Author Topic: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ  (Read 270768 times)

Offline Sexystranger

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 121
  • Reputation: +3/-0
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #8 on: June 01, 2020, 03:12:01 pm »
۔۔۔ میں نے امی سے اپنے نائٹ سوٹ کا پوچھا تو وہ بولیں ۔۔ خالہ کے کمرے میں پڑا ہے۔۔۔  میں کمرے میں آیا تو دیکھا ۔۔۔ آج بیڈ کے ساتھ والی جگہ ۔۔ جدھر رات کو سعدیہ سوئی تھی ۔۔ ادھرآج نادیہ لیٹی ہوئی تھی۔۔۔ اسے ادھر لیٹے دیکھ کر میرا موڈ خراب ہو گیا۔۔۔ کہ آج کی رات خراب ہو گئ ۔۔۔ میں اپنے کپڑے لیکر واش روم جانے لگا تو نادیہ بولی ۔۔۔ بھائیی ادھر امی گئی ہوئی ہیں ۔۔۔ آپ ہمارے کمرے والے واش روم  میں چلے جاو۔۔۔ میں نے اچھا کہا اور دوسرے کمرے میں آ گیا ۔۔۔ ادھر والے واش روم کے دروازے کو کھولنے لگا ۔۔۔ تو وہ بھی لاک تھا ۔۔۔ میں ادھر کمرے میں ہی بیٹھ گیا ۔۔۔ اور انتظار کرنے لگا۔۔۔ تھوڑی ہی دیرمیں واش روم کا دروازہ کھلا ۔۔۔ اور اندر سے سعدیہ نکلی۔۔۔ اس کو دیکھ کر مجھے محسوس ہوا کہ  اس کا رنگ کافی سرخ سا ہو رہا ہے ۔۔۔ لیکن میں نے اسے کچھ نہ کہا ۔۔۔ یہ سوچ کر کہ شائید میرا وہم ہے۔۔۔ اس نے کافی ڈھیلے سے کپڑے پہنے تھے۔۔۔ اسے آتا دیکھ کر میں کھڑا ہو گیا اور بولا۔۔۔ وہ میں نے کپڑے بدلنے تھے ۔۔۔ ادھر واش روم میں خالہ تھیں تو میں ادھر آ گیا۔۔۔ سعدیہ بولی ۔۔۔ ہاں تو کوئی بات نہیں ۔۔۔ اس واش روم میں بدل لو۔۔۔ میں نے اچھا میں سر ہلایا اور واش روم میں داخل ہوا۔۔۔  اور وہ کمرے سے نکل گئ ۔۔۔ واش روم میں آ کر دیکھا تو میرے ہاتھ میں صرف شرٹ تھی ۔۔۔ پاجامہ میں خالہ کے کمرے میں ہی چھوڑ آیا تھا۔۔۔ میں دوبارہ خالہ کے کمرے کی طرف آیا۔۔۔ ابھی دروازے پر ہی تھا جب اندر سے سعدیہ کی آواز آتی سنائی دی ۔۔۔ وہ نادیہ سے کہہ رہی تھی ۔۔۔ کہ یہ اسکی جگہ ہے  ۔۔۔ وہ سائیڈ پر ہو جائے ۔۔۔ نادیہ نیند میں بولی ۔۔۔ باجی میں سو گئ ہوں ۔۔۔ آج آپ ادھر سو جاو۔۔۔ سعدیہ بولی ۔۔۔ تو میں جاگنے کا کب کہہ رہی ہوں ۔۔۔ ایسے ہی لیٹے لیٹے ادھر ہو جاو۔۔۔ میں کمرے میں داخل ہوا تو۔۔۔ نادیہ منہ بسورتی اپنی رات والی جگہ پر جا رہی تھی۔۔۔ مجھے دیکھ کر سعدیہ جلدی سے بستر کی چادر درست کرنے لگ گئی ۔۔۔ میں نے اپنا پاجامہ پکڑہ اور واپس سعدیہ کے واش روم آ گیا۔۔۔ اندر آ کر خوشی سے چھلانگیں لگائیں ۔۔۔ صاف ظاہر تھا ۔۔۔ بندی تیار ہے اسی لیے اپنی جگہ پرہی سو رہی ہے۔۔۔ میں نے کپڑے بدلے ۔۔۔ شیشے میں اپنی شکل دیکھ کر خود سے کہا ۔۔۔ آج تو مزے آ جانے ہیں ۔۔۔ شیشے کے ساتھ بال بنانے والا برش پڑا تھا ۔۔ میں نے اٹھا کرسیٹی بجاتے ہوئے۔۔۔ اپنے بالوں میں پھیرنا شروع کر دیا ۔۔۔ اچانک مجھے اپنے ہاتھ پر چپچپاہٹ سی محسوس ہوئی ۔۔۔ میں نے برش واپس رکھا اور اپنے ہاتھ کو دیکھا جدھر نمی سی نظرآ رہی تھی ۔۔۔ میں نے انگلیوں کو آپس میں رگڑا تو وہ چپکتی ہوئی محسوس ہوئیں ۔۔۔ ان کو سونگھا ۔۔۔ تو ان میں سے سرسوں کے تیل سے ملتی خوشبو آ رہی تھی ۔۔۔ جیسے تیل میں کچھ مکس کیا ہو۔۔۔ میں سوچ میں پڑ گیا ۔۔۔ یہ ہے کیا اور کدھر سے لگ گیا ہے۔۔۔؟ ہاتھ دھونے لگا تو نظر ہیر برش پر گئ ۔۔۔ اس کی دستی کو دیکھا تو وہ ایسے چمک رہی تھی جیسے اس پر تیل لگا ہو۔۔۔ اس کو اٹھا کر دیکھا ۔۔۔ تو واقعی اس پرتیل لگا تھا۔۔۔ برش کی دستی کافی لمبی اور بلکل گول تھی۔۔۔ موٹی بھی بہت زیادہ نہیں تھی ۔۔۔ بے خیالی میں ایک ہاتھ میں برش والی سائیڈ پکڑ کر۔۔۔ دوسری تیل لگی دستی والی سائیڈ پر دوسرا ہاتھ پھیرا۔۔۔ تو وہ ایسے پھسلہ جسے مٹھ مارتے لن ہو۔۔۔ مجھے ایسا ھی لگا جسے میرے ہاتھ میں پلاسٹک کا لن ہو۔۔۔ یہ خیال آتے ہی مجھے سعدیہ کے واش روم سے نکلتے سرخ رنگ کی وجہ سمجھ آ گئ ۔۔۔ جس وقت میں کپڑے بدلنے آیا اور واش روم کا دروازہ کھولنے کی کوشیش کی ۔۔۔۔ اس وقت اندر وہ اس برش کو پلاسٹک کے لن کے طور پر استعمال کر رہی ہوگی۔۔۔  اور اپنی چوت میں لیے ہوئے ہوگی ۔۔۔ دروازے کی آواز سن کر جلدی میں باہر آ گئی ۔۔۔ اور اس کو دھونا بھول گئ ہو گی ۔۔۔۔  یہ سوچ کر ہی میرا لن کھڑا ھوگیا۔۔۔۔ میں نے برش کی دستی کو سونگھا ۔۔۔ تو مجھے اسکی خوشبو بہت اچھی لگی۔۔۔۔ میں تھوڑی دیر اس خوشبو کے مزے لیتا رہا ۔۔۔ پھراس برش کو اچھی طرح دھو کر۔۔۔ اسکی جگہ پر رکھ کے باہر آ گیا۔۔۔ لاونج میں کوئی بھی نہ تھا ۔۔۔ یعنی سب سونے کے لیے لیٹ چکے تھے۔۔۔ وقت گزارنے کے لیےمیں نے تھوڑی دیر ٹی وی دیکھا ۔۔۔ میں چاہ رہا تھا سب گہری نیند میں چلے جائیں۔۔۔ جب میں کمرے میں آیا ۔۔۔ تو سب سو چکے تھے ۔۔۔ میں اپنی جگہ پرلیٹ گیا ۔۔۔ کچھ دیر کسی ہلچل کا انتظار کیا ۔۔۔ لیکن ہر کوئی تھکاوٹ کی وجہ سے گہری نیند میں تھا۔۔۔ میں نے بیڈ کے نیچے سے سعدیہ کی طرف دیکھا ۔۔۔ وہ بلکل سیدھی لیٹی ہوی تھی۔۔۔  میں رینگتا ہوا اس کے قریب پہنچا۔۔۔ رات کی نسبت آج میرا ڈر بہت کم تھا۔۔۔ لیکن پھر بھی احتیات ضروری تھی ۔۔۔ سعدیہ کو لیکر میرے اندازے غلط بھی ہو سکتے تھے۔۔۔ اس کے  قریب پہنچ کر۔۔۔ میں نے اس کے بازو پر ہاتھ پھیرا اور انتظار کیا ۔۔۔۔ جب دیکھا کہ کوئی حرکت نہیں ۔۔۔ تو بازو کو سہلانا شروع کر دیا ۔۔۔ جب بازو مسلسل سہلانے پر بھی سعدیہ کی طرف سے کوئی رسپونس نہیں آیا ۔۔۔ تو میں نے اپنا ہاتھ سیدھا اس کے ممے پر رکھ دیا۔۔۔ ممے پر ہاتھ رکھتے ہی مجھے حیرت کا جھٹکا لگا۔۔۔ میں نے سعدیہ کی قمیض کے اوپر سے ممے پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔ لیکن محسوس ایسے ہی ہو رہا تھا جیسے ننگے ممے کو پکڑا ہے۔۔۔ آج سعدیہ نے سونے سے پہلے جو کپڑے پہنے تھے ۔۔۔ وہ کافی لوز فٹنگ میں تھے۔۔۔۔ شارٹ سی کرتی اور پاجامہ تھا ۔۔۔ اور کپڑا کافی نرم سا تھا۔۔۔ لیکن ممے کے اس طرح محسوس ہونے کی اصل وجہ ایک اور تھی ۔۔۔ جو کہ مجھے بعد میں سمجھ آئی۔۔۔  سعدیہ نے برا نہیں پہنا ہوا تھا۔۔۔ اب تو بات بلکل واضع تھی ۔۔۔ کہ وہ بھی پوری تیاری سے آئی تھی۔۔۔ میں نے فل مستی میں ممے کو دبانا شروع کر دیا۔۔۔ اور ساتھ نپل کو بھی دبایا۔۔۔ اس کے نیپل بھی فل اکڑے ہوے تھے۔۔۔ اب میرا ڈر سعدیہ کی طرف سے بلکل ختم ہو چکا تھا۔۔۔ میں نے اسکی لوز قمیض کے اندر ہاتھ ڈالا۔۔۔ اوراس کے ممے دباتا گیا۔۔۔ میں پہلی بار مموں سے کھیل رہا تھا ۔۔۔ اس لیے زیادہ ہی جزباتی ہو گیا۔۔۔ اور کچھ زیادہ ہی زور سے اس کا نپل دبا دیا۔۔۔ سعدیہ کے منہ سے سسکی نکل گئ ۔۔۔اور اس نے اپنے ممے پر موجود میرے ہاتھ کو پکڑ لیا۔۔۔ میں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔۔۔  وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔ میں نے اپنا ہاتھ ہٹانا چاہا ۔۔۔  اس نے اور سختی سے پکڑ لیا ۔۔۔  مجھے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔ اس نے پہلے اپنے ساتھ لیٹی نادیہ کو دیکھا ۔۔۔ جس کا منہ دوسری طرف تھا ۔۔۔ پھر تھوڑا سا اٹھ کر بیڈ پر موجود خالہ اور امی کو دیکھا ۔۔۔ جیسے تسلی کر رہی ہو کے وہ سو رہے ہیں ۔۔۔ اس سب کے دوران میں چپ چاپ لیٹا اسے دیکھتا رہا۔۔۔ ذھنی طور پر میں نے خود کو اس کے حوالے کر دیا ہوا تھا ۔۔۔ کہ اب جو ہوگی دیکھی جائے گی ۔۔۔ ہر طرف سے تسلی کے بعد سعدیہ نادیہ کی طرف کھسک گئ ۔۔۔اور مجھے اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا۔۔۔ میں رینگتا ہوا بیڈ کے نیچے سے نکلا اور سعدیہ کے ساتھ لیٹ گیا۔۔۔ اس نے دوبارہ مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔۔ اور میرے کان میں بولی تمھاری آواز نہ نکلے۔۔۔ میں نے اوکے کہا ۔۔۔ تو اس نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دیے اور ان کو چوسنا شروع کر دیا۔۔۔ کبھی نچلے ہونٹ کو چوستی اور کبھی اوپر والے ہونٹ کو۔۔۔ پھر کبھی اپنی زبان میرے منہ میں ڈالتی ۔۔۔ تو کبھی میری زبان چوسنا شروع ہو جاتی۔۔۔۔ اس کے انداز میں ایک جنونیت سی تھی۔۔ جیسے کسی بھوکے کو دو، تین دن بعد کھانا ملا ہو۔۔۔ میں بس اسکا ساتھ دے رھا تھا۔۔۔ اسکی کمر پر ہاتھ پھیرتا  نیچے آیا۔۔۔ اور اس کی گانڈ پر ہاتھ رکھا اس کی گانڈ بہت نرم تھی ۔۔۔ میں اس کے چوتڑ دباتا رہا۔۔۔ اس کے پاجامے میں ہاتھ ڈالنے کی کوشیش کی توالاسٹک کی وجہ سے آرام سے اندر چلا گیا ۔۔۔ میں نے اس کی بغیر بالوں والی پھدی پر ہاتھ پھیرا اور انگلی کو لکیر میں ڈالا۔۔۔۔ اور لکیر میں انگلی پھیرتا رہا۔۔۔ اس نے اپنی ٹانگیں کھول کر میرے ہاتھ کو پکڑا اور اسے زیادہ نیچے کیا۔۔۔۔ اور پھدی کے سوراخ میں میری انگلی ڈالی تب مجھے پتہ لگا کہ اصل جگہ تو یہ ہے۔۔۔۔ اس کی پھدی پانی سے بھری ہوی تھی اور گرم ہوئی تھی۔۔۔ سعدیہ نے میرے ہاتھ کو پکڑا تھا ۔۔۔ کبھی وہ میری انگلی اندر لیتی ۔۔۔ کبھی  میری انگلی سے اپنی پھدی کے دانے کو چھڑتی ۔۔۔ اور کبھی میرےہاتھ کو اپنی پھدی پر دباتی اور گول گول گھماتی۔۔۔۔ وہ مجھے سکھا رہی تھی کہ پھدی سے کیسے کھیلتے ہیں۔۔۔ اس دوران وہ میرے ہونٹوں کو بھی اپنے ہونٹوں میں لیے ہوے تھی۔۔۔۔ سعدیہ بھی فل مستی میں تھی ۔۔۔۔ اچانک اس نے کسنگ بند کی اور بیڈ کی طرف دیکھا جدھر سکون ماحول تھا ۔۔۔ ادھر سے تسلی کر کے نادیہ کو دیکھا جو بدستور دوسری طرف منہ کئے سو رہی تھی ۔۔۔ پھر سعدیہ نے مجھے سیدھا لٹایا اور میری شرٹ اوپر کر کے میرے نیپلز پر زبان پھیری اور دانتوں سے کاٹا ۔۔۔ جس کا مجھے بہت مزا آرہا تھا۔۔۔ میرا ایک ہاتھ سعدیہ کے سر پر تھا ۔۔۔ جس سے میں اس کے سر کے بالوں کو سہلا رہا تھا ۔۔۔ اور دوسرا ہاتھ سعدیہ کے ممے پر تھا ۔۔۔ میں کبھی ممے کو دبا رھا تھا توکبھی اس کے نیپل کو اپنے انگوٹھے اور انگلی سے مروڑ رھا تھا۔۔۔
سعدیہ میرے نپلز سے ہو کر پیٹ پر کسنگ کرتے نیچے جا رہی تھی ۔۔۔ ناف پر پہنچ کے اس نے ناف میں زبان کی نوک ڈالی ۔۔۔ سعدیہ اپنے ایک ہاتھ کے انگوٹھے اور انگلی سے میرے نیپلز کو دبا رہی تھی ۔۔۔ جبکہ اس کا دوسرا ہاتھ میرے پاجامے کے اوپر سے میرے لن پر پہنچ چکا تھا ۔۔۔۔ جو کے سخت ہو کر ڈنڈا بنا ہوا تھا۔۔۔ اس نے ایک دفع پاجامے کے اوپر سے ہی میرے لن کو پکڑا ۔۔۔ اس کی موٹائی چیک کی ۔۔ پھراس پر ہاتھ پھیرکر اس کی لمبائی چیک کی ۔۔۔۔ اورپھراپنا سراٹھا کر حیرت سے مسکراتے ہوے مجھے دیکھا ۔۔۔۔ میں نے حیران نظروں سے اشارے میں پوچھا کیا ہوا ہے ۔۔۔؟ سعدیہ نے سر کے اشارے سے کہا ۔۔۔۔ کچھ نہیں ۔۔۔ اور دوبارہ میرے ناف سے نیچے والے حصے پر کسنگ شروع کر دی ۔۔۔ ادھر سے سعدیہ نے میرے پاجامے کے اوپر سے ہی میرے لن پر کس کیا ۔۔۔ میرے ٹوپے کو دانتوں سے ہلکا سا کاٹا۔۔۔۔ اس کے بعد میرے تمبو بنے پاجامے کو نیچے کرنے لگی ۔۔۔ تو میں نے اپنی گانڈ اٹھائی  تاکہ پاجامہ آسانی سے اتر جائے۔۔۔۔ اس نے میری ایک ٹانگ سے پاجامہ نکال دیا ۔۔۔ اورپھر میرے سیدھے کھڑے لن کو ہاتھ میں لیکر ہلانے لگی ۔۔۔۔ تھوڑی دیرہلانے کے بعد ۔۔۔ اس نے ایک دفع پھر میری طرف شہوت بھری نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔ جیسے پوچھ رہی کہ تیار ہو ۔۔۔ اور ساتھ ہی میرا ٹوپہ اپنے منہ میں لے کر چوسنے لگی۔۔۔۔ وہ ٹوپے کو چوستی جاتی اور نیچلے حصے کو ہاتھ سے اوپر نیچے ہلاتی ۔۔۔ ہاتھ کو لن پر گھماتی جاتی۔۔۔ ہر چوپے پر وہ پہلے سے زیادہ لن منہ میں لیے جاتی جا رہی تھی ۔۔۔ اور جب وہ جتنا وہ منہ میں لے سکتی تھی لیے چکی ۔۔۔۔ تو بھرپور چوپے لگانے لگی ۔۔۔۔ اس کے چوپوں میں کچھ زیادہ ہی جوش بھرا تھا ۔۔۔ میں کسی اور ہی جہان میں پہنچا ہوا تھا ۔۔۔۔ سعدیہ چوپے کے ساتھ ساتھ میرے ٹٹوں پر بھی ہاتھ پھیر رہی تھی ۔۔۔۔ میرے چوپے لگآتے لگآتے سعدیہ نے اپنا پاجامہ بھی نیچے کرنا شروع کیا ۔۔۔۔ چونکہ اس کی ٹانگیں میرے منہ کی طرف تھیں ۔۔۔ اس لیے جیسے ہی اس نے اپنا پاجامہ اتارنا شروع کیا ۔۔۔ تو میں جو کسی اور جہاں میں تھا ہوش میں آیا ۔۔۔ اور اس کا پاجامہ پکڑ کر اس کی ایک ٹانگ سے نکال دیا ۔۔۔ کیونکہ مجھے لگ رہا تھا کہ سعدیہ مجھے سکھا رہی تھی ۔۔۔ اس لیے میں بھی ویسا ہی کرنے کی کوشیش کر رہا تھا جیسے وہ میرے ساتھ کر رہی تھی ۔۔۔۔ اس نے میرا پاجامہ میری ایک ٹانگ سے اتارا تھا سو میں نے بھی اس کا پاجامہ ایک ہی ٹانگ سے نکالا۔۔۔ اب اس کی ننگی ٹانگ اور چوت میرے سامنے تھی ۔۔۔۔ میں نے دوبارہ اس کی پھدی کا مساج شروع کیا ۔۔۔ لیکن وہ اچانک سائیڈ سے اٹھی اور آ کر میرے سینے پر لیٹ گئی ۔۔۔ اور نیچے ھوتی گئی ۔۔۔ ادھر تک کہ اس کی پھدی میرے منہ کے بلکل قریب آ گئی ۔۔۔۔ [/font]
اب صاف ظاہر تھا ۔۔۔ وہ مجھ سے اپنی چوت چٹوانا چاہ رہی تھی ۔۔۔۔ اس وقت تک اس طرح کا سین میں بیلو فلم میں بھی برداشت نہیں کر پاتا تھا اور گالیاں دے کر آگے کر دیتا تھا ۔۔۔۔ لیکن یہ فلم نہیں حقیقت تھی ۔۔۔ اور میری سیکس کی استانی جو بغیر کسی جہیجک کے اس وقت میرا کنوارہ لن چوس رہی تھی ۔۔۔ وہ اب بدلے میں مجھ سے بھی یہی چاہ رہی تھی کہ میں اسکی چوت چاٹ جاوں ۔۔۔ میں نے اپنا سر اٹھایا ۔۔۔ سعدیہ کی چوت کو سونگھا ۔۔۔ برش کی دستی سے ملتی جلتی خوشبو آئی ۔۔۔ میں نے اپنی زبان کی نوک اس کی گیلی پھدی پر پھیری ۔۔۔ تو عجییب سی لزت آئی ۔۔۔۔ اب کی دفع میں نے اپنی پوری زبان سعدیہ کی چوت پر نیچے سے اوپر تک پھیری ۔۔۔ مجھے اس کی پھدی بہت مزے دار لگی ۔۔۔ اور میں فل مزے اور سپیڈ سے اس کی پھدی چاٹنے لگا۔۔۔ اپنی زبان سے اسے چودنے لگا ۔۔۔ اس کی پھدی کو ہلکا ہلکا کاٹنے لگا ۔۔۔ چاٹتے چاٹتے میں نے اپنی ایک انگلی بھی اس کی پھدی میں ڈال دی ۔۔۔ اور اندر باہر کرنے لگ گیا۔۔۔ سعدیہ کی حالت بری ہونے لگی ۔۔۔ اس نے میرے لن کو منہ سے نکالا اور سیدھی میرے منہ پر بیٹھ گئی ۔۔۔ وہ زور زور سے اپنی پھدی کو میرے منہ پر رگڑ رہی تھی اور دبا رہی تھی ۔۔۔ ایک دم مجھے لگا کہ اس کی پھدی میں پانی کا سیلاب سا آ گیا ۔۔ میں نے سعدیہ کو اپنے منہ سے اٹھانے کی کوشیش کی ۔۔۔ لیکن وہ اور زور لگا کر اپنی پھدی کو میرے منہ پر دبا رہی تھی ۔۔۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میرا سانس بند ہو جائے گا ۔۔۔ تب میں نے زور لگا کر اسے اپنے چہرے سے ہٹایا ۔۔۔ وہ اٹھی تو مجھے سانس آیا ۔۔۔۔ میں نے سعدیہ کو دیکھا تو اندھیرے میں بھی اس کے چہرے کی لالی نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔ وہ ایک دم پلٹی اور میرے چہرے کو چومنے لگی ۔۔۔۔ میرے منہ پر لگے اپنی پھدی کے پانی کو چاٹ چاٹ کر صاف کرنے لگی ۔۔۔ جب اچھے سے چاٹ چکی ۔۔۔ تو پھر میرے کان میں بولی ۔۔۔ تیار ہو اصل مزے کے لیئے۔۔۔؟ میں نے جلدی سے ہاں میں سرہلایا ۔۔۔ وہ جو کہ میرے پیٹ پر بیٹھی تھی ۔۔۔ تھوڑا سا اٹھی ۔۔۔ اس نے میرے کھڑے لن کو میرے پیٹ کے ساتھ لگا دیا ۔۔۔ اور پھر میرے پیٹ کے ساتھ لگے لن پر اپنی گیلی پھدی رگڑنی شروع کردی ۔۔۔۔ میرا لن اس کی پھدی کے لبوں میں رگڑا جا رھا تھا ۔۔۔ اس کی چکنی پھدی کے ہونٹ میرے لن پر پھسلتے جاتے ۔۔۔ اور میں سرور لیے رہا تھا ۔۔۔ ایسے کرتے کرتے اچانک سعدیہ جھکی اور اپنے ہونٹ سختی سے میرے ہونٹوں پر جوڑ دئے ۔۔۔ اپنی گانڈ اٹھائی ۔۔۔ اور میرے لن کو اپنی پھدی کے سوراخ پر رکھ کر نیچے ہونے لگی ۔۔۔ جیسے جیسے نیچے ہوتی جاتی ۔۔۔ اتنی زور سے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں میں دباتی جاتی ۔۔۔۔ ادھر مجھے لگ رہا تھا کہ میرا لن کسی گرم تندور میں گھس رہا ہے۔۔۔۔[/font]
