Author Topic: اجنبی بنا آشنا  (Read 33400 times)

Offline Seema Naaz

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 5672
  • Reputation: +587/-20
  • Gender: Female
    • View Profile
اجنبی بنا آشنا
« on: August 07, 2020, 08:28:58 pm »

اجنبی بنا آشنا





پھرتے ہیں ہم اکیلے   بانہوں میں کوئی لے لے
آخر  کب تک  ہم ان تنہایوں  سے کھیلیں
« Last Edit: August 09, 2020, 04:05:30 am by dexter »
نہ لاگ کسی سے نہ لگاؤ

YUM Stories

اجنبی بنا آشنا
« on: August 07, 2020, 08:28:58 pm »

Offline Seema Naaz

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 5672
  • Reputation: +587/-20
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #1 on: August 07, 2020, 08:31:39 pm »

اجنبی بنا آشنا

صبح   جلد ہی   آنکھ کھل گئی  تھی .   میرے ساتھ ہمیشہ ایسا

 ہی ہوتا  ہے  جس دن جاب  سے آف  ہوں   آنکھ  بنا  کسی الارم  کے

کھل جاتی ہے  .  اٹھ کر  نماز  ادا کی  اور کافی    بنا کر

 کھڑکی  کے سامنے   میں کافی  کا مگ  ہاتھ میں لئے   

موسیقی  سے لطف اندوز   ہونے لگی   .    خوشگوار  موسم

  نے  فضا   میں رومان  سا  بھر  دیا   تھا . میری    طبیعت  مچلنے  لگی   دل   چاہنے لگا 

 کچھ     ہو     ہاں    کچھ    ایسا    جو آج     تک   نہیں    ہوا .

 میں   کار    میں    لمبی     ڈرائیو    کے    لئے     نکل    کھڑی    ہوئی

 موسم    بھی    سہانا     تھا     موڈ   بھی     بنا     ہوا    تھا . ٹھنڈی

 بریز  اور رومانٹک    موسیقی    نے بدن کی  طلب کو ہوا دی   .
موسم ہے عاشقانہ
اے دِل کہیں سے ان کو
ایسے میں ڈھونڈ لانا
کہنا كے  رت  جواں ہے
اور ہم ترس رہے ہیں،
پھرتے ہَیں ہم اکیلے

بانہوں میں کوئی  لیلے


آخر کوئی  کہاں تک
 تنہایوں   سے  کھیلے
دن ہو گئے ہَیں ظالم
راتیں ہَیں قاتلانا 
موسم ہے عاشقانہ     
یہ سنتے ہی  میرا دل بھی   خواب  بننے  لگا .  ویسے بھی میرا  یہ پسنددیدہ نغمہ ہے . 

کچھ  شعر تو کمال کے ہیں

پھرتے ہَیں ہم اکیلے   , بانہوں میں کوئی  لیلے , آخر کوئی  کہاں تک  تنہایوں   سے  کھیلے . 

روڈ  کے دونوں جانب   دور تک ہریالی  ہی  ہریالی  جازب  نظر   اور دلکش   لگی 

فارم  سڑک  کے ساتھ  ساتھ  جیسے  دوڑ  سے رہے ہوں

 گائیں   جو اپنے  نر ساتھیوں  کے   ساتھ   گھومتی گھاس  چر  رہی تھیں .

ان کو دیکھ کر  بے ساختہ ان پر پیار آ گیا

  بھیڑوں کے ریوڑ  کے ریوڑ    سبزے   کو کھاتے   اور  میمنے  اٹکھیلیاں  کرتے   دیکھ  کر  زندگی


    اتنی  بھی بری نہیں  ہے  کا یقین ہو گیا   .  پاکیزہ کا دوسرا گانا   اوٹو   پلے ہوا
 
"   یوں  ہی مل گیا تھا کوئی سر راہ  چلتے چلتے    وہیں پے تھم کے رہ  گئی ہے . 


میں نے  ٹیپ  اسٹاپ  کردی

کاش ہمیں بھی کوئی مل جاتا   پھر رات  تو کیا سانس ہی تھم جاتی . کسی کے ہو کے  تو مرتے .    میں ٹھنڈی  آہ  بھر کر رہ گئی .  میری  آنکھیں  نم سی ہونے لگیں   تو   میں نے  فارم کی طرف دیکھ کر 
اپنی توجہ   بٹانے کی  کوشش کی  .   ایک مور اپنی مادہ   کا قرب پانے اور اسکا دل  جیتنے  کے  لئے 

  ڈانس  کر  رھا   تھا   . مجھے مورنی پر رشک  آ گیا . نہ جانے  مرد  کب اتنا  تہذیب یافتہ  ہو سکے گا   
ہوگا بھی یا کبھی نہیں   کیا خبر  پل میں  تولہ پل میں ماشہ   اسکا کیا بھروسہ     

تھوڑی دور آگے  ہرن اور ہرنی  کو پاس پاس کھڑے  خاموشی میں  ایک  دوسسرے  سے  باتیں 

کرتے دیکھ کر  میں بے ساختہ  مسکرا دی .     اگلے فارم   میں گھوڑے   ,  زیبرے اور گدھے   

  کچھ  گھاس   چرنے  میں   مشغول  تھے  کچھ   اٹکھیلیوں  میں  مصروف   . ایک گدھے  نے   گدھی

کی  گردن  پر  اپنے دانت گاڑھ  رکھے تھے   اور گدھی   منہ چبا چبا کر  اپنی  رضا مندی  کی دہائی  دے

رہی تھی   .  مگر وہ اپنا پر تشدد  رویہ  برقرار رکھے ہوئے تھا . اسکی پانچویں ٹانگ کچھ زیادہ  گستاخانہ

انداز  لئے   کبھی لٹکتی  تو کبھی  اپنے سینہ کو  پیٹتی  .  میں آنکھیں  چراتے   ہوئے دوسری  جانب

دیکھنے لگی  .  جہاں    ایک  مڈل ایجڈ  جوڑے    کو  ننگے پاؤں   سبزے    پر چہل  قدمی  کرتے پایا  .

میرا زیادہ دور جانے  کا  ارادہ  نہ تھا  . مگر مست نظارے  دیکھتے خبر ہی نہ ہوئی  .

میں جب کبھی اداس ہوتی ہوں تو  میں لونگ ڈرائیو کرتی   ہوں   لیکن  آج  تو  میرا موڈ  بہت

اچھا  اور طبیعت   خوش خوش   تھی  پھر میں  آگے بڑھی جا رہی تھی .

