Author Topic: میری خواہشات کچھ ادھوری کچھ مکمل )in**st)  (Read 43120 times)

Offline RanaSami007

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 15
  • Reputation: +0/-0
    • View Profile

اسلام علیکم

Yum Stories
کے تمام ممبرز اور انتظامیہ کو میرا سلام کہ انہوں نے اردو کی سٹوریز اور اپنی آپ بیتی کے لئیے اتنا اچھا پلیٹ فارم مہیا کیا ہوا ہے بہت دیر سے میں خاموش قاری ہوں اس ویب سائٹ کا اور ایک دو اور تھی وہ تو شائد اب ملتی نہیں ہے بند ہو گئی ہیں شاید
ایک بات میں کہنا چاہوں گا کہ میری کہانی میں کوئی زیادہ مرچ مصالحہ نہیں ہے اتنا زیادہ کہ پڑھ کے ہنسی آئے یا فیک لگے میری سٹوری بلکل سچائی پر مبنی ہے پر ہو سکتا ہے کہ قائرین کرام کے رائے پر اور انکے جذبات کو دیکھتے ہوئے کچھ ایکسٹرا شامل کر لیں مطلب جن سے بس ہماری چھیڑ چھاڑ ہوئی ہے انکو بھی بیڈ تک لے آئیں تاکہ کہانی کا مزہ خراب رہے نہ ہو
یہ سٹوری گھریلو in**st سے شروع ہوکر گھومے گی مختلف کرداروں کے گرد میں کوئی رائٹر نہیں ہوں اور نا ہی کبھی پہلے کوئی سٹوری لکھی ہے ہاں پڑھی بہت زیادہ ہیں اس لئیے میری چھوٹی موٹی املا کی اور سٹوری میں موجود غلطیوں کو اگنور کر دئجئے گا بلکہ ہو سکے تو نشاندہی کر دیں تاکہ میری تصحیح ہو سکے

