Author Topic: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ  (Read 305360 times)

Offline rabiarabia338

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 5907
  • Reputation: +38/-13
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #40 on: June 06, 2020, 12:02:00 pm »
keep posting
O Mery Nal Janb No Payer V Koi Nahi Avey Farzi Lad Karena A
Hanjo Kad Kay Katal Akhein Chu Kiday Yar Farad Karena A ..

YUM Stories

Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #40 on: June 06, 2020, 12:02:00 pm »

Offline Bilal mahi

  • Newbie
  • Posts: 1
  • Reputation: +0/-0
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #41 on: June 06, 2020, 04:48:24 pm »
ye mera 1st comment hai 2 saal mai
narmin ko agr apni hadd tk rakho gy to kahani mai jaaan rhy gi,,,,,, agr usy kisi k sath share kr dya to story apna interest khoo dy gi
baaqi weldone h

Offline ballaj_pk

  • T. Members
  • 4 Stars
  • ****
  • Posts: 867
  • Reputation: +7/-10
  • Gender: Male
  • یوں تو کئی خواتین میرے نیچے آچکی ہیں مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #42 on: June 07, 2020, 12:02:03 am »
 :rockon:
hnaqvi2@gmail.com

Offline Sexystranger

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 121
  • Reputation: +3/-0
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #43 on: June 07, 2020, 12:29:22 am »
thank you all friends.. aap sb ky comments ka bohat shukria...

