Author Topic: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ  (Read 275200 times)

Offline Sexystranger

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 121
  • Reputation: +3/-0
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #24 on: June 02, 2020, 02:45:40 pm »
Fantabulus
Mindblowing
Outstanding
SuperbThank you..
شاندار اور شاہکار کہانی تھی

YUM Stories

Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #24 on: June 02, 2020, 02:45:40 pm »

Offline Sexystranger

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 121
  • Reputation: +3/-0
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #25 on: June 02, 2020, 02:48:27 pm »
شادي کی پہلي رات سلیم اور صدف بھابھی مجھے کمرے میں چھوڑنے آئیے۔۔۔ دروازے پر سلیم نے صدف کو کہا ۔۔۔ تم اندر بھابی کے پاس جاو۔۔۔ مجھے شیراز سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔ وہ اچھا جی کہہ کر شرارت سے ہنستی کمرے میں چلی گئیں۔۔ میں نے حیران ہو کر سلیم کو دیکھا جو کچھ زیادہ ہی سیریس لگ رہا تھا ۔۔۔ اور بولا۔۔۔ گانڈو اب اس وقت تجھے کونسی بات یاد آ گئ ہے۔۔؟ بکواس کر اور اپنی بیوی کو لیے کر نکل۔۔۔۔ بہن چود اب تو میرا لوڑا درد کرنا شروع ہو گیا ہے۔۔۔ سلیم بولا ۔۔۔ جو میں کہہ رہا ہوں دیھان سے سن ۔۔۔۔ اس بات کوکرنے کا یہی صحیح وقت ہے۔۔۔ اندر جو بیٹھی ہے۔۔۔ تیری کوئی چلتی پھرتی معشوق یا تجربےکار آنٹی نہیں ہے ۔۔۔ جس سے جآتے ہی تو نے چوپے لگوانے ہیں ۔۔۔۔ اس کو گھوڑی بنا کے اپنا لوڑا گھسا دینا ہے۔۔۔ وہ تیری بیوی ہے۔۔ اور شرارتی شکل بنا کر بولا ۔۔۔ اور امید ہے کہ کنواری ہوگی۔۔۔ میں گالی دینے لگا تو اس نے اشارے سے روکا ۔۔۔۔ اور بات سنجیدگی سے جاری رکھتے ہوے بولا۔۔۔ یہ ساری زندگی تیرے ساتھ ہے ۔۔۔ تو شروعات ایسی کرنا کہ ساری زندگی اچھی گزرے۔۔ کسی بہن چود کی باتوں میں نہیں آنا ۔۔۔ کہ بس پہلی رات بلی مارنی ہی مارنی ہے ورنہ بیوی سر چڑھ جائے گی۔۔۔ اس کا اشارہ ہمارے باقی دوستوں کی طرف تھا ۔۔۔۔ جو صبح سے مجھے کہہ رہے تھے ۔۔۔ کوئی کشتا کھا لے ۔۔۔ آج رات بلی ضرور مارنی ہے۔۔۔ عزت بے عزتی کا مسلہ ہے۔۔۔ سلیم مزید بولا ۔۔۔ بس جو بھی کرنا ۔۔۔ بہت آرام سے ۔۔۔ سکون سے۔۔۔ اس کی مرضی سے ۔۔۔ اور اس کو مائی ڈئیر سمجھ کر کرنا۔۔۔۔ کسی کی استعمال شدہ مائی سمجھ کر نہیں کرنا۔۔۔ آج ایک دفع پھر مجھے وہی آٹھویں کلاس والا سلیم یاد آیا ۔۔۔ جو مجھے بچہ سمجھ کر سمجھاتا تھا۔۔۔ میں اس کی باتیں سن کر ہنس پڑا ۔۔۔ اور اس کے گال پر پپی لیے کر بولا۔۔۔ اچھا استاد جی ۔۔۔ جیسا آپکا حکم۔۔۔ سلیم نے اپنی گال صاف کی اور صدف کو آواز لگائی ۔۔ جلدی باہر آ جاو ۔۔۔ اس کے تو حالات بہت خراب ہیں ۔۔۔ میرے ساتھ ہی شروع ہو رہا ہے۔۔ بھابی بولئں ۔۔ بس آ رہی ہوں ۔۔۔ اور دو منٹ میں باہر آ گئیں اور مجھے کمرے میں دھکیل دیا۔۔ کمرے ميں داخل ھوا تو کمرہ تازہ گلاب اور موتیہ کے پھولوں کی خوشبوہ سے مہک رہا تھا۔۔۔ نرمین بستر پر بيٹھي تھی۔۔۔۔ فلمي دولہن کی طرح گھونگھٹ تو کوئی بھی نہ تھا ۔۔۔ بس ايک حسين چھرہ تھا ۔۔۔ جس پر موجود موٹي موٹي آنکھيں تھيں ۔۔۔ جو مجھے ديکھ رہی تھیں ۔۔۔ جب ميں نے اُن ميں ديکھا تو وہ جھُک گئيں۔۔۔ شادي سے پہلے ہماری کوئی ملاقات نہيں ہوئی تھی ۔۔۔ بس فون پر باتيں ہوتی تھیں ۔۔۔۔ ہاں تصاوير ديکھی تھیں۔۔۔ جو بہت خوبصورت ھوتیں تھیں۔۔۔ پھر بھی دِل ميں ايک خوف تھا ۔۔۔ کہ ساری خوبصورتی بس فلٹرز کا کمال نہ نِکل آئے۔۔۔۔ اِس بارے میں جب بھی امی سے پوچھتا تو تسلياں کافی مِلتیں۔۔۔۔ کہ بيٹا ساری عمر دعائيں دو گے کہ کيا بيوی ڈھونڈ کر دی ہے۔۔۔ اب حقيقت ميں ديکھا تو دل سے واقعی دعائیں نکلئں۔۔ میری اس طرح کی فل ارینج شادی پرسب سے زیادہ خوش صدف بھابھی تھی۔۔۔ بقول ان کے میری شادی اسی طرح ہی ہو سکتی تھی ۔۔۔ اگر ملاقاتیں پہلے ہو جاتیں تو میں نے نرمین کو بھی دھوکا دے کر بھاگ جانا تھا۔۔۔ خیر بات ہو رہی تھی نرمین کی۔۔ نرمين دراز قد ۔۔۔ بال سلکی اور کمر تک لمبے۔۔۔ رنگت سفيد ۔۔۔ کہ بغير کسی ميک اپ کے بھي خوبصورت بلکے حسين لگتی۔۔۔ ديکھ کر سکون کا سانس ليا ۔۔۔ کہ بندي حقيقت ميں تصويروں سے بڑھ کے حسين ہے۔۔۔ جب ميں بستر پر بيٹھا ۔۔۔ تو نرمين جو کہ پہلے ہی سمٹی سی بيٹھی تھی ۔۔۔ اور زيادہ سمٹ گئی۔۔ اُس کی حالت ديکھ کر ميري ہنسي نکل گئ۔۔۔ ميں نے کہا ۔۔۔ کيا ہوا اتنی ڈر کيوں رہي ہو ۔۔۔؟ ميں وہی ہوں جس کے کان ساری ساری رات فون پر کھاتی تھی ۔۔۔۔ اور اب تمھاری ساری ہوا ہی نکل گئ ہے۔۔۔ پريشان مت ہو۔۔۔ نہيں تمہں کھا جاتا۔۔۔ ليکن دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں۔۔۔ ميں نے آہستگی سے نرمين کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں ميں پکڑ ليا ۔۔۔ اور اس کا نام پکارہ ۔۔۔۔ اور تب وہ حسين آنکھيں اُٹھيں ۔۔۔۔ اس کی آواز نکلی ۔۔۔ جی! ميں نے کہا ۔۔۔ اتنی ڈر کيوں رہی ہو۔۔۔؟ وہ بولی ۔۔۔ ڈر والی بات نہيں ۔۔۔ بس ماحول ايسا ہے کہ جھجھک آ رہی ہے۔۔۔ ميں بولا ۔۔۔ تو ماحول کو دوستانہ بنا ليتے ہيں ۔۔۔ يہ کہہ کر ميں اٹھا ۔۔۔ اور بيڈ کی سائيڈ ٹيبل کی داراز سے نرمين کا گفٹ نکالا۔۔۔۔ جو ايک سونے کا لاکٹ سیٹ تھا۔۔۔ میں نے لا کر وہ نرمین کو دیا اور بولا ۔۔۔ یہ تمہاری منہ دیکھائی ۔۔۔ تم میری سوچ سے بھی زیادہ پیاری ہو۔۔۔ میں جتنا شکر کروں کم ہے۔۔۔۔ اپنی تعریف سُن کر نرمین کافی حد تک ریلیکس ہو گئ ۔۔۔ اور لاکٹ کی تعریف کرتے ہوے تحفے کے لیے میرا شکریہ ادا کرنے لگی۔۔۔ ایسی طرح ہلکی پھلکی باتیں شوروع ہو گئیں ۔۔۔ نرمین بلکل نارمل ہو گئ ۔۔۔ اور تھوڑی دیر پہلے والی اُس کی جھجھک ۔۔۔۔ بلکل ختم ہو گئ ۔۔۔ تب میں نے اسے کہا ۔۔۔ ہمیں کپٹرے وغیرہ چینج کر کے ریلیکس ہو جانا چاہے۔۔۔۔ نرمین بولی ۔۔۔ پہلے یہ بھاری دوپٹہ اور زیورات وغیرہ تو اتار لوں۔۔۔ میں نے کہا ۔۔۔ لاو میں تمہاری مدد کرتا ہوں ۔۔۔۔ سب سے مشکل کام وہ سینکٹرں کامن پنز اتارنا تھا ۔۔۔۔ جو اُسکی بیوٹیشن نے اسکی سٹائلینگ کے لیے دوپٹے اور سر پر لگائیں ہوئیں تھیں۔۔۔ ان سب پنز اور جیولری سے فارغ ھو کر میں واش روم گھس گیا ۔۔۔ شیروانی اتاری ۔۔۔ آگے کے وقت کا سوچ کر اٹھتے لن کو سہلایا ۔۔۔ کہ استاد بس تھوڑا صبر کر لے ۔۔۔ آگے موجيں ہی موجیں ہیں۔۔۔ لن کو تسلی دیے کر میں نے ٹی شرٹ اور پاجامہ پہنا۔۔۔ پرفیوم لگایا اور واش روم سے کمرے میں آ گيا۔۔۔ ادھر نرمین کو ہیوی دوپٹے اور زیورات سے آزادی مل چکی تھی ۔۔۔ میرے باھر آتے ہی اس نے آپنی نائٹی پکڑی اور واش روم چلی گئ۔۔۔  اور میں اپنے لن کو پکڑ کے اس کا انتظار کرنے لگ گیا۔۔۔ آخر کار انتظار ختم ہوا ۔۔۔ واش روم کا دروازہ کھلا ۔۔۔ اور نرمین کو دیکھ کر میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔۔۔ لال رنگ کی پاوں تک آتی سلکي ميکسي ۔۔۔۔ جس کا گلا کافي ڈيپ تھا ۔۔۔ جس ميں سے نرمين کے بڑے بڑے ممے باہر آنے کو بے تاب ہو رہے تھے۔۔۔۔ سلکيی ميکسي ميں نرمين کا فگر کافي واضع ہو رہا تھا-۔۔ ۳۴ سائز کے کھڑے دودھ کی طرح سفيد ميکسي سے ھاف باھر آتے ممے۔۔۔۔ ۲۸ کی کمر۔۔۔ پيٹ پر کوئی فالتو چربئ نہيں ۔۔۔ اور ۳۶سائز کی گانڈ۔۔۔۔ میں کچھ دير تک بيڈ پر بت بنا بيٹھا نرمين کو ديکھتا رھا۔۔۔ ميری نظروں کی گرمی محسوس کرکے ۔۔۔ نرمين نے آپنے مموں پر ہاتھ باندھ ليے ۔۔۔ اور تب مجھے ہوش آئی ۔۔۔ ميں بيڈ سے اُٹھا تو نرمين کی نظر سيدھی ميرے پاجامہ پر گئ ۔۔۔ جدھر ميرا لن ساری احتياتیں بھلا کر کھڑا پاجامے کا تمبو بنا کر نرمين کو سلامی پيش کر رھا تھا۔۔۔ ميں نے بھی کہا ۔۔۔ جا استاد آج تيرا ہی دن ہے ۔۔۔ کرلے جو کرنا ہے۔۔۔۔ ادھر نرمين کا رنگ تمبو ديکھ کر سرخ ہو رہا تھا۔۔۔۔ ميں نے جا کر نرمين کو گلے لگا ليا۔۔۔ اس کے نرم ممے ميرے سينے ميں دب رہے تھے ۔۔۔ تو نيچے ميرا لن بھنگڑے ڈالتا نرمين کے چڈوں ميں گھستا اسکی پھدی کو مل رھا تھا۔۔ ميں نے آپنے ہونٹ نرمين کے ھونٹوں پر رکھے ۔۔۔ اس کے نيچلے ھونٹ کو چوسنا شروع کيا۔۔۔ جس پر نرمين نے کوئی مزاحمت نہیں کی ۔۔۔۔ اور میرا ساتھ دینے لگی۔۔ کسنگ کرتے ميں نے اپنا ايک ہاتھ نرمين کے ممے پر رکھا۔۔۔ ممہ بمشکل ميرے ہاتھ ميں پورا آ رہا تھا۔۔۔ ميں نے ميکسي کے اوپر سے مموں کو دبانا شروع کيا۔۔۔ ممے ايسے نرم کے جن کو دبانے سے سارے دن کی پريشانياں اور تھکاوٹ ختم ہو جاتی۔۔۔ مموں پر میرا ہاتھ محسوس کر کے نرمين کا جسم تھوڑا کانپا اوراس نے مجھے زور سے پکڑ لیا۔۔۔ اور میری کمر پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا۔۔۔ جبکہ ميرا دوسرا ہاتھ نرمين کی کمر کو سہلاتا ہوا ۔۔۔ اس کی موٹی گانڈ پر آ گيا ۔۔۔ اور ميں نے اُس کے چوتڑ دبانا شروع کيے۔۔۔ سیلکي کپڑے کی وجہ سے ايسا محسوس ھوتا تھا ۔۔۔ جيسے بغير کپڑوں کے جسم پر ہاتھ پھير رھا ہوں۔۔۔ نرمين کے ہونٹوں کا رس چوستے چوستے ميں اسے بيڈ تک لے آيا ۔۔۔ اور ليٹا کر خود اس کے ساتھ ليٹ گيا۔۔۔ ميری زبان نرمين کے منہ ميں گھسی تھی۔۔۔ اور ہاتھ ممے سے ہوتا نيچے نرمين کی پھدی کی طرف جا رہا تھا۔۔۔ ميرا دل ايسے دھڑک رھا تھا جيسے سينہ توڑ کے باھر آ جائے گا۔۔۔ نرمين کی تيز دھڑکن بھی مجھے صاف سنائ دے رہئ تھی ۔۔۔ جس سے مجھے پتا لگ رہا تھا ۔۔۔ کہ حالت اُس کی بھی خراب تھی۔۔۔ جيسے ہئ ميرے ہاتھ نے نرمين کی ناف کو کراس کيا اور پھدي کے قريب پہنچا ۔۔۔ نرمين نے فل زور سے ميرا ہاتھ پکڑ ليا۔۔۔ اور مجھے کندھے سے پکڑ کر سائید پر کرکے اٹھ کر بيٹھ گئ۔۔۔۔ ميں بھی حيران ہوتا اٹھ گيا۔۔۔ نرمين کو ديکھا تو وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپائے ہلکی ہچکياں ليتی رو رہی تھی۔۔۔ اُس کی حالت ديکھ کر ميں پريشان ہو گيا۔۔۔  کہ اس کو کيا ہو گيا۔۔۔؟ ابھی تو مزے ليے رہی تھی۔۔۔۔ ميں نے اس کے ہاتھ اس کے چہرے سے پيچھے کيے ۔۔۔ اور پوچھا ۔۔۔ کيا ہوا ہے۔۔۔؟ ليکن نرمين جواب دينے کی بجائے اور زيادہ رونا شروع ہوگئ۔۔۔۔ ميں اور پريشان ہو گيا۔۔۔ کہ ہوا کيا ہے ۔۔۔؟ ميں پوچھوں تو جواب بھی کوئی نہ ۔۔۔ بس روئی جائے۔۔۔۔ ميں نے کہا ۔۔۔ نرمین اگر تم سیکس نہيں کرنا چاہتی تو کوئی بات نہيں۔۔۔ ہم کچھ نہيں کرتے ۔۔۔ بس تم رونا بند کر دو۔۔۔  ليکن اس پر کوئی اثر نہ ہوا۔۔۔ تنگ آ کر ميں نے کہا۔۔۔ آگر تم نے رونا بند نہ کيا تو ميں گھر والوں کو بلانے لگا ہوں۔۔۔ تب اس نے جلدی سے کہا۔۔ نہيں کسی کو مت بلانا ميں نہيں روتی۔۔ ساتھ ہی اس نے آپنے آنسوں جلدی جلدی صاف کرنے شروع کيے۔۔ ميں نے سائیڈ ٹيبل سے پانی کا جگ اٹھایا اور گلاس ميں پانی ڈال کر نرمين کو ديا ۔۔۔ جو اس نے آرام سے پکڑ ليا اور پينا شروع کر ديا۔۔۔  پانی پی لیا تو میں نے گلاس واپس لے کر سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا اور اسے کہا ۔۔۔ اب بتاو۔۔؟ کيا تم ذہنی طور پر سيکس کرنے کے لیے تیار نہیں ہو۔۔۔؟ نرمین جلدی سے بولی ۔۔ يہ بات نہیں ہے۔۔۔ اور دوبارہ اس کی آواز بھیگ گی۔۔۔ میں نے کہا ۔۔۔ پليز یار اب رونا مت ۔۔۔ اگر بتانا ہے تو ٹھيک ۔۔۔ نہیں بتانا چاہتی تو بھی ٹھيک ہے۔۔۔ میں اب نہیں پوچھوں گا ۔۔۔ اور بيڈ پر ليٹ کر اپنے منہ پر بازو رکھ لیا۔۔۔ تھوڑی دير کمرے میں خاموشی رہی اور پھر نرمين کی آواز آئی۔۔۔ آپ غصہ تو نہیں کروگے۔۔۔؟ میں نے کہا یار تم مسلہ تو بتاو۔۔۔ میں تمہارا شوہر ہی نہیں دوست بھئ ہوں۔۔۔ بتاو تو سہی۔۔۔ مسلہ کیا ہے۔۔۔؟ نرمين بولی ۔۔۔ اصل میں ميں بہت شرمندہ ہوں۔۔ آج اتنی اہم رات ہے ۔۔۔ اور ميں اپ کے ساتھ کچھ کر نہیں سکتی۔۔۔ یہ سن کر تومیری گانڈ پھٹ گئ ۔۔۔۔ میں سوچ میں پڑ گیا۔۔ بہن چود چکر کیا ہے۔۔۔؟ ميں نے خود کو سمبھالا اور پوچھا ۔۔۔ وہ کيوں۔۔۔؟ کيا تم کو میں آچھا نہیں لگا۔۔۔؟ نرمين بولئ۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔ ايسی بات نہیں ہے۔۔۔۔ اصل ميں آج صبح ميری ماہواری شروع ہو گئ ہے۔۔۔ ميں نے ايک دم چہرے سے اپنا ہاتھ ہٹايا اور اٹھ کر بيٹھ گیا۔۔۔ حيرانی سے پوچھا۔۔۔ کيا کہا تم نے۔۔۔؟؟؟ مجھے ایسا لگا کہ شائید مجھے سننے میں غلطی لگی ہے۔۔۔۔ میں نے دوبارہ دوہرایا ۔۔۔ آج تمہاری مہواری شروع ہوئی ہے ۔۔۔؟ نرمین نے اپنا جھکا ہوا سر اور زیادہ جھکا لیا اور بولی۔۔۔ ہاں جی۔۔ میں کچھ دیر حیران پریشان بیٹھا رہا اور پوچھا ۔۔۔ جب میری امی وغیرہ شادی کی تاريخ رکھنے آئے تھے تو تمہاری امی نے تم سے تمہاری ماہواری کی تاریخ نہیں پوچھی تھی۔۔۔؟ نرمین بولی ۔۔۔ پوچھی تھی اور اس حساب سے ہی فرق رکھ کر شادی کی تاريخ رکھی تھی۔۔۔۔ میں اور زیادہ حیران ہوا اور پوچھا ۔۔۔ تو پھر یہ کیسے ۔۔۔؟ نرمین بولی ۔۔۔ میں نے اپنی ملنے والی ڈاکٹر سے پوچھا تھا ۔۔۔ وہ کہہ رہئی تھی کوئی پریشانی والی بات نہیں ہے ۔۔۔ بعض دفع ٹینشن کی وجہ سے ۱۰،۱۲ دن کا فرق پڑ جاتا ہے۔۔ میں نے دل میں ڈاکٹر کو گالیاں نکالیں ۔۔۔ اور سوچا بہن چود ۔۔۔ ایدھرمیری سوہاگ رات لوڑے لگ گئ ہے ۔۔ اور یہ کہہ رہئ ہے کوئی پریشانی کی بات نہیں۔۔۔۔ نرمین نے میری طرف دیکھا اور بھیگی آنکہوں کے ساتھ دوبارہ سوری بولی۔۔۔ اس کی حالت دیکھ کر مجھے اس پر ترس کے ساتھ پیار بھی بہت آیا ۔۔ میں نے اسے کندھوں سے پکڑا اور بولا۔۔۔ میری جان تم کیوں اتنا پریشان ہو رہی ہو۔۔۔؟ اور اس طرح بار بار سوری بول کر مجھے شرمندہ مت کرو۔۔۔ ہماری پہلی رات ہے وہ اس طرح سوری کرتے تو مت ضائع کرو۔۔۔ میری بات سن کر نرمین نے حیرانگی سے میری طرف دیکھا اور بولی۔۔۔ آپ سچ میں میرے پر غصہ نہیں ہو۔۔۔؟ میں بولا ۔۔۔ یہ ماہواری کو روکنا کیا تمھارے اختیار میں ہے ؟ نرمین بولی  ۔۔۔ نہیں بھلا میں کسے روک سکتی ہوں۔۔۔ ؟ ہاں اگر پہلے پتہ ہوتا تو اس کو لیٹ کرنے کی دوائی کھا سکتی تھی۔۔۔ لیکن مجھے تو اندازہ ہی نہیں تھا کہ یہ کمبخت آج آ جائے گی۔۔۔ میں نے کہا ۔۔۔ جب ایک چیز تمہارے اختیار میں ہی نہیں تو تم اس کے لیے شرمندہ ہو کر مافیاں کیوں مانگ رہی ھو۔۔۔؟ نرمین بولی ۔۔۔ اصل میں امی میری بہنیں اور دوست سب بہت پریشان تھیں ۔۔۔ کہ آپ اپنی سہاگ رات خراب ہونے پر پتہ نہیں کیسا ردعمل دیتے ہو۔۔۔ سنا ہے اکثر آدمی تو روٹین میں ماہواری آنے پر بھی بہت غصہ کرتے ہیں ۔۔ ہماری تو پھر سہاگ رات ہے۔۔۔ میں ہنس کر بولا ۔۔۔ وہ جاہل لوگ ہوتے ہیں ۔۔۔ اور ویسے بھی میں اوروں سے بہت الگ ہوں۔۔۔ اور یہ تمہیں وقت کے ساتھ پتا لگے گا۔۔ رہی سہاگ رات ۔۔۔ تو تم پریشان نہ ہو۔۔۔ ہماری ہر رات سہاگ رات ہو گی۔۔ یہ کہہ کر میں نے نرمین کو گلے سے لگا لیا ۔۔۔ اور اپنے ساتھ بستر پر لیٹا لیا۔۔ اس کے چہرے پر آئے اس کے بال سائیڈ پر کئیے ۔۔۔ اور شرارت سے کہا ۔۔۔ ویسے مہواری تمہاری آئی ہے میری تو نہیں۔۔۔ ہم سیکس تو کر ہی سکتے ہیں۔۔۔ نرمین حيران ہو کر بولی ۔۔۔ وہ کیسے ۔۔۔؟ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے مرجھائے لوڑے پر رکھا جو کہ مہواری والی بات سننے کے بعد ساری امیدیں چھوڑ کر دم توڑ چکا تھا ۔۔۔ اور ساتھ ہی میں نے نرمین کو دوبارہ کسنگ کرنی شروع کی ۔۔۔ اس کے ہونٹ کو چوسنا شروع کیا۔۔ اس کے ممے دبانا شروع کیے۔۔۔ میرے لوڑے نے خوشی سے جھٹکا مارا اور پھر کھڑا ہونا شروع ہوا۔۔۔ نرمین کا ہاتھ اس پر ہی تھا اس نے کسنگ چھوڑ کر میرے تمبو بنے پاجامے کو دیکھا ۔۔۔ اپنے ہاتھ کو لوڑے پر پھیرا جیسے یقین کرنا چاہ رہی ہو کہ یہ واقعی اتنا بڑا اور سخت ہے ۔۔۔ اور جلدی سے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا۔۔۔ میں نے پوچھا کیا ہوا۔۔؟ نرمین بولی ۔۔۔ کچھ نہیں ۔۔۔ میں نے دوبارہ اس کے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لے کر چوسنے شروع کیے ۔۔۔ ساتھ ہی نرمین کے مموں کو دبانا شروع کیا۔۔۔ میکسی کی بیک زپ کو کھولا ۔۔۔ اور کندھے سے پکڑ کر مموں سے نیچے کھینچا۔۔۔ میکسی کے نیچے نرمین نے لال رنگ کا ہی بریزیر پہنا ہوا تھا۔۔۔ لال برا میں دودھ جیسے سفید ممے بہت قیامت لگ رہے تھے۔۔۔ میں نے اس کی کیلویج پر زبان پھیری اور پھر دونوں مموں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لیے کر زور سے دبایا ۔۔۔ کہ نرمین کی سسکی نکل گئ۔۔۔ میں نے اس کا برا اتارنا چاہا تو اس نے ایک بار پھر روک دیا اور بولی۔۔۔ مجھے شرم آ رہی ہے لائٹ بند کر دئیں۔۔ مجھے برا تو لگا کہ بند لائٹ میں ان گورے گورے مموں کو دیکھوں گا کیسے۔۔۔ لیکن میں نے سوچا چلو پہلی رات ہے شرما رہی ہے اور بند کر کے اسں کا برا اتار دیا۔۔۔ نرمین کے نیپلز اکڑے ہوے تھے ۔۔۔ میں نے ان کو ہونٹوں سے کاٹا اور چوسنا شروع کیا۔۔۔ نرمین مزے سے سسک رہی تھی۔۔۔ میں نے اپنا لوڑا نکالا اور نرمین کے ہاتھ میں دیا اور اسے کہا اس کو دباو۔۔۔۔ نرمین نے تھوڑا دبایا اور چھوڑ دیا اور بولی۔۔۔ مجھے شرم آ رہی ہے ۔۔۔ اور میں جو اس سے چوپے لگوانے کی سوچ رہا تھا سمجھ گیا اس سے کچھ نہیں ہونا۔۔۔ میں نے اس سے کہا ۔۔۔ کوئی بات نہیں تمھاری ابھی طبیت نہیں ٹھیک ۔۔۔ تم آرام کرو۔۔۔ نرمین بولی ۔۔۔ آپ ناراض ہو۔۔۔؟ میں بولا۔۔۔ نہیں میں ٹھيک ہوں ۔۔۔ چلو آرام کرئیں ۔۔۔ اور اس کا منہ دوسری طرف کر کے اسے پیچھے سے گلے لگا لیا۔۔۔ میرا بیچارہ لوڑا نرمین کے چڈوں میں گھس کر دم توڑ گیا ۔۔ اور میں سہاگ رات کو بغیر کچھ کئیے سو مر گیا۔۔۔ [/font]
اگلی صبح نرمین کے گھر سے اس کے گھر والوں کے ساتھ اس کی ایک سہیلی بھی ناشتا لے کر آئی۔۔۔ اس کا نام سحریش تھا ۔۔۔ اور سب اسے سحر کہتے تھے۔۔۔ جب میری اور نرمین کئ فون پر بات ہوتی تھی ۔۔۔ تب بھی اس کا کافی ذکر سنا تھا۔۔۔ ایک سال پہلے اس کی شادی ہوئی تھی۔۔۔ بہت سمارٹ تھی ۔۔ فل فٹنگ والے کپٹرے پہنے ہوے تھی۔۔۔۔ ۳۸ سائز کے ممے ۔۔۔ ۴۸ کی کمر ۔۔۔ اور ۳۸ کی گانڈ ہو گی۔۔۔۔ ایک تو رات کو بھی کچھ نہیں کر سکا۔۔۔ اوپر سے اتنی سیکسی بندی سامنے بیٹھی ادائیں دیکھا رہی تھی ۔۔۔ میرا لوڑا پھٹنے پر آ رہا تھا۔۔۔ میں نے نوٹ کیا۔۔ سحر نرمین سے سرگوشیوں میں کچھ پوچھتی اور پھر میری طرف دیکھ کر شرارت سے ہنستی۔۔۔ جب کافی دیر یہ سلسلہ جاری رہا تو مجھ سے رہا نہیں گیا۔۔۔ اور آخر میں نے پوچھ ہی لیا۔۔۔ کیا ہوا ہے بھئ۔۔؟ سحر میری طرف جھک کر سرگوشی میں بولی ۔۔۔ جیجو کچھ ہوا ہی تو نہیں۔۔۔ اور قہقہے لگانے لگ گئ ۔۔۔ نرمین نے اسے گھور کر دیکھا تو وہ خاموش ہوئی ۔۔۔ ادھر ایک لڑکی کے منہ سے اتنا کھلا مزاق سن کر میں حقا بقا رہ گیا۔۔۔ نرمین لوگ ولیمے کی تیاری کے لیے پارلر نکل گئے۔۔۔ اور میں سلیم کے پاس جا بیٹھا۔۔۔ سلیم نے آنکھ مار کے پوچھا ۔۔۔ سنا حرامی کتنے گول کئے ہیں۔۔۔؟ میں نے کہا۔۔۔ بہن چود سوچ رہا ہوں مٹھ ہی لگا لوں۔۔ سلیم نے حیران ہو کر پوچھا۔۔۔ کیوں۔۔۔ کیا ہوا۔۔ ؟ میں بولا۔۔۔ ہوا ہی تو نہیں۔۔۔ سلیم بولا ۔۔۔ بہن چود تیرا کیا کھڑا نہیں ہوا۔۔۔؟ ایسا کچھ مسلہ تھا تو بتا ہی دیتا۔۔۔ حکیم واقف ہے میرا۔۔ میں سڑ کے بولا ۔۔۔ گانڈو بنڈ دے کے دیکھ لے ۔۔۔ حکیم کی ضرورت ہے یا نہیں۔۔ سلیم بولا ۔۔۔ تو بتا ناں۔۔۔ کچھ ہوا کیوں نہیں۔۔۔؟ میں نے اسے ساری بات بتائی تو وہ گانڈو ہنس ہنس کے پاگل ہونے والا ہو گیا ۔۔۔اور مجھے اور غصہ چڑتا گیا۔۔۔ مجھے اس طرح غصے میں دیکھ کر ۔۔۔ سلیم ایک دفع پھر سنجیدہ ہوا اور بولا ۔۔۔ شیراز ! تجھے پتہ تو ہے اس میں بھابی کا کوئی قصور نہیں ۔۔۔ میں بولا ۔۔۔ تو میں کب کہہ رہا ہوں اس کا قصور ہے  ۔۔۔ مجھے بس یہ غصہ ہے کہ وہ بلکل بھی گرم نہیں ہے ۔۔۔ نہ خود کچھ کرتی ہے۔۔۔۔اور نہ کرنے دیتی ہے ۔۔۔لائیٹ جلاو تو شرم ۔۔۔ لوڑا ہاتھ میں پکڑاو تو شرم آتی ہے۔۔۔ وہ مزے کدھر دے گی۔۔۔؟ سلیم بولا۔۔۔ بہن چود ۔۔۔ پہلے دن سے ہی وہ لڑکیاں سب کچھ کرتی ہیں جنھوں نے شادی سے پہلے ہی سب کچھ کیا ہوتا ہے ۔۔۔ اس طرح کے مزے لینے تھے ۔۔۔ تو کر لینی تھی ناں سعدیہ۔۔ ہما ۔۔ یا اپنی اور کسی سہیلی سے شادی۔۔ شکر کر ایسی لڑکی ملی ہے ۔۔۔ اس کو جیسا سکھائے گا وہی کرے گی ۔۔۔ بس تھوڑا ٹائم نکال لے اور اس شرم کے مزے لے۔۔۔ بات تو پتے کی تھی ۔۔۔ اس لیے بیٹھ گئ میرے موٹے دماغ میں۔۔۔ میں ہنس کے بولا ۔۔۔ ویسے سلیم ۔۔۔ بہن چود ۔۔۔ تو ہے ہر چیز میں میرے سے آگے۔۔ سلیم بولا ۔۔۔ کتنی دفع کہوں ۔۔۔ ٹٹے جتنے مرضی بڑے ہو جائیں رہتے۔۔۔ ميں تیزی سے بولا ۔۔۔ ہاں ہاں لن کے نیچے ہی ہیں ۔۔۔ اور تو ہے ہی بہت بڑا لن۔۔ ہم لوگ اٹھے اور ولیمے کی تیاریوں میں لگ گئے۔۔۔[/font]

