Author Topic: اجنبی بنا آشنا  (Read 30962 times)

Offline Desiprincess092

  • دیسی کڑی
  • Newbie
  • Posts: 7
  • Reputation: +3/-0
  • Gender: Female
  • No private message plz.
    • View Profile
Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #16 on: August 09, 2020, 08:43:29 pm »
تھوڑی دیر بعد  اسکا ہاتھ  رینگتا ہو
باقی ائیندہ


bht kamal and romantic
« Last Edit: August 12, 2020, 07:29:13 am by dexter »
"ﻣﺜﻞِ ﻟﺒﺎﺱ ہوۓ ﮨﯿﮟ ﻟﻮﮒ
   ﺍﯾﮏ ﺍﻭﮌھا ، ﺍﯾﮏ چھوﮌﺍ"۔🔥

YUM Stories

Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #16 on: August 09, 2020, 08:43:29 pm »

Offline woodman

  • 3 Stars
  • ***
  • Posts: 453
  • Reputation: +5/-3
    • View Profile
Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #17 on: August 09, 2020, 09:16:05 pm »
 :rockon: :rockon: :rockon: :rockon: :rockon:
987uk321 gmail

YUM Stories

Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #17 on: August 09, 2020, 09:16:05 pm »

Offline رضا

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 88
  • Reputation: +5/-1
  • Gender: Male
    • View Profile
Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #18 on: August 09, 2020, 09:56:40 pm »
لاجواااب
بےمثال
انتہائی خوبصورت کہانی لکھنے کا بہت بہت شکریہ سیما یقین کرو کہ مجھے الفاظ نہیں مل رہے تمہاری تعریف کے لیے اور کہانی کے لئے
کیا خوبصورت لکھتی ہو تم کماااااال ااااااست
 :-* :-* :-* :-* :-*
زندگی پیار کا گیت ہے
اسے ہر دل کو گانا پڑے گا

Offline munni_hottie

  • T. Members
  • 3 Stars
  • ***
  • Posts: 403
  • Reputation: +39/-2
  • Gender: Female
  • O Yes
    • View Profile
Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #19 on: August 11, 2020, 07:42:50 am »
ہر بار کی طرح لاجواب، منظر کشی، احساسات کی ترجمانی، پڑھنے والوں کو مگن کرنا اور سٹوری کو کمال تک پہنچا دینا تمھارا ہی کمال ہے۔
A man’s accusing finger always finds a woman.

Offline Seema Naaz

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 5442
  • Reputation: +584/-20
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #20 on: August 11, 2020, 11:46:44 am »
قسط  نمبر  2 سے 
اسکا لن  میرے ہاتھ  میں   مچلنے لگا تھا  ادھر پھدی بھی  پھدکنے لگی تھی .
باقی ائیندہ

قسط نمبر  ٣
اس رات  ہم نے  ٣  راؤنڈ کھیلے اور ہر راؤنڈ  میں پہلے سے زیادہ  لطف اندوز ہوئے .
 
احسن کے  سٹیمنہ نے کئی بار  مجھے ناک  آوٹ  کیا  اور میں ہار کے  جیت جیسی خوشی  مناتی رہی .

٤ بجے  ہم ایک دوسرے کی باہوں میں  سو گئے . اور  جب میری آنکھ کھلی تو  دن کے ١١ بج کر کچھ  منٹ

تھے .   میں غنودگی ہی میں باتھ روم  گئی اور  فریش اپ  ہو کر پنٹ پہننے  لگی تو  یاد آیا پاجامہ  شمیض برا

تو کمرے میں  ہی میں ہیں .  انہیں لینے  واپس لوٹی  . تو بیڈ  پر  احسن  کو سوتے پایا  وہ اپنی پیٹھ کے بل

سو رھا تھا مگر  اسکا  ٹول  سر   اٹھایے   اکڑ  کے کھڑا   تھا .  اسکا تناؤ اور اکڑ  پچھلی رات  کی عملی

کاروائی  میں بھرپور کامیابی  کی غمازی تھی .  میں کچھ دیر اسے پیار بھری نظروں سے دیکھتی رہی اور پھر

دھیرے دھیرے اسکی طرف بڑھی . میں  احسن کی گہری  میٹھی نیند  کو ڈسٹرب  نہیں کرنا   چاہتی  تھی

اس کے  سینے کے زیرو بم   سانسوں کے ترتیب  اور اسکے لبوں پر  پیاری سے مسکراہٹ  اسکا   محو

خواب ہونے  کا ثبوت تھا .   مجھ سے رھا نہ گیا اور ہولے ہولے میں  اپنے  محسن   کی طرف  بڑھی  جس

نے پچھلی  رات کو  میری  ایسی درگت بنائی جس کے لئے مدتوں  ترستی رہی  . میری  تمام    محرومیوں 

 کا ایک ہی رات میں   اس نے مداوا کر دیا تھا . میری تمام تمناؤں  اور خوآہشات کی اس نے آبرو  رکھ لی  تھی

تو میں کیوں نہ اسے پیار کرتی . بڑی آہستگی سے میں نے اسے چھوا  تو  وہ لہرایا  . میری پھدی   ٹکلنگ

ہونے لگی  . مجھے بے ساختہ  اس  پر پیار آگیا  . میں نے  اسے پکڑے  بنا  اسکے موٹے ٹوپے پر بوسہ دیا 

تو وہ  زور سے لہرایا   . میں اسکو  پیار سے  آنکھوں ہی آنکھوں میں نہارنے لگی  .

