Author Topic: اجنبی بنا آشنا  (Read 31399 times)

Offline woodman

  • 3 Stars
  • ***
  • Posts: 454
  • Reputation: +5/-3
    • View Profile
Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #24 on: August 12, 2020, 01:18:55 am »
بہت خوب جناب۔ شکریہ
987uk321 gmail

YUM Stories

Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #24 on: August 12, 2020, 01:18:55 am »

Offline Seema Naaz

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 5442
  • Reputation: +584/-20
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #25 on: August 13, 2020, 02:58:26 pm »

میری پہلی کلاس ٩ بجے تھی  . سوچا  راحیلہ  نے اس وقت   کیوں اٹھا دیا  . 
میں   نے دروازہ  کھولا  تو دیکھ کر حیران ہو گئی  .............. سامنے

 سامنے   تایا ابو  اور تائی  اماں   اور عامر عزیز  کھڑے تھے     . انہیں اندر آنے کو کہا  .

اور خود دوپٹہ   لے لیا  .  انہیں  بیٹھنے کو کہہ کر خود  بھی  ان کے قریب    بیٹھ  گئی  .

حال احوال   کے رسمی تکلفات  کے بعد    تایا ابو    نے   کہا  کہ بیٹی  رات  کو تمہارے  فون  کے

وقت  تمہاری تائی اماں  وہیں مو جود تھی   اور اس  نے امر کو بھی فون کر دیا  اور ہم نے طے  کیا

اس سے پہلے   کہ تم اسکول جاؤ , کیوں نہ  تم سے ملاقات کر لی جاے  عامر رات کو    در سے فارغ

ہوتا ہے .  اس لئے یہی  ٹائم مناسب لگا .   اسی لئے صبح سویرے  ہم آئے  ہیں   .

میں :  تایا جان  آپ کسی  وقت  بھی   آئیں  آپ  کا اپنا گھر ہے .  عامر  کی شادی  کے بعد   اس   کا سامنا

پہلی بار ہو رہا تھا تو  میں اپنے خاوند کو اسکی دوسری شادی کی مبارک  باد دی اور خیرسگالی   کی

دوا  دی  تو عامر  نے  کچھ  نروس  کچھ   زچ  کچھ   شرمندہ   ہو  کر  خیر مبارک کہا . اور سر جھکا  لیا

 میں خود اس سے نظریں چرا رہی تھی کیوں کہ   اس سے بیوفائی کی مرتکب  ہو چکی تھی .

 تائی امی  نے بات بڑھاتے ہوئے  کہا کہ   بیٹی  تم نے جو فیصلہ کیا ہے  یہ سب کے لئے بہتری  کا

پیش خیمہ  ہوگا  . تم دونوں   میں نبھ نہ سکی ہم سب کو افسوس ہے  تمہارے تایا ابو  کو اس کا بہت ملال ہے

مگر کچھ غلطیوں بنا پر  یہ شادی  شاد  نہ ہوسکی .  اب  آگے بڑھنا ہی  عقلمندی ہے  .

میں :  اسی لئے میں نے فون کیا تھا  کیوں کہ  کافی  سوچ بچار کے  مجھے آہی خیال  آیا  کہ    عامر

کی دوسری بیوی  کی یہاں   آنے  میں ہمارا تعلق  رکاوٹ  بن رہا ہے .  اسے یہاں آنے اور  اپنے  خاوند

کے ساتھ   نئی زندگی   سٹارٹ کرنے کا   حق ہے .  اسی لئے  پچھلی رات دیر گائے فون  کیا تھا .

پھر عامر کی  طرف دیکھتے ہوئے   میں نے کہا  کہ  عامر صاھب  آپ وہ لفظ  ٣ بار کہہ دیں  تاکہ

آپ  کی آنے والی زندگی   کی رکاوٹ دور ہو جائے  .   تو عامر اپنے والدین  کی طرف دیکھنے لگا .

تایا ابو تو  پیشماں سے سر جھکائے بیٹھے تھے   . تائی اماں  نے  اشارہ کیا تو   عامر  نے  ٣ بار

طلاق  طلاق  طلاق کہہ  کر  مجھے آزاد  کر دیا  .  دل ہی دل میں  میں نے شکر ادا کیا .   

میں نے کہا اب   تک تو ہمارا تعلق ہی ہمرے تعلقات میں  رکھنا اندازی کا مرتکب  رو رہا تھا  اب

اس  لا  تعلقی   کے بعد ہم پھر ایک فیملی  کی طرح  ایک دوسرے کے قریب   ہو جایئں گے .  یہ

بہن بھائوں کی غلط فہمی ہوتی ہے  کہ ان کی اولاد اگر ایک ہو  جائے تو  وہ ہمیشہ  کے لئے ایک 

ہو جایئں گے . ہو سکتا ہے کچھ ایسا ہوتا بھی ہو مگر اکثر     معاملات  میں یہی دیکھا گیا    ہے

شیرو شکر  ہونے  کی جگہہ رشتہ داریاں تلخیوں  کا شکار ہو گئیں  . اور اس کا خمیازہ  نسلوں  کو

  بھگتنا  پڑا .   تایا ابو  کی بہو  بن کر بھی میں انکی   بھتیجی تھی  اور اب بھی بھتیجی ہی رہوں گی

اگر اس رشتہ داری  میں   ہماری  شادی کی پیوندکاری  نہ کی جاتی تو  ان بیتے سالوں میں  دلوں  میں

جو رنجشیں  بڑھیں وہ کبھی پیدا ہی نہ ہوتیں .  خیر  ہونی کو کون ٹال سکتا ہے  , اچھا برا  وقت     اتا جاتا

رہتا ہے .  میرے دل میں  کسی کے خلاف کوئی رنجش  ہے نہ ہی کوئی خلش  اور مجھے سے جو  غلطیاں

گستاخیاں  ہوائی ہیں میں انکی معافی مانگتی ہوں .  یہ کہتے ہوئے  میں نے تایا  ابو  کے پاؤں چھوئے
 
تو انہوں نے  اٹھ کر   مجھے گلے لگا لیا .  میری پیشانی   چومتے ہوئے ان کے ہاتھ  کانپنے  لگے اور

آنکھوں میں  آنسو  آگے . انہوں نے ڈھیروں دیں دیں  میرے  اصل  وہ  ہی  رشتہ  دار تھے . میرے ابو 

کے بارے بھائی . تائی اماں  اور عامر  کا رشتہ انکی بدولت تھا .  انکی جذباتی کیفیت  نے مجھے بھی

آبدیدہ کر دیا .  پھر میں تائی اما کی طرف بڑھی تو  انہوں نے مجھے  گلےلگا  کر ڈھیر  ساری    دعائیں

دیتے ہوئے میرے سر پر بوسہ دیا  .   اور مجھے اپنے ساتھ سفا پر بیٹھا لیا . فضا کچھ   جذباتی  کچھ

افسردہ  سی ہو گئی  اتنے میں راحیلہ  ناشتہ لے آئ   تو سب نے مل کر ناشتہ کیا .   می نے عامر  سے

 مخاطب  ہو کر کہا   کہ    میرا خیال ہے کہ میں  راحیلہ  کے ساتھ  اپنے گھر موو  ہو جاؤں .

 اب   آپ میرے خاوند  نہیں رہے . اس لئے  جتنی جلدی ہو سکے میرا مکان خالی کر دیں  .   تو  عامر

نے کہا مجھے ایک ہفتہ دے دیں  مکان خالی   ہو جایئگا .  اور اسکے بعد جلد ہی  وہ یہ کہتے ہوئے 

رخصت ہو گئے  کہ تم  نے اسکول جانے کی  تیاری  کرنی ہوگی .    راحیلہ  نے بولا تو تم نے  یہاں

شفٹ ہونے کا ارادہ کر لیا ہے  . تو میں نے جوابب دیا اور تم بھی میرے ساتھ ہی ہو گی .  تو اس نے

کہا کیا وہ اسکول سے زیادہ دور نہیں ہے تو میں نے کہا . اتنا زیادہ   دور  بھی  نہی .

ہمیں  ١٠منٹ کی زیادہ ڈرائیو کرنا ہوگی   . راحیلہ   کافی ارسا  سے اسی   اپارٹمنٹ میں رہ رہی تھی

اس کے ساتھ اسکی   یادیں  وابستہ ہونگی   اس لئے کچھ رنجیدہ  سی نظر آنے لگی مگر میرے ساتھ

موو ہونے کو تیار ہو گئی  .  مجھے طلاق ہونے کا اسے قلق  تھا  لیکن   وہ حالت سے باخبر تھی اس

لئے اس نے  میری حوصلہ افزائی کی  . کہ اسی میں بہتری ہے  .  وہ نہیں جانتی تھی  کہ میں کتنی

خوش ہوں . وہ اپنے کمرے میں گئی تو   میں   ,

" تعارف روگ  ہو جائے تو اس کو بھولنا بہتر
تعلق  بوجھ بن جائے تو اس کو توڑنا  اچھا
وہ فسانہ جسے انجام تک لانا نہ  ہو ممکن 
اسے اک خوبصورت موڑ دے کر  جھوڑنا بہتر "

ساحر لدھیانوی   کو گنگناتے    ہوئے  غسل کرنے لگی .

سہ پہر کو  اسکول  سے   واپسی ہوئی   تو راحیلہ کی  کا  کے ساتھ    لکسس  پارک  ہوئی دیکھ کر 

میرا دل زور سے دھڑکا .  احسن  کی کار  اسکی آمد  کی نوید  سنا رہی تھی .  میں  تیز تیز قدموں   

سے اپارٹمنٹ کی طرف بڑھی  مگر  دروازہ  کھولتے  یوں لگا جیسے   ٹانگوں میں جان  ہی نہ

رہی ہو .  پوری رات اور دن گزرنے کے بعد اسکا  سامنا ہونے والا تھا . اسکے ساتھ   گزری  رنگین

ساعتیں  نظروں کے سامنے سے ایک فلیش کی طرح جلوہ گر ہوئیں .  اور  میرے پورے بدن  کی روئیں   

 روئیں  شرشار کر گئیں .   دروازہ کھولتے ہوئے   میرے ہاتھ  کانپنے   لگے  جتنا اسے دیکھنے کی  چاہ

تھی  اتنی ہی اسکا سامنا کرنے کی  ہمت   پشت    تھی .  دھڑکتے دل سے  دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوئی

  وہ   راحیلہ  کے ساتھ گپ شپ  میں لگا ہوا تھا .  مجھے  دیکھ کر کھڑا ہو گیا    اسکی    شوخ نظروں

 کو خود  پر مرتکز پا کر  میں شرم سے دہری ہو گئی  . میں خراماں خراماں   اپنے   محبوب کی  طرف بڑھی

تو اس نے آگے بڑھ کر   میری طرف اپنا ہاتھ  بڑھایا اور  میرے ہاتھ کی پشت اپنے ہونٹ دھر دیئے . اک برق

سی   تھی  کہ میرے سارے بدن  میں سرایت  کر گئی  اور میں  لر کھڑا گئی .  احسن نے میری کمر کےگرد   

ہاتھ   ڈال کر مجھے سہارا دیا  اور  مجھے   لے جا کر  صوفے پر بیٹھا دیا  اور خود میرے ساتھ بیٹھ گیا .