کافی دیر بعد ہائی  وے   پر   نیکسٹ   خروج  پر  ایک ریسٹورانٹ    استہار   نظر آیا تو   

کافی  کی طلب  ہونے  لگی   . اور میں  وہاں  سے باھر  نکل  ائی     کار  پارک کر کے  میں

ریسٹورنٹ  میں گئی  اور َِکارنر  میں  بیٹھ  کر  ویٹر    سے کہا  کافی لے آئے  .

ادھر ادھر  دیکھا  تو دوسرے کورنر   میں  اسے  اپنی  طرف   دیکھتے پایا . تو میرا دل  زور سے دھکا

  میں  نے ذرا غور سے دیکھا اچھے  خدو  خال   کا حامل   ایک ٣٥-  ٤٠-  سال  کا  شخص جو       

پاکستانی   دکھتا  تھا   کو بڑا  پرکشش    پایا  َ. اپنے انداز واطوار  سے   بہت سلجھا  ہوا   معلوم ہوا 

اس نے مجھے  اپنی طرف   دیکھتے  پا یا    تو  وہ مسکرا دیا . اس کی  مسکراہٹ    بہت  پرکشش  تھی .

میں نے نظریں چرا لیں اور کافی کے سپ لینے لگی  گرم گرم کافی   اتنی  اچھی  پہلے کبھی نہ لگی تھی
 
  .  میں  نے کافی پیتے  ہوئے کئی بار  اسے دیکھا  تو اسے اپنی طرف  ہی متوجہ پایا .  میں اگنور  کر دیتی

مگر اسکی  پر کشش  شخصیت    مجھے بار بار  دیکھنے   کے لئے  مجبور  کر رہی  تھی .

  اس کے چہرے  پر  کچھ دنو کی بڑھی  ہوئی شیو  بہت جچ رہی تھی . میں چوری  چوری  اس کا جائزہ

لیتی  . مجھے سمجھ نہیں ائی کہ  میں بار بار اسی  جانب  کیوں نظریں دوڑاتی  جس طرف وہ  براجمان  تھا

جب بھی ادھر دیکھتی   اسے  اپنی طرف دیکھتے اور  پھر نظریں چراتے  دیکھتی 

یہ کھیل  ہم دونوں میں  کچھ دیر کھیلا جاتا رہا .  ہم دونو یوں ظاھر کر رہے تھے 

ہم دونوں   ایک دوسرے کو سرسری    اتفاقیہ  دیکھ  لیتے ہیں  . مگر میں جانتی  تھی 

جیسے اسے   بار بار   دیکھنا  چاہتی  تھی  وہ  بھی   یہی  چاہتا  ہے  مجھے دیکھ کر  اسکے

ہونٹوں   پر مسکراہٹ آجاتی.  اخر ایک بار میں نے  بھی  اسکی مسکراہٹ  کا جواب

مسکرا کر دے دیا .

شاید   میرے مسکرانے سے  ہی  اسکو میری ٹیبل  پر  انے کا حوصلہ ہوا .

" کیا  میں یہاں    بیٹھ سکتا ہوں "  اس نے ایک کرسی  پیچھے کھینچتے ہوے  مجھ سے  پوچھا ,

"  بیٹھیں  ", میں نے اسے مسکرا کے  بیٹھنے کے لئے کہا.

  مجھے احسن کہتے ہیں  اس نے میری  طرف  ہاتھ بڑھاتے ہوئے  کہا .

میں نائلہ  ہوں  میں نے اپنا ہاتھ  اس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے  کہا  جو اس نے   مضبوطی  سے پکڑ لیا َ

ا پ سے مل کے بڑی خوشی ہوئی مس  نائیلہ  اس نے  مسکراتے  ہوئے  کہا .

مسز  نائیلہ  عامر عزیز   میں  نے اس کی تصحیح  کرتے ہوئے  اپنا ہاتھ  اس کے ہاتھ  سے  الگ کیا

جو ابھی تک  اسکے ہاتھ میں تھا . 

آ پ   پاکستان سے  ہیں  مسز  نائیلہ عامر عزیز

جی    ہاں .  میرا تعلق پاکستان سے  ہے  اور آپ بھی  پاکستانی  لگتے ہیں   . میں  نے تصدیق  کے لئے پوچھ لیا

جی  میرا تعلق   خوشاب  پاکستان سے  ہے  اور یہاں  ٧ سات   سال سے پنسلوانیا  میں ہی  مقیم ہوں

" آپ  اسی سٹی  میں رہتے ہیں "  , میں نے سوال دآغا   , ہم اس وقت پیٹسبرگ  پنسلوانیا  میں تھے  .

"  نہیں  جی " , میں فلاڈلفیا   سے ہوں   آج میری ایک  اپوینٹمنٹ    ہے  ١ بجے  بزنس  کے سلسلہ میں

مگر میں رات  کو ہی  آ گیا تھا    اور  قریبی  موٹل  میں ہی  سٹے  کیا  ہے . 

" آپ یہیں رہتی ہیں  کیا" ?  اس نے میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے  پوچھا  تو میں جھینپ سی گئی .

"نہیں جناب میں بھی   یہاں نہیں  رہتی ",  میں   فورڈ   سٹی   سے ہوں .

" پھر  آپ یہاں کس سلسلے میں "  اس نے استفشار  کیا   تو  میں سوچ  میں  پڑ  گئی .

کیا کہوں  کیونکہ میں تو بلا  جواز ہی  یہاں  موجود تھی  .

آج  میں  جاب  سے   آف  تھی  گھر بور  ہو رہی تھی اور  لانگ ڈرائیو  کا موڈ  بن گیا .

اور   کافی کی طلب  مجھے یہاں کھینچ لائی ". 

میں اپنے خالی  کافی کے کپ کو   اپنے ہاتھوں میں  بلوتے    ہوئے  کہا .

تو اس نے  کپ میرے ہاتھوں سے  لے کر   ٹیبل  پر   رکھ دیا  .

اور   میرے ہاتھ کو  اپنے ہاتھ میں لے  کر کہنے لگا بڑے خوبصورت ہاتھ ہیں آپ کے .

اسکے  چھوتے   ہی   عجیب سا محسوس  ہوا  جیسے کوئی بجلی  سی سارے بدن میں   سرایت   کر گئی ہو 

شرم سے میرے گال سرخ   ہوگئے . اور میں نے ہاتھ  کھینچتے  ہوئے  اس سے  کہا

  " آپ فلرٹ   دکھتے تو نہیں ہو " .

