تھی۔۔۔  شادی کے ایک سال بعد ہی راحیل کی ایک حادثے میں موت ہو گئ۔۔۔۔ سعدیہ اس کے غم میں بلکل ہوش کھو بیٹھی تھی۔۔۔ ۔ پہلے تووہ کہیں آتی جاتی بھی نہیں تھی۔۔۔ پھر آہستہ آہستہ وہ زندگی کی طرف واپس آئیی ہے۔۔۔ اب اتنا اداس تو نہیں ہوتی۔۔۔ لیکن جب ان جگہہوں پر جاتی ہے ۔۔۔ جدھر راحیل کے ساتھ جاتی تھی تو اداس ہو جاتی ہے۔۔۔۔ آج بھی مجھے امید نہیں تھی کہ وہ جانے کے لیے مان جائے گی۔۔۔۔ لیکن تم لوگوں کی خوشی کے لیے وہ مان ہی گئ ہے۔۔۔۔ ویسے بھی دو سال کسی کا سوگ منانے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔۔۔ میں بولا۔۔۔ تو آپ باجی کی دوبارہ شادی کیوں نہیں کر دیتیں۔۔؟ خالہ بولیں۔۔ پہلے تو وہ مانتی نہیں تھی ۔۔۔ بہت مشکل سے اب راضی ہوئی ہے۔۔۔ ایک جگہہ بات چل رہی ہے دعا کرو بات بن جائے۔۔۔۔ میں نے کہا۔۔۔ پریشان نہ ہوں ۔۔۔ بن جائے گی بات۔۔۔۔ خالہ بولیں ۔۔۔ میں بھی کیا باتیں لیے کر بیٹھ گئ ہوں۔۔۔ جاو جاکر لاونج میں بیٹھو ادھر گرمی میں کھڑے ہو۔۔۔۔ میں آ کر لاونج میں امی کے پاس بیٹھ گیا۔۔۔ اور اسی وقت میرے فون پر بیل ہوئی ۔۔ میں نے دیکھا تو سلیم کا نمبر تھا ۔۔۔ میں اٹھ کر صحن میں آیا اور کال ریسیو کی۔۔۔۔ سلیم ہمیشہ کی طرح میری آواز سنتے ہی میرے پر چڑھ گیا اور بولا۔۔۔  بہن چود پھدیوں میں جاتے ہی اپنے ابو کو بھول گیا ہے۔۔۔ کوئی خبر ہی نہیں۔۔۔ یاد رکھ یہ پھدیوں کی بہار بس دو دن کی ہے ۔۔۔ اس کے بعد آنا تو نے میرے لن پر ہی ہے۔۔۔ پھر بولا۔۔۔ اب بول تو سہی ۔۔۔ کیا بنا ؟؟ کوئی بلی ماری ہے یا ابھی تک لن ہاتھ میں لیکر گھوم رہا ہے۔۔۔؟ میں بولا مادر چود ۔۔۔ تو سانس لے تو میں کچھ بولوں۔۔۔ اور ساتھ ہی اس کو رات والی اپنی کاروائی سنا دی۔۔۔ وہ بولا۔۔۔ لعنت تیری زندگی پر۔۔۔ اتنی قریب جا کر بھی مٹھ ہی ماری ہے۔۔۔ میں بولا ۔۔۔ یار اور کیا کرتا اتنی جگہ ہی نہیں تھی کہ کچھ اور کر پاتا۔۔۔  اور ڈر بھی تھا کہ سعدیہ شور نہ ڈال دے۔۔۔ یہ تو اب اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ خود بھی تقریبا تیار ہے۔۔۔ سلیم بولا اس کو لوڑے کی عادت رہی ہے۔۔۔ ایک دفع عادت پڑ جائے تو ختم نہیں ہوتی۔۔۔ تو بس ہمت کر۔۔۔ تجھے کہہ رہا ہوں ۔۔۔ اس کی پھدی سے ہی تیرے لن کا افتتاح ھونا ہے۔۔۔ میں بولا۔۔۔ چل میرا تو چکر چل ہی پڑا ہے آج نہیں تو کل میں نے لے ہی لینی ہے ۔۔۔ تو اپنی سنا ملا کچھ کے نہیں۔۔۔؟ یہ نہ ہواس دفع میرا کھاتہ تیرے سے پہلے کھل جائے۔۔۔ سلیم بولا۔۔۔ گانڈو انسان! ایک بات یاد رکھ ۔۔۔ سیانے کہتے ہیں۔۔۔[/font]
  ٹٹے جتنے بھی بڑے ہو جائیں ۔۔ رہتے لن کے نیچے ہی ہیں۔۔۔ میں نے حیرت سے پوچھا ۔۔ کیا مطلب ۔۔؟ْ؟  تو نے لے لی ہے۔۔ ؟؟ کب ۔۔ ؟؟ کس طرح ۔۔۔ ؟؟ اور لی کس کی ہے۔۔ ؟؟ مجھے بتایا بھی نہیں۔۔۔ سلیم بولا۔۔ اوئے سانس لے لیے۔۔۔ یہی بتانے کے لیے تو فون کیا ہے۔۔۔ رات کو جس وقت تو سعدیہ کی چوت میں انگلی دئیے ۔۔۔ بیڈ کے نیچے لیٹا مٹھ لگا رہا تھا۔۔۔ اس وقت میں کسی کے گھر میں ۔۔۔ کسی کے بیڈ کے اوپر۔۔۔ کسی کی بیوی کو چود رہا تھا۔۔۔ میں نے پوچھا۔۔۔ اور یہ کسی ہے کون ۔۔؟ یہ تو بتا دے۔۔۔؟ سلیم بولا یار وہ ابو کے دوست نہیں قریشی صاحب ۔۔۔ ان کے دبئ والے بیٹے کی بیوی کو چودا ہے۔۔۔ میں حیران ہو کر بولا۔۔۔ اوئے وہ جس کی دو سال پہلے شادی ہوئی تھی۔۔؟ بہن چود ۔۔  وہ بندی تو بڑی فٹ تھی۔۔۔  تیرے گھر آئی تھی تب دیکھا تھا۔۔۔ یار میں نے تو اس کے نام کی مٹھیں بھی بڑی ماری ہوئی ہیں۔۔۔ وہ تیرے سے سیٹ کس طرح ہوگئ۔۔۔ ؟ تفصیل بتا۔۔۔ سلیم بولا۔۔۔ لمبی تفصیل ہے اور ابھی بیلنس کم ہے۔۔۔ تو واپس ائیگا تو بتاوں گا۔۔ ابھی تو بس سعدیہ پر دیھان دے۔۔۔ اور بہن چود ۔۔۔  بلی مار کر ہی واپس آنا ۔۔ ورنہ مجھے اپنی شکل مت دیکھانا۔۔ میں  نے کہا ۔۔ اچھا استاد جی۔۔۔ تب ہی اندر سے نادیہ کی آواز آئی بھائیی! سب تیار ہو گئے ہیں ۔۔۔ اب چلئیں ؟ دیر ہو رہی ہے۔۔۔ میں نے کہا ۔۔ اچھا دو منٹ ۔۔ آ رہا ہوں ۔۔ اور جلدی سے سلیم کو بائے بول کر اندر آ گیا ۔۔۔اندر سب واقعی تیار تھے۔۔ سعدیہ نے پیلے رنگ کا فٹنگ والا  کرتا ۔۔ ساتھ میں سفید ٹائٹ پاجامہ پہنا تھا۔۔۔ کرتے میں اسکے ممے ابھرے تھے ۔۔۔ اور گانڈ باہر نکلی ہوئی تھی۔۔۔ نادیہ نے گلابی شلوارقمیض پہنی تھی ۔۔۔ اس کے ممے تو اتنے بڑے نہیں تھے ۔۔ ہاں گانڈ کافی بڑی تھی۔۔ جھیل پر بہت اچھا وقت گزرا۔۔۔ کشتی میں سعدیہ میرے ساتھ بیٹھی اورمیں اس کے نرم جسم کے مزے لیتا رہا۔۔۔ ہماری واپسی رات کو ہوئی ۔۔۔ رات کا کھانہ ہم باہر ہی کھا آئیے تھے۔۔۔ گھر آتے تک سب بہت تھک چکے تھے۔۔۔ باقی سب تو میری نسبت اٹھے بھی کافی صبح کے ہوے تھے ۔۔ اس لیے خوب نیند میں تھے۔۔۔ میں نے امی سے اپنے نائٹ سوٹ کا پوچھا تو وہ بولیں ۔۔