موٹا  ٹوپا   سرخی مائل   ٧ انچ  لمبا موٹا  مضبوط لن  جسے دیکھ کر عورت اپنا سب کچھ نچھاور

 کرنے پر تیار ہو جائے  .  اسے دیکھتے ہوئے مجھے  اپنی خوشقسمتی  پر ناز  ہونے لگا . 

وہ بہت  خوبصورت اور کیوٹ  لگا . اسکی سموتھنس  اور  گندمی  سکن   بڑی پرکشش  دل موہ لینے  والی تھی   

میں نے باختیار  اسکے ٹوپے کو منہ میں  لے لیا اور اس پر اپنی  زبان کا   ٹچ  دینے لگی .  میں ہوش و حواس

 سے بیگانہ  چوپا   لگانے میں مشغول  تھی . کہ  مجھے ایسے لگا  جیسے کسی نے میری پھدی کو چھو لیا ہو  .   

میں نے لن کو منہ میں ہی لئے  رکھا  اور اپنا ہاتھ پیچھے  لے جا کر  چیک کیا تو احسن  کے ہاتھ کو اپنی  پھدی

کو کھجاتے پایا .  اففففف  میں اسے نادانستگی میں جگا بیٹھی تھی .   میں نے اس کی جانب دیکھا  تو اسکی

مسکراتی آنکھوں میں  شرارت   دیکھ کر  میں  نے  آگے ہو کر  اسکے ہونٹوں  کو بوسہ دیا  تو اس نے  مجھے اپنے

سینہ کے ساتھ  بھینچ لیا . اسکی ننگی چھاتی کے بال میرے  بوبس سے لگے تو میرے پورے

جسم  میں سنسناہٹ    تیر گئی .   کچھ کچھ ہونے لگا  اور میں گیلی ہو گئی .

 " میں نے ڈسٹرب تو نہیں  کیا جانی" , میں نے  اسکے  بال سنوارتے ہوئے  پوچھا .

" نہیں جانم   تم نے میری  اک فنٹاسی  پوری کر دی .  میں  سوچتا تھا کبھی میں سو رھا ہوں کوئی حسینہ 

آے اور میرے لن  کو منہ میں  لے کر پیار کرے   اور میری آنکھ کھل  جائے .   

آج  وہ سپنا  تم نے پورا کر دیا "    یہ کہہ  کر   وہ میرا ہونٹ  چوسنے لگا    .

 میرے ایک ہاتھ میں اسکا لن   اٹکھیلیاں  کر رھا تھا تو میرا دوسرا ہاتھ اسکے بالوں  میں 

انگلیوں سے کنگھی  کر رھا تھا  .   احسن   نے اپنی زبان میرے ہونٹوں پر  ٹچ کی تو میں نے  ہونٹ

کھول دیئے  اور اسکی زبان  کو چوسنے لگی   . وہ میری پیٹھ سہلانے لگا . اسکے ہاتھ  میرے کولہوں  کو

بھی چھو آتے  . اس کا ایک ہاتھ میری رانوں کے بیچ  جانے لگا تو  میں نے اپنی  لیگز  کھول دیں  .  میری

پھدی  کو کھجاتے    اور دانے کو   مسلتے ہوئے   اسکی انگلی  میری چوت میں جاتی تو  میں ایک بل کھا کر

تڑپ اٹھتی .    میں  اب تیار  تھی کہ کب اسکا  ڈنڈا  اپنے اندر لوں  اور اپنا سارا رس اس پر  انڈیل دوں .

میں نے پہل کرنے کا سوچا  اور ایک ٹانگ   گھما کر احسن کے اوپر ا گئی  اسکا لن میری ناف  سے

لگ رھا تھا .  میں اٹھ کر احسن کے اوپر بیٹھ گئی  , لن ہاتھ میں مسلنے لگی   احسن  اپنی نشیل آنکھوں

سے   سیکسی  سی  مسکراہٹ لئے دیکھ رھا تھا   . میں تھوڑا اوپر  اٹھ کر  اسکے لن کو پکڑے    چوت

کی  سیدھ  میں رکھا اور  پھدی پر مسلنے لگی .  وہ پہلے ہی سے گیلی تھی  . لن کا  ٹوپا  بھی اسکے رس  میں

بھیگ  گیا تھا  . میں نے تھوڑا سا دباؤ ڈالا  تو وہ پھسلتا ہوا  پھدی کے  اندر داخل ہوا  تو میں  ایک دم سے اس

پر بیٹھ گئی . میرے پورے بدن میں ایک لذت  کی لہر سی دوڑ  گئی .   میں آگے کو جھکی   اور احسن  کے لبوں

پر اپنے لب رکھ دیے . احسن میرے لبوں کو چوسنے لگا  اسکے  ہاتھ  میری پیٹھ  سہلانے  لگے   .  میں مدہوش

سی  لن کو چوت میں لئے  یوں ہی  اسکے اوپر  لیٹی   رہی . مجھے بہت اچھا لگا رھا یوں لیٹنا  . اسکا لن  میرے

اندر پوری سختی  لئے موجود تھا  . میں ان لمحات کو امر بنا  لینا چاہتی تھی . کافی دیر بعد   میں میرے کولہے