" وہ  بولا آپ  کچھ بھی  سمجھ سکتی ہو  مگر میں حقیقت  بیان  کر رہا ہوں "

اور اس نے پھر  میرا  ہاتھ   اپنے ہاتھوں میں  لے لیا اور  کہنے لگا  دیکھیں   

کتنے  ملائم  اور سوفٹ  ہیں آپکے ہاتھ  اور  نازک  نازک سی لمبی اور

پتلی پتلی   انگلیوں  کا تو جواب ہی نہیں"  اس نے پاکستانی مرد ہونے کا ثبوت  دینے  ذرا  دیر

نہ لگائی تھی  .   میں   نے  شرما  کر  نظریں جھکا لیں  , میں اپنے  سرخ   ہوتی گالوں  کو

محسوس کر رہی تھی. میں نے ہاتھ کھینچنے  کی کوشش کی تو اس نے  اور مضبوطی  سے پکڑتے ہوئے

کہا  " اور آپ کے ہاتھوں کی  لکیریں بھی  شاندار  ہیں ".
 
 
  میں نے دلچسپی  لیتے ہوئے  اس سے پوچھا  .    " کیا آپ  پامسٹری  جانتے ہیں ".   


کچھ  زیادہ  نہیں  تھوڑی بہت سوجھ بوجھ ہے .  اگر آپ کہیں تو آپ  کے بارے  کچھ  بتاؤں .

مگر میں  اعتبار نہیں کرتا  , کیونکہ ہمارا مذہب  اس کی اجازت نہیں دیتا . وہ بولا  .

"ہمم   یہ تو ہے,   یقین تو مجھے بھی نہیں  مگر آپ اگر کچھ جانتے ہیں   تو دیکھ کر بتا دیں. "

میں نے   اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا  .

  اس نے میرا دوسرا ہاتھ  بھی پکڑا  ایک بار دونون  ہاتھوں کو  سامنے  رکھا  اور 

میرے ہاتھوں کو دبا کر  بولا میں آپکے ہاتھوں کی خوبصورتی   کو دیکھوں یا ہاتھوں کی لکیروں  کو  . 

" اپ بھی نا   , پورے  فلرٹ  ہو " ,  میں  شرما کر بولی .  ( مجھے  فارم میں ناچتا مور  یاد  آگیا ) , .

پلیز  . آپ لکیروں کو ہی  دیکھیں  اور کچھ سمجھ  ہے تو بتآ دیں . اس  نے میری آنکھوں میں دیکھا .

اسے شاید آنکھوں  میں جھانکنے  کی عادت تھی  . میں نے نظریں چرا لیں  .

اس نے    ہاتھ کی لکیروں کو دیکھا  جیسے جیسے وہ   میرے

ہاتھ پر اپنی انگلیاں  پھیرتا  مجھے  کچھ کچھ ہونے لگتا  .   اسکا  میری انگلیوں کو ٹٹولنا

اور  ہتھیلی پر اپنی انگلیوں کو مس  کرنا  بہت اچھا  لگنے لگا تھا  .

  تھوڑی دیر بعد  وہ  بولا .   اپ ٢٥ سال کی ہیں  ,  میں ہنس دی  , یہ تو  کوئی بھی اندازہ لگا سکتا ہے . 

ویے میں ٢٨ کی ہوں , اس نے میری طرف دیکھا  اور کہنے لگا  آپ کی شادی ہو چکی ہے .

میں نے ہاتھ  کھینچتے ہوے کہا .

یہ تو میں خود کو مسسز   کہہ  کر بتا چکی ہوں  . اس میں کونسی  نئی بات کی آپ نے .

اس نے پھر میرا  ہاتھ  اپنے ہاتھوں میں لے لیا  اور  نہ جانے

  کیوں میں یہی  چاہ رہی کہ وہ  میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے رکھے  .

وہ بولا  آپکی شادی ہو چکی ہے  مگر وہ ناکام بھی ہو چکی ہے 

میں چونکی  کیونکہ یہ  وہ صحیح  کہہ رہا   تھا .  آپ اپنے خاوند  کے ساتھ نہیں رہتی ہو  ., 

پھر اس نے کچھ اور  باتیں ایسی بتائیں جو  میرے سوا کوئی نہ جانتا تھا . 

کچھ ایسی باتیں بھی کیں جن پر یقین کرنا میرے لئے مشکل تھا .  میں نے اعتبار نہ کرتے ہوئے

  یوں ہی کہہ دیا  چلو دیکھتے ہیں . اسکو صاف   جھٹلا  دینا   اچھا  نہیں لگا

اس لئے بات ٹال دی .    اور کچھ پوچھنا  بیکار تھا . اس لئے  میں نے اس  سے کہا   میں چلتی ہوں  .

نہیں ابھی نہیں  پلیز  ,  ایک ایک کپ  کافی ہو جاۓ , کیوں کیا خیال ہے  ? وہ  بڑے اشتیاق آمیز لہجے میں بولا 

تو میں   نے  کندھے اچکا دئیے  جسکا مطلب  تھا  , ٹھیک ہے . 

نہ جانے کیوں  اس کے ساتھ کچھ وقت بتانا چاہتی تھی . مجھے خود اپنی سمجھ  نہیں  آ رہی تھی 

کہ  میں  کیوں   اس  میں دلچسپی  لے رہی ہوں . اتنا  وقت  کسی انجان  آدمی کے ساتھ

بلا وجیہ بیٹھنا   میری سمجھ میں  نہیں آ رہا  تھا  یا میں سمھنے کی ضرورت  محسوس 

کر نا  نہیں چاہتی   تھی .    وہ کافی کا سپ  لیتے میری آنکھوں میں دیکھتا  , 

اس کی آنکھیں  بڑی  شرارتی  تھیں , میں جھینپ سی جاتی اور وہ مسکرانے لگتا  .

اس نے پھر سے میرا  ہاتھ  پکڑ لیا  اور ہولے ہولے  دبانے لگا . ہم یوں بیٹھے   

باتیں کر رہے تھے  جیسے مدتوں سے  ایک دوجے کو جانتے ہوں .

اور سچی میں  مجھے  اس سے انسیت ہونے لگی تھی . وہ مجھے اچھا  لگنے لگا .