سعدیہ نے آدھا لن لیا ۔۔۔ اورواپس اوپر اٹھنے لگی ۔۔۔ مجھے لگا وہ میرے لن سے اترنے لگی ہے ۔۔۔ میں نے بے صبیری سے اسے کہلوں سے پکڑکر روکا ۔۔۔ اور نیچے سے خود جاندار جھٹکا لگا دیا ۔۔۔ اور میرا لن اپنا کنوارہ پن ختم کر کے لوڑا بن گیا ۔۔۔ اور سعدیہ کی پھدی کھولتا ہوا پورہ اندر چلا گیا ۔۔۔ سعدیہ کے منہ سے گھٹی گھٹی چیخ نکل کر میرے منہ میں دم توڑ گئ ۔۔۔ جب پورہ اندر چلا گیا تو سعدیہ اپنا سر میرے سینے پر رکھ کرتھوڑی دیربغیر کسی حرکت بیٹھی رہی۔۔۔۔ پھر سر اٹھایا اور مجھے دیکھا ۔۔۔ مجھے اس کی آنکھوں میں غصہ نظر آیا۔۔۔ میں نے اشارے سے پوچھا کیا ہوا ۔۔۔؟ اس نے غصے سے سر جھٹکا ۔۔۔ اور آرام آرام سے لن پر اوپر نیچے ہونے لگی ۔۔۔۔ اب اس کے دونوں ہاتھ میرے کوہلوں پر تھے ۔۔۔ میں خود جھٹکا لگانے لگتا تو وہ مظبوطی سے روک دیتی ۔۔۔ اورمزید غصے سے مجھے دیکھتی ۔۔۔ میں اپنے مزے میں اس کے غصے سے بے پرواہ تھا ۔۔۔ تھوڑی دیر آرام سے کرنے کے بعد ۔۔۔ سعدیہ کو جوش چڑھا اور وہ فل سپیڈ سے کرنے لگی ۔۔۔ کچھ دیر سپیڈ سے کرنے کے بعد وہ تھک کر اتر گئ ۔۔۔۔ اور اپنی پھدی کے پانی میں لتھڑے میرے لن کو دوبارہ منہ میں لیکر چوسنے لگی ۔۔۔ اس دفع سعدیہ کا چوپہ پہلے سے بھی زیادہ جاندار تھا ۔۔۔۔ تھوڑی دیر میں مجھے لگا میں چھوٹنے والا ہوں ۔۔۔ میں نے اس کا سر اپنے لن سے ہٹانے کی کوشیش کی ۔۔۔۔ لیکن اس نے میرا ہاتھ جہٹک دیا ۔۔۔ میں نے چھوٹتے چھوٹتے ایک اور کوشیش کی ۔۔۔ لیکن جب سعدیہ نے دوبارہ میرا ہاتھ جہٹک دیا ۔۔۔ تو میں اس کے منہ میں ہی چھوٹ گیا ۔۔۔ اور وہ مزے سے میری ساری منی پیتی چلی گئ ۔۔۔ مجھے اس سے اس چیز کی امید تو نہیں تھی لیکن اس سے مزا بہت آیا ۔۔۔۔ سعدیہ نے چاٹ چاٹ کر اچھی طرح میرا لوڑا صاف کیا ۔۔۔۔ فارغ ہوئے تو دماغ دوبارہ حرکت میں آئیے ۔۔۔ سعدیہ نے جلدی جلدی اپنے کپڑے صحیح کرنے شروع کئیے ۔۔۔ اور مجھے اپنی جگہ پر واپس جانے کا اشارہ کیا ۔۔۔ میں نے بھی جلدی سے اپنا پاجامہ پہنا ۔۔۔ اور بیڈ کے نیچے سے ہوتا ہوا ۔۔۔ اپنے بستر پر پہنچ گیا۔۔۔۔ سعدیہ کو دیکھا تو وہ مجھے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ مجھے اپنی طرف دیکھتا دیکھ کر وہ مسکرا دی ۔۔۔ تو میں  بھی مسکرا دیا اور ساتھ ہی اسے ایک فلائنگ کس بھیجی جس کوسعدیہ نے مسکرا کر وصول کیا اور اشارہ کیا سو جاو بہت رات ہو گئ ہے۔۔۔۔ نیند مجھے بھی بہت آ رہی تھی تو میں بھی منہ لپیٹ کر سو گیا۔۔۔۔ پہلی چودائی کے بعد نیند بھی بہت مزے اور سکون والی آئی۔۔۔ ساری رات خوابوں میں بھی میں سعدیہ کی لیتا رہا۔۔۔ صبح بھی نیند میں مجھے ایسا لگے جیسے کوئی میرے چوپے لگا رہا ہے۔۔۔۔ پہلے تو میں خواب سمجھ کر آنکھیں بند کئے لٹا رہا ۔۔۔۔ لیکن تھوڑی ہی دیر میں مجھے محسوس ہوا کے یہ خواب نہیں ہے۔۔۔۔ میں نے جلدی سے آنکھیں کھولیں تو دیکھا ۔۔۔۔ سعدیہ فل زور و شور سے میرے ادھ کھڑے لوڑے کوچوس رہی تھی ۔۔۔ اس کا جنونی انداز دیکھ کر میرا لوڑا فل اکڑ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔ سعدیہ نے اسے اپنے ہاتھ میں پکڑا اور میرے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔ مسکرا کر بولی گڈ مارنگ ۔۔۔۔ بڑی جلدی اٹھ گئے لارڈ صاحب ۔۔۔۔ میں نے کہا ۔۔۔ آج کی مارنگ تو واقعی بہت گڈ ہے اتنی گرم بندی ۔۔۔ اتنے مزیدار طریقے سے اٹھا رہی ہو تو بندہ نیند سے کیا موت سے بھی جاگ جائے۔۔۔۔ پھر میں نے جلدی سے بیڈ کی طرف دیکھا جو کہ خالی تھا ۔۔۔ مجھے ایسے گھبرایا دیکھ سعدیہ ہنس کر بولی ۔۔۔ پریشان مت ہو ۔۔۔ میں تمھا ری طرح بچوں والی حرکتیں نہیں کرتی ۔۔۔ سارے انتظام کر کے ہی تمہارے بستر پر آئی ہوں ۔۔۔۔ صبح کے سات بج رہے ہیں ۔۔۔ نادیہ سکول گئ ہے ۔۔۔ امی اور خالہ باہر صحن میں بیٹھی ناشتہ کر رہی ہیں ۔۔۔ اندر نہیں آئیں گی ۔۔۔ اور ویسے بھی میں لاونج والے دروازے کا لاک ۔۔۔ جو کہ اکثر پھنس جاتا ہے ۔۔۔ پھنسا آئی ہوں ۔۔۔ کوئی بھی اندر آنے کی کوشیش کرے گا تو لاک کھولنے میں کافی شور ہوگا اور ہمیں پتہ لگ جائے گا۔۔۔ اس دوران سعدیہ کا ہاتھ مسلسل میرے لوڑے پر اوپر نیچے ہو رہا تھا ۔۔۔ سارے انتظامات کی تفصیل سن کر میں مطمئین ہو گیا۔۔۔ اور اسے بازوں سے پکڑ کر اپنے ساتھ گرا لیا ۔۔۔ خود اس کے اوپر آیا اور اس کے ہونٹ چوستے ہوے کہا۔۔۔۔ اچھا باجی سیانی میں نے کونسی بچوں والی حرکت کی ہے۔۔۔؟ ساتھ ہی اس کی شرٹ اوپر کی ۔۔۔ اور اس کے بغیر برا والے مموں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑ لیا ۔۔۔ وہ میرے ہاتھوں میں پورے نہیں آ رہے تھے ۔۔۔ اس کے مموں کو دیکھ کر میرے دماغ پر منی چڑھ گئی ۔۔ اور میں ان پر ٹوٹ پڑا ۔۔۔ بڑے بڑے سانولے مموں پربراون رنگ کی ٹکیاں بنی ہوئیں تھیں ۔۔۔ جن پر نپلز تن کر کھڑے تھے۔۔۔ میں نے انہیں چوسنا شروع کر دیا ۔۔۔ دانتوں سے ہلکا ہلکا کاٹنا شروع کر دیا۔۔۔ سعدیہ سرور میں ڈوبی آواز میں بولی ۔۔۔ پرسوں رات بچوں والے کام ہی تو کئے تھے ۔۔۔ اتنا رسک لے کر میرے پاس آئے ۔۔۔ اوپر اوپر سے مجھے ہاتھ پھیرے ۔۔۔ اپنی مٹھ ماری پینٹ اور قالین گندہ کیا اور واپس بھاگ گئے۔۔۔ صبح میں نے اٹھ کر پہلے قالین صاف کیا۔۔ اور جھیل پر جانے سے پہلے تمہاری پینٹ صاف کر کے گئ۔۔۔۔ حالانکہ میں نے تمھیں باتوں باتوں میں کہا بھی کہ پینٹ گندی تو نہیں کر دی ۔۔۔ لیکن تمہیں سمجھ ہی نہیں آئی ۔۔۔ اور تم اس کو ویسے ہی واش روم میں چھوڑ آئے۔۔۔ ادھر میں اس کے ممے چوستا ہوا اس کے پیٹ پر آگیا اور اس کی ناف کے گڑہے میں زبان ڈال دی ۔۔۔ اس نے ایک بھرپور سسکی لی اور اس کا جسم تھرتھرا گیا ۔۔۔ میں نے اس کا پیٹ سے مموں تک کا جسم چاٹنا شروع کر دیا۔۔۔ لذت کی شدت سے وہ میرے نیچے کانپ رہی تھی۔۔۔۔ میں اس کے ممے دبا کر بولا ۔۔۔ ہاں جی آپ تو بہت سمجھدار ہو ۔۔۔ تبہی اپنی چوت والا ہیر برش بغیر دھوئے واش روم میں رکھ آئی تھی ۔۔۔ جس کو میں نے دھو کر رکھا تھا ۔۔۔۔ اور رات کو میرے سے زیادہ رسک تو آپ نے لیا۔۔۔ سب کے درمیان میں سب کر لیا اور آوازیں بھی نکالیں ۔۔۔۔ کوئی اٹھ جاتا تو لگ سمجھ جانی تھی۔۔۔ یہ کہہ کر میں نے اس کا پاجامہ اتارا ۔۔۔ اوراس کا جسم چاٹے ہوئے اس کی پھدی پر انگلی پھیرنی شروع کر دی۔۔۔ میں نے اس کی پھدی کے رس بھرے پانی سے ہی اپنی انگلی تر کی ۔۔۔ اور اس کی پھدی کی لکیر کو گیلا کر دیا۔۔۔ اور انگلی کی مدد سے اس کی چوت کو چودنا شروع کر دیا۔۔۔ سعدیہ کی سسکیاں کمرے میں گونجنے لگیں۔۔۔ ایک ہاتھ سے میں اس کی چوت کو دبا رہا تھا اور دوسرے ہاتھ سے مموں کو سہلا رہا تھا۔۔۔۔ وقفے وقفے سے اس کے نپلز کو اپنی انگلی اور انگوٹھے کی مدد سے دباتا جس کی وجہ سے اس کی سسکاری نکل جاتی۔۔۔ پھر میں نے اپنی زبان اس کی چوت کے دانے پر رکھی اور اسے زبان سے چھیڑنا شروع کر دیا۔۔۔۔ میں اسکی چوت کو مزے لیے لیے کر چاٹ رھا تھا ۔۔۔۔ اس کو زبان سے چود رہا تھا ۔۔۔ اس سے سعدیہ مزے کی وادیوں میں داخل ہو گئی۔۔۔ اس نے اپنا ہاتھ میرے اس سر پر رکھا اور اسے اپنی چوت کی طرف دبا دیا ۔۔۔ اور اپنی چوت کو میرے منہ پر زور زور سے رگڑنا شروع ہو گئ ۔۔۔ اور منہ سے مزے سے بھرپور آوازیں نکالنے لگی ۔۔۔ کچھ دیر بعد ہی اس کے جسم نے اکڑنا شروع کر دیا ۔۔۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ اب یہ چھوٹنے لگی ہے۔۔۔ میں نے اس کے دانے کو مسلنے کی سپیڈ تیز کر دی ۔۔۔ اور اپنے ہاتھ کی انگلی اس کی چوت میں داخل کر کے تیزی سے اندر باہر کرنی شروع کر دی۔۔۔ اچانک اس نے سسکیاں لیتے ہوئے اپنی دونوں ٹانگوں کو بھینچ لیا ۔۔۔ جس سے میرا سر اس کی رانوں کے درمیان پھنس گیا اور میں رک گیا۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد اس کی سانسیں بحال ہوئیں تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔۔ اور مزے میں ڈوبی آواز میں بولی ۔۔۔ تم نے ایک ہی رات میں اچھا سیکھ لیا ہے۔۔۔ رہی برش والی بات تو واقعی مجھ سے غلطی ہوئی تھی۔۔ اچانک دروازے کی آواز سے میں گھبرا گئ ۔۔۔ اور اس کو دھوئے بغیر رکھ آئی۔۔۔ لیکن رسک والی بات غلط ہے ۔۔۔۔ رات کو امی اور خالہ بہت تھک

