Author Topic: میری خواہشات کچھ ادھوری کچھ مکمل )in**st)  (Read 42849 times)

Offline rajni

  • nil
  • 1 stars
  • *
  • Posts: 48
  • Reputation: +7/-1
  • Gender: Female
  • sex is life
    • View Profile
    • nil
Re: میری خواہشات کچھ ادھوری کچھ مکمل )in**st)
« Reply #16 on: July 25, 2020, 09:10:17 am »
relation main itna hi hota zyda ter bachpan main hota he jo kuch kuch wakat k sath chalta rehta he is tara k relation jawani main start ni hote

YUM Stories

Re: میری خواہشات کچھ ادھوری کچھ مکمل )in**st)
« Reply #16 on: July 25, 2020, 09:10:17 am »

Offline boxer bhai

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 16
  • Reputation: +0/-0
    • View Profile
Re: میری خواہشات کچھ ادھوری کچھ مکمل )in**st)
« Reply #17 on: July 25, 2020, 10:46:01 am »

بہت اچھی سٹوریز میں پیار محبت کے دعوں کے بغیر سیکس پسند کرتا ہو جو اس سٹوری میں ہے بس آپڈیٹ جلدی کرتے رہنا خوش رہو ❤️👅

YUM Stories

Re: میری خواہشات کچھ ادھوری کچھ مکمل )in**st)
« Reply #17 on: July 25, 2020, 10:46:01 am »

Offline RanaSami007

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 15
  • Reputation: +0/-0
    • View Profile
Re: میری خواہشات کچھ ادھوری کچھ مکمل )in**st)
« Reply #18 on: July 25, 2020, 03:39:06 pm »

Offline RanaSami007

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 15
  • Reputation: +0/-0
    • View Profile
Re: میری خواہشات کچھ ادھوری کچھ مکمل )in**st)
« Reply #19 on: July 25, 2020, 03:39:54 pm »

Offline RanaSami007

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 15
  • Reputation: +0/-0
    • View Profile
Re: میری خواہشات کچھ ادھوری کچھ مکمل )in**st)
« Reply #20 on: July 25, 2020, 04:12:58 pm »

