Author Topic: اجنبی بنا آشنا  (Read 30965 times)

Offline رضا

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 88
  • Reputation: +5/-1
  • Gender: Male
    • View Profile
Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #8 on: August 08, 2020, 11:05:18 am »
چشمِ ما روشن دل ما شاد
خوش آمدید
جی آیاں نو


سیما ناز کیا دھماکے دار انٹری کی ہے خوبصورت موتیوں سے پروئی ہوئی ایک خوبصورت داستان
پڑھ کر بہت اچھا لگا ہے بہت خوبصورتی سے آپ نے ایک عورت کی تشنہ آرزوؤں کو اجاگر کیا ہے اور کیا خوب کیا ہے
لاجواااب سیما بہت اعلی لکھا ہے تعریف کے لیے الفاظ نہیں ہیں



زندگی پیار کا گیت ہے
اسے ہر دل کو گانا پڑے گا

YUM Stories

Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #8 on: August 08, 2020, 11:05:18 am »

Offline maanrose

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 52
  • Reputation: +1/-0
    • View Profile
Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #9 on: August 08, 2020, 06:24:17 pm »
seema naz g kia bat ha DIAMOND 💎  word ma lakhi hoi story ha  woooooooooooowwwwwwooooow  sooooossssosososoosoppppeeerrr

YUM Stories

Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #9 on: August 08, 2020, 06:24:17 pm »

Offline FarahTariq

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 21
  • Reputation: +8/-0
    • View Profile
Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #10 on: August 09, 2020, 02:24:21 am »
Seema Naaz, just your story "Saas Meri Saheli". Thanks to Eng.Danial who provided the link of complete story. Let me admit that it was wonderfully written. You know ver well how to play with the words as well as with the sentiments of the readers. You seem to be a writer who has very good imagination and has a good knowledge of Urdu literature as well as movies and must have read some of best novels, I must say. But the story was ended abruptly which disappointed a reader like me. I was expecting a very erotic session of Nosheen with Shero, and a very  detailed session of Begum Saheba with Dino and a group session of all them. However, hats off to the writer like you who is providing good erotic stories to us.


"Seema Naaz, tu poori kahani likho ya adhori, Humey tum pe Naaz hai"  :tt1: :tt1: :tt1:

Offline engrdanial

  • **
  • T. Members
  • 6 Stars
  • ******
  • Posts: 13414
  • Reputation: +211/-603
  • Gender: Male
  • ***
    • View Profile
Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #11 on: August 09, 2020, 02:30:12 am »
Seema Naaz, just your story "Saas Meri Saheli". Thanks to Eng.Danial who provided the link of complete story. Let me admit that it was wonderfully written. You know ver well how to play with the words as well as with the sentiments of the readers. You seem to be a writer who has very good imagination and has a good knowledge of Urdu literature as well as movies and must have read some of best novels, I must say. But the story was ended abruptly which disappointed a reader like me. I was expecting a very erotic session of Nosheen with Shero, and a very  detailed session of Begum Saheba with Dino and a group session of all them. However, hats off to the writer like you who is providing good erotic stories to us.


"Seema Naaz, tu poori kahani likho ya adhori, Humey tum pe Naaz hai"  :tt1: :tt1: :tt1:
Should this Post  not be in response to the storey in its relevant section.???

***

Offline Shahich

  • Newbie
  • Posts: 1
  • Reputation: +0/-0
    • View Profile
Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #12 on: August 09, 2020, 10:41:20 am »
Writer deserves.
"Seema Naaz, tu poori kahani likho ya adhori, Humey tum pe Naaz hai"  :tt1: :tt1: :tt1:

Offline Seema Naaz

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 5442
  • Reputation: +584/-20
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: 2 اجنبی بنا آشنا
« Reply #13 on: August 09, 2020, 11:05:55 am »
پہلی  قسط سے  ....................
ہم سنبھل   بھی نہ پاے تھے     راحیلہ  نے کھانس کر اپنی انٹری  دی اور  احسان 
  اسے دیکھ کر حیران ہو گیا   کبھی وہ مجھے دیکھتا  کبھی راحیلہ کو . 
 اس کی  حیرت کو دیکھ کر  میں  بھی   حیرت زدہ ہو گئی . ...   

