Author Topic: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ  (Read 305368 times)

Offline SilentHeart70

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1250
  • Reputation: +4/-8
  • Gender: Male
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #32 on: June 03, 2020, 12:17:38 am »
great main to samjha tha end kar di ap ne story
+923479683099 sirf wohi female rabta karen jo haqiqat me razdari se milna chahen or call pe bhi bat karen. Msg pe chaske lene wale larki numa larke apna or mera time na zaya karen. Thanks

YUM Stories

Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #32 on: June 03, 2020, 12:17:38 am »

Offline Sexystranger

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 121
  • Reputation: +3/-0
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #33 on: June 03, 2020, 03:11:18 pm »
سب دوست جو کہانی کو پڑھ رہے ہیں اور پسند کر رہے ہیں ان سب کا بہت شکریہ ۔۔۔ آپ کی حوصلہ افزائی کا بھی بہت شکریہ ۔۔   

Offline Sexystranger

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 121
  • Reputation: +3/-0
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #34 on: June 03, 2020, 03:13:34 pm »
۔ ہم دونوں نے فلائٹ پکڑی اور تھائ لینڈ پہنچ گئے۔ فوکٹ میں ہمارا ہوٹل کافی اچھا تھا کمرے کی ایک دیوار پر زمین سے چھت تک کھڑکی تھی جس کے دوسری طرف سوئمنگ پول تھا اور پول کے بعد سمندر تھا کمرے میں بیڈ پر لیٹ کر ایسا ہی لگتا تھا جیسے سمندر کنارے لیٹے ہیں۔ کھڑکی پر شیشہ ایسا تھا کہ اندر سے باہر بلکل صاف نظر آتا تھا لیکن باہر سے اندر کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ کمرے کے ساتھ جو واش روم تھا اسکی کمرے کے اندر والی دیوار شیشے کی تھی اور کمرے سے واش روم سارا نظر آتا تھا یعنی اگر کوئی واش روم میں نہا رہا ہوتا تو دوسرا کمرے میں بیٹھ کر نہانے والے کو نہآتے دیکھ سکتا تھا۔ نرمین ان سب چیزوں سے بہت پریشان ہو رہی تھی۔ واش روم کے شیشے کے بعد اسے ایسا ہی لگ رہا تھا کہ سومنگ پول سے کمرے کے اندر بھی نظر آتا ہو گا میں نے اس کو بہت تسلیاں دی سومنگ پول پر لیجا کر کھڑکی بھی دیکھائ لیکن اس کے دل میں وہم پڑ گیا ہوا تھا جو نکل ہی نہیں رہا تھا۔ واش روم کی وجہ سے نرمین کے کہنے پر ہوٹل کے اور کمرے بھی دیکھے لیکن سب کے واش روم اسی طرح کے تھے مجبورا اسے اسی کمرے میں واپس آنا پڑا۔ میں نے نرمین سے کہا تمہارے ساتھ یہ صحیح ہوئی ہے اب تو تمہاری شرم ختم ہو ہی جائے گی۔ اس وقت ہم روم میں بیٹھے تھے اور باہر پول پر گوریاں بکنی پہن کر تیر رہی تھی۔ میں نے نرمیں سے کہا اس طرح کی بکنی لینی ہے تمہارے لیے۔ نرمین بولی فراق یا سکرٹ پہنا جا سکتا ہے بیکنی پہننے کا حوصلہ نہیں ہے میرے میں۔ میں نے کہا چلو وہ بھی ٹھیک ہے۔ تھوڑی دیر آرام کر کے ہم تیار ہوے میں نے جینز کی نیکر اور ٹی شرٹ پہن لی جبکہ نرمین نے جینز کی پینٹ جس میں اس کی گانڈ اپنی پوری اٹھان دیکھا رہی تھی اور شارٹ ٹی شرٹ پہن لی جس میں اس کے ممے بہت نمایاں ہو رہے تھے اور تھوڑا تھوڑا پیٹ بھی نظر آتا تھا۔ تیار ہو کر ہم باہر گھومنے نکل گئے رات کا وقت تھا ہر طرف لوگوں کی چہل پہل تھی شارٹ سکرٹس فراق اور نیکر میں حسینائیں پھر رہی تھی اس طرح کا ماحول دیکھ کر نرمین کا حوصلہ بھی بڑھ رہا تھا اور اب وہ کافی اطمنان سے پھر رہی تھی۔ ہم مختلف دوکانیں دیکھتے رہے۔۔ نرمین کو میں نے کچھ فراق، بیکنیز اور جینز کی نیکرئیں وغیرہ لیکر دئیں۔ زیادہ کچھ نہیں خریدا کہ پاکستان جا کر پہنا نہیں جانا۔۔ دکانیں پھرتے پھرتے ہم ایک سیکس شاپ میں پہنچ گئے۔۔ ادھر ربڑ کی پھدیاں۔۔ مختلف رنگوں۔۔ سائیز اور ڈیزائین کے لوڑے پڑے تھے۔۔ نرمین ان چیزوں کو حیرانگی سے دیکھ رہی تھی اور باربار مجھے کھینچ رہی تھی۔ میں نے کہا کیا ہوا۔۔ وہ بولی۔۔ نکلیں اس دوکان سے۔۔ کیا گندی چیزئیں پڑی ہیں۔۔ میں نے ہنس کر ربڑ کا لوڑا اٹھایا اور اس کو کہا۔۔ یار تمہارے لیے تحفہ لینا ہے۔۔ نرمین بولی جو آپ کے پاس ہے میرے لیے وہ ہی کافی ہے۔۔ بخشئیں مجھے اور نکلئیں ادھر سے۔۔ میں نے کہا اچھا ایک منٹ۔۔ میں اس کی ایک تصویر بنا لوں۔۔ سلیم کو بھیجتا ہوں کہ تیرے لیے تحفہ لیا ہے۔۔ یہ کہہ کر میں نے اس ربڑ کے لوڑے کی تصویر بنائی اور ہم باہر نکل آئیے۔۔۔ پھر گھومتے گھومتےہم لوگ والکنگ سٹریٹ پر چلے گئے جدھر رات جوان ہوتی ہے سب ڈسکو وغیرہ ادھر ہی تھے۔ پہلے ہم ایک ڈیسکو میں گئے ادھر لوگوں کو ڈرنک کرتے اور جھومتے دیکھتے رہے۔ میں نے اپنے لیے ایک بئیر لی اور نرمین کے لیے کولا ۔۔ ادھر بار ٹیبل کے ساتھ اونچے سٹول پر ایک گوری شارٹ فراق میں بیٹھی تھی اس کے پیچھے گورا کھڑا اس کے بازو سہلا رہا تھا وہ کبھی کسنگ شروع کر دیتے کبھی میوزک پر جھومنا شروع ہو جآتے اور ساتھ ڈرنک کئے جآتے تھے۔ تھوڑی دیر بعد دیکھا تو گورے نے گوری کو سٹول پر بیٹھے بیٹھے پیچھے سے بانہوں میں لیا تھا وہ فراق کے اوپر سے گوری کے ممے دباتا اور اپنی شارٹس کے اندر موجود لوڑا گوری کی گانڈ پر فراق کے اوپر سے رگڑ رہا تھا ڈیسکو میں بہت ہلکی سی لائٹنگ تھی ہم دونوں کیونکہ انکے بلکل پیچھے بیٹھے تھے اس لیے ہمیں وہ واضع نظر آ رہے تھے۔ میں نے نرمین کو کہا انکو دیکھتی رہنا یہ اب موج میں ہیں۔۔ کچھ دیر اور گزر گئ میں دوسری گوریاں دیکھ رہا تھا جب مجھے اچانک نرمین کی آواز آئ۔۔۔ اوہ شٹ! میں نے اسکی طرف دیکھا اور پوچھا کیا ہوا؟ اس نے آنکھوں سے اسی کپل کی طرف اشاراہ کیا میں نے ادھر دیکھا تو گوری بار ٹیبل پر جھکی تھی اور اسکی گانڈ سٹول سے باہر نکلی تھی گورے نے اسکی فراق اسکی گانڈ سے تھوڑی سی اوپر کی ہوئی تھی اور اپنی شارٹ کی زیپ سے اپنا موٹا اور لمبا لوڑا نکال کر گوری کی گانڈ میں دیا ہوا تھا اور فل موج میں اندر باہر کر رہا تھا ان کے قریب اور لوگ بھی کھڑے تھے پر وہ ہر ایک سے بے پروا اپنی موج میں مزے کر رہے تھے ۔ ارد گرد کھڑے لوگ ایک نظر ڈال کر اپنے دیھان لگ گئے جیسے یہ ان کے لیے روز کا کام ہو جبکہ ہم دونوں حیرت میں گم لائیو سین دیکھ رہے تھے ۔۔۔ میرا لوڑا فل کھڑا ہو گیا تھا میں بھی نرمین کے قریب ہو گیا اور اس کو سائیڈ سے اپنے ساتھ لگا کر اس کے بازو کو سہلانا شروع کر دِیا۔۔ اس کے ممے کو ہلکا ہلکا چھیڑنا شروع کیا اور حیرت انگیز طور پر نرمین نے بلکل مزاحمت نہیں کی ایسے جیسے اسے بھی اچھا لگ رھا تھا۔۔ ادھر گورا فل سپیڈ میں گوری کی گانڈ مار رہا تھا اور اس کے ممے مسل رہا تھا۔ میں نے نرمین کے ہونٹوں سے ہونٹ جوڑ دئے اور دنیا سے بے خبر کسنگ شروع کر دی ساتھ میں اس کے ممے دبانا شروع کر دئے نرمین بھی پورا ساتھ دے رہی تھی۔۔ ہماری کسنگ میں کافی شدت آ چکی تھی اسی وقت کچھ اور لوگ بھی ہمارے ٹیبل کے قریب آ گئے، وہ فل ٹن تھے اس لیے کچھ زیادہ ہی شور مچا رہے تھے۔ ان کی وجہ سے ہم ہوش میں واپس آے نرمین بھی سیدھی ہو کر بیٹھ گئ۔۔ میں نے اس گورے کپل کی طرف دیکھا تو وہ بھی جا چکا تھا۔ ہم دونوں نے اپنی ڈرنک ختم کی اور باہر آ گئے۔ گھومتے گھومتے ایک جگہ ایک لڑکی نے ہمیں روک لیا اور بولی پنگ پانگ شو۔۔ کم۔۔ سی۔۔ ویری گڈ شو فار کپل۔۔ ہم دونوں اس کے ساتھ چلے گئے اندر ایک ھال تھا جس میں ایک سٹیج بنا تھا اور اس کے ارد گرد صوفوں پر پندرہ بیس مختلف ملکوں کے کپلز بیٹھے تھے ۔۔ ہم بھی جا کر خالی صوفے پر بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر میں کافی ساری ڈانسر لڑکیاں آئیں جنھوں نے صرف پینٹی اور برا پہنے تھے۔۔ وہ آ کر صوفوں کے ساتھ لگے سٹیل پولز کے ساتھ چمٹ گئیں اور ڈانس شروع کر دئے۔۔۔ اب ہو یہ رہا تھا کہ میں نرمین کے ساتھ بیٹھا تھا اور ہر تھوڑی دیر بعد مختلف ڈانسر آتیں کبھی میری گود میں بیٹھ جاتیں اور گانڈ لوڑے پر رگڑتیں اور کبھی اپنی گانڈ میرے منہ کے آگے گھوماتیں ایسا وہ ہر کپل کے ساتھ کر رہی تھی۔۔۔ تھوڑی دیر بعد سٹیج پر بھی لڑکیاں آنا شروع ہوئی۔ وہ سٹیج پر آ کر مختلف کرتب دیکھانا شروع ہو گئ۔۔۔ ان کرتبوں کی خاص بات یہ تھی کہ یہ سارے کرتب وہ اپنی پھدیوں سے کرتیں۔۔ کوئی پھدی سے سیگرٹ پیتی دوسری آتی تو وہ گیس والے غبارے پھدی سے سوئ مار کر پھاڑتی اور کوئی آتی وہ زندہ چڑیا اپنی پھدی میں گھساتی تھوڑی دیر اندر رکھ کر اسے زندہ باہر نکالتی۔۔۔ اس سب کے بعد سیکس شو شروع ہو گیا پہلے لیزبین لڑکیاں آئیں اور ایک دوسرے سے سٹیج پر سب کے سامنے سیکس کرنا شروع کر دیا۔۔۔ ایک دوسرے کو چومتی چاٹتی ایک دوسرے کے کپڑے اتارتیں پھر ایک دوسرے کی پھدی چاٹتی اور پھر پلاسٹک کے لن سے ایک دوسرے کو چودتی رہیں۔۔۔ پورے ہال میں خاموشی تھی سب اپنے اپنے کپلز کے ساتھ جڑے جا رہے تھے۔۔۔ ان کے بعد ایک لڑکا اور لڑکی سٹیج پر آۓ اور سیکس کرنا شروع کر دیا۔ ہمارے سامنے سٹیج پر بیلو فلم چل رہی تھی نرمین حیرت سے کبھی سٹیج پر دیکھتی اور کبھی ارد گرد بیٹھے لوگوں کو دیکھتی۔۔۔ مجھے حیرت اس بات پر تھی کہ اس نے اس ماحول کو قبول کر لیا تھا اور اینجواۓ کر رہی تھی۔۔۔ سٹیج والی لڑکی نے لڑکے کا لوڑا چوسنا شروع کیا تو ہمارے ساتھ بیٹھے گورے نے بھی اپنا لوڑا نکال کر اپنی بندی کو پکڑا دیا ہم نے ان کی طرف دیکھا تو وہ دونوں مسکرا دئیے اور گوری نے مسکرآتے ہوے گورے کا لوڑا اپنے منہ میں لیا اور زبردست چوپے لگانے شروع کر دئیے۔۔۔ ہال میں موجود زیادہ تر کپلز گرم ہو کر اپنے دیھان لگ چکے تھے۔۔۔ یہ سب دیکھ کر میرے سے بھی رہا نہ گیا اور میں نے بھی اپنا لوڑا نکال لیا۔۔ نرمین نے مجھے ایک نظر دیکھا اور پھر بغیر کچھ کہے میرا لوڑا پکڑ لیا اور ساتھ اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے جوڑ دئیے۔۔ شادی سے اب تک یہ پہلا موقع تھا کہ نرمین نے خود سے شروع کیا تھا اور یہ میرے لیے بہت بڑا تحفہ تھا۔۔۔ ہم کس کر رہے تھے نرمین میری مٹھ مار رہی تھی اور میں اس کی شرٹ کے اندر ہاتھ گھسا کر اس کے ممے مسل رہا تھا۔۔۔ تھوڑی دیر کسنگ کے بعد میں نے اپنا منہ ہٹایا اور ایک امید سے نرمین کی طرف دیکھا۔۔۔ وہ میری نظروں کا مطلب سمجھ گئ اس نے ایک نظر ساتھ والی گوری کو دیکھا جو مزے لے کر چوپے لگا رہی تھی اور گورا مزے سے آنکھیں بند کیے صوفے سے ٹیک لگائے آدھا لیٹا تھا۔۔۔ نرمین نے میرے لوڑے کو دیکھا اور پھر اس پر جھک گئ اور ٹوپی پر ڈرتے ڈرتے زبان پھیرنے لگی جیسے اس کا ذائقہ چکھ رہی ہو۔۔۔ زبان کی نوک سے میرے لوڑے کو چاٹتی رہئ پھر اس نے ٹوپی کو چوسنا شروع کیا وہ پہلی دفع چوپا لگا رہی تھی اس لیے جہجک رہی تھی۔۔۔ میں نے اس کو سر سے پکڑا اور اپنا لوڑا اس کے منہ میں گھسایا۔۔ زور کچھ زیادہ لگ گیا اور میرا لوڑا کچھ زیادہ اندر چلا گیا جس کی وجہ سے نرمین کو کھانسی شروع ہو گئ۔۔۔ ساتھ بیٹھی گوری نے اس کی حالت دیکھی اور ہنسنا شروع ہو گئ۔۔ بولی پہلی دفع چوس رہی ہے۔۔ میں نے کہا ہاں۔۔ تو وہ بولی آرام سے کرو کیوں اسے تنگ کر رہے ہو ابھی سیکھ رہی ہے۔۔ میں نے کہا تم اتنا اچھا چوس رہی ہو تمہیں دیکھ کر مجھ سے کنڑول نہیں ہوا ۔۔ تم اس کو بھی سکھا دو نا۔۔ گورا جو اب تک فارغ ہو چکا تھا بولا ہاں میری بیوی بہت اچھا چوستی ہے پھر گوری سے بولا ٹینا تم اس سیکسی لڑکی کو سکھا دو۔۔ مجھے تو ڈرنک کی اشد ضرورت ہے میں بار میں جا رہا ہوں تم فری ہو کر ادھر ہی آ جانا۔۔۔ گوری جس کا نام ٹینا تھا۔۔ اس نے نرمین سے پوچھا تمہارا کیا خیال ہے اگر میں تمہیں سکھاوں تو تمہیں برا تو نہیں لگے گا۔۔۔ نرمین بولی نہیں بلکہ مجھے خوشی ہوگی۔۔ یہ سن کر ٹینا ہمارے پاس آئ اور فرش پر میرے لوڑے کے قریب بیٹھ گئ۔۔ میرے لوڑے کو ہاتھ میں پکڑا اور نرمین کو بولی لڑکی تمہاری قسمت بہت اچھی ہے تمہیں لوڑا تو بہت اچھا ملا ہے۔۔ پھر بولی مجھے لگتا ہے تمہیں منہ میں لینا پسند نہیں ہے ۔۔ میری بات لکھ لو جب تمہں اس کو چوسنے کی عادت پڑ گئ تو تم سے رہا نہیں جانا یہ کہتے ہوے میرے لوڑے پر مٹھ مارتے ہوے ٹینا نے نرمین کا سر پکڑا اور میرا لوڑا اس کے منہ میں ڈالا۔۔ مجھے بولی تم ریلیکس ہو جاو اور جھٹکا مت دینا۔ میں نے اشارے سے اوکے کیا۔۔ اب ٹینا میرے لوڑے کو نرمین کے منہ میں اتنا ہی ڈالتی جتنا وہ آسانی سے لے سکے ساتھ اس نے نرمین کو بتایا کہ چوپا لگآتے ہوے لوڑے پر ہاتھ کیسے گھومآتے ہیں۔۔۔ تھوڑی دیر میں ہی میرا آدھا لوڑا نرمین کے منہ میں تھا وہ اسے خوب زور لگا لگا کر چوس رہی تھی جبکہ ٹینا میرے لوڑے پر ہاتھ گھما گھما کر مٹھ مارتی جاتی تھی اور میں مزے کی وادیوں میں پرواز کر رہا تھا۔۔۔ نرمین تھوڑی دیر میں تھک گئ اور بولی میرے سے مزید نہیں ہو رہا میرا منہ تھک گیا ہے۔۔۔ ٹینا بولی تم نے جتنا کیا ہے پہلی دفع کے حساب سے تو یہ بھی بہت ہے کوئی بات نہیں ابھی تم اپنے منہ کو آرام دو۔۔ تم جیسا کر رہی ہو بہت جلد ایکسپرٹ ہو جاو گئ لیکن ابھی اس خوبصورت لوڑے کو ادھورا چھوڑنا مجھے اچھا نہیں لگ رھا۔۔ تم اجازت دو تو میں اس کو فارغ کر دوں۔۔ نرمین بولی ہاں تم کرو میں دیکھتی ہوں۔۔۔ ٹینا نے مجھے مسکرا کر دیکھا اور بولی لڑکے تیار ہو جاو اور س کے ساتھ ہی اس نے میرے پھولے ہوئیے ٹوپے کو اپنے منہ میں لے لیا۔ اور ایک ہلکا سا چوپا لگا کرنرمین کو بولی۔ تمہیں معلوم نہیں کہ میں لن چوسنے اور اسے چاٹنے کی بڑی شوقین ہوں ۔ اس کے ساتھ ہی اس نے میرے لن پر ایک بڑا سا تھوک کا گولا پھینکا اور کہنے لگی۔ دیکھو پہلے میں لن کو تھوک لگا کر گیلا کرتی ہوں اور پھر اس تھوک کو پورے لن پر پھیلا دیتی ہوں اور اس کے ساتھ ہی اس نے میرے لن پر پڑے تھوک کے گولے کو اپنی انگلیوں کی مدد سے پورے لن پر پھیلآتے ہوئیے بولی ایسے ۔۔۔ پھر کہنے لگی میرے اس طرح کرنے سے لن جب خوب چکنا ہو جاتا ہے تو پھر میں اس کو اپنی مُٹھی میں قید کر لیتی ہوں اور پھر اسے ہلکا ہلکا رگڑتی ہوں ۔ اتنی بات کرتے ہوئیے اس نے پہلے تو اپنی ہتھیلی پر تھوک پھینکا اور پھر میرے لن کو اپنی گرفت میں لے لیا اور اس کے ساتھ ہی وہ میرے چکنے لن پر ہلکی ہلکی مُٹھ مارنے لگی۔ اس کے بعد اس نے ایک بار پھر میری اور نرمین کی طرف دیکھا اور کہنے لگی۔۔ تمہیں معلوم ہے اس کے بعد میں کیا کرتی ہوں؟؟ تو اس پر نرمین نے اس کو کوئی جواب نہ دیا اور چُپ کرکے دیکھتی رہی ۔۔۔ وہ اس لیئے کہ اس وقت نرمین بھی فل گرم تھی اور ٹینا کی ایسی گرمائیش اور لزت سے بھر پور باتوں کو انجوائے کررہی تھی۔۔۔ دوسری طرف بات کرنے کے بعد ٹینا نے بس ایک نظر میری طرف دیکھا اور پھر کہنے لگی۔ اس کے بعد میں اپنے گرم گرم ہونٹوں سے ٹوپے کو چومتی ہوں۔۔ یہ کہتے ہی اس نے شہوت بھری نظروں سے میری طرف دیکھا اور پھر سر جھکا کر میرے ٹوپے کو چومنا شروع کر دیا۔۔۔ اُف اس کے نرم نرم ہونٹ جب میرے ٹوپے کے ساتھ ٹچ ہوئیے تو اس کے لمس کی وجہ سے میں لزت بھری سسکیاں لینے لگا ادھر وہ بڑے ہی شہوت انگیز طریقے سے میرے ٹوپے کو چومتی رہی اس کے بعد اس نے اپنا سر اُٹھایا اور کہنے لگی۔۔ تیری سسکیاں بتا رہیں ہیں کہ تجھے مزہ آ رہا ہے تو میں نے ہاں میں سر ہلا دیا اس کے بعد وہ کہنے لگی۔۔ تمہیں پتہ ہے تیرے جیسے لن کو چومتے چومتے میں اسے اپنے منہ میں ڈال لیتی ہوں اور اس کے ساتھ ہی اس نے میرے لن کو اپنے منہ میں ڈال لیا اور اسے آم کی طرح چوسنا شروع ہو گئی وہ کبھی تو میرے لن کو صرف ہونٹوں کے ذریعے سے اوپر سے نیچے تک چوستی اور اپنے منہ کے اندر تک لے جاتی اور کبھی مست ہو کر اپنی زبان باہر نکالتی اورشہوت بھرے انداز میں لن کو چاروںں طرف سے چاٹنا شروع کر دیتی۔ اس کے لن چوسنے کا اسٹائل اس قدر شہوت انگیز تھا کہ میں برداشت نہ کر پایا اور اچانک ہی مجھے جوش چڑھ گیا اور میں نے اس کو منہ سے پکڑا اور اس کے منہ کو چودتے ہوئیے بولا میں بس۔۔۔۔۔۔۔ میری اس حرکت سے تجربہ کار ٹینا فوراً سمجھ گئی کہ میرا پانی نکلنے والا ہے اس لیئے اس نے میرے لن کو تیزی کے ساتھ اپنے منہ میں لے لیا اور اسے تیز تیز چوسنا شروع ہو گئی۔۔ کچھ ہی دیر بعد میرے جسم نے جھٹکے لینا شروع کر دیئے یہ دیکھ کر وہ اور تیزی کے ساتھ چوپا لگانے لگی تیزاور تیزز اور پھر میرے لن نے پانی چھوڑنا شروع کر دیا لیکن وہ منی کو پیتی گئی اور میرے لن کو اس وقت اپنے منہ سے باہر نکا کہ جب وہ مرجھانا شروع ہو گیا۔۔ نرمین اس کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتی جا رہی تھی۔ ٹینا نے جب ساری منی پی لی تو ہنس کر نرمین سے بولی۔۔ ڈارلنگ اس کا اپنا ہی ایک نشہ ہے جس دن تم کو یہ نشہ لگ گیا تم اس کو کبھی کسی کے ساتھ شیئر نہیں کروگی۔۔۔ جب ہم فارغ ہوے تب تک سیکس شو بھی ختم ہو چکا تھا اور سب لوگ خود کو سمبھال رہے تھے میں نے بھی اپنے کپڑے درست کئے اور ٹینا کا شکریہ ادا کیا وہ بولی اتنی ٹیسٹی منی پلانے پر شکریہ تمھارا بنتا ہے اوکے پھر کبھی ملاقات ہو گی۔ ہم دونوں نے بھی اسے گڈ بائے کہہ دیا اور باہر جانے لگے تب ہی ٹینا نے دوبارہ آواز دی اور ہم رک گئے وہ ہمارے پاس آئ اور بولی کل تم لوگ کیا کر رہے ہو؟ میں نے نرمین کی طرف دیکھا اسنے کندھے اچکا دئے تو میں نے ٹینا کو کہا ابھی تک کچھ خاص پلان نہیں کیا۔ ٹینا بولی گریٹ بس تو پھر میرے پاس تمہارے لیے بہت خاص پلان ہے ایک بہت زبردست جزیرہ ہے جسکا بہت کم لوگوں کو پتہ ہے ہمارے گروپ کی کل ادھر کی بکنگ ہے تم جانا چاہو گے؟ میں نے کہا ہاں ضرور۔۔ ٹینا نے میرا موبائیل نمبر اور ہوٹل کا نام وغیرہ پوچھا اور مجھے کہا کل دوپہر ۱۲ بجے تک تیار لینا ہم تمہیں پک کر لئیں گے۔ ہم پلان ڈن کر کے نکل آئے۔۔ رات کافی ہو چکی تھی اور بھوک بھی زوروں کی تھی ہم نے کھانا کھایا اور ہوٹل آ گئے۔ بیڈ پر لیٹ کر میں نے نرمین سے پوچھا کیسا لگا آج کا تجربہ وہ بولی بہت ہی الگ۔۔ یہ تو ایک الگ ہی دنیا ہے سچ پوچھو تو اس طرح سیکس کرنے کا تجربہ بھی بہت اچھا لگا ہے۔ ہم اسی طرح باتیں کرتے کرتے سو گئے۔ صبح میری آنکھ کھلی تو کمرے میں اندھیرا تھا اور نرمین بیڈ پر نہیں تھی شاور چلنے کی آواز آ رہی تھی میں سمجھ گیا کہ نرمین لائٹ بند کر کے اس لیے نہا رہی ہے کہ میری نظر ناں پڑے یہ سوچ کر میں ہنس پڑا اور جلدی سے اٹھکر لائیٹس جلا دئیں واش روم کی طرف دیکھا تو گلاس وال کی دوسری طرف میری قاتل جان غضب ڈھا رہی تھی۔۔ لائٹس جلتے ہی اپنے ننگے جسم کو اپنے ہاتھوں سے ڈھانپنے کی ناکام کوشیش کر رہی تھی جبکہ اسے پتہ تھا کہ وہ تو اپنے ہاتھوں سے اپنے بڑے بڑے ممے بھی نہیں کور کر سکتی۔ میں نے اس کے سیکسی جسم کو دیکھ کر سیٹی بجائ اور کھڑکی طرف جا کر پردے مکمل پچھے کر دئے۔ بابر سوئمنگ پول میں اور پول کے ارد گرد کافی لوگ بیٹھے تھے جن کو ہم تو دیکھ سکتے تھے لیکن وہ ہمیں نہیں دیکھ سکتے تھے۔ اتنے لوگوں کو دیکھ کر نرمین چیخ کر بولی شیراز یار پلیز کم از کم پردہ ہی آگے کر دو۔ میں نے اپنے کپڑے اتارے اور واش روم میں اس کے پاس جا کر کہا ریلیکس یار باہر سے نظر نہیں آتا یہ کہتے ہوے میں نے واش روم کے گلاس وال سے پول کی طرف دیکھا تو ایک دفع مجھے بھی ایسا ہی لگا جیسے میں ننگا ہی اتنے لوگوں کے سامنے کھڑا ہوں اور اس فیلنگ سے میرا لوڑا اکڑنا شروع ہو گیا۔ نرمین بولی یار ان کو نظر نہیں آ رہا لیکن مجھے تو ایسا ہی لگ رہا ہے کہ وہ سب ہمیں ہی دیکھ رہے ہیں ۔۔ میں نے کہا ہاں تو اس احساس کے مزے لو اور شرمانے والی کیا بات ہے ان کو دیکھو زیادہ تر ننگے ہی ہیں ۔ اور بات بھی ٹھیک تھی گوریوں کی بھیگی بیکنیز نا ہونے کے برابر ہی تھی اور جو گورے تھے ان کے لوڑے گیلی نکروں میں نمایاں ہو رہے تھے۔ نرمین کو تسلی دیکر میں نے اس کو باہوں میں لے لیا۔۔[/font]