اوپر اٹھے اور پھر آہستگی سے وہیں بیٹھ گئی . احسن نے  مجھے بھینچ لیا  . میں  نے چند بار وہیں لیٹے لیٹے

اوپر نیچے ہوئی  مزے کی لہریں میرے جسم میں دوسرنے لگیں .  میں  سیدھی ہو کر  بیٹھی تو لن  کی اکڑ

محسوس ہوئی   . میں اوپر اٹھی اور پھر ایک دم  لن پر بیٹھ گئی  .افففف  ایسے لگا  جیسے لن کسی بہت نازک

 عضو کو ٹچ ہوا اور  میں مزے میں ڈوب گئی     . پھر  میں نے زور زور سے  دھکے لگانے شروع کر دئے

میں بے  خودی میں  اوپر نیچے  اچھل رہی   میرے ممے میرے ساتھ اوپر نیچے ہو رہے تھے احسان  میری

کمر کو پکڑے  دھکوں  کو جھیل رہے تھے  . کچھ ہی دیر بعد   لذت بھری سسکیوں کے ساتھ

میں احسن کی چھاتی پر گری . میری چوت  میں  ایک طغیانی سی آ گئی  اور نہ  جانے کتنی دیر  تک

بہتی رہی .    اتنا مزہ  آتا ہے چدائی  میں  اففف     میرے سانسوں کی ترتیب  درست ہوئی تو میں  احسن

کے پہلو میں لیٹ گئی .  اور اسے  کہا . اب تمہاری باری .   وہ  مجھے چومتے ہوئے اٹھ کر میری ٹانگوں کے بیچ

 آ  بیٹھا تو  میں نے اسکے لئے ٹانگیں کھول دیں .   میرے اوپر آ کے  اسنے اپنا لن میری چوت کے دہانے پر  رکھا

اور میری پیشانی کو  چوم کر  میری  گردن کا بوسہ لیتے   اور میرے مموں کو ہاتھوں سے مسلتے  اور نپلز

کو  چوستے  اس نے اپنے  دونوں ہاتھوں سے میرے  چوتڑ اٹھاے  اور تکیہ  ان کے  نیچے  کر دیا   .  اس کے 

ارادے خطرناک دکھتے تھے  مگر میں خوش تھی  کہ  وہ اپنی مرضی  کے مطابق   چودائی کرنا چاہتا  ہے .

میں اسکے سٹروک کے لئے  تیار تھی مگر یہ کیا ,  اس نے نیچے جا کر  میری پھدی پر اپنے ہونٹ رکھ کر مجھے

حیران کر دیا  .  اف ظالم  کو   تڑپانا  آتا  ہے . رات سے پہلے کبھی  میری چوت کو  ٹیسٹ  نہیں کیا گیا

مگر رات کو احسن نے  مجھے ایسی لذت سے روشناش کروایا  جس سے میں کل رات تک نا آشنا  تھی .

 چوت کا  دانہ اسکی انگلی اور انگھوٹھے  کے درمیان تھا اور اسکی  جیبھ  میری پھدی کے  اندر

 گدگدی  کر رہی  تھی  اور میں  سر کو پٹخ رہی تھی .  میری لذت بھری سسکیاں کمرے میں گونج رہیں تھیں  .

مزے کی لہریں وافر  مقدار میں اٹھ رہی تھیں جن کو  برداشت کرنا  مشکل ہو رھا تھا  , احسن  کو

بالوں سے پکڑ کے   میں نے اوپر   کھینچا اور اسکے ہونٹوں پر لگا اپنا رس چوسنے لگی اور ہاتھ سے

اسکے لن کو اپنی  چوت کی لکیر   پر  رکھ  کر اوپر اٹھی تو احسن نے  اسے اندر کیا .

اسکے ایک ہی دھکے سے لن پھسلتا ہوا  چوت کے آخری دہانے کو چھونے  لگا ..   

میں نے  احسن کے  بالوں میں ہاتھ ڈالا اور اپنے ہونٹ اس سے الگ  کر کے اسکی آنکھوں

میں   جھانکا جہاں    شہوت  پیار مستی  اور شرارت   تھی .  میں نے اسے چومتے ہوئے  سرگوشی  کی .

جانی مجھے چود   . اتنا چود  کہ  میں  اس چدائی  کو کبھی بھول نہ سکون . جانی مجھے چود اپنی خوشی

کے لئے اپنی شہوت کی تسکین کے لئے ایسا چود کہ  اس چدائی کو تم کبھی  نہ بھلا سکو .  میں تمہاری ہوں

 اورہمیشہ  تمہاری رہونگی . جب بھی تمہارا دل کرے اشارہ کر دینا  میں تمہارے آگے بچھ بچھ جاؤنگی .