قسط   ٢
اس کی  حیرت کو دیکھ کر  میں  بھی   حیرت زدہ ہو گئی . .تھی .. پھر خیال آیا غیر متوقع  طور پر  راحیلہ 

کو دیکھ کر  اسکی  حیرت بجا ہے .     مجھے  تعارف کروانا چاہیے  تھا  مگر  راحیلہ  ذرا جلدی  نمودار ہو گئی

تھی . نیز  میں بھی  انجانے میں اس کے سینہ سے لگی  تو  جھینپ سی گئی تھی . 

احسن     یہ  ہیں   راحیلہ    میری گہری سہیلی   ہم ٢ بیڈ روم   شئیر کرتی   ہیں .     

اور   راحیلہ   آج  شام  تمھیں  جن کے  بارے  بتاتی رہی ہوں 

وہ یہی   صاحب   ہیں    ان کے بقول انہیں احسن کہتے ہیں .  میں نے  جلدی جلدی  مختصرا   

ان کا تعارف  کروا دیا  .    احسن نے  جلدی سے شرٹ  اور پاجامہ پہن لیا  پھر  معذرت  چاہتے  ہوئے   کہا  کہ گر
 
اطلاح  کر دی جاتی تو میں  شرمندہ نہ  ہونا پڑتا .  , پھر ان دونوں نے رسمی  کلمات  کہے  .

اور احسن  نے ہمیں بیٹھنے   کو  کہا   .    راحیلہ  شروع ہو گئی   .  آپ کا  اسم مبارک  احسن   ہے  مگر  یہ میرا

احسان  ہے  کہ  نائلہ  ملک  کو   لے ائی ہوں .   اس لئے کہ  میں اس  بہانے   بانکے  درشن  کرنا  چاہتی  تھی 

جس نے اس پتھر دل کو   موم کر دیا .    میرے خیال میں  آپ  آج کی شام   کے مستحق  ہیں . ر آج کی

 شام  کیا گر  دل چاہے   تو  بریک  فاسٹ   بھی  مل کے کر لیں .  اس کے ساتھ ہی   اس  نے  قہقہہ   لگایا .

جی راحیلہ جی  اپکا احسان  مانتا ہوں اور  بہت ممنون ہوں   بہت بہت شکریہ .  احسن نے   جوابا  کہا .

راحیلہ:  شکریہ کی کوئی ضرورت نہیں   , میں خوش ہوں  آپکی بدولت  نائلہ  ملک کی زندگی میں

 بھی کچھ  ہلچل ہوئی  ہے      بہر حال  میری بہترین  تمنائیں  اور دعائیں  اپ دونوں کے لئے  ہیں اور رہیں گی .

" آمین "  میں بے ساختہ  اونچا کہہ  گئی   اور   جھینپ کر   نظریں جھکا لیں . احسن نے بھی  راحیلہ

 کا شکریہ ادا کیا  اور پوچھا   ڈنر  یہیں آرڈر  کروں یا باھر جا کر کریں . 

راحیلہ  بولی باھر ہی جاتے  ہیں , میں نے ایک   اچھا ریسٹورنٹ

دیکھ رکھا ہے اور وہ قریب ہی ہے .  اسی میں چلتے ہیں    مگر ایک شرط پر 

 وہ اتنا کہہ  کر خاموش ہو گئی

اور  ہماری طرف  دیکھنے  لگی . اور وہ شرط  کیا ہے  ؟ احسن  بولے  . 

راحیلہ چہکی ,   آج کی ٹریٹ میری  طرف سے  ہوگی . اور خود ہی  کہہ دیا   ڈ ن .   

میں نے کہا  جب  خود ڈن  کر چکی ہو تو   اٹھو چلیں .

 احسن  کچھ نہ بولا .  اور   ہم  پارکنگ  میں آ گئے  راحیلہ  نے سٹئیرنگ  سنبھال لیا    .

 میں اس کے ساتھ  فرنٹ سیٹ  پر  بیٹھنے لگی  تو اس نے  پچھلی سیٹ کی طرف  اشارہ کر دیا .