کہانی سے پہلے کچھ مختصر سا تعارف تاکہ سٹوری کو پڑھتے ہوئے آپکو اندازہ ہو کہ کریکٹر دکھنے میں کیسا ہے میرا نام رانا سمیع ہے لیکن سٹوری میں سالار سکندر کا نام استمعال ہوگا میں لاہور کے ساتھ واقعہ ضلع شیخوپورہ کا رہائشی ہوں ابھی میری عمر کوئی 30 سال ہے لیکن جب سے واقعات شروع ہوئے ہیں تب میں 8 یا 9 کا سٹوڈینٹ تھا عمر کوئی 14 یا 15 سال ہوگی رنگ صاف ہے اور قد 5 فٹ 9 انچ ہے جسم دبلا پتلا نا ہے بلکہ نارمل ہے نا زیادہ موٹا نا سمارٹ بلکہ آپ اسے ایک اچھی صحت والا بندہ کہ سکتے ہیں میں گریجوئیشن کی ہے اور اب شادی کے بعد جاب کرتا ہوں تو کہانی شروع کرتے ہیں تاکہ آپ لوگ مزید بوریت سے بچیں
کہانی ان دنوں کی ہے جب میں 7 یا 8 کلاس میں پڑھتا تھا میں شروع سے ہی گورنمنٹ سکول میں پڑھا تھا حالانکہ میں چاہتا تھا کے دوسرے بہت سے بچوں کی طرح پرائیویٹ سکول میں استانیوں سے پڑھوں اچھے یونیفارم پہنوں پر گھر کے حالات ایسے نہیں تھے کہ میں اپنی خواہش پوری کرتا یوں مس سے پڑھنے کے خواب ادھورےہی رہے اور میں نے اپنی پڑھائی گورنمنٹ سکول میں جاری رکھی پڑھائی میں بہت اچھا تھا اور ہمیشہ آگے بیٹھتا تھا اس لئئے میرے جو 3 سے 4 دوست تھے وہ بھی اچھے اور پڑھنے والے تھے آوارہ لڑکوں سے دور ہی رہتے تھے ہم لوگ لیکن جب فری پیریڈ ہوتا تھا تو ہمارا ایک دوست ہمیں اپنی باتیں سناتا تھا کہ کل پھر اسنے اپنے ساتھ والوں کے گھر کی چھت پر ایک خوبصورت لڑکی دیکھی جو شائد مہمان تھی پر اب تو وہ کافی دنوں سے دیکھ رہا تھا اسکے خیال میں وہ نانی کے گھر آئی ہوگی ایسے ہی ہم باتیں کرتے اور پھر چھٹی ٹائم ہم اپنے اپنے گھروں کو ہو لیتے لیکن گھر آکر بھی میرے مائنڈ سے اسکی باتیں نا نکلتی میں سوچتا کہ جیسے اسکی کوئی سہلیی ہے میری بھی ہونی چایئے میری بھی دوست ہو میں بھی اس سے باتیں کروں لیکن فلحال کچھ سمجھ نا آتی کہ ایسی دوست کہاں سے بناوں ان دونوں ہم سب دوستوں کا یہی حال تھا کہ سب کی دوست ہونی چائیے شاید سب کو لگتا تھا کہ اس عمر میں اب ہم بڑے ہو رہے ہیں تو پیار محبت کرنا ہم سب کا حق ہے اس لئیے ہمیں کرنا چائیے کسی لڑکی سے پیار محبت اسکو دوست بنا کے رکھنا چائیے تبھی میرا دھیان ساتھ والوں کے گھر گیا کہ انکی بھی تو بیٹی ہے بلکہ دو دو بیٹیاں ہیں ایک کا نام ندا تھا اور ایک کا نام حنا تھا ندا بڑی تھی سمارٹ سی جبکہ حنا چھوٹی تھی بھرے سے جسم والی پیاری لگتی تھی گول مٹول تب میرا زہن اسی پر اٹک گیا کہ میں اسکو دوست بناوں گا میں نے دن رات اسے دیکھنا شروع کر دیا جب اسنے سکول جانا تو اسکے پیچھے پیچھے جانا یا اسنے ٹیوشن جانا تو واپسی پر راستے میں اسے دیکھنا غرض ان دنوں موبایل وغیرہ نہیں تھے ایسےہی کسی کو احساس دلایا جاتا تھا کہ میں تم میں انٹرسٹڈ ہوں گوکہ وہ ہمارے گھر آتی جاتی تھی ہم اکٹھے کھیلتے بھی تھے پر میں کوئی بات بھی نہیں کرنا چاہتا تھا ڈائریکٹ کیونکہ میں شروع سے ہی اس معاملے میں زرا ڈرپوک واقعہ ہوا تھا خیر یہ سلسلہ کافی دن یونہی چلتا رہا اب اسنے نوٹ کرنا شروع کر دیا کہ سالار مجھے اکثر دیکھتا ہے یا میرے پیچھے پیچھے آتا ہے تب ایک بار میں نے اسے بسکٹ بھی لیکر دئیے تھے جو اسنے رکھ لئیے تھے اب میں اگلا لائحہ عمل سوچ رہا تھا کہ اسکو کیسے بتایا جائے کہ مجھے اس سے دوستی کرنی ہے مجھے پسند آ گئی ہو آپ بس اسی کشمکش میں زہن پھنسا ہوا تھا کہ ایک دن میں چھت پر بیٹھا سکول کا کام کر رہا تھا حنا چھت پر کھیل رہی تھی بچوں ساتھ اتنے میں اسکا کزن آ گیا اور وہ دونوں باتیں کرنے لگے پھرکھیلنے لگے ایک دوسرے ساتھ حنا بہت خوش ہو رہی تھی مجھے دیکھ کر بہت غصہ آیا دل جلا میرا یہ سب دیکھ کے اتنا کہ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے حالنکہ ایسی کوئی جذباتی وابستگی نہیں تھی پھر بھی یہ سب کچھ فیل ہوا میں نے فلحال اسکو دماغ سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا یہ سوچ کر کے وہ پہلے ہی کسی کی اچھی دوست ہے میں اسکو دوست نہیں بناوں گا
ہمیں سکول سے گرمیوں کی چھٹیاں ہوگئی تھی اور سب کو سکول کا کام کرنے کے لئیے دے دیا گیا تھا ہم سب دوست خوش تھے کہ خوب گھومیں گے انجوائے کریں گے لیکن میں اب بھی اداس تھا کہ ایک تو کوئی دوست نہیں بنی تھی دوسرا ہم کہیں گھومنے بھی نہیں جاتے تھے چھٹیوں میں گھر میں رہتے تھے کیونکہ ہماری نانی لوگ ہمارے ساتھ رہتے تھے
وہ گرمیوں کے دن تھے اس دن کافی گرمی تھی دھوپ بہت تیز تھی اور کوئی 12 بجے کا ٹائم تھا سب لوگ کمرے میں تھے تب ہمارے پاس 5 کمرے تھے دو کمرے آگے پیچھے بنے تھے جبکہ ایک اوپر چھت پر اور دو کمرے باہر تھے دروازے پاس جس میں سے ایک بیٹھک کے طور پر استمعال ہوتا تھا میں اور باقی کچھ لوگ پچھلے کمرے میں تھے یہاں میں بتاتا چلوں کہ ہم 5
4 بھائی اور 3 بہن بھائی تھے میں سب بھائیوں میں چھوٹا تھا اور میری ایک آپی کی شادی ہو گئی تھی جبکہ دو بہنیں ابھی کنواری تھی باقی کسی ممبرز کے تعارف کی ضرورت نہیں کیونکہ انکا بیچ میں کردار نہیں کسی کا اگر ضرورت ہوئی تو شامل کر لیا جائے گا
نازیہ نام تھا پر ہم سب نازی ہی کہتے تھے نازی مجھ سے دو سال بڑھی تھی اور تب اسکی عمر کوئی 17 یا 18 سال ہوگی اور میری 15 یا 16 سال ہوگی نازی آپی کا جسم بہت بھرا ہوا تھا نازی آپی کا رنگ بہت صاف تھا اور جسم کا ایک ایک حصہ اپنی مثال آپ تھا اس وقت تو مجھے سائز نہیں پتہ ہوتا تھا پر اب جب معلوم ہے تو اسکے ممے کوئی 32 یا 34 کے بیچ میں سائز تھا جو کہ مجھے ہمیشہ بہت اچھے لگتے تھے
مجھے وہ باقی سب سے پیاری لگتی تھی تب میرا نازی آپی کو لیکر زہن ایسا نہیں تھا بلکل صاف تھا پر ایک دن دوپہر کو وہ چارپائی پر لیٹی سو رہی تھی اور میں بھی ساتھ جا کر لیٹ گیا کیونکہ دوپہر تھی اس لئیے اکثر باقی بھی سب لیٹے تھے میرا منہ ایک سائڈ طرف تھا اور انکا منہ ایک سائڈ طرف تھا کمرے میں ہلکا اندھیرا تھا کیونکہ یہ کمرہ پہلے کمرے کے آگے بنا تھا اس لئیے اس کمرے کو راستہ پہلے کمرے کے درمیان سے دیا گیا تھا پر دروازے کی جگہ کو ایسے ہی رکھا تھا دروازہ نہیں لگایا تھا اس لئیے باہر سے جتنی روشنی آ سکتی تھی پہلے کمرے میں آ رہی تھی اور اس سے آگے روشنی اس کمرے میں آ رہی تھی اچانک میں نے کروٹ لی اور اپنا منہ دوسری طرف کر لیا جہاں نازی آپی کی بیک میری طرف تھی میں نے جب کروٹ لی تو میں پیچھے سے انکو ٹچ ہوا ہلکا سا انہوں نے اس روز بلیک سلک کا ٹراوزر پہنا تھا اور اسکے اوپر ریڈ شرٹ پہنی تھی میرے ساتھ لگنے سے انہیں کوئی فرق نا پڑا کیونکہ ہم اکثر رات کو بھی اکٹھے سو جاتے تھے صحن میں چارپائیاں بچھا کر ایک فین لگا کر تب میں نے اپنا آپ انکے ساتھ لگا رہنا دیا پتہ نہیں آج کیا بات تھی کہ مجھے اچھا محسوس ہو رہا تھا انکے ساتھ لگنا اور دل چاہ رہا تھا ایسے ہی میں انکے ساتھ پیچھے سے جڑا رہوں تب مجھے آمی کی آواز آئی کی سالار میری بات سنو میں اٹھ کر دوسرے کمرے میں گیا اور انسے پوچھا کہ کیا بات ہے امی انہوں نے کہا کی بازار سے یہ سودا لانا ہے میں نے کہا کہ ٹھیک ہے میں لا دیتا ہوں پر میری چارپائی پر کوئی نا لیٹے میں نے آکر سونا ہے امی نے کہا ٹھیک ہے میں بھاگ کر بازار گیا اور سودا لا دیا اس ڈر سے کے کہیں کوئی اور نا لیٹ جائے سونے کے لئیے اور واپس آکر اسی جگہ لیٹ گیا اب مجھے دوبارہ مزہ آنے لگا انکے سلک کے ٹراوزر ساتھ میں ٹچ ہو رہا تھاتو مجھے اچھا لگ رہا تھا تب میں نے محسوس کیا کہ میرالن بھی تھوڑا بڑا ہو رہا ہے اور آپ نازی کی نرم سی بنڈ کے ساتھ سلک کے ٹراوزر کے اوپر سے ٹچ ہو رہا ہے مجھے ہلکا ہلکا سرور آنے لگا اور میں ایسے ہی ساتھ رگڑتا رہا پر آپی سوئی رہیں کافی دیر بعد مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے مجھے زور کا پیشاب آیا ہوا ہے اور میں اٹھ کر واش روم بھاگا اور پیشاب کرنے لگا لیکن آج پیشاب آ ہی نہیں رہا تھا میں نے کافی کوشش کی زور لگایا لیکن پیشاب نہیں نکل رہا تھا بلکہ لن اور بڑا ہو رہا تھا اور اس پر ایسے جیسے پڑیشر بڑھ رہا تھا پیشاب کا تب اچانک میرے لن سے سفید رنگ کا مادہ نکلنے لگا پہلی بار نکلنے کی وجہ سے شاید مجھے بہت مزہ آ رہا تھا پر ساتھ میں ہلکی سے درد بھی ہوئی تھی پر اسکے بعد جب بھی نکلا بہت مزہ آیا تھا پہلے تو میں بہت پریشان ہوا کہ یہ کیا ہوا میرے ساتھ پیشاب کی جگہ کیا نکل آیا ہے تب مجھے خیال آیا کہ ایک بار دوست نے بتایا تھا کہ لن سے ایسے سفید رنگ کا پانی نکلتا ہے جوان ہوکے تو اسکا مطلب میں آج جوان ہو گیا تھا بس اپنی نازی آپی کی ہلکی سی بنڈ کی رگڑ سے لیکن جو بھی تھا مجھے اچھا محسوس ہوا بہت میں تو خوش ہو گیا تھا کہ اب ایسا مزہ روز روز لے سکوں گا اسکے بعد یہ کام چل نکلا وہ اکثر رات کو یا دوپہر کو سوتی تو میں انکے ساتھ لیٹ کر مزہ لینا شروع کر دیتا ایک رات آندھی بہت آئی تھی اور لائیٹ بند ہوگئی تھی ہم صحن میں ایک چار پائی پر لیٹے تھے جبکہ کچھ لوگ چھت پر اور کچھ اندر سوئے تھے نازی آپی نے دوپٹہ لیا ہوا تھا مجھے مچھرا لڑا تو میں بھی دوپٹے کے اندر گھس گیا اور انکو چھیڑنے لگا وہ جاگ رہی تھی انہوں نے مجھے دوپٹے سے باہر دکھیل دیا اور میں پھر اندر چلا گیا اس بار انکی ایک ٹانگ پر اپنی ٹانگ رکھ کر سکون سے لیٹ گیا مزہ لیتے ہوئے پتہ نہیں کب آنکھ لگ گئی نازی آپی مجھے ابھی چھوٹا بچہ ہی سمجھتی تھی اور اس وجہ سے وہ مجھے کچھ نا کہتی بلکہ اپنے ساتھ سونے دیتی تھی وقت گزرتا رہا گرمیوں سے سردیاں آ گئی تھی لیکن میں اکثر مزے لیتا رہا لیکن اسکے بعد بس ایک 2 بار ہی پانی نکلا تھا تو سردیوں میں پچھلے کمرے میں 2 چارپائیاں ہوتی تھی ایک پر میں جب کہ دوسری پر نازی اور بڑی آپی سوتی تھی لیکن نازی آپی میری طرف ہی سوتی تھی چارپائیاں بلکل ساتھ ساتھ جڑی ہوتی تھی میں سب کے سونے کا انتظار کرتا رہتا جب یقین کرلیتا کہ سب سو گئے ہیں تب میں آہستہ سے اپنی رضائی سے ہاتھ نکال کر نازی آپی کی رضائی میں ڈال دیتا اور اسکی ٹانگ کے نرم سی تھائی کو سہلانے لگتا جب انکی طرف سے یقین ہو جاتا کہ وہ سوئی ہیں تب ہاتھ انکے نرم سے پیٹ پر پھیرنے لگ گیا انکا پیٹ بہت پیارا نرم سا تھا اور انکی چھوٹی سی تنی میرا فیورٹ حصہ تھی میں کئی کئی منٹ انکی تھائیز اور پیٹ سے کھیلتا رہتا تھا پھر کبھی انکے سوفٹ سے دودھ کو چھوتا انہیں اپنے ہاتھ میں لیکر دباتا کیونکہ انکو دیکھ کر اکثر مجھے تجسس ہوتا تھا کہ پتہ نہیں کیا چیز ہے جو یہ اتنے ابھرے ہوئے ہیں اوپر سے دبانے کے بعد میں نے انکی قمیض کے اندر ہاتھ ڈالا تھا اور برا کے اوپر سے انکے ممے پکڑے اور مجھے اتنا مزہ آ رہا تھا میں پہلی بار یہاں تک پہنچا تھا اس دوران آپی نے ہلکی سے انگڑائی لی اور میں جلدی سے گھبرا کر ہاتھ باہر نکال لیا اور منہ رضائی میں لے لیا تھوڑی دیر بعد اب میں انکی ٹانگوں کے بیچ ہاتھ ڈال دیا شلوار کے اوپر سے انکی پیاری سے پھدی سے کھیلنئ لگا گیا انکی پھدی کے لپس کو ایسے اوپر سے نیچے تک فنگر سے ہلاتا اور اسکے اوپر فنگر رگڑتا رہتا اور ایک ہاتھ سے رضائی میں موجود اپنے لن کو اوپر نیچے کرکے مٹھ لگاتا رہتا اور تب سوچتا کہ آپی سے اب بات کر لینی چائیے لیکن جیسے ہی میرا پانی نکلتا میری یہ خواہش ختم ہو جاتی اور سکون سے سوجاتا
صبح سکول اور پھر روٹین کا کام رات کو نازی آپ کے ساتھ کھیلنا زندگی ایسے ہی سکون سے گزر رہی تھی آج رات میں پھر نازی آپی کے ساتھ ایسے ہی مزے لے رہا تھا کہ میں نے اپنا ہاتھ انکی شلوار کے اندر ڈال دیا اور انکی پھدی کو اوپر سے سہلانے لگا انکی پھدی اوپر سے خشک تھی جبکہ اندر سے گیلی ہو چکی تھی تب مجھے نہیں تھا پتہ ہوتا کہ یہ گیلی کیوں ہوئی ہے اور اسکا مطلب کیا ہے اگر اندازہ ہوتا تو نازی آپی کو وہیں چود دیتا لیکن چودنا صرف اس لئیے نہیں ہو پارہا تھا کہ ساتھ بڑی آپی سوئی ہوتی تھی اس لئیے بس ایسے ہی مزے آ رہے تھے میں نے اپنا ہاتھ انکی شلوار سے باہر نکال کے لن کو رضائی سے باہر نکال کر انکے ہاتھ میں دے دیا اور ہاتھ سے ایسے اوپر نیچے کرنے لگ گیا انکے ہاتھ گرم تھے اور انکے ہاتھ میں آتے ہی لن میں جیسے جان پڑ گئی ہو وہ زیادہ بڑا ہوا تھا اور میں انکے ہاتھ سے مٹھ لگا رہا تھا ساتھ انکے دودھ کو چھیڑ رہا تھا یہ ایک بہت بڑا سین تھا میرے لئیے نازی آپی نے کوئی ری ایکشن نیں دیا تھا بلکہ میرے حوالے کر دیا تھا خود کو شائد اور میں اب روز یا دوسرے دن انکے ہاتھ سے مٹھ لگواتا اور انکی پھدی کو فنگر سے ٹچ کرتا رہتا اور پھر سو جاتا بات یہاں سے آگے نہیں بڑھ رہی تھی پر ایک رات میں نے ہمت کر کے آپی کا دایاں مما باہر نکال کے چوسنے لگ گیا اس دن جیسے میری عید تھی میری برسوں کی خواہش تھی کہ نازی آپی کا دودھ چوسوں اور وہ میری پوری ہورہی تھی تھوڑی دیر بعد ہی ڈر کے میں نے جلدی سے دودھ واپس قمیض میں کر دیا اور سو گیا
کافی دنوں بعد میں ایک رات پچھلے اندر کی بجائے باہر والے کمرے میں سوگیا وہاں پر بڑا منجا تھا اس پر لیٹا ہی تھا کہ مجھے نیند آ گئی رات جب آنکھ کھلی تو ٹائم دیکھا 12 بج رہے تھے اندر دیکھا تو آج میری چارپائی پر نازی آپی سوئی تھی اب میں بڑا ہو گیا تھا اور ہم ایک ساتھ نہیں سوتے تھے اس لئیے میں سوچنے لگ گیا کہ اب کیا کروں تب میں اپنے بستر سے اٹھا اور انکی روم میں جا کر انکی چارپایی کے پاس بیٹھ گیا نیچے زمین پر اور انکی تھائیز اور پیٹ کو چھیڑنے لگ گیا اور ایسے ہی چھیڑ رہا تھا کہ اچانک انکی آنکھ کھلی اور وہ میری طرف دیکھنے لگ گئی انہوں نے بولا کچھ نہیں لیکن میری تو جیسے سیٹی گم ہو گئی میں ڈر گیا اور فورا اٹھ کر کمرے میں آ گیا اور لیٹ گیا اور ڈر کر سوچنے لگا کہ اب کیا ہوگا اتنے میں آپی نازی اٹھی روم سے باہر آئی اور واش روم چلی گئی میں انتظار کرنے لگا کہ اب کیا کریں گی تب وہ واپس آئی اور آکر بجائے اپنے کمرے میں جا کر اپنی چارپائی پر لیٹتٹی وہ میرے پاس آکر لیٹ گئی اور پھر تھوڑی دیر بعد میری طرف منہ کر لیا اور مجھے اپنے ساتھ زور سے لگا لیا اور پھر ہاتھ ڈال کر میرے لن کو پکڑ لیا پر میرا لن تو ڈر کے مارے سویا ہوا تھا چھوٹی سئ للی بنی تھی انہوں نے اسکو پکڑ کے ایسے ہلایا پر اب تو انکے ہاتھ کا بھی اثر نہیں ہو رہا تھا انہوں نے ایسے اسکو اپنے ساتھ لگا لیا مجھے زور سے گلے سے لگا لیا اور نیچے سے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر ٹانگوں کے بیچ لے لیا تب وہ بہت زیادہ گرم تھی اور مجھے بہت مزہ آ رہا تھا 😋 میں انکے ساتھ چپکا ہوا تھا انکے ممے اپنے منہ پر محسوس کر رہا تھا اچانک انہوں نے مجھے زور سے اپنے ساتھ بھینچ دیا اور کچھ دیر ایسے ہی رہنے کے بعد مجھے چھوڑ کر اپنے بستر پر چلی گئی شائد وہ فارغ ہو چکی تھی اور میں ابھی تک حیران پریشان لیٹا سوچ رہا تھا کہ یہ اچانک ہوا کیا ہے کیسے وہ اتنی مہربان ہوکر میرے پاس آئی اور مجھے اپنے ساتھ لگا کر زور سے جپھی ڈال کر لن پکڑ کر پھدی پر رگڑتی رہی اور پھر چلی گئی یہی سوچتے ہوئے مجھے نیند آگئی تھی اور پھر تقریبا ہفتے میں 2 سے 3بار میں انکے جسم سے کھیلتا اور مزہ لیتا تھا لیکن نازی آپی نے مجھے کبھی منع نا کیا تھا شائد وہ جانتی تھی یا شائد سوئی ہوتی تھی سچ میں کچھ اندازہ نہیں ہے ایسے ہی کافی مہینے گزر گئے لیکن میرا کھیل اس سے آگے نا بڑھ سکا تھا ہم دن میں بلکل نارمل رہتے تھے جیسے رات کوئی بات ہوئی نا ہو لیکن رات میں میں ان سے اپنی مٹھ لگوا لیا کرتا تھا اس دوران گرمیاں آ گئی تھی اور ہم سب باہر صحن میں سونے لگ گئے تھے سب لوگ ہوتے تھے اس لئیے اب پہلے جیسی موج نہیں تھی میں بھی بڑا ہو گیا تھا 18 کا اور وہ بھی 20 21 کی ہو گئی تھی اس لئیے اب مزے ختم ہو گئے تھے لیکن انکے ساتھ گزرا ٹائم بہت یاد آتا تھا اس دوران انہوں نے گھر میں موجود بٹنوں والا فون استمعال کرنا شروع کر دیا تھا میرے پاس بھی فون تھا میں نے پلان بنایا انکو کوئی سیکسی سٹوری میسج پہ سناوں اور انکا ری ایکشن دیکھوں ان دنوں سم کارڈ بغیر نام کے مل جاتی تھی عام ہی میں نے ایک نیا سم کارڈ لیا اور رات کو جب دیکھا کہ موبائل انکے ہاتھ میں ہے انکو میسج کر دیا انکے پاس میسج پیکج ہوتا تھا اور میرے پاس بھی یہی تھا اب سردیاں شروع ہو چکی تھی سب اب کمروں میں ہوتے تھے تو رات کو میں نے لکھا کہ بلو جاب بہت مزے کی کرتئ ہوں یی لکھ کر بھیج دیا
آپی نازی کا میسج آیا کون اور یہ کیا لکھا یے
میں نے کہا اسکا مطلب ہے کہ لن کو منہ میں لیکر چوسنا اور مزے کرنا اور وہ بھی میں اپنے بھائی کے ساتھ کرتی ہوں یہ لکھ کر بھیج دیا
تب آپی کا تھوڑی دیر تک کوئی ریپلائی اور میسج نا آیا لیکن کچھ دیر بعد انکا میسج آیا کہ گندی۔۔۔۔تم ایسے کیسے کر لیتی ہو میں نے کہا مجھے اپنی دوست بنا لیں میں آپکو سب بتاوں گی سٹوری سناوں گی آپی پہلے تو نا مانی پر پھر مان گئی اور مجھے کہا بتاو کونسی سٹوری کہ رہی تھی میں نے اسے بہن بھائی کی جھوٹی سچی سٹوری بتا دی کہ میں ایسے بھائی کے ساتھ مزے کرتی ہوں یہ وہ اور اگر تم بھی بھائی کے ساتھ مزے چاہتی ہو تو میری بات سنو صبح اٹھ کر جب پوچا لگاتی ہو تب جب سامنے تمہارا بھائی ہو زرا جھک کر لگانا اور اپنا گلا دکھانا کھلا سا اور دیکھنا بھائی تمہارا دیکھتا ہے یا نہیں اس نے کہا اچھا اور اس صبح جب میں اٹھا تو دیکھا واقعی نازی آپی ایسے جیسے مجھے جھک کر اپنا گلا ہی دکھا رہی تھی میں نے بھی تھوڑی دیر دیکھا اور پھر باہر چلا گیا پھر رات کو میں نے انسے بات کی اور پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہاں دیکھا ہے اس نے پر میں کچھ نہیں چاہتی مزید کچھ دن میں اسے سیکس سٹوریز سناتا رہا جسے سن کر وہ بہت گرم ہو جاتی تھی اور شائد اپنی پھدی پر فنگر پھیرتی تھی کیونکہ اسکا منہ رضائی میں ہوتا تھا لیکن مجھے لگتا تھا جیسے وہ سسکاریاں بھر رہی ہے ساتھ مجھے آواز محسوس ہوتی تھی لیکن جب میں اسکے بستر کے پاس جا کر دیکھتا تو ایسا کچھ نہیں ہوتا تھا مجھے لگا جیسے میرا وہم ہی ہو پھر کچھ دنوں بعد گھر کا فون خراب ہو گیا اور یہ سلسلہ بھی ختم ہو گیا نازی آپی کو میں نے واش روم میں نہاتے ہوئے بھی دیکھا تھا از دن گھر والے سب اوپر تھے تو میں نیچے کسی کام سے گیا تھا تو مجھے لگا کوئی نہا رہا ہے واش روم کے دروازے میں چھوٹا سا سوراخ تھا جو پینٹ اترنے کی وجہ سے ہوا تھا میں نے پھر زرا سوراخ میں دیکھا تو وہ نازی آپی تھی نہا رہی تھی انکی بنڈ میری طرف تھی اور وہ شاور کے نیچے کھڑی ہو کر نہا رہی تھی ایسا بہت کم ہوتا تھا کہ نیچے والا صحن خالی ہوتا تھا اس لئیے یہ نظارہ میں کچھ لمحات تک دیکھتا رہا اور پھر وہاں سے چلا گیا تھا اسکے بعد انکی شادی ہو گئی تھی اور چلی گئی تھی لاہور دوستوں یہ ایک سچے واقعات پر مشتمل کہانی ہے اس میں زرا برابر بھی جھوٹ نہیں ہے اور انسیسٹ سیکس رئیل میں بس اتنا ہی ہو سکتا ہے اس سے زیادہ جو بتاتے ہیں وہ اکثر جھوٹ ہوتا ہے اور یہاں جو جو بہن کے عاشق ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ سب صحیح ہے کیونکہ یہ سب انکے ساتھ بھی ہو چکا ہوگا سپیشلی جب رات کے اندھیرے میں ہلکے سے ڈر کے ساتھ بہن کے بدن کو چھونا یہ ایسا مزہ ہے کہ سیکس ہچھ بھی نہیں اسکے آگے ۔۔۔ آپ لوگ کمنٹ کرکے بتائیں کہ یی سٹوری کیسی لگی پھر میں اپنی زندگی کے باقی کے واقعات لکھوں گا میں کوئی رائٹر نہیں ہوں اس لئیے اس کو شائد سٹوری کی طرح نہیں لکھ سکا لیکن جیسے جیسے واقعات ہوئے لکھ دیا اب آپ کمنٹ میں بتائیں اگلی اپ ڈیٹ دوں نا دوں آگے اپنی بھابھی سے سیکس ہے ہمسائی سے سیکس ہے اور کیوٹ سی دوست کے ساتھ بھی۔۔اور ابھی تک سلسلہ جاری ہے۔۔۔

YUM Stories


Offline mnaeem024

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 165
  • Reputation: +2/-0
    • View Profile
Re: میری خواہشات کچھ ادھوری کچھ مکمل )in**st)
« Reply #1 on: July 23, 2020, 03:11:17 pm »
ye to pra hi nhi ja rha

YUM Stories

Re: میری خواہشات کچھ ادھوری کچھ مکمل )in**st)
« Reply #1 on: July 23, 2020, 03:11:17 pm »