YUM Stories


Offline MANHIL

  • life for fun.
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1917
  • Reputation: +20/-50
  • آج کے دن کو آخری سمجھ کر جیو ۔
    • View Profile
    • Yumstories.com

سٹارٹ تو اچھا ہے اب اگے دیکھتے ہے کیا ہو گا ۔کہانی مکمل ہو گی یہ نہیں ۔
یہ صبح کا منظر بھی قیامت سا حسیں ہے
 تکیہ ہے کہیں ____ زلف کہیں ___ خود وہ کہیں ہے

Offline shamshadalam

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 2707
  • Reputation: +12/-3
    • View Profile
zabardast...


 :rockon:

Offline Khattar usama 633

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 39
  • Reputation: +1/-0
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #4 on: June 01, 2020, 12:34:07 am »
Achi story hai mgr isko in**st mt bnana :yes: :yes: plz

Offline Farwa abbasi

  • T. Members
  • 4 Stars
  • ****
  • Posts: 666
  • Reputation: +49/-18
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #5 on: June 01, 2020, 06:49:58 am »
بہت زبردست انداز اور بہترین شروعات
جسم کے ملن بنا محبت ادھوری رہتی ہے

Offline Sexystranger

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 121
  • Reputation: +3/-0
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #6 on: June 01, 2020, 03:06:43 pm »
کہانی پسند کرنے کا شکریہ ۔۔۔ پریشان نہ ہوں ۔۔۔ کہانی مکمل ہو گی۔۔۔۔

Offline Sexystranger

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 121
  • Reputation: +3/-0
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #7 on: June 01, 2020, 03:10:35 pm »

 

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.