YUM Stories

Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #25 on: June 02, 2020, 02:48:27 pm »

Offline Sexystranger

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 121
  • Reputation: +3/-0
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #26 on: June 02, 2020, 02:50:51 pm »
سلیم اور بھابی نے سلامی میں ہمیں تھائ لینڈ میں سات دن کا ہنی مون پیکج دیا۔۔۔ بکنگ پندرہ دنوں بعد کی تھی ۔۔ سلیم میرے کان میں بولا ۔۔۔ پندرہ دن بعد اس لیے کہ پانچ دن بعد تو گھر میں ہی کھاتہ کھول لیے ۔۔۔ اور اگلے دس دن میں بھابی کی شرم بھی ختم ہو جائے گی۔۔۔ میں نے کہا ۔۔۔ تو مہان ہے بہن چود۔۔۔  اگلے چار دن دعوتوں میں اور راتیں نرمین کو تیار کرنے میں گزرے اور تو  کچھ نہیں ہوا لیکن کسنگ اور فور پلے خوب ہوتا رہا۔۔۔ اور آ گیا وہ دن ۔۔۔ جس دن کا مجھے انتظار تھا ۔۔۔ نرمین اپنی امی کی طرف گئی ہوئی تھی ۔۔ اس نے رات کو واپس آنا تھا ۔۔۔ تو میں نے اسے سرپرائز دینے کا سوچا۔۔ میں نے رات کے لیے خوب تیاری کی۔۔ تازہ پھولوں کے گلدستے ۔۔۔ اور پورے کمرے میں گلاب کی پتیاں بکھیریں ۔۔۔ نرمین کے لیے بلیک رنگ کی بہت ہی سیکسی نائٹی خریدی۔۔۔ رات کو کمرے میں آئے تو نرمین شرارت سی بولی ۔۔۔ آج کیا خاص ہے جو اتنی تیاریاں کی ہوئی ہیں۔۔۔؟ میں نےکہا ۔۔۔ آج چھٹیاں ختم ہو رہی ہیں ۔۔۔ آج جشن ہوگا۔۔۔۔ نرمین بولی ۔۔۔ کونسی چھوٹیاں۔۔۔؟ کس کی چھٹیاں ۔۔۔ ؟ میں نے لن پر ہاتھ رکھ کر کہا ۔۔۔ میرے منے کی چھٹیاں ۔۔۔ آج اس نے اپنی منی کو ملنا ہے۔۔۔۔ نرمین بولی ۔۔۔ وہ کیسے ۔۔۔ ؟ میری ماہواری ابھی ختم تو نہیں ہوئی۔۔ میں نےکہا ۔۔۔ جی نہیں ختم ہو گئ ہے ۔۔۔ میں نے دن کیا گھنٹے بھی گن گن کے گزارے ہیں  ۔۔۔ نرمین بولی ۔۔۔ ہاں ۔۔۔ تو آج ساتواں دن ہے ۔۔۔ میری تو آٹھویں دن ختم ہوتی ہے۔۔ میں یہ سن کے بولا۔۔۔ کھاو قسم؟ْ؟ یہ سن کر نرمین کی ہنسی نکل گئ اور وہ بولی ۔۔ اس میں قسم والی کیا بات ہے۔۔۔؟ میں نے کہا ۔۔۔ اچھا بتاو ناں ؟ ختم ہو گئ ہے ناں ؟ نرمین ہنس کر بولی ۔۔۔ ہاں جی جناب ۔۔۔ بندی تیار ہے ۔۔۔ یہ سنتے ہی میرے لوڑے نے لی انگڑائی اور میں نے نرمین کو پکڑائی اس کے لیے لی ہوئی نیو نائٹی۔۔۔  نرمین مسکرا کر بولی ۔۔۔ اچھا جی ۔۔ تیاریاں چیک کرو ذرا۔۔۔ اور واش روم میں گھس گئ۔۔۔ میں نے کمرے میں ہی اپنے کپڑے بدل لیے اور شارٹ سی نیکر اور شرٹ پہن لی۔۔۔  نرمین باہر آئی۔۔۔ میں نے جیسا سوچا تھا اس سے بڑھ کر اس کو سیکسی پایا۔۔۔ نائٹی بیک لیس تھی یعنی کمر بلکل ننگی تھی ۔۔۔ اور  پیچھے سے بمشکل صرف گانڈ کو کور کر رہی تھی۔۔ سامنے سے مموں پر نپلز سے شروع ہو کر۔۔۔ نیچے بس پھدی کو کور کر رہی تھی۔۔۔ کالے رنگ کی اس نائٹی میں نرمین کا گورا جسم چمک رہا تھا۔۔۔ میں بیڈ کی سائیڈ پر ٹانگیں لٹکا کر بیٹھا تھا ۔۔۔ میں نے اس کو اپنے پاس بلایا اور اپنی گود میں بیٹھا لیا۔۔۔ اس کی کمر کو سہلانا شروع کیا ۔۔۔ اور ساتھ میں اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں سے جوڑ دئیے۔۔۔ اس کے ہونٹوں کو چوسنا شروع کیا۔۔۔ اس کے منہ میں اپنی زبان ڈالی اور اپنی زبان کو اسکی زبان پر پھیرا۔۔۔ پھر اس کی زبان کو چوسنا شروع کیا۔۔۔۔ نرمین بھی میری زبان کو چوس رہی تھی۔۔۔ پھر میں نے نرمین سے کہا کے بیڈ پر الٹی لیٹ جاو۔۔۔ وہ لیٹ گئ  ۔۔۔ میرے سامنے حسین ترین نظارہ تھا۔۔۔ نرمین الٹی لیٹی تھی ۔۔۔ اس کی کمر بلکل ننگی تھی ۔۔۔ اور گانڈ باہر نکلی تھی ۔۔۔ میں اس کے ساتھ لیٹ گیا ۔۔۔ اور اس کی کمر کو کس کرنا شروع کیا ۔۔۔ میں نرمین کی کمر پر کس کر رہا تھا ۔۔۔ اس کو چاٹ رہا تھا۔۔۔ میں کمر سے شروع ہوا ۔۔۔ اور کس کرتا ہوا۔۔۔ چاٹتا ہوا ۔۔۔ اس کی گانڈ پر آ گیا۔۔۔۔ اس کے چوتڑ وں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے دبانا شروع کیا۔۔۔ اس کی نائٹی کو اوپر کیا۔۔۔ نیچے اس نے کالی میچنگ باریک ڈوری والی پینٹی پہنی تھی ۔۔۔ جس نے اس کے آدھے چوتڑ ڈھانپے ہوے تھے ۔۔۔ میں نے اس کے چوتڑوں والا کپڑا اکٹھا کیا ۔۔۔ اور اس کی گانڈ کی لکیر میں گھسا دیا ۔۔۔ اور ننگے چوتڑوں کو چاٹنا شروع کیا ۔۔۔ ساتھ میں ان کو دباتا جاتا۔۔ نرمین کی سسکیوں کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی۔۔۔ میں اس کے چہرے کے پاس آیا اور اس کو بازو سے پکڑ کر سیدھا لٹایا۔۔۔ ایک دفع پھر کسنگ شروع کی ۔۔۔ اور ساتھ میں نرمین کے ممے دبانے شروع کر دئیے ۔۔۔ مموں کو کس کرتے کرتے اس کی نائٹی کندھوں سے اتار کر۔۔۔۔ نیچے پیٹ تک کھینچ دی۔۔۔۔ اب وہ ہاف کپ برا میں تھی ۔۔۔ میں نے مموں کو دبآتے ہوے۔۔ مموں کے اوپر والے ننگے حصے کو چوسنا اور چاٹنا شروع کیا۔۔۔ اس کو کروٹ میں کر کہ ۔۔۔ اس کے برا کا ہک کھولا ۔۔۔ تب نرمین بولی ۔۔۔ لائٹ بند کر دو۔۔۔ میں نے ایک دفع منہ بنایا ۔۔ تو وہ بولی ۔۔۔۔ پلیز۔۔۔ ورنہ میں کمفرٹیبل نہیں ہوں گی۔۔۔ [/font]
میں نے لائٹ بند کی تو کمرے میں ہلکی سی دودھیا [/font]
روشنی پھیل گی۔۔۔  جیسی چاندنی رات ہو۔۔۔ نرمین نے حیران ہو کر چھت پر دیکھا جدھر آدھے چاند کی شکل کی نائٹ لائٹ جل رہی تھی ۔۔۔ اس نے میری طرف دیکھا میں بولا۔۔ مجھے پہلے ہی پتا تھا تم کو لائٹ سے مسلہ ہوگا ۔۔۔ اس لیے میں نے انتظام کر لیا تھا۔۔ اب تم بھی خوش اور میرا بھی گزارا ہو ہی جائے گا۔۔۔ میری بات سن کر نرمین ہنس پڑی اور بولی ۔۔۔ ٹھیک ہے جناب ۔۔۔ میں نے اس کا برا اتارا ۔۔۔ دنیا کے حسین ترين پنک کلر کےنپلز میرے سامنے تھے۔۔۔۔ میں نے مموں کو ہاتھ میں لیا ۔۔۔ اور نپلز پر زبان پھیرنی شروع کی ۔۔۔۔ مموں کو دبا کر نپلز کو دانتوں سے کاٹا ۔۔۔ نرمین کی سسکیاں اور تیز ہو گئیں۔۔۔ میں نے اس کی کیلویج پر زبان پھیری اور نیچے کی طرف جانا شروع کیا ۔۔۔ اس کی نائٹی کو نیچے کیا ۔۔۔ اور ٹانگوں سے گزار کر اتار دیا ۔۔۔ اب نرمین صرف پینٹی میں تھی ۔۔۔ میں اس کے پیٹ کو چاٹتا ہوا اس کی ناف تک آیا ۔۔۔ اس کی ناف میں زبان گھسائی ۔۔۔ نرمین میرے بالوں میں ہاتھ پھیر رہی تھی ۔۔۔ اورساتھ سسکتے ہوے تڑپ رہی تھی۔۔۔ میں اس کی ناف سے نیچے آیا ۔۔۔ ناف اور پھدی کے درمیانی حصے کو چاٹا ۔۔۔ پھراور نیچے آیا ۔۔۔  اس کی پھدی  اور ٹانگ کے درمیان والی جگہ پر کس کیا۔۔۔ نرمین نے تڑپ کر ٹانگیں اکٹھی کر لیں ۔۔۔ میں نے مظبوطی سے اس کی ٹانگوں کو پکڑا اور دوبارہ سیدھا کیا ۔۔۔ ساتھ ہی پینٹی کی ڈوریاں کھول کر نرمین کی پھدی کو ننگا کیا۔۔۔۔  