Offline RanaSami007

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 15
  • Reputation: +0/-0
    • View Profile
Re: میری خواہشات کچھ ادھوری کچھ مکمل )in**st)
« Reply #21 on: July 25, 2020, 04:14:12 pm »
اسلام علیکم فرینڈز
 حاضر ہوں تیسری اپڈیٹ کے ساتھ کل کچھ دوستوں کے کمنٹس پڑھے تھے پڑھ کے اچھا لگا اور دل کیا لکھنے کا پکیز یار ایسے ہی کمنٹ کر دیا کریں میں آ0 لوگوں کے لئیے 2 گھنٹے لگا دیتا ہوں آپ بھی 5 منٹ محبت سے دے دیا کریں مجھے۔۔۔۔
 ہمارے میٹرکے کے امتحنات ہو چکے تھے اور اب میں فری تھا حنا بھی سالی گشتی نکلی تھی بہن چود اپنے کزن کو دیتی تھی پر مجھے دیتے ہوئے موت پڑتی تھی خیر میں اب یہ سوچ کر خون نہیں جلانا چاہتا تھا اور فارغ وقت میں کچھ اور مصروفیت ڈھونڈنی شروع کردی پھر مجھے یاد آیا کہ اسنے ایک نمبر دیا تھا ٹیچر کا میں نے ایسے ہی بیٹھے بیٹھے اسکا نمبر ملا دیا تو دوسری طرف سے کال یس کر لی گئی میں نے اسے حال احوال پوچھا تو اسنے بتا دیا اور پھر پوچھا کہ میں کون ہوں اور نمبر کہاں سے لیا ہے اب میں یہ تو نہیں بتا سکتا تھا کہ مجھے حنا نے نمبر دیا تھا کیونکہ اسنے منع کیا تھا حالانکہ دل میں یہی آیا تھا کہ ایک بار بتا دوں پر پھر میں نے کہا کہ بس مجھے مل گیا یے کہیں سے کیونکہ میں نے آپکو دیکھا یے اسنے حیرت سے پوچھا کہ آپنے مجھے کہاں دیکھا ہے میں نے کہا کہ میرے پاس آپکی فوٹو ہے سفید شلوار قمیض میں آپ بہت اچھی لگ رہی ہیں اسنے پوچھا کہ آپکے پاس کہاں سے آئی تو میں نے پھر کہا بعد میں بتا دوں گا مجھے ابھی دوستی کرنی ہے آپ سے اس نے کہا کہ نہیں مجھے کوئی دوستی نہیں کرنی ہے آپ پتہ نہیں کون ہے اور مجھے بس پاگل بنا رہے ہیں میں نے کہاں نہیں میں سچ بول رہا ہوں پر اسنے کہاں وہ فلحال میانوالی آئی ہے ماموں کے گھر تو مجھے ابھی کسی سے کوئی بات نہیں کرنی یہ کہ کر اسنے فون بند کر دیا میں نیا نیا موبائل یوزر تھا مجھے آئیڈیا نہیں تھا کہ کسی لڑکی کو کیسے سیٹ کرتے ہیں کیا باتیں کرتے ہیں اس لئیے میں اب دوبارہ سوچ میں گم ہو گیا کہ اب کیا کیا جا سکتا ہے تب ہی میں نے کہا کہ یار ہمارے ساتھ والے گھر میں بھی تو لڑکی ہے نا ایک اسکے ساتھ اور اسکے بھائیوں ساتھ ہم بچپن میں کھیل چکے تھے اور وہ اب بھی ہمارے گھر آتی تھی ہماری سب سے بڑے بھائی کی بیوی ساتھ اسکی کافی دوستی تھی تو وہ انسے گپ شپ کرنے آ جاتی ہوتی تھی روز یا دوسرے دن ہی اصل میں ہمارا گھر تھوڑا لمبائی میں زیادہ تھا تو پچھلے والے حصے کے ساتھ مدیحہ کا گھر جڑا تھا اور آگے والے حصے کے ساتھ حنا لوگوں کا گھر جڑا تھا میرے پاس مدیحہ کا نمبر بھی موجود تھا اصل میں نمبر تو اسکی ماما کا تھا لیکن سکول سے آکر اکثر مدیحہ نے ہی پکڑا ہوتا تھا میرے پاس نمبر بھی تھا کیونکہ اکثر اسے لوڈ کروانے آ جاتی تھی میں نے اسے کل صبح کال کرنے کا سوچا اور پھر سوگیا صبحح اٹھا نہادھو کر ناشتے سے فری ہوکر اسے کال کرنے کا سوچا کیونکہ آج سنڈے تھا تو فون بھی اسی کے پاس ہوگا میں نے کال کی اور اسکی بس آواز سنی اور فون بند کر دیا میں اسے اپنا نہیں بتانا چاہتا تھا کہ میں سالار تمہارا ہمسایہ ہوں بلکہ میرا ارادہ تھا کہ پہلے میں اس سے انجان بن کے دوستی کروں گا پھر اسے بتا دوں گا اپنا خیر فون بند کرنے بعد میں نے اسے میسج کیا Hiلکھ کر اسکا جواب آیا جی کون میں نے کہا کہ کوئی بھی نہیں بس آپکے چاہنے والے ہیں یہ فقرہ بھی میں نے اپنے دوست سے سنا تھا تو ریپلائی میں لکھ دیا اسکا جواب آیا کہ میرا کوئی چاہنے والا نہیں یے آپ اپنا نام بتائیں میں نے کہا کہ میرا نام آپ جانتی ہیں میں بھی اپکو جانتا ہوں پھر اسے سسپینس میں ڈالنے کے لئیے اسکے گھر کا پتہ یہ وہ سب کچھ بتا دیا اب اسے یقین آگیا کہ میں واقعی اسے جانتا ہوں اسنے ایک دو لڑکوں کے نام لئیے جن پر اسے شک ہو سکتا تھا کہ میں وہ ہوں پر میں نے کہا کہ نہیں میں نہیں ہوں وہ وقت آنے پر بتا دوں گا میں نے اسے بولا کہ آپ بہت اچھی لگتی ہیں مجھے اور مجھے آپسے دوستی کرنی ہیں باتیں کرنی ہیں