Author Topic: میری خواہشات کچھ ادھوری کچھ مکمل )in**st)  (Read 45123 times)

Offline masood anwer

  • 3 Stars
  • ***
  • Posts: 291
  • Reputation: +3/-3
    • View Profile
Re: میری خواہشات کچھ ادھوری کچھ مکمل )in**st)
« Reply #24 on: July 26, 2020, 01:02:51 am »
bhai rana sb page ka size kion berha rahe ho aik page pe do mertaba repeat kr ke

YUM Stories

Re: میری خواہشات کچھ ادھوری کچھ مکمل )in**st)
« Reply #24 on: July 26, 2020, 01:02:51 am »

Offline woodman

  • 3 Stars
  • ***
  • Posts: 481
  • Reputation: +5/-3
    • View Profile
Re: میری خواہشات کچھ ادھوری کچھ مکمل )in**st)
« Reply #25 on: July 26, 2020, 01:45:42 am »
ڈئیر اپڈیٹ کا شکریہ، سچی کہانیوں کا اپنا ہی مزہ ہے۔
987uk321 gmail

Offline Faraz khan

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 21
  • Reputation: +0/-0
    • View Profile
Re: میری خواہشات کچھ ادھوری کچھ مکمل )in**st)
« Reply #26 on: July 26, 2020, 11:38:52 pm »
Real story ka apna hi maza hota hai...aur khass kar kai saal purany waqto ki story ka...


Offline Sfaiza

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 107
  • Reputation: +4/-0
    • View Profile
Re: میری خواہشات کچھ ادھوری کچھ مکمل )in**st)
« Reply #27 on: July 27, 2020, 10:48:49 am »
Kiya aj update a rahi hai

Offline RanaSami007

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 15
  • Reputation: +0/-0
    • View Profile
Re: میری خواہشات کچھ ادھوری کچھ مکمل )in**st)
« Reply #28 on: July 27, 2020, 11:55:08 am »
Kiya aj update a rahi hai


G Aj Update Dunga Shaam 4 Baje tak

Offline RanaSami007

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 15
  • Reputation: +0/-0
    • View Profile
Re: میری خواہشات کچھ ادھوری کچھ مکمل )in**st)
« Reply #29 on: July 27, 2020, 03:17:09 pm »