اس کی پھدی بلکل نرم سی اور بغیر کسی بال کے تھی ۔۔۔ پھدی کے ہونٹ آپس میں جڑے تھے  ۔۔۔ میں نے ان کو الگ کیا تو وہ بلکل گلابی تھے۔۔۔ میں نے اس کے پھدی کے ہونٹوں پر کس کی ۔۔۔ اور نرمین ایک دفع پھر تڑپ گئ۔۔۔ پھدی میں سے بہت ہی مزیدار خوشبو آ رہی تھی۔۔۔ میں نے اپنی انگلی کا کنارا نرمین کی پھدی میں گھسایا ۔۔۔ اسے پھدی کے جوس سے گیلا کیا ۔۔۔ اور ۔۔۔ چاٹ گیا۔۔۔ اس کا ٹیسٹ اتنا مزیدار تھا کہ مجھ سے رہا نہیں گیا۔۔۔ اور میں نے اپنے ہونٹ نرمین کی پھدی سے جوڑ دئے۔۔۔ اور زور زور سے چاٹنا شروع کیا۔۔۔  اپنی زبان سے اس کی پھدی کو چودنا شروع کیا۔۔۔ نرمین مزے میں سسک رہی تھی ۔۔۔ اپنے سر کو دائیں بائیں مار رہی تھی ۔۔۔ وہ بیڈ شیٹ کو اپنی مٹھیوں میں بھر رہی تھی۔۔۔ اس کی پھدی میں پانی کا سیلاب آیا ہوا تھا ۔۔۔۔ اور میں اس کی پھدی کا جوس پئیے جا رہا تھا۔۔۔  میں نے نرمین کے پھدی کے دانے کو اپنی زبان سے چھیڑنا شروع کیا۔۔۔ ساتھ اپنی انگلی اس کی پھدی میں گھسائی ۔۔۔ اور آرام آرام سے اندر باہر کرنا شروع کیا ۔۔۔۔  نرمین کا جسم اکڑنا شروع ہوا ۔۔۔ اس نے میرے سر کو پکڑ کر اپنی پھدی کے ساتھ دبا دیا ۔۔۔ اور تھوڑی دیر میں وہ ڈسچارج ہو گئی۔۔۔ اب میں اٹھا اور اپنے کپڑے اتارے۔۔۔ نرمین کو ٹانگوں سے پکڑ کر بیڈ کے کنارے پر کیا ۔۔۔ اور خود اس کی ٹانگوں کے درمیان آ کر فرش پر کھڑا ہو گیا۔۔۔ نرمین ابھی تک چوپا لگانا نہیں شروع ہوئی تھی ۔۔۔ اس لیے میں انتظام کر چکا تھا۔۔۔ میں نے بیڈ کے سائیڈ ٹیبل سے لوشن نکالا ۔۔۔ اچھی طرح سے اپنے لوڑے کو اس سے گیلا کیا۔۔۔ اپنے ٹوپے کو نرمین کی پھدی کی لکیر میں پھیرنا شروع کیا ۔۔۔ ٹوپا لوشن اور پھدی کے جوس سے گیلا ہوا تھا۔۔۔ میں نے اسے پھدی کے سوراخ پر رکھا ۔۔۔ اور آرام آرام سے اندر کرنا شروع کیا ۔۔۔ ابھی بمشکل ٹوپا اندر گیا تھا ۔۔۔ کہ نرمین نے اپنا جسم اکڑا لیا ۔۔۔ وہ ہلکا ہلکا کانپ رہی تھی ۔۔۔ میں نے اس کے پیٹ پر کسنگ شروع کر دی ۔۔۔ اور ٹوپی کو ہی اندر باہر کرنا شروع کیا ۔۔۔ تھوڑی دیر میں نرمین ریلیکس ہوئی تو میں نے آہستہ آہستہ دوبارہ اپنا لوڑا اور اندر کرنا شروع کیا۔۔ اب آدھا لوڑا اندر تھا ۔۔۔ میں گھسا لگاتا ۔۔۔ اور تھوڑا تھوڑا اندر کرتا جاتا۔۔۔ نرمین اب کافی حد تک لوڑے کی عادی ہو چکی تھی ۔۔۔ اور کافی ریلیکس ہو چکی تھی ۔۔۔ اس نے اپنا جسم بھی بلکل ڈھیلا چھوڑا ہوا تھا ۔۔۔ تب میں نے اپنی پہلی استانی سعدیہ کا سکھایا ہوا سبق دھرایا ۔۔۔ اپنے ہونٹ نرمین کے ہونٹوں سے جوڑے ۔۔۔ اسے کسنگ کرتے کرتے ہونٹ سختی سے اس کے ہونٹوں سے جوڑے ۔۔۔ نرمین کو کہلوں سے سختی سے پکڑ کر ایک جاندار گھسا لگایا۔۔۔ میرا سارا لوڑا اس کی پھدی کو کھولتا ہوا اس کی بچے دانی کو جا لگا۔۔۔ نرمین کی گھٹی گھٹی چیخیں نکلیں اس کا جسم اکڑ گیا ۔۔۔ اس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور جسم کانپ رہا تھا۔۔۔ میں کچھ دیر اسی پوزیشن میں رہا۔۔ اس کو پیار سے سہلاتا رہا۔۔۔ جب نرمین کی سسکیاں کچھ کم ہوئیں تو میں نے اس سے پوچھا ۔۔۔ تم ٹھیک ہو۔۔۔؟ نرمین نے فل غصے سے مجھے دیکھا اور بولی ۔۔۔ آپ کو کیا۔۔۔؟ آپ کرو جو کرنا ہے۔۔۔ آپ کو تو بس آپنے مزے سے مطلب ہے۔۔۔ میں جیوں یا مروں آپ کو کیا۔۔؟ میں نے ہنس کر کہا ۔۔۔ میری جان ۔۔۔ مشکل وقت گزر گیا ۔۔۔ اب سے بس مزے ہی مزے ہیں۔۔۔ نرمین بولی ۔۔۔ میری جان پر بنی ہے ۔۔۔ اتنی جلن ہو رہی ہے ۔۔۔ اور آپ کو مزاق سوجھ رہے ہیں ۔۔۔ مجھے نہیں کرنے اس طرح کے درد بھرے مزے۔۔۔ نرمین کو باتوں میں لگا کر میں اب پورے لن سے گھسے لگا رہا تھا۔۔۔ میرا لوڑا اب آرام سے اندر باہر آ جا رہا تھا۔۔۔ کچھ دیر آرام سے کرنے کے بعد میں نے تھوڑی سپیڈ پکڑی۔۔۔ نرمین کو چودتے ہوے میں اس سے باتیں بھی کرتا رہا ۔۔۔ اور ساتھ ساتھ اس کے جسم کو سہلاتا جاتا ۔۔۔ اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد کسنگ بھی کرتا جاتا۔۔۔ نتیجتاً وہ دوبارہ ریلیکس ہو گئ۔۔  اور اس نے آپنی ٹانگیں کھول کر مجھے آسانی سے اپنا لوڑا اندر باہر کرنے کا موقع دیا۔۔۔ مجھے لن پر کافی چپچپاہٹ محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔ لیکن میں نے باہر نہیں نکالا کہ نرمین نے دوبارہ اندر نہیں لینا ۔۔۔ اور تیز تیز جھٹکے مارنے شروع کیے۔۔۔ پھر نرمین کی ٹانگیں اٹھائیں ۔۔۔ اور گھسے مارنے شروع کیے ۔۔۔ اس کی کنواری پھدی میں لوڑا رگڑ کھاتا اندر باہر ہوتا تو عجب سرور آتا ۔۔۔ تھوڑی دیر میں مجھے محسوس ہوا کہ میں ڈسچارج ہونے والا ہوں۔۔۔  تو میں نے اپنی سپیڈ اور تیز کر دی ۔۔۔ اس دوران مجھے اپنے لن پر نرمین کی پھدی کی گرفت بڑھتی محسوس ہوئی ۔۔۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ کبھی کھل رہی ہے اور کبھی بند ہو رہی ہے۔۔ نرمین کی حالت بتا رہی تھی۔۔۔  کہ وہ منزل پر پہنچ چکی ہے ۔۔۔ اور اسی وقت میں نے بھی اپنی منی نرمین کی پھدی میں چھوڑنا شروع کردی۔۔۔     [/font]
ڈسچارج ہو کر میں بیڈ پر نرمین کے ساتھ لیٹ گیا اور نرمین نے اس طرح سکون کا سانس لیا جیسے اپنی جان چھوٹنے پر شکر کر رہی ہو۔ میں اٹھا اور واش روم گھس گیا اور جا کر اپنے لوڑے کو جس پر میری منی اور نرمین کا خون لگا ہوا تھا صاف کیا- میرے حساب سے ہماری پہلی چودائ بہت شاندار رہی تھی۔ میں نے باتھ ٹب میں گرم پانی کھول کر اسے بھرنے کے لیے چھوڑا اور واپس کمرے میں آگیا۔ کمرے میں آیا تو نرمین نائٹی پہن چکی تھی اور لمپ جلا کر حیران ہوئی بیڈ شیٹ پر پھیلے اپنے خون کو دیکھ رہی تھی مجھے دیکھ کر بولی دیکھیں میرا کیا حال کیا ہے آپ نے۔۔ اب آپکو سکون مل گیا۔ میں بولا جانو پریشان مت ہو جو ہونا تھا ہو گیا اب آگے بس مزے ہی مزے ہیں۔ نرمین جل کر بولی میں نے نہیں لینے ایسے مزے اتنی جلن ہو رہی ہے۔ میں نے اسے پکڑا اور واش روم لیے آیا اور بولا تھوڑی دیر گرم پانی والے ٹب میں لیٹو تمھاری جلن ٹھیک ہو جائے گی۔ نرمین بولی آپکو بہت پتہ ہے میں نے ہنس کر اسکی بات کو ٹالا اور کہا چلو جا کر لیٹو۔ نرمین نے مجھے واش روم سے نکالا اور بولی اچھا جی آپ جا کر لیٹو میں آتی ہوں۔ میں نے آ کر بیڈ شیٹ چینج کی اور لیٹ گیا۔ تھوڑی دیر میں نرمین بھی آ گئ میں نے پوچھا اب کیسی ہے جلن تو وہ بولی کافی فرق ہے اب۔۔ پہلے تو میرے سے تو چلا بھی نہیں جا رہا تھا۔ میں نے اس کو ساتھ لیٹا لیا اور اس کے سر کے نیچے اپنا بازو رکھ کے اسے اپنے ساتھ لگا لیا اور پوچھا کیسا لگا۔۔ وہ بولی بہت درد ناک تجربہ تھا۔ سنا میں نے سحر سے ہوا تھا لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اتنا خون نکلے گا اور اتنی جلن ہو گی۔ اور سحر تو کہ رہی تھی اسے بہت مزا آیا تھا بلکے اس کو تھا کہ نعمان اور زیادہ کرے لیکن نعمان بہت جلدی فارغ ہو گیا تھا اور ادھر مجھے تھا آپ جلدی فارغ ہو جاو اور آپ نے اتنا ٹائم لگا دیا۔ میں نے تو شکر کیا جب آپ ڈسچارج ہوے۔ میں نے نرمین سے پوچھا سحر اپنے شوہر نعمان سے خوش نہیں ہے کیا۔ نرمین بولی نہیں وہ تو بہت زیادہ خوش ہے لیکن بس اسے یہی گلہ ہے کہ نومی بھائی سکس میں زیادہ پرجوش نہیں ہیں زیادہ دیر خود پر کنٹرول نہیں کر پآتے اور ایک دفع فارغ ہو جائیں تو دو دن قریب نہیں آتے۔ پھر مجھے بولی اب ہم بھی دو تین دن کچھ نہیں کرئیں گے نا۔۔ میں شرارت سے بولا دو تین دن؟؟ میں تو ابھی دوبارہ چارج ہو گیا ہو ں یہ کہ کے میں نے نرمین کے ہونٹوں پر کس کیا تو وہ جلدی سے بولی بس بس بہت نیند آ رہی ہے چلئیں سکون سے سوئیں اب۔۔ چودائ کے بعد نیند تو مست آتی ہے سو  میں نے بھی اوکے کہا۔۔  اسے جپھی ڈال کر لیٹ گیا اور مجھے  پتہ بھی نا لگا اور میں سو گیا۔ اگلے دن میں سلیم کو ملا تو مجھے دیکھتے ہی اس نے نعرہ لگایا منڈے نے بلی مار لی۔۔ میں نے کہا تجھے کیسے پتہ لگا تو وہ بولا سالیا تو نے پہلی مٹھ بھی میرے سامنے ماری تھی اور جو تو نے پہلی پھدی لی اس کا بھی مجھے پتا ہے ۔۔ بہن چود تیری شکل دیکھ کے مجھے نہیں پتہ لگنا تو اور کس کو لگنا ہے تو بس یہ بتا مائ سمجھ کہ چودا کہ مائ ڈئیر سمجھ کر۔ میں ہنس کر بولا بہن چود آج تک تیری کونسی بات نہیں مانی بہت احتیاط اور آرام سے کیا ہے سلیم بولا بلکل ٹھیک کیا اگر پہلی رات ہی بھابھی کا دل سکس سے اٹھ جاتا تو ساری زندگی تو نے سعدیہ اور ہما والے مزوں کو ترسنا تھا۔ میں بولا یار دل تو اس کا اب بھی اٹھ گیا ہے وہ تو کہتی ہے اسے بلکل مزا نہیں آیا تکلیف زیادہ ہوئی ہے۔ سلیم بولا یار پہلی پہلی دفع ایسا ہی ہوتا ہے کچھ وقت گزر لینے دے بھابھی خود آیا کرے گی۔ میں کہا دیکھتے ہیں استاد جی کب آتا ہے وہ وقت۔۔ شام کو ہماری دعوت سحر کی طرف تھی۔  سحر کی ذو معنی باتیں اور سکسی فگر کی وجہ سے میں اس کا پہلے بھی دیوانہ تھا لیکن رات کو اس کے سیکس کےشوق کا سن کر تو اس کو ملنے کو میں اور زیادہ بے تاب ہو رہا تھا۔ اب میں اس کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہ رہا تھا۔ دعوت کے لیے میں بھی اچھی طرح تیار ہوا میں نے بلیک سوٹ پہنا اور نرمین نے بلیک میکسی پہنی۔ میکسی نے اس کا سارا جسم کور کیا ہوا تھا لیکن اس کی فٹنگ ایسی تھی کے جسم کے سارے ابھار نمایاں تھے اور گلا مموں تک تھا اور نرمین کے مموں کی اٹھان اس کی میکسی میں اور نمایاں تھی۔ میں نے اسے آنکھ ماری اور کہا آج تو قیامت لگ رہی ہو میں تو کہتا ہو چھوڑو دعوت گھر ہی مزے کرتے ہیں۔ نرمیں نے کانوں کو ہاتھ لگایا اور بولی آپ رکھو اپنے مزے اپنے پاس میری تو فلحال توبہ ہے اور اب چلیں وہ لوگ انتظار کر رہے ہوں گے پہلے ہی کافی دیر ہو گئ ہے اور ہم لوگ گھر سے سحر کے گھر کی طرف نکل پڑے۔ اس کے گھر پہنچے تو میرا لوڑا جو نرمین کو میکسی میں دیکھ کر پہلے ہی انگڑائیاں لیے رہا تھا سحر کو دیکھ کر تو پینٹ پھاڑ کر باہر آنے والا ہو گیا۔ سحر نے گہرے نیلے رنگ کی ساڑھی پہنی ہوئی تھی- ساڑھی کا بلاوز کافی شارٹ تھا اور اس کا گلا بھی کافی ڈیپ تھا۔ اس وجہ سے اس کا مموں سے نیچے سے ناف تک پیٹ بلکل ننگا تھا اس کی چھوٹی سی کمر اور گلے سے مموں کا ابھار نمایاں تھا ساڑھی کی فٹنگ ایسی تھی کے پورے جسم کی بناوٹ پتہ لگتی تھی اور گانڈ کچھ زیادہ ہی باہر نکلی لگتی تھی۔ ساڑھی کا پلو ایک تو بہت باریک تھا جس میں سے سحر کا گورا رنگ نمایاں ہو رہا تھا دوسرے وہ اتنا چوڑا نہ تھا کہ اس کے جسم کو ڈھانپ سکتا۔ اس ساڑھی کی وجہ سے سحر اور زیادہ ہی سیکسی لگ رہی تھی۔ اس کا شوہر نومی شکل و صورت میں اچھا خاصہ تھا اور سمارٹ لکنگ بھی تھا۔ دونوں میاں بیوی ساتھ کھڑے اچھے لگتے تھے دونوں بہت اچھے سے ملے۔ گھر کے اندر جآتے نرمین اور نومی تھوڑا آگے تھے ان سے پیچھے سحر تھی اور اس سے پیچھے میں سحر کی گانڈ میں مست ہوا چل رہا تھا۔ اچانک سحر رک گئ اور جب میں اس کے قریب پہنچا تو سحر نے مجھے پوچھا جیجو آپ کیسے ہیں میں بولا بہت اچھا ہوں۔۔ وہ شرارت سے بولی ہاں جی وہ تو پتہ لگا ہے کہ آپ بھی اچھے ہو اور اپکی کارگردگی تو بہت ہی اچھی ہے۔ میں نے کہا اچھا جی خبر پہنچ گئ ہے۔۔ سحر بولی جناب اپکی سوچ سے بھی تیز سروس ہے ہماری۔ میں نے شرارت سے کہا تو کچھ مدد ہی کر دو۔۔ اپنی سہیلی کو بھی کچھ سمجھاو اس کی کارکردگی کوئی خاص نہیں چل رہی۔ سحر یہ سنکر ہنس پڑی اور بولی کوئی نہیں ہو جائے گی ٹھیک کچھ وقت دئیں اسکو۔ یہی باتیں کرتے ہم لاونج میں پہنچ گئے جدھر نرمین اور نومی ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ ہم بیٹھ گئے اور ادھر اُدھر کی باتیں کرنے لگے نومی سے میری پہلی ملاقات تھی۔۔ پہلی ہی ملاقات میں بندہ اچھا لگا اور ہماری اچھی گپ شپ رہی۔ گپ شپ کے دوران میں سحر کے سیکسی جسم سے آنکھیں سیکتا رہا۔۔ وہ جب بھی کچھ اٹھانے کے لیے جہکتی تو لگتا اس کے ممے باہر نکل آئیں گے۔ اس کو دیکھ دیکھ کر میرا لوڑا سخت سے سخت ہوتا جاتا تھا۔ جبکہ وہ اور نرمین پتہ نہیں کونسے راز و نیاز میں لگی رہیں کبھی تو بہت سنجیدہ ہو جاتیں اور کبھی ہنس ہنس کر پاگل ہو رہی ہوتیں کیونکہ وہ دونوں تھوڑے فاصلے پر بیٹھیں تھیں اس لیے یہ پتہ نہیں لگا کہ وہ کیا باتیں کر رہی تھیں۔ کھانہ وغیرہ کھا کر ہم گھر واپس آئے تو میرا لوڑا پھٹنے والا ہو رہا تھا اس لیے میں نے کمرے میں آتے ہی نرمین کو بانہوں میں بھر لیا اور کسنگ شروع کر دی۔ اسے گلے لگا کر میں نے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں سے جوڑ دئے اور اپنی زبان اس کے منہ میں گھسا دی میرے دونوں ہاتھ نرمین کی گانڈ پر تھے اور میں اس کے چوتڑوں کو دبا رہا تھا۔۔ کسنگ کرتے کرتے میں نے اسے بیڈ پر گرایا اور کمرے کی لائٹس بند کرکے نائیٹ لائیٹ جلا دی۔۔ یہ دیکھ کر نرمین مسکرا دی۔ میں نے نرمین کو کھڑا کیا اور اس کی میکسی کو اتار کراسے بیڈ پر لیٹا دیا۔۔ اس کے اوپر لیٹ کر اسکی گردن کو چوما پھر کان کی لو منہ میں لیے کر چوسی تو نرمین کو گدگدی سی ہوی اور اس نے سمٹنے کی کوشیش کی۔۔ [/font]