میں بے خودی  اور مدہوشی میں نہ جانے کیا کیا  اول فول بکے جا رہی تھی  ,مگر اتنا تو جانتی ہوں

جو کچھ بول رہی تھی ممیرے دل کی آواز اور میرے جسم کی صدا تھی .    احسن بھی  مجھے  ایسے

چودنے  لگا   جیسا  میں چاہتی تھی  , اسکے ہر دھکے جھٹکے  میں اشتعال  تھا  اسکی  چوٹ  مجھے 

 نئی نئی  لذت دیتی .    "جانی اور زور سے " . میں نے لذت میں سسکتے ہوئے کہا  تو اسنے میری  ٹانگیں

اپنے کندھوں پر رکھ لیں . وہ اپنا لمبا اور موٹا لن  چوت کے لبوں  تک لاتا اور پھر  زور کا دھکا  لگاتا

اور آخر تک  لے جا  کر  ایک لمحہ  کے لئے رکتا  پھر ایک ایک انچ  اسے باھر نکالتا اور  پھر اندر کر کرتا

مجھے  نہال کرتا  مجھے مزے پر مزہ  آ  رہا   تھا نہ جانے کتنی بار میں بہہ  چکی تھی . میرے ساتھ پہلے  کبھی

ایسا تو نہ ہوا تھا  .  عامر عزیز   اندر ڈالتا  دھکے جھٹکے  لگاتا  مجھے اسکے لن کو  اندر لے کر  اسکی

لمس  اچھی  لگتی  جسے میں  لذت کی انتہا سمجھتی  . مگر آج میں جان سکی لذت  کسے کہتے ہیں  اور  یہ

احسن  کی بدولت  ممکن ہو سکا ............    احسن  کے  دھکوں کی تیز رفتار اور  اور اسکی   سانسوں

کی لذت  بھری  گونج سے  لگ رھا تھا کہ وہ اپنا سب کچھ  مجھ میں ڈال  کر مجھے ایک بار پھر  بھرنے والا ہے .

میں نے ٹانگیں اسکی پیٹھ پر جکڑ لیں  اور اسکے چوتڑوں کو اپنی جانب دباتی  نیچے سے  اسکے دھکوں  کو
 
برداشت کرنے لگی . کچھ ہی دھکوں  میں  احسن نے  مجھے بھر  کر مکمل کر دیا 

اور میں اسکی بلائیں  لینے لگی .  اففففف  ظالم نے میرا انجر پنجر ہلا کر رکھ دیا تھا  .

کل رات سے ان گنت بار  میں جھڑ  چکی  تھی .    احسن مجھے چومتا ہوا اٹھا اور غسل  کرنے لگا . 

میں نے  راحیلہ  کو    میسج  کیا  . کہاں ہو 

راحیلہ :  اسکول سے نکل رہی ہوں  . 

میں: ارے  تم اسکول میں  ہو میں سمجھی  یہیں موٹل میں ہو  .

راحیلہ :   میں اسکول ٹائم پر آ گئی  تھی   .. اب  آتی ہوں   .  لنچ کر لیا  ہے تم دونوں نے  یا نہیں

میں : ہم  نے ابھی تک   ناشتہ نہیں  کیا  لنچ   تمہارے ساتھ ہی کریں گے .  آنے والی کرو .

اس کا میسج  ملا لنچ  ایک گھنٹہ بعد کریں گے ,  میں اسکول  سے نکل رہی ہوں .  تھوڑی دیر بعد

 ملتے ہیں .......... اف   میں سجھ رہی تھی وہ ساتھ والے کمرے میں ہوگی  مگر وہ تو اسکول  میں تھی 

اور مجھے  خیال تک نہ کہ مجھے بھی آج ٢ کلاسز   لینی تھیں .      یہ کیا ہو گیا یار . میں خود سے  مخاطب

ہوئی .   یہ تو جانتی ہوں راحیلہ  نے میری سک  رپورٹ  دے دی ہوگی .    اتنے میں  احسن  غسل

کر کے با ہر  آئے   میں نے امھیں مسکرا کے دیکھا تو  انہوں نے  شرارت  سے میرے نپل  کو مسل   دیا .

میرے منہ سے سسکاری سی نکلی  . میں  پاجامہ اور شمیض    اٹھانے کے لئے جھکی تو  اسکے لن کو چوم
 
لیا اور  جلدی سے ٹرن لیا   تو احسن نے میری گانڈ  پر ایک تھپڑ  رسید کر دیا   اور میں ہنستی ہوئی  باتھ  روم میں

غسل کے لئے داخل ہو گئی
.

Offline Seema Naaz

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 5442
  • Reputation: +584/-20
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #21 on: August 11, 2020, 11:47:46 am »

راحیلہ کے آنے کے بعد  ہم نے لنچ کیا  اور  کچھ  دیر بعد   احسن  سے جدا  ہو کر  ہم  اپنے گھر کی  طرف

روانہ ہوئے تو  احسن  اپنے  راستے پر چلے گے .  ہاں  اسکی جدائی  دلشکن تھی   وہ بھی  کافی  اداس

لگ رہا تھا .  ہم نے ایندہ  ملنے یا رابطہ  رکھنے کا کوئی   وعدہ  کیا    نہ  ایسا کوئی تذکرہ  ہوا  تھا .

 ہائی وے پی آتے ہی راحیلہ  نے  رات کے بارے پوچھا  میں نے  اسے مختصرا   روئیداد  سنائی  تو

وہ بہت خوش  ہوئی .  میں نے  اپنی  پریشانی  بتائی  کہ احسن نے   پھر ملنے یا رابطہ رکھنے  کی  کوئی

بات کی نہ ذکر .   راحیلہ  نے کہا : فکر نہ کرو .   کچھ دھاگے سے چلے آیئنگے بندھے سرکار . . مجھے یقین

ہے نائلہ کہ احسن  فائدہ  اٹھانے والوں  میں سے نہیں  .نہ ہی وقت پاس  کر کر تو کون میں کون  . نہیں  شرط

لگا لو وہ  ائیگا  اور سو بار ائیگا  . اس لئے مسکرا میری جان یوں منہ بسورنے   کی ضرورت نہیں .  میں اپنے

بھائی  کی طرف سے  گارنٹی   دے رہی ہوں .     اررے  تمہارا بھائی وہ کون  ہے جس کی  گارنٹی تم  دے  رہی

ہو . میں نے حیرانگی سے  پوچھا .    نائلہ  تم میری بہن جیسی سہیلی ہو کہ نہیں .  راحیلہ نے تصدیق  چاہی

تو میں  نے کہا اس میں کوئی شک  ہے کیا  . تم میری سہیلی  ہو اور بہن بھی .