حالانکہ  میں کسی سے ہاتھ ملانے سے بھی اجتناب    برتتی  ہوں


مگر آج صبح  سے موڈ کچھ  رومانٹک  ہو رہا تھا 

شاید  خوشگوار موسم   کا بھی اثر ہو کہ اپنے  ٹاؤن  سے ٧٠ کلومیٹر   دور  میں 

کسی  اجنبی  کے ساتھ کافی  پی رہی تھی  اور اسکے ہاتھوں میں میرا ہاتھ تھا 

جس کو بڑے پیارے انداز میں سہلا  رہا تھا .  جیسے جیسے  اس کا ہاتھ میرے ہاتھ  کو

دباتا  سہلاتا  مجھے کچھ   کچھ     ہونے   لگتا     

اس  کا لمس  بہت اچھا فیل  ہو رہا تھا  .  ایک گھنٹہ کے بعد  اسکی میٹنگ  تھی

اور وہ چاہتا  تھا کہ  یہ ٹائم  میرے ساتھ  گزارے
.
اور  سچ میں میرا من بھی یہی کہ رہا  تھا

"نائلہ  " اس نے بڑی  دھیمی آواز  میں مجھے نام لے کے پکارا

جی  , میں  نے جوابا  کہا تو  . تو اس نے  میرا ہاتھ دونوں ہاتھوں میں لے کر  کہا . 

کیوں نہ ہم  یہ     ٹائم موٹل  روم  میں بیٹھ کر گپ شپ کریں

مسٹر  مجھ  سے کیا  توقع   رکھتے  ہو . میں نے  تھوڑا ترش لہجے میں  کہا .

( مجھے گدھا   گدھی  کی گردن  پر دانت گاڑھے   نظر آنے لگا )   

منمناتے  ہوئے  کہنے لگا  ." اچھائی کے علاوہ کچھ بھی تو نہیں ,"

  یقین مانو میرے دل میں کوئی ایسی  بات نہیں میں  ایک شریف بندہ  ہوں

کوئی غلط قدم  اٹھا نہیں سکتا نہ ہی میرا کوئی غلط  ارادہ ہے . 

میں سوچنے لگی گر اس کے ساتھ  کمرے میں جاؤں بھی  تو یہ زبردستی تو کرنے سے رہا  .

میں تھوڑا سا بھی اونچا بولی  تو سیکوریٹی  آ جائیگی . 

میں  اسے  حیران کرتے   ہوئے  اٹھ کھڑی ہوئی  اور  اسے بولا  آؤ تمہارے کمرے  میں چلتے ہیں  .

اس نے   حیرانگی سے میری طرف دیکھا

اور  بے یقینی  کے عالم  میں اٹھ کھڑا ہوا .  اسکا موٹل  زیادہ دور نہ تھا ہم  پیدل ہی

اسکی جانب بڑھے . میں نے اپنی کار  وہیں  پارکنگ میں چھوڑی .

اور  ہم      موٹل   میں  تیسری منزل  پر اسکے کمرے میں  آ گئے .   

مجھے  باتھ روم  جانے کی حاجت  تھی . سو میں    "معاف کرنا"      کہتے  ہوئے باتھ  روم  گئ

اور فریش اپ  ہو کر  باھر نکلی  . احسان چیئر پر   بیٹھا تھا  اور کچھ گنگنا رہا تھا

میں بھی اس کے قریب چیئر  پر بیٹھ گئی . وہ اٹھا  اور باتھ روم چلا گیا  .

میں نے  ادھر ادھر دیکھا  صاف  ستھرا کمرہ تھا  خود  اسکا  کا ایک ہی  بیگ  تھا  .

جیسے وہ  صرف ایک ہی دن کے لئے آیا ہوا . کمرے کے نزدیک ہی  سیکورٹی آفس تھا   

جس سے  مجھے تسلی تھی .  کہ میرے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کر سکے گا . 

احسن کے  باھر  آتے ہی  میں بولی   آپکی  میٹنگ کا ٹائم ہو چلا . اب چلنا چاہیے

  تو  اس نے   وال کلاک  پر ٹائم دیکھا تو   کہنے  لگا ٹھیک ہے اب نکلنا ہوگا . 

اور   مجھ سے بولا.  نائلہ     کیا  ہم دوست  بن سکتے ہیں  ؟

آپکے  ساتھ   میرا وقت اچھا گزرا   اور  میں چاہتا ہوں  ہم پھر بھی ملتے  رہیں ,

میں بھی  آپکی طرح تنہا ہوں .

میں نے کہا اچھا میں سوچونگی  اور  ہم دونوں کمرے سے  نکل  آئے .

میں دل ہی دل میں  خوش ہوئی کہ احسان نے کوئی ایسی حرکت نہیں کی جس سے  میرے اعتماد  کو ٹھیس

پہونچتی . وہ بھلا مانس  شریف آدمی نکلا   اور مجھے امید  بندھ  گئی  ممکن ہے  ہم  دونوں میں

کوئی سمںبندھ   ہو  جائے  .  میں نے  خود  اسکے بازو  میں اپنا بازو ڈالا اور بڑے  اعتماد  سے

احسن کے  ساتھ لفٹ  میں داخل ہوئی , لفٹ میں  میں  احسان کے ساتھ  مل کر  کھڑی ہوئی 

میرا جسم اس سے ٹچ  ہو رہا تھا  . احسان نے کسی طرح کی  اوچھی  حرکت نہ کی 

  یہ تنہائ ایک قسم کا ٹیسٹ تھا.   میں  اس سے  کافی  متاثر ہوئی .  . باھر  آ کر  وہ اپنی کار کی

  طرف بڑھا  تو میں نے اسے  گڈ لک   کہا  تو اس نے جلدی سے  ہاتھ بڑھایا

جو میں نے  بڑے اشتیاق سے  اپنے ہاتھ میں لے لیا .  وہ  بولا  نائلہ  کیا ایسا نہیں ہو سکتا

کہ آج کی شام ہم ملیں اور  کچھ وقت   اکٹھے  رہیں   . تاکہ  ایک دوسرے کو جان سکیں

ممکن ہے احسن اگر میں واپس نہ گئی  تو  آپ سے ملاقات ہوگی ,   مگر کوئی    وعدہ

نہیں کرتی . اپکا ٹیلی فون نمبر  میرے پاس ہے . اس نے میرے فون میں انٹر کر دیا تھا 

اگر ایسا کوئی پروگرام ہوا  میں آپکو کال  کر دونگی ورنہ رات  کو  فون  پر بات ہوگی .

نائلہ کیا میں سمجھوں ہم  اب دوست ہیں   وہ بولا تو میں نے کہا .

"میں تو یہی سمجھ کر بات  کر رہی ہوں . "

اس کے چہرے کے تاثرات  بتا رہے تھے وہ  یہ سن  کر بہت خوش ہوا  تھا . 

اس نے میرے  ہاتھ کو دبایا  اور مجھے   کس   ( پیار ) کرنے کے لئے  میرے چہرے  کی جانب جھکا

تو میں نے اپنا گال  سامنے کر دیا . اس نے بوسہ  لیا 

اور پھر اچانک میرے چہرے کو  اپنے دونو ہاتھوں میں لے کر  اس نے میری پیشانی  چوم لی ,

اس وقت اسکی آنکھوں  میں   پیار ہی پیار تھا  جو کہ مجھے نہال    کر گیا .