Offline mnaeem024

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 165
  • Reputation: +2/-0
    • View Profile
Re: میری خواہشات کچھ ادھوری کچھ مکمل )in**st)
« Reply #2 on: July 23, 2020, 03:12:08 pm »



اسلام علیکم

Yum Stories
کے تمام ممبرز اور انتظامیہ کو میرا سلام کہ انہوں نے اردو کی سٹوریز اور اپنی آپ بیتی کے لئیے اتنا اچھا پلیٹ فارم مہیا کیا ہوا ہے بہت دیر سے میں خاموش قاری ہوں اس ویب سائٹ کا اور ایک دو اور تھی وہ تو شائد اب ملتی نہیں ہے بند ہو گئی ہیں شاید
ایک بات میں کہنا چاہوں گا کہ میری کہانی میں کوئی زیادہ مرچ مصالحہ نہیں ہے اتنا زیادہ کہ پڑھ کے ہنسی آئے یا فیک لگے میری سٹوری بلکل سچائی پر مبنی ہے پر ہو سکتا ہے کہ قائرین کرام کے رائے پر اور انکے جذبات کو دیکھتے ہوئے کچھ ایکسٹرا شامل کر لیں مطلب جن سے بس ہماری چھیڑ چھاڑ ہوئی ہے انکو بھی بیڈ تک لے آئیں تاکہ کہانی کا مزہ خراب رہے نہ ہو
یہ سٹوری گھریلو in**st سے شروع ہوکر گھومے گی مختلف کرداروں کے گرد میں کوئی رائٹر نہیں ہوں اور نا ہی کبھی پہلے کوئی سٹوری لکھی ہے ہاں پڑھی بہت زیادہ ہیں اس لئیے میری چھوٹی موٹی املا کی اور سٹوری میں موجود غلطیوں کو اگنور کر دئجئے گا بلکہ ہو سکے تو نشاندہی کر دیں تاکہ میری تصحیح ہو سکے