اسکی شوخ نظروں  کی  زد  میں  آئے  میرے رخساروں کی حدت   مجھے محسوس ہونے لگی   .

اپنے انگاروں کی طرح تپتے  گال  اور خشک ہونٹ   احسن  کو   دعوت   دے رہے تھے  مگر راحیلہ 

 کی موجودگی   میں خود پر  ضبط   کرنے پر مجبور  ہم دونو  ایک دوسرے کو دیکھتے رہے .   

کب اے تم , میں نے پوچھا   تو  کہنے لگا ,  میں تو تھا ہی یہیں   تم اب آئ ہو اسکول  سے . 

میں حیرانگی سے  بولی . تم یہیں  تھے  مگر کب سے   .
ارے  میں  تمہارے ساتھ ہی تو ہوں ملی ہو تم جب سے 

 میں مسکرا دی  اور راحیلہ نے   قہقہہ  لگا یا اور بولی .. لگتا میری دوست نے میرے بھائی

پر جادو   کر دیا . تو احسن اور میں بھی ہنس دیئے .  میرا خیال تھا احسن آج   رات ٹہرے گا

مگر اس نے  کھانا کھاتے ہوئے ( جو راحیلہ  نے میرے آنے سے پہلے  تیار کر لیا تھا ) بتایا 

کہ اس لئے آیا ہے کہ  فون پر  کہنا مناسب نہیں سمجھا  کہ کل اس وقت آپ دونوں  میرے   غریب خانے

پر  انوایٹڈ  ہو  اور میں خود آ کر آپ دونوں کو  لے جائونگا . میں نے راحیلہ کی جانب دیکھا  تو  نے

مشبت اشارہ دیا تو    دوسرے دن  دوپہر اسکی  رہنمائی  میں ہم دونوں نے  ایک بڑے  فارم   میں ایک جھیل کے

کنارے    ایک  خوبصورت  اور بڑے گھر  میں گئیں . فارم ا خوبصورتی اور جھیل کی  خنل ہوا  نے  طبیعت

کو شاد کر دیا . گھر کے  اندر  داخل ہوتے ہی  ایک اچنبھا  سا ہوا  . سامنے برآمدے  میں ایک  برگزیدہ   

سی   ہستی  براجمان تھی  اور ہمیں  دیکھ کر  اٹھ کر  ہماری طرف  بڑھیں   اتنے میں ہم بھی  برآمدے  میں

پہنچ گئے .  بری پیاری سی مسکراہٹ دیکھ کر  انکی  احسن کے ساتھ مشابہت   سے میں نے اندازہ  لگا

لیا کہ یہ ضرور احسن کی امی ہونگی .    احسن  تعارف  کروانے کے لئے  لب  کھولنے   لگا تو   وہ بولیں

تم   نائلہ ہو   اور میری پیشانی   چوم کر میرے شانوں پر اپنا  بزرگ ہاتھ پھیرا   اور مجھے ممنون کر گئیں .

اور پھر راحیلہ کو مل کر کہا  تم راحیلہ ہو  اور مسکرانے لگیں .  احسن ہمارے بارے  انکو بتا چکا تھا .

مگر ہم سے اس نے ایسی کوئی بات نہ کی  تھی کہ ہمیں  امی سے ملوانے کے لئے  لایا ہے .  احسن کی  امی

ہمیں سامنے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا  اور  ہم سب   ایک دوسرے  کے بارے معلومات لینے لگے .

 احسن  کی امی   ٦٥  سال  سے زیادہ ہی لگتی ہیں .   پاکستان پنجاب سے  تعلق تھا مگر عرصہ  دراز  سے

 امریکا ہی میں مقیم   ہیں   . احسن کے ابو   پانچ   سال  پہلے فوت  وفات پا گئے  تو  انکا  کاروبار جائیداد

کی بھال  انکے اکلوتے بیٹے  احسن نے سنبھال لی   جو پہلے بھی ان کا ہاتھ بٹاتے   تھے .  ان کا  ایک زرعی

فارم اور ایک  کیٹل  فارم تھا   دونوں وسیع  ایریا لئے ہوئے    اور  کیٹل  فارم    کے وسط  میں   ایک   جھیل

ہے  جس  کے  نزدیک ہی  ان کی رہائش ہے  .    احسن کی امی    بہت ہی سلجھی   ہوئی اور بردبار  طبیعت

کی  مالک ہیں . انکی سادگی  دیکھ کر  گمان  بھی نہیں ہوتا کہ وہ  کروڑوں   کی پراپرٹی  کی مالک ہیں  . وہ

خوبصورت  ہونے کے ساتھ   نفاست  سے بھرپور  سخصیت  رکھتی ہیں .  کھانا جو کافی پر تکلف  تھا  کے  بعد

ہمیں    جسے گھر  یا مکان کہا  گیا  دکھایا گیا جو کسی محل  سے کم نہ تھا . راحیلہ اور   میں  کافی متاثر  ہوئیں

اور شام  ڈھلے  ہم بھر آئیں  تو چاروں   طرف جگنوں   کو جلتے بجھتے  دیکھ  آنکھیں حیرت زدہ رہ گئیں .

ساتھ ہی جھیل تھی . احسن    ہمیں اس جانب  لے گیا   . بہت خوبصورت   نظارہ  تھا .  کچھ دیر   کنارے   پر 

 چہل   قدمی  کے  بعد  میں نے اور   راحیلہ   نے   اجازت   لی  اور احسن  نے   بخوشی ہمیں الوداع  کہا

 آتے   ہوئے  میں احسن کے ساتھ تھی   اور  راحیلہ اپنی کا ر  ڈرائیو  کر رہی تھی  .  ہم دونوں  راحیلہ

کی  کار میں  واپس   ہیں . راستے  میں  ہم دونوں احسن کی امی کی  نفاست  خوبصورتی  اور رکھ رکھاؤ

اور فارم  اور جھیل کے بارے  باتیں کرتی رہیں . ہم دونوں  کو ہی احسن کی امی سے  مل کر خوشی ہوئی 

تھی .  گھر پہنچ    کر راحیلہ نے  کہا . نائلہ   یقین رکھ تمہارے  اچھے دن آنے والے ہیں خوشیوں  نے

اب  تمھیں چن لیا ہے  . احسن تمھیں  اپنی امی کو دکھانے کے لئے گیا تھا   . صاف ظاھر  ہے تم  احسن 

کو بھا گئی ہو اور ایک دن بعد ہی  امی  سے ملوانا اسی کا شاخسانہ  لگتا ہے ورنہ یہاں  تو سالوں  ڈیٹنگ

کے  بعد بریک  اپ ہو جایا کرتا ہے اور  والدین  سے کوئی نہیں  ملاتا .   

ہاں راحیلہ  مجھے بھی  ایسا  ہی لگتا ہے اب انکی امی  بھی پسند کر لیں تو پھر ہی سمجھونگی

کہ  میں خوش قسمت ہوں .  .   وہ تو پسند کر چکی , میں یہی تو  دیکھتی رہی . ان کا تمہاری بار بار

بلائیں لینا    اور  انکی نظروں   میں   مجھے  تمہارے لئے پسندیدگی  ہی  نظر  آئی   . میری طرف

ابھی سے    مبارک قبول  کرو  یہ  کہتے ہوئے  اسنے  میری گال چوم لی .   راحیلہ  نے ہمیشہ   ثابت

کیا   ہے  کہ وہ  میری مخلص  دوست  ہے .   میری ہر خوشی کو اپنی خشی اور رنج و غم   کو اپنا  ہی

دکھ جانا ہے اس نے ..  یہ میری خوشنصیبی ہے  کہ مجھے  میرے برے وقت میں   راحیلہ جیسی   

دوست   میسر  تھی .  عامر سے علیدگی  کے وقت   اس  کا خلوص  بھرا  ساتھ  نہ ہوتا  تو میں کب کی

بکھر گئی ہوتی .   راحیلہ   اپنے کمرے میں گئی   تو میں بھی  اپنے کمرے  میں آ کر  چینج   کر کے 

  بھر   نکلی   اور احسن کو فون  کیا . اس نے کہا تھا پونچتے ہی  فون کرنا .  کافی دیر تک  ہم باتیں کرتے

رہے اور میں  باتیں کرتے کرتے نیند  کی آغوش میں چلی  گئی .

کچھ ہی دنوں بعد کورٹ   سے   ہماری طلاق   دائر  ہونے  کا نوٹس مل گیا   .   اور   ہمیں ٢ ماہ   

کا   وقت دیا گیا   کہ کونسلنگ   کے زریعہ  کیسے کریں  کہ  آپ لوگوں  میں جو اختلاف ہیں   وہ

دور ہو سکیں .    ہمارے لائر  نے  میری اور عامر  کی اپنے   ایک   دوست  سے ملاقات  کروا دی 

 اور اس نے اسے صورت حال بھی سمجھا دی تھی  . سو اس نے ہمیں  کہا کہ  ٢ ماہ  بعد   آ کر

ایک بار مل لیں   . ایسا ہی ہوا ٢ ماہ  میں اور عامر   دونوں کونسلر سے ملے   اور اس نے 

ازراہے مہربانی  ہمیں کونسلنگ  کی تکمیل  کا سرٹیفکیٹ  دے  دیا .  اس کے بعد   ہمارے لائر 

نے ایک  ماہ کے اندر اندر ہی  طلاق  کو   منظور کروا لیا اب  میں  رجسٹرڈ  طلاق یافتہ   تھی
.

YUM Stories

Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #25 on: August 13, 2020, 02:58:26 pm »

Offline Seema Naaz

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 5442
  • Reputation: +584/-20
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #26 on: August 13, 2020, 03:02:07 pm »
   

احسن سے روزانہ  گھنٹوں فون پر بات ہوتی . میری عدت کی وجہ   وہ  دور دور ہی رہا  اور

اگر ایک ٢ بار ملنے آیا   بھی  راحیلہ کی موجودگی میں  . ہم ایک حد کے اندر ہی رہے  .

عیدیں میں اسے بتایا کہ میری عدت  ختم ہو گئی ہے   .  تو اس نے کہا ہم  کل آیئنگے  .  میں نے 

غور  نہیں کیا اور خوش ہوگئی , اسے  ملنے کے لئے میں تو بے تاب  تھی اس لئے خوشی سے

نہال ہو گئی .    احسن  نے پھر کہا کہ میں اور امی  تمھیں ملنے  آئیںگے .    پھر  میں چونکی  . 