اسلام علیکم
حاضر ہوں اپنی چوتھی اپڈیٹ کے ساتھ
اگلے چند روز میرے اور مدیحہ کے درمیان سکون سے گزرے پھر ایک روز شام کو اچانک اسکی کال آئی کی سالار کیا تم چھت پر آ سکتے ہو ملنے مجھے کام ہے میں نے کہا ٹھیک ہے میں آ جاتا ہوں شام 7 بجے کا ٹائم طے ہوا اور میں 7 بجے اوپر والے کمرے میں چلا گیا ابھی میں اوپر پہنچا ہی تھا کہ مجھے کسی نے زور سے پیچھے سے پکڑ لیا اور مجھے خوشبو سے محسوس ہو گیا تھا کہ یہ کوئی اور نہیں میری شہزادی مدیحہ ہی ہے میں نے بھی پلٹ کر سیدھا ہوا اور اسے گلے سے لگا لیا تھوڑی دیر گزرنے کے بعد میں نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا اور خود بھی چارپائی پر بیٹھ گیا اسکا منہ آگے کی طرف تھا تو پیچھے سے ہاتھ ڈال کر میں اسکی قمیض کے اوپر سے اسکے ممے دبانے لگا اسنے ایک بار روکا کیا کر رہے ہو پر میں نے کہا کہ اپنی جان کو پیار کر رہا ہوں اور کیا کر رہا ہوں میں نے اپنا کام جاری رکھا اور ساتھ اسکی گردن سے بال پیچھے کرکے اسکو کس کرنے لگ گیا اسکی گردن بھی گرم تھی جس سے معلوم ہو رہا تھا کہ وہ بھی مزے لے رہی ہے اور گرم ہو چکی ہے میں نے اسکے کان میں آہستہ سے پوچھا کہ کیوں بلایا مجھے کیا کام تھا اسنے کہا کوئی کام نہیں بس ایسے ہی آپ سے ملنے کو دل کر رہا تھا تو آپکو بلا لیا میں تو بس آپکو کس کرنے اور گلے ملنے آئی تھی مجھے آپکے گلے مل کے بہت سکون آتا ہے میں نے کہا کوئی بات نہیں مدیہحہ تمہارا جب دل کرے جب تم چاہو مجھ سے گلے مل سکتی ہو اور یہ کہ کر میں نے اسکی قمیض کے اندر سے ہاتھ ڈال کر اسکے 32 سائز کے ممے پکڑ کر سہلانے لگا میں اسکو فل ٹیز کر رہا تھا اور بیچاری دوسری بار میری طرح کسی مرد کے اتنا پاس ہوئی تھی یہ سب برداشت بہت مشکل سے کر رہی تھی میں ایک تو اسکے بوبز کو چھیڑ رہا تھا اسکے ممے کبھی دباتا کبھی کھڑے ہوئے نپلز پر انگلی گھماتا دوسرا اسکی گردن پر کس کر رہا تھا کبھی کان کی لو چوسنے لگتا کبھی ہلکی سی بائٹ کر دیتا تھا اور تیسرا میرا 8 انچ کا لن فل ہارڈ ہوکر اسکی پھدی کے ساتھ رگڑ کھا رہا تھا کیونکہ میں نے اسکی ٹانگیں تھوڑی کھول دی تھی اس وقت اسنے سکول یونفارم پہنا ہوا تھا لگتا تھا اسنے جیسے آ کر چینج نہیں کیا تھا میں فل مزہ لے رہا تھا اور اسے بھی دے رہا تھا پھر میں نے اسے کھڑا کیا اور چارپائی پر لٹا دیا اب میں چارپائی پہ بیٹھنے کی بجائے نیچے بیٹھ کر اسکا منہ اپنی طرف کرکے کس کرنے لگ گیا اسکے ہونٹ آج بھی بلکل پہلے والا مزہ دے رہے تھے نیچے والا ہونٹ اب بھی گرم محسوس ہو رہا تھا اور اسکی سانسیں بہت گرم ہو جاتی تھی جو مجھے اپنے ہونٹوں اور گردن پر محسوس ہوتی تھی کس کرنے کے ساتھ ساتھ میرے ہاتھ اسکے سینے سے ہوتے ہوئے اسکے پیٹ اور پھر اسکے ٹانگوں پر رینگ رہے تھے اسکی ٹانگیں بھی پتلی تھی کیونکہ اسکا جسم بھئ سمارٹ تھا پر اسکی ٹانگوں پر ہاتھ پھرنے سے ایک عجیب سا مزہ آتا تھا اور پھر میرا ہاتھ اسکی پھدی پر آکے رک گیا جو پتہ نہیں کب سے گیلی ہو چکی تھی اور میں اسکے اوپر ہاتھ پھیر رہا تھا اسکی پھدی کے لپس شلوار کے اوپر سےمحسوس کرکے انکے اندر ایسے فنگر داخل کر رہا تھا جو بس لپس کے درمیان تک ہی رہ ہی تھی ۔۔۔