کہانی سے پہلے کچھ مختصر سا تعارف تاکہ سٹوری کو پڑھتے ہوئے آپکو اندازہ ہو کہ کریکٹر دکھنے میں کیسا ہے میرا نام رانا سمیع ہے لیکن سٹوری میں سالار سکندر کا نام استمعال ہوگا میں لاہور کے ساتھ واقعہ ضلع شیخوپورہ کا رہائشی ہوں ابھی میری عمر کوئی 30 سال ہے لیکن جب سے واقعات شروع ہوئے ہیں تب میں 8 یا 9 کا سٹوڈینٹ تھا عمر کوئی 14 یا 15 سال ہوگی رنگ صاف ہے اور قد 5 فٹ 9 انچ ہے جسم دبلا پتلا نا ہے بلکہ نارمل ہے نا زیادہ موٹا نا سمارٹ بلکہ آپ اسے ایک اچھی صحت والا بندہ کہ سکتے ہیں میں گریجوئیشن کی ہے اور اب شادی کے بعد جاب کرتا ہوں تو کہانی شروع کرتے ہیں تاکہ آپ لوگ مزید بوریت سے بچیں
کہانی ان دنوں کی ہے جب میں 7 یا 8 کلاس میں پڑھتا تھا میں شروع سے ہی گورنمنٹ سکول میں پڑھا تھا حالانکہ میں چاہتا تھا کے دوسرے بہت سے بچوں کی طرح پرائیویٹ سکول میں استانیوں سے پڑھوں اچھے یونیفارم پہنوں پر گھر کے حالات ایسے نہیں تھے کہ میں اپنی خواہش پوری کرتا یوں مس سے پڑھنے کے خواب ادھورےہی رہے اور میں نے اپنی پڑھائی گورنمنٹ سکول میں جاری رکھی پڑھائی میں بہت اچھا تھا اور ہمیشہ آگے بیٹھتا تھا اس لئئے میرے جو 3 سے 4 دوست تھے وہ بھی اچھے اور پڑھنے والے تھے آوارہ لڑکوں سے دور ہی رہتے تھے ہم لوگ لیکن جب فری پیریڈ ہوتا تھا تو ہمارا ایک دوست ہمیں اپنی باتیں سناتا تھا کہ کل پھر اسنے اپنے ساتھ والوں کے گھر کی چھت پر ایک خوبصورت لڑکی دیکھی جو شائد مہمان تھی پر اب تو وہ کافی دنوں سے دیکھ رہا تھا اسکے خیال میں وہ نانی کے گھر آئی ہوگی ایسے ہی ہم باتیں کرتے اور پھر چھٹی ٹائم ہم اپنے اپنے گھروں کو ہو لیتے لیکن گھر آکر بھی میرے مائنڈ سے اسکی باتیں نا نکلتی میں سوچتا کہ جیسے اسکی کوئی سہلیی ہے میری بھی ہونی چایئے میری بھی دوست ہو میں بھی اس سے باتیں کروں لیکن فلحال کچھ سمجھ نا آتی کہ ایسی دوست کہاں سے بناوں ان دونوں ہم سب دوستوں کا یہی حال تھا کہ سب کی دوست ہونی چائیے شاید سب کو لگتا تھا کہ اس عمر میں اب ہم بڑے ہو رہے ہیں تو پیار محبت کرنا ہم سب کا حق ہے اس لئیے ہمیں کرنا چائیے کسی لڑکی سے پیار محبت اسکو دوست بنا کے رکھنا چائیے تبھی میرا دھیان ساتھ والوں کے گھر گیا کہ انکی بھی تو بیٹی ہے بلکہ دو دو بیٹیاں ہیں ایک کا نام ندا تھا اور ایک کا نام حنا تھا ندا بڑی تھی سمارٹ سی جبکہ حنا چھوٹی تھی بھرے سے جسم والی پیاری لگتی تھی گول مٹول تب میرا زہن اسی پر اٹک گیا کہ میں اسکو دوست بناوں گا میں نے دن رات اسے دیکھنا شروع کر دیا جب اسنے سکول جانا تو اسکے پیچھے پیچھے جانا یا اسنے ٹیوشن جانا تو واپسی پر راستے میں اسے دیکھنا غرض ان دنوں موبایل وغیرہ نہیں تھے ایسےہی کسی کو احساس دلایا جاتا تھا کہ میں تم میں انٹرسٹڈ ہوں گوکہ وہ ہمارے گھر آتی جاتی تھی ہم اکٹھے کھیلتے بھی تھے پر میں کوئی بات بھی نہیں کرنا چاہتا تھا ڈائریکٹ کیونکہ میں شروع سے ہی اس معاملے میں زرا ڈرپوک واقعہ ہوا تھا خیر یہ سلسلہ کافی دن یونہی چلتا رہا اب اسنے نوٹ کرنا شروع کر دیا کہ سالار مجھے اکثر دیکھتا ہے یا میرے پیچھے پیچھے آتا ہے تب ایک بار میں نے اسے بسکٹ بھی لیکر دئیے تھے جو اسنے رکھ لئیے تھے اب میں اگلا لائحہ عمل سوچ رہا تھا کہ اسکو کیسے بتایا جائے کہ مجھے اس سے دوستی کرنی ہے مجھے پسند آ گئی ہو آپ بس اسی کشمکش میں زہن پھنسا ہوا تھا کہ ایک دن میں چھت پر بیٹھا سکول کا کام کر رہا تھا حنا چھت پر کھیل رہی تھی بچوں ساتھ اتنے میں اسکا کزن آ گیا اور وہ دونوں باتیں کرنے لگے پھرکھیلنے لگے ایک دوسرے ساتھ حنا بہت خوش ہو رہی تھی مجھے دیکھ کر بہت غصہ آیا دل جلا میرا یہ سب دیکھ کے اتنا کہ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے حالنکہ ایسی کوئی جذباتی وابستگی نہیں تھی پھر بھی یہ سب کچھ فیل ہوا میں نے فلحال اسکو دماغ سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا یہ سوچ کر کے وہ پہلے ہی کسی کی اچھی دوست ہے میں اسکو دوست نہیں بناوں گا
ہمیں سکول سے گرمیوں کی چھٹیاں ہوگئی تھی اور سب کو سکول کا کام کرنے کے لئیے دے دیا گیا تھا ہم سب دوست خوش تھے کہ خوب گھومیں گے انجوائے کریں گے لیکن میں اب بھی اداس تھا کہ ایک تو کوئی دوست نہیں بنی تھی دوسرا ہم کہیں گھومنے بھی نہیں جاتے تھے چھٹیوں میں گھر میں رہتے تھے کیونکہ ہماری نانی لوگ ہمارے ساتھ رہتے تھے
وہ گرمیوں کے دن تھے اس دن کافی گرمی تھی دھوپ بہت تیز تھی اور کوئی 12 بجے کا ٹائم تھا سب لوگ کمرے میں تھے تب ہمارے پاس 5 کمرے تھے دو کمرے آگے پیچھے بنے تھے جبکہ ایک اوپر چھت پر اور دو کمرے باہر تھے دروازے پاس جس میں سے ایک بیٹھک کے طور پر استمعال ہوتا تھا میں اور باقی کچھ لوگ پچھلے کمرے میں تھے یہاں میں بتاتا چلوں کہ ہم 5
4 بھائی اور 3 بہن بھائی تھے میں سب بھائیوں میں چھوٹا تھا اور میری ایک آپی کی شادی ہو گئی تھی جبکہ دو بہنیں ابھی کنواری تھی باقی کسی ممبرز کے تعارف کی ضرورت نہیں کیونکہ انکا بیچ میں کردار نہیں کسی کا اگر ضرورت ہوئی تو شامل کر لیا جائے گا
نازیہ نام تھا پر ہم سب نازی ہی کہتے تھے نازی مجھ سے دو سال بڑھی تھی اور تب اسکی عمر کوئی 17 یا 18 سال ہوگی اور میری 15 یا 16 سال ہوگی نازی آپی کا جسم بہت بھرا ہوا تھا نازی آپی کا رنگ بہت صاف تھا اور جسم کا ایک ایک حصہ اپنی مثال آپ تھا اس وقت تو مجھے سائز نہیں پتہ ہوتا تھا پر اب جب معلوم ہے تو اسکے ممے کوئی 32 یا 34 کے بیچ میں سائز تھا جو کہ مجھے ہمیشہ بہت اچھے لگتے تھے
مجھے وہ باقی سب سے پیاری لگتی تھی تب میرا نازی آپی کو لیکر زہن ایسا نہیں تھا بلکل صاف تھا پر ایک دن دوپہر کو وہ چارپائی پر لیٹی سو رہی تھی اور میں بھی ساتھ جا کر لیٹ گیا کیونکہ دوپہر تھی اس لئیے اکثر باقی بھی سب لیٹے تھے میرا منہ ایک سائڈ طرف تھا اور انکا منہ ایک سائڈ طرف تھا کمرے میں ہلکا اندھیرا تھا کیونکہ یہ کمرہ پہلے کمرے کے آگے بنا تھا اس لئیے اس کمرے کو راستہ پہلے کمرے کے درمیان سے دیا گیا تھا پر دروازے کی جگہ کو ایسے ہی رکھا تھا دروازہ نہیں لگایا تھا اس لئیے باہر سے جتنی روشنی آ سکتی تھی پہلے کمرے میں آ رہی تھی اور اس سے آگے روشنی اس کمرے میں آ رہی تھی اچانک میں نے کروٹ لی اور اپنا منہ دوسری طرف کر لیا جہاں نازی آپی کی بیک میری طرف تھی میں نے جب کروٹ لی تو میں پیچھے سے انکو ٹچ ہوا ہلکا سا انہوں نے اس روز بلیک سلک کا ٹراوزر پہنا تھا اور اسکے اوپر ریڈ شرٹ پہنی تھی میرے ساتھ لگنے سے انہیں کوئی فرق نا پڑا کیونکہ ہم اکثر رات کو بھی اکٹھے سو جاتے تھے صحن میں چارپائیاں بچھا کر ایک فین لگا کر تب میں نے اپنا آپ انکے ساتھ لگا رہنا دیا پتہ نہیں آج کیا بات تھی کہ مجھے اچھا محسوس ہو رہا تھا انکے ساتھ لگنا اور دل چاہ رہا تھا ایسے ہی میں انکے ساتھ پیچھے سے جڑا رہوں تب مجھے آمی کی آواز آئی کی سالار میری بات سنو میں اٹھ کر دوسرے کمرے میں گیا اور انسے پوچھا کہ کیا بات ہے امی انہوں نے کہا کی بازار سے یہ سودا لانا ہے میں نے کہا کہ ٹھیک ہے میں لا دیتا ہوں پر میری چارپائی پر کوئی نا لیٹے میں نے آکر سونا ہے امی نے کہا ٹھیک ہے میں بھاگ کر بازار گیا اور سودا لا دیا اس ڈر سے کے کہیں کوئی اور نا لیٹ جائے سونے کے لئیے اور واپس آکر اسی جگہ لیٹ گیا اب مجھے دوبارہ مزہ آنے لگا انکے سلک کے ٹراوزر ساتھ میں ٹچ ہو رہا تھاتو مجھے اچھا لگ رہا تھا تب میں نے محسوس کیا کہ میرالن بھی تھوڑا بڑا ہو رہا ہے اور آپ نازی کی نرم سی بنڈ کے ساتھ سلک کے ٹراوزر کے اوپر سے ٹچ ہو رہا ہے مجھے ہلکا ہلکا سرور آنے لگا اور میں ایسے ہی ساتھ رگڑتا رہا پر آپی سوئی رہیں کافی دیر بعد مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے مجھے زور کا پیشاب آیا ہوا ہے اور میں اٹھ کر واش روم بھاگا اور پیشاب کرنے لگا لیکن آج پیشاب آ ہی نہیں رہا تھا میں نے کافی کوشش کی زور لگایا لیکن پیشاب نہیں نکل رہا تھا بلکہ لن اور بڑا ہو رہا تھا اور اس پر ایسے جیسے پڑیشر بڑھ رہا تھا پیشاب کا تب اچانک میرے لن سے سفید رنگ کا مادہ نکلنے لگا پہلی بار نکلنے کی وجہ سے شاید مجھے بہت مزہ آ رہا تھا پر ساتھ میں ہلکی سے درد بھی ہوئی تھی پر اسکے بعد جب بھی نکلا بہت مزہ آیا تھا پہلے تو میں بہت پریشان ہوا کہ یہ کیا ہوا میرے ساتھ پیشاب کی جگہ کیا نکل آیا ہے تب مجھے خیال آیا کہ ایک بار دوست نے بتایا تھا کہ لن سے ایسے سفید رنگ کا پانی نکلتا ہے جوان ہوکے تو اسکا مطلب میں آج جوان ہو گیا تھا بس اپنی نازی آپی کی ہلکی سی بنڈ کی رگڑ سے لیکن جو بھی تھا مجھے اچھا محسوس ہوا بہت میں تو خوش ہو گیا تھا کہ اب ایسا مزہ روز روز لے سکوں گا اسکے بعد یہ کام چل نکلا وہ اکثر رات کو یا دوپہر کو سوتی تو میں انکے ساتھ لیٹ کر مزہ لینا شروع کر دیتا ایک رات آندھی بہت آئی تھی اور لائیٹ بند ہوگئی تھی ہم صحن میں ایک چار پائی پر لیٹے تھے جبکہ کچھ لوگ چھت پر اور کچھ اندر سوئے تھے نازی آپی نے دوپٹہ لیا ہوا تھا مجھے مچھرا لڑا تو میں بھی دوپٹے کے اندر گھس گیا اور انکو چھیڑنے لگا وہ جاگ رہی تھی انہوں نے مجھے دوپٹے سے باہر دکھیل دیا اور میں پھر اندر چلا گیا اس بار انکی ایک ٹانگ پر اپنی ٹانگ رکھ کر سکون سے لیٹ گیا مزہ لیتے ہوئے پتہ نہیں کب آنکھ لگ گئی نازی آپی مجھے ابھی چھوٹا بچہ ہی سمجھتی تھی اور اس وجہ سے وہ مجھے کچھ نا کہتی بلکہ اپنے ساتھ سونے دیتی تھی وقت گزرتا رہا گرمیوں سے سردیاں آ گئی تھی لیکن میں اکثر مزے لیتا رہا لیکن اسکے بعد بس ایک 2 بار ہی پانی نکلا تھا تو سردیوں میں پچھلے کمرے میں 2 چارپائیاں ہوتی تھی ایک پر میں جب کہ دوسری پر نازی اور بڑی آپی سوتی تھی لیکن نازی آپی میری طرف ہی سوتی تھی چارپائیاں بلکل ساتھ ساتھ جڑی ہوتی تھی میں سب کے سونے کا انتظار کرتا رہتا جب یقین کرلیتا کہ سب سو گئے ہیں تب میں آہستہ سے اپنی رضائی سے ہاتھ نکال کر نازی آپی کی رضائی میں ڈال دیتا اور اسکی ٹانگ کے نرم سی تھائی کو سہلانے لگتا جب انکی طرف سے یقین ہو جاتا کہ وہ سوئی ہیں تب ہاتھ انکے نرم سے پیٹ پر پھیرنے لگ گیا انکا پیٹ بہت پیارا نرم سا تھا اور انکی چھوٹی سی تنی میرا فیورٹ حصہ تھی میں کئی کئی منٹ انکی تھائیز اور پیٹ سے کھیلتا رہتا تھا پھر کبھی انکے سوفٹ سے دودھ کو چھوتا انہیں اپنے ہاتھ میں لیکر دباتا کیونکہ انکو دیکھ کر اکثر مجھے تجسس ہوتا تھا کہ پتہ نہیں کیا چیز ہے جو یہ اتنے ابھرے ہوئے ہیں اوپر سے دبانے کے بعد میں نے انکی قمیض کے اندر ہاتھ ڈالا تھا اور برا کے اوپر سے انکے ممے پکڑے اور مجھے اتنا مزہ آ رہا تھا میں پہلی بار یہاں تک پہنچا تھا اس دوران آپی نے ہلکی سے انگڑائی لی اور میں جلدی سے گھبرا کر ہاتھ باہر نکال لیا اور منہ رضائی میں لے لیا تھوڑی دیر بعد اب میں انکی ٹانگوں کے بیچ ہاتھ ڈال دیا شلوار کے اوپر سے انکی پیاری سے پھدی سے کھیلنئ لگا گیا انکی پھدی کے لپس کو ایسے اوپر سے نیچے تک فنگر سے ہلاتا اور اسکے اوپر فنگر رگڑتا رہتا اور ایک ہاتھ سے رضائی میں موجود اپنے لن کو اوپر نیچے کرکے مٹھ لگاتا رہتا اور تب سوچتا کہ آپی سے اب بات کر لینی چائیے لیکن جیسے ہی میرا پانی نکلتا میری یہ خواہش ختم ہو جاتی اور سکون سے سوجاتا
صبح سکول اور پھر روٹین کا کام رات کو نازی آپ کے ساتھ کھیلنا زندگی ایسے ہی سکون سے گزر رہی تھی آج رات میں پھر نازی آپی کے ساتھ ایسے ہی مزے لے رہا تھا کہ میں نے اپنا ہاتھ انکی شلوار کے اندر ڈال دیا اور انکی پھدی کو اوپر سے سہلانے لگا انکی پھدی اوپر سے خشک تھی جبکہ اندر سے گیلی ہو چکی تھی تب مجھے نہیں تھا پتہ ہوتا کہ یہ گیلی کیوں ہوئی ہے اور اسکا مطلب کیا ہے اگر اندازہ ہوتا تو نازی آپی کو وہیں چود دیتا لیکن چودنا صرف اس لئیے نہیں ہو پارہا تھا کہ ساتھ بڑی آپی سوئی ہوتی تھی اس لئیے بس ایسے ہی مزے آ رہے تھے میں نے اپنا ہاتھ انکی شلوار سے باہر نکال کے لن کو رضائی سے باہر نکال کر انکے ہاتھ میں دے دیا اور ہاتھ سے ایسے اوپر نیچے کرنے لگ گیا انکے ہاتھ گرم تھے اور انکے ہاتھ میں آتے ہی لن میں جیسے جان پڑ گئی ہو وہ زیادہ بڑا ہوا تھا اور میں انکے ہاتھ سے مٹھ لگا رہا تھا ساتھ انکے دودھ کو چھیڑ رہا تھا یہ ایک بہت بڑا سین تھا میرے لئیے نازی آپی نے کوئی ری ایکشن نیں دیا تھا بلکہ میرے حوالے کر دیا تھا خود کو شائد اور میں اب روز یا دوسرے دن انکے ہاتھ سے مٹھ لگواتا اور انکی پھدی کو فنگر سے ٹچ کرتا رہتا اور پھر سو جاتا بات یہاں سے آگے نہیں بڑھ رہی تھی پر ایک رات میں نے ہمت کر کے آپی کا دایاں مما باہر نکال کے چوسنے لگ گیا اس دن جیسے میری عید تھی میری برسوں کی خواہش تھی کہ نازی آپی کا دودھ چوسوں اور وہ میری پوری ہورہی تھی تھوڑی دیر بعد ہی ڈر کے میں نے جلدی سے دودھ واپس قمیض میں کر دیا اور سو گیا
کافی دنوں بعد میں ایک رات پچھلے اندر کی بجائے باہر والے کمرے میں سوگیا وہاں پر بڑا منجا تھا اس پر لیٹا ہی تھا کہ مجھے نیند آ گئی رات جب آنکھ کھلی تو ٹائم دیکھا 12 بج رہے تھے اندر دیکھا تو آج میری چارپائی پر نازی آپی سوئی تھی اب میں بڑا ہو گیا تھا اور ہم ایک ساتھ نہیں سوتے تھے اس لئیے میں سوچنے لگ گیا کہ اب کیا کروں تب میں اپنے بستر سے اٹھا اور انکی روم میں جا کر انکی چارپایی کے پاس بیٹھ گیا نیچے زمین پر اور انکی تھائیز اور پیٹ کو چھیڑنے لگ گیا اور ایسے ہی چھیڑ رہا تھا کہ اچانک انکی آنکھ کھلی اور وہ میری طرف دیکھنے لگ گئی انہوں نے بولا کچھ نہیں لیکن میری تو جیسے سیٹی گم ہو گئی میں ڈر گیا اور فورا اٹھ کر کمرے میں آ گیا اور لیٹ گیا اور ڈر کر سوچنے لگا کہ اب کیا ہوگا اتنے میں آپی نازی اٹھی روم سے باہر آئی اور واش روم چلی گئی میں انتظار کرنے لگا کہ اب کیا کریں گی تب وہ واپس آئی اور آکر بجائے اپنے کمرے میں جا کر اپنی چارپائی پر لیٹتٹی وہ میرے پاس آکر لیٹ گئی اور پھر تھوڑی دیر بعد میری طرف منہ کر لیا اور مجھے اپنے ساتھ زور سے لگا لیا اور پھر ہاتھ ڈال کر میرے لن کو پکڑ لیا پر میرا لن تو ڈر کے مارے سویا ہوا تھا چھوٹی سئ للی بنی تھی انہوں نے اسکو پکڑ کے ایسے ہلایا پر اب تو انکے ہاتھ کا بھی اثر نہیں ہو رہا تھا انہوں نے ایسے اسکو اپنے ساتھ لگا لیا مجھے زور سے گلے سے لگا لیا اور نیچے سے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر ٹانگوں کے بیچ لے لیا تب وہ بہت زیادہ گرم تھی اور مجھے بہت مزہ آ رہا تھا 😋 میں انکے ساتھ چپکا ہوا تھا انکے ممے اپنے منہ پر محسوس کر رہا تھا اچانک انہوں نے مجھے زور سے اپنے ساتھ بھینچ دیا اور کچھ دیر ایسے ہی رہنے کے بعد مجھے چھوڑ کر اپنے بستر پر چلی گئی شائد وہ فارغ ہو چکی تھی اور میں ابھی تک حیران پریشان لیٹا سوچ رہا تھا کہ یہ اچانک ہوا کیا ہے کیسے وہ اتنی مہربان ہوکر میرے پاس آئی اور مجھے اپنے ساتھ لگا کر زور سے جپھی ڈال کر لن پکڑ کر پھدی پر رگڑتی رہی اور پھر چلی گئی یہی سوچتے ہوئے مجھے نیند آگئی تھی اور پھر تقریبا ہفتے میں 2 سے 3بار میں انکے جسم سے کھیلتا اور مزہ لیتا تھا لیکن نازی آپی نے مجھے کبھی منع نا کیا تھا شائد وہ جانتی تھی یا شائد سوئی ہوتی تھی سچ میں کچھ اندازہ نہیں ہے ایسے ہی کافی مہینے گزر گئے لیکن میرا کھیل اس سے آگے نا بڑھ سکا تھا ہم دن میں بلکل نارمل رہتے تھے جیسے رات کوئی بات ہوئی نا ہو لیکن رات میں میں ان سے اپنی مٹھ لگوا لیا کرتا تھا اس دوران گرمیاں آ گئی تھی اور ہم سب باہر صحن میں سونے لگ گئے تھے سب لوگ ہوتے تھے اس لئیے اب پہلے جیسی موج نہیں تھی میں بھی بڑا ہو گیا تھا 18 کا اور وہ بھی 20 21 کی ہو گئی تھی اس لئیے اب مزے ختم ہو گئے تھے لیکن انکے ساتھ گزرا ٹائم بہت یاد آتا تھا اس دوران انہوں نے گھر میں موجود بٹنوں والا فون استمعال کرنا شروع کر دیا تھا میرے پاس بھی فون تھا میں نے پلان بنایا انکو کوئی سیکسی سٹوری میسج پہ سناوں اور انکا ری ایکشن دیکھوں ان دنوں سم کارڈ بغیر نام کے مل جاتی تھی عام ہی میں نے ایک نیا سم کارڈ لیا اور رات کو جب دیکھا کہ موبائل انکے ہاتھ میں ہے انکو میسج کر دیا انکے پاس میسج پیکج ہوتا تھا اور میرے پاس بھی یہی تھا اب سردیاں شروع ہو چکی تھی سب اب کمروں میں ہوتے تھے تو رات کو میں نے لکھا کہ بلو جاب بہت مزے کی کرتئ ہوں یی لکھ کر بھیج دیا
آپی نازی کا میسج آیا کون اور یہ کیا لکھا یے
میں نے کہا اسکا مطلب ہے کہ لن کو منہ میں لیکر چوسنا اور مزے کرنا اور وہ بھی میں اپنے بھائی کے ساتھ کرتی ہوں یہ لکھ کر بھیج دیا
تب آپی کا تھوڑی دیر تک کوئی ریپلائی اور میسج نا آیا لیکن کچھ دیر بعد انکا میسج آیا کہ گندی۔۔۔۔تم ایسے کیسے کر لیتی ہو میں نے کہا مجھے اپنی دوست بنا لیں میں آپکو سب بتاوں گی سٹوری سناوں گی آپی پہلے تو نا مانی پر پھر مان گئی اور مجھے کہا بتاو کونسی سٹوری کہ رہی تھی میں نے اسے بہن بھائی کی جھوٹی سچی سٹوری بتا دی کہ میں ایسے بھائی کے ساتھ مزے کرتی ہوں یہ وہ اور اگر تم بھی بھائی کے ساتھ مزے چاہتی ہو تو میری بات سنو صبح اٹھ کر جب پوچا لگاتی ہو تب جب سامنے تمہارا بھائی ہو زرا جھک کر لگانا اور اپنا گلا دکھانا کھلا سا اور دیکھنا بھائی تمہارا دیکھتا ہے یا نہیں اس نے کہا اچھا اور اس صبح جب میں اٹھا تو دیکھا واقعی نازی آپی ایسے جیسے مجھے جھک کر اپنا گلا ہی دکھا رہی تھی میں نے بھی تھوڑی دیر دیکھا اور پھر باہر چلا گیا پھر رات کو میں نے انسے بات کی اور پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہاں دیکھا ہے اس نے پر میں کچھ نہیں چاہتی مزید کچھ دن میں اسے سیکس سٹوریز سناتا رہا جسے سن کر وہ بہت گرم ہو جاتی تھی اور شائد اپنی پھدی پر فنگر پھیرتی تھی کیونکہ اسکا منہ رضائی میں ہوتا تھا لیکن مجھے لگتا تھا جیسے وہ سسکاریاں بھر رہی ہے ساتھ مجھے آواز محسوس ہوتی تھی لیکن جب میں اسکے بستر کے پاس جا کر دیکھتا تو ایسا کچھ نہیں ہوتا تھا مجھے لگا جیسے میرا وہم ہی ہو پھر کچھ دنوں بعد گھر کا فون خراب ہو گیا اور یہ سلسلہ بھی ختم ہو گیا نازی آپی کو میں نے واش روم میں نہاتے ہوئے بھی دیکھا تھا از دن گھر والے سب اوپر تھے تو میں نیچے کسی کام سے گیا تھا تو مجھے لگا کوئی نہا رہا ہے واش روم کے دروازے میں چھوٹا سا سوراخ تھا جو پینٹ اترنے کی وجہ سے ہوا تھا میں نے پھر زرا سوراخ میں دیکھا تو وہ نازی آپی تھی نہا رہی تھی انکی بنڈ میری طرف تھی اور وہ شاور کے نیچے کھڑی ہو کر نہا رہی تھی ایسا بہت کم ہوتا تھا کہ نیچے والا صحن خالی ہوتا تھا اس لئیے یہ نظارہ میں کچھ لمحات تک دیکھتا رہا اور پھر وہاں سے چلا گیا تھا اسکے بعد انکی شادی ہو گئی تھی اور چلی گئی تھی لاہور دوستوں یہ ایک سچے واقعات پر مشتمل کہانی ہے اس میں زرا برابر بھی جھوٹ نہیں ہے اور انسیسٹ سیکس رئیل میں بس اتنا ہی ہو سکتا ہے اس سے زیادہ جو بتاتے ہیں وہ اکثر جھوٹ ہوتا ہے اور یہاں جو جو بہن کے عاشق ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ سب صحیح ہے کیونکہ یہ سب انکے ساتھ بھی ہو چکا ہوگا سپیشلی جب رات کے اندھیرے میں ہلکے سے ڈر کے ساتھ بہن کے بدن کو چھونا یہ ایسا مزہ ہے کہ سیکس ہچھ بھی نہیں اسکے آگے ۔۔۔ آپ لوگ کمنٹ کرکے بتائیں کہ یی سٹوری کیسی لگی پھر میں اپنی زندگی کے باقی کے واقعات لکھوں گا میں کوئی رائٹر نہیں ہوں اس لئیے اس کو شائد سٹوری کی طرح نہیں لکھ سکا لیکن جیسے جیسے واقعات ہوئے لکھ دیا اب آپ کمنٹ میں بتائیں اگلی اپ ڈیٹ دوں نا دوں آگے اپنی بھابھی سے سیکس ہے ہمسائی سے سیکس ہے اور کیوٹ سی دوست کے ساتھ بھی۔۔اور ابھی تک سلسلہ جاری ہے۔۔۔



Offline mnaeem024

  • T. Members
  • 2 Star
  • **
  • Posts: 165
  • Reputation: +2/-0
    • View Profile
Re: میری خواہشات کچھ ادھوری کچھ مکمل )in**st)
« Reply #3 on: July 23, 2020, 03:12:30 pm »