 میں نے پیچھے دیکھا تو احسن کار  کا دروازہ کھولے کھڑا تھا .میں شکریہ  کہہ کر  سیٹ پر بیٹھی تو

 راحیلہ نے  مرر  میں سے مجھے آنکھ مار دی .   اس نے کبھی  ایسی حرکت میرے ساتھ  نہیں  کی تھی

  آج کچھ زیادہ ہی مچل  گئی تھی میں جھینپ  سی گئی . اتنے  میں دوسری سائیڈ  سے  احسن بھی  آ گئے .

راحیلہ نے کار  کی بریک  سے پاؤں ہٹایا  اور سپیڈ پر دباؤ ڈالا . کار ایک جھٹکے سے آگے کو نکلی  یہ راحیلہ

کا سٹائل  ہے . وہ رف  ڈرائیونگ کرتی ہے .  خاص  طور پر جب وہ   جذباتی ہو رہی ہو

میں نے احسن کی جانب دیکھا  وہ مجھے ہی دیکھ رہا تھا , میں مسکرا دی . میرا ہاتھ  سیٹ پر اسکے قریب ہی تھا

  اس نے میرے ہاتھ پر  اپنا ہاتھ  رکھا . . میرے بدن میں ایک کرنٹ سا لگا  اور میں نے اپنا ہاتھ

 نیچے سے نکال کے اسکے ہاتھ   کو اپنے ہاتھ میں لے لیا  اور جیسے صبح  اس نے دبایا  تھا

ہولے ہولے دبانے  لگی .  بہت اچھا  لگ رہا تھا , 10 منٹس  میں ہم  "" مصالہ  ہاؤس  "  پہنچ گئے

   کوئی شک نہیں  کھانا  بہت ہی مزیدار  تھا  اور ہم نے چٹخارہ  لے لے کر   کھایا    اس کا  سارا کریڈٹ   راحیلہ 

کو جاتا ہے .   کھانے  سے فارغ  ہو کر کچھ دیر تک ہم   فٹ پاتھ  پر   چہل  قدمی  کرتے رہے تھوڑی تھوڑی خنک 

ہوا نے  طبیعت کو ہشاش  بشاش کر دیا . چہل قدمی کے دوران میرا ہاتھ  احسن نے ہاتھ میں لئے رکھا . من چاہنے لگا 

چہل قدمی دیر تک  چلے .  مگر راحیلہ کو  کمرے میں جانے کی جلدی تھی  . در اصل وہ ہمیں تنہائی  کا   موقع دینا

چاہتی تھی .اسکا پروگرام  ابھی تک میری  سمجھ  سے باھر تھا . کیونکہ  کیا ہونا ہے یا کرنا ہے ,  اس  پر کوئی

  ڈسکشن نہیں ہوئی تھی.  ہم کمرے میں  آئے  تو  میں صوفے پر بیٹھی تو احسن بھی  میرے ساتھ بیٹھ   گیا

وہ میری  قربت  کا   کوئی  لمحہ ضایع نہ چاہتا  تھا  . راحیلہ   مسکراتے ہوے   سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی

 اور  ہم  باتیں کرنے لگے . بلکہ احسن اور راحیلہ ہی باتیں کر رہے تھے میں صرف سن رہی تھی .  میں نے ایک

بات نوٹ  کی  کہ  احسن بڑے اچھے  سامع  ہیں .  راحیلہ باتونی ہے  جس کو سننا  ہر کسی کی ہمت   نہیں . اور

احسن  اس کو بڑے غور سے سن رہے تھے .  ساتھ ساتھ میرے ہاتھ  کو دباتے کبھی کھجلی کرتے کبھی  گدگدی .

 میری نظر  کلاک  پر گئی  تو ١١ بج رہے تھے . میں نے راحیلہ سے کہا   . چلو راحیلہ  چلیں .

وہ حیرانی سے دیکھتے ہوئے   کہنے لگی  کہاں  چلیں ؟.

میں:  اررے ١١ بج چکے ہیں  اپنے کمرے میں  چلتے ہیں احسن  کو آرام کرنے دیں .