اسنے کہا جب تک آپ بتائیں گے نہیں میں دوستی نہیں کروں گی میں نے اسے کہاکہ میں سب بتادوں گا پر زرا صبر کریں اس نے کہا آپ بتادیں نہیں تو میں آپکا نمبر چاچو کو دے دوں گی وہ میرے بڑے بھائی کی بات کر رہی تھی انہیں وہ چاچو کہتی تھی میں نے اسے بتایا کہ اچھا 2 دن بعد بتا دوں گا پکا وعدہ اسکے بعد دو دن ہماری بات ہوتی رہی ہیلو ہائے حال چال تک 2 دن بعد اسنے پوچھا کہ اب بتائے میں نے کوئی 7 سے 8 کلومیٹر دور علاقے نام بتا کر اسکا رہائشی بتا دیا اور بولا کہ میں نے آپکو سکول سے واپسی پر دیکھا تھا اس لئیے بڑی مشکل سے نمبر مل ہے آپکا یہ وہ پر اسنے یہ سب نہیں مانا اور کہا کہ اب اسے میسج کال نا کروں میں نے کہا ٹھیک ہے اس سے اگلے دن دوپہر کو میں شاپ پر بیٹھا تھا ہماری شاپ گھر کے ساتھ تھی نیچے دوکان تھی اور اسکا ایک دروازہ گھر میں کھلتا تھا دروازہ پہ آئی اور بولی کہ یہ نمبر آپکا ہے اسنے اپنا موبائل آگے کیا وہ نوکیا 1110 موبائل تھا مجھے نمبر دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ اسے کیسے پتہ چلا کہ یہ میرا نمبر ہے میں نے کہا کہ نہیں میرا تو نہیں یے مدیحہ بولی جھوٹ نا بولو یہ آپکا یہ نمبر میں میں آج تمہارے کمرے میں گئی تھی ٹیرس پر جانے کے لئیے(ٹیرس کے لئیے راستہ میرے روم سے تھا) تو وہاں الماری کے اوپر لکھا تھا میں کیا کر سکتاتھا میری چوری پکڑی گئی تھی 😥😥
 میں نے کہا ہاں میرا ہی ہے اسنے بولا کہ اب مجھے تنگ نا کرنا میسج کال کرکے لیکن میری اس سے 3 سے4 دن بات ہو چکی تھی اس دن رات کو میری طبعیت اچانک خراب ہوگئی اور مجھے ہیضہ ہوگیا ڈاکٹر کے پاس گئے گھر میں آکر ڈرپ لگوائی تو اچانک میری طبعیت خراب ہونے لگی اور بوتل شائد ری ایکشن کر گئی تھی مجھے ایک دم بہت سردی لگی اور جسم کانپنے لگ گیا تھا اور جہاں ڈرپ لگی تھی ادھر سے ڈرپ اتر گئی اور خون نکلنے لگ گیا تب مدیحہ بھی ادھر ہی موجود تھی اور یہ سب دیکھ رہی تھی کچھ دیر بعد جب طبعیت سیٹ ہوئی تو مجھے ساتھ تیز بخار تھا تو ماما لوگوں نے رضائی ڈال کر سونے کا بول دیا میڈیسن میں پہلے ہی کھا چکا تھا میں سوگیا اگلے دن اٹھا تو طبعیت ٹھیک تھی پہلے سے میں گھر میں رہا کچھ دیر ہلکا سا ناشتہ کیا اور پھر باہر نکل آیا میں ابھی تھوڑی دور گیا تھا کہ مدیہحہ کا میسج آ گیا ہیلو کیا حال ہے اب میں نے کہا جیسا بھی حال ہو آپکو کیا آپنے تو منع کر دیا نا بات کرنے سے تو اسنے کہا میں کیا کرتی مجھے تب کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا اس لئیے ایسا بول دیا اسکے بعد ہماری لمبی میسج چیٹ ہوئی اور پھر یہ سلسلہ چل نکلا اسکو شائد میں اچھا لگنے لگ گیا تھا اور وہ روزانہ سکول سے آکر مجھے کال پیکج کرکے لمبی کال کرتی اور ہم اتنی باتیں کرتے تھے میرا ایڈمشن بھی کالج میں ہو چکا تھا اس لئیے میں بھی کالج سے واپسی پر اس سے بات کرتا تھا یہ بات میرے ایک دوست کو بتائی میں نے کہ اسطرح میری ہمسائی مدیحہ کے ساتھ سیٹنگ ہوگئی یے اور ہماری اتنے عرصے سے بات چل رہی ہے اسکے ساتھ اسکا دوست بھی تھا سردیوں کی شام تھی اور سہیل نے بولا کہ اچھا پھر اسنے کچھ دیا بھی ہے یا نہیں میں نے کہا کیا مطلب کہتا کوئی سیکس وغیرہ تو میں نے کہا جانے دو یار ایسا کچھ نہیں سوچا مجھے آتا بھی نہیں کرنا کچھ اسنے کہا تو کرے گا تو آئے گا نا میں نے کہا Kiss کرنا بھی نہیں آتا مجھے آج تک کی بھی نہیں ہے اسنے کہا اگر تم مدیحہ کی کس کرو تو تمہیں مان جاوں گا واقعی تم کر سکتے ہو اور وہ تمہارے ساتھ سیٹ ہے میں نے کہا یہ کونسی بات ہے میں کرلوں گا کس اسنے کہا پروف بھئ چائیے مجھے میں نے کہا کیسا اسنے کہا کس کرکے آکے فون کرو میرے سامنے لاوڈ سپیکر لگا کر کے واقعی کسی کی ہے میں نے کہا اوکے ڈن میں آج ہی کس کروں گا اور آج ہی تمہیں سناوں گا بھی میں گھر آکر مدیحہ کو کال کی اور اسے پوچھا کہ اگر میں ایک کام کہوں تو کروگی اسنے کہاکیسا کام میں کہا جیسا بھی کام ہو بس اگر میں کہوں تو کروگی اسنے کہا اوکے بتاو کیا کام میں نے اسے بتایا کہ میری اپنے دوست سے ایسے شرط لگ گئی یے کہ میں آپ سے کس نہیں کر سکتا اب میری عزت تمہارے ہاتھ میں یے پہلے تو وہ غصہ ہوئی کہ میرا کیوں بتایا دوست کو اور پجر ایسی شرط کیوں لگائی لیکن پھر بولی کی اب بات تمہاری عزت کی ہے اگر ایسی بات نا ہوتی تو شائد انکار کر دیتی پر اب بتاو کرنی کہاں ہے کس میں یہ سن کر خوش ہوگیا اور بولا کہ ہمارے اوپر والے کمرے میں وہاں اب کوئی نہیں سوتا نا اوپر کوئی آتاہے تم وہاں آ جانا 7 بجے میں ادھر انتظار کروں گا اسنے کہا اوکے