  احسن میری بہن کے ساتھ رات بھر رہا   تو  میرا بھائی لگا , نا     . اف راحیلہ تم بھی کیسے کیسے   رشتے

ڈھونڈھ لاتی ہو .    راحیلہ  کہنے لگی اچھا لگے یا برا میں تو اسے  اب بھائی جان کہہ  کر پکاروں گی .

ٹھیک  ہے  جو   دل چاہے  کہہ کر بلا لینا  ,   پہلے   وہ ملے تو سہی .   میں نے  کہا تو   راحیلہ 

غصہ ہونے  لگی  , کہ  تم میرے بھائی   پر بد اعتمادی    کر رہی  ہو  .  اور کل شام   تک   وہ 

تمھیں ملنے نہ اے  تو میرا نام بدل  لینا  ,   یہ سن کر  مجھے خوشی سی ہوئی اور  مجھے کچھ تسکین

ہوئی .  میں اپنے کمرے میں گئی اور  چینج  کر کے آرام کے لئے  لیٹی  گزری  رات کی  کاروائیاں

سامنے آگئیں . پورے بدن میں  میٹھا  میٹھا درد  نے  مجھے جلد ہی  نیند کی آغوش  میں پہنچا  دیا   .

شام کے وقت آنکھ  کھلی  تو مجھے عجیب سا احساس ہونے لگا    , یہ میں نے کیا کر دیا  . میں کسی  کی

 منکوحہ  تھی . ہم الگ الگ ہیں  پھر بھی میں اس  کی بیوی تو ہوں .    میں  بے وفائی کی مرتکب ہوئی

ہوں .  یہ احساس ہوتے ہی میں بے چین سی  ہو گئی  .  اور اس وقت کو کوسنے لگی  جس  وقت   میں

اس ریسٹورنٹ   میں  داخل ہوئی جہاں احسن   موجود تھا .  میں نے ان ہی سوچوں اور پچھتاوے  کے ساتھ 

باتھ لیا . اور باھر نکلی .  کچن  میں  راحیلہ   کھانا بنا رہی تھی  .   مجھے  پریشان دیکھ کر راحیلہ نے  پوچھا

کیا ہوا  بنو  رانی  , احسن کی یاد ستا رہی ہے کیا .  فون کر کے بلالوں .    میں نے اسے ٹہلتے ہوئے  کہا

ایسی کوئی بات نہیں بس طبیعت  کچھ سست سی ہے   اور  اسکی  مدد  کرنے لگی . راحیلہ  سوال جواب 

کرتی رہی  کچھ گزری  رات کا افسانہ کچھ   احسن کے بارے . میں  جو سمجھ میں آتا جواب دیتی گئی  اور

جلد ہی کھانا کھا  کر اپنے کمرے میں آ گئی . راحیلہ سے کہا کہ میں ریسٹ  کرنا چاہتی ہوں تاکہ کل  اسکول

ٹائم  پر جا سکوں . وہ بھی اپنے کمرے میں چلی گئی . 

نہ جانے مجھے کیوں رونا  آرہا تھا  اور میں  تکئے  پر سر رکھ کر رونے لگی    .   کافی دیر میں روتی رہی

کبھی اونچی آواز میں کبھی  سسکیوں  میں .    میں سوچنے لگی  میں اپنے آپکو کیسے  معاف کر سکونگی .

میں نے کمزور  لمحات  میں  نہ  اپنا بھرم  رکھا نہ خاندان کا . میں اتنی کمزور تو کبھی نہ تھی  , پھر  میں کیسے

گر گئی  کہ خود  سے آنکھیں  بھی نہیں ملا پا رہی .    میں اپنے  کزن  عامر عزیز ملک  کی بیوی ہوں

میرا یہی سٹیٹس  ہے گرچہ   ہم الگ الہ ہو چکے ہیں پھر  بھی  میں اسکی منکوحہ   ہوں جب تک  وہ  مجھے

ایک  لفظ ٣ بار  نہیں کہہ دیتا . عامر عزیز  میرے تایا  کا  بیٹا ہے  .  میرے تایا  کو میرے ابو  نے ہی  امریکا

میں سپونسر  کیا تھا  اور وہ  اپنی فیملی    بیوی  بیٹا عامر  اور بیٹی   نادیہ   کے ساتھ   ہمارے  ہاں  ہی   

ٹہرے   . اسک وقت  میری عمر ٥  سال  عامر  ٧ سال اور  نادیہ   کی عمر  ٩ سال تھی .   ہم ایک ہی سکول

میں جاتے   .   میں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی .  نادیہ  میرا بہت خیال رکھتی  مگر عامر  سے  میری 

نہ بنتی تھی  کیونکہ اسکی  طبیعت   سخت تھی . اور  کھڈ کو دوسروں سے  برتر سمجھنا  اسکی فطرت تھی .