اسلام علیکم

Yum Stories
کے تمام ممبرز اور انتظامیہ کو میرا سلام کہ انہوں نے اردو کی سٹوریز اور اپنی آپ بیتی کے لئیے اتنا اچھا پلیٹ فارم مہیا کیا ہوا ہے بہت دیر سے میں خاموش قاری ہوں اس ویب سائٹ کا اور ایک دو اور تھی وہ تو شائد اب ملتی نہیں ہے بند ہو گئی ہیں شاید
ایک بات میں کہنا چاہوں گا کہ میری کہانی میں کوئی زیادہ مرچ مصالحہ نہیں ہے اتنا زیادہ کہ پڑھ کے ہنسی آئے یا فیک لگے میری سٹوری بلکل سچائی پر مبنی ہے پر ہو سکتا ہے کہ قائرین کرام کے رائے پر اور انکے جذبات کو دیکھتے ہوئے کچھ ایکسٹرا شامل کر لیں مطلب جن سے بس ہماری چھیڑ چھاڑ ہوئی ہے انکو بھی بیڈ تک لے آئیں تاکہ کہانی کا مزہ خراب رہے نہ ہو
یہ سٹوری گھریلو in**st سے شروع ہوکر گھومے گی مختلف کرداروں کے گرد میں کوئی رائٹر نہیں ہوں اور نا ہی کبھی پہلے کوئی سٹوری لکھی ہے ہاں پڑھی بہت زیادہ ہیں اس لئیے میری چھوٹی موٹی املا کی اور سٹوری میں موجود غلطیوں کو اگنور کر دئجئے گا بلکہ ہو سکے تو نشاندہی کر دیں تاکہ میری تصحیح ہو سکے