 ہمارے پچھلے دو کمروں پر ایک کمرے کے اوپر ایک کمرہ بنا تھا جب کہ دوسرے کمرے پر کچھ بھی نہیں تھا بنا اور انکی چھت ہمارے آگے والے کمرے ملتی تھی جب کہ انکی سیڑھیاں انہی دوکمروں کے ساتھ بنی اوپر آتی تھی اور جہاں ہمارا صحن تھا وہاں انکے کمرے تھے ساتھ اورپ اوپر چھت تھی جب کہ جہاں ہمارے کمرے تھے اسکے ساتھ انکا صحن تھا اس لئیے میں اپنے اوپر والے کمرے میں کھڑا انکا صحن دیکھ رہا تھا کہ وہ کب آتی ہے کمرے میں ایک آدھی اینٹ جتنا سواراخ تھا ہوا کے لئیے جہاں سے نیچے انکا صحن صاف نظر آتا تھا اور میں پہلے بھی اکثر اسے وہاں سے دیکھ کر سرپرائز دیا کرتا تھا کہ کہ اب تم یہ کر رہی ہو یہ رنگ پہنا ہے خیر 7 بجے سے کچھ منٹ اوپر تھے کہ وہ سیڑھیاں چڑھتی دکھائی دی میں نے اسے آتے دیکھ کر دروازہ کھول دیا اس نے اپنی 4 سے 5 فٹ اونچی دیوار کراس کی اور ہماری چھت پر آگئ ادھر اور دوسری طرف بھی چھوٹی سی ٹبی بنی تھی دیوار سے اترنے کے لئیے آسانی کے ساتھ وہ سیدھی آرام سے چلتی ہوئی اندر آ گئی اور میں نے دروازہ بند کر دیا اسنے کہا سالار دروازہ نہیں بند کرو میں کہا کر دیتا ہوں بند ایسے کوئی آ گیا تو پھر یہ سن کر وہ چپ ہو گئی اور میں اسکے پاس ہونے لگا مدیہحہ ایک سمارٹ سی لڑکی تھی لیکن اسکا قد کافی اونچا تھا کوئی 5 فٹ 4 انچ ہوگا اور سمارٹ ہونے سے وہ زیادہ لگتا تھا اور اسکے بال لمبے کالے رنگ صاف اور بوبز زرا چھوٹے تھے شائد 32 ہوں اس ٹائم اسنے اپنے بھائی کی جیکٹ پہنی ہوئی تھی میں نے اسے پوچھا کہ یہ کیوں پہن آئی ہو اسنے کہا کہ سردی تھی اس لئیے میں اب اسکے بلکل پاس تھا اور میرا ایک ہاتھ اسکی پتلی سی کمر میں تھا زندگی میں پہلی بار کسی لڑکی کی اجازت سے اسکے اتنے پاس تھا تو احساس ہی الگ تھا میں نے اسے کہا کس کرنی آتی ہے اسنے کہا نہیں میں نے کہا مجھے بھی نہیں آتی چلو ٹرائی کرتے ہیں میں نے ایسا سیدھا منہ اسکے ہونٹوں پہ رکھ دیا اور اسکے ہونٹ ابھی ہونٹوں سے لگے ہی تھے کہ اسکو میری اور مجھے اسکی ٹھنڈی ناک ٹکرائی میں نے کہا یہ کہاں سے آگئی اب تب میں نے اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں سے پکڑلیا اور اسکے چومنے لگ گیا اسکے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لیکر چوسنے شروع کر دئیے وہ بس اپنے ہونٹ میرے لبوں میں دیکر چسوا رہی تھی ابھی اسنے ساتھ نہیں دیا تھا اور مجھے اسکے یہ پیارے سے اور رس بھرے ہونٹ جوسنے سے مستی چڑھ رہی تھی نیچے سے لن بھی کھڑا ہو گیا تھا اور اسکی ٹانگوں کے درمیان رگڑ کھا رہا تھا جسے مدیحہ نے محسوس کر لیا تھا وہ بھی اب میرے اوپر والے ہونٹ کو برابر چوس رہی تھی اور اسکی گرم سانسیں میرا اور جوش بڑھا رہی تھی اسکے نیچے والے ہونٹ میں ہلکا سا خم تھا درمیان میں جیسے کسی گاڑی کے بونٹ کو ڈنٹ پڑ جائے سامنے سے تو پھسا ہوا لگتا یے ایسے ہی اسکا ہونٹ درمیان سے ہلکا سا خم لئیے ہوئے تھے جو مجھے بہت پیارا لگ ریا تھا اور مجھے پاگل کر رہاتھا تبھی میں نے اسکی جیکٹ کی زپ کھول دی اور اسکے چھوٹے سے گرم سے ممے اوپر سے پکڑ لئیے اسنے کوئی برا نہیں پہنی تھی شائد کوئی بنیان یا شمیض وغیرہ پہنی تھی میں ابھی پکڑے ہی تھے دودھ کہ اسنے میرے ہاتھ پیچھے کر دئیے اور کہنے لگی کہ بس کرتے ہیں سالار لیکن مجھ پر تو شائد کوئی نشہ آ رہا تھا اور میں نے کہاں نہیں تھوڑا سا اور کرتے ہیں اور یہ کہہ کر دوبارہ سے اسکے شربت جیسے ہونٹ چوسنے لگ گیا اور اسکے دوودھ دوبارہ سے پکڑلئیے نیچے سے لن میں اسکی ٹانگوں میں زور سے رگڑتا