تائی  اماں  کا اکلوتا  بیٹا  تھا تو   اس کے لاڈ پیار نے      اس کو بگاڑ دیا تھا .    میں بلاوجہ  کسی بات 

سننے  کی عادی نہیں ہوں  پھر بھی  عامر کو اپنا بھائی سمجھ کر کافی  حد  تک سمجھوتہ لیتی تھی  .  مگر

دوسروں کی طرح  اسکی ہر بات   پر شاد کرنا   میرے لئے ناممکن تھا .  خیر ٢ سال تایا  ابو  ہمارے 

 گھر رہے اور  بزنس   کی وجہ سے  وہ  اس قبل ہو گئے کہ  اپنا  مکان  لے کر  وہاں  موو  ہو  گئے  .

  ابو  تو سروس   کرتے تھے  اسکی  بہت اچھی جوب  تھی . انکم  بھی کافی تھی   .  تایا ابو  کا  بزنس 

بھی اچھا  چل نکلا تو  دونو  بھائیوں کا   کمیونٹی    میں بھی نام ہو گیا  .    جب میں ١٥ سال کی  تھی

میرے والدین کا  اکسیڈنٹ   میں انتقال ہو گیا .   اور میں اکیلی رہ گئی .  میرے تایا ابو مجھے اپنے گھر  لے

اے   اور میں ان کے ساتھ رہنے لگی . ہمارا گھر  انہوں نے رینٹ  کر دیا .  مجھے تو اپنے گھر اور جایئداد

کے حقوق ١٨ سال ہونے  کے بعد ہی ملنے تھے .  مجھے  اتنی پروہا ہی نہ تھی .  تایا ابو کے   گھر منتقل ہونے

کے بعد کچھ دن تو  عامر کا رویہ   میرے ساتھ برا ہمدردانہ رہا  . نادیہ  کی  تو  میرے بہت بنتی  تھی .

تایا ابو بھی   میرا بہت خیال رکھتے  . کچھ ارسا بعد  عامر کا  برتاؤ پھر وہی حاکمانہ ہو گیا . اور  تائی اماں

بھی اسکا ہی ساتھ دیتی .   بہر حال   کسی نہ کسی ترہ وہاں میں   نے گریجویشن  کر لیا . اوراسکول  ٹیچنگ

  کی کلاسز  لیں مجھے   ہسٹری  میں دلچسپی ہے  . اس لئے  ہسٹری ہی کی   کلاسز   لیں اور  پھر ٹیچر

کا پرمٹ مل گیا   . اب میں ٹیچنگ   کر سکتی تھی .   مگر ان ہی دنوں تایا ابو  نے بتایا   میری منگنی   عامر 

 کے ساتھ  میرے  والدین کر  گئے تھے .  اور میری شادی عامر کے ساتھ ہوگی  . میں٢٤  سال کی  تھی

میں اپنے گھر موو ہو گئی    عامر بھی    میرے ساتھ  ہی موو  ہوا    میرے خاوند  ہیں وہ .   ٦ ماہ   بیتتے

معلوم  ہی نہ ہوا   . میں خوش تھی  کہ عامر  ایک ذمہ دار اور محبت  کرنے والا    خاوند  ہے   اور  اسکے ساتھ

 دن رات  ہنسی  خوشی کٹنے لگے تھے  .   ابھی سال بھی   مکمل نہ  ہوا تھا کہ تائی  اماں   میری ساس

 کو دادی بننے کی فکر  لگ  گئی .   مگر یہ تو قدرت کا کام  کہ کب  بار آور  کرے .   اس کے ساتھ   عامر

کا رویہ  پھر بدلنے لگا  اور لہجہ  حاکمانہ  سے ہوا  تو  میں   بہت سٹپٹائی  کیونکہ  کسی  کے آرڈر   لینا

مجھے بلکل پسند نہیں  . شروع میں  تو میں نے اگنور   کیا    پھر تائی  اماں کا  ہرمہینہ کسی  خبر   کا انتظار

اور عامر   کا   تلخ رویہ    مجھ   سے برداشت  نہ ہو سکا   . میں نے بھی  اسے جواب دینا شروع کر دیا

ہم میں روز  تکرار ہونے لگی  , کئی کئی دن  بول چال ہی  بند رہتی .  آخر تنگ  آ کر  میں نے تایا  ابو

سے   بات کی  , انہوں نے  بہت کوشش کی کہ ماں بیٹے کا رویہ   صحیح  ہو جائے  سکا .   میں نے علیدگی

کا نوٹس  دے دیا .   ان ہی دنو مجھے ٹیچنگ  کی جاب آفر  ہوئی جو کہ  نزدیکی گاؤں  فورڈ  سٹی    میں تھی .