احسن  کے   جانے   کے   بعد  میں  سوچ کے   دو  راہے    آ کھڑی  ہوئی  .

سمجھ  نہیں آ رہی تھی کہ کیا  کروں  شام   کو  رنگین  بنا  لوں 

یا احسن  سے ملاقات   کسی  اور  دن  پر  رکھ   لوں   .

یہ فیصلہ  دل  ہی  دل    میں کر  لیا تھا  کہ احسن کے  ساتھ   تعلقات   بنانے  ہیں  . 

کم بخت   دل  کو بھا   گیا  تھا   اور  اب  کم  از   کم   ایک   بار   تو   اس  کو آزمانا    ہو  گا   

تاکہ  دل  میں   کسی   قسم   کی  خلش  نہ  رہے  . 

عامر  عزیز   میرے    خاوند   کے علاوہ   میں نے کبھی    کسی  سے  جنسی  تعلق   نہیں رکھا   

نہ شادی   سے  پہلے  نہ شادی  کے بعد   . اگرچہ   یہاں  ہر قسم کی آزادی بھی ہے اور  مواقع

بھی   آسانی سے  دستیاب ہیں  . مگر مردوں سے دوستی  بھی ایک حد  تک  ہی محدود رکھی .

میں  نے کبھی    کسی غیر  مرد  سے   کسی  قسم   کے  غیر شائستہ تعلقات   کے   بارے   

سوچا   تک   نہ  تھا .  اور  اب  اچانک   احسن   ایک بگولے کی  ما نند  اٹھا  اور  مجھے   اچک   لیا  .

کوئی   اور   ہوتا  تو    مجھے    اس   کے  بارے  سوچنے  کی ضرورت   ہی محسوس  نہ  ہوتی   .
مگر   اسکی    شخصیت   میں  نہ  جانے کیا    جادو  تھا   کہ    جس   نے  مجھے گمراہی  کی

جانب   مائل   کر   دیا   . میں جان چکی تھی کہ  اگر اسی  طرح احسن   ایک ٢ بار ملی 

تو  میں خود کو  اسکی قربت سے  بچا نہ پاؤنگی . 

اور  اب   میں    سوچوں  کے گرداب  میں  ڈوبی  نہ ادھر کی نہ ادھر کی   

دانوانڈول  پھنس  چکی تھی .   احسن  جسے  میں جانتی تک نہیں   چند  گھنٹے  پہلے  تک  ملنا

تو درکنایر    جسے  دیکھا   تک    نہ  تھا .  وہ   میری  سوچوں کا محور   بنے   مجھے  نئی 

راہوں کی  جانب     گامزن ہونے  کے  لئے     مجبور  کر  چکا  تھا .   

من کرتا     کہ  آج شام   احسان کے  ساتھ    کچھ  وقت  رہوں .

مگر  دماغ   کہتا    عزت  نفس  بھی  کوئی   چیز ہوتی ہے   . اگر   آج    ہی    اسے   ملو  گی   

تو  ممکن ہے وہ   تمھیں   چیپ      سمجھ   بیٹھے .      اس طرح    خود  کو  اسکی   نظروں 

میں   گرا  بیٹھوگی .  من   اور   بدن  کی   طلب  کچھ  اور  تھی .   

مجھے  اپنے خاوند سے  الگ   ہوئے   ٢   سال  سے زیادہ   ہونے  کو تھے   

اور   اس  سے پہلے   ٦  ماہ    سے   زیادہ  عرصہ    سے  ہمارے ازدواجی   تعلقات منقطع
« Last Edit: August 08, 2020, 10:25:30 pm by dexter »
نہ لاگ کسی سے نہ لگاؤ

Offline Seema Naaz

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 5672
  • Reputation: +587/-20
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #2 on: August 07, 2020, 08:36:37 pm »

آج  احسان  نے   جب  میرے ہاتھوں   کو  اپنے ہاتھوں  میں  لیا   تو میرے   

  بدن   میں   بھولی   ہوئی ٹیسیں   اٹھنے  لگیں   جنہوں  نے     میری  تشنہ  آرزوؤں     

اور   تمناؤں   کو     زندہ   کر   دیا     جن  کو  اپنی   طرف  سے  میں  کب  کا   دفنا   چکی  تھی
 . 
مگر    یہ   فطرتی   جذبات     مر  نہیں سکتے     کہیں  نہ  کہیں   کبھی  نہ کبھی   انکو   

 سر اٹھانا  ہی  ہوتا  ہے   اور جب یہ  جاگ اٹھیں   تو    اپنا   خراج  لئے  بنا  نہیں ٹلتے .

    آج   میرا   بدن   اور   میرا   من    ایک   ہو   کر   میرے  مد مقابل   کھڑے   ہو  کر   

 مجھ  سے  اپنی محرومیوں   کا صلہ  مانگ  رہے تھے .  مگر    میں  تو تہی دامن  تھی

  انکو  کیا صلہ   دیتی .    مجھ   میں  میرے  معاشرے  اور  رسم و  رواج    سے 

ٹکر  لینے  کی   ہمت   نہیں   , میری تربیت  اس نہج  پر    ہوئی  ہی نہیں   کہ 

میں اپنی  ذات کے  لئے  سوسایٹی   سے بغاوت  کر سکوں . اسی لئے  آج   تک    میں   

اپنی   خواہشات   اپنے  جذبات   کو   دباتی  رہی       مگر  آج      احسان    نے  پھر  سے   

جذبات    کی انگیٹھی     میں    ایسا   بار ود      پھینکا   کہ   مجھ   سے  انہیں   

سنبھالنا    مشکل  ہو  رہا    ہے .   دماغ  اور  دل   میں  ایک   جنگ  چل  رہی     ہے   

 .  دل  کہتا       اپنے من  پسند    مرد  کے ساتھ  کچھ اچھا وقت   پاس کرنا تمہارا حق ہے .       

موقع      بھی   ہے      اجنبی  دیس       میں         ایک  انجانے      کے ساتھ    کچھ  ہنس  کھیل     

 لوگی  تو     کیا  فرق   پڑے   گا   کسی  کی صحت  پر .   کسی کو معلوم  بھی نہیں  ہوگا      مگر

دماغ    کچھ اور   صلاح  دیتا     کہ  آج ہی  گر  اس سے ملوگی تو   خود  کو اسکی نظروں  میں گرا بیٹھوگی .   

 اور   چند         خوشگوار   گھڑیوں  کی     خاطر   عمر   بھر  کا  روگ  نہ  پال بیٹھنا  .