جا رہا تھا ہلکے ہلکے گھسے ہی کہہ لیں آپ اس سے مجھے بہت مزہ آ رہا تھا لن بھی پورے جوبن میں تھا اور اب اسکی شائد پھدی تک پہنچ چکا تھا اور بار بار ٹچ ہو کر کپڑوں کے اوپر سے واپس آ رہا تھا کپڑوں کی رگڑ سے اور شائد پہلی بار اتنی گرمی اور مزے سے لن اسیے لگ رہا تھا جیسے ابھی چھوٹ جائے گا پر وہ چھوٹ نہیں رہا تھا ایسا لگتا تھا منی لن کی ٹوپئ میں کہیں اٹک گئی ہے میں چاہتا تھا میں مدیحہ کئ شلوار گیلی کر دوں اپنے پانی سے اور یہ ایسے ہی واپس جائے پر شائد ابھی ایسا نہیں ہونا تھا اچانک مدیحہ نے کہا مجھے اب جانا ورنہ امی میرے پیچھے اوپر آ جائنگی میں نے بھی اسے چھوڑ دیا کہ یہ نا ہو پھر وہ آئے ہی نا وہ جلدی سے سیدھی ہوئی اپنے کپڑے سیدھے کئیے اور باہر نکل کر چلی گئی میں بھی نیچے آ گیا اور واش روم میں آکر خود کو صاف کیا تھوڑا بہت جو پانی نکلا تھا پر مدیحہ کی خوشبو ابھی مجھے محسوس ہورہی تھی میں باہر نکلا اور دوست کے پاس پہنچ گیا اور بولا کہ تیرے یار نے آج کرلی ہے کس اور بہت مزہ آیا ہے دل پاگل ہو گیا تھا آج تو اسنے کہا کرو کال میرے سامنے اور پوچھو اس سے مزہ آیا نہیں تو میں نے کال کی جو مدیحہ نے اٹھا لی میں نے پوچھا ہاں جی کیسا لگا آپکو مزہ آیا یا نہیں اسنے کہا پتہ نہیں کیسا لگا لیکن میرا دل ابھی بھی تیز ڈھڑک رہا یے میں نے اسکی آواز بھی محسوس کی جو ابھی بھی بہت بھاری سی تھی میں نے کہا سوری یار کچھ زیادہ ہوگیا تھا آپکو میرا کس کرنا براتو نہیں لگا اسنے کہا کوئی بات نہیں اٹس اوکے آپکی عزت کی بات تھی اتنا تو کر سکتی تھی نا تب میں کہا ٹھیک ہے آپ اب ریسٹ کریں ہم صبح بات کریں گے یہ کہ کر میں نے کال بند کر دی اور دوست سے پوچھا کہ ہاں اب یقین آگیا تجھے اسنے کہا ہاں یار واقعی تونے کمال کر دیا چل اب برگر کھلا گانڈو تو وہ ہنس کر کہنے لگا کمینے چومیاں توں لیکر آیا اور برگر میں کھلاوں میں نے کہا بیٹا شرط میں جیتا ہوں اس لئیے تو ہی کھلائے اسنے ہنس کر کہا کہ اچھا چلو ٹھیک ہے آجاو ہم دونوں بازار چلے گئے
 جی دوستوں کسیی لگی آج کی اپڈیٹ امید ہے پسند آئی ہوگی اپنی رائے لازمی دئجئیے گا اگلی اپڈیٹ کل یا پرسوں۔۔۔۔۔اسلام علیکم فرینڈز
 حاضر ہوں تیسری اپڈیٹ کے ساتھ کل کچھ دوستوں کے کمنٹس پڑھے تھے پڑھ کے اچھا لگا اور دل کیا لکھنے کا پکیز یار ایسے ہی کمنٹ کر دیا کریں میں آ0 لوگوں کے لئیے 2 گھنٹے لگا دیتا ہوں آپ بھی 5 منٹ محبت سے دے دیا کریں مجھے۔۔۔۔
 ہمارے میٹرکے کے امتحنات ہو چکے تھے اور اب میں فری تھا حنا بھی سالی گشتی نکلی تھی بہن چود اپنے کزن کو دیتی تھی پر مجھے دیتے ہوئے موت پڑتی تھی خیر میں اب یہ سوچ کر خون نہیں جلانا چاہتا تھا اور فارغ وقت میں کچھ اور مصروفیت ڈھونڈنی شروع کردی پھر مجھے یاد آیا کہ اسنے ایک نمبر دیا تھا ٹیچر کا میں نے ایسے ہی بیٹھے بیٹھے اسکا نمبر ملا دیا تو دوسری طرف سے کال یس کر لی گئی میں نے اسے حال احوال پوچھا تو اسنے بتا دیا اور پھر پوچھا کہ میں کون ہوں اور نمبر کہاں سے لیا ہے اب میں یہ تو نہیں بتا سکتا تھا کہ مجھے حنا نے نمبر دیا تھا کیونکہ اسنے منع کیا تھا حالانکہ دل میں یہی آیا تھا کہ ایک بار بتا دوں پر پھر میں نے کہا کہ بس مجھے مل گیا یے کہیں سے کیونکہ میں نے آپکو دیکھا یے اسنے حیرت سے پوچھا کہ آپنے مجھے کہاں دیکھا ہے میں نے کہا کہ میرے پاس آپکی فوٹو ہے سفید شلوار قمیض میں آپ بہت اچھی لگ رہی ہیں اسنے پوچھا کہ آپکے پاس کہاں سے آئی تو میں نے پھر کہا بعد میں بتا دوں گا مجھے ابھی دوستی کرنی ہے آپ سے اس نے کہا کہ نہیں مجھے کوئی دوستی نہیں کرنی ہے آپ پتہ نہیں کون ہے اور مجھے بس پاگل بنا رہے ہیں میں نے کہاں نہیں میں سچ بول رہا ہوں پر اسنے کہاں وہ فلحال میانوالی آئی ہے ماموں کے گھر تو مجھے ابھی کسی سے کوئی بات نہیں کرنی یہ کہ کر اسنے فون بند کر دیا میں نیا نیا موبائل یوزر تھا مجھے آئیڈیا نہیں تھا کہ کسی لڑکی کو کیسے سیٹ کرتے ہیں کیا باتیں کرتے ہیں اس لئیے میں اب دوبارہ سوچ میں گم ہو گیا کہ اب کیا کیا جا سکتا ہے