Offline Sexystranger

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 121
  • Reputation: +3/-0
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #44 on: June 07, 2020, 12:31:19 am »
میں نے ٹیکسی والے کو اوکے کر دیا۔۔ وہ ہمیں ایک بہت صاف ستھرے مساج سینٹر لیے گیا۔۔ اندر گئے تو بہت مسحور کن خوشبوئیں پھیلی ہوئی تھی۔۔ کاونٹر پر بہت سیکسی لڑکیاں کھڑی تھیں۔۔ ہم پاس پہنچے تو بہت اچھے سے ویلکم کہا اور پوچھا کپل مساج؟ میں نے کہا ہاں۔۔ اس نے پوچھا آپ دونوں لڑکیوں سے کروانا چاہتے ہو یا ایک لڑکا اور ایک لڑکی چاہیے۔۔ میں نے نرمین سے پوچھا۔۔ لڑکے سے کروانا ہے؟ اس نے کہا نہیں جی۔۔ تم کروا لو لڑکے سے۔۔ میں نے کاونٹر والی سے کہا نہیں دونوں لڑکیاں ہی چاہیے۔۔ اس نے اپنے ساتھ والی لڑکی کو کہا کہ ان کو لڑکیاں دیکھا دو۔۔ وہ ہمیں ایک ہال میں لے گئی۔۔ ادھرپچیس تیس لڑکیوں کو تین الگ الگ گرپس میں بٹھایا ہوا تھا۔۔ ایک گروپ میں کالے برا اور پینٹی والی لڑکیاں تھی۔۔ دوسرے میں سرخ برا اور پینٹی والی لڑکیاں تھی۔۔ تیسرے میں پیلے برا اور پینٹی والی لڑکیاں تھی۔۔ جو ہمیں ادھر لیے کر گئی تھی۔۔ اس نے ہمیں بتایا کہ ان تینوں کی الگ الگ قیمت ہے۔۔ آپ کو جو پسند ہیں آپ بتائیں وہ آپکا مساج کرئیں گی۔۔ تینوں گروپس کا فرق صاف نظر آ رہا تھا۔۔ کالے برا والی کم عمر اور بہت سمارٹ سی تھیں۔۔ قیمت بھی انکی زیادہ تھی۔۔ ہم نے اسی گروپ میں سے دو لڑکیاں پسند کر لئیں۔۔ لڑکیوں کے ممے اور گانڈیں بہت ہی زبردست تھیں۔۔ یہ دونوں ازبکستان سے تھیں۔۔ جسم گورے بلکہ گلابی سے تھے۔۔ انگلیش پوری پوری جانتی تھیں۔۔ ایک کا نام روزی اور دوسری کا نام بیکی تھا۔۔ کاونٹر پر آئے پیمنٹ کرنے تو ادھر کھڑی لڑکی نے ہماری پسند کی ہوئی لڑکیوں کے میڈیکل فٹنس سرٹیفیکیٹ دیکھائے۔۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ ان لڑکیوں کو کوئی بیماری نہیں ہے اور ان سے سیکس میں کوئی خطرہ نہیں ہے۔۔ پھر بیکی اور روزی ہمیں ایک کمرے میں لے گئیں۔۔ کمرہ کافی بڑا تھا۔۔ کمرے میں ایک کنگ سائیز بیڈ تھا۔۔ اور ایک طرف صوفہ پڑا تھا۔۔ اس کمرے کے بھی ساتھ والے واش روم کی دیوار شیشے کی تھی۔۔ اندر بہت بڑا باتھ ٹب۔۔ بلکے اسے چھوٹا سوئیمنگ پول کہنا بہتر تھا۔۔ اور چھت پر سارا شیشہ لگا تھا۔۔ جس میں پورہ کمرا نظر آتا تھا۔۔ بیکی نے مجھے اور نرمین کو تولیے دیے کہ کپڑے اتار کر تولے لپیٹ لئیں۔۔ جبکہ روزی واش روم چلی گئی اور ٹب میں پانی بھرنا شروع کر دیا۔۔ پانی کھول کر وہ واپس کمرے میں آ گئی۔۔ اتنی دیر میں ۔۔ میں کپڑے اتار کر تولیہ لپیٹ چکا تھا۔۔ جبکہ نرمین اتار رہی تھی۔۔ اور بیکی اس کی مدد کپڑے اتارنے میں کر رہی تھی۔۔ روزی میرے پاس آئی اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے بیڈ پر لے آئی۔۔ مجھے بیڈ پر بیٹھا کر وہ میرے پیچھے بیٹھ گئی ۔۔ اور اپنے دونوں ہاتھوں سے میرے کندھے دبانے لگی۔۔ روزی کو دیکھ کر لگتا نہیں تھا کہ اس میں اتنی جان ہو گی جتنی جان سے وہ میرے کندھے دبا رہی تھی۔۔ کندھے سے وہ بازوں پر آئی اور بازو دبانے لگی۔۔ بیڈ کی دوسری طرف بیکی نرمین کے کندھے اور بازو دبا رہی تھی۔۔ بازو اور کندھے اتنے اچھے دبائے کہ ساری تھکن ہی اتر گئی۔۔ بازو دبانے کے ساتھ روزی اور بیکی نے میرے اور نرمین کی سٹریچنگ بھی کی۔۔ پھر ان دونوں نے ہم دونوں کو بیڈ پر الٹا لیٹا دیا۔۔ روزی میری گانڈ پر اور بیکی نرمین کی گانڈ پر بیٹھ گئی۔۔ ان دونوں نے ہماری کمر سے تولیے ہٹا کر گانڈ تک نیچے کر دئیے۔۔ اور کمر کو دبانے لگئیں۔۔ پھر ان دونوں نے بہت ہی پیاری خوشبو والا مساج آئیل ہم دونوں کی کمر پر ڈالا اور مساج کرنا شروع کیا۔۔ وہ بہت مہارت سے مساج کر رہیں تھی۔۔ جسم کے اوپر والے حصے کا آئیل مساج کر کے وہ دونوں ہماری ٹانگوں کو دبانے لگئیں۔۔ اور پھر آئیل مساج کرنے لگیں۔۔ پاوں کی انگلیوں سے لیکر گانڈ تک ان دونوں نے ہم دونوں کو خوب دبایا اور تیل لگا کر مساج کیا۔۔ پھر انہوں نے ہم دونوں کے تولیے ہماری گانڈ سے بھی ہٹا دئیے۔۔ اور روزی میرے اور بیکی نرمین کے چوتڑ دبانے لگی۔۔ تیل لگا کر ہماری گانڈوں کو خوب مسلا۔۔ روزی نے میری گانڈ کے سوراخ کو بھی تیل لگا کر اپنی انگلیوں سے مسلا۔۔ اور میرا رواں رواں مزے میں ڈوب گیا۔۔ میرا لوڑا الف ہو گیا۔۔ اس مساج سے میرا سارا جسم بلکل ہلکا پھلکا محسوس ہو رہا تھا۔۔ بیک کا مساج ختم کر کے انھوں نے ہمیں سیدھا لیٹنے کو کہا۔۔ اور دوبارہ تولیے سے ہمارے جسم ڈھانپ دئیے۔۔ میرا تولیہ تو لوڑے والی جگہہ سے تمبو بنا رہا تھا۔۔ نرمین نے تمبو بنا دیکھا تو ہنس پڑی۔۔ اس دوران باتھ ٹب میں پانی بھر چکا تھا۔۔ بیکی واش روم میں گئی اور پانی بند کر آئی۔۔ سیدھا لیٹے تو روزی میرے پیٹ پر بیٹھ گئی اور بیکی نرمین کے پیٹ پر بیٹھ گئی۔۔۔ تولیے کو پیٹ سے نیچے کر دیا۔۔ نرمین کے ممے ننگے ہو گئے۔۔ [/font]
دونوں نے ہماری گردن اور سینے پر تیل ڈالا اور مساج کرنا شروع ہو گئیں۔۔ بیکی نرمین کے مموں کو تیل سے تر کر کے خوب دبا رہی تھی۔۔ اس کے نیپلز کو دبا رہی تھی۔۔ جس سے نرمین سسک پڑی۔۔ نرمین کے ممے دبتے اور سسکی سن کر میرا لوڑا پھٹنے والا ہو گیا۔۔ روزی نے تولیے کے اوپر سے میرے لوڑے کو پکڑ کر میرے پیٹ کے ساتھ لگایا اور اس کے اوپر بیٹھ گئی۔۔ اور میرے سینے پر تیل ملنے لگی۔۔ وہ پیٹ سے گردن تک آتی تو لوڑے سے وزن اٹھاتی اور جب گردن سے واپس پیٹ پر آتی تو لوڑے پر وزن بڑھا دیتی۔۔ جس سے میرا لوڑا اس کی گانڈ میں دب جاتا۔۔ ادھر بیکی بہت مہارت سے نرمین کے بڑے بڑے ممے مسل رہی تھی۔۔ اور نرمین آنکھیں بند کئے سسکیاں لیتی رہی۔۔ روزی میرے کوہلوں پر بیٹھ گئی اور میرے لوڑے سے تولیہ ہٹا دیا۔۔ وہ مجھے تڑپا رہی تھی۔۔ میرے لوڑے کے ارد گرد ہاتھ پھیر رہی تھی۔۔ لوڑے کو ٹچ بھی نہیں کر رہی تھی۔۔ اور میرے چہرے پر بےچینی دیکھ کر ہنس رہی تھی۔۔ میری ٹانگوں ہر بیٹھ کر میرے کوہلوں اور لوڑے کے قریب والی جگہ پر تیل کی مالیش کر رہی تھی۔۔ دوسری طرف بیکی اسی طرح نرمین کو تڑپا رہی تھی۔۔ وہ اس کی چوت کو ٹچ کئے بغیر اس کے ارد گرد والے حصے کی مالیش کر رہی تھی۔۔ روزی میرے پیروں کے پاس بیٹھی تھی ۔۔ اب ادھر بیٹھ کر جب وہ میرے کوہلوں پر مالیش کرتی تو تقریبا لیٹ ہی جاتی۔۔ اور اپنا منہ میرے لوڑے کے بلکل قریب لاتی۔۔ جان بوجھ کر گہرا سانس چھوڑتی جو میرے لوڑے پر پڑتا اور میرا لوڑا جھٹکے لینے لگتا۔۔ ایسا کرتے کرتے ایک دم روزی نے بغیر ہاتھ لگائے۔۔ میرے لوڑے کو منہ میں لے لیا۔۔ اور میں جو تڑپ رہا تھا ایک دم سکون میں ڈوب گیا اور گہرا سانس چھوڑا۔۔ تو روزی زور سے ہنسنے لگی۔۔ آخر اس نے میرے لوڑے کو پکڑ لیا اور ٹوپی پر تھوک پھینک کر اپنے ہاتھوں سے سارے لوڑے پر پھیلا دیا۔۔ اب وہ زور زور سے میرا لوڑا چوس رہی تھی اور ساتھ ساتھ اپنا ہاتھ لوڑے پر گھماتی تھی۔۔ دوسری طرف بیکی نے بھی نرمین کی پھدی میں اپنی زبان گھسائی ہوئی تھی۔۔ وہ اس کو چاٹ رہی تھی۔۔ اس کے پھدی کے ہونٹوں کو اپنی منہ کے ہونٹوں میں لیے کر دباتی تھی اور چوستی تھی۔۔ نرمین مزے سے آوازیں نکال رہی تھی۔۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر نرمین کے ممے کو دبانا شروع کیا۔۔ نرمین نے میری طرف دیکھا اور مسکرائی۔۔ میں نرمین کے قریب ہوا اور اپنے ہونٹ نرمین کے ہونٹوں میں گھسا دئیے۔۔ بیکی نرمین کی پھدی چاٹ رہی تھی۔۔ روزی میرا لوڑا چوس رہی تھی۔۔ میں اور نرمین اپنی اپنی زبانوں سے ایک دوسرے کے منہ چود رہے تھے۔۔ بیکی کی مہارت کے سامنے نرمین ہار گئی اور اس کا جسم جھٹکے کھانے لگا اور وہ ڈسچارج ہو گئی۔۔ نرمین کو ڈسچارج کروا کر بیکی بھی میری طرف آ گئی۔۔ روزی لوڑا چوس رہی تھی تو بیکی نے میرے ٹٹے چوسنے شروع کر دئیے۔۔ ٹٹوں کے ساتھ وہ نیچے میری گانڈ کو اپنی زبان سے چودنے لگی۔۔ جبکہ نرمین میرے نیپلز کو اپنے دانتوں سے کاٹتے ہوے چوسنے لگی۔۔ اور میں نرمین کے ممے دبا رہا تھا۔۔ پھر روزی نے میرا لوڑا اپنے منہ سے نکالا اور بیکی کے منہ میں ڈال دیا۔۔ اب بیکی زور و شور سے میرا لوڑا چوسنے لگی۔۔ ان تینوں کی گرمی میرے جسم میں اتری تو میرا سارا خون میرے لوڑے میں جمع ہوا اور میں بیکی کے منہ میں منی چھوڑنے لگا۔۔ بیکی نے کچھ اپنے منہ میں لئی اور باقی اپنے گلے اور برا پر پھینک لی۔۔ میں ڈسچارج ہوا تو روزی واش روم میں چلی گئی۔۔ واش روم میں جا کر اس نے ٹب میں شاور جیل ڈالی اور خوب جھاگ بنا دیا۔۔ بیکی نے مجھے اور نرمین کو اٹھایا اور لیے کر واش روم آگئ۔۔۔ واش روم میں آ کر بیکی اور روزی نے اپنے برا اور پینٹی اتارئیں اور روزی ہمیں لیکر باتھ ٹب میں بیٹھ گئی۔۔ جبکہ بیکی نے شاور چلا کر اپنا جسم ادھر سے صاف کیا جس پر میری منی گری ہوئی تھی۔۔ اپنا آپ صاف کر کے بیکی بھی ٹب میں آ گئی۔۔ پانی بہت مزے کا نیم گرم تھا۔۔ بیٹھ کر بہت سکون ہوا۔۔باتھ ٹب میں بیٹھ کر ان دونوں نے ٹب میں موجود جھاگ ہمارے جسم پر ملنا شروع کیا اور رگڑ رگڑ کر صاف کرنے لگئیں۔۔ نرمین بلکل سامنے بیٹھی تھی۔۔ میں نے اپنی پاوں کی انگلیوں سے اس کی پھدی کو چھیڑنا شروع کر دیا۔۔ اور اس نے اپنے پاوں سے میرے لوڑے کو۔۔ بیکی میری کمر رگڑ کر میرے آگے آئی اور میری گود میں بیٹھ گئی۔۔ میرا لوڑا جو فلحال مرجھایا ہوا تھا۔۔ اس پر اپنی پھدی رگڑنے لگی اور ساتھ ساتھ میرے سینے کو رگڑ کر صاف کرنے لگئی۔۔ جبکہ روزی نرمین کی گود میں بیٹھ گئی۔۔ اور نرمین کی مموں کو مسلنے لگی وہ نرمین کے نیپلز دباتی اور نرمین کی مزے سے بھری آوازیں نکل جاتیں۔۔ ہم کافی دیر اس نیم گرم پانی میں بیٹھے رہے ۔۔ اس دوران بیکی اور روزی نے ہمارا جسم رگڑ کر رکھ دیا۔۔ پھر بیکی نے مجھے شاور کرویا اور روزی نے نرمین کا جسم دھلایا ۔۔۔ اور پھر وہ دونوں ہم دونوں کو لے کر ایک پھر بیڈ پر آ گئیں۔۔ ہم دونوں کو سیدھا لٹایا اور بیکی میرے پاوں کی انگیاں چوسنا شروع ہو گئی۔۔۔ جبکہ روزی جسکی گانڈ میرے منہ کے قریب تھی ۔۔ وہ نرمین کے کے پاؤں کی انگلیاں چوسنے لگی۔۔ میں نے روزی کی گانڈ پر کس کیا اور پھر اپنی زبان اس کی پھدی میں گھسا دی۔۔ اور اس کو چاٹنا شروع کیا۔۔ بیکی کے انگلیاں چاٹنے سے میرا لوڑا ایک بار پھر تن گیا۔۔روزی نرمین کے پاؤں چوسنے کے بعد اس کی ٹانگوں کو چاٹتے چاٹتے اس کی پھدی پر پہنچ گئی اور اس کو چاٹنے لگی۔۔ نرمین نے بیکی کی گانڈ اپنی طرف کی اور اس کی پھدی چاٹنے لگی۔۔ بیکی نے میرا لوڑا اپنے منہ میں لیا اور چوسنے لگی۔۔ میں نے چھت والے شیشے سے دیکھا تو کیا حسین نظارہ تھا۔۔ ہم چاروںں بیڈ پر ایک دائیرے میں لیٹے تھے۔۔ میرا منہ روزی کی پھدی کے قریب تھا۔۔ روزی نرمین کی پھدی چاٹ رہی تھی۔۔ نرمین بیکی کی پھدی چاٹ رہی تھی۔۔ اور بیکی میرا لوڑا چوس رہی تھی۔۔ بیکی بہت ہی کمال چوستی تھی۔۔ وہ پورا لوڑا منہ میں لے لیتی تھی۔۔ تھوڑی دیر لوڑا چوسوا کر میں بیڈ سے اٹھا اور جا کر صوفے پر بیٹھ گیا۔۔ تینوں نے میری طرف دیکھا تو میں نے بیکی اور روزی کو کہا وہ نرمین کے ساتھ کرئیں میں ادھر سے بیٹھ کر دیکھوںگا۔۔ نرمین بولی یہ کیا بات ہوئی؟ میں نے شہوت سے چور لہجے میں کہا میں اپنی بیوی کو کسی اور کے ساتھ سیکس کرتے دیکھنا چاہتا ہوں۔۔ آدمی نہ سہی عورت کے ساتھ ہی سہی۔۔ اور بیکی اور روزی کو شروع کرنے کا کہا۔۔ بیکی نے نرمین کو لٹایا اور خود اس کے منہ پر بیٹھ گئی۔۔ اپنی پھدی نرمین کے منہ پر رگڑنے لگی۔۔ روزی نرمین کی ٹانگوں میں بیٹھی اور نرمین کی پھدی چاٹنے لگی۔۔ تھوڑی ہی دیر میں نرمین پرجوشی سے بیکی کی چوت چاٹنے لگی۔۔ وہ اپنی زبان سے اسکی چوت کو چود رہی تھی۔۔ ساتھ ساتھ اپنی انگلی گھسا رہی تھی۔۔ بیکی اس کے منہ پر بیٹھی مچل رہی تھی اور اپنے مموں کو مسل رہی تھی۔۔ اسی وقت روزی جو نرمین کی چوت چاٹ رہی تھی۔۔ اس نے اپنی گانڈ بیکی کی طرف کی۔۔ بیکی اس کی گانڈ پر جھک گئی اور اس کو چاٹنے لگی۔۔ کمرے میں تینوں کی سسکیاں اور چاٹے کی آوازیں گونج رہی تھی۔۔ بیکی نرمین کے منہ سے اٹھی اور میری طرف آئی۔۔ اس کے ہاتھ میں کنڈوم تھا۔۔ اس نے کنڈوم پیکیٹ میں سے نکال کر اپنے منہ میں ڈالا۔۔ اور میرے لوڑے پر جھک گئی۔۔ اس نے چوپہ لگاتے ہوے میرے لوڑے پر کنڈوم چڑھا دیا۔۔ کنڈوم چڑھا کر وہ میرے لوڑے پر بیٹھ گی اور اس کو اپنی پھدی میں لے لیا۔۔ پھدی میں لیکر وہ اوپر نیچے ہونے لگی۔۔ اس وقت وہ مجھے اپنی پھدی سے چود رہی تھی۔۔ تب ہی روزی بھی میری طرف آ گئی۔۔ مجھے صوفے پر لیٹا کر۔۔ میرے منہ پر بیٹھنے لگی۔۔ میں نے نرمین کی طرف دیکھا۔۔ وہ مسکرا کر بولی اب دیکھنے کی میری باری۔۔ میں نے کہا ضرور۔۔ اور روزی کی پھدی میں منہ گھسا دیا۔۔ یہ سوچ کر کہ میری بیوی مجھے دوسری کڑکیوں کے ساتھ سیکس کرتا دیکھ رہی ہے۔۔ میرا جوش کچھ زیادہ ہی بھڑ گیا۔۔ میں دونوں کو بھرپور طریقے سے چودنے لگا۔۔ بیکی کو اپنے لوڑے سے اور روزی کو اپنی زبان سے۔۔ تھوڑی دیر بیکی کو چود کر میں نے اس کو ہٹایا اور روزی کو بلا لیا۔۔ اب روزی لوڑے پر تھی اور بیکی میرے منہ پر۔۔ میں فل زورں سے روزی کی پھدی چود رہا تھا اور وہ بھی ساتھ دے رہی تھی۔۔ کمرہ تھپ تھپ کی آوازوں سے گونج رہا تھا۔۔ پھر روزی میرے لوڑے سے اٹھی اس نے بیکی کو بھی میرے منہ سے اٹھا دیا۔۔ مجھے گھوڑا بنایا اور میری گانڈ کھول کر سوراخ کو چاٹنے لگی۔۔ جبکہ بیکی میرے نیچے گھس کر میرا لوڑا چوسنے لگی۔۔ روزی اپنی زبان سے میری گانڈ چود رہی تھی۔۔ زبان کے ساتھ وہ اپنی انگلی میرے گانڈ کے سوراخ پر پھیرتی جس سے اور زیادہ مزہ آتا۔۔ اتنے میں نرمین بیڈ سے اتر کر ہمارے پاس آئی۔۔ اس نے روزی کو ہٹایا اور مجھے سیدھا کیا۔۔ اور اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے جوڑ کر چوسنے لگی۔۔ وہ شہوت سے پاگل ہو رہی تھی۔۔ نرمینن نے اپنی پھدی روزی کے آگے کئی۔۔ روزی اسے چاٹنے لگی۔۔ نرمین کبھی میری زبان چوستی تو کبھی اپنی زبان میرے منہ میں گھسا دیتی۔۔ میں اس کے مموں کو مسل رہا تھا۔۔ بیکی میرے لوڑے کے ساتھ میرے ٹٹے بھی چوس رہی تھی۔۔ روزی نرمین کی پھدی اپنی زبان سے چود رہی تھی۔۔ نرمین نے بیکی کو پیچھے کیا اور میرے لوڑے سے کنڈوم اتار کر پھینک دیا۔۔ خود گھوڑی بن گئی اور مجھے بولی۔۔ اپنی پوری جان لگا کر مجھے چود دو۔۔ میں اس کے پیچھے آیا۔۔ روزی نے میرا لوڑا پکڑا اس کو چوسا اور پھر اسے نرمین کی پھدی کے سوراخ پر رکھ دیا۔۔ سوراخ پر آتے ہی اس سے پہلے کہ میں کچھ کرتا۔۔ نرمین نے زور سے اپنی پھدی میرے لوڑے پر دبا دی اور پورا لوڑا اندر لے کر تیز تیز آگے پیچھے ہونے لگی۔۔ بیکی نرمین کے منہ کے سامنے ٹانگیں کھول کر لیٹ گئی۔۔ نرمین اسکی پھدی چاٹنے لگی۔۔ روزی ہر تھوڑی دیر بعد میرا لوڑا نرمین کی پھدی سے نکالتی اور اس کو چوس کر اس پر سے نرمین کی پھدی کا پانی چاٹ جاتی۔۔ میں نرمین کو گھوڑی بنا کر چود رہا تھا اور ساتھ ساتھ اس کے ممے مسل رہا تھا۔۔ نرمین میرے جھٹکے سہہ سہہ کر تھک گئ اور اس کی پھدی نے پانی کی برسات کر دی۔۔ وہ ڈسچارج ہوئی تو میں سیدھا کھڑا ہو گیا۔۔ بیکی میرا لوڑا چوسنے لگی۔۔ روزی میرے ٹٹوں کو چوسنے لگی اور نرمین کبھی مجھے کس کرتی اور کبھی میرے نیپلز کو چوستی اور کاٹتی جاتی۔۔ مجھے لگا کہ میں چھوٹنے لگا ہوں۔۔ تو بیکی اور روزی میرے لوڑے کے آگے منہ کھول کر بیٹھ گئیں۔۔ روزی زور زور سے میری مٹھ مارنے لگی۔۔ نرمین بہت دلچسپی سے ان دونوں کو دیکھنے لگی۔۔ تھوڑی ہی دیر میں میرے لوڑے نے منی چھوڑنی شروع کی۔۔ جس کو بیکی اور روزی نے اپنے چہروں اور جسم پر وصول کیا۔۔۔ میری منی نکلنی بند ہوئی تو روزی میرے لوڑے کو چوسنے لگی۔۔ اس نے میرے لوڑے کو اچھے سے چوس کر صاف کیا۔۔ جب میں فارغ ہو گیا تو وہ دونوں اٹھیں۔۔ ہم دونوں کو ہمارے کپڑے لا کر دئیے۔۔ اور خود واش روم جا کر اپنے جسم صاف کرنے لگئیں۔۔ میں نے اور نرمین نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ہنس پڑے۔۔ نرمین بولی یہ مزے کا کام تھا۔۔ میں نے کپڑے پہنتے کہا۔۔ ہاں مجھے بھی بہت مزا آیا ہے۔۔ نرمین بولی اسطرح دو یا تین سے کر کے مزوں کی عادت ڈال رہے ہو۔۔ پاکستان جا کر کیا کرو گے۔۔ یہ نہ ہو تمھارا دل میرے سے بھر ہی جائے۔۔ میں نے اس کے ہونٹوں کو چوما اور کہا۔۔ جانو اس طرح کے مزے کبھی کبھی کے لیے ہوتے ہیں۔۔ اصل مزہ تو تمہارے ساتھ ہی ہے۔۔ جب اسطرح کے مزے کا دل کرے گا تو وہ انتظام بھی ہو جایا کرے گا۔۔ نرمین نے حیرانگی سے پوچھا وہ کیسے۔۔ میں نے آنکھ مار کر کہا۔۔ شکر خورے کو شکر مل ہی جاتی ہے۔۔ ہمیں بھی کوئی نہ کوئی ساتھ دینے والی مل ہی جائے گی۔۔ اس دوران ہم کپڑے پہن چکے تھے اور بیکی اور روزی بھی تیار ہو چکی تھیں۔۔ میں اور نرمین ان دونوں سے کافی خوش تھے۔۔ اس لیے ہم نے ان کو کچھ پیسے ٹپ کے طور پر دئیے۔۔ وہ دونوں بہت خوش ہوئیں اور ہمیں دروازے تک چھوڑ آئیں۔۔ ہم مساج پارلر سے باہر آئے ٹیکسی پکڑی اور ہوٹل آ گئے۔۔ ہوٹل پہنچ کر ہم دونوں ریسٹورینٹ میں گئے۔۔ کھانا کھایا اور کمرے میں آ گئے۔۔ کپڑے وغیرہ تبدیل کئے اور بیڈ پر آ گئے۔۔ ایک تو بھاگ دوڑ والا دن ۔۔ اس کے بعد زبردست مساج اور پھر پلنگ توڑ سیکس کے بعد بہت عمدہ نیند آ رہی تھی۔۔ بستر پر لیٹتے ہی نیند آ گئی اور ہم دونوں سو گئے۔۔ اب کیونکہ واپسی بھی قریب تھی۔۔ اس لیے اگلے دن گھومنے کے ساتھ شاپنگ کا ارادہ بھی تھا۔۔ شاپنگ کرتے ہوے میں نے محسوس کیا کہ نرمین کچھ کہنا چاہتی ہے لیکن پھر چپ ہو جاتی ہے۔۔ میں نے اس سے پوچھا۔۔ کیا بات ہے تم کچھ کہنا چاہ رہی ہو؟ نرمین بولی۔۔ نہیں کچھ نہیں۔۔ میں نے کہا۔۔ یار میرا نہیں خیال اب ہم میں کوئی جھجک ہے تم کیوں پریشان ہو بتاو جو مسلہ ہے۔۔ نرمین نے پریشانی سے مجھے دیکھا اور بولی۔۔ یہ جو سحر ہے ناں یہ مجھے بہت پریشان کرتی ہے۔۔ ہے بھی میری اتنی پیاری دوست کہ میں اس کو منع بھی نہیں کر سکتی۔۔ میں نے پوچھا ہوا کیا ہے۔۔ کس بات سے منع کرنا ہے؟ نرمین بولی اس نے میرے سے ایک فرمائیش کی ہے۔۔ مجھ سے کچھ منگوا رہی ہے۔۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کیسے لیکر جاوں۔۔ تب مجھے اس رات نیند میں سنی باتیں یاد آئیں۔۔ یعنی اس رات نرمین سحر سے بات کر رہی تھی اور کسی فرمائیش کی بات کر رہی تھی۔۔ میں کیونکہ نیند میں تھا اس لیے مجھے اگلے دن یاد نہیں رہا۔۔ اب نرمین نے ذکر کیا تو مجھے یاد آیا۔۔[/font]