YUM Stories

Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #8 on: June 01, 2020, 03:12:01 pm »

Offline Sexystranger

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 121
  • Reputation: +3/-0
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #9 on: June 01, 2020, 03:18:20 pm »

YUM Stories

Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #9 on: June 01, 2020, 03:18:20 pm »

Offline Sexystranger

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 121
  • Reputation: +3/-0
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #10 on: June 01, 2020, 03:20:00 pm »

Offline Sexystranger

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 121
  • Reputation: +3/-0
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #11 on: June 01, 2020, 03:27:14 pm »

Offline Sexystranger

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 121
  • Reputation: +3/-0
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #12 on: June 01, 2020, 03:32:39 pm »
میں مزید اپڈیٹ کی کوشیش کر رہا ہوں۔۔۔ لیکن میرا پوسٹ خالی کیوں آ رہا ہے ۔۔۔؟ میں تین دفع ایڈ ریپلائے کیا ۔۔۔ تیوں دفع خالی آیا ہے ۔۔۔

Offline Sexystranger

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 121
  • Reputation: +3/-0
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #13 on: June 01, 2020, 03:34:08 pm »
لیکن رسک والی بات غلط ہے ۔۔۔۔ رات کو امی اور خالہ بہت تھک گئیں ہوئیں تھیں ۔۔۔ ان کے جسم بھی درد کر رہے تھے ۔۔۔ تو میں نے ان کونیند والی گولی ریلیکسن کھلا دی تھی ۔۔۔ جس سے درد بھی دور ہوا اور ان کو جم کے نیند بھی آئی ۔۔۔ جب ان دونوں کودوائی دی تو نادیہ نے بھی مانگ لئ ۔۔۔ تو میں نے اس کو بھی کھلا دی۔۔۔۔ اس لیے مجھے پتہ تھا کہ تھوڑے بہت شور سے یہ تینوں نہیں اٹھئیں گیں۔۔۔ اور وہ تھوڑا بہت شور بھی نا ہوتا اگر تم جنگلی نہ بنتے ۔۔۔ اور مجھے کرنے دیتے جو میں کر رہی تھی۔۔۔۔ اتنی زور سے جھٹکا دیا کہ سارا مزا خراب ہو گیا۔۔۔ میں نے اتنی مشکل سے اپنی چیخ روکی ۔۔۔ کوئی کنواری لڑکی ہوتی تو بے ھوش ہی ہو جاتی ۔۔۔ اور بعد میں تمہیں ہاتھ بھی نا لگانے دیتی۔۔۔ شکر مناو میرا ۔۔۔ میں نے برداشت بھی کیا اور تمہیں لڑکے سے مرد بھی بنا دیا۔۔ ادھر میں جو سعدیہ کے اٹھتے ہی اپنا لن اس کے ہاتھ میں پکڑا رہا تھا ۔۔۔ اس کی درد والی بات سن کر اسے سوری کرنے لگا اور کہا ۔۔۔ مجھے اندازہ نہیں تھا آپ کو درد ہوگا۔۔۔ آئیندہ خیال کروں گا۔۔۔ وہ بولی اٹس اوکے ۔۔ اور پھر میرے لوڑے کو ہاتھ سے سہلاتے بولی۔۔۔ ویسے تمہارا ہے ہی اتنا بڑا کہ کسی کی بھی چیخیں نکلوا دیے۔۔۔  میں نے مستی میں ڈوبے  لہجے اسے کہا۔۔۔ آپ کو پسند آیا ہے تو اس کو منہ میں لیے کر پیار تو کر دئیں۔۔۔ اس نے مسکرا کر مجھے دیکھا اور بولی۔۔۔ اچھا جی فل شوق چڑھ گئے ہیں۔۔۔۔ اور میرے لن کے ٹوپے کو چومنا شروع کردیا۔۔۔ پھر ٹوپے کو چاٹنا شروع کردیا۔۔۔ اس کے بعد اس نے ٹوپے کو منہ میں ڈال کر چوسنا شروع کر دیا۔۔۔ اور پھر اس نے اپنی زبان نکال کر لن کو اوپر ٹوپے سے جڑ تک پھیرنا شروع کر دی۔۔۔ وہ کسی ماہراور شوقین کی طرح لن چوس رہی تھی ۔۔۔ اس کے بعد اس نے میرے ٹٹوں کو منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا۔۔۔ اور اس کے بعد دوبارہ منہ کو کھولا اور جس قدر لن منہ میں لے سکتی تھی اسے لے کر چوسنا شروع کر دیا۔۔۔ تھوڑی دیر بعد اس نے منہ سے لن باہر نکالا ۔۔۔ اور میرے ٹٹوں اور گانڈ کے درمیان والی جگہ کو چاٹنا شروع ہو گئی ۔۔۔ اسے چاٹتے چاٹتے میری گانڈ کے سوراخ پر زبان پھیرنا شروع ہو گئ۔۔۔  میں مزے سے چھوٹنے والا ہو گیا اور اسے کہا ۔۔۔۔ بس کرو اور اوپرآ کر میرا لوڑا پھدی میں لو۔۔۔ سعدیہ بولی ۔۔۔ اب ہر بار ویسے ہی کرنا ہے کیا۔۔۔؟ اب نیو طریقے سے کرتے ہیں۔۔۔ میں نے کہا ۔۔ جیسے آپ کہو۔۔۔ وہ بولی ۔۔۔ ڈوگی سٹائل میں کرتے ہیں۔۔۔ لیکن وعدہ کرو زور سے نہیں کرو گے اور مجھے بھی مزے لینے دو گے۔۔۔۔ میں نے کہا پکا وعدہ۔۔۔ یہ سن کے وہ جھک گئ۔۔۔ اس کی پھدی دوبارہ پانی سے بھر چکی تھی۔۔۔ اس نے اپنے بازو آگے کو نکال کر تکیے پر رکھے اور گانڈ کو باہر کو نکال دیا۔۔۔ کیا مست گانڈ تھی۔۔۔ اس کی گانڈ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے میں اس کے پیچھے آگیا۔۔۔۔ میرا لن پہلے ہی اس کے تھوک سے لتھڑا ہوا تھا۔۔۔ اس کے گانڈ باہر کو نکالنے سے پھدی کا منہ واضح ہو گیا۔۔۔۔ میں نے لن کا ٹوپا اس کی پھدی پر سیٹ کیا اور آہستہ آہستہ اندر ڈالتا گیا۔۔۔ میں تھوڑا ڈالتا اور نکال لیتا آگلی دفع اور زیادہ ڈالتا اور نکال لیتا ۔۔۔ اس طرح آرام آرام سے سارا اس کی چوت میں ڈال دیا۔۔۔۔ سعدیہ نے جب دیکھا کہ میں آرام تسلی سے کر رہا ہوں تو اس نے اپنا آپ ڈھیلا چھوڑ دیا ۔۔۔ اب اس کو بھی مزہ آنا شروع ہوگیا۔۔۔ اس کا ثبوت اس کی مزے سے بھرپور وہ سسکیاں تھیں جن کے دوران وہ مجھے ھدایات دے رہی تھی ۔۔۔ ہاں ایسی طرح۔۔۔  اب گھسے مارو۔۔۔۔ پورا اندر ڈالو۔۔۔۔ تیزی سے کرو۔۔۔۔  آہ آہ اہہ۔ اس کی اس طرح کی آوازیں سن کر میرا بھی جوش بڑھتا جارہا تھا۔۔۔ ایسی باتیں کرتے کرتے سعدیہ کی آواز بے ربط ہونا شروع ہو گئی ۔۔۔ اس سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ اب وہ فارغ ہونے والی ہے ۔۔۔ تب میں نے اپنے ان آؤٹ کرنے کی سپیڈ بڑھا دی۔۔۔۔ آٹھ دس گھسے لگانے کے بعد اس کا جسم فل اکڑ گیا اور اس کی پھدی سے پانی کا فوارہ چھوٹ پڑا۔۔ میں تھوڑی دیر رک گیا اور اسے مکمل ڈسچارج ہونے دیا۔۔۔ جب وہ مکمل ڈسچارج ہو گئی۔۔۔ تو میں نے دوبارہ ایک ردہم سے دھکے مارنے شروع کر دیے۔۔۔ تھوڑی دیر بعد سعدیہ کہنے لگی کہ وہ دوبارہ لن چوسنا چاہتی ہے ۔۔۔ تب میں نے لن اس کی چوت سے نکالا اور آگے آ کر اس کے منہ میں ڈال دیا۔۔۔ لن اس کی چوت سے نکلنے والے پانی سے بھرا ہوا تھا۔۔۔ اس نے چاٹ کر سارا صاف کیا۔۔۔ اور پھر لن کو منہ میں بھر کر چوسنے لگی۔۔۔۔ وہ لن کو حلق تک منہ میں لے جاتی۔۔۔ پھر آہستہ آہستہ منہ سے باہر نکالتی ۔۔۔ اور پھر ٹوپے کو چوستی اور زبان سے لن کی موری کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتی۔۔۔ تھوڑی دیر بعد جب کام میری برداشت سے باہر ہو گیا ۔۔۔ تو میں نے اپنا بیلو فلموں سے حاصل شدہ تجربہ استمعال کرتے ہوے۔۔۔ اسے سیدھا لیٹا کر اس کی ٹانگیں اٹھا کراپنے کندھوں پر رکھیں ۔۔۔ اور لن اس کی پھدی پر رکھ کربھرپور جھٹکا مارا تو لن شڑاپ سے پھدی میں گھس گیا۔۔۔ سعدیہ کی ہائے کی آواز نکلی ۔۔۔ لیکن میں رکا نہیں اور تیزی سے گھسے مارتا رہا ۔۔۔ تھوڑی دیر بعد مزے میں ڈوبی سعدیہ کی سسکیاں دوبارہ کمرے میں گونجنے لگیں ۔۔۔۔ کمرہ سعدیہ کی آہ ہ ہ ہ ۔ اوہ وہ وہ اور دھپ دھپ دھپ کی آوازوں سے گونج رہا تھا۔۔۔۔ میں نان سٹاپ گھسے اس کی چوت میں مار رہا تھا۔۔۔ پانچ منٹ تک لگا تار گھسے مارتے رہنے پر ایک دفعہ دوبارہ اس کا جسم اکڑنا شروع ہو گیا۔۔۔ اور اسی وقت مجھے بھی اپنے لن پر دباؤ محسوس ہونا شروع ہو گیا۔۔۔ میں نے جاندار گھسے مارنا شروع کر دیے۔۔۔ کچھ ہی دیر میں سعدیہ کی بس ہو گئی اور اس کی چوت نے پانی چھوڑ دیا۔۔۔۔ اس کی چوت کے پانی کے لن پر پڑتے ہی میری بھی بس ہو گئی۔۔۔ میرے لن نے بھی اس کی چوت میں ہی فوارے مارنا شروع کر دیے۔۔۔۔ کچھ دیر تک لن اس کی چوت کے اندر ہی پچکاریاں مارتا رہا۔۔۔ جب منی کا آخری قطرہ بھی اس کی پھدی میں نکل گیا تو میں اس کے اوپر ہی لیٹ گیا۔۔۔۔ کچھ دیر بعد میں اٹھا اور لن اس کی پھدی سے باہر نکالا۔۔۔۔ وہ میری اور سعدیہ کی منی سے بھرا ہوا تھا۔۔۔۔ [/font]