کہانی سے پہلے کچھ مختصر سا تعارف تاکہ سٹوری کو پڑھتے ہوئے آپکو اندازہ ہو کہ کریکٹر دکھنے میں کیسا ہے میرا نام رانا سمیع ہے لیکن سٹوری میں سالار سکندر کا نام استمعال ہوگا میں لاہور کے ساتھ واقعہ ضلع شیخوپورہ کا رہائشی ہوں ابھی میری عمر کوئی 30 سال ہے لیکن جب سے واقعات شروع ہوئے ہیں تب میں 8 یا 9 کا سٹوڈینٹ تھا عمر کوئی 14 یا 15 سال ہوگی رنگ صاف ہے اور قد 5 فٹ 9 انچ ہے جسم دبلا پتلا نا ہے بلکہ نارمل ہے نا زیادہ موٹا نا سمارٹ بلکہ آپ اسے ایک اچھی صحت والا بندہ کہ سکتے ہیں میں گریجوئیشن کی ہے اور اب شادی کے بعد جاب کرتا ہوں تو کہانی شروع کرتے ہیں تاکہ آپ لوگ مزید بوریت سے بچیں
کہانی ان دنوں کی ہے جب میں 7 یا 8 کلاس میں پڑھتا تھا میں شروع سے ہی گورنمنٹ سکول میں پڑھا تھا حالانکہ میں چاہتا تھا کے دوسرے بہت سے بچوں کی طرح پرائیویٹ سکول میں استانیوں سے پڑھوں اچھے یونیفارم پہنوں پر گھر کے حالات ایسے نہیں تھے کہ میں اپنی خواہش پوری کرتا یوں مس سے پڑھنے کے خواب ادھورےہی رہے اور میں نے اپنی پڑھائی گورنمنٹ سکول میں جاری رکھی پڑھائی میں بہت اچھا تھا اور ہمیشہ آگے بیٹھتا تھا اس لئئے میرے جو 3 سے 4 دوست تھے وہ بھی اچھے اور پڑھنے والے تھے آوارہ لڑکوں سے دور ہی رہتے تھے ہم لوگ لیکن جب فری پیریڈ ہوتا تھا تو ہمارا ایک دوست ہمیں اپنی باتیں سناتا تھا کہ کل پھر اسنے اپنے ساتھ والوں کے گھر کی چھت پر ایک خوبصورت لڑکی دیکھی جو شائد مہمان تھی پر اب تو وہ کافی دنوں سے دیکھ رہا تھا اسکے خیال میں وہ نانی کے گھر آئی ہوگی ایسے ہی ہم باتیں کرتے اور پھر چھٹی ٹائم ہم اپنے اپنے گھروں کو ہو لیتے لیکن گھر آکر بھی میرے مائنڈ سے اسکی باتیں نا نکلتی میں سوچتا کہ جیسے اسکی کوئی سہلیی ہے میری بھی ہونی چایئے میری بھی دوست ہو میں بھی اس سے باتیں کروں لیکن فلحال کچھ سمجھ نا آتی کہ ایسی دوست کہاں سے بناوں ان دونوں ہم سب دوستوں کا یہی حال تھا کہ سب کی دوست ہونی چائیے شاید سب کو لگتا تھا کہ اس عمر میں اب ہم بڑے ہو رہے ہیں تو پیار محبت کرنا ہم سب کا حق ہے اس لئیے ہمیں کرنا چائیے کسی لڑکی سے پیار محبت اسکو دوست بنا کے رکھنا چائیے تبھی میرا دھیان ساتھ والوں کے گھر گیا کہ انکی بھی تو بیٹی ہے بلکہ دو دو بیٹیاں ہیں ایک کا نام ندا تھا اور ایک کا نام حنا تھا ندا بڑی تھی سمارٹ سی جبکہ حنا چھوٹی تھی بھرے سے جسم والی پیاری لگتی تھی گول مٹول تب میرا زہن اسی پر اٹک گیا کہ میں اسکو دوست بناوں گا میں نے دن رات اسے دیکھنا شروع کر دیا جب اسنے سکول جانا تو اسکے پیچھے پیچھے جانا یا اسنے ٹیوشن جانا تو واپسی پر راستے میں اسے دیکھنا غرض ان دنوں موبایل وغیرہ نہیں تھے ایسےہی کسی کو احساس دلایا جاتا تھا کہ میں تم میں انٹرسٹڈ ہوں گوکہ وہ ہمارے گھر آتی جاتی تھی ہم اکٹھے کھیلتے بھی تھے پر میں کوئی بات بھی نہیں کرنا چاہتا تھا ڈائریکٹ کیونکہ میں شروع سے ہی اس معاملے میں زرا ڈرپوک واقعہ ہوا تھا خیر یہ سلسلہ کافی دن یونہی چلتا رہا اب اسنے نوٹ کرنا شروع کر دیا کہ سالار مجھے اکثر دیکھتا ہے یا میرے پیچھے پیچھے آتا ہے تب ایک بار میں نے اسے بسکٹ بھی لیکر دئیے تھے جو اسنے رکھ لئیے تھے اب میں اگلا لائحہ عمل سوچ رہا تھا کہ اسکو کیسے بتایا جائے کہ مجھے اس سے دوستی کرنی ہے مجھے پسند آ گئی ہو آپ بس اسی کشمکش میں زہن پھنسا ہوا تھا کہ ایک دن میں چھت پر بیٹھا سکول کا کام کر رہا تھا حنا چھت پر کھیل رہی تھی بچوں ساتھ اتنے میں اسکا کزن آ گیا اور وہ دونوں باتیں کرنے لگے پھرکھیلنے لگے ایک دوسرے ساتھ حنا بہت خوش ہو رہی تھی مجھے دیکھ کر بہت غصہ آیا دل جلا میرا یہ سب دیکھ کے اتنا کہ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے حالنکہ ایسی کوئی جذباتی وابستگی نہیں تھی پھر بھی یہ سب کچھ فیل ہوا میں نے فلحال اسکو دماغ سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا یہ سوچ کر کے وہ پہلے ہی کسی کی اچھی دوست ہے میں اسکو دوست نہیں بناوں گا
ہمیں سکول سے گرمیوں کی چھٹیاں ہوگئی تھی اور سب کو سکول کا کام کرنے کے لئیے دے دیا گیا تھا ہم سب دوست خوش تھے کہ خوب گھومیں گے انجوائے کریں گے لیکن میں اب بھی اداس تھا کہ ایک تو کوئی دوست نہیں بنی تھی دوسرا ہم کہیں گھومنے بھی نہیں جاتے تھے چھٹیوں میں گھر میں رہتے تھے کیونکہ ہماری نانی لوگ ہمارے ساتھ رہتے تھے
وہ گرمیوں کے دن تھے اس دن کافی گرمی تھی دھوپ بہت تیز تھی اور کوئی 12 بجے کا ٹائم تھا سب لوگ کمرے میں تھے تب ہمارے پاس 5 کمرے تھے دو کمرے آگے پیچھے بنے تھے جبکہ ایک اوپر چھت پر اور دو کمرے باہر تھے دروازے پاس جس میں سے ایک بیٹھک کے طور پر استمعال ہوتا تھا میں اور باقی کچھ لوگ پچھلے کمرے میں تھے یہاں میں بتاتا چلوں کہ ہم 5
4 بھائی اور 3 بہن بھائی تھے میں سب بھائیوں میں چھوٹا تھا اور میری ایک آپی کی شادی ہو گئی تھی جبکہ دو بہنیں ابھی کنواری تھی باقی کسی ممبرز کے تعارف کی ضرورت نہیں کیونکہ انکا بیچ میں کردار نہیں کسی کا اگر ضرورت ہوئی تو شامل کر لیا جائے گا
نازیہ نام تھا پر ہم سب نازی ہی کہتے تھے نازی مجھ سے دو سال بڑھی تھی اور تب اسکی عمر کوئی 17 یا 18 سال ہوگی اور میری 15 یا 16 سال ہوگی نازی آپی کا جسم بہت بھرا ہوا تھا نازی آپی کا رنگ بہت صاف تھا اور جسم کا ایک ایک حصہ اپنی مثال آپ تھا اس وقت تو مجھے سائز نہیں پتہ ہوتا تھا پر اب جب معلوم ہے تو اسکے ممے کوئی 32 یا 34 کے بیچ میں سائز تھا جو کہ مجھے ہمیشہ بہت اچھے لگتے تھے
مجھے وہ باقی سب سے پیاری لگتی تھی تب میرا نازی آپی کو لیکر زہن ایسا نہیں تھا بلکل صاف تھا پر ایک دن دوپہر کو وہ چارپائی پر لیٹی سو رہی تھی اور میں بھی ساتھ جا کر لیٹ گیا کیونکہ دوپہر تھی اس لئیے اکثر باقی بھی سب لیٹے تھے میرا منہ ایک سائڈ طرف تھا اور انکا منہ ایک سائڈ طرف تھا کمرے میں ہلکا اندھیرا تھا کیونکہ یہ کمرہ پہلے کمرے کے آگے بنا تھا اس لئیے اس کمرے کو راستہ پہلے کمرے کے درمیان سے دیا گیا تھا پر دروازے کی جگہ کو ایسے ہی رکھا تھا دروازہ نہیں لگایا تھا اس لئیے باہر سے جتنی روشنی آ سکتی تھی پہلے کمرے میں آ رہی تھی اور اس سے آگے روشنی اس کمرے میں آ رہی تھی اچانک میں نے کروٹ لی اور اپنا منہ دوسری طرف کر لیا جہاں نازی آپی کی بیک میری طرف تھی میں نے جب کروٹ لی تو میں پیچھے سے انکو ٹچ ہوا ہلکا سا انہوں نے اس روز بلیک سلک کا ٹراوزر پہنا تھا اور اسکے اوپر ریڈ شرٹ پہنی تھی میرے ساتھ لگنے سے انہیں کوئی فرق نا پڑا کیونکہ ہم اکثر رات کو بھی اکٹھے سو جاتے تھے صحن میں چارپائیاں بچھا کر ایک فین لگا کر تب میں نے اپنا آپ انکے ساتھ لگا رہنا دیا پتہ نہیں آج کیا بات تھی کہ مجھے اچھا محسوس ہو رہا تھا انکے ساتھ لگنا اور دل چاہ رہا تھا ایسے ہی میں انکے ساتھ پیچھے سے جڑا رہوں تب مجھے آمی کی آواز آئی کی سالار میری بات سنو میں اٹھ کر دوسرے کمرے میں گیا اور انسے پوچھا کہ کیا بات ہے امی انہوں نے کہا کی بازار سے یہ سودا لانا ہے میں نے کہا کہ ٹھیک ہے میں لا دیتا ہوں پر میری چارپائی پر کوئی نا لیٹے میں نے آکر سونا ہے امی نے کہا ٹھیک ہے میں بھاگ کر بازار گیا اور سودا لا دیا اس ڈر سے کے کہیں کوئی اور نا لیٹ جائے سونے کے لئیے اور واپس آکر اسی جگہ لیٹ گیا اب مجھے دوبارہ مزہ آنے لگا انکے سلک کے ٹراوزر ساتھ میں ٹچ ہو رہا تھاتو مجھے اچھا لگ رہا تھا تب میں نے محسوس کیا کہ میرالن بھی تھوڑا بڑا ہو رہا ہے اور آپ نازی کی نرم سی بنڈ کے ساتھ سلک کے ٹراوزر کے اوپر سے ٹچ ہو رہا ہے مجھے ہلکا ہلکا سرور آنے لگا اور میں ایسے ہی ساتھ رگڑتا رہا پر آپی سوئی رہیں کافی دیر بعد مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے مجھے زور کا پیشاب آیا ہوا ہے اور میں اٹھ کر واش روم بھاگا اور پیشاب کرنے لگا لیکن آج پیشاب آ ہی نہیں رہا تھا میں نے کافی کوشش کی زور لگایا لیکن پیشاب نہیں نکل رہا تھا بلکہ لن اور بڑا ہو رہا تھا اور اس پر ایسے جیسے پڑیشر بڑھ رہا تھا پیشاب کا تب اچانک میرے لن سے سفید رنگ کا مادہ نکلنے لگا پہلی بار نکلنے کی وجہ سے شاید مجھے بہت مزہ آ رہا تھا پر ساتھ میں ہلکی سے درد بھی ہوئی تھی پر اسکے بعد جب بھی نکلا بہت مزہ آیا تھا پہلے تو میں بہت پریشان ہوا کہ یہ کیا ہوا میرے ساتھ پیشاب کی جگہ کیا نکل آیا ہے تب مجھے خیال آیا کہ ایک بار دوست نے بتایا تھا کہ لن سے ایسے سفید رنگ کا پانی نکلتا ہے جوان ہوکے تو اسکا مطلب میں آج جوان ہو گیا تھا بس اپنی نازی آپی کی ہلکی سی بنڈ کی رگڑ سے لیکن جو بھی تھا مجھے اچھا محسوس ہوا بہت میں تو خوش ہو گیا تھا کہ اب ایسا مزہ روز روز لے سکوں گا اسکے بعد یہ کام چل نکلا وہ اکثر رات کو یا دوپہر کو سوتی تو میں انکے ساتھ لیٹ کر مزہ لینا شروع کر دیتا ایک رات آندھی بہت آئی تھی اور لائیٹ بند ہوگئی تھی ہم صحن میں ایک چار پائی پر لیٹے تھے جبکہ کچھ لوگ چھت پر اور کچھ اندر سوئے تھے نازی آپی نے دوپٹہ لیا ہوا تھا مجھے مچھرا لڑا تو میں بھی دوپٹے کے اندر گھس گیا اور انکو چھیڑنے لگا وہ جاگ رہی تھی انہوں نے مجھے دوپٹے سے باہر دکھیل دیا اور میں پھر اندر چلا گیا اس بار انکی ایک ٹانگ پر اپنی ٹانگ رکھ کر سکون سے لیٹ گیا مزہ لیتے ہوئے پتہ نہیں کب آنکھ لگ گئی نازی آپی مجھے ابھی چھوٹا بچہ ہی سمجھتی تھی اور اس وجہ سے وہ مجھے کچھ نا کہتی بلکہ اپنے ساتھ سونے دیتی تھی وقت گزرتا رہا گرمیوں سے سردیاں آ گئی تھی لیکن میں اکثر مزے لیتا رہا لیکن اسکے بعد بس ایک 2 بار ہی پانی نکلا تھا تو سردیوں میں پچھلے کمرے میں 2 چارپائیاں ہوتی تھی ایک پر میں جب کہ دوسری پر نازی اور بڑی آپی سوتی تھی لیکن نازی آپی میری طرف ہی سوتی تھی چارپائیاں بلکل ساتھ ساتھ جڑی ہوتی تھی میں سب کے سونے کا انتظار کرتا رہتا جب یقین کرلیتا کہ سب سو گئے ہیں تب میں آہستہ سے اپنی رضائی سے ہاتھ نکال کر نازی آپی کی رضائی میں ڈال دیتا اور اسکی ٹانگ کے نرم سی تھائی کو سہلانے لگتا جب انکی طرف سے یقین ہو جاتا کہ وہ سوئی ہیں تب ہاتھ انکے نرم سے پیٹ پر پھیرنے لگ گیا انکا پیٹ بہت پیارا نرم سا تھا اور انکی چھوٹی سی تنی میرا فیورٹ حصہ تھی میں کئی کئی منٹ انکی تھائیز اور پیٹ سے کھیلتا رہتا تھا پھر کبھی انکے سوفٹ سے دودھ کو چھوتا انہیں اپنے ہاتھ میں لیکر دباتا کیونکہ انکو دیکھ کر اکثر مجھے تجسس ہوتا تھا کہ پتہ نہیں کیا چیز ہے جو یہ اتنے ابھرے ہوئے ہیں اوپر سے دبانے کے بعد میں نے انکی قمیض کے اندر ہاتھ ڈالا تھا اور برا کے اوپر سے انکے ممے پکڑے اور مجھے اتنا مزہ آ رہا تھا میں پہلی بار یہاں تک پہنچا تھا اس دوران آپی نے ہلکی سے انگڑائی لی اور میں جلدی سے گھبرا کر ہاتھ باہر نکال لیا اور منہ رضائی میں لے لیا تھوڑی دیر بعد اب میں انکی ٹانگوں کے بیچ ہاتھ ڈال دیا شلوار کے اوپر سے انکی پیاری سے پھدی سے کھیلنئ لگا گیا انکی پھدی کے لپس کو ایسے اوپر سے نیچے تک فنگر سے ہلاتا اور اسکے اوپر فنگر رگڑتا رہتا اور ایک ہاتھ سے رضائی میں موجود اپنے لن کو اوپر نیچے کرکے مٹھ لگاتا رہتا اور تب سوچتا کہ آپی سے اب بات کر لینی چائیے لیکن جیسے ہی میرا پانی نکلتا میری یہ خواہش ختم ہو جاتی اور سکون سے سوجاتا
صبح سکول اور پھر روٹین کا کام رات کو نازی آپ کے ساتھ کھیلنا زندگی ایسے ہی سکون سے گزر رہی تھی آج رات میں پھر نازی آپی کے ساتھ ایسے ہی مزے لے رہا تھا کہ میں نے اپنا ہاتھ انکی شلوار کے اندر ڈال دیا اور انکی پھدی کو اوپر سے سہلانے لگا انکی پھدی اوپر سے خشک تھی جبکہ اندر سے گیلی ہو چکی تھی تب مجھے نہیں تھا پتہ ہوتا کہ یہ گیلی کیوں ہوئی ہے اور اسکا مطلب کیا ہے اگر اندازہ ہوتا تو نازی آپی کو وہیں چود دیتا لیکن چودنا صرف اس لئیے نہیں ہو پارہا تھا کہ ساتھ بڑی آپی سوئی ہوتی تھی اس لئیے بس ایسے ہی مزے آ رہے تھے میں نے اپنا ہاتھ انکی شلوار سے باہر نکال کے لن کو رضائی سے باہر نکال کر انکے ہاتھ میں دے دیا اور ہاتھ سے ایسے اوپر نیچے کرنے لگ گیا انکے ہاتھ گرم تھے اور انکے ہاتھ میں آتے ہی لن میں جیسے جان پڑ گئی ہو وہ زیادہ بڑا ہوا تھا اور میں انکے ہاتھ سے مٹھ لگا رہا تھا ساتھ انکے دودھ کو چھیڑ رہا تھا یہ ایک بہت بڑا سین تھا میرے لئیے نازی آپی نے کوئی ری ایکشن نیں دیا تھا بلکہ میرے حوالے کر دیا تھا خود کو شائد اور میں اب روز یا دوسرے دن انکے ہاتھ سے مٹھ لگواتا اور انکی پھدی کو فنگر سے ٹچ کرتا رہتا اور پھر سو جاتا بات یہاں سے آگے نہیں بڑھ رہی تھی پر ایک رات میں نے ہمت کر کے آپی کا دایاں مما باہر نکال کے چوسنے لگ گیا اس دن جیسے میری عید تھی میری برسوں کی خواہش تھی کہ نازی آپی کا دودھ چوسوں اور وہ میری پوری ہورہی تھی تھوڑی دیر بعد ہی ڈر کے میں نے جلدی سے دودھ واپس قمیض میں کر دیا اور سو گیا
کافی دنوں بعد میں ایک رات پچھلے اندر کی بجائے باہر والے کمرے میں سوگیا وہاں پر بڑا منجا تھا اس پر لیٹا ہی تھا کہ مجھے نیند آ گئی رات جب آنکھ کھلی تو ٹائم دیکھا 12 بج رہے تھے اندر دیکھا تو آج میری چارپائی پر نازی آپی سوئی تھی اب میں بڑا ہو گیا تھا اور ہم ایک ساتھ نہیں سوتے تھے اس لئیے میں سوچنے لگ گیا کہ اب کیا کروں تب میں اپنے بستر سے اٹھا اور انکی روم میں جا کر انکی چارپایی کے پاس بیٹھ گیا نیچے زمین پر اور انکی تھائیز اور پیٹ کو چھیڑنے لگ گیا اور ایسے ہی چھیڑ رہا تھا کہ اچانک انکی آنکھ کھلی اور وہ میری طرف دیکھنے لگ گئی انہوں نے بولا کچھ نہیں لیکن میری تو جیسے سیٹی گم ہو گئی میں ڈر گیا اور فورا اٹھ کر کمرے میں آ گیا اور لیٹ گیا اور ڈر کر سوچنے لگا کہ اب کیا ہوگا اتنے میں آپی نازی اٹھی روم سے باہر آئی اور واش روم چلی گئی میں انتظار کرنے لگا کہ اب کیا کریں گی تب وہ واپس آئی اور آکر بجائے اپنے کمرے میں جا کر اپنی چارپائی پر لیٹتٹی وہ میرے پاس آکر لیٹ گئی اور پھر تھوڑی دیر بعد میری طرف منہ کر لیا اور مجھے اپنے ساتھ زور سے لگا لیا اور پھر ہاتھ ڈال کر میرے لن کو پکڑ لیا پر میرا لن تو ڈر کے مارے سویا ہوا تھا چھوٹی سئ للی بنی تھی انہوں نے اسکو پکڑ کے ایسے ہلایا پر اب تو انکے ہاتھ کا بھی اثر نہیں ہو رہا تھا انہوں نے ایسے اسکو اپنے ساتھ لگا لیا مجھے زور سے گلے سے لگا لیا اور نیچے سے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر ٹانگوں کے بیچ لے لیا تب وہ بہت زیادہ گرم تھی اور مجھے بہت مزہ آ رہا تھا 😋 میں انکے ساتھ چپکا ہوا تھا انکے ممے اپنے منہ پر محسوس کر رہا تھا اچانک انہوں نے مجھے زور سے اپنے ساتھ بھینچ دیا اور کچھ دیر ایسے ہی رہنے کے بعد مجھے چھوڑ کر اپنے بستر پر چلی گئی شائد وہ فارغ ہو چکی تھی اور میں ابھی تک حیران پریشان لیٹا سوچ رہا تھا کہ یہ اچانک ہوا کیا ہے کیسے وہ اتنی مہربان ہوکر میرے پاس آئی اور مجھے اپنے ساتھ لگا کر زور سے جپھی ڈال کر لن پکڑ کر پھدی پر رگڑتی رہی اور پھر چلی گئی یہی سوچتے ہوئے مجھے نیند آگئی تھی اور پھر تقریبا ہفتے میں 2 سے 3بار میں انکے جسم سے کھیلتا اور مزہ لیتا تھا لیکن نازی آپی نے مجھے کبھی منع نا کیا تھا شائد وہ جانتی تھی یا شائد سوئی ہوتی تھی سچ میں کچھ اندازہ نہیں ہے ایسے ہی کافی مہینے گزر گئے لیکن میرا کھیل اس سے آگے نا بڑھ سکا تھا ہم دن میں بلکل نارمل رہتے تھے جیسے رات کوئی بات ہوئی نا ہو لیکن رات میں میں ان سے اپنی مٹھ لگوا لیا کرتا تھا اس دوران گرمیاں آ گئی تھی اور ہم سب باہر صحن میں سونے لگ گئے تھے سب لوگ ہوتے تھے اس لئیے اب پہلے جیسی موج نہیں تھی میں بھی بڑا ہو گیا تھا 18 کا اور وہ بھی 20 21 کی ہو گئی تھی اس لئیے اب مزے ختم ہو گئے تھے لیکن انکے ساتھ گزرا ٹائم بہت یاد آتا تھا اس دوران انہوں نے گھر میں موجود بٹنوں والا فون استمعال کرنا شروع کر دیا تھا میرے پاس بھی فون تھا میں نے پلان بنایا انکو کوئی سیکسی سٹوری میسج پہ سناوں اور انکا ری ایکشن دیکھوں ان دنوں سم کارڈ بغیر نام کے مل جاتی تھی عام ہی میں نے ایک نیا سم کارڈ لیا اور رات کو جب دیکھا کہ موبائل انکے ہاتھ میں ہے انکو میسج کر دیا انکے پاس میسج پیکج ہوتا تھا اور میرے پاس بھی یہی تھا اب سردیاں شروع ہو چکی تھی سب اب کمروں میں ہوتے تھے تو رات کو میں نے لکھا کہ بلو جاب بہت مزے کی کرتئ ہوں یی لکھ کر بھیج دیا
آپی نازی کا میسج آیا کون اور یہ کیا لکھا یے
میں نے کہا اسکا مطلب ہے کہ لن کو منہ میں لیکر چوسنا اور مزے کرنا اور وہ بھی میں اپنے بھائی کے ساتھ کرتی ہوں یہ لکھ کر بھیج دیا
تب آپی کا تھوڑی دیر تک کوئی ریپلائی اور میسج نا آیا لیکن کچھ دیر بعد انکا میسج آیا کہ گندی۔۔۔۔تم ایسے کیسے کر لیتی ہو میں نے کہا مجھے اپنی دوست بنا لیں میں آپکو سب بتاوں گی سٹوری سناوں گی آپی پہلے تو نا مانی پر پھر مان گئی اور مجھے کہا بتاو کونسی سٹوری کہ رہی تھی میں نے اسے بہن بھائی کی جھوٹی سچی سٹوری بتا دی کہ میں ایسے بھائی کے ساتھ مزے کرتی ہوں یہ وہ اور اگر تم بھی بھائی کے ساتھ مزے چاہتی ہو تو میری بات سنو صبح اٹھ کر جب پوچا لگاتی ہو تب جب سامنے تمہارا بھائی ہو زرا جھک کر لگانا اور اپنا گلا دکھانا کھلا سا اور دیکھنا بھائی تمہارا دیکھتا ہے یا نہیں اس نے کہا اچھا اور اس صبح جب میں اٹھا تو دیکھا واقعی نازی آپی ایسے جیسے مجھے جھک کر اپنا گلا ہی دکھا رہی تھی میں نے بھی تھوڑی دیر دیکھا اور پھر باہر چلا گیا پھر رات کو میں نے انسے بات کی اور پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہاں دیکھا ہے اس نے پر میں کچھ نہیں چاہتی مزید کچھ دن میں اسے سیکس سٹوریز سناتا رہا جسے سن کر وہ بہت گرم ہو جاتی تھی اور شائد اپنی پھدی پر فنگر پھیرتی تھی کیونکہ اسکا منہ رضائی میں ہوتا تھا لیکن مجھے لگتا تھا جیسے وہ سسکاریاں بھر رہی ہے ساتھ مجھے آواز محسوس ہوتی تھی لیکن جب میں اسکے بستر کے پاس جا کر دیکھتا تو ایسا کچھ نہیں ہوتا تھا مجھے لگا جیسے میرا وہم ہی ہو پھر کچھ دنوں بعد گھر کا فون خراب ہو گیا اور یہ سلسلہ بھی ختم ہو گیا نازی آپی کو میں نے واش روم میں نہاتے ہوئے بھی دیکھا تھا از دن گھر والے سب اوپر تھے تو میں نیچے کسی کام سے گیا تھا تو مجھے لگا کوئی نہا رہا ہے واش روم کے دروازے میں چھوٹا سا سوراخ تھا جو پینٹ اترنے کی وجہ سے ہوا تھا میں نے پھر زرا سوراخ میں دیکھا تو وہ نازی آپی تھی نہا رہی تھی انکی بنڈ میری طرف تھی اور وہ شاور کے نیچے کھڑی ہو کر نہا رہی تھی ایسا بہت کم ہوتا تھا کہ نیچے والا صحن خالی ہوتا تھا اس لئیے یہ نظارہ میں کچھ لمحات تک دیکھتا رہا اور پھر وہاں سے چلا گیا تھا اسکے بعد انکی شادی ہو گئی تھی اور چلی گئی تھی لاہور دوستوں یہ ایک سچے واقعات پر مشتمل کہانی ہے اس میں زرا برابر بھی جھوٹ نہیں ہے اور انسیسٹ سیکس رئیل میں بس اتنا ہی ہو سکتا ہے اس سے زیادہ جو بتاتے ہیں وہ اکثر جھوٹ ہوتا ہے اور یہاں جو جو بہن کے عاشق ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ سب صحیح ہے کیونکہ یہ سب انکے ساتھ بھی ہو چکا ہوگا سپیشلی جب رات کے اندھیرے میں ہلکے سے ڈر کے ساتھ بہن کے بدن کو چھونا یہ ایسا مزہ ہے کہ سیکس ہچھ بھی نہیں اسکے آگے ۔۔۔ آپ لوگ کمنٹ کرکے بتائیں کہ یی سٹوری کیسی لگی پھر میں اپنی زندگی کے باقی کے واقعات لکھوں گا میں کوئی رائٹر نہیں ہوں اس لئیے اس کو شائد سٹوری کی طرح نہیں لکھ سکا لیکن جیسے جیسے واقعات ہوئے لکھ دیا اب آپ کمنٹ میں بتائیں اگلی اپ ڈیٹ دوں نا دوں آگے اپنی بھابھی سے سیکس ہے ہمسائی سے سیکس ہے اور کیوٹ سی دوست کے ساتھ بھی۔۔اور ابھی تک سلسلہ جاری ہے۔۔۔




Offline RanaSami007

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 15
  • Reputation: +0/-0
    • View Profile
Re: میری خواہشات کچھ ادھوری کچھ مکمل )in**st)
« Reply #4 on: July 23, 2020, 03:36:22 pm »
یار فونٹ سائز کیسے بڑا کرتے ہیں

Offline RanaSami007

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 15
  • Reputation: +0/-0
    • View Profile
Re: میری خواہشات کچھ ادھوری کچھ مکمل )in**st)
« Reply #5 on: July 23, 2020, 03:36:52 pm »
کوئی موڈریٹر بتا دیں