Offline Sexystranger

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 121
  • Reputation: +3/-0
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #35 on: June 03, 2020, 03:16:13 pm »
اوپر سے شاور کا پانی گر رہا تھا۔  میں نے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں سے ہٹائے اور اس کی گردن کو چومنا شروع کر دیا۔ کبھی اس کی گردن کو چومتا کبھی اسے چاٹنا شروع کر دیتا۔ ساتھ ساتھ دونوں ہاتھ اس کی کمر کا مساج کرنے میں مصروف تھے۔ اس کی گردن پر چومتے چومتے میں نے زبان سے اس کی کان کی لو کو چھیڑنا شروع کر دیا۔ اور ایک ہاتھ اس کی کمر پھر پھیرنا جاری رکھا اور دوسرے ہاتھ کو اس کی گانڈ کی لکیر میں گھسا دیا۔ نرمین پر بھی مستی چھانا شروع ہو گئی اور اس نے آہستہ آہستہ میرا ساتھ دینا شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد ہی اس کے ہونٹ میرے ہونٹوں پر تھے۔ اور بڑے مزے سے میری زبان چوس رہی تھی۔ میں نے اسے بالکل اپنے ساتھ لپٹایا ہوا تھا۔ میرا لن اس کی رانوں اور پھدی کے درمیان پھنسا ہوا تھا اور اس کی پھدی کو ٹکریں مار رہا تھا۔ اس سے نرمین پر الگ خواری طاری ہورہی تھی۔ کچھ دیر زبان چوسنے کے بعد وہ میرے سامنے بیٹھ گئی اور لن کو منہ میں لے لیا۔ شاور کا پانی اس کے سر پر گر رہا تھا اور وہ مستی میں ڈوبی میرے لن کے چوپے لگا رہی تھی۔ کبھی لن کو منہ میں لیتی تو کبھی نیچے سے ٹٹے پکڑ کر سارے کے سارے منہ میں ڈال کر انہیں چوسنا شروع کر دیتی ۔ وہ رات کی ٹرینینگ کو پوری طرح استعمال کر رہی تھی۔۔ اس سے میں مزے کی ایک الگ ہی دنیا میں پہنچ جاتا۔ میں نے دیوارکے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی۔ میں نے ایک پاؤں آگے کو بڑھایا اور پاؤں کے انگوٹھے سے اس کی چوت کو چھیڑنے لگ گیا۔ اس نے کچھ دیر ایسے ہی چلنے دیا اور پھر کچھ دیر بعد اس نے اپنے ہاتھ سے انگوٹھے کو انگلیوں سے تھوڑا سائیڈ پر کیا اور انگلیاں نیچے کو موڑ دیں۔ اور انگوٹھے کو پھدی میں ڈال لیا۔ اب صورتحال یہ بن گئی کہ اوپر وہ میرا لن چوس رہی تھی اور نیچے میرے کھڑے پاؤں کے انگوٹھے پر وہ ایسے اچھل رہی تھی جیسے نیچے لیٹے ہوئیے بندے کے لن پر جھٹکے لے رہی ہو۔ کچھ دیر ایسے ہی چلتا رہا۔ پھر میں نے اسے کھڑا کیا۔ میں نے اس کا منہ دوسری طرف موڑا اور اسے گھوڑی بنا دیا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ شیشے کی دیوار پر رکھ لیے اور کمرے کی کھڑکی کے پار کھڑے لوگوں کو پول میں نہاتا دیکھنے لگی۔ شاور کا پانی اس کی کمر پر گر رہا تھا اور ایک لائن کی صورت اس کی گانڈ کی لکیر میں جارہا تھا اور اس کے پہلو سے بھی نیچے بہہ رہا تھا۔ اس کی پھدی پہلے ہی گیلی تھی۔ میرا لن بھی ٹن ٹنا کر کھڑا تھا۔ پھر بھی میں نے دو تین بار پھدی کے اوپر رگڑ کر اس کی پھدی کے پانی سے ہی لن کو گیلا کیا اور ٹوپا اس کی پھدی کے سوراخ پر رکھ کر ایک جھٹکا مارا تو لن آدھا اس کی چوت میں گھس گیا۔ چوت کے لن میں جآتے ہی اس کے منہ سے آہ نکل گئی۔ میں نے ٹوپی کو اندر رہنے دیا اور باقی لن باہر نکال لیا۔ اور پھر ایک جاندار دھکا مارا اور سارا لن چوت میں اتار دیا۔ اس کی پہلے سے تیز ہائے نکلی۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر شاور بند کر دیا ۔ میں نے لن اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے بھی گانڈ ہلا ہلا کر میرا ساتھ دینا شروع کر دیا۔ میں جیسے ہی لن باہر کو نکال کر اندر دھکا مارنے لگتا وہ آگے سے گانڈ کو زور سے باہر کی طرف دھکا مارتی اور اس کی گانڈ دھپ کی آواز کے ساتھ میرے پیٹ سے آٹکراتی۔ واش روم دھپ دھپ کی آوازوں سے گونج رہا تھا جس میں نرمین کی سسکیوں کی آوازیں بھی گونج رہی تھیں۔ ہر جھٹکے کے ساتھ اس کی آہہہہ آہہہہ کی آوازوں میں جان پیدا ہوتی جا رہی تھی۔ اور اس کا جوش بڑھتا جا رہا تھا۔ اس کی سسکیاں اور آہیں میرے جوش میں بھی اضافہ کر رہی تھیں۔ اورمیں بھی زور زور سے جھٹکے مار رہا تھا۔ اچانک اس کا جسم اکڑنا شروع ہو گیا۔ اس کی سسکیاں تیز تر ہو گئیں۔۔ اس کی چوت نے میرے لن کو جکڑنا شروع کر دیا۔ اور پھر تین چار گھسوں کے ساتھ ہی اس کی چوت نے پانی کی برسات شروع کر دی۔ اس کی چوت کا فوارہ میرے لن کو اس کی چوت کے اندر ہی بھگو رہا تھا۔ میں نے چند سیکنڈ رک کر اس کے فارغ ہونے کا انتظار کیا اور پھر اسی رفتار سے اسے دوبارہ چودنے لگا۔ مسلسل گھسے مارنے کی وجہ سے میں فارغ ہونے کے قریب پہنچ گیا تھا۔ اچانک میرے سارے جسم سے جان نکل کر میرے لن کی طرف جمع ہونا شروع ہو گئی۔ میں نے گھسے مزید زور سے مارنا شروع کر دیے۔۔ بالاخر میرے لن نے نرمین کی چوت میں ہی پانی کی برسات شروع کر دی۔ میں نے دیوار سے ٹیک لگا لی اور کچھ دیر بعد شاور آن کر کے میں نے اور نرمین نے اکٹھے شاور لیا اور ایک دوسرے کے جسم کو اچھی طرح صاف کیا۔ نرمین کی جھجک اور شرم اب بلکل ختم ہو چکی تھی۔ شاور لیکر ہم دونوں نے باتھ روب پہنے اور کمرے میں آ گئے۔  کمرے میں آکر میں نے نرمین سے پوچھا کیا پہن رہی ہو۔ وہ بولی بتا دو جو کہتے ہو پہن لیتی ہوں۔ میں محسوس کر رہا تھا کہ نرمین بہت کانفیڈینٹ اور فرینک ہو چکی تھی اور اب مجھے بھی آپ جناب کی بجائے تم کہہ کر بلا رہی تھی جو کہ مجھے اچھا بھی لگ رہا تھا۔ میں نے کہا آج سمندر پر جانا ہے تو کل جو فراق لیے تھے ان میں کوئی پہن لو۔ نرمین نے اوکے کہا اور لائیٹ پنک رنگ کا فراق نکالا جس پر سفید اور سرخ رنگ کے پھول بنے ہوے تھے۔ پہلے نرمین نے باتھ روب میں ہی اپنے بال سنوارے ہلکا سا میک اپ اور لائٹ سی لپ سٹک لگائ پھر میرے سامنے ہی کمرے میں باتھ روب اتار کر مکمل ننگی ہوئی پھر پیلے رنگ کا برا اور پینٹی پہنی جس پر چھوٹے چھوٹے دل بنے تھے۔۔ اس کے بعد فراق پہنا۔۔ فراق کی فٹنگ بہت اچھی تھی۔ لمبائ گھٹنوں سے کافی اوپر تک تھی۔ پیٹ والی جگہ سے بلکل پیٹ کے ساتھ جڑا ہوا تھا اس وجہ سے گانڈ کافی نمایاں ہو رہی تھی۔ بازو مکمل اور سینہ مموں تک ننگا تھا۔ نرمین کو اتنے سیکسی لباس میں دیکھ کر میں پھر چارج ہونا شروع ہو گیا اور جا کر پیچھے سے اس کو پکڑ لیا میرا ادھ کھڑا لوڑا اس کی گانڈ میں گھس رہا تھا۔ میرے ارادے دیکھ کر نرمین بولی تمہیں تو موقع چاہیے فورا شروع ہو جآتے ہو میں نے کہا تم سیکسی ہی اتنی ہو کہ میرے سے رہا ہی نہیں جاتا۔ نرمین بولی ابھی تو کیا ہے چلو تیار ہو جاو ٹینا بھی آنے والی ہوگی۔ ٹینا کا سن کر میں نے نرمین کو چھوڑا اور اپنا باتھ روب اتار کر اپنی نیکر اور ٹی شرٹ پہن لی۔ تیار ہو کر ہم ریسٹورنٹ گئے اور ناشتہ کیا۔۔ ناشتے سے فارغ ہو کر ہم دونوں ہوٹل کی لابی میں بیٹھ گئے اور ٹینا کا انتظار کرنے لگے۔۔۔ میں نے نرمین سے پوچھا۔۔ رات کو ٹینا نے میرا چوسا تمہیں برا تو نہیں لگا؟ نرمین بولی۔۔ برا تو نہیں لیکن عجیب ضرور لگا۔۔ میں نے پوچھا عجیب کیوں؟ نرمین بولی۔۔ عجیب اس لیے کہ ٹینا پہلی دفعہ ملی اور اتنی فری ہو گئ کہ اتنا سب کر گئ۔۔ چلو وہ تو گوری تھی ان میں چلتا ہوگا۔۔ تم بھی مزے لیتے رہے۔۔ تمہارے سامنے میں ایسا کروں تو تمہیں کیسا لگے گا۔۔؟ میں نے کہا۔۔ سچ بتاوں۔۔ مجھے اس میں کوئی مسلہ نہیں ہوگا۔۔ اگر تم چاہو تو کر لو۔۔ نرمین نے حیران ہو کر مجھے دیکھا اور بولی۔۔ شیراز پتہ ہے کیا کہہ رہے ہو؟؟ ڈرنک تو نہیں کی ہوئی؟؟ میں نے کہا۔۔ یار میں نے کہا نا میں بہت الگ ہوں۔۔ مجھے نہیں فرق پڑتا۔۔ میں عیاشی کر سکتا ہوں تو تم بھی جو کرنا چاہو کرو۔۔ اگر میرا پوچھو تو شاید مجھے تو تمہیں کسی اور کے ساتھ دیکھ کر زیادہ مزا آۓ۔۔ بلکہ میرا تو یہ سوچ کے ہی لوڑا کھڑا ہو رہا ہے۔۔ نرمین نے گہری سانس لی اور مجھے ایسے دیکھا جیسے یقین ناں آیا ہو۔۔ میں نے کہا یار تم نے پوچھا میں نے سچ بتا دیا۔۔ آگے تمہاری مرضی ہے یقین کرو یا ناں۔۔ اس سے پہلے ہم کوئی اور بات کرتے۔۔ ٹینا آ گئ ۔۔ میرے اور نرمین کے گلے لگ کر ملی۔۔ نرمین کو بولی آج تو تم قیامت لگ رہی ہو۔۔ گروپ کے آدمیوں کی خیر نہیں۔۔ اور ہنسنا شروع ہو گئ۔۔ ہم اسی طرح باتیں کرتے ہوٹل سے باہر آ گۓ۔۔ باہر ایک وین کھڑی تھی۔۔ ٹینا ہمیں پیچھے آنے کا کہہ کر اس میں گھس گئ۔۔ پہلے نرمین اندر گئ اور اس کے پیچھے میں۔۔ وین میں ٹوٹل دس بارہ لوگ بیٹھے تھے۔۔ سب کپلز تھے یعنی پانچ لڑکے اور پانچ لڑکیاں۔۔ میں اور نرمین خالی سیٹوں پر بیٹھ گئے۔۔ ٹینا نے سب سے ہمارا تعارف کروایا۔۔ ٹینا کے ساتھ جو رات کو گورا ملا تھا اس کا نام جیمز تھا۔۔ وہ سب ایک ساتھ آسڑیلیا سے چھٹیاں منانے آے تھے۔۔ لڑکے اور لڑکیاں ۔۔ سب ہی بھرپور فٹ تھے۔۔ لڑکیوں میں سے کچھ نے بیکنیز اور کچھ نے برا اور نیکریں پہن کر اوپر چھوٹی سی چادر باندھی ہوئی تھی۔۔ سب کے آدھ ننگے جسم دیکھ کر میرے لوڑے میں جان پڑنی شروع ہو گئ۔۔ میں نے اس کو سمجھا کر بیٹھا دیا۔۔ آدھے گھنٹے بعد وین سمندر کنارے رکی۔۔ وین سے اترے تو میں جو لڑکیوں کے مموں سے پاگل ہو رہا تھا۔۔ ان کی گانڈ دیکھ کر تو میرے ہوش ہی اڑ گئے۔۔ وین سے اتر کر ہم سب ایک سپیڈ بوٹ میں بیٹھ گئے۔۔ سپیڈ بوٹ کے آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد ہم ایک بہت ہی خوب صورت جزیرے پر پہنچ گئے۔۔ سارے سفر کے دوران سب کپلز نے خوب ہلا گلا مچایا ہوا تھا۔۔ جزیرہ بہت صاف ستھرا تھا۔۔ اس کی ریت سفید اور بہت نرم سی تھی۔۔ ہمارے علاوہ ادھر اور کوئی گروپ نہیں تھا۔۔ سب سے الگ بات جو اس بیچ پر دیکھنے میں ملی۔۔ وہ ایک بہت بڑا واٹرپروف گدا تھا جو سمندر کے کنارے پر پڑا تھا۔۔ جب تیز لہریں آتی تو پورا گدا پانی میں ڈوب جاتا اور لہروں کے واپس جانے پر صاف ہو جاتا۔۔ [/font]
موسم بہت زبردست تھا۔۔ خاص کر ان گوروں کے لیے تو بہت ہی اچھا تھا۔۔ اس لیے ادھر پہنچتے ہی سب اس گدے پر لمبے ہو گئے۔۔ اوپر سورج اور نیچے نرم ریت پر بہت ہی نرم گدا ۔۔ اور اس پر جسم کو چھوتی لہریں۔۔ نرمین اپنے فراق کی وجہ سے گدے پر نہیں جا رہی تھی۔۔ میں نے اس کو کہا تم بھی فراق اتار لو۔۔ نیچے بیکنی پہنی تو ہوی ہے اور ادھر سب ہی بکنی میں ہیں۔۔ لیکن وہ نہیں مانی۔۔ مجبورا مجھے بھی اس کے ساتھ واک کرنی پڑی۔۔ ہمیں واک کرتے دیکھ ٹینا آ گئ۔۔ اور بولی تم لوگ اکیلے کیوں گھوم رہے ہو؟ میں نے اسے مسلہ بتایا تو وہ نرمین سے بولی کیوں یار بیکنی میں کیا مسلہ ہے؟؟ ہم سب نے بھی تو پہنی ہے۔۔ آ جاو میدان میں۔۔ ابھی تم بکنی پر پریشان ہو۔۔ ہو سکتا جب ہم واپس پہنچئیں تو ادھر سب نے بکنی بھی اتار دی ہو۔۔ یہ پرائیویٹ ساحل اسی لیے تو بک کرویا ہے کہ ہم جو مرضی اور جیسے مرضی کر سکیں۔۔ پھر میرے لوڑے پر ہاتھ رکھ کر شہوت سے بھرپور لہجے میں بولی میں تو اس مزے دار لوڑے کو سب کے سامنے چوسنے والی ہوں۔۔ تم بھی کسی گورے کو دیکھ لو جس سے تم نے سیکس کرنا ہے۔۔ پھر آنکھ مار کر بولی۔۔ ویسے جیمز کی تم پر نظر ہے۔۔۔ نرمین کے تو رنگ ہی اڑ گئے اور وہ میرے پیچھے پڑ گئ کہ واپس چلو۔۔ ٹینا کو پتا لگا تو وہ بولی کیا بچوں والی بات کر رہی ہو۔۔ اس میں پریشانی کیا ہے ۔۔۔ تم پارٹنر نہیں بدلنا چاہتی تو کوئی زبردستی تو نہیں ہے۔۔ یہ تو ہر کسی کی مرضی کی بات ہے۔۔۔ ابھی چلو ادھر سب کے پاس۔۔ ٹینا کی بات سن کر نرمین کو کچھ تسلی ہوئی۔۔ اور ہم واپس گدے کی طرف چل پڑے۔۔ ادھر پہنچے تو جیسا ٹینا نے بتایا تھا وہی حالات تھے۔۔ تقریبا سب گوریوں نے برا اتار دئے ہوے تھے۔۔ کچھ نے تو پینٹی بھی اتاری ہوئی تھی۔۔ اور مکمل ننگی لیٹی دھوپ سیک رہی تھیں۔۔ گورے گوریاں سب مکس لیٹے تھے۔۔ کسی کا سر کسی کی ٹانگ پر۔۔ کسی کی ٹانگ کسی اور کے پیٹ پر تھے۔۔ لیکن کسی کو کوئی پروا نہیں تھی۔۔ سب دھوپ سیک رہے تھے۔۔ میں نے نرمین کو دیکھا ۔۔ اس نے بھی اپنا فراق اتارا اور ہم بھی سب کے ساتھ لیٹ گئے۔۔ دھوپ میں اتنا مزا آیا کہ تھوڑی دیر میں میری آنکھ لگ گئ۔۔ کچھ دیر میں مجھے اپنے لوڑے پر کسی کی گریپ محسوس ہوئی۔۔ میں نے آنکھیں کھولیں تو دیکھا ٹینا میرے قریب مکمل ننگی لیٹی تھی۔۔ اور جیمز اس کی پھدی چاٹ رہا تھا۔۔ اور ٹینا نے میری نیکر میں ہاتھ ڈال کر میرا لوڑا پکڑا ہوا تھا۔۔ جیمز کا لوڑا کوئی اور لڑکی چوس رہی تھی۔۔ میں نے تھوڑا اٹھ کر دیکھا تو ہر طرف یہی سین تھا۔۔ کوئی پھدی چاٹ رہا تھا۔۔ تو لڑکی کسی دوسرے کا لوڑا چوس رہی تھی۔۔ لڑکی کسی کا لوڑا چوس رہی تھی اور کوئی دوسرا لڑکا اس کو چود رہا تھا۔۔ گروپ سیکس عروج پر تھا۔۔ یہ سب دیکھ کر میرا لوڑا فل جوبن پر کھڑا ہو گیا۔۔ میرے لوڑے کو اکڑتا دیکھ کر ٹینا نے میری طرف دیکھا۔۔ اور بولی۔۔ اٹھ گئے۔۔ اپنی گرل فرینڈ کو بھی اٹھا دو۔۔ یا تم لوگ بس سونے آۓ ہو۔۔۔ اور تب مجھے نرمین یاد آئ جو میرے پہلو میں سو رہی تھی۔۔ اور بہت ہی سیکسی لگ رہی تھی۔۔ میں نے نرمین کی پینٹی کے اوپر سے اس کی پھدی پر دانتوں سے کاٹا اور ہاتھ سے دبایا۔۔ اس دوران ٹینا میری نیکر کو ٹانگ سے اوپر کر کے نیکر کے پہنچے سے میرے لوڑے کو نکال چکی تھی اور ٹوپی کو چوس رہی تھی۔۔ جبکہ جیمز ٹینا کی پھدی چاٹ رہا تھا۔۔ میں نے نرمین کی پینٹی تھوڑی سائیڈ پر کی اور اسکی پھدی اور ٹانگ کے درمیان اپنی زبان پھیری۔۔ اور ہاتھ اس کے ممے پر رکھ کر اسے دبانا شروع کیا۔۔ نرمین کی آنکھ کھل گئ۔۔ اور وہ ڈر گئ۔۔ اس نے ارد گرد سب کو سیکس کرتے دیکھا۔۔ پھر مجھے دیکھا۔۔ اور نارمل ہو گئ۔۔۔ ٹینا نے میری نیکر اتار دی اور میں بلکل ننگا ہو گیا۔۔ ٹینا نے میرے ٹٹوں کو چاٹنا شروع کیا۔۔ ٹٹوں سے وہ نیچے آئ۔۔ ٹٹوں اور میری گانڈ کے درمیان والی جگہ کو چاٹا۔۔ اور پھر میری گانڈ کے سوراخ پر زبان پھیرنے لگی۔۔ پہلی دفعہ کسی نے گانڈ چاٹی تھی۔۔ افف میرے منہ سے تو سسکی نکل گئ۔۔ ساتھ ساتھ وہ میری مٹھ مار رہی تھی۔۔ ادھر میں نے نرمین کی پینٹی اتار دی ۔۔ اس نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔۔ میں نے اپنی زبان اس کی پھدی میں گھسا دی۔۔ اور اسے چاٹنے لگا۔۔ نرمین کی پھدی بہت پانی چھوڑ رہی تھی۔۔ اور جسم اس کا تڑپ رہا تھا۔۔ اور وہ مزے میں ڈوبی آوازیں نکال رہی تھی۔۔ اس کا مطلب وہ بھی خوب مزے لے رہی تھی۔۔ پھدی چاٹتے چاٹتے میں نے نرمین کی طرف دیکھا ۔۔۔ تو وہ کسی گوری کے منہ میں اپنا منہ گھسا چکی تھی۔۔۔ اور گوری نرمین کے ممے دبا رہی تھی۔۔ اور اس گوری کو ایک اور گورا چود رہا تھا۔۔اس طرح بلکل کھلے ساحل پر۔۔ سیکس کرتے ہوے جب جسم پر سمندر کی لہریں لگتیں۔۔ تو مزا دوبالا ہو جاتا۔۔ نرمین کی پھدی چاٹتے چاٹتے میں نے اپنی انگلی اس کی پھدی میں گھسا دی ۔۔ اور اس کو انگلی سے چودنا شروع کر دیا۔۔ اتنے شہوت انگیز ماحول کا اثر تھا۔۔ نرمین ڈسچارج ہونا شروع ہو گئ۔۔ ادھر ٹینا میرے لوڑے پر چڑھی اچھل رہی تھی۔۔ اور ساتھ کسی گورے کا لوڑا چوس رہی تھی۔۔۔ میں نے اسے اپنے لوڑے سے اتارا اور اس کو نرمین کے اوپر بٹھا دیا۔۔۔ اب نرمین اور ٹینا کی پھدیاں ساتھ ساتھ جڑی ہوئی تھی۔۔ میں نے اپنا لوڑا دونوں کے درمیان گھسا دیا۔۔ میرا لن دونوں کی پھدیوں کے ہونٹوں میں اندر باہر ہو رہا تھا۔۔ اور ہم تینوں ہواوں میں اڑ رہے تھے۔۔ اس وقت جیمز اپنا لوڑا لیے کر نرمین پاس آیا۔۔ اور لوڑا اس کے منہ کے آگے لہرایا۔۔ وہ نرمین سے چوپا لگوانا چاہ رہا تھا۔۔ نرمین نے اپنا منہ دوسری طرف کر لیا۔۔ ٹینا بولی۔۔ جیمز وہ نہیں کرنا چاہتی۔۔ جیمز بولا اوکے اور دوسری گوری کے پاس چلا گیا۔۔ ٹینا اٹھی اور نرمین کو بولی۔۔۔ کیا میں تمھاری پھدی چاٹ لوں؟ نرمین نے مجھے دیکھا۔۔ میں نے کہا۔۔ تمھاری مرضی ہے۔۔ اس نے ٹینا کو دیکھا اور بولی یہ میرا نیو تجربہ ہے۔۔۔ کیا جا سکتا ہے۔۔ اور ٹینا اس کی پھدی پر جھک گئ۔۔ اور نرمین نے میرے لوڑے کو منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا۔۔ میں نے نرمین کے ممے دبانا شروع کر دئیے۔۔ اسی طرح ہم مختلف پوزیشنز میں سیکس کرتے رہے۔۔ اور فارغ ہوتے رہے۔۔ ماحول میں اتنی زیادہ شہوت بھر چکی تھی۔۔ کہ جو بھی ڈسچارج ہوتا۔۔ وہ بھی دوبارہ چارج ہو کر شروع ہو جاتا۔۔ ہم شام تک اسی ساحل پر رہے۔۔ جب سب تھک کر چور ہو گئے تو واپس نکل پڑے۔۔ جب ہم واپس ہوٹل پہنچے اور وین سے اترے تو ٹینا اور جیمز ہمیں بائے کہنے نیچے اتر آۓ۔۔ میں اور ٹینا گلے ملے میں نے کہا۔۔ یار یہ مزا ہم ساری زندگی نہیں بھول سکئیں گے۔۔ تمہارا بہت شکریہ۔۔ ٹینا بولی تم لوگ آسٹریلیا آ جاو۔۔ روز یہ مزہ کرئیں گے۔۔ اور مجھے بھی تمھارا مزیدار لوڑا چوسنے کا موقع مل جائے گا۔۔ میں ہنس کر کہا۔۔ پھر تو ہمیں آنا ہی پڑےگا۔۔ جیمز نرمین کو بولا سیکسی لڑکی تم نے مجھے لفٹ ہی نہیں کروائ۔۔ اب کم از کم گلے لگ کر بائے تو کہ دو۔۔ نرمین نے مسکرا کر کہا۔۔ ہاں یہ میں کر سکتی ہوں اور اس کے گلے لگ گئ۔۔ جیمز ہنس کر بولا واو۔۔ میں اسی میں خوش ہوں۔۔ کل ہم واپس جا رہے ہیں۔۔ نہ جا رہے ہوتے تو شاید میری قسمت کھل ہی جاتی۔۔ نرمین شرارت سے بولی۔۔ ہاں ویسے ہو بھی سکتا ہے۔۔ جیمز نے ٹینا کو دیکھا اور بولا میری سیٹ آگے کرواو۔۔ میں واپس نہیں جا رہا۔۔ نرمین جلدی سے بولی۔۔ نہیں بابا میں مزاق کر رہی تھی۔۔ تم کل ٹائم پر ائیرپورٹ پہنچ جانا۔۔ یہ سن کر سب قہقہ لگا کر ہنس پڑے۔۔ سب نے ایک دوسرے کو بائے کہا اور ہم اندر اپنے کمرے میں آ گئے۔۔ کمرے میں آ کر نرمین بولی۔۔ یار بہت بھوک لگ رہی ہے۔۔ کچھ کمرے میں ہی مگوا لو۔۔ اب باہر جانے کی ہمت تو نہیں ہے۔۔ میں نے کہا ہاں یہ تو ہے۔۔ اور فون پر روم سروس سے کھانا مگوا لیا۔۔ پورے جسم پر ریت محسوس ہو رہی تھی۔۔ میں نے کھانا مگوایا اور خود واش روم میں شاور لینے گھس گیا۔۔نرمین نے بھی چبتی ریت سے تنگ آ کر۔۔ فراق اتارا اور پھر بکنی اتاری اور ننگی صوفے پر بیٹھ کر موبائیل پر مصروف ہو گئ۔۔وہ واش روم فری ہونے کا انتظار کر رہی تھی۔۔ میں نے کہا بھی کہ ساتھ نہا لو۔۔ وہ بولی ۔۔ نہیں جی تمہارا کیا پتہ پھر پکڑ کر شروع ہو جاو۔۔ اور اس وقت میرا بلکل موڈ نہیں ہے۔۔ میں نے کہا موڈ بنتے کونسا ٹائم لگتا ہے۔۔ آگے سے نرمین نے منہ چڑا دیا۔۔ شاور لیکر میں فریش ہوگیا۔۔ باتھ روب لپیٹا اور کمرے میں آ گیا۔۔ میرے آتے ہی نرمین واش روم میں گھس گئ اور میں اسے شاور لیتے دیکھنے لگا۔۔ اس کے سیکسی جسم پر پانی پڑتا دیکھ میرا لوڑا پھر کھڑا ہو گیا۔۔ میں نے باتھ روب سامنے سے کھولا اور لوڑا ہاتھ میں پکڑ کر نرمین کو آواز دی اور کہا۔۔۔ یہ دیکھو تمہیں نہاتا دیکھ اس کا موڈ تو بن بھی گیا ہے۔۔ نرمین بولی۔۔ اسی لیے میں ساتھ نہیں نہا رہی تھی۔۔ یہ تو ہر وقت ہی تیار رہتا ہے۔۔ اسی وقت دروزے پر دستک ہوئی۔۔ میں تمبو بنے باتھ روب کے ساتھ دروازے کی طرف گیا تو نرمین ہنسنا شروع ہو گئ۔۔ دروازہ کھولا تو ویٹرس کھانا لے کر کھڑی تھی۔۔ میں سائیڈ پر ہوا تو وہ اندر آ گئ۔۔ کھانا رکھ کر مڑی۔۔ واپس جاتے اس نے نرمین کو شاور لیتے دیکھا۔۔ پھر میری طرف دیکھا اور اس کی نظر سیدھی تمبو پر گئ۔۔ وہ مسکرا کر باہر نکل گئ۔۔ نرمین بولی۔۔ تمہیں تو بلکل بھی شرم نہیں آتی۔۔ اپنے ساتھ مجھے بھی بے شرم بنا دیا ہے۔۔ میں نے کہا باتیں نہ کرو اور جلدی باہر آو کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے۔۔ نرمین نے بھی باتھ روب پہنا اور باہر آ گئ۔۔ ہم نے کھانا کھایا اور باتیں کرنے لگے۔۔ میں نے اس سے آج کے ٹرپ کا پوچھا کہ کیسا لگا؟ نرمین نے گہری سانس لی اور بولی۔۔ بہت ہی انوکھا تجربہ تھا۔۔ مجھے تو ابھی تک خواب لگ رہا ہے۔۔ [/font]