میں نے مناسب سمجھا کہ  اسی بہانے   یہاں سے   دور چلی جاؤں اور خوشقسمتی   سے میری کلاس   فیلو

اسی اسکول میں سائنس  ٹیچر تھی .    ہم دونوں نے مل کر  ٢ بیڈ  روم  کا  اپارٹمنٹ   رینٹ پر لیا  اور 

مل کے رہنے لگیں .   میرے گھر عامر  رہتا رہا .    میں لوٹ کر گھر نہ گئی  . تایا ابو کے  سوا

میرا کسی سے رابطہ  نہ تھا . وہ بھی کبھی کبھا ر    ٹیلیفونک   رابطہ .  میرا  عامر  سے طلاق لینے 

کا کوئی ارادہ   نہ تھا اور  مجھے ضرورت ہی نہ تھی . اور کچھ نہیں تو  مطلقہ   کہلوانے   سے  شادی شدہ

           کہلوانا    بہتر تھا .   میں  نے یہ ڈھائی تین سال مرد کے بغیر   کاٹ لئے تھے  اور  میں اسی طرح

زندگی  گزرنے کا ارادہ کے ہوئے تھی  . ایک سال پہلے  عامر  نے پاکستان جا کر  اپنی  خالہ
  زاد  بہن   سے

شادی کر لی تھی اور تائی اماں بھی ساتھ گئی تھی . مگر اپنی نئی بیوی کو  یہاں نہیں لا سکتا تھا  کیونکہ دوسری

وائف  یہاں الّود ہی نہیں .  میری اور اسکی شادی رجسٹرڈ  تھی .   پاکستان سے واپسی  پر   عامر  نے اسکی

امی نے مجھ سے رابطہ کیا کہ تم   طلاق لے لو   تاکہ عامر   اپنی بیوی کو سپانسر کر سکے .  میں نے تایا ابو

سے مشورہ کیا تو  انہوں نے  کہا  تم کیا چاہتی ہو  .....  میں نے کہا کہ میں مطلقہ کہلوانہ پسند نہیں کرتی

تو انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے  طلاق لینے کی ضرورت  نہیں   اگر وہ کورٹ میں جاتے  ہیں تو انکو  بہت

کچھ تمھیں  دینا ہوگا .,..ان دونوں نے  مجھ سے بھی نہیں پوچھا اور یہ تمہاری تائی اما کی شازش  سے ہی 

پلاننگ کی گئی ہے .   بیٹی تم جو چاہو  ان کے ساتھ کرو .   ان کی طرف سے مجھے  کلیرنس  ملی  تو

میں نے  انہیں جواب دے دیا  کہ  مجھے طلاق نہیں چاہیے . گر تم چاہتے ہو تو کورٹ میں جاؤ .  یہ ٦ ماہ

پہلے کی بات  ہے .   مگر  آج میں    خود   سے آنکھیں  چرانے لگی تھی .  کچھ بھی ہو   میں خود کو

حق  بجانب  تو  قرار  نہیں دے سکتی .   اب تک   ہر قسم کے افئیر  سے پاک تھی مگر اب   میں گر کوشش بھی

کروں تو   بچ نہیں سکتی    میں خود جانتی  ہوں کہ اب میں خود کو احسن سے دور  نہ رکھ پاونگی  .
اور    میں   بار بار  عامر کو دھوکہ   دوں  . میں  اس سے   طلاق  لے کر آزاد ہو جاؤں   اس طرح

کم از کم   بیوفائی کے الزام  سے  تو   بچ  سکتی ہوں  کیونکہ گناہ تو گناہ   ہی ہوتا ہے

اس کے ساتھ  بیوفائی   بد تر از  گناہ  ہے اور میرا ضمیر  اسکا  متحمل  نہ  ہو پائے گا . 

 میں  نے تایا ابو  کو کال  کی  رات کے ١١ بج چکے تھے  . تایا ابو پریشان  سے

ہو گاہے کہ اتنی   رات گئے  فون .

 ہیلو .    کیوں بیٹی خیریت تو ہے  ,   بہت لیٹ   فون     تم ٹھیک تو ہو نان .

میں :   جی سب خریت ہے .  آپ سے مشورہ  کرنا ہے  . اس لئے فون کیا .

تایا ابو:   ہاں بیٹی کیا بات ہے 

میں :  میں اور عامر  اب اتنا دور ہو چکے ہیں   کہ کسی طرح  بھی ایک دوجے  کے نزدیک نہیں ہو سکتے

تایا ابو:   تمہارا خیال  صحیح   ہے   میں بہت کوشش  کر چکا ہوں   . پھر عامر کی دوسری شادی نے   ایسا 

امکان  رہنے ہی نہیں دیا .  تمہاری جگه کوئی اور ہوتا تو  عامر بہت  بڑی  مصیبت میں پھنس چکا ہوتا .

میں : تایا ابو  میں
کسی  کو مصیبت میں نہیں دیکھنا چاہتی ,  اسی لیے فون کیا  کہ جب  عامر  اور میں 

ساتھ نہیں رہ  سکتے تو کیوں نہ   مستقل علیحدگی   اختیار کر لیں . اس طرح  عامر اپنی بیوی کو 

لے    ا سکتا ہے   کم از کم اس کا گھر تو بس جائے  گا .  میرے  نصیب میں جو لکھا ہوگا   وہی ہوگا .

تایا ابو :  بیٹی   میں کیا کہہ سکتا ہوں جیسے تم مناسب سمجھو  . اگر تم یہ چاہتی   ہو کہ ان ماں بیٹے سے 

میں بات کروں تو  ان سے بات کر لونگا . 

میں :  بس تایا  جان میں یہی چاہتی ہوں عامر  کا تو گھر بس جائے  .

تایا ابو :  ٹھیک ہے بیٹی میری   راۓ  میں  یہ بہتر فیصلہ تم نے کیا  , جیتی  رہو .  میں کل  ان سے 

بات کرونگا  .    پھر میں نے ان  کی صحت  اور کاروبار کے بارے  کچھ باتیں کیں اور فون بند   کر دیا .