راحیلہ :  وہ کمرہ میں نے اپنے لئے بک  کیا ہے  اور میں اپنی تنہائی کسی سے  شیئر   کرنے سے  رہی

میں :  راحیلہ احسن کے ساتھ شام گزارنی تھی شام کب کی ڈھل چکی  اب  اپنے کمرے میں چلتے ہیں 

راحیلہ :  شام یا رات کی بات نہیں ہو رہی . تم  دونوں کو  ایک دوسرے کو سمجھنا ہے جس کے لئے  کچھ وقت

تنہا رہنا ہوگا . ایک دوسرے کے خیالات اور   لاییکس  ڈسلاییکس   ہوبییز   سے واقف ہونے کے لئے  کچھ وقت

درکار  ہوتا ہے  اور ایک رات میرے خیال میں کم ہی ہوگی اسی لئے میں تو جا رہی ہوں اپنے کمرے میں  اور
 
کیبل  پر اپنی پسند کی  مووی دیکھونگی .   آئ سمجھ شریف میں  نائلہ ملک صاحبہ   .

 میں :  میں تو سوچ رہی تھی  کہ تم نے کمرہ ہم دونو کے لئے  بک کیا ہے  تاکہ گپ شپ  کے بعد  وہاں  سو جائیں .

راحیلہ: جی نہیں  . میں نے کمرہ اس لئے بک کیا تھا  تاکہ تم میری اس موٹل میں موجودگی کی  وجہ  سے  کچھ

اچھا وقت  بنا  کسی  فکر  کے گذار سکو .  تم کیا جانو  نائلہ  تمہارے لئے ایسی کسی رات کے لئے میں نے کتنی

 دعائیں  مانگی ہیں  اور آج  وہ رنگ لائیں ہیں تو  تم  انکار کر رہی ہو . 

میں اس  کے  تیور  دیکھ کر حیران رہ گئی .  ٹھیک ہے تم اپنے کمرے میں جاؤ  , میں صوفہ  پر سو جاؤنگی

احسن بیڈ پر . جب تک جاگیں گے  باتیں کریں  گے  پھر سو جایئں گے  کیوں احسن  صاحب  .

 جیسا بھی آپ جیسا چاہیں گی ایسا ہی کر لیں گے  کوئی پرابلم  نہیں  .  احسن  نے مسکراتے  ہوئے  کہا . 

راحیلہ :  سوو   ,  یا   ساری رات جاگو ,   بیڈ  پر ہو صوفہ پر  نیچے کارپٹ  پر بھی سو سکتی ہو  ,

میں تو چلی  اپنے  کمرے میں   اور یہ کہتے ہوئے  وہ  کمرے سے نکل گئی .
 
 میں تو صوفہ پر ہی بیٹھی تھی .  اس کے جانے  کے بعد  احسن نے اٹھ کر کمرے کو لاک  کیا

اور واپس آ کر کرسی پر بیٹھ گئے  کیونکہ میں صوفے  پر لیٹ چکی تھی .

تھوڑی دیر بعد  ڈور  پر ناک  ہوئی  تو ہم دونوں  چونکے   , احسن  نے ڈور  کھولا  تو سامنے راحیلہ  ایک

بیگ  لئے کھڑی تھی .  احسن کو اس نے بیگ پکڑا  کر کہا  اس میں  نائلہ  کا  سلیپنگ ڈریس  ہے . اور  مجھے

 ہاتھ ہلاتے ہوئے  مسکرائی  اور آنکھ مارتے ہوئے   چلی  گئی .   میں نے اٹھ  کر  احسن سے  بیگ  لیا اور

باتھ روم  میں گئی .  بیگ میں دیکھا تو  ایک   سی تھرو  نائنٹی    ایک کنڈوم   ایک  پیپر  تھا .   میں نے حیران

ہو کر پیپر  اٹھایا اور کھول کے دیکھا تھا  , اس پر ایک سیکس پوز  کا سکیچ   اور ٢ لائنز لکھی تھیں 

جن کا مطلب تھا  ." اگر آج رات  تم نے کوئی  فائدہ  نہ اٹھایا تو  مجھے منہ نہ دکھانا . ڈونٹ سپئیر ہِم ."