احسن امی کیوں آئرینگی  میں خود ان سے ملنے  آجاونگی . میں نے کہا تو احسن  نے کہا  کہ

امی تم سے تمہی کو میرے لئے  مانگنے آ رہی  ہیں . تو  میں دنگ ہو رہ گئی  مجھے ایک حد

اندازہ تو تھا کہ اسن مجھے پسند کرتا ہے  . وہ اس حدتک  چلا جایئگا کہ  شادی  کے لئے تیار 

ہو گیا کا امکان  کم ہی تھا .امیرزادے  اور آزاد منش  جوان کم ہی ایسا کرتے ہیں .   

احسن امی  سو بار  آئیں   مگر  رشتے کے لئے آنا ہے  تو  ان کو میرے تایا  سے مل کر بات کرنی 

ہوگی .  کیونکہ  میرے وہی سرپرست ہیں   اور  میں   ان  کی اجازت کے بغیر اتنا برا  قدم  نہیں

اٹھا پاونگی .
احسن :   کوئی  مسلہ نہیں     امی ان سے مل لیں گی  . بتاؤ  کب  آئیں .
 
میں :  احسن تایا ابو  کو بتانے اور انہیں  تیار کرنے   کے لئے ایک ہفتہ  دے دو 

 میں جانتی ہوں وہ  خوش ہونگے  . 

احسن : ٹھیک ہے جان  جس دن بھی آ سکیں بتا دینا .  پلیز .

دوسرے دن میں  تایا ابو   کے ہاں گئی . طلاق کے  بعد   میں ان کے ہاں تیسری بار گئی  . ان سے 

بات کی  . تایا ابو  نے ایک ٢ سوالات کئے  احسن  کے  خاندان کے بارے  میں . میں   نے  اپنی   معلومات

کی حد ان کو احسن اور اسکی والدہ   کے بارے بتایا  تو انہوں نے کہا   . ٹھیک ہے بیٹی   

ان دونوں ماں بیٹے  سے کہو جب چاہیں آ جایئں . مجھے ڈھیر ساری  دعائیں   دیں تائی اماں بھی  خوش

ہوئیں اور میرا گھر بسنے  کے لئے دعاگو  رہیں .    اسی رات کو   میں نے احسن  کو فون پر تایا   سے

ملنے کی روئیداد   بتائی تو   خوش ہوتے ہوئے  بولا  کہ  ہم پرسوں  دوپہر  کو ان کے ہاں  پہنچ  جائیں گے .

   اتنی بھی کیا جلدی ہے احسن   میں نے چیزہ   لیتے ہوئے کہا   کہ کچھ نہ پوچھ خود کو کیسے کنٹرول 

کر رکھا ہے   دل تو یہی چاہتا ہے ابھی  آوں  اور اپنی  آرزو پوری کر لوں 

میں  : تو جناب روکا کس نے ہے   .  میری بھی  وہی حالت ہے  جس نے تمھیں بیقرار کر رکھا ہے .

احسن :  یوں دعوت  دوگی  تو میں ابھی چلا آؤنگا سوچ لو

میں :  چلے آؤگے تو مجھے چشم براہ  پاؤگے  مگر میں جانتی ہوں تم ایسی کوئی غلطی نہ کروگے 

احسن :  تم  کب  کی میری ہو چکی  ہوتی اگر یہ عدت  وغیرہ درمیان نہ  ہوتی تو .   

میں :  احسن   میں نے جب تمھیں ریسٹورنٹ   میں دیکھا تھا  میں  تو تب سے تمہاری ہوں  اور یہ  بھی جان

لو میں  تب تک کسی کی نہ تھی  اور نہ کسی اور کی ہو سکتی  ہوں .

احسن : میں جانتا ہوں نائلہ   نہ جانے تمہارے  پاس کیسا جادو ہے  . میں تو کیا  امی جان  پر  پر

تمہارا جادو  چل گیا ہے . وہ بھی تمہاری تعریف کرتی ہیں .

میں:  وہ خود بہت اچھی ہیں  .میں انسے  بہت متاثر ہوئی  ہوں .  .  ایسی ہی باتوں  اور خوش گپیوں

میں رات کافی ڈھال گئی . احسن نے ایک دن بعد   تایا کے  ہاں آنے کا  کہا اور   میں  سو گئی

صبح  اٹھ کے  راحیلہ کو یہ خبر سنائی تو  تو اسکی خوشی کی انتہاء  نہ رہی  . وہ ڈانس  کرنے لگی 

اف   ,  اتنی خوش کا اظہار کر کے اس نے مجھے   بھی رولا دیا .    اسکول سے واپسی پر   تایا  ابو

کے ہاں گئی اور انہیں  احسن کی امی کے آنے کا کہا تو   بہت خوش ہوئے  . 

   میں اپنے گھر کب کی موو  ہو چکی تھی اور راحیلہ بھی  میرے ساتھ تھی   

احسن اور اسکی امی  نے  جس دن آنا تھا وہ  ہفتہ کا دن تھا  اور ہم  دونو  اسکول سے

آف تھیں .  ہم نے فیصلہ کیا  جب تایا ابو کے گھر سے  احسن  اور اسکی امی نکلیں تو ان کو اپنے

گھر لے  آئیں  .  راحیلہ نہ صرف اچھی  کک  ہے  بلکہ پکانے کا  شوق بھی  ہے اسے  . تو

کچن   کی ذمہ داری  اس نے  سنبھال  لی . مگر  میں اسے تایا کے گھر بھی   لے جانا چاہتی  تھی 

میری زندگی کا ایک اہم  فیصلہ ہونے والا تھا  تو اس  کی شمولیت  میرے لئے   بڑی  اہمیت   رکھتی

تھی  . اس نے  کچھ پکوان صوبۂ ہی پکا لئے  اور کچھ  کچے   پکے کئیے  ا ور ہم  دونوں تایا  ابو  کے

ہاں پہنچ  گئیں .  وہاں انہوں نے بھی کافی اہتمام کر رکھا تھا   .  ایک بجے کے قریب   احسن اپنی  امی 

کے ساتھ   آ گئے .  ہم سب نے آگے بڑھ کر   ان کا استقبال کیا . میں خود آگے آگے  رہی  کیونکہ   میرے 

لئے تو آئے تھے .  عامر  غائب تھا   تایا ابو  اور تائی اماں   نے  ان سے بڑی اچھی بات کی .   اور 

لنچ  کے بعد  جب چاہے   کا دور چلا تو  احسن کی امی نے با ضابطہ   میرے رشتہ کی  بات کی   . 

تو تایا ابو  نے  کہا نائلہ   کی مرضی ہے تو مجھے  کوئی اعتراض  نہیں .  امی نے میری طرف  دیکھا 

احسن  اٹھا  اور میری   طرف بڑھا   میں ذرا گھبرا کر اٹھی   میرے سامنے  وہ دو زانو  ہو گیا اور 

کہا  نائلہ    مجھ سے شادی   کروگی .  میں نے اسبات میں سر ہلایا    تو اس نے  اپنی جیب سے   انگوٹھی 

نکالی  اور میرا ہاتھ پکڑ میری انگلی میں پہنا دی  . سب  تالیاں   بجانے  لگے   اور مبارک مبارک کا  شور

اٹھا  .  سب کا منہ میٹھا کروایا گیا  اور دعاے  خیر کہی گئی  .  خوش  گپیوں   کے بعد  احسن کی  امی

نے  کہا   یہ بتائیں ہم  برات کب لائیں . 

تو تایا ابو نے   میری طرف دیکھا   .   میں نے سر جھکا لیا .   وہ اٹھے   اور مجھے   علیدگی  میں بلا  کے بولے .

بیٹی میری خواہش   ہے تم یہا سے ہی  رخصت   ہو  . اور  باتو  کب تک  کی تاریخ   دے دوں  .

میں نے کہا تایا ابو   جیسا آپ کہیں گے ویسے ہوگا انکی برات بھی یہیں آئیگی .  شادی  میں جلدی 

وہ اس لئے کر رہے ہیں احسن کی امی  نے حج کا ارادہ کیا ہوا ہے  .

تایا ابو کچھ سوچ  کر بولے  حج  میں بہت تھوڑے دن    ہیں ایک نہیں بھی نہیں  . میں نے کہا جی 

٢٥ دن رہ گئے ہیں  ٢ دن ہفتہ بعد انکی سیٹ  ہے . 

اچھا   پھر اگلے ہفتہ کی  کوئی تاریخ   دے دیتے ہیں   . تایا ابو بولے   تو میں نے  جیسے آپ   مناسب

سمجھیں .

بھر آ کر تایا ابو نے احسن ا امی کو حج کے ارادہ کی  مبارک دی  اور  پوچھا آپ ہی بتا دیں  کب 

برات لے کر آئینگی   . تو   امی نے بولا آج   ہفتہ کا دن ہے .   تھرسڈے جمعرات  کیسا رہے گا   

ٹھیک ہے  جمعرات  کو آپ برات لے کر آ جایئں    اور  عصر سے پہلے  نکاح  اور   عصر کے بعد

 رخصتی   رکھ لیتے ہیں .  سب نے شاد کیا اور  ایک دوسرے کو  مبارک  باد   کہتے ہوئے   اٹھ کھڑے 

ہوئے .   میں نے احسن  کی امی سے  کہا امی جان  یہاں سے کچھ دیر کے لئے  میرے  گھر چلیں   . تو 

حیرانگی سے  کہنے لگیں  تم یہاں نہیں رہتی ہو   . میں نے کہا   یہ گھر میرے تایا ابو کا ہے   -   میں  نے سوچا

انکی سرپرستی میں سب امور سر انجام پائیں  تو  بہتر ہو گا   . خوش رہو   بیٹی   بزرگوں  کو عزت دینے   

سے اپنی عزت   میں اضافہ ہوتا ہے . تم نے بہت اچھا کیا .   ہاں  چلو اب تمہارے   گھر چلتے ہیں .

راحیلہ  پہلے ہی نکل  چکی تھی .  ہم جب  گھر پہنچے  تو شام ہونے کو تھی .  امی  جان   کو  میں لیٹنے 

کے لئے کہا     وہ تھکی ہوئی لگ رہی تھیں   وہ لیٹ گئیں   . میں احسن کو لے کر  مکان دکھانے لگی 

وہ بڑا شوخ ہو رہا تھا   .

احسن :  یہ جمعرات  کافی دور نہیں   پیر کو  شادی رکھ دیتے 

میں: اس وقت تم بول دیتے . پیر پرسوں ہے    درمیاں میں ایک دن  ہے شادی ہے    یا کوئی   کھیل .