Offline Sexystranger

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 121
  • Reputation: +3/-0
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #45 on: June 07, 2020, 12:34:31 am »
۔۔ میں نے نرمین سے کہا یار پریشانی کیا ہے۔۔ میں نے تمھیں پیسے دئیے تو ہیں۔۔ کم ہیں تو اور لے لو۔۔ میں نے اپنا بٹواہ نکال کر اس کو دے دیا اور کہا۔۔ تمھیں مانگتے شرم آ رہی ہے تو خود نکال لو۔۔ جو اس نے مانگا ہے لیکر جاو۔۔ چاہے جتنا بھی مہنگا ہے۔۔ نرمین ناراضگی سے بولی پیسوں کا مسلہ نہیں ہے۔۔ وہ اس دن تم نے ربڑ کے لن کی تصویر بنائی تھی ناں سلیم کو بھجنے کے لیے۔۔ میں نےکہا ہاں۔۔ نرمین بولی وہ میں نے سحر کو تنگ کرنے کے لیے اس کو بھج دی۔۔ اور مزاق سے کہا بتاو تمہارے لیے لے آوں۔۔ تو وہ سیریس ہو گئی ہے اور کہہ رہی ہے کہ لیے کر آنا۔۔ میں نے اس کو اتنا منع کیا ہے لیکن وہ مانتی ہی نہیں۔۔ کہتی ہے تم خود شیراز سے پوری ہو جاتی ہو۔۔ میرا نومی سے گزارا نہیں ہوتا۔۔ تم میرے لیے اتنا بھی نہیں کر سکتی۔۔ میں نے کہا میں شیراز کو کسے کہوں۔۔ تو سحر بولی تمہیں اگر شرم آتی ہے تو میں خود جیجو سے کہہ دیتی ہوں۔۔ تب میں نے اسے کہا اچھا میں کچھ کرتی ہوں۔۔ پھر نرمین رونے والا منہ بنا کر بولی اب میں کیا کروں۔۔ ساری بات سن کر مجھے سحر کی فرمائیش پر حیرانگی بھی ہوئی اور ہنسی بھی آئی۔۔ مجھے ہنستا دیکھ کر نرمین نے غصے سے منہ پھلا لیا۔۔ اس کا خراب موڈ دیکھ کر میں نے خود پر کنٹرول کیا اور بولا۔۔ یار وہ ربڑ کا لن خریدینے کا تو کوئی مسلہ نہیں ابھی خرید لیتے ہیں۔۔ مسلہ اس کو پاکستان لے کر جانے کا ہے۔۔ ادھر ائیرپورٹ سے باھر نہیں نکلنا۔۔ کسٹم والوں نے ضبت کر لینا ہے کیونکہ ایسی چیز لے کر جانا جرم ہے۔۔ ہو سکتا ہے ہمیں پکڑ بھی لئیں۔۔ نرمین بولی تو پھر اب کیا کروں۔۔ وہ تو بات سمجھتی ہی نہیں۔۔ میں نے شرارت سے کہا۔۔ میں سمجھاوں اس کو۔۔ نرمین نے غصے سے کہا جی نہیں۔۔ کوئی ضرورت نہیں۔۔ میرا مسلہ ہے میں دیکھتی ہوں کیا کرنا ہے۔۔ میں نے کہا اچھا ناراض کیوں ہوتی ہو ۔۔سوچتا ہوں کچھ۔۔۔ ہم باتیں کرتے ساتھ ساتھ شاپنگ کرتے رہے۔۔ گھر والوں اور دوستوں کے تحفے وغیرہ خریدے۔۔ پھرتے پھرتے ہم اسی دکان پر پہنچ گئے جدھر وہ سیکس والے کھلونے بکتے تھے۔۔ میں نے نرمین کو کہا تم دوسری جگہوں سے اپنی شاپنگ کرو میں آتا ہوں۔۔۔ نرمین نے اوکے کہا اور آگے چلی گئی اور میں سیکس شاپ میں گھس گیا۔۔ اندر ایک بنگالی سیلزمین تھا۔۔ میں نے اس سے کہا۔۔ یار کوئی طریقہ بتاو ربڑ کا لوڑا پاکستان لیے کر جانا ہے۔۔ بنگالی بولا اگر تو کسٹم میں کوئی جان پہچان ہے تب ہی جا سکتا ہے۔۔ میں نے کہا یار اب اس طرح کی چیز کے لیے تو جان پہچان والے کو نہیں کہہ سکتا ناں۔۔ وہ بولا پھر تو بہت مشکل ہے۔۔ پھر بولا ایک طریقہ ہے۔۔۔ میں نے پوچھا وہ کیا؟ وہ بولا۔۔ اسطرح کا بنا بنایا لن تو نہیں جا سکتا۔۔ مگر میرے پاس ایسا سامان ہے جس سے تم اپنے گھر پہنچ کر خود ربڑ کا لوڑا بنا سکتے ہو۔۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا وہ کس طرح؟ بنگالی کاونٹر کے نیچے گھسا اور ایک بکس نکال لایا۔۔ اس نے بکس کھولا۔۔ اور بکس کے اندر سے دو پیکٹ نکال کر دیکھائے ۔۔ جن میں سے ایک میں سفید اور دوسرے میں پیلے رنگ کا پاوڈر بھرا تھا اور بولا۔۔ اس پیلے پاوڈر کو کسی پلاسٹک کے جگ میں ڈال لینا پھر اس میں پانی مکس کر نا ہے۔۔ اتنا مکس کرنا کہ یہ پسٹ سا بن جائے۔۔ یا کہہ لو کہ گندھے ہوے آٹے کی طرح بن جائے۔۔ پھر اپنا لوڑا سخت کر کے اس میں گھسا دینا۔۔ پانچ منٹ بغیر ہلے جلے لوڑا اکڑا کر اندر رکھنا ہے۔۔ یہ نہ ہو کہ تم مزے لینے کے چکر میں اس کو پھدی سمجھ کر لوڑا اندر باہر کرنا شروع کر دو۔۔ میں نے کہا اچھا آگے بتاو۔۔ بنگالی بولا پانچ منٹ میں یہ پیسٹ خشک ہو کر سخت ہو جائے گا۔۔ تم لوڑا باہر نکالو گے تو جگ میں تمہارے لوڑے کا سانچہ بنا رہ جائے گا۔۔ پھر بنگالی نے بکس میں سے ایک بوتل نکالی جس میں کوئی محلول سا تھا۔۔ اور بولا اب اس محلول میں یہ سفید پاوڈر مکس کرنا۔۔ پھر بکس میں موجود مختلف رنگین پاوڈر دکھائے اور بولا ان میں سے جو رنگ پسند ہے وہ بھی ڈال لینا۔۔ اور مکس کرنا۔۔ لیکن یاد رہے اس والے پاوڈر کو پیسٹ نہیں بنانا بلکہ تھوڑا پتلا رکھنا۔۔ مکس کر کے اس کو جگ میں موجود سانچے میں ڈال دینا ہے۔۔ بہت آرام آرام سے ڈالنا اور تھوڑا تھوڑا ڈال کر ہلاتے رہنا۔۔ تا کہ سانچے میں ہوا نہ رہ جائے۔۔ ورنہ مضبوطی نہیں آئے گی۔۔ سانچے کو بھر کر اس کو دس بارہ گھنٹے خشک ہونے دینا ہے۔۔ بارہ گھنٹے بعد جگ کو کاٹ لینا۔۔ اور سانچے کو ہتھوڑی سے توڑ لینا۔۔ اندر سے ہو بہو تمہارے لن جیسا۔۔ اتنا ہی لمبا اور موٹا ربڑ کا لن نکلے گا۔۔ پھر بنگالی نے بکس میں سے ایک اور محلول کی بوتل نکالی۔۔ یہ بوتل پہلے والی سے کافی چھوٹی تھی۔۔ اس کے ساتھ اس نے ایک فوم نکالا جیسے بف ہو۔۔ اور بولا یہ چھوٹے والی بوتل والا محلول اس بف پر لگا کر اس ربڑ کے لوڑے پر مارنا ہے۔۔ اس سے لوڑے پر لگا ایکسٹرا میٹیریل بھی صاف ہو جائے گا اور لوڑا مضبوط اور چمکدار بن جائے گا۔۔ میں نے ساری باتیں اچھے سے ذہن نشین کر لئیں پھر بنگالی سے بولا۔۔ ان چیزیں کی وجہ سے کسٹم والے تو تنگ نہیں کرئیں گے۔۔ بنگالی بولا وہ کیوں تنگ کرئیں گے۔۔ یہ تو عام سی چیز ہے۔۔ لوگ اس سے اپنی پسند کی چیزیں بناتے ہیں۔۔ یہ تو تمہیں پتہ ہے کہ اس سے تم نے کیا بنانا ہے۔۔ کسٹم والوں کو تھوڑی پتہ ہے کہ تم نے لوڑا بنانا ہے۔۔ بنگالی کی بات سن کر میں ہنس پڑا اور بولا یار بات تو واقعی سچ ہے۔۔ میں نے وہ بکس خریدا اور باہر نکل آیا۔۔ نرمین کے پاس پہنچا تو وہ میرے ہاتھ میں بکس دیکھ کر بولی یہ کیا آرڈر پر بنوا رہے تھے جو اتنا وقت لگ گیا۔۔ میں ہنس کر بولا یہی سمجھ لو۔۔ وہ بولی خرید لیا ہے؟ میں نے کہا ہاں۔۔ تمہاری دوست کی فرمائیش تھی۔۔ پوری تو کرنی ہے۔۔ نرمین بولی تو ائیرپورٹ پر کیا کرئیں گے؟ میں شرارت سے بولا۔۔ تم اپنے سامان میں رکھ لینا کسٹم والے پوچھیں تو کہنا میرا شوہر مجھے پورا نہیں کر پاتا اس لیے لائی ہو۔۔ بہت بھئ ہوا تو کسٹم آفیسر کو چمی دے دینا وہ جانے دیگا۔۔ نرمین جو بہت سنجیدگی سے سب سن رہی تھی۔۔ میری بات سن کر میرے بازو پر تھپڑ مار کر بولی۔۔ مزاق مت کرو۔۔ بتاو ناں کیا کرئیں گے۔۔ میں نے کہا بس تم فکر نہ کرو کچھ نہیں ہوتا۔۔ اب شاپنگ ختم کرو بہت بھوک لگ رہی ہے۔۔ چل کر کھانا کھائیں اور پھر کمرے میں چلئیں۔۔ اور ہم واپس چل پڑے۔۔ راستے میں کھانا کھایا اور ہوٹل آ گئے۔۔ کمرے میں آتے ہی نرمین پیچھے پڑ گئی اور بولی۔۔ بتاو تو یہ جائگا کس طرح؟؟ میں نے بکس کھول کر اس کے سامنے کر دیا۔۔ اس نے اندر موجود سامان دیکھا اور حیرانگی سے بولی۔۔ یہ کیا ہے؟ جو لینے گئے تھے وہ نہیں لیا؟؟ میں نے مزہ لیتے پوچھا۔۔ کیا لینے گیا تھا؟ نرمین نے گھور کر مجھے دیکھا اور بولی۔۔ بتاو ناں۔۔ نہیں خریدا؟ میں نے اس کو ساری بات بتائی۔۔ وہ بولی کیا کمال آئیڈیا نکالا ہے۔۔ میں نے کہا۔۔ آخر تمہاری پیاری دوست کی فرمائیش ہے۔۔ پوری تو کرنی بنتی ہے ناں۔۔ نرمین نے ہنس کر مجھے دیکھا اور بولی۔۔ تھینک یو۔۔ یو آر دی بیسٹ ہزبینڈ۔۔ میں نے اس کو کمر سے پکڑ کر اپنے ساتھ لگایا اور کہا۔۔ میری جان تمہارے لیے کچھ بھی۔۔ اور ساتھ ہی اس کے ہونٹوں کا رس چوسنے لگا۔۔ اس رات بھی ہم نے جم کر سیکس کیا۔۔ آگلے دو دن اسی طرح شاپنگ وغیرہ میں گزر گئے اور اس سے تیسرے دن ہم لوگ واپس پاکستان آ گئے۔۔دل میں چور تھا اس لیے ائیرپورٹ پر جب تک سامان کلیئر نہیں ہو گیا۔۔ ایک ڈر سا لگا رہا۔۔ سامان لیکر باہر نکلے تب جا کر سکون کا سانس لیا۔۔ ائیرپورٹ سلیم اور صدف بھابھی ہی آئے۔۔ سلیم ملا اور بولا جتنا تو خوش ہے لگتا تھائی لینڈ کافی راس آیا ہے۔۔ میں نے کہا۔۔ یار تو سہی کہتا تھا۔۔ جو فرینکنس ہماری تھائی لینڈ جا کر ان سات دنوں میں ہو گئی ہے۔۔ پاکستان رہتے سات سالوں میں بھی نہیں ہونی تھی۔۔ سلیم آنکھ مار کر بولا یعنی فل مزے۔۔ میں نے کہا تیری سوچ سے بھی زیادہ۔۔ سلیم بولا یعنی تھائی لینڈ کا ٹور مارنا چاہئیے۔۔ میں نے کہا۔۔ لازمی جا۔۔ سلیم بولا چل تو کچھ دن نکال لیے پھر چاروںں اکٹھے چلئں گے۔۔ میں نے کہا۔۔ خیال برا نہیں ہے۔۔ بناتے ہیں کوئی پروگرام۔۔ اسی طرح ادھر ادھر کی باتیں کرتے ہم گھر پہنچ گئے۔۔

Offline ballaj_pk

  • T. Members
  • 4 Stars
  • ****
  • Posts: 867
  • Reputation: +7/-10
  • Gender: Male
  • یوں تو کئی خواتین میرے نیچے آچکی ہیں مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #46 on: June 07, 2020, 01:27:35 am »
 :clap: :clap:
hnaqvi2@gmail.com

Offline Sfaiza

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 107
  • Reputation: +4/-0
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #47 on: June 09, 2020, 05:48:10 am »
Ala lajwab boht achi appbeti hai keep it up
Update

 

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.