Offline RanaSami007

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 15
  • Reputation: +0/-0
    • View Profile
Re: میری خواہشات کچھ ادھوری کچھ مکمل )in**st)
« Reply #22 on: July 25, 2020, 04:14:59 pm »
تب ہی میں نے کہا کہ یار ہمارے ساتھ والے گھر میں بھی تو لڑکی ہے نا ایک اسکے ساتھ اور اسکے بھائیوں ساتھ ہم بچپن میں کھیل چکے تھے اور وہ اب بھی ہمارے گھر آتی تھی ہماری سب سے بڑے بھائی کی بیوی ساتھ اسکی کافی دوستی تھی تو وہ انسے گپ شپ کرنے آ جاتی ہوتی تھی روز یا دوسرے دن ہی اصل میں ہمارا گھر تھوڑا لمبائی میں زیادہ تھا تو پچھلے والے حصے کے ساتھ مدیحہ کا گھر جڑا تھا اور آگے والے حصے کے ساتھ حنا لوگوں کا گھر جڑا تھا میرے پاس مدیحہ کا نمبر بھی موجود تھا اصل میں نمبر تو اسکی ماما کا تھا لیکن سکول سے آکر اکثر مدیحہ نے ہی پکڑا ہوتا تھا میرے پاس نمبر بھی تھا کیونکہ اکثر اسے لوڈ کروانے آ جاتی تھی میں نے اسے کل صبح کال کرنے کا سوچا اور پھر سوگیا صبحح اٹھا نہادھو کر ناشتے سے فری ہوکر اسے کال کرنے کا سوچا کیونکہ آج سنڈے تھا تو فون بھی اسی کے پاس ہوگا میں نے کال کی اور اسکی بس آواز سنی اور فون بند کر دیا میں اسے اپنا نہیں بتانا چاہتا تھا کہ میں سالار تمہارا ہمسایہ ہوں بلکہ میرا ارادہ تھا کہ پہلے میں اس سے انجان بن کے دوستی کروں گا پھر اسے بتا دوں گا اپنا خیر فون بند کرنے بعد میں نے اسے میسج کیا Hiلکھ کر اسکا جواب آیا جی کون میں نے کہا کہ کوئی بھی نہیں بس آپکے چاہنے والے ہیں یہ فقرہ بھی میں نے اپنے دوست سے سنا تھا تو ریپلائی میں لکھ دیا اسکا جواب آیا کہ میرا کوئی چاہنے والا نہیں یے آپ اپنا نام بتائیں میں نے کہا کہ میرا نام آپ جانتی ہیں میں بھی اپکو جانتا ہوں پھر اسے سسپینس میں ڈالنے کے لئیے اسکے گھر کا پتہ یہ وہ سب کچھ بتا دیا اب اسے یقین آگیا کہ میں واقعی اسے جانتا ہوں اسنے ایک دو لڑکوں کے نام لئیے جن پر اسے شک ہو سکتا تھا کہ میں وہ ہوں پر میں نے کہا کہ نہیں میں نہیں ہوں وہ وقت آنے پر بتا دوں گا میں نے اسے بولا کہ آپ بہت اچھی لگتی ہیں مجھے اور مجھے آپسے دوستی کرنی ہیں باتیں کرنی ہیں اسنے کہا جب تک آپ بتائیں گے نہیں میں دوستی نہیں کروں گی میں نے اسے کہاکہ میں سب بتادوں گا پر زرا صبر کریں اس نے کہا آپ بتادیں نہیں تو میں آپکا نمبر چاچو کو دے دوں گی وہ میرے بڑے بھائی کی بات کر رہی تھی انہیں وہ چاچو کہتی تھی میں نے اسے بتایا کہ اچھا 2 دن بعد بتا دوں گا پکا وعدہ اسکے بعد دو دن ہماری بات ہوتی رہی ہیلو ہائے حال چال تک 2 دن بعد اسنے پوچھا کہ اب بتائے میں نے کوئی 7 سے 8 کلومیٹر دور علاقے نام بتا کر اسکا رہائشی بتا دیا اور بولا کہ میں نے آپکو سکول سے واپسی پر دیکھا تھا اس لئیے بڑی مشکل سے نمبر مل ہے آپکا یہ وہ پر اسنے یہ سب نہیں مانا اور کہا کہ اب اسے میسج کال نا کروں میں نے کہا ٹھیک ہے اس سے اگلے دن دوپہر کو میں شاپ پر بیٹھا تھا ہماری شاپ گھر کے ساتھ تھی نیچے دوکان تھی اور اسکا ایک دروازہ گھر میں کھلتا تھا دروازہ پہ آئی اور بولی کہ یہ نمبر آپکا ہے اسنے اپنا موبائل آگے کیا وہ نوکیا 1110 موبائل تھا مجھے نمبر دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ اسے کیسے پتہ چلا کہ یہ میرا نمبر ہے میں نے کہا کہ نہیں میرا تو نہیں یے مدیحہ بولی جھوٹ نا بولو یہ آپکا یہ نمبر میں میں آج تمہارے کمرے میں گئی تھی ٹیرس پر جانے کے لئیے(ٹیرس کے لئیے راستہ میرے روم سے تھا) تو وہاں الماری کے اوپر لکھا تھا میں کیا کر سکتاتھا میری چوری پکڑی گئی تھی 😥😥
 میں نے کہا ہاں میرا ہی ہے اسنے بولا کہ اب مجھے تنگ نا کرنا میسج کال کرکے لیکن میری اس سے 3 سے4 دن بات ہو چکی تھی اس دن رات کو میری طبعیت اچانک خراب ہوگئی اور مجھے ہیضہ ہوگیا ڈاکٹر کے پاس گئے گھر میں آکر ڈرپ لگوائی تو اچانک میری طبعیت خراب ہونے لگی اور بوتل شائد ری ایکشن کر گئی تھی مجھے ایک دم بہت سردی لگی اور جسم کانپنے لگ گیا تھا اور جہاں ڈرپ لگی تھی ادھر سے ڈرپ اتر گئی اور خون نکلنے لگ گیا تب مدیحہ بھی ادھر ہی موجود تھی اور یہ سب دیکھ رہی تھی کچھ دیر بعد جب طبعیت سیٹ ہوئی تو مجھے ساتھ تیز بخار تھا تو ماما لوگوں نے رضائی ڈال کر سونے کا بول دیا میڈیسن میں پہلے ہی کھا چکا تھا میں سوگیا اگلے دن اٹھا