میں نے ہنستے ہوئے کہا اور  پیر   کو میں اسکول میں جا کر  لیو  / چھٹی  کے لئے درخواست  دونگی 

احسن : اگر چاہو تو   جوب   چھوڑ   دو  میں نہیں بولوں گا کہ جاب   کرتی رہو مگر میں تمھیں  روکوں

گا بھی نہیں  جب  تک تم چاہو جاب کرو جب  دل مانے چھوڑ دینا .  مجھے اس کا رویہ اچھا لگا   . وہ

   میری  رائے  کو اہمیت   دے رہا تھا .    ساتھ ساتھ  وہ شرارتیں بھی کرتا جا رہا تھا .  مجھے اچھا

لگ رہا تھا   ایک جگه    تھوڑا سا اندھیرا تھا   مجھے اس نے پکڑ لیا  اور کس  کرنے لگا    . میں نے

بھی   اسکے لبوں  میں اپنے لب دے دیئے  . جنہیں وہ چوسنے لگا     اسکا ایک ہاتھ  میرے ممے 

 کو دبانے لگا تو  میں نے اسے روک دیا  .  مجھے ڈر تھا کسی وقت بھی کوئی آ سکتا ہے  اس لئے 

احسن  کو کہاں  یہاں نہیں جانی  ٤ ہی تو دن درمیان میں ہیں  پھر ہم ایک ہو چکے ہونگے . اور ہمیں 

کسی کا در نہ ہوگا . اس نے  میری بات مانتے ہوئے    مجھے چھوڑ دیا  . شکر ہے وہ اپسیٹ نہیں ہوا 

اور مسکراتے ہوئے    میرے ساتھ   واپس    لیونگ   روم میں آ گیا جہاں امی جان لیٹی تھیں. انکی شاید 

آنکھ لگ گئی تھی     . ہم خاموشی سے کچھ دیر بیٹھے پھر میں نے  سرگوشی کی  کہ میں کچن  میں

راحیلہ کی مدد کرتی  ہوں  .  راحیلہ  نے   مجھے دیکھتے ہی   مبار کہا اور میرے گل لگ گئی    مجھے 

چوما  , میں  نے بھی  اسکا گال چوما اور پھر پکوان دیکھنے لگ گئی . سب کچھ  تقریبن تیار تھا  .  کچھ

ڈشز  تھوڑا ٹائم مانگتی تھیں .      کچھ دیر بعد   میں لیونگ روم گئی تو امی جان اٹھ گئی تھیں  . انہوں  نے

مغرب کی نماز پڑھی تو کھانا  بھی   تیار تھا .  ہم سب نے  مل کے   ڈنر  کیا  . راحیلہ کے پکوان  ہمیشہ 

کی طرح  بہت پسند   کئے  گئے  ,  امی جان  بہت خوش ہوئیں  .

امی جان : نائلہ برات یہاں  آئیگی    یا .

میں:  امی جان تایا ابو  مجھے اپنے گھر سے رخصت   کرنا چاہتے ہیں  اس لئے  برات   وہیں آئیگی .

امی جان :   میں نے سنا ہے تم پہلے  ان کی بہو  تھیں  ان کے بیٹے نے تمھیں طلاق دے دی 

پھر  بھی  تم ان کے ہر سے رخصت   ہونا چاہتی ہو  حالاں کہ  تمہارا اپنا  گھر بھی ہے . 

میں:    یہ حقیقت   ہے  میں انکی بہت تھی    . انکے بیٹے اور  میری بن نہیں سکی ہماری طبیعتوں

میں  کافی سے زیادہ فرق تھا  اس لئے ہم نے  ایک دوسرے سے  الگ ہونے کا فیصلہ کیا  , اس  میں

تایا ابو کا تو کوئی قصور  نہیں پھر  میرے ماں  باپ  جب ١٥ سالی کی تھی   ایک اکسیڈنٹ  میں جان  بحق

ہو گئے   . اب وہی میرے بزرگ بھی ہیں   اور انکو ہی میں  اپنا سرپرست سمجھتی ہوں . ان کی خواہش  ہے 

کہ میں  انکے گھر سے  رخصت ہوں   . ان کی دلجوئی  کے لئے   میرا فرض بنتا ہے  ان کی بات   کی لاج

رکھوں .  میں تفصیل سے   امی  جان کو بتایا  .

امی جان :  آفرین ہے باتیں تم پر   اور  مجھے فخر ہے اپنے بیٹے کی پسند پر  .  کس ماں کی تمنا نہیں ہوتی 

کہ اسکے بیٹے کا گھر بسے  . ١٠ سال پہلے  میں نے اپنی   بھتیجی کے ساتھ   احسن کی شادی  کروا دی   

وہ بمشکل ٣ سال   اکٹھے  رہ   پائے  وہ    بھی   اس طرح   کہ  کوئی روز بھی ایسا نہ گزرا ہوگا  کہ 

احسن خوش  دکھائی دی ہو  یا  میری بھتیجی   نے میرے ساتھ سیدھےمنہ   بات کی ہو .  آخر  روز   

کے  کے جھگڑوں سے  تانگ آ کر  احسن نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی . اور  پھر میرے اصرار کے       

باوجود   شادی  نہ کی .  میں نے خود بھی رشتے دیکھے اور میں نے     احسن کو  خود پسند کی   لڑکی 

ڈھونڈنے  کو بھی کہا . مگر احسن  شادی کا نام  نہیں سننا چاہتا تھا .  مگر ٢ ہفتے پہلے اس  نے   کہا

میں نے اپنی ہونے والی بیوی دیکھ لی ہے   اور وہ اسے  مجھ سے ملوانا چاہتا  ہے . میری تو خوشی  کی انتہاء 

 نہ رہی  , جب اس  نے بتایا کہ وہ مطلقہ ہے   تو میں  چونکی  تو تھی پھر سوچا  احسن نے   کچھ دیکھ   کر

ہی ایسا فیصلہ کیا ہوگا .  اور  تمھیں دیکھ کر   تم بی مجھے پسند آئیں  مگر اب  تمہارے بزرگوں کی  عزت

ادب و احترام   اور رشتہ  داری  نبھانے  کے لئے اپنی آنا  کو  آڑے  نہ آنے دینے کی ادا   سے میں کافی 

متاثر ہوئی ہوں .  اور مجھے یقین ہے   میرے احسن   کے لئے تم ایک بہترین شریک حیات ثابت ہوگی    .

میں مسکرا دی . اور صرف یہ کہنے  پر اکتفا  کیا  کہ آپ بزرگ ہیں   آپکی دعاؤں  کے سائے  میں

 ہم  آپکی   تمناؤں  کے  معیار  پر  پورا اترنے کی کوشش  کریں گے . 

امی جان : جیتی رہو بیٹی  . مجھے تم سے یہی امید ہے  .  اس طرح کافی دیر   تک   باتیں ہوتی رہیں .

میں نے بڑی کوشش کی کہ امی جان  رات یہیں رہ جائیں  مگر وہ   پھر کبھی سہی  کہہ  کر   

جانے  کے لئے تیار ہو گئیں .  رات کے ١١ بجے  احسن اپنی امی کو  لے کر روانہ ہوگیا .   سوموار 

کو میں اسکول میں  ٤٠ روز   کی چھٹی کی درخواست کی   جو کہ بدھ وار کو  اپروو  ہو گئی  .

میں  اور  راحیلہ  بدھ  کی شام کو ہی  تایا ابو کے ہاں  چلی گئیں   اسی شام  مہندی کی  سادہ سی  تقریب

ہوئی  . اور  میں رات کو مایوں  بیٹھ گئی .  یہاں پاکستانی رسمیں   نہیں چلتیں مگر انکی نقل  کی جاتی ہے  .

 بولی  ووڈ   میں دکھائی   جا نے والی تقریبات کی مکمل پیروی کی جاتی ہے .  مگر  میری طبیعت اس طرف مائل

نحو پاتی میں سادگی   پسند ہوں .  خیر  ظہر کے وقت برات آئ     کھانا   وغیرہ کھا   کر  عصر سے  پہلے 

نکاح ہو گیا  اور  عصر کے بعد   اپنے احسن کے ساتھ  جانب منزل  روانہ ہوئی . مغرب تک   ہم  اپنے 

 گھر پہنچ    گئے  .   ضروری رسومات  ادا کرنے  کے بعد  احسن  امی جان  راحیلہ اور میں  نے  رات کا

کھانا  کھایا . اور   احسن نے کہا  ہم دونو  آج کی رات  شکارے / بجرے ( ایک قسم کی بوٹ )   

 پر رہیں گے .  اور یہ کہہ  کر احسن  نے میرا ہاتھ  ہاتھوں میں لیا   اور  ہم دونوں  باہر  آئے 

جہاں بڑی دھیمی آواز میں   شہنائی  بج رہی تھی  .  تھوڑی دیر ہی  چلے   ہونگے کہ جھیل آ گئی 

ایک   شکارہ   اس  کے کنارے کھڑا تھا   .  احسن  اس کے اوپر سوار ہو گیا   . مگر مجھے ڈر 

لگنے لگا کیونکہ ہوا کی وجہ سے شکارہ   ہل  رہا تھا  وہ کنرے سے  کبھی ہٹ جاتا اور  کبھی 

کنارے سے لگ جاتا .  احسن نے میرا ہاتھ  پکڑ کر کھینچا تو  میں نے جمپ لگا دی   جس کی وجہ سے 

میں احسن پرجا  گری . وہ مجھے سنبھالتے سنبھالتے   لڑکھڑا  گیا . اور ہم دونوں گر گئے   نیچے دبیز 

قالین تھا جس کی  بدولت  ہم چوٹ لگنے   سے محفوظ رہے   اور ہنسنے لگے    . احسن نے مجھے

سینہ سے بھینچ لیا   اور  میرے لبوں کا بوسہ لے لیا    میں  نے  بھی  اسکے لبوں  کو چوما تو  اس نے 

مجھے اور شدت کے ساتھ اپنے سینہ سے لگا لیا  .  احسن  کیا کر رہے ہو   میں نے دلربائی   سے پوچھا 

پیار   پیار  اور  صرف  پیار   اس نے   شوخی   سے کہا     تو میں بولی .  اتنی شدت سے دبآؤگے   

تو سانس ہی رک جائیگی    یہ کیسا  پیا ہے   تو  اس نے میری   آنکھوں  میں دیکھتے ہوئے کہا   

گر زور سے نہ  دباؤں  تو تم کو شکایت   ہو گی . اور ہنس دیا   . میں اسکی بات  کی تہہ تک پہنچ   

گئی  اسکی چٹکی لے کر کہا تم  بھی نا .  باز نہیں آؤگے  شرارت سے   اور شرما کر   اسکے بازو   

میں جا دبکی  .   سوچ لو جانم  کیا تم  مجھے  باز آنے دوگی . اور سرگوشی کی سچ  بولنا .

تو میں نے کہا    سچ تو یہ ہے ایسی شرارت سے  باز آنے کا تو کبھی  سوچ بھی نہیں سکتی .