Offline Sexystranger

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 121
  • Reputation: +3/-0
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #36 on: June 03, 2020, 03:19:59 pm »
میں نے کہا۔۔ ہاں ایسا ہی ہے۔۔ لیکن مجھے تو بہت مزا آیا۔۔ نرمین نے کہا۔۔ مزا تو مجھے بھی آیا ہے۔۔ اتنے لوگوں کے درمیان۔۔ ان کے ساتھ سیکس کرنا۔۔ مزا تو تھا۔۔ میں نے کہا تم نے کب کسی اور سے سیکس کیا ہے۔۔ نرمین بولی کسی لڑکے سے نہیں لیکن ٹینا اور دوسری گوری کے ساتھ تو کیا ہی تھا نا۔۔ میں نے پوچھا ویسے جیمز یا کسی اور گورے کا لن لینے کا دل نہیں کیا تمہارا؟ نرمین نے میرے بازو پر تھپڑ مارا اور بولی۔۔ کیسے کر لیتے ہو اسی باتیں۔۔ میرے شوہر ہو۔۔ لوگ تو ایسا سوچتے بھی نہیں اور تم کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔۔ میں نے کہا لوگ منافق ہوتے ہیں۔۔ جھوٹے غیرت مند بنتے ہیں۔۔ دل سب کا کرتا ہے مانتا کوئی نہیں۔۔ میرا مسلہ ہے کہ میں کہہ دیتا ہوں۔۔ نرمین بولی ہممم شاید ایسا ہی ہو۔۔ میں نے دوبارہ پوچھا۔۔ بتاو ناں دل نہیں کیا کسی اور کا لینے کو؟ نرمین بولی ہاں دل تو کر رہا تھا۔۔ لیکن مجھے ڈر تھا گورے لوگ ہیں کوئی بیماری ہی نہ لگ جائے۔۔ اس لیے کنٹرول کر لیا۔۔ میں نے جلدی سے کہا۔۔ یعنی کوئی اپنا جان پہچان کا دیسی کپل ہو تو تمہیں اعتراض نہیں ہوگا۔۔ نرمین ہنس کر بولی۔۔ ساتھ ہی اپنا دماغ چلانا شروع ہو جاتے ہو۔۔ میں نے کب کہا اپنے کسی سے اعتراض نہیں ہوگا۔۔ میں نے تو بس آج کا کہا ہے۔۔ ماحول ایسا تھا کہ دل کر گیا۔۔ ورنہ میں اس طرح کرنے کا سوچوں بھی نہ۔۔ میں نے کہا یہ بھی صحیح ہے۔۔ تھوڑی دیر ادھر ادھر کی باتیں کر کے میں نے کہا۔۔ مجھے تو بہت نیند آ رہی ہے میں سونے لگا ہوں۔۔ نرمین بولی اوکے۔۔ تم سو جاو ۔۔ میں کچھ دیر پاکستان بات کر لوں پھر سوتی ہوں۔۔ میں نے اوکے کہا۔۔ اپنا باتھ روب اتارا اور ننگا ہی بستر میں گھس گیا۔۔ نرمین بولی آج ایسے سونا ہے؟ میں نے کہا ہاں۔۔ تم بھی ٹرائے کرنا مزا آتا ہے۔۔ آزادی محسوس ہوتی ہے۔۔ نرمین نے مسکرا کر سر ہلا دیا۔۔اور بولی تم اور تمہارے تجربے۔۔ میں نے آنکھ ماری اور لیٹ گیا۔۔ تھکاوٹ بہت تھی اس لیے پتہ بھی نہ چلا اور میں سو گیا۔۔ نیند میں ایک دفعہ آنکھ کھلی۔۔ دیکھا نرمین ابھی تک صوفے پر بیٹھی تھی۔۔ اور فون پر بات کر رہی تھی۔۔ نیند میں بس مجھے اتنی بات سمجھ آئ وہ کسی سے کہہ رہی تھی۔۔ تم اور تمہارے جیجو۔۔ بلکل ایک سے ہو۔۔ تم دونوں کی شادی ہونی چاہیے تھی۔۔اب تم نے جو فرمائیش ڈال دی ہے۔۔ مجھے تو شیراز کو کہتے بھی شرم آئے گی۔۔ اتنی بات سن کر میں دوبارہ گھری نیند میں چلا گیا۔۔ پتہ نہیں میں کتنی دیر سوتا رہا۔۔ آنکھ کھلی تو کمرے میں کھڑکی کے پردے کی سائیڈ سے دن کی روشنی آ رہی تھی۔۔ میں نے ساتھ لیٹی نرمین کو دیکھا ۔۔ وہ ابھی بھی سو رہی تھی۔۔ اس کا منہ دوسری طرف تھا۔۔ تقریبا الٹی لیٹی تھی۔۔ ایک ٹانگ سیدھی تھی جبکہ دوسری اس نے فولڈ کر کے اپنے پیٹ سے لگائ ہوئی تھی۔۔ اس کی کمر لحاف سے باہر تھی اور ننگی تھی۔۔ میں نے لحاف اٹھا کر دیکھا تو نرمین مکمل ننگی سوئ ہوئی تھی۔۔ ٹانگ فولڈ ہونے کی وجہ سے اس کی گانڈ کا سوراخ اور پھدی کے ہونٹ نظر آ رہے تھے۔۔میں نے کچھ دیر یہ نظارہ دیکھا اور پھر رینگ کر اس کی گانڈ کے قریب ہو گیا۔۔ اس کے چوتڑ پر کس کیا۔۔ اپنی زبان کی نوک اس کی گانڈ کے سوراخ پر گھومائ۔۔ پھر اس کو چاٹتا ہوا اس کی پھدی تک گیا۔۔ اور پھر چاٹتا ہوا واپس گانڈ تک آیا۔۔ اس کے نرم سے چوتڑ کو اپنے ہاتھ سے کھولا اور اس کی گانڈ چاٹنے لگ گیا۔۔ میرا سر نرمین کی ٹانگوں میں تھا۔۔ پاوں نرمین کے سر کی طرف۔۔ میرا الف کھڑا لوڑا نرمین کی گردن کی بیک کا مساج کر رہا تھا۔۔ میں مزے سے نرمین کی گانڈ چاٹ رہا تھا اور ساتھ اس کی پھدی کے ہونٹوں میں انگلی گھسا رہا تھا۔۔ نرمین کی بھی آنکھ کھل گئ۔۔ اسی طرح لیٹے لیٹے وہ سسک رہی تھی۔۔ اس نے اپنی گردن پر میرا لوڑا محسوس کیا اور سیدھی لیٹ گئ۔۔ اس سے میرا لوڑا اس کی تھوڑی پر جا لگا۔۔ نرمین نے ایک ادا سے میرے لوڑے کو پکڑا اور منہ میں لے لیا۔۔ میرے منہ سے سسکاری نکل گئ۔۔ میں نے نرمین کی ٹانگیں کھولیں اور اس کی پھدی کو چاٹنا شروع کر دیا۔۔ نرمین جتنی شدت سے میرا لوڑا چوستی میں اتنے جوش سے اس کی پھدی چاٹتا۔۔ پھدی کے ساتھ میں انگوٹھے سے اس کی گانڈ کے سوراخ کا مساج بھی کرتا جاتا۔۔ اس کی پھدی کو زبان سے چودتا جاتا۔۔ جبکہ نرمیںن کبھی میری ٹوپی کو دانتوں سے ہلکا ہلکا کاٹتی کبھی چوسنا شروع کر دیتی۔۔ کبھی صرف ٹوپی کو چوستی تو کبھی پورا منہ میں لے لیتی۔۔ پھر میرے ٹٹوں کو چوستی اور لن کی مٹھ مارتی۔۔ کمرے میں ہماری سسکیوں اور چاٹنے کی آوازیں الگ ہی ماحول بنا رہی تھیں۔۔کچھ دیر ہم ایسی طرح ایک دوسرے کو چاٹتے رہے یہاں تک کہ نرمین کی پھدی نے پانی چھوڑ دیا اور وہ ڈسچارج ہو گئ۔۔ میں اٹھا اور اس کی ٹانگوں کے درمیان آ گیا۔۔ اس کی ٹانگیں اٹھائیں۔۔اپنا لوڑا پکڑا اور ٹوپی اس کی گیلی چوت کے ہونٹوں میں پھیرنے لگا۔۔ میں اندر نہیں گھسا رہا تھا بس اس کی چوت کے لبوں پر رگڑ رہا تھا۔۔ نرمین شہوت سے پاگل ہو رہی تھی۔۔ رگڑتے رگڑتے میں پھدی کے سوراخ پر آیا اور اچانک گھسا لگا دیا۔۔ اور ایک ہی گھسے میں سارا لن اس کی پھدی میں اتار دیا۔۔ نرمین نے افف کیا۔۔ اس کے چہرے پر تکلیف کے اثرات ابھرے اور اگلے ہی لمحے وہ ایک لذت بھری مسکراہٹ میں بدل گئے۔۔ایسے جیسے پا لینے کا سکون ہوتا ہے۔۔ میں نے گھسے مسلسل لگانے شروع کر دئیے۔۔ ساتھ ساتھ میں اس کے ممے دباتا جاتا۔۔ تھوڑی دیر بعد نرمین بولی۔۔ ٹانگیں نیچے کر دو میں تھک گئ ہوں۔۔ میں نے اس کی ٹانگوں کو چھوڑا اور بیڈ سے نیچے اترا۔۔ اور کھڑکی کے پاس جا کر پردے پیچھے ہٹا دئیے۔۔ کمرے میں روشنی بھر گئ۔۔ اور پول کی رونق بھی نظر آنا شروع ہو گئی۔۔ میں بیڈ کے قریب آیا اور نرمین کی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا تو میں اس کو لیکر پول والی کھڑکی کے پاس آ گیا۔۔ اپنی ایک ٹانگ ٹیبل پر رکھی اور نرمین کو زمین پر بٹھا کر ۔۔۔ اپنا لوڑا جو کہ اسکی پھدی کے پانی میں بھیگا ہوا تھا ۔۔ اس کے منہ میں گھسا دیا۔۔ جب اس نے اپنی پھدی کا پانی میرے لوڑے سے چاٹ لیا ۔۔ تو میں نے جھک کر اپنا منہ اس کے منہ سے جوڑ دیا اور اس کے منہ سے اس کی پھدی والا مزیدار پانی چاٹ کر صاف کر دیا۔۔ اور دوبارہ اپنا لوڑا اس کے منہ میں گھسا دیا۔۔ تھوڑی دیر نرمین کے منہ کو چود کر۔۔ میں صوفے پر بیٹھ گیا۔۔ اور نرمین کو اپنے لوڑے پر بیٹھنے کا کہا۔۔ وہ مزے سے لوڑے پر چڑھ گئ اور اس کو اندر لیکر بیٹھ گئ۔۔ اور پھر اوپر نیچے ہونے لگی۔۔ کمرے میں دھپ دھپ کی آوازیں گونج رہی تھیں۔۔۔ اندر یہ شہوت بھرا ماحول۔۔۔ سسکیوں کی آوازیں۔۔۔ اور بھرپور چدائی۔۔ کھڑکی کے پار لوگوں کی موجودگی۔۔۔ نرمین کا جسم اکڑنا شروع ہوا اور مجھے اپنے لوڑے پر اسکی پھدی کی گرفت بڑھتی محسوس ہوئی۔۔ میں جو پہلے ہی چھوٹنے کے قریب تھا۔۔یہ محسوس کر کے اس کے ساتھ ہی ڈسچارج ہونا شروع ہو گیا۔۔ ڈسچارج ہو کر ہم کچھ دیر اسی طرح صوفے پر بیٹھے رہے۔۔ پھر نرمین اٹھی اور واش روم میں گھس گئ۔۔ میں نے گھومنے کے لیے نیٹ پر جگہیں دیکھنی شروع کر دئیں۔۔ نرمین شاور لیکر نیکلی تو میں شاور لینے چلا گیا۔۔[/font]
اس دوران نرمین تیار ہوتی رہی۔۔ میں شاور لے کر نکلا تو نرمین نے جینز کی شارٹ سی نیکر اور ساتھ فل فٹنگ والی ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔۔ اب وہ پرانی نرمین نہیں تھی جو ہر وقت شرماتی رہتی تھی۔۔ یہ والی نرمین اب لوگوں کے درمیان بکنی میں پھر لیتی تھی۔۔ گروپ میں سیکس کر لیتی تھی۔۔ کمرے میں ننگی پھرتی تھی۔۔ اور سیکس کو انجوائے کرتی تھی۔۔ میں اب والی نرمین سے بہت خوش تھا۔۔ ہم تیار ہو کر نیچے گئے ناشتا کیا اور ہوٹل سے باہر نکل گئے۔۔ آج ہمارا پروگرام سمندر پر واٹر سپورٹس کا تھا۔۔ ساحل پر پہنچ کر ہم نے مختلف سپورٹس کا پیکج لیا۔۔ اس میں سپیڈ بوٹ، بنانا بوٹ، واٹر سکوٹر کے ساتھ سکوبا ڈائیو اور پیرا ٹروپنگ وغیرہ شامل تھے۔۔ سارا دن اسی طرح گزر گیا۔۔ آج تو ہمارے جسم تھکاوٹ سے دکھ رہے تھے۔۔ نرمین بولی۔۔ آج تو کمرے میں جا کر میجھے دبانا ہے۔۔ میں نے کہا بندہ حاظر۔۔ تم دبانے کا کہہ رہی ہو میں پورا مساج کر دونگا۔۔ نرمین بولی۔۔ زیادہ خوش نہ ہو۔۔ آج کچھ نہیں کرنا۔۔ میں نے ہنس کر کہا میں نے کب کہا کچھ کرنا ہے۔۔ میں نے تو مساج کی بات کی ہے۔۔ اگلے پروگرام تو تم خود بنا رہی ہو۔۔ ہم آپس میں باتیں کر رہے تھے۔۔ ٹیکسی والے تھائ بندے نے مساج کا لفظ سنا تو وہ پوچھنے لگا۔۔ مساج؟ گڈ مساج۔۔؟ تب مجھے یاد آیا کہ تھائی لینڈ تو مساج کے لیے مشہور ہی بہت ہے۔۔ اور ہر بندے نے کہا تھا مساج ضرور کروا کر آنا۔۔ مساج کرنے والی لڑکیاں سیکس بہت زبردست کرتی ہیں۔۔ میں کیوں کہ پہلے دن سے زبردست ایڈوینچر والے سیکس کر رہا تھا ۔۔۔ اس لیے مجھے مساج کا یاد ہی نہیں رہا تھا۔۔ اب ٹیکسی والے کی مہربانی سے مجھے یاد آگیا۔۔ میں نے نرمین سے پوچھا کروانا ہے۔۔ اس نے کہا چلو دیکھ لیتے ہیں۔۔[/font]

Offline raoji

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 11
  • Reputation: +1/-0
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #37 on: June 04, 2020, 04:47:47 am »
awesome story lookin forward to read more :yes: :yes: :yes: :yes: :yes: :yes:

Offline coolguy111

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 37
  • Reputation: +2/-0
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #38 on: June 05, 2020, 08:35:07 am »
Boht expert writer lgry ho ap. Poori grip hai plot pr aur events bhi achi trh narrate kr rahy ho.
Keep it up
Rozana update ka dil krta hai but i know k likhna bohht mushkil hota hai. So take ur time

Offline saima naseem

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 1537
  • Reputation: +41/-5
  • Gender: Female
  • Piayasee Zindagee.................???
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #39 on: June 05, 2020, 07:15:58 pm »
 :rockon: going well
SAIMA  NASEEM

 

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.