میں نے اب اسکی لاسٹک والی شلوار ایسے کھینچ کر نیچے کرنا چاہی تو اسنے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور میری طرف دیکھ کر بولی کی نہیں سالار یہ نہیں میں ساری کی ساری آپکی پر ابھی یہ نہیں میں نہیں چاہتی کچھ ایسا کرنا جو بعد میں پریشانی کا باعث بنے میں نے اسے کہا کچھ نہیں ہوتا میں ہوں نا میری جان گوکہ کمرے میں اندھیرا تھا پر اب اتنی دیر سے اندھیرے میں رہنے کی وجہ سے میری آنکھیں دیکھنے کے قابل ہو گئی تھی اسکا چہرہ شہوت سے بھرپور تھا آدھی کھلی آنکھیں اس بات کا پتہ دے رہی تھی کہ وہ مدہوش ہے میں نے ایک بار پھر اسکی شلوار پہ ہاتھ رکھا اسنے کہا سالار اب میرا سب کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے میں نے کہا ٹھیک ہے یہ کہ کر میں نے اسکی لاسٹک والی شلوار آرام سے کھینچ دی گھٹنوں تک اور اسکی چکنی ٹائٹ سی پھدی پر ہاتھ پھیرنے لگا اسکی پھدی سے رس نکل کر باہر تک آیا ہوا تھا اور ابھی بھی اسکی پھدی اتنا گرم پانی نکال رہی تھی اتنی گرمی تھی اسکے اندر میں اب اسکے اوپر آ گیا اور اپنا بھی ٹراوزر نیچے کر لیا اسکی شلوار میں ایک پاوں سے نکال دی تھی تاکہ وہ اپنی ٹانگیں میری کمر کے گرد رکھ لے اور اب اسکی قمیض اسکے مموں سے اوپر تک کر دی تھی اسکی آنکھیں مکمل بند تھی اور چہرہ اور جسم اتنی سردی میں گرم ہو رہا تھا میں نے اب لن اسکی پھدی کے لپس کے ساتھ رگڑا اور اوپر نیچے کیا تاکہ لن اسکی پھدی کے پانی سے گیلا ہو جائے پر لن بہت خشک تھا گیلا نہیں ہو رہا تھا تب میں نے جھک کر اسے کس کی اور اپنی دونوں فنگرز اسکے منہ میں ڈالی اور کہا گیلی کرو اسنے اپنی زبان سے میری دونوں انگلیاں گیلی کر دی جو میں نے لن کی ٹوپی پر پھیر دی اس نے جب انگلیوں کو گرم زبان لگائی تھی تو لن نے محسوس کیا جیسے وہ ٹوپی چوس رہی ہو اب میں نے لن کو اسکی پھدی پر سیٹ کیا اور ہلکا سا زور لگایا تو لن پھدی کے اندر جانے کی بجائے پھدی کی لبوں کو رگڑ کر اوپر چلا گیا پہلی بار کر رہا تھا اس لئیے اتنا تجربہ نہیں تھا کچھ مدیحہ تھی بھی کنواری بلکل اسکا سواراخ بھی چھوٹا سا تنگ سا تھا لیکن کہانیاں پڑھ کر پورن موویز دیکھنے کا تجربہ میرے کام آ رہا تھا میں نے اب لن کے اوپر ہاتھ رکھا تاکہ اوپر نا جائے بلکہ اندر جائے اب کی بار ہلکے سے دھکے سے لن اسکے اندر چلا گیا صرف ٹوپی ہی اندر ہوئی تھی اور مدیحہ نے اوپر کو زور لگایا کمر کو اوپر کھینچا کہ یہ بھی باہر نکل جائے پر میں اسے پکڑا ہوا تھا تاکہ وہ ہل نا سکے اب میں زور سے جھٹکا لگانا چاہتا تھا تاکہ کم از کم آدھا لن اسکے اندر چلا جائے پر مجھے اسکے چیخنے کا ڈر تھا کیونکہ اگر اسنے چیخ ماری تو نیچے سے کوئی بھی سن کے اوپر آ سکتا تھا میں نے اسکے منہ کہ اوپر ہاتھ رکھ دیا وہ سمجھ گئی تھی کہ اب اسکی پھدی پھٹنے والی ہے اسنے بھی چارپائی کی چادر کو زور سے پکڑ لیا تھا اور اپنی آنکھیں بند کر دی تھی میں نے اب اپنی کمر کو تھوڑا اوپر کو اٹھا کے اس پوزیشن میں آ گیا تھا کہ پورا