تو طبعیت ٹھیک تھی پہلے سے میں گھر میں رہا کچھ دیر ہلکا سا ناشتہ کیا اور پھر باہر نکل آیا میں ابھی تھوڑی دور گیا تھا کہ مدیہحہ کا میسج آ گیا ہیلو کیا حال ہے اب میں نے کہا جیسا بھی حال ہو آپکو کیا آپنے تو منع کر دیا نا بات کرنے سے تو اسنے کہا میں کیا کرتی مجھے تب کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا اس لئیے ایسا بول دیا اسکے بعد ہماری لمبی میسج چیٹ ہوئی اور پھر یہ سلسلہ چل نکلا اسکو شائد میں اچھا لگنے لگ گیا تھا اور وہ روزانہ سکول سے آکر مجھے کال پیکج کرکے لمبی کال کرتی اور ہم اتنی باتیں کرتے تھے میرا ایڈمشن بھی کالج میں ہو چکا تھا اس لئیے میں بھی کالج سے واپسی پر اس سے بات کرتا تھا یہ بات میرے ایک دوست کو بتائی میں نے کہ اسطرح میری ہمسائی مدیحہ کے ساتھ سیٹنگ ہوگئی یے اور ہماری اتنے عرصے سے بات چل رہی ہے اسکے ساتھ اسکا دوست بھی تھا سردیوں کی شام تھی اور سہیل نے بولا کہ اچھا پھر اسنے کچھ دیا بھی ہے یا نہیں میں نے کہا کیا مطلب کہتا کوئی سیکس وغیرہ تو میں نے کہا جانے دو یار ایسا کچھ نہیں سوچا مجھے آتا بھی نہیں کرنا کچھ اسنے کہا تو کرے گا تو آئے گا نا میں نے کہا Kiss کرنا بھی نہیں آتا مجھے آج تک کی بھی نہیں ہے اسنے کہا اگر تم مدیحہ کی کس کرو تو تمہیں مان جاوں گا واقعی تم کر سکتے ہو اور وہ تمہارے ساتھ سیٹ ہے میں نے کہا یہ کونسی بات ہے میں کرلوں گا کس اسنے کہا پروف بھئ چائیے مجھے میں نے کہا کیسا اسنے کہا کس کرکے آکے فون کرو میرے سامنے لاوڈ سپیکر لگا کر کے واقعی کسی کی ہے میں نے کہا اوکے ڈن میں آج ہی کس کروں گا اور آج ہی تمہیں سناوں گا بھی میں گھر آکر مدیحہ کو کال کی اور اسے پوچھا کہ اگر میں ایک کام کہوں تو کروگی اسنے کہاکیسا کام میں کہا جیسا بھی کام ہو بس اگر میں کہوں تو کروگی اسنے کہا اوکے بتاو کیا کام میں نے اسے بتایا کہ میری اپنے دوست سے ایسے شرط لگ گئی یے کہ میں آپ سے کس نہیں کر سکتا اب میری عزت تمہارے ہاتھ میں یے پہلے تو وہ غصہ ہوئی کہ میرا کیوں بتایا دوست کو اور پجر ایسی شرط کیوں لگائی لیکن پھر بولی کی اب بات تمہاری عزت کی ہے اگر ایسی بات نا ہوتی تو شائد انکار کر دیتی پر اب بتاو کرنی کہاں ہے کس میں یہ سن کر خوش ہوگیا اور بولا کہ ہمارے اوپر والے کمرے میں وہاں اب کوئی نہیں سوتا نا اوپر کوئی آتاہے تم وہاں آ جانا 7 بجے میں ادھر انتظار کروں گا اسنے کہا اوکے
 ہمارے پچھلے دو کمروں پر ایک کمرے کے اوپر ایک کمرہ بنا تھا جب کہ دوسرے کمرے پر کچھ بھی نہیں تھا بنا اور انکی چھت ہمارے آگے والے کمرے ملتی تھی جب کہ انکی سیڑھیاں انہی دوکمروں کے ساتھ بنی اوپر آتی تھی اور جہاں ہمارا صحن تھا وہاں انکے کمرے تھے ساتھ اورپ اوپر چھت تھی جب کہ جہاں ہمارے کمرے تھے اسکے ساتھ انکا صحن تھا اس لئیے میں اپنے اوپر والے کمرے میں کھڑا انکا صحن دیکھ رہا تھا کہ وہ کب آتی ہے کمرے میں ایک آدھی اینٹ جتنا سواراخ تھا ہوا کے لئیے جہاں سے نیچے انکا صحن صاف نظر آتا تھا اور میں پہلے بھی اکثر اسے وہاں سے دیکھ کر سرپرائز دیا کرتا تھا کہ کہ اب تم یہ کر رہی ہو یہ رنگ پہنا ہے خیر 7 بجے سے کچھ منٹ اوپر تھے کہ وہ سیڑھیاں چڑھتی دکھائی دی میں نے اسے آتے دیکھ کر دروازہ کھول دیا اس نے اپنی 4 سے 5 فٹ اونچی دیوار کراس کی اور ہماری چھت پر آگئ ادھر اور دوسری طرف بھی چھوٹی سی ٹبی بنی تھی دیوار سے اترنے کے لئیے آسانی کے ساتھ وہ سیدھی آرام سے چلتی ہوئی اندر آ گئی اور میں نے دروازہ بند کر دیا اسنے کہا سالار دروازہ نہیں بند کرو میں کہا کر دیتا ہوں بند ایسے کوئی آ گیا تو پھر یہ سن کر وہ چپ ہو گئی اور میں اسکے پاس ہونے لگا مدیہحہ ایک سمارٹ سی لڑکی تھی لیکن اسکا قد کافی اونچا تھا کوئی 5 فٹ 4 انچ ہوگا اور سمارٹ ہونے سے وہ زیادہ لگتا تھا اور اسکے بال لمبے کالے رنگ صاف اور بوبز زرا چھوٹے تھے شائد 32 ہوں اس ٹائم اسنے اپنے بھائی کی جیکٹ پہنی ہوئی تھی میں نے اسے پوچھا کہ یہ کیوں پہن آئی ہو اسنے کہا کہ سردی تھی اس لئیے میں اب اسکے بلکل پاس تھا اور میرا ایک ہاتھ اسکی پتلی سی کمر میں تھا زندگی میں پہلی بار کسی لڑکی کی اجازت سے اسکے اتنے پاس تھا تو احساس ہی الگ تھا میں نے اسے کہا کس کرنی آتی ہے اسنے کہا نہیں میں نے کہا مجھے بھی نہیں آتی چلو ٹرائی کرتے ہیں میں نے ایسا سیدھا