جسمانی   جذبات کو     تو  پہلے   بھی   دبایے    پھرتی  تھی   یہی   سوچ  کر   اپنے   امڈے   

ہوئے    جذبات  کی پرواہ  نہ    کرتے  ہوئے       میں  نے  احسان  کو میسج     کر   دیا   کے آج  میرا

رکنا      ناممکن  ہے      پھر  کبھی   پروگرام   آپ کے  مشورے سے    بنا  کر    ملاقات  کے  لئے 

وقت نکالوں گی .  یہ  میرا   وعدہ   رہا .     اور    ریسٹورنٹ  سے   ایک    سینڈوچ  کے

 ساتھ  کولڈ  ڈرنک   لے  کر لنچ  کیا اور     بے  دلی   سے  گھر  کی  طرف   روانگی  اختیار کی .   

دل  بلکل  نہیں مان     رہا   تھا  جانے  کے  لئے      .  مگر   کیا  کرتی     جانا   تو  تھا  ہی    بے  دلی 

سے سلو   سپیڈ     سے  ڈرائیو  کرتی     میں  سٹی   سے  نکل آئ    .   بجھے   دل  سے ڈرائیونگ   

میں    بھی مزہ     نہیں   آتا    .    دل  کے ارمان    دل  میں  رہ  گئے      کے مترادف    یوں  لگ

رہا   تھا     جیسے   میں    اپنا    سب کچھ لٹا   کر  جا رہی  ہوں .     اپنی سٹی  سے ١٠ منٹس      کے

 فاصلے  پر   مجھے   فون   موصول  ہوا    . احسن    تھا    .

ہیلو    نائلہ        کیسی ہو .   اس نے  پوچھا   

میں :  "    ٹھیک ہوں     آپکی  میٹنگ  کیسی  رہی "

   احسان   "   فنٹاسٹک    . آج کا دن  میرے لئے  بہت  مبارک  ثابت  ہوا   ہے  . آپ سے  ملاقات

پھر میٹنگ    میں جو کچھ   میں  چاہتا   تھا     وہی   حاصل بھی   کر  لیا .

 میں :  "  یہ  تو  بہت اچھی  خبر ہے  آپ  جو چاہتے تھے  وہ  حاصل کر لیا آپ نے    مبارک ہو .

   احسان  :     جی میں بہت  خوش ہوں  مگر آپ  کے جانے   نے دل  اداس کر دیا  ہے   

میں نے تو سمجھا تھا  آپ  رک  جائینگی  آج  کی  رات .

 میں :  میں    ضرور     رکتی      مگر    آج      کچھ     ضروری    کام      کی    بدولت     

  میرا    رکنا     ناممکن    ہو  گیا .

    احسن    :  جیسے آپ کی   مرضی     ویسے   مجھے اب بھی  امید ہے   کہ آپ    واپس    لوٹ   آئینگی   .

  میں  : ارے  یہ کیسے ممکن ہے   میں گھر سے ٥ منٹس    کے فاصلے  پر ہوں . ایسی امیدیں  مت  باندھو

    اور  میں  آپ سے    وعدہ  بھی تو نہیں کیا  تھا 

 اس  لئے  کبھی  پھر    ملیں گے .

   احسن : میں نے   تو اپنے دل کی بات سن  کر  آپ   سے کہا تھا  اور یہ پگلا دل اب  بھی پر  امید ہے  . 

 میں  : اس  پگلے کو سمجھاؤ    جی "  اچھا    اپنا  خیال  رکھنا     رب  راکھا   

  احسان  :  گھر  پہنچ  کر  فون  کر یں اور     اپنا       خیال    رکھیں .    رب    راکھا   . 

 فون  آف    ہوتے    ہی   مجھے   یوں   محسوس  ہوا   جیسے    میرے لئے سانس      لینا   دوبھر  ہو    رہا    ہے

   . سامنے    دیکھا     تو    اپنے     اپارٹمنٹ      کے     سامنے     ہوں  کار    پارک     کی 

اور   بے حس     ہو     کر      وہیں      بیٹھی     رہ     گئی  ,     عجیب      سی    کیفیت    تھی   .

میں خالی  الذہن   بیٹھی  خلا میں     گھورتی رہی ,  اپنے  گردو  پیش  سے بے خبر  نہ  جانے

کتنی      ہی      دیر     وہیں اٹکی    رہی       کہ  ونڈو   پر ناک    ہوئی    میں نے دیکھا تو   

میری   رومیٹ   راحیلہ    تھی    . میں    دروازہ   کھول    کے      باھر  نکلی       

اور  میری  حالت    دیکھ  کر   راحیلہ  ڈر سی گئی .    ارے   نائلہ   تمھیں  کیا   ہوا     .

 ٹھیک     تو    ہو نا  , وہ     فکرمند    ہو  کر   پوچھنے      لگی  تو  میں  نے  اسے تسلی  دی .   

اپارٹمنٹ    کی طرف بڑھی .. اندر جا  کر  میں  خاموشی   سے   ایک    کرسی     پر    بیٹھ    گئی.   

 تو    راحیلہ   اورنج     جوس     لے   آئی        اور    مجھہ  سے     کہا  جوس   پی   لو   .

طبیعت    سنبھل  جائیگی .  میں  نے ہاتھ  میں   لے کر   ایک   ٹھنڈی    آہ    بھری. 

اور     جوس     پینے   لگی . مجھے   محسوس  ہو    رہا     تھا    کہ  مجھے    راحیلہ 

غور  سے  دیکھ  رہی ہے .   میں نے   جوس ختم  کیا .  تو   راحیلہ   نے  تشویش  کا اظہار کرتے   

 ہوئے  سوال جواب شروع کر دئیے  . 

راحیلہ :    سب سے  پہلے تو یہ بتاؤ کہ  اچانک    کہاں   چلی گئی تھی       میں بھی  جاب پر لیٹ  ہو گئی   

 تم   نے  جگایا  ہی  نہیں   تھا . .. دراصل  میں نے  ہفتہ کے روز  کلاس  لی تھی . اسلئے  آج پیر  کو

مجھے آف  ملا تھا . مگر راحیلہ کو کلاس کو پڑھنے جانا تھا .   

  میں :  میں    بور   ہو    رہی    تھی    تو     جلد     ہی     لونگ     ڈرائیو     پر      نکل    گئی  .       

 یہی    سمجھا تھا     کہ    تم    خود     اٹھ    جاؤگی .   جانتی ہو کہاں   جا  پہنچی  .

راحیلہ  :   کہاں  گئی تھی    تم   .