لن ایک ہی جھٹکے میں اندر جا سکے اب میں نے اسے منہ پہ ہاتھ رکھ کے خاموش رہنے کا اشارہ کر دیا تھا اب میں نے پیچے ہو کر ایک ہی زور دار دھکے سے لن اندر داخل کر دیا تھا لن جڑ سے تھوڑا پیچھے تک مدیحہ کی کنواری پھدی کو پھاڑتا ہواآگے چلا گیا تھا اسکی تھوڑی سی جو آواز تھی وہ اسکے منہ میں ہی دب چکی تھی میرا لن اب اسکی پھدی کے اندر تھا اور پھدی کی گرمائش محسوس کر رہا تھا ایسا لگ رہا تھا پھدی کا پانی اسے گیلا کر رہا ہے اندر سے میرا ہاتھ اب بھی اسکے منہ پہ رکھا تھا پر مدیحہ کی آنکھوں سے آنسو نکل کر میرے ہاتھ بھگو رہے تھے میں جانتا تھا کہ اسے کتنا درد ہوا ہوگا کیونکہ اسکا میں نے سوراخ دیکھا تھا گلابی رنگ کا چھوٹا سا سوراخ تھا جس سے شائد ایک چھوٹی انگل بھی مشکل سے گزرتی کہاں 3 انچ موٹا لن اسکی پھدی کو چیرتا ہوا آگے نکل گیا تھا اب میرے خیال میں اسے درد کا احساس کم ہوگیا ہوگا کیونکہ اب اسکے چہرے کے تاثرات نارمل لگ رہے تھے میں نے آنکھوں کے اشارے سے ہی اسکو پوچھا کہ اب سکون میں ہو تو اندر باہر کروں اسنے میرے کان پہ ہلکی سے کاٹی کی اور پھر مجھے کندھے پہ مکی مار کے بولی جتنا درد تم نے دے دیا اگر اتنا مزہ نا آیا نا تو پھر پوچھوں گی اب کرو جو کرنا پر آرام آرام سے کرنا تاکہ درد نا ہو میں نے کہا ٹھیک ہے اور اپنے لن کو تھوڑا سا پیچھے کرکے آگے کر دیا یوں سمجھ لیں کوئی دو سے 3 منٹ میں پیاری سی مدیحہ کو بس ٹوپی سے چودتا رہا تاکے درد کم ہو اب اسکی درد کم ہو گئی تھی اور اسکا دل کر رہا تھا کہ زیادہ اندر باہر جائے میں نے اب آہستہ آہستہ اسکی پھدی میں گھسے لگانے شروع کر دئیے تھے اور وہ ان چھوٹے چھوٹے آرام والے جھٹکوں کو انجوائے کر رہی تھی بلکہ ہر گھسے پر ہلکی سی ہائے کی آواز نکالتی یا بس سکسی بھر لیتی جو سن کے میرے لن کو اور مزہ آتا اسنے میرے منہ دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اپنے مموں ساتھ لگا دیا اور اپنا ایک مما چوسنے کے لئیے میرے منہ میں ڈال دیا اسکے چھوٹے سے ممے بڑی گرمی لئیے ہوئے تھے براوں نپلز ہارڈ ہوئے تھے چھوٹے نپلز زبان لگنے سے تھوڑے اور بھی بڑے ہو رہے تھے اب نیچے سے میں لن کو پوری طرح سے اندر باہر کر رہا تھا اور اوپر سے اسکے ممے چوس رہا تھا اور مدیحہ کو بھرپور مزہ آرہا تھا وہ بہت انجوائے کر رہی تھی اور تبھی مزے سے اسنے اپنی ٹانگیں میری کمرے گرد لپیٹ دی تھی اور آنکھیں بند کرکے اب اپنے ہونٹ دانتوں میں دبا کر کاٹ رہی تھی ساتھ میں لمبی سانسوں والی سسکیاں بھر رہی تھی تبھی اسکی سسکیاں تیز ہوگئی اسنے زور سے مجھے گلے سے لگا لیا اور اپنے بازور میری کمر پر ڈال کر نیچے دبانے لگی اور پھر میں نے محسوس کیا اسکی پھدی نے اتنا گرم پانی چھوڑا ہے اور میرے لن کو بھی دبا رہی ہے میں لن کو باہر نکال کر اسکے پیٹ پر لایا اور اسکے ہاتھ سے مٹھ مروانے لگا کوئی دومنٹ بعد پریشر سے منی نکلی جو اسکے ممے اور پیٹ پر پھیل گئی تھی مدیحہ بھی فارغ ہو گئی تھی اور میرا بھی پانی نکل چکا تھا میں نے اسے بولا کہ اس منی کو دودھ پر مل لو بڑے ہو جائیں گے 😕🥰😋 کہتی اچھا