وہ پیپر تو میں نے فلش  کر دیا . اور بیگ لئے  کمرے میں آ گئی   اور اسے صوفے کے سرہانے رکھ دیا

 میں نہیں چاہتی  کہ احسن اسے دیکھ .  اور نہ ہی  میں چاہتی تھی  کہ  ایسی  نائیٹی  پہنوں  کہ جس

کے پہننے سے نہ پہننا بہتر  ہو .  اس لئے بیگ  اپنے  صوفے   کے کونے میں رکھا  اور صوفے پر لیٹ گئی .

  کیوں  کیا چینج نہیں کریں گی آپ  احسن نے پوچھا .
 
میں:   نہیں راحیلہ  اپنی  نائیٹی  اٹھا کر لائی ہے  جو نہ ہی پہنی جائے  تو اچھا ہے . ویسے میں  نے پاجامہ  پہنا ہوا

ہے  . جب لائٹ  آف ہوگی    میں  ایزی  ہو جاؤنگی    . میں گھر میں بھی ایسے ہی سوتی ہوں اور پنٹ 

کے نیچے  میں  ہمیشہ پاجامہ  پہنتی ہوں .  میں نے وضاحت   کی تو احسن مسکرا دیا .

 جیسے آپکو اچھا لگے . فیل  ایٹ ہوم   کہتے ہوئے   احسن  صوفے  پر جہاں میں لیٹی ہوئی تھی بیٹھ گیا 

 میں تھوڑاسا کسمسائی  اور پیچھے ہٹ کر  اسے  بیٹھنے کے لئے جگه دی .
 
احسن :  ایسا کرتے ہیں آج بیڈ بدل لیتے ہیں  آپ بیڈ پر چلی جاؤ میں یہاں  لیٹ جاتا ہوں  یہ کہتے ہوئے

 اسنے میرے  ہاتھ کی انگلیوں میں  اپنے ہاتھ کی انگلیاں ڈال  دیں .

میں : نہیں میں یہاں ٹھیک ہوں  یہ کہتے ہوئے میں نے اسکے دوسرے ہاتھ  میں انگلیاں پھنسا لیں . اس کو میرے

ہاتھوں میں دلچسپی تھی یا وہ آج صبح  کوئی بات کرنے اور بات بڑھانے کا بہانہ  ڈھونڈھ رہا تھا .  جیسا بھی ہوا وہ

 مجھے اپنے قریب  کرنے میں  کامیاب ہو چکا تھا اور اس وقت  میں اس کے سامنے لیٹی  ہوئی  اسے دیکھ جا رہی

ہوں میری آنکھوں میں  دیکھتے ہوئے  وہ  مجھ پر جھکا   اور اپنے ہونٹ میری پیشانی پر رکھ دیئے میں نے اسکے

 ہاتھ کو دبایا تو اس کے ہونٹ میرے گال پر آ ٹکے  .  پھر اس نے میرا دوسرا گال بھی  چوم لیا  اور مجھے دیکھا

تو میں  نے شرما کر  نظریں جھکا لیں .  اس نے  میری  آنکھوں  کو بوسہ دیا , 

اسکا  ایک ہاتھ  میری زلفوں میں  ککنگھی کرنے لگا  .  اسکے  ہونٹ  میرے  گال  چومتے

اور کبھی گردن پر ثبت ہو جاتے. گردن پر بوسہ میری کمزوری ہے . میں  اسکے بالوں میں

انگلیاں پھیرنے  لگی . اب وہ مجھ پر  جھک چکا تھا  اسکا سینہ میرے  سینے  سے ٹچ  ہونے لگا .

میرا ایک ہاتھ  بے اختیار  اس کی  پیٹھ   پر پھرا  . اس نے میری طرف  سے آمادگی  دیکھی تو  اسکا

حوصلہ کچھ اور بڑھ گیا . اس نے  میری گردن  کے  نیچے سے ہاتھ  ڈال کے مضبوطی سے پکڑ لیا .

اور اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ  دیئے . میں سر کو ادھر ادھر کرنے کی  کوشش  کی مگر میری گردن

اس نے مضبوطی سے پکڑی ہوئی تھی , اس نے  میرے چہرے  پر بوسوں کی بارش کر دی  .