ہماری ١٥ منٹس تک بات ہوتی رہی تھی .  میرے دل سے کچھ بوجھ اتر سا گیا تھا .   میں نے راحیلہ  کا

دروازہ ناک کیا  . وہ ہمیشہ دیر سے  سوتی ہے  . اس نے دروازہ  کہا   کھلا ہے   نائلہ   آ جاؤ   .

میں نے درواز کھولا  اور اندر داخل ہوئی  تو وہ   پلے  بوائے  چینل   کو آف  کرتی ہوئی   سیدھی  ہو کر   

بیٹھ گئی  .    راحیلہ:  کیسی ہے تمہاری طبیعت   اب  تمھیں سو جانا چاہیے  تھا . اس نے تشویش  سے پوچھا .

میں : اب پہلے سے بہتر ہوں  . اور پھر تایا ابو سے فون پر جو بات  ہوئی  اسکی تفصیل سے اگاہ  کیا

راحیلہ : مگر تم  پہلے تو کہتی تھیں کہ  طلاق نہیں لو گی  . کیا  بھائی احسن نے کوئی   پرامز  کیا تم سے .

میں :  نہیں احسن نے کسی  قسم کا کوئی  پرامز  نہیں کیا نہ ہمارے درمیان ایسی کوئی بات ہوئی  ہے .
 
  راحیلہ میں خود کو مجرم سمھنے لگی ہوں یعنی   گلٹی .  میں عامر کی گناہ گار ہوں  کیونکیج اسکی  منکوحہ

ہو کر میں  کسی اور کے ساتھ  سو چکی ہوں .  اور اس کی کوئی گارنٹی نہیں کہ میں  پھر دوبارہ  ایسا  نہ  کروں

کیونکہ  میں جانتی ہوں   احسن نے   اشارہ بھی کیا   تو میں خود کو روک نہ پاونگی .  تو  بار بار عامر  سے بیوفائی

کروں   کیوں نہ میں آزاد ہو کر جو چاہے  کرتی پھروں .  یہ کہہ  کر میں راحیلہ کی طرف دیکھنے لگی .

راحیلہ  :   یہ تمہارا  ایک اچھا فیصلہ ہے  . کسی ایسے  تعلق  کے ساتھ لٹکا رہنا  جس تعلق

 سے کچھ حاصل  ہی نہ ہو  تو اس سے لاتعلقی  ہی بہتر ہے .  ہم کچھ دیر باتیں کرتی رہیں  اور

پھر میں اپنے کمرے   میں ائی   تو  یوں محسوس ہوا کہ مجھ پر سے بہت سا بوجھ اتر گیا ہے .

میں    سو گئی  اور   کمرے    کے دروازے پر ناک ہوئی  . ٹائم دیکھا تو صبح  کے  ٧  تھے   

میری پہلی کلاس ٩ بجے تھی  . سوچا  راحیلہ  نے اس وقت   کیوں اٹھا دیا  .  میں  دروازہ  کھولا


تو دیکھ کر حیران ہو گئی

باقی  آیندہ


Offline engrdanial

  • **
  • T. Members
  • 6 Stars
  • ******
  • Posts: 13414
  • Reputation: +211/-603
  • Gender: Male
  • ***
    • View Profile
Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #22 on: August 11, 2020, 09:40:36 pm »

ایک اور خوبصورت  تلخ و شیریں یادوں سے مزین اپ ڈیٹ
لذت جنسیت کے ساتھ ساتھ  احساس گناہ اور  اندرون نکاح کی یک طرفہ  جسمانی تعلق خانگی مسائل امیگریشن کی پیچیدگیاں دیار غیر کے جھنجھٹ اور  رشتوں کی پر پیچ اور پر اسرار بھو بھلیوں مین دوستی کا جام شیریں لئے  اجنبیت  کو آشنائی سے روشناس کراتے ایک  پر لطف بندھن میں بندھے جانے خی طرف رواں دل کش احساس
بس  المیہ یہ ہے کہ ایسے حسین اتفاقات و انعامات حقیقی زندگی میں کم کم ہی نظر آتے ہین کہ جہاں تپتی دھوپ کے صحرا میں کسی کو نخلستاں میسر آ جائے

نائلہ کو احسن مل جانے کے امکانات
دکھائی دے رہے ہیں
دیکھئیے اب اونٹ کس کروٹ بیٹھتا۔
کہیں کسی کی انا کسی کی ضد کسی کا لالچ آڑے آ کر اس حسین موڑ کو اک آس اور کسک میں نہ بدل دے۔
انتظار ہے اگلے اپڈیٹ کا جو حسب روایت شاید آخری قسط ہو۔
***

Offline رضا

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 88
  • Reputation: +5/-1
  • Gender: Male
    • View Profile
Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #23 on: August 11, 2020, 10:36:21 pm »
کاش کہ میں شاعر ہوتا


اور کہانی کے حسن کو بیاں کرتا
اور ان ہاتھوں کو چوم لیتا جنہوں نے اس کہانی کو لکھا ہے


اس سے زیادہ کچھ نہیں آتا ہے مجھے جو دل تھا بول دیا
 :-* :-* :-* :-* :-* :-* :-* :-*
زندگی پیار کا گیت ہے
اسے ہر دل کو گانا پڑے گا

 

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.