واسے  میرے کہنے سے تم باز آنے  سے  تو رہے  .   احسن نے کہا نہیں جانم تم کبھی آزما کر

 دیکھ لینا   باز  انے کا بولو گی   تو میں باز آ جاونگا .  مگر میں  جانتا ہوں تم ایسا ظلم کبھی نہ ڈھاوگی

یہ سنتے ہی   میں   نے اس پر بوسوں کی   برسات کر دی  .  وہ  ہے ہی  اتنا  پیارا  کہ  بے اختیار    دل 

اسے چومنے  کو چاہتا ہے .  پھر اس نے   کہا ایک منٹ    اور کنارے جا  کر   شکارے  کو وہاں

جس رسے  سے باندھ  رکھا تھا    وہ کھول دیا اور   جلدی  سے  شکارے   پر کود آیا  .

 اور  شکارہ   ہوا  کے ہلنے لگا اور  ہوا کے رخ پر   موو  ہونے لگا    میں نے اک تھرل سا محسوس کیا   

اور  اٹھ کر بیٹھ گئی   . احسن   نے مجھے اٹھنے کو کہا   اور   میری کمر میں ڈال کر    شکارے   کے 

اگلی   طرف  بڑھنے لگا جہاں اوپر   ایک سائبان سا بنا ہوا تھا .  وہاں ایک بیڈ بھی لگا ہوا  تھا   

جس پر  مخملیین   بستر لگا ہوا تھا  . شکارہ  جھیل   میں آگے بڑھنے لگا   . ہوا   کے دوش  پر 

وہ بڑی دھیمی رفتار  آگے کو  رینگ رہا تھا  .  احسن مجھے گلے لگا کے چومنے لگے  میں نے بھی   

انکے گلے میں باہیں ڈال دیں  اور اپنے  لب ان کے ہونٹوں میں دے دئے  جنہیں وہ  چوسنے   لگا .

جھل کے کنارے  کافی  لائٹس تھیں  . مگر اب جیسے  جیسے ہم  جھیل کے اندر کی طرف جانے  لگے 

لائٹس  کی روشنی مدھم ہوتی جا رہی تھی .  مگر  چاند کی چاندنی  نے ماحول کو  رومان  آلود  بنا دیا تھا

میں نے محسوس کی کوئی چیز میری ٹانگوں کے درمیان   مخل ہو رہی   ہے  .  تو  احسن سے  کہا تم شرارت 

کرنے سے نہیں   چوکتے تو وہ  بن کے کہنے لگا  کہ اس نے  کیا کیا ہے .  , وہ جی   تمھیں پتا ہے    تمہارا 

چپپو بلا وجہ  میری کشتی کے اس پاس   بھٹک رہا ہے  , یہ شرارت نہیں تو اور کیا ہے جی .

 تم بتاؤ  آخر  تمھیں اعتراض کس پرہے   چپو کے بھٹکنے  پر  یا اسکی شرارت   پر  .

 مجھے اعتراض  تو نہیں مگر  اس کا  بھٹکنا   گوارا نہیں ہے   . تو تم ہی بتاؤ   کیا کریں  .  اسکی آواز

مخمور تھی    جس نے مجھے بھی مدہوش کر دیا   .   میں نے اسکا چپو ہاتھ میں لے لیا اف   کتنا سخت 

تھا اور  گرم   بھی .  میں  نے اسے دباتے   ہوئے  کہا  اس بھٹکے ہوئے   کو  راستہ دکھاؤ  پیاسا  ہے   تو 

اسے کچھ  پلاؤ  . تم بولو تو میں اس کا کچھ کروں   نیکی  اور پوچھ پوچھ   احسن نے کہا   تو میں اسکے 

سامنے بیٹھ  گئی   اس کے ازاربند کو   کھولا   اور ہولے  ہولے اسکی شلوار کو نیچے  کیا  تو اسکا چپو 

ایک انگڑائی لے کر اوپر کو اچھلا    جسے میں نے جلدی سے ہاتھ میں لے لیا  . چاند کی   چاندنی  میں

وہ نٹ کھٹ  بہت پیا  لگ رہا تھا  . میں نے اسے بوسہ دیا تو  اسکی گرمی   ہونٹوں کو بھا گئی   . میں

نے اپنی زبان کی نوک   اسکے ٹوپے  پر پھیری تو  لطف کی ایک لہر  میری ٹانگوں کے بیچ تک  جا پہنچی

میں نے  اکا   ٹوپا  منہ  میں لے لیا   اور  چوپا لگایا   تو احسن  کے منہ سے   سے لذت   بھری   آہ  سن 

کر مھ خوشی محسوس ہوئی تو اور زور سے چوپا لگانے لگی  . احسن  میرے   بال  پکڑے اور اوپر   اٹھا 

کر میرے ہونٹوں کو چوسنے لگا  اور آہستہ آہستہ بیڈ   کی طرف بڑھنے لگا  . ہم جھیل کے وسط  میں 

تھے   ہوا  کچھ تیز چلنے لگی تھی اور  شکارہ بھی  جلدی رینگنے لگا    تھا    بیڈ کے قریب    آ کر   

احسن نے  مجھے بے لباس کرنا شروع کر دیا  وہ مجھے  چومے  جرا تھا  میرے ہونٹ میرے    میری گردن 

سب کچھ ہی تو  اسکے حوالے میں کر چکی تھی . اسکے ہاتھ میرے مموں سے کھیلتے   کھیلتے
   
 میری ٹانگوں کے بیچ  شلوار کے اوپر سے ہی  کھجانے لگتے  جس  سے  میری تڑپ اور طلب   

میں اور اضافہ ہوتا جا رہا تھا .  میری  لکیر بھیگ  چکی تھی   اور اس میں سے رس  لیکی ہونے لگا تھا 

میں نے اس کے گرام رود کو ٹانگوں کے بیچ رکھ لیا اور  اپنی رانیں بھینچ  کر اس پر اپنی انگیٹھی   کو 

رگڑنے لگی   تو  احسن    میرے کولہوں  کو پیچھے سے دباتے ہوئے  رگڑا لگایا تو   میں  لگی گئی   

میں   بیڈ جا گری   اور احسن نے مجھ پر گرنے میں دیر نہ لگائی  .  اسکا لوں  میری  چوت   کی  تلاش 
 
ادھر ادھر   ٹامک   ٹویاں  مارنے لگا   تو میں نے اسے بڑے پیار سے پکڑ کر  چوت   پر رکھا اور اس پر 

مسلنے لگی   . لن اکڑ  گیا   اور اندر جانے کی ضد کرنے لگا تو    میں احسن  سے بولی ,    دیکھ تو سہی 

یہ کیا چاہتا ہے  . اسکی بھی سن اور مان لے  . اس نے   میری چوت  کو ہاتھ سے چھوا اور لن کو اسپر 

رکھا اور  مجھ سے کہا جانم میں اندر جانے لگا ہوں  تو میں نے  ڈر نہیں خوشی سے اندر آ , تو اس نے

لن چوت پر مسلتے ہوئے اچانک ایک ہی دھکا سے پورا   اندر کر دیا    , یوں لگا

جیسے میری سانس ہی رک گئی ہو   .  ظالم نے   میرے  اندر اتنا بڑا  لوڑا     ڈال کے  دھکے لگانے   

شروع کر دئے  .  میں نے سو بار کہا رحم کر ظالم . تھوڑا ہولے   اس کو ہلا   مگر احسن  ضد   کا 

پکا نکلا   اس کی ضد کے آگے  میری چوت نے  ہار مان لی اور   خود بھی اسکا ساتھ دینے لگی   

اب  وہ اسکے دھکے کا برابر   جواب دینے لگی    اور مزے کی بات یہ ہوئی اسے بھی مزہ آنے لگا 

ہوا   کے تیز جھونکوں سے  معلوم   ہو رہا تھا کہ بارش   ہونے والی ہے . اور طبیعات جوش

خروش   سے   چودوانے  میں لگی ہوئی تھی اور لن  ہٹ ہٹ کر وار پر وار   کئیے جا رہا  تھا  اسکی 

رگڑ   سے میں  لذت سے تڑپنے لگی تو احسن کو  کہا  جانی اور زور سے   ذرا اور زور سے 

احسن   نے میری ٹانگیں   میری کندھوں پر رکھیں اور  زور زور سے  تھوکنے لگا   جس سے  میں

لذت کی ایک نئی  دنیا میں جا نکلی  . میری چوت میں لذت کی  ایک لہر آتی اور دوسری جاتی   . میں

پاگلوں کی طرح  سر پھٹکنے لی  . احسن    کے لمبے  سٹروک   اسکی سانسوں  کی گرمی  اور تیزی 

اس  کے لذت  میں    مست  ہونے  کا پتا دینے لگی    . وہ  اپنی اننگز کھیلتے ہوئے  ایک ایک سٹروک 

 مجھ پر لذت کے  وار کرتا خود ڈکراتا   ہوا   مجھ پر آ گرا    میں نے اسے اپنے  بازؤوں  میں   جکڑ 

لیا اور  پیار کرنے لگی   .   بارش شروع ہو گئی تھی   بجرے شکارے  کے   پر اسرار    ماحول   

ہم پر اک سحر  طاری   کر دیا تھا .   لذت  کی   انتہائی   گہرایوں  کو  چھوتے  ہم ایک  دوجے کی    باھوں

میں سو گئے  . اس کے بعد    کئی  بار بجرے پر رات  گزارتے  اور سہاگ رات کی یاد تازہ کرتے  . 