  میں :  پیٹسبرگ    وہیں سے   لوٹ  رہی ہوں .

راحیلہ :  یہ تمہاری حالت  کس  نے بنائی  ہے یہ بھی بتا ہی دو  جانی  .

 میں :    تھا ایک   ظالم    کہتے ہوے  میری آواز  بھرا سی گئی 

راحیلہ   : ارے کون تھا وہ  خوش نصیب   ,   جس  کے  لئے تم  اتنی   خوار    دکھ رہی ہو .... 

 راحیلہ  نہ صرف  میری رومیٹ  ہے  بلکہ  میری بیسٹ  فرینڈ  بھی  ہے   ہم   دونوں   ہائی


اسکول  میں  ٹیچر  ہیں  .  ہم ایک  ٢ بیڈ  روم   اپارٹمنٹ   میں رہتی ہیں .      وہ ذرا  آزاد  خیال  ہے 

اور زندگی  سے لطف  اندوز   ہونا  جانتی ہے   اسکا کہنا ہے  آج  پھر  نہیں آئیگی   کیوں  نہ  ہم آج کو

جی لیں   . کل کس نے دیکھی . میں اسکے   خیالات سے  متفق  نہیں ہوں  بلکہ    میرے     خیالات  متضاد 

 ہیں  پھر بھی  ہم  دونوں  میں خوب بنتی ہے .    جیسی بھی ہے مخلص  ہے  کسی کا برا  نہیں  چاہتی 

 ہر  ممکن طریقہ سے     دوسروں کی مدد   کرنے  کی کوشش  کرتی ہے .   

اس سے پہلے  کہ سوال پر  سوال  کرے  میں نے  آج   پورے دن کی  روئیداد    بیان کر

 دی .  .   کچھ دیر  میری  طرف دیکھتی رہی   اور پھر اٹھ  کر  میرے  نزدیک    آ کر  مجھے  کرسی

 سے  اٹھایا  اور گلے لگا لیا  . اسے  اپنا ہمدرد    پا کر  میں نے اپنا سر   اسکے شانوں پر  رکھا   اور میری

ہچکی  بندھ گئی .   میرے آنسو اسکے کندھے کو بھگو رہے تھے   اور وہ چپ سادھے  میری پیٹھ   پر

 ہاتھ   سے  مساج  کرتی رہی  . نہ  جانے کتنی دیر بعد  جب میرا دل ہلکا ہوا تو  میں   نے اپنا 

سر   اس  کے  کندھے سے اٹھایا  اور الگ ہو کر پھر کرسی  پر بیٹھ  گئی .

وہ میرے  سامنے والی   کچھ دیر مجھے دیکھتی  رہی  پھر میرے ہاتھ  پکڑ  کر   بولی .

نائلہ  گر  میں  کچھ  کہوں تو  مانو  گی . 

  میں :  کیوں نہیں    تم کہو   , میں  تو  ہمیشہ  تمہارا کہنا مانتی ہوں  . اب بھی جو کہو گی  مانوں گی .

راحیلہ :  پھر  ٹھیک ہے   . اٹھو  چلتے ہیں  .

 میں  :  کہاں جانا   ہے

راحیلہ : پٹسبرگ    احسن کے موٹل  میں .

 میں :  یہ  کیسے ممکن ہے  ,  میں   نے حیرت کا اظہار  کرتے ہوے کہا .

 راحیلہ :  ابھی  تو کہہ  رہی  تھی  جو کہونگی  مانوگی .

 میں :  مگر یہ کیسے ممکن ہے راحیلہ  سوچو تو سہی 

 . راحیلہ  :      کیونکہ میں تمہارے  سوچنے  کے انداز  اور دلائل   سے متفق نہیں ہوں .   

پہلی  ملاقات  میں  کسی کے  اتنا  قریب ہو جانا  کہ شام  اسکے ساتھ  گذارنا  میں تو معیوب  نہیں سمجھتی

نائلہ  یہ سب شخصیتوں  کی  کیمسٹری   ہوتی ہے .  کتنے ہی سالوں سے  کسی  شخصیت   نے

 تمھیں   متاثر  نہیں کیا  . جانتی ہو  کیوں , کیوں کہ  انکی  کیمسٹری  تمہارے ساتھ  نہیں  ملتی  تھی .   

احسن   جس   ریسٹورنٹ   میں تھا   وہاں اور  بھی  خواتین   ہونگی  . ہر عمر  کی   . کیوں  تھیں یا  نہیں   ?

   میں :   سوچتے  ہوئے . ہاں  تھیں بلکہ کافی  تھیں   مردوں سے زیادہ  .

راحیلہ :  پھر احسان سب کو نظر انداز کر  کے  تمہاری طرف ہی کیوں متوجہ ہوا .  کوئی تو وجہ تھی   .

جی ہاں وہی  کشش  وہی کیمسٹری  , جس طرح  تم  اس سے متاثر ہوئی   اسی طرح   وہ

بھی   ہوا  . اور اسکی توجہ تم پر مرکوز رہی .  اگر کوئی اور تمہاری طرف متوجہ ہوتا

تو میں پورے  یقین  سے کہ سکتی ہوں  کہ تم اسے  لفٹ  تک نہ کرواتی      چہ جایئکہ   وہیں بیٹھ  کر 

 اسکا اپنی ٹیبل  تک آنے  کا انتظار کرتیں . نہیں    میں تمہاری   فطرت سے واقف ہوں.

تم اسی  وقت  ایک قہر آلود  نظر اس پر ڈالتے  ہوئے   باھر نکل آتی   اور کافی بھی   کار   میں  پیتی   . 

آج جو کچھ  ہوا   اسے   حادثہ   سمجھ کر    ٹالنے کی کوشش  مت کرو   . آج کی رات سو سکو گی 

نہ آنے والی  راتیں سکوں سے  گزار سکوگی .    جہاں کیمسٹری  ایک ہو جاۓ  . وہاں   یہ نہیں سوچتے

 وہ  کیا   سوچے گا .  یا اسکی نظروں سے گر جاؤگی . وہ تمہارے بارے کیا سوچے گا اسکا خیال مت کرو 

بلکہ تم  کیا چاہتی ہو    اپنی چاہت پر یقین رکھو  , اور اعتماد رکھو  تمہارے لوٹ  کر جانے

سے  اسکے دل میں تمہاری  محبّت   بڑھے گی    کونکہ  تمہارے واپس اسکے پاس جانے سے 

اسکی اہمیت بڑھے گی  وہ جان جائگا کہ   تم نے  اسکے کہنے کی لاج رکھ لی ہے  . اٹھو میری بہن اب