منی دماغ سے اترتے ہی مجھے نئ ٹینشن پڑ گئ۔۔۔ میں نے سعدیہ سے کہا ۔۔۔ میں تو آپکے اندر ڈسچارج ہو گیا ہوں۔۔۔۔ اب کیا ہوگا۔۔۔؟ اس طرح تو آپ پریگرینٹ ہو جاو گی۔۔ میری پریشانی دیکھ کر سعدیہ پاجامہ پہنتے بولی ۔۔۔۔ ہائے یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں ۔۔ امی جب پوچھیں گی یہ کس کا بچہ ہے۔۔۔؟ تو میں ان کو کیا منہ دیکھاوں گی۔۔؟ اور ابو تو مجھے قتل ہی کر دئیں گے۔۔۔ پلیز شیراز۔۔۔ مجھ سے شادی کر لو۔۔۔۔ میں ہکلایہ ۔۔ ہ ہ ہیں۔۔ ش شادی۔۔ میری حالت دیکھ سعدیہ قہقہ لگا کربولی۔۔۔ بدھو اس طرح صرف فلموں میں ہوتا ہے ۔۔۔ تم پریشان مت ہو۔۔۔ مجھے پتہ مجھے کیا کرنا ہے۔۔۔۔ اس کی بات سن کر مجھے تسلی هو گئ اور میں نے سکون کا سانس لیا۔۔۔ مجھے اسطرح مطمئین ہوتا دیکھ سعدیہ بولی۔۔۔ شیراز یہ تمہارہ فرسٹ ٹائم تھا۔۔۔؟ میں شرارت سے بولا نہیں دوسری دفع پہلی دفع تو رات کو کیا تھا۔۔۔ سعدیہ بولی ایک ہی بات ہے یعنی تمہیں مرد میں نے ہی بنایا ہے ۔۔۔ پہلے تو تم بچے تھے۔۔۔ میں بولا ۔۔۔ ابھی تو آپ سے بہت کچھ سیکھنا ہے۔۔۔ یہ کہہ کر میں نے سعدیہ کو بانہوں میں بھر لیا اور کسنگ کرنے لگا۔۔۔ اس نے مجھے روکا اور بولی زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔ امی کا اب کوئی پتہ نہیں کب مجھے جگانے آ جائیں۔۔۔ میں نے اس کو چھوڑ دیا اور بولا ہائے یعنی اب رات تک انتظار کرنا پڑے گا۔۔۔؟ سعدیہ بولی ۔۔۔ رات تک نہیں کل صبح تک کیونکہ رات کو سب کے درمیان کرنا بہت بڑا رسک ہے۔۔۔۔  اور روزانہ میں سب کو نیند والی گولی نہیں دے سکتی۔۔۔ یہ سن کر میرا موڈ کافی خراب ہو گیا۔۔۔ سعدیہ نے مجھے منہ بسورتا دیکھا تو ہنس کر میرے ہونٹوں پر کس کی اور اٹھ کر کمرے سے نکلتے بولی ۔۔۔۔ ویسے تمہارے لن کا سائز اور تمھارا سٹیمنا ۔۔۔ دونوں زبردست ہیں۔۔۔ تمہاری بیوی تو سہی مزے لے گی۔۔۔ اور میں دوبارہ لیٹ کر اپنے خیالوں میں۔۔۔ اپنی خیالی بیوی کی لینے لگ گیا۔۔۔ سو کر اٹھا تو گیارہ سے اوپر کا وقت تھا ۔۔۔ باہر سب کی باتوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔۔ میں واش روم گھس گیا فریش ہو کر باہر آیا تو امی نے کلاس لینی شروع کر دی۔۔۔ یہ کوئی وقت ہے اٹھنے کا گھر میں نحوست پھیلائی ہے۔۔۔۔ وقت سے اٹھا کرو۔۔۔ میں نے جا کر ان کو گلے لگایا اور بولا ۔۔۔ اچھا ماں جی آئیندہ خیال کروں گا۔۔۔ امی بولیں ۔۔۔ وہ آئیندہ نہ آئی کبھی۔۔ تبہی خالہ نے جان بخشوائ اور بولیں ۔۔۔ اچھا باجی اب بس بھی کرو۔۔۔ کہہ تو رہا ہے خیال کرے گا۔۔ ساتھ ہی سعدیہ کو بولئیں ۔۔۔ بھائیی کے لیے ناشتہ لے آو۔۔۔ ناشتے وغیرہ سے فارغ ہوے تو نادیہ نے گھومنے جانے کا پروگرام بنا لیا۔۔۔ امی اور خالہ بولئیں ہم تو کہیں نہیں جا رہے تم لوگ گھوم آو اور شام سے پہلے واپس آ جانا۔۔۔ اس دن ہم تینوں ہی چلے گئے اور وقت پر واپس آ گئے۔۔۔۔ رات کھانا کھا کر لوڈو کی بازی لگائی ۔۔[/font]
دو گیمز کے بعد ہی نادیہ سونے کے لیے اٹھ گئی ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی سعدیہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔ میں نے اسے اشارے سے روکا لیکن وہ ٹھینگا دیکھا کر نکل گئی۔۔۔  اور میں اپنا لوڑا مسلتا اس کو دل میں گالیاں دیتا رہ گیا۔۔۔ تھوڑی دیر ٹی وی دیکھا اور پھر کپڑے بدل کر سونے آ گیا۔۔۔ سعدیہ کے بستر کو دیکھا تو وہ مزے سے سو رہی تھی۔۔۔ میں بھی منہ لپیٹ کردوسری طرف منہ کرکے سونے کی کوشیش کرنے لگا۔۔۔ کچھ دیر بعد ۔۔۔ مجھے اپنی کمر پر کچھ محسوس ھوا ۔۔۔ پلٹ کر دیکھا تو بیڈ کے نیچے سے نکل کر میرے بستر تک آتی دو ننگھی ٹانگیں نظر آئیں۔۔ باقی سارا جسم بیڈ کے نیچے تھا۔۔۔ بس ٹانگیں باہر تھی اور وہ بھی ننگی۔۔۔ میں نے حیران ہو کر بیڈ کے نیچے دیکھا تو سعدیہ شرارت سے ہنس رہی تھی۔۔۔ مجھے اپنی طرف دیکھتا دیکھ کر۔۔۔ اس نے اپنی ٹانگیں کھولئیں ۔۔۔ اور مجھے اشارے سے اپنی پھدی کی طرف متوجہ کیا۔۔۔ میں نے اسکی پھدی پرہاتھ پھیرا ۔۔۔ اوراس کی پنڈلیوں کو کس کر کے۔۔۔ چاٹتا ہوا ۔۔۔ اوپر جانا شروع ہوا ۔۔۔ میں ہاتھ سے اسکی پھدی مسل رہا تھا ۔۔۔ اور اس کی ٹانگوں کو چاٹتا ہوا پھدی کی طرف جا رہا تھا۔۔۔ پھدی پر پہنچ کر ۔۔۔ میں نے اس کے ہونٹ کھولے اور اپنی زبان اس کی پھدی میں گھسا دی۔۔۔ اس کی پھدی کو چاٹنا شروع کیا۔۔۔۔ میں خوب مزے سے اس کی پھدی چاٹ رہا تھا ۔۔۔ میرا ایک ہاتھ اسکی پھدی پر اور دوسرا اس کے ممے پر تھا۔۔۔  جس کو میں خوب دبا رہا تھا اور اس کے نپلز مسل رہا تھا۔۔۔ سعدیہ مزے سے کانپ رہی تھی اور اپنے پاوں سے میرے لوڑے کو پا جامے کے اوپر سے دبا رہی تھی۔۔۔۔ میں نے پھدی کو چاٹتے چاٹتے اپنا پاجاما تھوڑا نیچے کر کے اپنا لوڑا نکال دیا۔۔۔ جس کو سعدیہ اپنے دونوں پیروں سے رگڑنا شروع ہو گئ۔۔۔ وہ پیروں سے کبھی دباتی اور کبھی دونوں پیروں کے درمیان کر کے پیر اوپر نیچے کرتی۔۔۔ اور مجھے نیا مزاہ دیتی۔۔۔ میں نے سعدیہ کی پھدی چاٹنے کے ساتھ اپنی انگلی سے اس کی گیلی چوت کو چودنا شروع کیا ۔۔۔ تھوڑی دیر میں سعدیہ کا جسم اکڑا اور وہ ڈسچارج ہو گئ۔۔۔ اب میں اپنی زانوں پر۔۔۔اسکی ٹانگوں کے درمیان آ کر اس طرح بیٹھا کہ میرے لوڑے کی ٹوپی اسکی پھدی کو ٹچ کر رہی تھی۔۔۔ میں نے اپنے لوڑے کی ٹوپی کو اس کی پھدی کی لکیر میں پھیرنا شروع کیا۔۔۔ جب ٹوپی اچھی طرح گیلی ہو گئ ۔۔۔ تو میں نے اپنی دو انگلیاں سعدیہ کی پھدی میں گھسا کر اس کی پھدی کے جوس سے اچھی طرح گیلی کیئں۔۔۔ اور باہر نکال کر سارا جوس اپنے لوڑے پر مل دیا۔۔۔۔ اس کے بعد اپنی تھوک کا گولا اپنے لوڑے پر پھینک کر اسے سعدیہ کی پھدی کے جوس اور اپنے تھوک کے مکسر سے اچھی طرح گیلا کردیا۔۔۔۔ سعدیہ کی ٹانگیں اپنی رانوں پر رکھیں ۔۔۔[/font]
اس سے سعدیہ کی پھدی کا منہ بلکل میرے لوڑے کے سامنے آ گیا۔۔۔ لوڑے کو پھدی پر سیٹ کر کے میں نے اندر کرنا شروع کیا۔۔۔ میرا لوڑا جو پہلے سے تیار بیٹھا تھا شڑاپ کر کے پھدی میں گھس گیا ۔۔۔ اور میں نے مزے سے گھسے لگانے شروع کئیے۔۔۔۔ سعدیہ خود تو ساری بیڈ کے نیچے تھی اور میں اپنی زانوں پر بیٹھا تھا۔۔۔۔ میرا لوڑا سعدیہ کی پھدی میں غوطے لگا رہا تھا۔۔۔ جبکہ میری آنکھوں کے سامنے بیڈ پر امی اور خالہ سو رہی تھیں۔۔۔ اس وقت خالہ نے کروٹ لی ۔۔۔ اور میری پھٹ گئی ۔۔۔ کہ اٹھ ہی نہ جائیں لیکن وہ دوسری طرف منہ کر کے سو گئیں۔۔۔ میں نے ڈر کر جلدی جلدی گھسے لگائے اور فارغ ہونے والی بات کی۔۔ ڈسچارج ہو کر میں اپنے بستر پر لیٹ گیا اور سعدیہ اپنے بستر پر چلی گئی۔۔۔ میں نے اسے دیکھا تو اس نے مسکرا کر مجھے فلائنگ کس کی اور دوسری طرف منہ کر کے سو گئی اور میں بھی خوابوں کی وادی میں کھو گیا۔۔۔ اگلی صبح دوبارہ سعدیہ کے چوپوں سے آنکھ کھلی ۔۔۔ اور ان چوپوں کا اختمام ایک اور بھرپور سیکس سے ہوا۔۔۔ سعدیہ میری سوچ سے بھی زیادہ گرم ثابت ہو رہی تھی۔۔۔ وہ روزانہ مجھے کچھ نیا مزا دیتی اور خود بھی بھرپور مزے لیتی۔۔۔ باتوں باتوں میں سعدیہ نے بتایا۔۔۔ کہ اس کا مرحوم شوہر سیکس کا بہت شوقین تھا ۔۔۔ وہ بیلو فلم لگا لیتا اور سعدیہ سے کہتا ہم وہی کچھ کرئیں گے ۔۔۔ جو کچھ فلم  کے سین میں ہوگا ۔۔۔ اور پھر وہ سب کرتا بھی تھا۔۔۔ سعدیہ نے بتایا کہ ان دونوں نے ایک سال میں ہر طرح سے سیکس کیا تھا۔۔۔  اور اب راحیل کا شوق گروپ سیکس والا رہ گیا تھا ۔۔۔ اگر وہ زندہ ہوتا تو اب تک وہ بھی ہو جاتا۔۔۔ راحیل کی وجہ سے سعدیہ کو سیکس کی اتنی عادت ہو گئ کہ اس کی موت کے بعد سعدیہ کا گزارہ مشکل ہو گیا ۔۔۔ تب اس نے ہیربرش کو چوت میں لینا شروع کیا ۔۔۔ اور اب جب میں نے آ کر سعدیہ کو چھیڑا ۔۔۔ تو اس سے رہا نہیں گیا ۔۔۔ اور اس نے خود کو میرے حوالے کر دیا۔۔۔۔ ہمیں چکوال آئے ہفتے سے زیادہ ہو گیا تھا ۔۔۔ اس دوران کوئی دن اور رات خالی نہیں گیا۔۔۔ دن رات سعدیہ مجھے اور میں اسے چودتا رہا۔۔۔ ابھی شائید ہم کچھ دن اور چکوال رہتے ۔۔۔ لیکن ہمیں واپس نکلنا پڑا۔۔ کیونکہ ایک تو پچھلے دو دن سے سلیم بار بار مجھے فون کرکے واپس بلا رہا تھا۔۔ آواز سے وہ پریشان بھی لگتا تھا ۔۔۔ لیکن میں جب وجہ پوچھتا وہ ٹال جاتا ۔۔۔ اور کہتا ۔۔۔ تو واپس آ پھر بتاوں گا۔۔۔ دوسرے اب ابو کا بھی فون آ گیا۔۔۔ کہ اب بس کرو اور واپس آ جاو تو ہمیں واپس آنا پڑ گیا۔۔۔ گھر واپس آ کر میں کافی اداس ہو گیا۔۔۔ اداس ہوتا بھی تو کیوں نا۔۔ اتنے دن صبح شام پھدی کے مزے لینے کے بعد ۔۔۔ دوبارہ سونے دن اور ویران راتیں شروع ہو رہے تھے۔۔۔۔ اگلے دن میں اپنی اداس شکل لیے کر سلیم کے پاس پہنچ گیا۔۔۔ سلیم مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوا۔۔۔ جاتے ہی گلے ملا اور پھر شرارت سے مجھے پپی دے کر بولا۔۔۔ شہزادے ابھی بھی تجھ سے تو سعدیہ کی مست خوشبو آ رہی ہے۔۔۔  میں جل کر بولا۔۔۔ نہ یاد کروا بہن چود ۔۔۔۔ پہلے ہی دل نہیں لگ رہا۔۔۔  یہ نہ ہو میں چکوال واپس بھاگ جاوں۔۔۔ سلیم بولا۔۔۔ ٹینشن نہیں لینی ۔۔۔ تیرا بھائیی بیٹھا ہے ۔۔۔ کر لیا ہے تیرا بھی بندوبست۔۔۔ تب اچانک مجھے اس کی پریشان آواز کا خیال آیا اور میں بولا۔۔۔ بندوبست کی بہن کو لن دے اور بتا تیری گانڈ کیوں پھٹی ہوئی تھی۔۔۔ سلیم ہنس کر بولا۔۔۔ کچھ نہیں یار۔۔۔ اب تو آ گیا ہے سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ میں نے کہا بتا تو سہی ہوا کیا ہے۔۔۔ سلیم بولا۔۔۔ وہی قریشی والا چکر ہے۔۔۔ تب مجھے قریشی صاحب کی بہو یاد آئی اور میں نے سلیم  سے پوچھا ۔۔۔ تیرے کیا حالات چل رہے ہیں۔۔۔؟ سلیم بولا ۔۔ اپنے تو دن رات  فل مزیے میں گزر رہے تھے ۔۔۔ بس آج کل ایک مسلہ بنا ہے ۔۔۔ میں نے پوچھا ۔۔۔ بتا بھی دے یہ چکر کیا ہے۔۔۔۔؟ سلیم بولا ۔۔۔ یار تجھے پتہ ہے قریشی نے اپنے دبئ والے بیٹے کی کچھ عرصہ پہلے شادی کی تھی۔۔۔ شادی کے ایک مہینے بعد ندیم واپس دبی چلا گیا۔۔۔ اس نے اپنے سسرال والوں سے وعدہ کیا تھا کہ دو، تین مہینے میں اپنی بیوی رابعہ کو اپنے پاس بلا لیے گا۔۔۔ لیکن اس کی گانڈو قسمت ۔۔۔۔ وہ جس کمپنی میں ملازم تھا ۔۔۔ اس کے حلات خراب ہو گئے ۔۔۔ اور انہوں نے ندیم کواور باقی ملازموں کو اپنی فیملی بلانے سے منع کر دیا ۔۔۔ کیونکہ وہ سب کی تنخوائیں کم کر رہے تھے۔۔۔ جن کے خاندان پہلے سے ادھر تھے ان کی تنخوائیں جب کم ہوئیں۔۔۔ تو ان کو بھی اپنے بیوی بچے واپس بھیجنے پڑے۔۔۔ ان حلات میں ندیم رابعہ کو کیسے بلاتا ۔۔۔ اس نے بیوی کو کچھ عرصہ مزید انتظار کرنے کو کہا۔۔۔ ادھر قریشی کی بیوی کی اپنی بہو سے بن کوئی نہیں رہی تھی ۔۔۔ روز کسی نہ کسی بات پر لڑائی ہو رہی ہوتی تھی۔۔۔ تب رابعہ کے میکے والے آ کر اپنی بیٹی کو اپنے ساتھ لیے گئے۔۔۔ تین چار مہینے رابعہ اپنے میکے رہی ۔۔۔ اس دوران بھی جب نہ ندیم خود آ سکا اور نہ رابعہ کو بلا سکا۔۔۔ تو رابعہ کے گھر والوں نے طلاق کا مطالبہ کر دیا۔۔۔ مسلہ زیادہ خراب ہو رہا تھا۔۔۔ اس لیے خاندان کے بزرگ بیٹھے۔۔۔ جن میں قریشی صاحب کی طرف سے سلیم کے ابو بھی تھے۔۔۔ اس بیٹھک میں سب نے ندیم کے سسرال والوں کو سمجھایا کہ اس طرح بیٹی کا گھر برباد نہ کرئیں ۔۔۔ اور تھوڑا وقت دئیں ۔۔۔ ندیم رابعہ کو دبی بلا لے گا۔۔۔ لوگوں کے سمجھانے پر انہوں نے کہا۔۔۔ جب تک ندیم رابعہ کو دبی نہیں بلاتا وہ الگ گھر میں رہے گی۔۔۔ اب سب کو مسلہ تھا کہ جوان لڑکی اکیلی کسے رہے گی۔۔۔ تو ندیم کے سسرال والوں نے اپنی بڑی بیٹی کا بتایا کہ اس کا شوہر بھی بیرون ملک ہوتا ہے۔۔۔ وہ اور اس کے دو بچے رابعہ کے ساتھ رہیں گے۔۔۔ اب مسلہ الگ گھر کا تھا۔۔۔ اس کا حل سلیم کے ابو نے نکالا۔۔۔۔ سلیم وغیرہ نے کچھ عرصہ پہلے اپنے گھر کے بلکل ساتھ والا گھر خریدا تھا۔۔۔ کہ اس کو اپنے گھر کے ساتھ ملا کر اپنا گھربڑا کرئیں گے۔۔۔ وہ گھر ابھی خالی پڑا تھا ۔۔ انھوں نے قریشی صاحب کو کہا۔۔ رابعہ اور اسکی بہن کو ادھر سیٹ کر دیتے ہیں۔۔۔ گھر الگ بھی ہے اور ساتھ ہم بھی رہتے ہیں تو بچیوں کا خیال رکھ لئیں گے۔۔۔ اس بات پر سب رضامند ہو گئے اور رابعہ سلیم کی ہمسائی بن گئ۔۔۔ گھر کی سیٹنگ کرتے کرتے سلیم اور رابعہ کی بھی سیٹنگ ہو گئی اور رابعہ کی ترستی پھدی کو سلیم کے لوڑے کا سہارہ مل گیا۔۔۔ سلیم کے گھر کے باغیچے سے ایک دروازہ رابعہ والے گھر کے باغیچے میں کھلتا تھا۔۔۔ روزانہ رات کو سب کے سونے کے بعد سلیم ادھر سے رابعہ کے گھر چلا جاتا ۔۔۔ اور اس کی پھدی بجا کر واپس گھر آ جاتا تھا۔۔۔ یہ سلسلہ مزے سے جاری تھا ۔۔۔ کہ ایک رات رابعہ کی بہن ہما نے سلیم کو رابعہ کے کمرے سے نکلتے دیکھ لیا ۔۔۔ اس نے رابعہ کی کافی کلاس لگائی اور دھمکی دی کہ وہ صبح ہی امی ابو کو بلا کر سب بتا دیگی۔۔۔ رابعہ اور ہما کی دوستی تو کافی تھی ۔۔۔  رابعہ نے ہما کو یقین دیلا دیا کہ وہ سلیم سے نہیں ملے گی ۔۔۔ اور اس بات پربھی راضی کر لیا کہ ہما کسی سے اس بات کا زکر نہیں کرے گی۔۔ اب تین دن سے سلیم ۔۔۔ رابعہ کی طرف نہیں گیا تھا۔۔۔ یہ سب سن کر میں بولا۔۔۔ بہن چود تُو تو کہہ رہا تھا میرا بھی انتظام کیا ہوا ہے۔۔۔ ادھر تو تیرے اپنے انتظام کی بہن کو لن وڑا پڑا ہے۔۔۔ سلیم بولا ۔۔۔ بھائیی تیرے انتظام میں ہی میرا انتظام ہے ۔۔۔ بلکہ سمجھ ہم دونوں کے لوڑوں کی قسمت اب تیرے ہاتھ میں ہے۔۔۔۔ یا تو ہاتھوں میں گھسا دیے۔۔ یا پھدی میں گھُسا دیے۔۔۔ میں نے حیرانگی سے پوچھا ۔۔۔ وہ کیسے۔۔۔؟ سلیم بولا ۔۔۔ میں تُجھے ہما کا نمبر دیتا ہوں ۔۔ تُو اسے سیٹ کر کے لائین پر لیے آ ۔۔۔ ہم دونوں کا کام سیدھا ہو جائے گا۔۔۔ میں نے کہا ۔۔۔ بہن چود میرے لیے وہ دو بچوں کی اماں ہی رہ گئ ہے۔۔۔ سلیم بولا پہلی بات مٹھ مارنے سے تو بہتر پھدی ہے بس نبز چلنی چاہیے اور دوسری بات توبس ایک دفع اس کو دیکھ لیے۔۔۔  تیرا لن تجھے سلامی نہ دیے تو مجھے کہنا میں کسی گانڈو کی نسل سے ہوں۔۔۔ میں نے قہقہہ مار کرکہا۔۔۔ ویسے انکل گانڈو لگتے تو نہیں ۔۔۔ سلیم بولا۔۔۔ بیٹا ہما بھی دو بچوں کی ماں نہیں لگتی ۔۔۔ میں تو خود اس کے چکر میں تھا ۔۔۔ لیکن مجھے مل رابعہ گئ۔۔۔ اس لیے ان باتوں کو چھوڑ اور ہو جا شروع۔۔۔ اس کا شوہر بھی تین سال سے نہیں آیا۔۔۔ اس لیے اس کی پھدی میں فل آگ جل رہی ہے۔۔۔ اور دو دن سے رابعہ بھی اس کو سمجھا رہی ہے کہ اس طرح دوستی کرکے سیکس کرنے کا الگ ہی مزا ہے۔۔۔ ہما تقریبا تیار ہے بس اسے کوئی قابل اعتماد بندہ چاہیے اور اس کے لیے ہم تمہارا نام دے چکے ہیں۔۔۔ تم سمجھ لو پھدی تیار ہے ۔۔۔ بس تم نے اپنا لوڑا ڈالنا ہے ۔۔۔ اب یہ نہ ہو کہ تم یہ بھی نہ کر سکو۔۔۔ اور مجھے تمہارا لوڑا پکڑ کر ہما کی پھدی میں ڈالنا پڑے۔۔۔۔ میں ہنس کر بولا ۔۔۔ ویسے خیال برا نہیں۔۔۔۔ سلیم بولا ۔۔۔ باتیں کم ۔۔۔۔ کام زیادہ ۔۔۔۔ یہ نمبر ملا اور شروع ہوجا۔۔۔۔ میں نے اپنا موبائیل سلیم کو دیا ۔۔۔ اس نے ہما کا نمبر ڈائیل کر کے مجھے پکڑا دیا۔۔۔ چار پانچ بیلز کے بعد کسی سوئ سوئ آواز نے فون اٹھایا۔۔۔ میں نے حال پوچھا تو اس نے پوچھا۔۔ آپ کون۔۔۔؟ میں نے اپنا نام بتایا تو بولی۔۔۔ کون شیراز ۔۔۔ ؟ میں تو کسی شیراز کو نہیں جانتی۔۔۔ میں نے کہا اسی لیے تو فون کیا ہے کہ پہچان کروا سکوں۔۔۔۔ ہما بولی ۔۔ مجھے پہچان نہیں کرنی۔۔  میں اس وقت سو رہی ہوں۔۔۔ پلیز مجھے تنگ مت کرئیں ۔۔۔ اور فون بند ہو گیا۔۔ میں نے سلیم کی طرف یکھا۔۔۔ وہ بولا۔۔۔ یار اب تھوڑا بہت نخرہ تو بنتا ہے ۔۔۔ دوبارہ فون کر۔۔۔ میں نے کہا ۔۔۔ ویسے نخرے والی بات تو ٹھیک ہے ۔۔۔ لیکن یہ آواز نخرے والی ہے نہیں تھی۔۔۔۔ سلیم بولا۔۔۔ کیا مطلب۔۔۔؟ میں نے کہا ۔۔۔ یار آواز کوئی اچھی نہیں ہے۔۔۔۔ سلیم نے کہا۔۔۔ تُو آواز کو چھوڑ اور میرے پر اعتماد رکھ اور فون ملا۔۔۔ میں نے دوبارہ فون ملایا ۔۔۔ اس دفع دوسری بیل پر ہی ہیلو کی آواز آئی۔۔۔ میں نے کہا ۔۔۔ بات تو کر لئیں ۔۔ اچھا نہ لگا تو آئیندہ فون نہیں کروں گا۔۔۔۔  ہما بولی ۔۔۔ جی میں بتا رہی ہوں۔۔۔ مجھے اچھا نہیں لگا ۔۔۔ اس لیے آپ برائے مہربانی آئیندہ فون نہ کرئیں۔۔۔ میں نے بھی ڈھیٹائی سے کہا ۔۔۔ ابھی تو بات شروع بھی نہیں ہوئی ۔۔ اتنی جلدی آپ اچھے یا برے کا فیصلہ کسے کر سکتی ہیں ۔۔۔ ہما گہرا سانس لیے کر بولی ۔۔۔ آپ چاہتے کیا ہیں۔۔؟ میں نے کہا ۔۔۔ بس آپ سے دوستی۔۔۔ ہما بولی ۔۔ آپ کو پتہ ہے میں شادی شدہ اور دو بچوں کی ماں ہوں۔۔؟ میں نے کہا ۔۔۔ دوستی کی ضرورت تو سب کو ہوتی ہے۔۔۔ ہما بولی میں انجان لوگوں سے دوستی نہیں کرتی۔۔۔ میں نے کہا بات کرئیں گے تب ہی پہچان ہو گی۔۔۔ ہما بولی ۔۔۔ اس طرح فون پر بات کرنے سے پہچان نہیں ہوتی۔۔۔ میں نے کہا ۔۔۔ تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتا ہوں ۔۔۔ آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرنے سے صحیح جان پہچان ہو جائے گی۔۔ ہما نے کہا ۔۔۔ کچ