       
THE END
       

Offline رضا

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 90
  • Reputation: +5/-1
  • Gender: Male
    • View Profile
Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #27 on: August 13, 2020, 08:03:01 pm »
کچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جو اپنی گہری چھاپ چھوڑ جاتی ہیں سیما جی کی یہ کہانی ایسی ہی کہانی تھی


جس میں جذبوں کی تڑپ تھی، آرزوؤں کی امنگ تھی اور شبِ عروس کی وہ خوشیاں تھیں جن کو پانے کے لئے ہر مرد و عورت اس کے خواب دیکھتے ہیں
سیما جی نے کہانی کو بہت ہی خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے اور کہانی کی بُنت شاندار تھی
ہر چیز پرفیکٹ تھی


میری طرف سے ایک شاندار کہانی کو بہت ہی خوبصورت مقام پر لا کر مکمل کرنے پر
مبارکباد قبول فرمائیں
اور اس امید کے ساتھ
کہ آپ سے ہماری جلد ہی ملاقات ہو گی ایک نئے انداز میں
 :rockon: :rockon: :rockon: :rockon: :-* :-* :-* :-* :-*
زندگی پیار کا گیت ہے
اسے ہر دل کو گانا پڑے گا

Offline engrdanial

  • **
  • T. Members
  • 6 Stars
  • ******
  • Posts: 13460
  • Reputation: +211/-603
  • Gender: Male
  • ***
    • View Profile
Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #28 on: August 14, 2020, 02:08:29 am »

  آخر کار ایک اور خوبصورت شاہکار مکمل ہوا

سیما جی اور شاہ جی کو یہی ادا ممتاز کرتی کہ دونو  اپنی کہانی مکمل کرتے اور منطقی انجام کے ساتھ ساتھ ایک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑتے ۔
شاید نمبردار ی کے علاوہ سیما جی کی کسی کہانی کا غمزدہ انجام نہیں دیکھا۔
اس لئے سیما کے ہر شاہکار کے اختتام پر قاری ۔ مسرور و شادکام  اپنے دل میں اپنی آرزووں یا فینٹسیز کو سیما کے قلم و چشم تصور سے مکمل ہوتا دیکھتا ہے۔
سیما ناز ہر تحریر میں  اور ہر منظر  مییں اپنے قاری کو شروع سے آخر تک سحر انگئز جکڑن سے آزاد  ہونے ہی نہیں دیتی۔
اکثر  دیکھا کہ سیما کی تحریروں پر بہت کم لقگ تبصرہ کرنے کی ہمت کرتے  ہیں۔
اسکی بھی وجہ شاید یہ ہے کہ
کہانی اور ہر اپ ڈیٹ کے اختتام پر قاری ایک طرح کے کتھارسس  سے دو چار ہو جاتا ہے۔
جیسے  ایک پر لطف اور بھرپور سکو ن آور جنسی ملاپ کے بعد فریقین میں سرگوشیوں اور خوابیدگی کے سوا ہمت نہیں بچتی ایسے ہی سیما کے قارئین تحریر کے گھاو سے گھائل ہو کر گنگ رہ جاتے اور  شاید الفاظ میں اسکا اظہار ممکن نہ رہتا۔ لہذا ہمیں سیما خی کہانیوں  کے ریڈرز گھنٹوں اور منٹوں کے اندر ہزاروں کی تعداد میں مگر تبصرے چند ایک ملتے۔
سیما کے موضوعات  مین جدت اور انفرادیت ہوتی ہے اور چند صفحات میں کہانی مکمل ہو جاتی۔
سیما کے ہر ٹاپک کے ایک ایک صفحے میں اتنا مواد ہوتا ہے جتنا دیگر مشہور  سلسلہ وار کہانیوں کے سینکڑوں صفحات   
  میں یکساں مناظر کی
تکرار کی صورت میں بھی نہیں ملتا۔
خوش رہیں سیما جی
اور لکھتی رہی ۔
آپکے دم سے ہے رونق یم پر۔
***

Offline munni_hottie

  • T. Members
  • 3 Stars
  • ***
  • Posts: 403
  • Reputation: +39/-2
  • Gender: Female
  • O Yes
    • View Profile
Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #29 on: August 14, 2020, 12:08:00 pm »
Hats off
چھا گئی ہے
بہت بہت اعلی کہانی
A man’s accusing finger always finds a woman.

Offline Lovelymale

  • 4 Stars
  • ****
  • Posts: 662
  • Reputation: +12/-10
  • Gender: Male
    • View Profile
Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #30 on: August 14, 2020, 05:14:44 pm »
My only Comment for this Beautiful and Romantic story:


https://www.youtube.com/watch?v=Uo1YRfr5n-0

Offline engrdanial

  • **
  • T. Members
  • 6 Stars
  • ******
  • Posts: 13460
  • Reputation: +211/-603
  • Gender: Male
  • ***
    • View Profile
Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #31 on: August 14, 2020, 05:40:54 pm »

اجنبی بنا آشنا

صبح   جلد ہی   آنکھ کھل گئی  تھی .   میرے ساتھ ہمیشہ ایسا

 ہی ہوتا  ہے  جس دن جاب  سے آف  ہوں   آنکھ  بنا  کسی الارم  کے

کھل جاتی ہے  .  اٹھ کر  نماز  ادا کی  اور کافی    بنا کر

 کھڑکی  کے سامنے   میں کافی  کا مگ  ہاتھ میں لئے   

موسیقی  سے لطف اندوز   ہونے لگی   .    خوشگوار  موسم

  نے  فضا   میں رومان  سا  بھر  دیا   تھا . میری    طبیعت  مچلنے  لگی   دل   چاہنے لگا 

 کچھ     ہو     ہاں    کچھ    ایسا    جو آج     تک   نہیں    ہوا .

 میں   کار    میں    لمبی     ڈرائیو    کے    لئے     نکل    کھڑی    ہوئی

 موسم    بھی    سہانا     تھا     موڈ   بھی     بنا     ہوا    تھا . ٹھنڈی

 بریز  اور رومانٹک    موسیقی    نے بدن کی  طلب کو ہوا دی   .
موسم ہے عاشقانہ
اے دِل کہیں سے ان کو
ایسے میں ڈھونڈ لانا
کہنا كے  رت  جواں ہے
اور ہم ترس رہے ہیں،
پھرتے ہَیں ہم اکیلے

بانہوں میں کوئی  لیلے


آخر کوئی  کہاں تک
 تنہایوں   سے  کھیلے
دن ہو گئے ہَیں ظالم
راتیں ہَیں قاتلانا 
موسم ہے عاشقانہ     
یہ سنتے ہی  میرا دل بھی   خواب  بننے  لگا .  ویسے بھی میرا  یہ پسنددیدہ نغمہ ہے . 

کچھ  شعر تو کمال کے ہیں

پھرتے ہَیں ہم اکیلے   , بانہوں میں کوئی  لیلے , آخر کوئی  کہاں تک  تنہایوں   سے  کھیلے . 

روڈ  کے دونوں جانب   دور تک ہریالی  ہی  ہریالی  جازب  نظر   اور دلکش   لگی 

فارم  سڑک  کے ساتھ  ساتھ  جیسے  دوڑ  سے رہے ہوں

 گائیں   جو اپنے  نر ساتھیوں  کے   ساتھ   گھومتی گھاس  چر  رہی تھیں .

ان کو دیکھ کر  بے ساختہ ان پر پیار آ گیا

  بھیڑوں کے ریوڑ  کے ریوڑ    سبزے   کو کھاتے   اور  میمنے  اٹکھیلیاں  کرتے   دیکھ  کر  زندگی


    اتنی  بھی بری نہیں  ہے  کا یقین ہو گیا   .  پاکیزہ کا دوسرا گانا   اوٹو   پلے ہوا
 
"   یوں  ہی مل گیا تھا کوئی سر راہ  چلتے چلتے    وہیں پے تھم کے رہ  گئی ہے . 


میں نے  ٹیپ  اسٹاپ  کردی

کاش ہمیں بھی کوئی مل جاتا   پھر رات  تو کیا سانس ہی تھم جاتی . کسی کے ہو کے  تو مرتے .    میں ٹھنڈی  آہ  بھر کر رہ گئی .  میری  آنکھیں  نم سی ہونے لگیں   تو   میں نے  فارم کی طرف دیکھ کر 
اپنی توجہ   بٹانے کی  کوشش کی  .   ایک مور اپنی مادہ   کا قرب پانے اور اسکا دل  جیتنے  کے  لئے 

  ڈانس  کر  رھا   تھا   . مجھے مورنی پر رشک  آ گیا . نہ جانے  مرد  کب اتنا  تہذیب یافتہ  ہو سکے گا   
ہوگا بھی یا کبھی نہیں   کیا خبر  پل میں  تولہ پل میں ماشہ   اسکا کیا بھروسہ     

تھوڑی دور آگے  ہرن اور ہرنی  کو پاس پاس کھڑے  خاموشی میں  ایک  دوسسرے  سے  باتیں 

کرتے دیکھ کر  میں بے ساختہ  مسکرا دی .     اگلے فارم   میں گھوڑے   ,  زیبرے اور گدھے   

  کچھ  گھاس   چرنے  میں   مشغول  تھے  کچھ   اٹکھیلیوں  میں  مصروف   . ایک گدھے  نے   گدھی

کی  گردن  پر  اپنے دانت گاڑھ  رکھے تھے   اور گدھی   منہ چبا چبا کر  اپنی  رضا مندی  کی دہائی  دے

رہی تھی   .  مگر وہ اپنا پر تشدد  رویہ  برقرار رکھے ہوئے تھا . اسکی پانچویں ٹانگ کچھ زیادہ  گستاخانہ

انداز  لئے   کبھی لٹکتی  تو کبھی  اپنے سینہ کو  پیٹتی  .  میں آنکھیں  چراتے   ہوئے دوسری  جانب

دیکھنے لگی  .  جہاں    ایک  مڈل ایجڈ  جوڑے    کو  ننگے پاؤں   سبزے    پر چہل  قدمی  کرتے پایا  .

میرا زیادہ دور جانے  کا  ارادہ  نہ تھا  . مگر مست نظارے  دیکھتے خبر ہی نہ ہوئی  .

میں جب کبھی اداس ہوتی ہوں تو  میں لونگ ڈرائیو کرتی   ہوں   لیکن  آج  تو  میرا موڈ  بہت

اچھا  اور طبیعت   خوش خوش   تھی  پھر میں  آگے بڑھی جا رہی تھی .

کافی دیر بعد ہائی  وے   پر   نیکسٹ   خروج  پر  ایک ریسٹورانٹ    استہار   نظر آیا تو   

کافی  کی طلب  ہونے  لگی   . اور میں  وہاں  سے باھر  نکل  ائی     کار  پارک کر کے  میں

ریسٹورنٹ  میں گئی  اور َِکارنر  میں  بیٹھ  کر  ویٹر    سے کہا  کافی لے آئے  .

ادھر ادھر  دیکھا  تو دوسرے کورنر   میں  اسے  اپنی  طرف   دیکھتے پایا . تو میرا دل  زور سے دھکا

  میں  نے ذرا غور سے دیکھا اچھے  خدو  خال   کا حامل   ایک ٣٥-  ٤٠-  سال  کا  شخص جو       

پاکستانی   دکھتا  تھا   کو بڑا  پرکشش    پایا  َ. اپنے انداز واطوار  سے   بہت سلجھا  ہوا   معلوم ہوا 

اس نے مجھے  اپنی طرف   دیکھتے  پا یا    تو  وہ مسکرا دیا . اس کی  مسکراہٹ    بہت  پرکشش  تھی .

میں نے نظریں چرا لیں اور کافی کے سپ لینے لگی  گرم گرم کافی   اتنی  اچھی  پہلے کبھی نہ لگی تھی
 
  .  میں  نے کافی پیتے  ہوئے کئی بار  اسے دیکھا  تو اسے اپنی طرف  ہی متوجہ پایا .  میں اگنور  کر دیتی

مگر اسکی  پر کشش  شخصیت    مجھے بار بار  دیکھنے   کے لئے  مجبور  کر رہی  تھی .