اور ساری منی اسنے اپنے مموں پر مساج کرلی اور پھر مجھے اوپر سے ہٹنے کا اشارہ دیا میں سائڈ پر ہوگیا اور موبائل کی ٹارچ جلا کر خود کو صاف کرنے کے لئیے کوئی کپڑا ڈھونڈنے لگ گیا لیکن جب لائٹ جلائی تو میں نے دیکھا لن پر جگہ جگہ خون کے دھبے سے جمے ہیں میں سمجھ گیا کہ مدیحہ کی پھدی کے خون نے میرے لن کو بھی رنگ دیا ہے ادھر مدیحہ کی طرف لائٹ کی تو اسکی پھدی کے باہر بھی خون لگا تھا اور اسکے ٹانگوں کو بھی لگا تھا کیونکہ نیچے چارپائی کی چادر بھی تھوڑی خون اور پانی سے گندی ہوئی تھی میں نے مدیحہ کو کھڑا کر کے چارپائی کی چادر اتاری اور اس سے اپنا لن اور مدیحہ کی پھدی اور اسکی ٹانگیں سب صاف کی اور پھر اسے چارپائی پر بٹھا کر اسکی شلوار دی کہ پہن لو میں نے بھی ٹراوزر پہن لیا تھا اور چادر کو میں نے اوپر رکھی ہوئی ایک پیٹی کے پیچھے پھینک دیا تھا کہ صبح دھو لوں گا اب ٹائم ہمیں آدھے گھنٹے سے اوپر ہو گیا تھا اور اس سے پہلے کہ مدیحہ کو کوئی ڈھونڈتا ہوا اوپر آتا اسے جانا چاہئیے تھا میں نے اسے بولا کہ اب جاو ٹائم کافی ہو گیا یے اسنے کہا ٹھیک ہے میں بھی یہی کہنے والی تھی وہ اٹھ کر چلنے لگی اور ابھی ایک قدم ہی چلی ہو گی کہ گرنے لگی تھی میں نے آگے بڑھ کر اسے سہارا دیا اور پوچھا کہ کیا ہوا چلا نہیں جا رہا کیا اسنے کہا نہیں درد ہورہی ہے تب میں نے اسے سہارا دیکر باہر انکی دیوار تک لایا اور دیوار کراس کروا کر اسے بولا کہ دھیان سے سیڑھیاں اتر کر نیچے جانا گرل کو پکڑکے جانا اسنے ہاں میں سر میں ہلایا اور وہاں کھڑی کھڑی میری گال پر کس کی اور اپنی سیڑھیاں اترنے لگی میں اسے کھڑا وہی دیکھتا رہا اور پھر وہاں سے ہٹ کر نیچے آ گیا مجھے لگا کہ میں نے اس پر اتنا ظلم کر دیا ہے بیچاری سے چلا بھی نہیں جا رہا تھا پر میں خوش بھی تھا ایک تو لن نے پھدی پھاڑدی تھی دوسرا بہت زیادہ مزہ آیا تھا میں نے اب واش روم جا کے نہایا موٹر چلا کے اور یہی کپڑے پہن لئیے تاکہ کسی کو پتہ نا چلے میں نے مدیحہ کو بھی کال کرکے گرم پانی سے نہانے کا بولا ساتھ میں پیناڈول اور بسکوپان کھانے کو بولا اس سے درد اور ٹھکاوٹ اتر جائیں گی اسنے کہا ٹھیک ہے رات بہت سکون سے نیند آئی اور جب صبح 11 بجے اٹھا تو سکرین پر ایک میسج آیا تھا پر نمبر یکھ مر بہت خوش ہوا او حران بھی۔۔۔
باقی اگلی اپڈیٹ میں کل یا پرسوں کو۔۔
آپ کو آج کی اپڈیٹ کسی لگی ہے۔کمنٹ لازمی یاارررر۔

Offline Sfaiza

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 107
  • Reputation: +4/-0
    • View Profile
Re: میری خواہشات کچھ ادھوری کچھ مکمل )in**st)
« Reply #30 on: July 27, 2020, 03:42:32 pm »
Boht achi or sex se bharpur nice and good work

Offline U3347198794

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 38
  • Reputation: +0/-0
  • Gender: Male
    • View Profile
Re: میری خواہشات کچھ ادھوری کچھ مکمل )in**st)
« Reply #31 on: July 27, 2020, 11:32:35 pm »
Nice story
Keep it up bro

 

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.