Offline Sexystranger

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 121
  • Reputation: +3/-0
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #14 on: June 01, 2020, 03:37:27 pm »

Offline Sexystranger

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 121
  • Reputation: +3/-0
    • View Profile
Re: زندگي کا سفر تھوڑی حقیقت تھوڑا افسانہ
« Reply #15 on: June 01, 2020, 03:41:23 pm »
۔۔۔ آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرنے سے صحیح جان پہچان ہو جائے گی۔۔ ہما نے کہا ۔۔۔ کچھ زیادہ ہی سپیڈ نہیں دیکھا رہے۔۔۔ بات شروع نہیں ہوئی اور ملاقات پر بھی پہنچ گئے ہو۔۔۔ میں نے کہا ۔۔۔ بس میں آپ سے دوستی میں دیر نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ ہما بولی ۔۔۔ اچھا میں سوچ کر بتاوں گی ۔۔۔ ابھی مجھے کچھ کام ہے ۔۔۔ اب دوبارہ کال مت کرنا ۔۔۔ میں نے اوکے کہہ کر فون بند کر دیا۔۔۔ سلیم جو ساری باتیں سن رہا تھا۔۔ میرے فون کے بند ہوتے ہی اس نے رابعہ کو فون ملایا اور ساری بات بتای۔۔۔ رابعہ بولی اچھا میں ہما سے بات کر کے ملاقات کا بندوبست کرتی ہوں ۔۔۔ میری کال کا انتظار کرو۔۔ اور فون بند کر دیا۔۔۔ سلیم نے مجھے دیکھا اور بولا۔۔۔ لیے بھائیی۔۔ لگتا ہے کام بن جائے گا ۔۔۔ تو بس اب روز رات کو اپنے گھر سے نکلنے کا جُگاڑ سوچ ۔۔۔ میں نے پوچھا ۔۔ کتنے بجے آنا جانا ہوتا ہے۔۔۔ ؟ سلیم بولا ۔۔۔ رات بارہ سے دوبجے کا ذھن میں رکھ۔ ۔۔۔ میں نے کہا ۔۔ اس وقت کا مسلہ تو کوئی نہیں ۔۔۔ اس وقت تو سب گھر والے سو رہے ہوتے ہیں ۔۔۔ بس باہر کے دروازے کی ایک چابی بنوانی پڑے گی۔۔۔ سلیم بولا ۔۔ چل پھر وہ ابھی بنوا لئیں۔۔۔ میں نے کہا۔۔۔ بھائی ذرا صبر کر لے ۔۔۔ ابھی کونسا بلاوا آ گیا ہے۔۔ سلیم بولا۔۔۔ تین دن سے صبر ہی کر رہا ہوں ۔۔۔ آج بلاوا آئے نہ آئے ۔۔۔ میں نے جانا ہی جانا ہے ۔۔۔ مجھے رابعہ کی پھدی پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ رابعہ کو چین سے نہیں بیٹھنے دیے گی۔۔۔ اور رابعہ آج ہما کو ملاقات پر راضی کر لے گی۔۔۔ ہمیں اپنی تیاری مکمل رکھنی چاہیے۔۔۔ میں نے کہا ۔۔۔ بات تو ٹھیک ہے۔۔۔ چل پھر بنوا لیتے ہیں چابی۔۔۔  ہم دونوں میرے گھر آئے۔۔۔ باہر والے چھوٹے دروازے کی چابی پکڑی اور جا کر ڈوبلیکیٹ چابی بنوا لائے۔۔۔ سلیم کو اس کے گھر اتار کر میں گھر آیا۔۔۔ چابی کو چیک کیا صحیح کام کر رہی تھی ۔۔۔ تسلی کر کے میں نے پرانی چابی لاک میں لگائی ۔۔۔ اور نیو اپنی جیب میں رکھ لی۔۔۔ شام کو سلیم کا فون آ یا ۔۔۔ میں نے پوچھا کیا خبر ہے؟ سلیم بولا سب اچھے کی ریپورٹ ہے ۔۔۔ تیاری پکڑ لے ۔۔۔ رات کو جانا ہے۔۔۔ میں نے حیرت سے پوچھا ہما مان گئی ہے۔۔؟ سلیم بولا۔۔۔ تجھے کہا تو تھا ۔۔۔ رابعہ اسے منا کر چھوڑے گی۔۔ ملاقات تو طے ہے۔۔۔ باقی تیری ہمت ہے۔۔۔ کتنی جلدی تُو ہما کی ٹانگیں اٹھاتا ہے۔۔ وہ آج تیرے لوڑے سے خوش ہو گئی۔۔ تو آگے بس موجیں ہی موجیں ہیں۔۔۔ میں نے کہا ۔۔۔ بس استاد وہ تو میرے پر چھوڑ دے ۔۔۔ آج اس کو اپنے لوڑے کا فین کر کے ہی آونگا۔۔۔ سلیم خوش ہو کر بولا۔۔۔ یہ ہوئی نا بات ۔۔۔ شیر لگا ہے۔۔۔ پھر جلدی سے بولا۔۔۔ چل پھرمیں زرا چوویں صاف کر لوں ۔۔۔ رابعہ کو صاف ستھرا لوڑا پسند ہے۔۔۔ صاف ہوگا تو جم کے چوپے لگائے گی۔۔۔ میں نے ہنس کر کہا ۔۔۔ دیہان سے ۔۔۔ زیادہ صفائی کرتے لوڑا ہی زخمی نہ کر لینا۔۔۔ سلیم جل کر بولا ۔۔۔ بہن چود شکل اچھی نہ ہو تو بات اچھی کر لینی چاہیے۔۔۔ میں نے کہا میری شکل تو اچھی ہے ہی ۔۔۔ باتیں اُس سے بھی اچھی ہوتی ہیں۔۔ اور ہاں لوڑے کے ساتھ گانڈ کے بال بھی صاف کرلینا۔۔ وہ کیا ہے کہ مجھے گانڈ صاف پسند ہے۔۔۔ کیا پتہ رات مجھے تیری مارنی پڑ جائے۔۔۔ یہ سن کر سلیم نے میری ماں بہن شروع کر دی۔۔۔ اور میرا ہنس ہنس کر برا حال ہوگیا۔۔۔ سلیم بولا۔۔۔ اوکے پھر رات بارہ بجے میرے گھر کے باہر آ کر فون کرنا میں دروازہ کھول دونگا۔۔۔ میں نے بھی اوکے کہہ کر فون بند کر دیا۔۔۔ اب مجھے دنیا کا مشکل ترین کام کرنا تھا ۔۔ اور وہ تھا انتظاررات بارہ بجنے کا ۔۔۔۔  رات پونے بارہ میں لاونج میں آیا تو پورا گھر سنسان پڑا تھا ۔۔۔ میں بغیر آواز کئے باہر آیا۔۔۔ باہر والا دروازہ لاک تھا ۔۔۔ اور چابی غائب میں نے اپنی چابی سے لاک کھولا اور باہر نکل کے دروازہ لاک کر کے سلیم کے گھر کی طرف چل پڑا ۔۔۔ پانچ منٹ میں میں سلیم کے گھر کے باہر کھڑا اسے کال کر رہا تھا۔۔۔ اس نے کال کاٹ دی اور دو منٹ میں دروازہ کھول دیا۔۔۔ ہم دونوں سلیم کے لان والے دروازے سے رابعہ کے گھر داخل ہوے۔۔۔ اس دوران سلیم رابعہ کو اپنے آنے کا میسج کر چکا تھا اس لیے رابعہ اپنے لاونج کے دروازے پر کھڑی ہمارا انتظار کر رہی تھی۔۔۔ میں رابعہ کو ایک سال بعد دیکھ رہا تھا ۔۔۔ وہ آج  پہلے سے کم سیکسی لگ رہی تھی ۔۔ یا شائید اب میں سعدیہ کو دیکھ چکا تھا اس لیے مجھے پہلے سے کم سیکسی لگ رہی تھی۔۔۔ رابعہ ہے پیاری تھی ۔۔۔ اس کا رنگ گورا تھا ۔۔ قد درمیانہ تھا ۔۔ جسم کافی پتلا تھا ۔۔ ممے بتیس سائیز کے ہوں گے۔۔۔ گانڈ بھی زیادہ موٹی نہیں تھی۔۔۔ اس نے ہلکے سبز رنگ کی ٹی شرٹ اور سفید پاجامہ پہنا ہوا تھا۔۔۔ ہم قریب پہنچے تو اس نے مسکرا کر سلام کیا ۔۔ اور سلیم کی طرف ہاتھ ملانے کے لیے ہاتھ بڑھایا ۔۔۔ سلیم نے اسے پکڑا اور گلے لگا لیا اور بولا مس یو سو مچھ ۔۔۔ رابعہ ہنس کر بولی ۔۔۔ مس یو ٹو اور ہمیں اندر لاونج میں لے آئی جدھر ہلکی آواز میں ٹی وی چل رہا تھا۔۔۔ اور صوفے پر کوئی بیٹھا ٹی وئ دیکھ رہا تھا۔۔۔ اس کی بیک ہماری طرف تھی۔۔۔ رابعہ اس کے قریب جا کر تعارف کرواتے بولی۔۔۔ ہما! یہ میرا دوست ہے سلیم ۔۔۔ اور یہ اس کا دوست شیراز۔۔۔ ہما نے ہماری طرف دیکھا اور ہلکا سا مسکرا کر کھڑی ہو گئ۔۔۔ سلیم کو سلام کر کے مجھے بغور دیکھنے لگئ۔۔ میں نے مسکرا کر ہاتھ بڑھا دیا اور بولا۔۔۔ جان پہچان کروانے کا موقع دینے کا شکریہ۔۔ امید ہے آپ مایوس نہیں ہو گی۔۔۔ ہما نے ہاتھ ملایا اور بولی لیٹس سی۔۔ آو بیٹھو۔۔ میں ہما کے ساتھ والے سنگل صوفے پر بیٹھ گیا اور سلیم اور رابعہ ٹو سیٹر پر جڑ کر بیٹھ گئے۔۔ ہما کا جسم تھوڑا بھرا بھرا سا تھا پیٹ تھوڑا نکلا تھا۔۔۔ لیکن جسم چوڑا ہونے کی وجہ سے باہر نکلا محسوس نہیں ہوتا تھا۔۔۔ ممے چالیس سائیز کے تھے ۔۔ گانڈ بھی بھاری تھی ۔۔۔ وہ رابعہ سے زیادہ سیکسی جسم کی مالک تھی۔۔۔ اس نے فٹنگ والی شلوار قمیض پہنی تھی ۔۔۔ ہلکا سا میک اپ اور اچھی خوشبو لگائی ہوئی تھی۔۔۔ سلیم کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ ادھر ہی شروع ہو جائے ۔۔۔ مسلسل رابعہ کے جسم پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔۔ رابعہ بولی ۔۔۔ میں کوئی جوس وغیرہ لیے آوں اور کچن کی طرف چلی گئ ۔۔ سلیم بولا میں تمہاری مدد کرتا ہوں۔۔۔ اور مجھے ہما کی طرف بڑھنے کا اشارہ کر کے رابعہ کے پیچھے چلا گیا۔۔۔ ہما اس دوران سب کو نظر انداز کئے ٹی وی دیکھ رہی تھی۔۔۔
میں نے اسے متوجہ کیا اور بولا۔۔۔ ٹی وی سے زیادہ دلچسپ بندہ آپ کے پاس بیٹھا ہے اور آپ لفٹ ہی نہیں کروا رہی۔۔۔ ہما بولی ۔۔۔ گھر بلا لیا ہے ۔۔۔ پاس بیٹھی ہوں ۔۔۔ اور کتنی لفٹ چاہیے۔۔۔؟ دلچسپی پیدا کرو۔۔ میں تمہیں دیکھ لونگی۔۔۔ میں نے اس کا نرم سا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے سہلا کر کہا ۔۔۔ تم میری سوچ سے بڑھ کر پیاری ہو۔۔۔ تمہاری دوستی پر تو میں ناز کرونگا۔۔۔ ہما بولی ابھی دوستی ہو تو لیے ابھی تو جان پہچان ہوئی ہے۔۔۔۔ میں نے کہا۔۔۔ جان پہچان ہو گئ ہے دوستی بھی ہو جائے گی۔۔۔۔ پھر میں نے اس سے اس کی پسندیدہ مویز وغیرہ کا پوچھا اور باتوں سے باتیں نکالتا گیا۔۔۔۔ اس دوران رابعہ اور سلیم کچن سے واپس آئیے ۔۔۔ رابعہ نے مجھے جوس دیا ۔۔۔ میں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔۔۔اس کی لپ سٹک اتر چکی تھی اور آنکہوں میں موجود لال ڈورے کچن میں ہوئی واردات کی کہانی سنا رہے تھے۔۔۔ میں نے سلیم کی طرف مسکرا کر دیکھا تو اس نے ہنس کر آنکھ ماری اور مجھے ہما کی طرف متوجہ کیا۔۔۔ رابعہ نے ہما کو بھی جوس دیا اور بولی ہم اندر کمرے میں بیٹھے ہیں ۔۔۔ اگر کوئی کام ہوا تو بلا لینا۔۔۔ ہما نے سر ھلا کر اچھا کیا اور رابعہ سلیم کو لیکر کمرے میں چلی گئ۔۔۔ سلیم کو جآتے دیکھ میرے لوڑے نے دہائی دی کہ استاد کچھ میرا بھی خیال کر اور پیش رفت کر لے۔۔۔ میں نے لوڑے کو تسلی دی اور ہما کی طرف دیکھا جو ابھی بھی ٹی وی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ میں صوفے سے اٹھا اور اس کے پاس جاکر پنجوں کے بل فرش پربیٹھ گیا۔۔۔ پیار سے اسے تھوڑی سے پکڑا اور اس کا چہرہ اپنی طرف موڑا اور بولا ۔۔۔۔ تمہارے لیے بہت دلچسپ چیز ہے میرے پاس۔۔۔ ہما نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالئیں اور بولی وہ کیا۔۔۔ میں نے کہا یہ اور ساتھ ہی اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں کے ساتھ جوڑ دئے اور اس کے ہونٹوں کو چوسنا شروع کر دیا۔۔۔ ساتھ ہی اس کے بڑے بڑے ممے دبانا شروع کر دئے۔۔۔ ہما نے تھوڑی سی مزاحمت دیکھائی لیکن جب میں ساتھ جڑا رہا تو اس نے ساتھ دینا شروع کر دیا۔۔۔ اس نے میرے ہونٹ چوسنے شروع کر دئیے اور میرے بالوں میں انگلیاں پھیرنی شروع کر دئیں۔۔۔ میں اس کے بھاری وجود کو بازوں میں لیتے ہوئے۔۔ صوفے پراس کے اوپر ہی لیٹ گیا۔۔۔۔ اس کے گال اور چہرہ چومنے لگا۔۔۔ اور وہ بھی میرا بھرپور ساتھ دینے لگی۔۔۔ میں اس کا اوپروالا ہونٹ چوستا تو وہ میرا نچلا ہونٹ چوسنے لگ جاتی۔۔۔ اور جب میں اس کے نچلے ہونٹ پہ پہنچتا تو وہ میرا اوپر والا ہونٹ چوسنے لگتی۔۔۔ ہماری سانسیں پھول چکی تھی ۔۔۔ اور ہم ایک دوسرے سے لپٹے ہوئیے تھے ۔۔۔۔ میرا لن اس کی رانوں کے درمیان اس کی پھدی سے رگڑ کھا رہا تھا۔۔۔ میں نے اسکی قمیض اتارنی چاہی تو ہما نے بازو اٹھا دئیے تاکہ میں آرام سے اتار سکوں۔۔۔ قمیض اتاری تو اسکے گورے گورے ممے کالے برا میں غضب ڈھا رہے تھے۔۔۔  میں نے ان کو دونوں ہاتھوں سے دبایا اوراس کی کیلویج کو چاٹنا شروع کر دیا۔۔۔۔ میں نے ہاتھ اس کی کمر پہ پھیرتے ہوئے اس کی برا کے ہک کھول دئیے ۔۔۔۔ اور اس کی برا کھینچ کر ایک طرف پھینک دی۔۔۔ ہما اب بڑھ چڑھ کر میرا ساتھ دے رہی تھی اور مجھے چومے جا رہی تھی۔۔۔ اس کے گورے مموں پر براون نیپلزاکڑے کھڑے تھے ۔۔۔ میں نے ان کو چوسنا شروع کردیا۔۔۔ ہما کے منہ سے سسکیاں نکل رہی تھی۔۔۔۔ مجھ سے بھی اب صبر مشکل ہو رہا تھا ۔۔۔ میں نے اس کے ننگے ممے مسلتے ہوئے ۔۔ اس کےہونٹ چوستے ہوئے۔۔ اپنے کپڑے اتارنے شروع کر دئیے۔۔۔ انڈروئیر کے علاوہ سب اتار کر میں نے ہما کی شلوار پر ہاتھ ڈالا اور اسے اتارتے پوچھا۔۔۔ کسی بیڈ روم میں چلیں۔۔۔؟ ہما بولی ۔۔۔ دو ہی بیڈ رومز ہیں ایک میں رابعہ وغیرہ ہیں۔۔۔ اور دوسرے میں بچے سو رہے ہیں۔۔۔ میں نے اس کی شلوار اتار دی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھنے کا کہا۔۔۔ وہ کھڑی ہوئی تو میں اسے لیکر بڑے صوفے پر آگیا ۔۔۔۔ اور ادھر لیٹا دیا۔۔۔ ہما بلکل ننگی میرے سامنے لیٹی تھی۔۔۔ میں نے اس کی ابھرے ہوئے ہونٹوں والی پھدی کو دیکھا تو اس کے موٹے گلابی ہونٹوں پہ ہلکی ہلکی نمی تھی۔۔۔ یہ نظارہ بہت ہی دلکش تھا ۔۔۔ اسے دیکھتے ہی میرا لن جھٹکے کھانے لگا ۔۔۔۔ میں نے منہ آگے بڑھایا اور اس کی ناف کے گڑہے میں زبان ڈالتے ہوئے گول گول گہما کر چاٹنے لگا ۔۔۔  اپنے بازو اس کی گانڈ کے گرد کس لیے۔۔ ہما کے منہ سے ایک سسکی نکلی ۔۔۔ میں نے اس کی گانڈ پہ ہلکا سا تھپڑ مارا اور زبان اس کی ناف سے پیٹ پہ پھیرتا ہوا اس کی پھدی سے زرا اوپر لایا ۔۔۔ تو اس کے جسم نے ایک زبردست جھرجھری لی ۔۔۔اس نے کمر اٹھا کر اپنی ناف کو میری زبان کے سامنے کردیا تو میں نے ساتھ میں اس کے مموں کو مسلنا شروع کر دیا۔۔۔ وہ سسکنے لگی۔۔۔ میں نے آگے بڑھ کر اس کا نپل منہ میں لیکر چوسا تو نیچے میرا لوڑا اس کی پھدی کا مساج کرنے لگا۔۔۔ میں نے اس پر لیٹے لیٹے اپنا انڈرویر بھی اتار دیا۔۔۔ اب میرا لن اس کی گیلی پھدی کے ہونٹوں میں رگڑ لگاتا ۔۔۔ تو ہما آنکہوں کو بند کرتے ھوے مزہ میں اپنا سر ادھر ادھر کرتی۔۔۔ میں اسے رگڑ لگآتے ہوے اس کی گردن کو چوسنا اور چاٹنا شروع کیا ۔۔۔۔ ہما نے زور سے سسکیاں لینی شروع کر دئیں ۔۔۔ میرا لن نیچے اس کی پھدی کے ہونٹوں کے درمیان رگڑ کھا رہا تھا ۔۔۔۔ جس کی نمی اور گرمی مجھے لن پہ محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔ اور اب ہما بھی نیچے سے ہل رہی تھی۔۔۔  لن رگڑتے اچانک مجھے محسوس ہوا۔۔۔ کہ میرے لن کی ٹوپی ایک نرم گرم سے سوراخ پہ ہے۔۔۔ یہ محسوس کرتے ہی ۔۔۔ میں نے ہما کے ہونٹوں کو زرا زور سے اپنے ہونٹوں میں بھرتے ہوئے لن کی ٹوپی کو اس سوراخ پہ دبا دیا ۔۔۔ لن سلپ ہوتا ہوا آدھے سے زیادہ اس کی پھدی میں اتر گیا۔۔۔ ہما کے جسم کو ایک جھٹکا لگا ۔۔۔ اور اس کے منہ سے اوئی نکلا جو میرے ہونٹوں میں ہی دب گیا۔۔۔ میں نے لن کو اور زور سے دھکیلا تو پورا لن ایک گیلی نرم اور گرم وادی میں دھنستا محسوس ہوا ۔۔۔ میں نے اس کے ہونٹ چھوڑے تو ہما نے افففف کرتے ہوئیے مجھے ایک بازو پہ ہلکا سا مکا مارا۔۔۔ میں نے اس کی طرف دیکھا تو اس کے چہرے پہ ہلکے سے درد کے تاثرات تھے ۔۔۔ وہ مصنوعى غصے سے بولی۔۔ آرام سے نہیں گھسا سکتے تھے۔۔ میں نے اس کی طرف دیکھا اور مسکرا کر کہا۔۔۔ سوری کنٹرول نہیں ہوا۔۔۔ ساتھ میں نے لن کو تھوڑا پیچھے کھینچا اور پھر اندر دھکیلا تو اس کے چہرے پہ درد اورمزے کے تاثرات مکس ہوئیے ۔۔۔ اس نے مجھے کمر پہ ہلکا سا تھپڑ مارا اور بولی ۔۔۔ پہلی ملاقات میں اس حد تک جانے کا تو میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔ مجھے تھا بس باتیں کرئیں گے۔۔۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ تم میرے اوپر ہی چڑھ جاؤ گے ۔۔۔ میں نے ہما کی آنکھوں میں دیکھا ۔۔۔ اس کے گورے بدن پہ نظر ڈالی اور کہا۔۔ تم اتنی پیاری اور سیکسی ہو کہ کوئی پاگل ہی ہوگا جو ایسا چانس مس کرے گا ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اس کے  ہونٹ چوسنے اور جھٹکے لگانے شروع کر دئیے۔۔۔۔ ہما نے ہلکی ہلکی سسکی بھرنا شروع کر دیں ۔۔۔  اس کے ہاتھ میری کمر کو سہلانے لگ گے۔۔۔ اس نے اپنی ٹانگیں اوپر اٹھا لیں جس سے میرا لن بہت اندر تک جانے لگا ۔۔۔ اورجب میری رانیں اس کی گوری موٹی رانوں سے ٹکراتیں ۔۔۔ تو تھپ تھپ کی سریلی آواز گونجتی ۔۔۔ ہما گانڈ اٹھا اٹھا کر میرے جھٹکوں کا جواب دینے لگی ۔۔۔ میرا اکڑا ہوا لن اس کی گیلی پھدی کی دیواروں میں زور زور سے اتر رہا تھا ۔۔۔ اور کمرہ ہم دونوں کی تیزسانسوں، سسکیوں اور گھسوں کی آواز سے گونج رہا تھا۔۔۔۔ آخر وہ لمحہ آیا کہ مجھے لگا میرے سارے جسم کا خوب میری ٹانگون کے درمیان جمع ہو چکا ہے ۔۔۔ اور اس احساس کے ساتھ ہی ہما نے مجھے اپنے ساتھ کس کر بھینچا ۔۔۔ اور لن کے ارد گرد مجھے پانی کے فوارے محسوس ہوئیے ۔۔۔۔ وہ پانی محسوس کرتے ہی میرے لن کو گدگدی سی ہوئی ۔۔۔ اور میرے لن سے بھی بے اختیار پچکاریاں نکلتی ہوئی اس کی پھدی میں گرنے لگیں۔۔۔ یہ احساس بہت انوکھا بہت نرالہ تھا ۔۔۔ میں فارغ ہوتے ہی ہما کے اوپر گرتا گیا ۔۔۔ اس نے بھی مجھے اپنے اوپر دبوچ لیا اور بولی ۔۔۔۔ آج تو تم نے میری تین سال کی پیاس بجھا دئی ۔۔۔ ترس گئ تھی میں سیکس کرنے کے لیے۔۔۔ میں نے کہا ۔۔۔ مجھے خوشی ہے کہ میں آپکے معیار پر پورا اترا، ہما ہنس کر بولی ۔۔۔ ویسے تمہاری عمر دیکھ کر مجھے امید نہیں تھی کہ تم اتنا اچھا پرفارم کر سکو گے۔۔۔ تم تو کافی تجربے کار لگ رہے ہو۔۔۔ میں نے آنکھ مارکر کہا ۔۔۔ بس آپ جیسی دوستوں سے سیکھ رہا ہوں۔۔۔ ہم ایسے ہی ننگے لیٹے باتیں کر رہے تھے ۔۔۔ جب اچانک دروازہ کھلا اور رابعہ نے سر باہر نکالا اور پھر جلدی سے واپس اندر کر کے بولی ۔۔۔ آپ دونوں فری ہیں تو ہم باہر آ جائیں ۔۔۔؟ ہما بولی ۔۔۔ دو منٹ روکو بتاتی ہوں۔۔ اور جلدی سے اٹھ کر کپڑے پہننے لگی ۔۔ میں نے کہا ۔۔۔ اتنی جلدی کیا ہے تھوڑا صبر کر لو۔۔ سلیم کی آواز آئی ۔۔۔ اوے ٹائم دیکھا ہے تو نے۔۔۔؟ دو بج رہے ہیں ۔۔۔ جلدی کر کیوں مروانا ہے ۔۔۔ یہ سن کر تو میرے بھی رنگ اڑ گئے ۔۔۔ مجھے اندازہ ہی نہیں تھا اتنا ٹائم ہو گیا ہے ۔۔۔ میں بھی جلدی جلدی تیار ہونے لگ گیا۔۔۔ کپڑے پہن کر ہما نے  آواز لگائ آ جاو۔۔۔ سلیم اور رابعہ باہر آئیے تو رابعہ شرارت سے مسکرآتے ہوے ہما کے گلے لگ کر بولی ۔۔۔۔ ہما کیا ہوا بڑی فریش لگ رہی ہو۔۔۔؟ ہما نے کہا ۔۔۔ شیراز باتیں ہی بہت اچھی کرتا ہے۔۔۔ سلیم بولا ۔۔۔ ہاں جی آوازئیں اندر کمرے تک آ رہی تھیں ۔۔۔ باتوں کی ۔۔۔ رابعہ نے گھور کے سلیم کو دیکھا تو جلدی سے مجھے بولا ۔۔۔ تم کیا کھڑے ہو چلنا نہیں ہے کیا۔۔۔؟ میں نے کہا ۔۔۔ ہاں چلو چلئیں ۔۔۔ ہم دونوں نے جلدی سے ہما اور رابعہ سے ہاتھ ملائے اور جس راستے سے آئیے تھے ۔۔۔ اسی سے واپس نکل گئے۔۔۔ میں گھر آیا تو ہر طرف سکون ہی تھا ۔۔۔ میں جلدی سے اپنے کمرے میں گھس گیا۔۔۔ کپڑے بدلے اور بیڈ پر لیٹا ہی تھا کہ ہما کا میسج آ گیا ۔۔۔ جس میں وہ مجھ سے گھرخیریت سے پہنچنے کا پوچھ رہی تھی ۔۔۔ میں نے کہا ہاں پہنچ بھی گیا اور تمہیں مس بھی کر رہا ہوں۔۔۔۔ اسکا جواب آیا ۔۔۔ میں بھی مس کر رہی ہوں۔۔۔ ساتھ لکھا تھا پتہ نہیں کل رات تک کا وقت کس طرح کٹے گا ۔۔۔ کدھر میں تمہاری دوستی سے بھاگ رہی تھی ۔۔۔ اور اب مسلسل تمہیں یاد کر رہی ہوں۔۔۔ میں نے کہا ۔۔۔ حالت میری بھی بری ہے ۔۔۔ ابھی تک مجھے اپنے جسم سے تمہاری خوشبو آ رہی ہے۔۔ اسی طرح کی باتیں کرکے اگلے دن ملنے کا کہہ کر ہم نے ایک دوسرے کو بائے کہا اور سو گئے۔۔۔اگلے کئی دن ۔۔۔ بلکہ مہینے میری، سلیم، رابعہ اور ہما کی یہی روٹین رہی۔۔۔ روز رات کو ہم ہما کے گھر جآتے ۔۔۔ دونوں کو چودتے اور واپس آ جآتے۔۔۔ یہاں تک کے ندیم نے رابعہ کو دبئ بلا لیا ۔۔۔ اور ہما کا شوہر بھی واپس آ گیا۔۔۔ میرا اور سلیم کا داخلہ دوسرے شہر ہو گیا۔۔۔ یونیورسٹی لائف میں بھی ہماری زندگی میں کافی لڑکیاں آتی جاتی رہی۔۔۔ اس دوران ہی سلیم کو صدف سے محبت ہوگئ۔۔۔ جبکہ میں آزاد پنچھی ہی رہا۔۔ میرا دل ایک دو مہینے میں بھر جاتا ۔۔۔ اور میں آگے نکل جاتا کئ لڑکیوں کی بددعائیں لیتے زندگی کا سفر تیزی سے گزرتا رہا۔۔ پڑھائ ختم ہوی میں اور سلیم اپنے اپنے والد کے ساتھ انکے کام میں لگ گئے۔۔ سلیم کی شادی کی بات چلی تو اس نے گھر صدف کا بتایا۔۔ سلیم کی محبت اور شادی کی الگ ہی ایک داستان ہے۔۔ بہت مشکلوں سے اس کی شادی صدف سے ہو ہی گئ ۔۔۔ سلیم اور صدف کی شادی پر میں نے انکو دبئ ہنی مون کا پیکج گفٹ کیا۔۔ دونوں کی شادی کروانے کے لیے ہونے والے پنگوں کے دوران میں نے دونوں کا بہت ساتھ دیا ۔۔۔ جسکی وجہ سے دو کام ہوے۔۔ ایک اچھا یہ کہ صدف بھابی جو کے میری روز روز کی نیو گرل فرینڈز سے بہت تنگ تھی۔۔۔ اور سلیم کو میری بری صحبت سے بچانا چاہتی تھی۔۔۔ وہ بھی میری فین ہو گئ۔۔۔ اور دوسرا برا کام یہ ہوا کہ میری امی کو میری فکر لگ گئ ۔۔۔ کہ کل کو میں بھی کسی لڑکی کے عشق میں انکو ذلیل ہی نا کرا دوں۔۔۔۔ سو انہوں نے مجھے بٹھا کر اچھی طرح تسلی کی کہ مجھے کوئی پسند ہے یا نہیں ۔۔۔ میرا انکار سن کر انہوں نے شکر کا کلمہ پڑھا ۔۔ اور زور و شور سے میرے لیے لڑکی ڈھونڈنی شروع کر دی ۔۔۔ جس پر میں نے سلیم کو بہت گالیاں دیئں کہ نا وہ اس طرح کے ڈرامے لگاتا اور نا میرے گھر والے میری شادی کی جلدی ڈالتے۔۔۔ سلیم کی شادی کے تین چار مہینے بعد میری منگنی نرمین سے ہو گئ ۔۔۔ اور آٹھ مہینے بغیر کسی ملاقات والی مگنی کے بعد میری شادی ہو گئ۔۔۔ تو جناب سب کي طرح  تصوراتي چوتوں کے مزیے لیتے لیتے ۔۔۔ اصلی ليکن حرام کي چوتوں سے ھوتے ھوے ۔۔۔۔ ہم پہنچے اپني اصل لیکن حلال چوت پر ۔۔۔ يعنی ہو گئی ہماری شادي ۔۔۔ [/font]

 

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.