  اس کے چہرے  پر  کچھ دنو کی بڑھی  ہوئی شیو  بہت جچ رہی تھی . میں چوری  چوری  اس کا جائزہ

لیتی  . مجھے سمجھ نہیں ائی کہ  میں بار بار اسی  جانب  کیوں نظریں دوڑاتی  جس طرف وہ  براجمان  تھا

جب بھی ادھر دیکھتی   اسے  اپنی طرف دیکھتے اور  پھر نظریں چراتے  دیکھتی 

یہ کھیل  ہم دونوں میں  کچھ دیر کھیلا جاتا رہا .  ہم دونو یوں ظاھر کر رہے تھے 

ہم دونوں   ایک دوسرے کو سرسری    اتفاقیہ  دیکھ  لیتے ہیں  . مگر میں جانتی  تھی 

جیسے اسے   بار بار   دیکھنا  چاہتی  تھی  وہ  بھی   یہی  چاہتا  ہے  مجھے دیکھ کر  اسکے

ہونٹوں   پر مسکراہٹ آجاتی.  اخر ایک بار میں نے  بھی  اسکی مسکراہٹ  کا جواب

مسکرا کر دے دیا .

شاید   میرے مسکرانے سے  ہی  اسکو میری ٹیبل  پر  انے کا حوصلہ ہوا .

" کیا  میں یہاں    بیٹھ سکتا ہوں "  اس نے ایک کرسی  پیچھے کھینچتے ہوے  مجھ سے  پوچھا ,

"  بیٹھیں  ", میں نے اسے مسکرا کے  بیٹھنے کے لئے کہا.

  مجھے احسن کہتے ہیں  اس نے میری  طرف  ہاتھ بڑھاتے ہوئے  کہا .

میں نائلہ  ہوں  میں نے اپنا ہاتھ  اس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے  کہا  جو اس نے   مضبوطی  سے پکڑ لیا َ

ا پ سے مل کے بڑی خوشی ہوئی مس  نائیلہ  اس نے  مسکراتے  ہوئے  کہا .

مسز  نائیلہ  عامر عزیز   میں  نے اس کی تصحیح  کرتے ہوئے  اپنا ہاتھ  اس کے ہاتھ  سے  الگ کیا

جو ابھی تک  اسکے ہاتھ میں تھا . 

آ پ   پاکستان سے  ہیں  مسز  نائیلہ عامر عزیز

جی    ہاں .  میرا تعلق پاکستان سے  ہے  اور آپ بھی  پاکستانی  لگتے ہیں   . میں  نے تصدیق  کے لئے پوچھ لیا

جی  میرا تعلق   خوشاب  پاکستان سے  ہے  اور یہاں  ٧ سات   سال سے پنسلوانیا  میں ہی  مقیم ہوں

" آپ  اسی سٹی  میں رہتے ہیں "  , میں نے سوال دآغا   , ہم اس وقت پیٹسبرگ  پنسلوانیا  میں تھے  .

"  نہیں  جی " , میں فلاڈلفیا   سے ہوں   آج میری ایک  اپوینٹمنٹ    ہے  ١ بجے  بزنس  کے سلسلہ میں

مگر میں رات  کو ہی  آ گیا تھا    اور  قریبی  موٹل  میں ہی  سٹے  کیا  ہے . 

" آپ یہیں رہتی ہیں  کیا" ?  اس نے میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے  پوچھا  تو میں جھینپ سی گئی .

"نہیں جناب میں بھی   یہاں نہیں  رہتی ",  میں   فورڈ   سٹی   سے ہوں .

" پھر  آپ یہاں کس سلسلے میں "  اس نے استفشار  کیا   تو  میں سوچ  میں  پڑ  گئی .

کیا کہوں  کیونکہ میں تو بلا  جواز ہی  یہاں  موجود تھی  .

آج  میں  جاب  سے   آف  تھی  گھر بور  ہو رہی تھی اور  لانگ ڈرائیو  کا موڈ  بن گیا .

اور   کافی کی طلب  مجھے یہاں کھینچ لائی ". 

میں اپنے خالی  کافی کے کپ کو   اپنے ہاتھوں میں  بلوتے    ہوئے  کہا .

تو اس نے  کپ میرے ہاتھوں سے  لے کر   ٹیبل  پر   رکھ دیا  .

اور   میرے ہاتھ کو  اپنے ہاتھ میں لے  کر کہنے لگا بڑے خوبصورت ہاتھ ہیں آپ کے .

اسکے  چھوتے   ہی   عجیب سا محسوس  ہوا  جیسے کوئی بجلی  سی سارے بدن میں   سرایت   کر گئی ہو 

شرم سے میرے گال سرخ   ہوگئے . اور میں نے ہاتھ  کھینچتے  ہوئے  اس سے  کہا

  " آپ فلرٹ   دکھتے تو نہیں ہو " .

" وہ  بولا آپ  کچھ بھی  سمجھ سکتی ہو  مگر میں حقیقت  بیان  کر رہا ہوں "

اور اس نے پھر  میرا  ہاتھ   اپنے ہاتھوں میں  لے لیا اور  کہنے لگا  دیکھیں   

کتنے  ملائم  اور سوفٹ  ہیں آپکے ہاتھ  اور  نازک  نازک سی لمبی اور

پتلی پتلی   انگلیوں  کا تو جواب ہی نہیں"  اس نے پاکستانی مرد ہونے کا ثبوت  دینے  ذرا  دیر

نہ لگائی تھی  .   میں   نے  شرما  کر  نظریں جھکا لیں  , میں اپنے  سرخ   ہوتی گالوں  کو

محسوس کر رہی تھی. میں نے ہاتھ کھینچنے  کی کوشش کی تو اس نے  اور مضبوطی  سے پکڑتے ہوئے

کہا  " اور آپ کے ہاتھوں کی  لکیریں بھی  شاندار  ہیں ".
 
 
  میں نے دلچسپی  لیتے ہوئے  اس سے پوچھا  .    " کیا آپ  پامسٹری  جانتے ہیں ".   


کچھ  زیادہ  نہیں  تھوڑی بہت سوجھ بوجھ ہے .  اگر آپ کہیں تو آپ  کے بارے  کچھ  بتاؤں .

مگر میں  اعتبار نہیں کرتا  , کیونکہ ہمارا مذہب  اس کی اجازت نہیں دیتا . وہ بولا  .

"ہمم   یہ تو ہے,   یقین تو مجھے بھی نہیں  مگر آپ اگر کچھ جانتے ہیں   تو دیکھ کر بتا دیں. "

میں نے   اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا  .

  اس نے میرا دوسرا ہاتھ  بھی پکڑا  ایک بار دونون  ہاتھوں کو  سامنے  رکھا  اور 

میرے ہاتھوں کو دبا کر  بولا میں آپکے ہاتھوں کی خوبصورتی   کو دیکھوں یا ہاتھوں کی لکیروں  کو  . 

" اپ بھی نا   , پورے  فلرٹ  ہو " ,  میں  شرما کر بولی .  ( مجھے  فارم میں ناچتا مور  یاد  آگیا ) , .

پلیز  . آپ لکیروں کو ہی  دیکھیں  اور کچھ سمجھ  ہے تو بتآ دیں . اس  نے میری آنکھوں میں دیکھا .

اسے شاید آنکھوں  میں جھانکنے  کی عادت تھی  . میں نے نظریں چرا لیں  .

اس نے    ہاتھ کی لکیروں کو دیکھا  جیسے جیسے وہ   میرے

ہاتھ پر اپنی انگلیاں  پھیرتا  مجھے  کچھ کچھ ہونے لگتا  .   اسکا  میری انگلیوں کو ٹٹولنا

اور  ہتھیلی پر اپنی انگلیوں کو مس  کرنا  بہت اچھا  لگنے لگا تھا  .

  تھوڑی دیر بعد  وہ  بولا .   اپ ٢٥ سال کی ہیں  ,  میں ہنس دی  , یہ تو  کوئی بھی اندازہ لگا سکتا ہے . 

ویے میں ٢٨ کی ہوں , اس نے میری طرف دیکھا  اور کہنے لگا  آپ کی شادی ہو چکی ہے .

میں نے ہاتھ  کھینچتے ہوے کہا .

یہ تو میں خود کو مسسز   کہہ  کر بتا چکی ہوں  . اس میں کونسی  نئی بات کی آپ نے .

اس نے پھر میرا  ہاتھ  اپنے ہاتھوں میں لے لیا  اور  نہ جانے

  کیوں میں یہی  چاہ رہی کہ وہ  میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے رکھے  .

وہ بولا  آپکی شادی ہو چکی ہے  مگر وہ ناکام بھی ہو چکی ہے 

میں چونکی  کیونکہ یہ  وہ صحیح  کہہ رہا   تھا .  آپ اپنے خاوند  کے ساتھ نہیں رہتی ہو  ., 

پھر اس نے کچھ اور  باتیں ایسی بتائیں جو  میرے سوا کوئی نہ جانتا تھا . 

کچھ ایسی باتیں بھی کیں جن پر یقین کرنا میرے لئے مشکل تھا .  میں نے اعتبار نہ کرتے ہوئے

  یوں ہی کہہ دیا  چلو دیکھتے ہیں . اسکو صاف   جھٹلا  دینا   اچھا  نہیں لگا

اس لئے بات ٹال دی .    اور کچھ پوچھنا  بیکار تھا . اس لئے  میں نے اس  سے کہا   میں چلتی ہوں  .

نہیں ابھی نہیں  پلیز  ,  ایک ایک کپ  کافی ہو جاۓ , کیوں کیا خیال ہے  ? وہ  بڑے اشتیاق آمیز لہجے میں بولا 

تو میں   نے  کندھے اچکا دئیے  جسکا مطلب  تھا  , ٹھیک ہے . 

نہ جانے کیوں  اس کے ساتھ کچھ وقت بتانا چاہتی تھی . مجھے خود اپنی سمجھ  نہیں  آ رہی تھی 

کہ  میں  کیوں   اس  میں دلچسپی  لے رہی ہوں . اتنا  وقت  کسی انجان  آدمی کے ساتھ

بلا وجیہ بیٹھنا   میری سمجھ میں  نہیں آ رہا  تھا  یا میں سمھنے کی ضرورت  محسوس 

کر نا  نہیں چاہتی   تھی .    وہ کافی کا سپ  لیتے میری آنکھوں میں دیکھتا  , 

اس کی آنکھیں  بڑی  شرارتی  تھیں , میں جھینپ سی جاتی اور وہ مسکرانے لگتا  .

اس نے پھر سے میرا  ہاتھ  پکڑ لیا  اور ہولے ہولے  دبانے لگا . ہم یوں بیٹھے   

باتیں کر رہے تھے  جیسے مدتوں سے  ایک دوجے کو جانتے ہوں .

اور سچی میں  مجھے  اس سے انسیت ہونے لگی تھی . وہ مجھے اچھا  لگنے لگا .