Offline RanaSami007

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 15
  • Reputation: +0/-0
    • View Profile
Re: میری خواہشات کچھ ادھوری کچھ مکمل )in**st)
« Reply #6 on: July 23, 2020, 03:50:43 pm »


Yum Stories

کے تمام ممبرز اور انتظامیہ کو میرا سلام کہ انہوں نے اردو کی سٹوریز اور اپنی آپ بیتی کے لئیے اتنا اچھا پلیٹ فارم مہیا کیا ہوا ہے بہت دیر سے میں خاموش قاری ہوں اس ویب سائٹ کا اور ایک دو اور تھی وہ تو شائد اب ملتی نہیں ہے بند ہو گئی ہیں شاید

ایک بات میں کہنا چاہوں گا کہ میری کہانی میں کوئی زیادہ مرچ مصالحہ نہیں ہے اتنا زیادہ کہ پڑھ کے ہنسی آئے یا فیک لگے میری سٹوری بلکل سچائی پر مبنی ہے پر ہو سکتا ہے کہ قائرین کرام کے رائے پر اور انکے جذبات کو دیکھتے ہوئے کچھ ایکسٹرا شامل کر لیں مطلب جن سے بس ہماری چھیڑ چھاڑ ہوئی ہے انکو بھی بیڈ تک لے آئیں تاکہ کہانی کا مزہ خراب رہے نہ ہو

یہ سٹوری گھریلو in**st سے شروع ہوکر گھومے گی مختلف کرداروں کے گرد میں کوئی رائٹر نہیں ہوں اور نا ہی کبھی پہلے کوئی سٹوری لکھی ہے ہاں پڑھی بہت زیادہ ہیں اس لئیے میری چھوٹی موٹی املا کی اور سٹوری میں موجود غلطیوں کو اگنور کر دئجئے گا بلکہ ہو سکے تو نشاندہی کر دیں تاکہ میری تصحیح ہو سکے


کہانی سے پہلے کچھ مختصر سا تعارف تاکہ سٹوری کو پڑھتے ہوئے آپکو اندازہ ہو کہ کریکٹر دکھنے میں کیسا ہے میرا نام رانا سمیع ہے لیکن سٹوری میں سالار سکندر کا نام استمعال ہوگا میں لاہور کے ساتھ واقعہ ضلع شیخوپورہ کا رہائشی ہوں ابھی میری عمر کوئی 30 سال ہے لیکن جب سے واقعات شروع ہوئے ہیں تب میں 8 یا 9 کا سٹوڈینٹ تھا عمر کوئی 14 یا 15 سال ہوگی رنگ صاف ہے اور قد 5 فٹ 9 انچ ہے جسم دبلا پتلا نا ہے بلکہ نارمل ہے نا زیادہ موٹا نا سمارٹ بلکہ آپ اسے ایک اچھی صحت والا بندہ کہ سکتے ہیں میں گریجوئیشن کی ہے اور اب شادی کے بعد جاب کرتا ہوں تو کہانی شروع کرتے ہیں تاکہ آپ لوگ مزید بوریت سے بچیں

کہانی ان دنوں کی ہے جب میں 7 یا 8 کلاس میں پڑھتا تھا میں شروع سے ہی گورنمنٹ سکول میں پڑھا تھا حالانکہ میں چاہتا تھا کے دوسرے بہت سے بچوں کی طرح پرائیویٹ سکول میں استانیوں سے پڑھوں اچھے یونیفارم پہنوں پر گھر کے حالات ایسے نہیں تھے کہ میں اپنی خواہش پوری کرتا یوں مس سے پڑھنے کے خواب ادھورےہی رہے اور میں نے اپنی پڑھائی گورنمنٹ سکول میں جاری رکھی پڑھائی میں بہت اچھا تھا اور ہمیشہ آگے بیٹھتا تھا اس لئئے میرے جو 3 سے 4 دوست تھے وہ بھی اچھے اور پڑھنے والے تھے آوارہ لڑکوں سے دور ہی رہتے تھے ہم لوگ لیکن جب فری پیریڈ ہوتا تھا تو ہمارا ایک دوست ہمیں اپنی باتیں سناتا تھا کہ کل پھر اسنے اپنے ساتھ والوں کے گھر کی چھت پر ایک خوبصورت لڑکی دیکھی جو شائد مہمان تھی پر اب تو وہ کافی دنوں سے دیکھ رہا تھا اسکے خیال میں وہ نانی کے گھر آئی ہوگی ایسے ہی ہم باتیں کرتے اور پھر چھٹی ٹائم ہم اپنے اپنے گھروں کو ہو لیتے لیکن گھر آکر بھی میرے مائنڈ سے اسکی باتیں نا نکلتی میں سوچتا کہ جیسے اسکی کوئی سہلیی ہے میری بھی ہونی چایئے میری بھی دوست ہو میں بھی اس سے باتیں کروں لیکن فلحال کچھ سمجھ نا آتی کہ ایسی دوست کہاں سے بناوں ان دونوں ہم سب دوستوں کا یہی حال تھا کہ سب کی دوست ہونی چائیے شاید سب کو لگتا تھا کہ اس عمر میں اب ہم بڑے ہو رہے ہیں تو پیار محبت کرنا ہم سب کا حق ہے اس لئیے ہمیں کرنا چائیے کسی لڑکی سے پیار محبت اسکو دوست بنا کے رکھنا چائیے تبھی میرا دھیان ساتھ والوں کے گھر گیا کہ انکی بھی تو بیٹی ہے بلکہ دو دو بیٹیاں ہیں ایک کا نام ندا تھا اور ایک کا نام حنا تھا ندا بڑی تھی سمارٹ سی جبکہ حنا چھوٹی تھی بھرے سے جسم والی پیاری لگتی تھی گول مٹول تب میرا زہن اسی پر اٹک گیا کہ میں اسکو دوست بناوں گا میں نے دن رات اسے دیکھنا شروع کر دیا جب اسنے سکول جانا تو اسکے پیچھے پیچھے جانا یا اسنے ٹیوشن جانا تو واپسی پر راستے میں اسے دیکھنا غرض ان دنوں موبایل وغیرہ نہیں تھے ایسےہی کسی کو احساس دلایا جاتا تھا کہ میں تم میں انٹرسٹڈ ہوں گوکہ وہ ہمارے گھر آتی جاتی تھی ہم اکٹھے کھیلتے بھی تھے پر میں کوئی بات بھی نہیں کرنا چاہتا تھا ڈائریکٹ کیونکہ میں شروع سے ہی اس معاملے میں زرا ڈرپوک واقعہ ہوا تھا خیر یہ سلسلہ کافی دن یونہی چلتا رہا اب اسنے نوٹ کرنا شروع کر دیا کہ سالار مجھے اکثر دیکھتا ہے یا میرے پیچھے پیچھے آتا ہے تب ایک بار میں نے اسے بسکٹ بھی لیکر دئیے تھے جو اسنے رکھ لئیے تھے اب میں اگلا لائحہ عمل سوچ رہا تھا کہ اسکو کیسے بتایا جائے کہ مجھے اس سے دوستی کرنی ہے مجھے پسند آ گئی ہو آپ بس اسی کشمکش میں زہن پھنسا ہوا تھا کہ ایک دن میں چھت پر بیٹھا سکول کا کام کر رہا تھا حنا چھت پر کھیل رہی تھی بچوں ساتھ اتنے میں اسکا کزن آ گیا اور وہ دونوں باتیں کرنے لگے پھرکھیلنے لگے ایک دوسرے ساتھ حنا بہت خوش ہو رہی تھی مجھے دیکھ کر بہت غصہ آیا دل جلا میرا یہ سب دیکھ کے اتنا کہ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے حالنکہ ایسی کوئی جذباتی وابستگی نہیں تھی پھر بھی یہ سب کچھ فیل ہوا میں نے فلحال اسکو دماغ سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا یہ سوچ کر کے وہ پہلے ہی کسی کی اچھی دوست ہے میں اسکو دوست نہیں بناوں گا

ہمیں سکول سے گرمیوں کی چھٹیاں ہوگئی تھی اور سب کو سکول کا کام کرنے کے لئیے دے دیا گیا تھا ہم سب دوست خوش تھے کہ خوب گھومیں گے انجوائے کریں گے لیکن میں اب بھی اداس تھا کہ ایک تو کوئی دوست نہیں بنی تھی دوسرا ہم کہیں گھومنے بھی نہیں جاتے تھے چھٹیوں میں گھر میں رہتے تھے کیونکہ ہماری نانی لوگ ہمارے ساتھ رہتے تھے

وہ گرمیوں کے دن تھے اس دن کافی گرمی تھی دھوپ بہت تیز تھی اور کوئی 12 بجے کا ٹائم تھا سب لوگ کمرے میں تھے تب ہمارے پاس 5 کمرے تھے دو کمرے آگے پیچھے بنے تھے جبکہ ایک اوپر چھت پر اور دو کمرے باہر تھے دروازے پاس جس میں سے ایک بیٹھک کے طور پر استمعال ہوتا تھا میں اور باقی کچھ لوگ پچھلے کمرے میں تھے یہاں میں بتاتا چلوں کہ ہم 5

4 بھائی اور 3 بہن بھائی تھے میں سب بھائیوں میں چھوٹا تھا اور میری ایک آپی کی شادی ہو گئی تھی جبکہ دو بہنیں ابھی کنواری تھی باقی کسی ممبرز کے تعارف کی ضرورت نہیں کیونکہ انکا بیچ میں کردار نہیں کسی کا اگر ضرورت ہوئی تو شامل کر لیا جائے گا

نازیہ نام تھا پر ہم سب نازی ہی کہتے تھے نازی مجھ سے دو سال بڑھی تھی اور تب اسکی عمر کوئی 17 یا 18 سال ہوگی اور میری 15 یا 16 سال ہوگی نازی آپی کا جسم بہت بھرا ہوا تھا نازی آپی کا رنگ بہت صاف تھا اور جسم کا ایک ایک حصہ اپنی مثال آپ تھا اس وقت تو مجھے سائز نہیں پتہ ہوتا تھا پر اب جب معلوم ہے تو اسکے ممے کوئی 32 یا 34 کے بیچ میں سائز تھا جو کہ مجھے ہمیشہ بہت اچھے لگتے تھے

مجھے وہ باقی سب سے پیاری لگتی تھی تب میرا نازی آپی کو لیکر زہن ایسا نہیں تھا بلکل صاف تھا پر ایک دن دوپہر کو وہ چارپائی پر لیٹی سو رہی تھی اور میں بھی ساتھ جا کر لیٹ گیا کیونکہ دوپہر تھی اس لئیے اکثر باقی بھی سب لیٹے تھے میرا منہ ایک سائڈ طرف تھا اور انکا منہ ایک سائڈ طرف تھا کمرے میں ہلکا اندھیرا تھا کیونکہ یہ کمرہ پہلے کمرے کے آگے بنا تھا اس لئیے اس کمرے کو راستہ پہلے کمرے کے درمیان سے دیا گیا تھا پر دروازے کی جگہ کو ایسے ہی رکھا تھا دروازہ نہیں لگایا تھا اس لئیے باہر سے جتنی روشنی آ سکتی تھی پہلے کمرے میں آ رہی تھی اور اس سے آگے روشنی اس کمرے میں آ رہی تھی اچانک میں نے کروٹ لی اور اپنا منہ دوسری طرف کر لیا جہاں نازی آپی کی بیک میری طرف تھی میں نے جب کروٹ لی تو میں پیچھے سے انکو ٹچ ہوا ہلکا سا انہوں نے اس روز بلیک سلک کا ٹراوزر پہنا تھا اور اسکے اوپر ریڈ شرٹ پہنی تھی میرے ساتھ لگنے سے انہیں کوئی فرق نا پڑا کیونکہ ہم اکثر رات کو بھی اکٹھے سو جاتے تھے صحن میں چارپائیاں بچھا کر ایک فین لگا کر تب میں نے اپنا آپ انکے ساتھ لگا رہنا دیا پتہ نہیں آج کیا بات تھی کہ مجھے اچھا محسوس ہو رہا تھا انکے ساتھ لگنا اور دل چاہ رہا تھا ایسے ہی میں انکے ساتھ پیچھے سے جڑا رہوں تب مجھے آمی کی آواز آئی کی سالار میری بات سنو میں اٹھ کر دوسرے کمرے میں گیا اور انسے پوچھا کہ کیا بات ہے امی انہوں نے کہا کی بازار سے یہ سودا لانا ہے میں نے کہا کہ ٹھیک ہے میں لا دیتا ہوں پر میری چارپائی پر کوئی نا لیٹے میں نے آکر سونا ہے امی نے کہا ٹھیک ہے میں بھاگ کر بازار گیا اور سودا لا دیا اس ڈر سے کے کہیں کوئی اور نا لیٹ جائے سونے کے لئیے اور واپس آکر اسی جگہ لیٹ گیا اب مجھے دوبارہ مزہ آنے لگا انکے سلک کے ٹراوزر ساتھ میں ٹچ ہو رہا تھاتو مجھے اچھا لگ رہا تھا تب میں نے محسوس کیا کہ میرالن بھی تھوڑا بڑا ہو رہا ہے اور آپ نازی کی نرم سی بنڈ کے ساتھ سلک کے ٹراوزر کے اوپر سے ٹچ ہو رہا ہے مجھے ہلکا ہلکا سرور آنے لگا اور میں ایسے ہی ساتھ رگڑتا رہا پر آپی سوئی رہیں کافی دیر بعد مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے مجھے زور کا پیشاب آیا ہوا ہے اور میں اٹھ کر واش روم بھاگا اور پیشاب کرنے لگا لیکن آج پیشاب آ ہی نہیں رہا تھا میں نے کافی کوشش کی زور لگایا لیکن پیشاب نہیں نکل رہا تھا بلکہ لن اور بڑا ہو رہا تھا اور اس پر ایسے جیسے پڑیشر بڑھ رہا تھا پیشاب کا تب اچانک میرے لن سے سفید رنگ کا مادہ نکلنے لگا پہلی بار نکلنے کی وجہ سے شاید مجھے بہت مزہ آ رہا تھا پر ساتھ میں ہلکی سے درد بھی ہوئی تھی پر اسکے بعد جب بھی نکلا بہت مزہ آیا تھا پہلے تو میں بہت پریشان ہوا کہ یہ کیا ہوا میرے ساتھ پیشاب کی جگہ کیا نکل آیا ہے تب مجھے خیال آیا کہ ایک بار دوست نے بتایا تھا کہ لن سے ایسے سفید رنگ کا پانی نکلتا ہے جوان ہوکے تو اسکا مطلب میں آج جوان ہو گیا تھا بس اپنی نازی آپی کی ہلکی سی بنڈ کی رگڑ سے لیکن جو بھی تھا مجھے اچھا محسوس ہوا بہت میں تو خوش ہو گیا تھا کہ اب ایسا مزہ روز روز لے سکوں گا اسکے بعد یہ کام چل نکلا وہ اکثر رات کو یا دوپہر کو سوتی تو میں انکے ساتھ لیٹ کر مزہ لینا شروع کر دیتا ایک رات آندھی بہت آئی تھی اور لائیٹ بند ہوگئی تھی ہم صحن میں ایک چار پائی پر لیٹے تھے جبکہ کچھ لوگ چھت پر اور کچھ اندر سوئے تھے نازی آپی نے دوپٹہ لیا ہوا تھا مجھے مچھرا لڑا تو میں بھی دوپٹے کے اندر گھس گیا اور انکو چھیڑنے لگا وہ جاگ رہی تھی انہوں نے مجھے دوپٹے سے باہر دکھیل دیا اور میں پھر اندر چلا گیا اس بار انکی ایک ٹانگ پر اپنی ٹانگ رکھ کر سکون سے لیٹ گیا مزہ لیتے ہوئے پتہ نہیں کب آنکھ لگ گئی نازی آپی مجھے ابھی چھوٹا بچہ ہی سمجھتی تھی اور اس وجہ سے وہ مجھے کچھ نا کہتی بلکہ اپنے ساتھ سونے دیتی تھی وقت گزرتا رہا گرمیوں سے سردیاں آ گئی تھی لیکن میں اکثر مزے لیتا رہا لیکن اسکے بعد بس ایک 2 بار ہی پانی نکلا تھا تو سردیوں میں پچھلے کمرے میں 2 چارپائیاں ہوتی تھی ایک پر میں جب کہ دوسری پر نازی اور بڑی آپی سوتی تھی لیکن نازی آپی میری طرف ہی سوتی تھی چارپائیاں بلکل ساتھ ساتھ جڑی ہوتی تھی میں سب کے سونے کا انتظار کرتا رہتا جب یقین کرلیتا کہ سب سو گئے ہیں تب میں آہستہ سے اپنی رضائی سے ہاتھ نکال کر نازی آپی کی رضائی میں ڈال دیتا اور اسکی ٹانگ کے نرم سی تھائی کو سہلانے لگتا جب انکی طرف سے یقین ہو جاتا کہ وہ سوئی ہیں تب ہاتھ انکے نرم سے پیٹ پر پھیرنے لگ گیا انکا پیٹ بہت پیارا نرم سا تھا اور انکی چھوٹی سی تنی میرا فیورٹ حصہ تھی میں کئی کئی منٹ انکی تھائیز اور پیٹ سے کھیلتا رہتا تھا پھر کبھی انکے سوفٹ سے دودھ کو چھوتا انہیں اپنے ہاتھ میں لیکر دباتا کیونکہ انکو دیکھ کر اکثر مجھے تجسس ہوتا تھا کہ پتہ نہیں کیا چیز ہے جو یہ اتنے ابھرے ہوئے ہیں اوپر سے دبانے کے بعد میں نے انکی قمیض کے اندر ہاتھ ڈالا تھا اور برا کے اوپر سے انکے ممے پکڑے اور مجھے اتنا مزہ آ رہا تھا میں پہلی بار یہاں تک پہنچا تھا اس دوران آپی نے ہلکی سے انگڑائی لی اور میں جلدی سے گھبرا کر ہاتھ باہر نکال لیا اور منہ رضائی میں لے لیا تھوڑی دیر بعد اب میں انکی ٹانگوں کے بیچ ہاتھ ڈال دیا شلوار کے اوپر سے انکی پیاری سے پھدی سے کھیلنئ لگا گیا انکی پھدی کے لپس کو ایسے اوپر سے نیچے تک فنگر سے ہلاتا اور اسکے اوپر فنگر رگڑتا رہتا اور ایک ہاتھ سے رضائی میں موجود اپنے لن کو اوپر نیچے کرکے مٹھ لگاتا رہتا اور تب سوچتا کہ آپی سے اب بات کر لینی چائیے لیکن جیسے ہی میرا پانی نکلتا میری یہ خواہش ختم ہو جاتی اور سکون سے سوجاتا