Offline Sexystranger

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 121
  • Reputation: +3/-0
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #27 on: June 02, 2020, 02:55:12 pm »
میں نے اسے کندھے سے پکڑ کر سیدھا کیا اور اس کے برا کے اوپر سے مموں کو دبآتے ہوے ان کے ننگے حصے پر زبان پھیری۔۔ ساتھ ہاتھ کمر پر لیجا کر اس کے برا کی ہک کھول دی۔۔ برا اتار کر اس کے مموں کو دونوں ہاتھوں میں لیے کر دبایا اور باری باری دونوں نپلز کو چوسنا شروع کیا۔۔ نرمین مزے سے آوازیں نکال رہی تھی۔۔ میں نے اس کے مموں کو دبآتے ہوے اس کے پیٹ پر کس کیا اور پھر ناف میں اپنی زبان گھسا دی۔ پھر ناف کے نچلے حصے کو چاٹا تو نرمین کا جسم کانپ گیا۔۔ میں نے اس کی پینٹی بھی اتار دی۔۔ اس کی نازک سی چوت میرے سامنے آئی تو مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے اس کی ابھری ہوئی صاف شفاف چوت کو چومنا شروع کردیا۔ پہلے اپنی زبان کی نوک کو پھدی کے لبوں کے درمیان پھیرا۔۔ پھر لبوں کو منہ میں لیے کر چوسنا شروع کر دیا۔ نرمین میرے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوے سسکیاں لے رہی تھی۔۔ میں نے اپنی ایک انگلی کو اس کی پانی سے بھری چوت میں ڈالا اور اسے اندر باہر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گرم ہونٹوں کو اس کی چوت پر رکھ دیا۔ زبان نکال کر اسے چاٹنا شروع ہو گیا۔ وہ سسکیاں بھرتے ہوئیے میرے سر کو سہلانے لگی اور اپنی چوت پر میرے منہ کو دبانے لگی۔ یہ دیکھ کر میں نے اپنی انگلی کو اس کی چوت سے باہر نکالا اور زبان کو براہِ راست چوت میں ڈال کر اسے چاٹنا شروع ہو گیا۔ اس کی گرم چوت سے تازہ تازہ جوس نکل رہا تھا۔ جس کو میں اپنی زبان کے ساتھ چاٹتے ہوئیے منہ میں جمع کر رہا تھا۔  اس کی چوت کی خوشبو بہت شہوت انگیز تھی۔۔ اسے چاٹنے کے کچھ ہی دیر بعد میرا لن  الف ہو گیا۔ اور چوت کے اندر جانے کے لیئے دھائیاں دینے لگا۔۔ لیکن میں نے لن کو کوئی لفٹ نہیں کرائی ۔۔۔اور چوت کو چاٹنا جاری رکھا۔ اسی دوران ایک دو دفعہ نرمین کا سارا وجود تھرایا اور پھر اگلے ہی لمحے اس کی چوت بہنا شروع ہو گئی۔ میں اسے مزید چاٹنا چاہ رہا تھا کہ  اس نے میرے سر کو اپنی چوت سے ہٹا دیا اور ٹانگیں جوڑ لیں۔۔ میں اس کے ساتھ لیٹ کر اسے کسنگ کرنے لگا اور وہ میرے منہ پرلگا اپنی پھدی کا جوس چاٹنے لگی۔ میں نے اسکا چہرے کو اوپر کیا اور اور پھر اسکے لبوں کا رس پینے لگا ساتھ میں اسکے مموں کو مسلتا ہوا اپنے ہاتھوں سےاسکے جسم کو سہلآتے ہوے اسکی ران پر لے آیا اور پھدی کے لبوں کے بیچ میں انگلی سہلائ اس بار نرمین نے مجھے نہیں روکا اور اسکی زبان کو چوستے ہوے میں اسکے اوپر آگیا۔ اپنے لن سے اسکی پھدی کا مساج شروع کیا. وہ مزے سے تھوڑا تڑپی۔۔ اب میں اسکے اوپر اپنے ننگے جسم کے ساتھ اسکے ننگے جسم کو بیڈ پررگڑنے لگا۔ اپنے لن کو اسکی پھدی کے لبوں پر دبآتے ہوے اسکے مموں کو پکڑ کر مسلنے لگا۔۔ وہ ہلنے کی کوشش کرتی لیکن میرے جسم کے بوجھ سے وہ دب سی گئی۔ اچانک اسکی کمر نے خم لیا اور میرے نیچے لن کواپنی پھدی پر دبآتے ہوے وہ کانپی ۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں اپنا لن پانی پر رگڑ رھا ہوں۔۔ اسکی پھدی کی گرمی اور گیلے پن سے مجھے بھی بے حد مزہ آنے لگا۔ میں نے اس کے اوپر لیٹے لیٹے اس کی ٹانگوں کو کھولا اور اپنی ٹوپی جو نرمین کی پھدی کے پانی سے کافی گیلی ہوئی تھی۔۔ اس کی پھدی کے سوراخ پرسیٹ کی۔۔ وہ میرا ارادہ سمجھ گئ اور رات کی تکلیف کا سوچ کر اس نے اپنے جسم کو اکڑا لیا۔۔ میں نے اسے گال پر کس کیا اور بولا نرمین میری جان وہ تکلیف بس پہلی دفع ہوتی ہے۔ ابھی انجواے کرواور خود کو ڈھیلا چھوڑ دو۔۔ میرا وعدہ ہے تم منع کرو گی تو میں رک جاوں گا۔ یہ سن کر اسے تسلی ہوئی اور اس نے خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا۔ میں نے اس کی ایک ٹانگ اٹھائ اور آرام آرام سے اپنا لن اسکی پھدی میں اتارنا شروع کیا۔ کل کی نسبت آج میرا لن بہت آسانی سے اندر گھستا جا رہا تھا۔ نرمین میرے سینے سے لگی تھی اس کی تیز دھڑکن مجھے محسوس ہو رہی تھی۔۔ اس کی ہلکی ہلکی سسکیاں میں سن رہا تھا۔۔ وہ میری کمر پرہاتھ پھیر رہی تھی لیکن مجھے روک نہیں رہی تھی ادھر تک کہ میرا لن جڑ تک اندر چلا گیا۔ پورا ڈال کرمیں نے پوچھا درد تو نہیں ہوا۔۔ اس نے اشارے سے نہیں کہا تو میں نے لن کو باہر نکالا اور پھر اندر گھسا دیا اس دفع سپیڈ کچھ زیادہ رکھی۔ جب دیکھا کہ نرمین سکون میں ہی ہے تو میں نے مسلسل گھسے لگانے شروع کر دئے۔۔ تھوڑی دیر ایسے چودنے کے بعد میں نے اس کی دوسری ٹانگ بھی اٹھا لی اور دونوں ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ کر نرمین کے سر کی طرف جھک گیا۔۔ اس طرح اس کی پھدی اوپر ہوئی اور میں زیادہ آسانی سے اسے چودنے لگا۔۔ تھوڑی دیر ایسے چود کر میں نے اس کی ٹانگیں چھوڑئیں اور اسے کروٹ میں لیٹا دیا۔۔اور خود اس کے پیچھے کروٹ میں لیٹ کر اس کی ٹانگ اپنے کوہلے پر رکھی اور لن جو اس دوران اسکی پھدی میں ہی تھا کو اندر باہر کرنے لگا۔۔ ساتھ ساتھ اس کے ممے دباتا اور اس کی گردن پر کس کرتا رہا۔۔ تھوڑی دیر اسطرح چود کر میں نے اپنا لن نکالا اور سیدھا لیٹ گیا۔۔ نرمین کو اوپر بیٹھنے کو کہا۔۔ نرمین نے ایک لمحہ میرے لن کو دیکھا تھوڑی جھجکی پھر کچھ سوچ کر اٹھی۔۔ میرے اوپر آئی لن کو پکڑ کر پھدی پر رکھا اور بیٹھتی چلی گئ۔۔ پورا لن اندر چلا گیا تو اس نے ہاتھ ہٹا لیا اور اوپر نیچے ہونے لگی۔ میرے سامنے اب دنیا کا حسین ترین نظارا تھا۔۔ نرمین کے ہلتے ہوے بڑے بڑے ممے۔۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر دونوں کو اپنے ہاتھوں میں بھر لیا اور ان کو مسلنا شروع کر دیا۔ اس کے نپلز کو دبانا شروع کر دیا۔ ایک تو پورے لن کے مسلسل گھسے ، سامنے نرمین کا چہرہ جس پر لزت اور تکلیف کے مکس تاثرات تھے اور ہاتھوں میں نرم نرم ممے۔۔۔ میں تھوڑی ہی دیر میں میں چھوٹنے والا ہوگیا۔۔ نرمین کی پھدی بھی پانی سے بھر گئ اور اس کے جسم کو لگنے والے جھٹکے بتا رہے تھے کہ وہ پھر سے فارغ ہو رہی ہے۔۔ اس کے ساتھ ہی میں نے بھی اپنا پانی اس کی چوت میں چھوڑنا شروع کردیا۔۔ ہم دونوں فارغ ہو کر ساتھ ساتھ لیٹ گئے تھوڑی دیر  میں سانس بحال ہوے تو نرمین واش روم چلی گئی۔ اپنے آپ کو صاف کرکے نائٹ سوٹ پہن کر واپس آئی تومیں واش روم چلا گیا اور اپنے لوڑے اور ٹانگوں کو صاف کر کے نائٹ سوٹ پہن کر واپس آ کر نرمین کے ساتھ لیٹ گیا۔۔ نرمین کے سر کے نیچے اپنا بازو رکھا اور اسے اپنے ساتھ لگا کر اس کے ماتھے پر کس کیا۔۔ اور پوچھا آج کیسا لگا۔ وہ بولی آپ بتاو آپکو کیسا لگا؟ آپ نے انجوائے کیا۔۔ میں نے کہا مجھے تو بہت مزا آیا ہے آج تو تم نے ساتھ بھی دیا ہے۔۔ تمھیں درد تو نہیں ہوئی۔۔ نرمین بولی ہوئی تو ہے لیکن قابل برداشت تھی اس لیے میں نے کچھ نہیں کہا۔۔ میں نے پوچھا مزا آیا نرمین شرما کر بولی ہاں۔۔ میں نے کہا شکر ہے یعنی اب اجازت ہے کرنے کی؟ وہ بولی تو میں نے منع کب کیا تھا؟ میں نے کہا کل رات کو جو کہہ رہی تھی مجھے نہیں چاہیے ایسا تکلیف دہ مزا تو اس کا مطلب منع کرنا ہی ہے۔۔ نرمین بولی ہاں کل تو اتنی درد ہوئی تھی خون بھی نکلا تھا اس لیے کہا تھا۔۔ پھر آج جب سحر کو میں نے بتایا کہ میں نے ایسے کہا تھا تو وہ بہت ناراض ہو رہی تھی کہہ ایسے کیوں کہہ رہی ہو۔۔ شکر کرو اتنا اچھا شوہرملا ہے اتنا خیال کرتا ہے اور سیکس بھی اتنا اچھا کرتا ہے۔۔ نومی جیسا ملتا جس کو بس اپنے فارغ ہونے کی جلدی ہوتی ہے تو لگ سمجھ جاتی۔۔ اس نے میری اتنی کلاس لی اور کہا جیسا آپ کہتے ہو کیا کروں۔۔ آپ کو خوش رکھوں۔۔ جو اچھا ناں بھی لگے آپکی خوشی کے لیے کروں۔۔ میں نے کہا اب ایسی بھی بات نہیں میرے لیے تمھارا مطمئین ہونا زیادہ ضروری ہے۔۔ میرا وعدہ ہے تمھیں ڈسچارج کروا کہ ہی اپنا سوچا کروںگا۔۔ اور یہ اچھا نہ لگنے والی کیا بات ہے۔۔ تمھیں کیا اچھا نہیں لگتا؟ نرمین گھبرا گئ اور بولی۔۔۔ کچھ نہیں ویسے ہی کہہ رہی تھی۔ میں نے کہا میری جان میں تمھارا شوہر ہی نہیں دوست بھی ہوں بتاو کس بارے میں کہہ رہی ہو؟ نرمین ایک لمحہ چپ ہوئی اور پھر بولی۔۔ وہ سحر بتا رہی تھی مردوں کو اپنا چوسوانے کا بہت شوق ہوتا ہے۔۔ جیجو نے کہا نہیں چوسنے کو۔۔ تو میں نے اسے کہا ناں شیراز نے کہا ہے اور اگر کہیں گے بھی تو بھی میں نے یہ گندہ کام نہیں کرنا تو تب سحر بولی تھی خبردار جو منع کیا۔۔ جیسا کہے ویسا کرنا۔۔ ابھی جس کو گندہ کام کہہ رہی ہو کل کو سب سے پہلے تم نے شروع ہی اس کام سے ہونا ہے۔۔ پھر میری طرف دیکھ کر بولی۔۔ آپکو پسند ہے اپنا چسوانا؟ میں نے لمبی سانس لئ دل میں سوچا میں تو پہلے دن سے چوپے لگوانے کا سوچ رہا ہوں۔۔ پھر اس کو دیکھ کر کہا ہاں پسند تو مجھے ہے کرنے کو کہا اس لیے نہیں کے ابھی کچھ فرینکنس ہو جائے۔۔ لیکن تم پریشان مت ہو میں زبردستی نہیں کروںگا۔۔ جب تمھارا دل راضی ہو جائے تب کر لینا۔۔ نرمین جلدی سے بولی اور اگر دل کبھی راضی ناں ہوا؟ میں نے کہا تو ناں کرنا۔۔ یہ سن کرنرمین نے خوشی سے مجھے اور زور سے ساتھ لگایا اور بولی تھینک یو۔۔ یو آر دی بیسٹ۔۔ جبکہ میں دل ہی دل میں خود کو گالیاں دے رہا تھا کہ میں نے ایسا کیوں کہہ دیا۔۔ خود کو کنٹرول کر کے میں نے نرمین کو کس کی اور کہا چلو اب سوئیں۔۔ اس نے بھی گڈنائیٹ کہا اور ہم اسی طرح ایک دوسرے کی بانہوں میں سو گئے۔۔اگلے دو تین دن اسی طرح گزر گئے اور ہمارے تھائ لینڈ جانے کا دن آ گیا۔ پیکنگ کرتے ہوے میں نے نرمین کی پیکنگ دیکھی وہ اپنے لیے جینز کرتے کم اور شلوار قمیضیں زیادہ رکھ رہی تھی یہ دیکھ کر میں نے اسے کہا تم کیا تھائ لینڈ جا کر شلوار قمیض پہن کر پھرو گی؟ ادھر بیچ پر ہیل پہن کر پھرو گی۔ نرمین بولی تو کیا بکنی رکھوں۔۔ میں بولا ہاں ویسے بنتا تو یہی ہے۔ نرمین نے حیران ہو کر پوچھا اگر میں بکنی پہن کر پھروں تو آپکو کوئی مسلہ نہیں ہوگا؟ میں نے شرارت سے کہا مجھے کیا مسلہ ہونا ہے مسلہ تو ان لوگوں کو ہوگا جو تمہارا سیکسی جسم دیکھ دیکھ کر پاگل ہوں گے۔ نرمین بولی مزاق چھوڑئیں اور جو پوچھ رہی ہوں اس کا جواب دئیں آپکو کوئی اعتراض نہیں ہوگا میرے بکنی پہننے پر؟ میں نے کہا یار تھائ لینڈ میں ہمیں کونسا کوئی جانتا ہے سکون سے شوق پورے کرنا مجھے کوئی مسلہ نہیں ہے۔ نرمین بولی لیکن میرے پاس تو اسی طرح کے کپڑے ہیں میں بولا کوئی مسلہ نہیں ادھر جا کر خرید لئیں گے۔ نرمین خوش ہو کر بولی یہ ٹھیک ہے۔ سلیم اور بھابھی ہمیں ائیرپورٹ چھوڑنے ائے تھے۔ ائیر پورٹ پہنچ کر سلیم مجھے سائیڈ پر لیے گیا اور بولا دیکھ بھائی تھائ لینڈ جا کر جتنے مزے کر سکو کرنا اپنی آزادی کو اینجوائے کرنا جو فرینکنس تم بھابھی سے چاہتے ہو وہ ادھر جا کر بنانی بہت آسان ہوگی اور اگر ادھر بھی کچھ نہ ہو سکا تو بیٹا سیکس کے سب مزے بھول جانا آ کر بچے پیدا کرنا اور گھر داری کرنا۔ میں نے کہا ارادے تو انجاوئے کرنے کے ہی ہیں آگے دیکھتے ہیں کیا بنتا ہے۔ سلیم وغیرہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔ ہم دونوں نے فلائٹ پکڑی اور تھائ لینڈ پہنچ گئے۔ [/font]

Offline ms tari

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 26
  • Reputation: +0/-0
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #28 on: June 02, 2020, 03:31:51 pm »
Acha lekhty ho sex Zara detail sy lekho zayada Maza ay ga lekhny Ka b parny Ka b

Offline رضا

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 90
  • Reputation: +5/-1
  • Gender: Male
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #29 on: June 02, 2020, 05:00:12 pm »
زبردست جناب
کہانی بہت ہی اچھی چل رہی ہے اور آپ کی گرفت بہت اچھی ہے کرداروں پر
زندگی پیار کا گیت ہے
اسے ہر دل کو گانا پڑے گا

Offline saima naseem

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1515
  • Reputation: +41/-5
  • Gender: Female
  • Piayasee Zindagee.................???
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #30 on: June 02, 2020, 09:42:44 pm »
very very nice story; tareef k liey alfaz nahi hain
SAIMA  NASEEM

Offline Hardking

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 44
  • Reputation: +2/-0
  • Gender: Male
  • کل کسی نے دیکھا ہے؟؟؟
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #31 on: June 02, 2020, 11:49:00 pm »
لاجواب واقعی کمال لکھتے ہیں آپ
نہ تعریف کی لالچ نہ کمنٹس کا انتظار
نپےتلے الفاظ خوبصورت اور سادہ انداز
دلکش پس منظر اور کمال کی گرفت
آپ کی کہانی میں مجھے شیخو جی کی جھلک نظر آتی ہے
اور کوئی وجہ نہیں کہ آپ بھی ویسا شاہکار تخلیق نہ کر سکیں
اپڈیٹ کا انتظار رہے گا
مزہ برسات کا چاہو تو ان آنکھوں میں آ بیٹھو
وہ برسوں میں کہیں برسے' یہ برسوں سے برستی ہیں

 

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.