حالانکہ  میں کسی سے ہاتھ ملانے سے بھی اجتناب    برتتی  ہوں


مگر آج صبح  سے موڈ کچھ  رومانٹک  ہو رہا تھا 

شاید  خوشگوار موسم   کا بھی اثر ہو کہ اپنے  ٹاؤن  سے ٧٠ کلومیٹر   دور  میں 

کسی  اجنبی  کے ساتھ کافی  پی رہی تھی  اور اسکے ہاتھوں میں میرا ہاتھ تھا 

جس کو بڑے پیارے انداز میں سہلا  رہا تھا .  جیسے جیسے  اس کا ہاتھ میرے ہاتھ  کو

دباتا  سہلاتا  مجھے کچھ   کچھ     ہونے   لگتا     

اس  کا لمس  بہت اچھا فیل  ہو رہا تھا  .  ایک گھنٹہ کے بعد  اسکی میٹنگ  تھی

اور وہ چاہتا  تھا کہ  یہ ٹائم  میرے ساتھ  گزارے
.
اور  سچ میں میرا من بھی یہی کہ رہا  تھا

"نائلہ  " اس نے بڑی  دھیمی آواز  میں مجھے نام لے کے پکارا

جی  , میں  نے جوابا  کہا تو  . تو اس نے  میرا ہاتھ دونوں ہاتھوں میں لے کر  کہا . 

کیوں نہ ہم  یہ     ٹائم موٹل  روم  میں بیٹھ کر گپ شپ کریں

مسٹر  مجھ  سے کیا  توقع   رکھتے  ہو . میں نے  تھوڑا ترش لہجے میں  کہا .

( مجھے گدھا   گدھی  کی گردن  پر دانت گاڑھے   نظر آنے لگا )   

منمناتے  ہوئے  کہنے لگا  ." اچھائی کے علاوہ کچھ بھی تو نہیں ,"

  یقین مانو میرے دل میں کوئی ایسی  بات نہیں میں  ایک شریف بندہ  ہوں

کوئی غلط قدم  اٹھا نہیں سکتا نہ ہی میرا کوئی غلط  ارادہ ہے . 

میں سوچنے لگی گر اس کے ساتھ  کمرے میں جاؤں بھی  تو یہ زبردستی تو کرنے سے رہا  .

میں تھوڑا سا بھی اونچا بولی  تو سیکوریٹی  آ جائیگی . 

میں  اسے  حیران کرتے   ہوئے  اٹھ کھڑی ہوئی  اور  اسے بولا  آؤ تمہارے کمرے  میں چلتے ہیں  .

اس نے   حیرانگی سے میری طرف دیکھا

اور  بے یقینی  کے عالم  میں اٹھ کھڑا ہوا .  اسکا موٹل  زیادہ دور نہ تھا ہم  پیدل ہی

اسکی جانب بڑھے . میں نے اپنی کار  وہیں  پارکنگ میں چھوڑی .

اور  ہم      موٹل   میں  تیسری منزل  پر اسکے کمرے میں  آ گئے .   

مجھے  باتھ روم  جانے کی حاجت  تھی . سو میں    "معاف کرنا"      کہتے  ہوئے باتھ  روم  گئ

اور فریش اپ  ہو کر  باھر نکلی  . احسان چیئر پر   بیٹھا تھا  اور کچھ گنگنا رہا تھا

میں بھی اس کے قریب چیئر  پر بیٹھ گئی . وہ اٹھا  اور باتھ روم چلا گیا  .

میں نے  ادھر ادھر دیکھا  صاف  ستھرا کمرہ تھا  خود  اسکا  کا ایک ہی  بیگ  تھا  .

جیسے وہ  صرف ایک ہی دن کے لئے آیا ہوا . کمرے کے نزدیک ہی  سیکورٹی آفس تھا   

جس سے  مجھے تسلی تھی .  کہ میرے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کر سکے گا . 

احسن کے  باھر  آتے ہی  میں بولی   آپکی  میٹنگ کا ٹائم ہو چلا . اب چلنا چاہیے

  تو  اس نے   وال کلاک  پر ٹائم دیکھا تو   کہنے  لگا ٹھیک ہے اب نکلنا ہوگا . 

اور   مجھ سے بولا.  نائلہ     کیا  ہم دوست  بن سکتے ہیں  ؟

آپکے  ساتھ   میرا وقت اچھا گزرا   اور  میں چاہتا ہوں  ہم پھر بھی ملتے  رہیں ,

میں بھی  آپکی طرح تنہا ہوں .

میں نے کہا اچھا میں سوچونگی  اور  ہم دونوں کمرے سے  نکل  آئے .

میں دل ہی دل میں  خوش ہوئی کہ احسان نے کوئی ایسی حرکت نہیں کی جس سے  میرے اعتماد  کو ٹھیس

پہونچتی . وہ بھلا مانس  شریف آدمی نکلا   اور مجھے امید  بندھ  گئی  ممکن ہے  ہم  دونوں میں

کوئی سمںبندھ   ہو  جائے  .  میں نے  خود  اسکے بازو  میں اپنا بازو ڈالا اور بڑے  اعتماد  سے

احسن کے  ساتھ لفٹ  میں داخل ہوئی , لفٹ میں  میں  احسان کے ساتھ  مل کر  کھڑی ہوئی 

میرا جسم اس سے ٹچ  ہو رہا تھا  . احسان نے کسی طرح کی  اوچھی  حرکت نہ کی 

  یہ تنہائ ایک قسم کا ٹیسٹ تھا.   میں  اس سے  کافی  متاثر ہوئی .  . باھر  آ کر  وہ اپنی کار کی

  طرف بڑھا  تو میں نے اسے  گڈ لک   کہا  تو اس نے جلدی سے  ہاتھ بڑھایا

جو میں نے  بڑے اشتیاق سے  اپنے ہاتھ میں لے لیا .  وہ  بولا  نائلہ  کیا ایسا نہیں ہو سکتا

کہ آج کی شام ہم ملیں اور  کچھ وقت   اکٹھے  رہیں   . تاکہ  ایک دوسرے کو جان سکیں

ممکن ہے احسن اگر میں واپس نہ گئی  تو  آپ سے ملاقات ہوگی ,   مگر کوئی    وعدہ

نہیں کرتی . اپکا ٹیلی فون نمبر  میرے پاس ہے . اس نے میرے فون میں انٹر کر دیا تھا 

اگر ایسا کوئی پروگرام ہوا  میں آپکو کال  کر دونگی ورنہ رات  کو  فون  پر بات ہوگی .

نائلہ کیا میں سمجھوں ہم  اب دوست ہیں   وہ بولا تو میں نے کہا .

"میں تو یہی سمجھ کر بات  کر رہی ہوں . "

اس کے چہرے کے تاثرات  بتا رہے تھے وہ  یہ سن  کر بہت خوش ہوا  تھا . 

اس نے میرے  ہاتھ کو دبایا  اور مجھے   کس   ( پیار ) کرنے کے لئے  میرے چہرے  کی جانب جھکا

تو میں نے اپنا گال  سامنے کر دیا . اس نے بوسہ  لیا 

اور پھر اچانک میرے چہرے کو  اپنے دونو ہاتھوں میں لے کر  اس نے میری پیشانی  چوم لی ,

اس وقت اسکی آنکھوں  میں   پیار ہی پیار تھا  جو کہ مجھے نہال    کر گیا .

احسن  کے   جانے   کے   بعد  میں  سوچ کے   دو  راہے    آ کھڑی  ہوئی  .

سمجھ  نہیں آ رہی تھی کہ کیا  کروں  شام   کو  رنگین  بنا  لوں 

یا احسن  سے ملاقات   کسی  اور  دن  پر  رکھ   لوں   .

یہ فیصلہ  دل  ہی  دل    میں کر  لیا تھا  کہ احسن کے  ساتھ   تعلقات   بنانے  ہیں  . 

کم بخت   دل  کو بھا   گیا  تھا   اور  اب  کم  از   کم   ایک   بار   تو   اس  کو آزمانا    ہو  گا   

تاکہ  دل  میں   کسی   قسم   کی  خلش  نہ  رہے  . 

عامر  عزیز   میرے    خاوند   کے علاوہ   میں نے کبھی    کسی  سے  جنسی  تعلق   نہیں رکھا   

نہ شادی   سے  پہلے  نہ شادی  کے بعد   . اگرچہ   یہاں  ہر قسم کی آزادی بھی ہے اور  مواقع

بھی   آسانی سے  دستیاب ہیں  . مگر مردوں سے دوستی  بھی ایک حد  تک  ہی محدود رکھی .

میں  نے کبھی    کسی غیر  مرد  سے   کسی  قسم   کے  غیر شائستہ تعلقات   کے   بارے   

سوچا   تک   نہ  تھا .  اور  اب  اچانک   احسن   ایک بگولے کی  ما نند  اٹھا  اور  مجھے   اچک   لیا  .

کوئی   اور   ہوتا  تو    مجھے    اس   کے  بارے  سوچنے  کی ضرورت   ہی محسوس  نہ  ہوتی   .
مگر   اسکی    شخصیت   میں  نہ  جانے کیا    جادو  تھا   کہ    جس   نے  مجھے گمراہی  کی

جانب   مائل   کر   دیا   . میں جان چکی تھی کہ  اگر اسی  طرح احسن   ایک ٢ بار ملی 

تو  میں خود کو  اسکی قربت سے  بچا نہ پاؤنگی . 

اور  اب   میں    سوچوں  کے گرداب  میں  ڈوبی  نہ ادھر کی نہ ادھر کی   

دانوانڈول  پھنس  چکی تھی .   احسن  جسے  میں جانتی تک نہیں   چند  گھنٹے  پہلے  تک  ملنا

تو درکنایر    جسے  دیکھا   تک    نہ  تھا .  وہ   میری  سوچوں کا محور   بنے   مجھے  نئی 

راہوں کی  جانب     گامزن ہونے  کے  لئے     مجبور  کر  چکا  تھا .   

من کرتا     کہ  آج شام   احسان کے  ساتھ    کچھ  وقت  رہوں .

مگر  دماغ   کہتا    عزت  نفس  بھی  کوئی   چیز ہوتی ہے   . اگر   آج    ہی    اسے   ملو  گی   

تو  ممکن ہے وہ   تمھیں   چیپ      سمجھ   بیٹھے .      اس طرح    خود  کو  اسکی   نظروں 

میں   گرا  بیٹھوگی .  من   اور   بدن  کی   طلب  کچھ  اور  تھی .   

مجھے  اپنے خاوند سے  الگ   ہوئے   ٢   سال  سے زیادہ   ہونے  کو تھے   

اور   اس  سے پہلے   ٦  ماہ    سے   زیادہ  عرصہ    سے  ہمارے ازدواجی   تعلقات منقطع
***

 

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.