دیر مت کرو .  شام  ہونے  والی  ہے .    میں بھی تمہارے ساتھ چلتی ہوں  , میں بھی دیکھوں تو سہی

کون  سورما ہے  جس نے  میری  بہن  کو   موہ  لیا ہے .  اس نے میرا  ہاتھ  پکڑا  اور    کھینچ   

کر مجھے  کھڑا کر دیا .   فریش اپ  ہو لو  اور چینج   بھی کر لو , میں بھی  اپنے کمرے  میں 

جا کر چینج   کر کے آتی ہوں .  یہ  کہتے   ہوے وہ  کمرے سے نکل گئی .  میں بنا کسی سوچ  کے 

راحیلہ کہنے  کے مطابق   فریش   اپ  ہو  کر   باھر نکل  آئی  .     ارے تم نے چینج  تو کئے ہی نہیں

 راحیلہ مجھے دیکھتے  ہی بولی . تو  میں نے  کہا یہی ٹھیک  ہیں .  وہ  کلوزیٹ

 کی طرف بڑھی   اور    نائٹ   کے  لئے کچھ    نکال کے اپنے کمرے میں لے گئی اور  پھر

ایک ہینڈ  بیگ   کے ساتھ   واپس آ کر    لائٹس   آف کردیں   اور   ہم  دونوں  پارکنگ

 میں  آگئیں  اور اسکی کار میں   جسے وہ خود  ڈرائیو  کر رہی تھی  ,   پٹسبرگ کی جانب  روانہ ہو گئیں  .   

اس نے رومانٹک   سونگس   لگا دئیے  مگر میں اسی الجھن   میں ڈوبی رہی   کہ

   اچھا  ہو رہا  یا غلط  .  راحیلہ بھی  خاموش  مگر   موسیقی  پر سر دھنتے   مستی میں ڈرائیو   کرتی رہی  .

سونگ بھی  پاکیزہ  کا چل رہا تھا  " یوں ہی کوئی مل گیا تھا   سر راہ  چلتے  چلتے "

 میری خاموشی میں وہ  مخل نہ ہوئی   اور ٤٥   منٹس   میں ہم موٹل  کی پارکنگ میں  تھیں . 

راحیلہ نے بیگ   اٹھایا  اور  استقبالئے    پر جا کر اپنے لئے   کمرہ   بک  کیا اور   کارڈ  لے کر

ہم  تیسری  منزل پر  آے . . راحیلہ نے   تیسری  منزل  کے لئے ریکویسٹ کی تھی اور 

خوش قسمتی   سے  کمرہ  خال تھا جو  کہ احسان کے کمرے   کے قریب   ہی تھا .   

راحیلہ کے روم    میں جا کر ایک بار  پھر  فریش اپ  ہوئی  .  اور  احسان کے کمرے

پر نآک کیا .  راحیلہ   دروازے کے سامنے    نہ تھی  بلکہ ہٹ کر  سائیڈ    میں  کھڑی تھی .   

دوسری  ناک پر  ڈور کھلا     تو سامنے احسان  صرف انڈرویر   میں کھڑا تھا   .

مجھے  دیکھ کر  حیران  ہوا  مگر   یہ کہتے ہوئے   میری طرف ہاتھ بڑھایا  کہ   مجھے یقین تھا آپ آؤگی .   

اس نے   میرے ہاتھ کو جھٹکا    دیا  یا   مجھے ٹھوکر سی  لگی  میں   اسکے  بالوں  بھرے  سینہ 

سے  جا لگی   . ہم سنبھل   بھی نہ  پائے  تھے   کہ   راحیلہ  نے کھانس کر اپنی انٹری  دی اور  احسان   

اسے دیکھ کر حیران ہو گیا   کبھی وہ مجھے دیکھتا  کبھی راحیلہ کو . 

 اس کی  حیرت کو دیکھ کر  میں  بھی   حیرت زدہ ہو گئی .

باقی   آیندہ

نہ لاگ کسی سے نہ لگاؤ

Offline engrdanial

  • **
  • T. Members
  • 6 Stars
  • ******
  • Posts: 13485
  • Reputation: +212/-603
  • Gender: Male
  • ***
    • View Profile
Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #3 on: August 07, 2020, 09:27:13 pm »
malom nahein  kiun  story upload  nahein hoi  blank paper nmoodar ho geya . use modify krni ki try ki phir bhi
wahi nateeja . reply  mein post karte hoeye aik mehrban ka comment ne post mein chaar chaand lga diye .
khair .        story ke bare kuch nah kahongi  . mein ne jo keha hai story mein hi biyan kar doongi . baaqi  readers  ki
raaye jo ho wohi hatmi hoi hai .
shukriya
seema
kahani nazar tou aa rahi hay laikin comment no 2 se.shayed comment 1 ko edit kiya gya?
***

Offline engrdanial

  • **
  • T. Members
  • 6 Stars
  • ******
  • Posts: 13485
  • Reputation: +212/-603
  • Gender: Male
  • ***
    • View Profile
Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #4 on: August 08, 2020, 12:12:20 am »
excellent start.and kia manzar nigari hayaur is bar tou kia suspense daal ker kis scene per episode break kiya hay.
anxiously waiting for the next.you know i cant wait for your stories..... that is why i always say. you must finish your story in one go and post it in small pieces.its going to be very emotional, sentimental and romantic i am sure.and seems there is going to be some suspense and thrill coming too.
***

Offline mehmood881966

  • Newbie
  • Posts: 1
  • Reputation: +0/-0
    • View Profile
Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #5 on: August 08, 2020, 12:28:10 am »
Waahhh seema g.
Is Forum pr boht dino ay el achi kahani ka Intzaar tha. Aaapk Aaany s Hmara Intzaar khtm hua. Or Yeh Ma kisi bhi Forum pr pehli bar comment kr raha hu. Kyu k Aap meri Fvrt Writer hen.

Offline woodman

  • 4 Stars
  • ****
  • Posts: 516
  • Reputation: +5/-3
    • View Profile
Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #6 on: August 08, 2020, 01:53:08 am »
خوش آمدید،
چشم ما روشن
دل ما شاد
987uk321 gmail

Offline engrdanial

  • **
  • T. Members
  • 6 Stars
  • ******
  • Posts: 13485
  • Reputation: +212/-603
  • Gender: Male
  • ***
    • View Profile
Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #7 on: August 08, 2020, 08:47:40 am »
.
ایڈمن یا موڈریٹرز کیا اس فورم پر اردو فونٹس جیسے کہ جمیل نوری نستعلیق وغیرہ میں فارمیٹنگ ممکن ہے؟ فورم پر نیا فونٹ انسٹال ہو سکتا ہے؟
***

 

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.