منہ اسکے ہونٹوں پہ رکھ دیا اور اسکے ہونٹ ابھی ہونٹوں سے لگے ہی تھے کہ اسکو میری اور مجھے اسکی ٹھنڈی ناک ٹکرائی میں نے کہا یہ کہاں سے آگئی اب تب میں نے اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں سے پکڑلیا اور اسکے چومنے لگ گیا اسکے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لیکر چوسنے شروع کر دئیے وہ بس اپنے ہونٹ میرے لبوں میں دیکر چسوا رہی تھی ابھی اسنے ساتھ نہیں دیا تھا اور مجھے اسکے یہ پیارے سے اور رس بھرے ہونٹ جوسنے سے مستی چڑھ رہی تھی نیچے سے لن بھی کھڑا ہو گیا تھا اور اسکی ٹانگوں کے درمیان رگڑ کھا رہا تھا جسے مدیحہ نے محسوس کر لیا تھا وہ بھی اب میرے اوپر والے ہونٹ کو برابر چوس رہی تھی اور اسکی گرم سانسیں میرا اور جوش بڑھا رہی تھی اسکے نیچے والے ہونٹ میں ہلکا سا خم تھا درمیان میں جیسے کسی گاڑی کے بونٹ کو ڈنٹ پڑ جائے سامنے سے تو پھسا ہوا لگتا یے ایسے ہی اسکا ہونٹ درمیان سے ہلکا سا خم لئیے ہوئے تھے جو مجھے بہت پیارا لگ ریا تھا اور مجھے پاگل کر رہاتھا تبھی میں نے اسکی جیکٹ کی زپ کھول دی اور اسکے چھوٹے سے گرم سے ممے اوپر سے پکڑ لئیے اسنے کوئی برا نہیں پہنی تھی شائد کوئی بنیان یا شمیض وغیرہ پہنی تھی میں ابھی پکڑے ہی تھے دودھ کہ اسنے میرے ہاتھ پیچھے کر دئیے اور کہنے لگی کہ بس کرتے ہیں سالار لیکن مجھ پر تو شائد کوئی نشہ آ رہا تھا اور میں نے کہاں نہیں تھوڑا سا اور کرتے ہیں اور یہ کہہ کر دوبارہ سے اسکے شربت جیسے ہونٹ چوسنے لگ گیا اور اسکے دوودھ دوبارہ سے پکڑلئیے نیچے سے لن میں اسکی ٹانگوں میں زور سے رگڑتا جا رہا تھا ہلکے ہلکے گھسے ہی کہہ لیں آپ اس سے مجھے بہت مزہ آ رہا تھا لن بھی پورے جوبن میں تھا اور اب اسکی شائد پھدی تک پہنچ چکا تھا اور بار بار ٹچ ہو کر کپڑوں کے اوپر سے واپس آ رہا تھا کپڑوں کی رگڑ سے اور شائد پہلی بار اتنی گرمی اور مزے سے لن اسیے لگ رہا تھا جیسے ابھی چھوٹ جائے گا پر وہ چھوٹ نہیں رہا تھا ایسا لگتا تھا منی لن کی ٹوپئ میں کہیں اٹک گئی ہے میں چاہتا تھا میں مدیحہ کئ شلوار گیلی کر دوں اپنے پانی سے اور یہ ایسے ہی واپس جائے پر شائد ابھی ایسا نہیں ہونا تھا اچانک مدیحہ نے کہا مجھے اب جانا ورنہ امی میرے پیچھے اوپر آ جائنگی میں نے بھی اسے چھوڑ دیا کہ یہ نا ہو پھر وہ آئے ہی نا وہ جلدی سے سیدھی ہوئی اپنے کپڑے سیدھے کئیے اور باہر نکل کر چلی گئی میں بھی نیچے آ گیا اور واش روم میں آکر خود کو صاف کیا تھوڑا بہت جو پانی نکلا تھا پر مدیحہ کی خوشبو ابھی مجھے محسوس ہورہی تھی میں باہر نکلا اور دوست کے پاس پہنچ گیا اور بولا کہ تیرے یار نے آج کرلی ہے کس اور بہت مزہ آیا ہے دل پاگل ہو گیا تھا آج تو اسنے کہا کرو کال میرے سامنے اور پوچھو اس سے مزہ آیا نہیں تو میں نے کال کی جو مدیحہ نے اٹھا لی میں نے پوچھا ہاں جی کیسا لگا آپکو مزہ آیا یا نہیں اسنے کہا پتہ نہیں کیسا لگا لیکن میرا دل ابھی بھی تیز ڈھڑک رہا یے میں نے اسکی آواز بھی محسوس کی جو ابھی بھی بہت بھاری سی تھی میں نے کہا سوری یار کچھ زیادہ ہوگیا تھا آپکو میرا کس کرنا براتو نہیں لگا اسنے کہا کوئی بات نہیں اٹس اوکے آپکی عزت کی بات تھی اتنا تو کر سکتی تھی نا تب میں کہا ٹھیک ہے آپ اب ریسٹ کریں ہم صبح بات کریں گے یہ کہ کر میں نے کال بند کر دی اور دوست سے پوچھا کہ ہاں اب یقین آگیا تجھے اسنے کہا ہاں یار واقعی تونے کمال کر دیا چل اب برگر کھلا گانڈو تو وہ ہنس کر کہنے لگا کمینے چومیاں توں لیکر آیا اور برگر میں کھلاوں میں نے کہا بیٹا شرط میں جیتا ہوں اس لئیے تو ہی کھلائے اسنے ہنس کر کہا کہ اچھا چلو ٹھیک ہے آجاو ہم دونوں بازار چلے گئے
 جی دوستوں کسیی لگی آج کی اپڈیٹ امید ہے پسند آئی ہوگی اپنی رائے لازمی دئجئیے گا اگلی اپڈیٹ کل یا پرسوں۔۔۔۔۔

Offline Sfaiza

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 89
  • Reputation: +4/-0
    • View Profile
Re: میری خواہشات کچھ ادھوری کچھ مکمل )in**st)
« Reply #23 on: July 25, 2020, 06:33:15 pm »
Wow nice dear kamAl ki update hai
Sada thi laikin kamal thi
Asal husan to sadghi main poshida hota hai
Waisy bhi story jitni sada ho gi utni hi hijan angaiz ho gi

 

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.