صبح سکول اور پھر روٹین کا کام رات کو نازی آپ کے ساتھ کھیلنا زندگی ایسے ہی سکون سے گزر رہی تھی آج رات میں پھر نازی آپی کے ساتھ ایسے ہی مزے لے رہا تھا کہ میں نے اپنا ہاتھ انکی شلوار کے اندر ڈال دیا اور انکی پھدی کو اوپر سے سہلانے لگا انکی پھدی اوپر سے خشک تھی جبکہ اندر سے گیلی ہو چکی تھی تب مجھے نہیں تھا پتہ ہوتا کہ یہ گیلی کیوں ہوئی ہے اور اسکا مطلب کیا ہے اگر اندازہ ہوتا تو نازی آپی کو وہیں چود دیتا لیکن چودنا صرف اس لئیے نہیں ہو پارہا تھا کہ ساتھ بڑی آپی سوئی ہوتی تھی اس لئیے بس ایسے ہی مزے آ رہے تھے میں نے اپنا ہاتھ انکی شلوار سے باہر نکال کے لن کو رضائی سے باہر نکال کر انکے ہاتھ میں دے دیا اور ہاتھ سے ایسے اوپر نیچے کرنے لگ گیا انکے ہاتھ گرم تھے اور انکے ہاتھ میں آتے ہی لن میں جیسے جان پڑ گئی ہو وہ زیادہ بڑا ہوا تھا اور میں انکے ہاتھ سے مٹھ لگا رہا تھا ساتھ انکے دودھ کو چھیڑ رہا تھا یہ ایک بہت بڑا سین تھا میرے لئیے نازی آپی نے کوئی ری ایکشن نیں دیا تھا بلکہ میرے حوالے کر دیا تھا خود کو شائد اور میں اب روز یا دوسرے دن انکے ہاتھ سے مٹھ لگواتا اور انکی پھدی کو فنگر سے ٹچ کرتا رہتا اور پھر سو جاتا بات یہاں سے آگے نہیں بڑھ رہی تھی پر ایک رات میں نے ہمت کر کے آپی کا دایاں مما باہر نکال کے چوسنے لگ گیا اس دن جیسے میری عید تھی میری برسوں کی خواہش تھی کہ نازی آپی کا دودھ چوسوں اور وہ میری پوری ہورہی تھی تھوڑی دیر بعد ہی ڈر کے میں نے جلدی سے دودھ واپس قمیض میں کر دیا اور سو گیا

کافی دنوں بعد میں ایک رات پچھلے اندر کی بجائے باہر والے کمرے میں سوگیا وہاں پر بڑا منجا تھا اس پر لیٹا ہی تھا کہ مجھے نیند آ گئی رات جب آنکھ کھلی تو ٹائم دیکھا 12 بج رہے تھے اندر دیکھا تو آج میری چارپائی پر نازی آپی سوئی تھی اب میں بڑا ہو گیا تھا اور ہم ایک ساتھ نہیں سوتے تھے اس لئیے میں سوچنے لگ گیا کہ اب کیا کروں تب میں اپنے بستر سے اٹھا اور انکی روم میں جا کر انکی چارپایی کے پاس بیٹھ گیا نیچے زمین پر اور انکی تھائیز اور پیٹ کو چھیڑنے لگ گیا اور ایسے ہی چھیڑ رہا تھا کہ اچانک انکی آنکھ کھلی اور وہ میری طرف دیکھنے لگ گئی انہوں نے بولا کچھ نہیں لیکن میری تو جیسے سیٹی گم ہو گئی میں ڈر گیا اور فورا اٹھ کر کمرے میں آ گیا اور لیٹ گیا اور ڈر کر سوچنے لگا کہ اب کیا ہوگا اتنے میں آپی نازی اٹھی روم سے باہر آئی اور واش روم چلی گئی میں انتظار کرنے لگا کہ اب کیا کریں گی تب وہ واپس آئی اور آکر بجائے اپنے کمرے میں جا کر اپنی چارپائی پر لیٹتٹی وہ میرے پاس آکر لیٹ گئی اور پھر تھوڑی دیر بعد میری طرف منہ کر لیا اور مجھے اپنے ساتھ زور سے لگا لیا اور پھر ہاتھ ڈال کر میرے لن کو پکڑ لیا پر میرا لن تو ڈر کے مارے سویا ہوا تھا چھوٹی سئ للی بنی تھی انہوں نے اسکو پکڑ کے ایسے ہلایا پر اب تو انکے ہاتھ کا بھی اثر نہیں ہو رہا تھا انہوں نے ایسے اسکو اپنے ساتھ لگا لیا مجھے زور سے گلے سے لگا لیا اور نیچے سے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر ٹانگوں کے بیچ لے لیا تب وہ بہت زیادہ گرم تھی اور مجھے بہت مزہ آ رہا تھا 😋 میں انکے ساتھ چپکا ہوا تھا انکے ممے اپنے منہ پر محسوس کر رہا تھا اچانک انہوں نے مجھے زور سے اپنے ساتھ بھینچ دیا اور کچھ دیر ایسے ہی رہنے کے بعد مجھے چھوڑ کر اپنے بستر پر چلی گئی شائد وہ فارغ ہو چکی تھی اور میں ابھی تک حیران پریشان لیٹا سوچ رہا تھا کہ یہ اچانک ہوا کیا ہے کیسے وہ اتنی مہربان ہوکر میرے پاس آئی اور مجھے اپنے ساتھ لگا کر زور سے جپھی ڈال کر لن پکڑ کر پھدی پر رگڑتی رہی اور پھر چلی گئی یہی سوچتے ہوئے مجھے نیند آگئی تھی اور پھر تقریبا ہفتے میں 2 سے 3بار میں انکے جسم سے کھیلتا اور مزہ لیتا تھا لیکن نازی آپی نے مجھے کبھی منع نا کیا تھا شائد وہ جانتی تھی یا شائد سوئی ہوتی تھی سچ میں کچھ اندازہ نہیں ہے ایسے ہی کافی مہینے گزر گئے لیکن میرا کھیل اس سے آگے نا بڑھ سکا تھا ہم دن میں بلکل نارمل رہتے تھے جیسے رات کوئی بات ہوئی نا ہو لیکن رات میں میں ان سے اپنی مٹھ لگوا لیا کرتا تھا اس دوران گرمیاں آ گئی تھی اور ہم سب باہر صحن میں سونے لگ گئے تھے سب لوگ ہوتے تھے اس لئیے اب پہلے جیسی موج نہیں تھی میں بھی بڑا ہو گیا تھا 18 کا اور وہ بھی 20 21 کی ہو گئی تھی اس لئیے اب مزے ختم ہو گئے تھے لیکن انکے ساتھ گزرا ٹائم بہت یاد آتا تھا اس دوران انہوں نے گھر میں موجود بٹنوں والا فون استمعال کرنا شروع کر دیا تھا میرے پاس بھی فون تھا میں نے پلان بنایا انکو کوئی سیکسی سٹوری میسج پہ سناوں اور انکا ری ایکشن دیکھوں ان دنوں سم کارڈ بغیر نام کے مل جاتی تھی عام ہی میں نے ایک نیا سم کارڈ لیا اور رات کو جب دیکھا کہ موبائل انکے ہاتھ میں ہے انکو میسج کر دیا انکے پاس میسج پیکج ہوتا تھا اور میرے پاس بھی یہی تھا اب سردیاں شروع ہو چکی تھی سب اب کمروں میں ہوتے تھے تو رات کو میں نے لکھا کہ بلو جاب بہت مزے کی کرتئ ہوں یی لکھ کر بھیج دیا

آپی نازی کا میسج آیا کون اور یہ کیا لکھا یے

میں نے کہا اسکا مطلب ہے کہ لن کو منہ میں لیکر چوسنا اور مزے کرنا اور وہ بھی میں اپنے بھائی کے ساتھ کرتی ہوں یہ لکھ کر بھیج دیا

تب آپی کا تھوڑی دیر تک کوئی ریپلائی اور میسج نا آیا لیکن کچھ دیر بعد انکا میسج آیا کہ گندی۔۔۔۔تم ایسے کیسے کر لیتی ہو میں نے کہا مجھے اپنی دوست بنا لیں میں آپکو سب بتاوں گی سٹوری سناوں گی آپی پہلے تو نا مانی پر پھر مان گئی اور مجھے کہا بتاو کونسی سٹوری کہ رہی تھی میں نے اسے بہن بھائی کی جھوٹی سچی سٹوری بتا دی کہ میں ایسے بھائی کے ساتھ مزے کرتی ہوں یہ وہ اور اگر تم بھی بھائی کے ساتھ مزے چاہتی ہو تو میری بات سنو صبح اٹھ کر جب پوچا لگاتی ہو تب جب سامنے تمہارا بھائی ہو زرا جھک کر لگانا اور اپنا گلا دکھانا کھلا سا اور دیکھنا بھائی تمہارا دیکھتا ہے یا نہیں اس نے کہا اچھا اور اس صبح جب میں اٹھا تو دیکھا واقعی نازی آپی ایسے جیسے مجھے جھک کر اپنا گلا ہی دکھا رہی تھی میں نے بھی تھوڑی دیر دیکھا اور پھر باہر چلا گیا پھر رات کو میں نے انسے بات کی اور پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہاں دیکھا ہے اس نے پر میں کچھ نہیں چاہتی مزید کچھ دن میں اسے سیکس سٹوریز سناتا رہا جسے سن کر وہ بہت گرم ہو جاتی تھی اور شائد اپنی پھدی پر فنگر پھیرتی تھی کیونکہ اسکا منہ رضائی میں ہوتا تھا لیکن مجھے لگتا تھا جیسے وہ سسکاریاں بھر رہی ہے ساتھ مجھے آواز محسوس ہوتی تھی لیکن جب میں اسکے بستر کے پاس جا کر دیکھتا تو ایسا کچھ نہیں ہوتا تھا مجھے لگا جیسے میرا وہم ہی ہو پھر کچھ دنوں بعد گھر کا فون خراب ہو گیا اور یہ سلسلہ بھی ختم ہو گیا نازی آپی کو میں نے واش روم میں نہاتے ہوئے بھی دیکھا تھا از دن گھر والے سب اوپر تھے تو میں نیچے کسی کام سے گیا تھا تو مجھے لگا کوئی نہا رہا ہے واش روم کے دروازے میں چھوٹا سا سوراخ تھا جو پینٹ اترنے کی وجہ سے ہوا تھا میں نے پھر زرا سوراخ میں دیکھا تو وہ نازی آپی تھی نہا رہی تھی انکی بنڈ میری طرف تھی اور وہ شاور کے نیچے کھڑی ہو کر نہا رہی تھی ایسا بہت کم ہوتا تھا کہ نیچے والا صحن خالی ہوتا تھا اس لئیے یہ نظارہ میں کچھ لمحات تک دیکھتا رہا اور پھر وہاں سے چلا گیا تھا اسکے بعد انکی شادی ہو گئی تھی اور چلی گئی تھی لاہور دوستوں یہ ایک سچے واقعات پر مشتمل کہانی ہے اس میں زرا برابر بھی جھوٹ نہیں ہے اور انسیسٹ سیکس رئیل میں بس اتنا ہی ہو سکتا ہے اس سے زیادہ جو بتاتے ہیں وہ اکثر جھوٹ ہوتا ہے اور یہاں جو جو بہن کے عاشق ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ سب صحیح ہے کیونکہ یہ سب انکے ساتھ بھی ہو چکا ہوگا سپیشلی جب رات کے اندھیرے میں ہلکے سے ڈر کے ساتھ بہن کے بدن کو چھونا یہ ایسا مزہ ہے کہ سیکس ہچھ بھی نہیں اسکے آگے ۔۔۔ آپ لوگ کمنٹ کرکے بتائیں کہ یی سٹوری کیسی لگی پھر میں اپنی زندگی کے باقی کے واقعات لکھوں گا میں کوئی رائٹر نہیں ہوں اس لئیے اس کو شائد سٹوری کی طرح نہیں لکھ سکا لیکن جیسے جیسے واقعات ہوئے لکھ دیا اب آپ کمنٹ میں بتائیں اگلی اپ ڈیٹ دوں نا دوں آگے اپنی بھابھی سے سیکس ہے ہمسائی سے سیکس ہے اور کیوٹ سی دوست کے ساتھ بھی۔۔اور ابھی تک سلسلہ جاری ہے۔۔۔

Offline Sfaiza

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 90
  • Reputation: +4/-0
    • View Profile
Re: میری خواہشات کچھ ادھوری کچھ مکمل )in**st)
« Reply #7 on: July 23, 2020, 05:12:46 pm »
Real waqai real hai ye story
Next bhi likho acha likh rahy ho

 

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.