کبھی گال کبھی پیشانی کبھی ہونٹوں پر وہ پاگلوں کی طرح  مجھے چوم رہا تھا . 

مجھے بھی  اچھا لگا . اور اسکی پیٹھ پر میں ہاتھ پھیرتی اور اس طرح اسکی حوصلہ افزائی  کرتی رہی . 

اس نے  میرے ہونٹوں پر ہونٹ   رکھے  اور میرے نچلے ہونٹ  کو اپنے ہونٹوں میں لینے کی کوشش کرنے لگا

 تھوڑی دیر  بعد میں  نے اپنے ہونٹ تھوڑے کھول دیئے  تو اس نے میرا نچلا ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لے لیا .

میں نے اسکی  گردن پر ہاتھ  رکھا اور اس کے ہونٹ  کو چوسنے لگی .

 ایک مدت کے بعد کسی مرد کا قرب   میرے جذبات کو برانگیختہ  کرنے کا موجب بن رہا تھا  . مجھے ڈر  تھا . کہ

میں کہیں  بہک کر اپنا سب کچھ اس کے حوالے نہ کر بیٹھوں  مگر یہ ڈر اور یہ سوچ   صرف دماغ تک ہی تھی

 میرا من اور بدن  احسن کے ساتھ   تعاون  پر  آمادہ  تھے . مگر میں شعوری  طور پر سوچ رہی تھی  ایک حد تک

ہی   رہونگی کم از  کم آج رات  تو اپنا  بھرم  قائم رکھونگی .  حالانکہ  جب  سے اسے دیکھا ہے .

اس کے ساتھ  ہمبستری  کے لئے  تڑپ رہی تھی  .  احسن کو دیکھتے ہی  میرے دل کی دھڑکن بے ترتیب

ہوئی تھی  مگر اتنا  آگے بڑھ  جاؤنگی  ایسا کوئی خیال نہ تھا .  مگر اسکا برتاؤ رکھ رکھاؤ نے

آہستہ آہستہ  مجھے  اپنے جانب  مائل کرنا  شروع کر دیا تھا . دوپہر کو اس کے کمرے سے نکل  کے

جب لفٹ میں , میں نے اسے پوری لفٹ دی .

اس نے پھر بھی  شرافت  دکھائی تو میں نے مائنڈ بنا لیا  تھا کہ اس کے ساتھ    تعلقات   بنانے ہیں . 

مگر سب کچھ اتنا فاسٹ  ہو جایئگا  ایسا کوئی خیال نہ تھا .  لا شعوری   طور میری 

جنسی تشنگی یا  احسن کی مردانہ  وجاہت  اور اخلاق  کی بدولت  اس وقت میں  اس  کے  بازوؤں

 کے حصار میں  اپنے آپ کو سونپنے  کے لئے  تیار تھی . اگرچہ میرا شعور اب   بھی بضد تھا کہ کچھ 

دن اور رک جاؤ ں.     میں ان دو کیفیتوں  کو لئے احسن  کی زبان کو چوسنے میں لگی ہوئی تھی

 کہتے ہیں عورت ایک پہیلی ہے .   یہ اب مجھے خود سچ لگنے لگا  .  میں خود پر بھی ظاھر  نہیں 

ہو پا  رہی تھی  احسن کے ساتھ  رات  بھر سونے  کا  خیال کہیں ذہن میں ضرور تھا مگر میں خود سے

اسے چھپا رہی تھی .  خود سے اگر یہی سوال پوچھتی تو  یقین جانیں میرا یہی جواب ہوتا کہ  نا ممکن ,

ایسا ہو نہیں سکتا .   میں  ایسا سوچ ہی کیسے  سکتی ہوں .   

کہنے کو تو میں احسن کو  چھوڑ  کر  گھر جا چکی تھی  مگر میں  ایک لمحہ  کے لئے  بھی اس سے

دور نہیں تھی .   گر میں خود سے  سچ  کہوں تو میں گھر گئی ہی اس لئے تھی   کہ  راحیلہ  میرا  احسن

 کے ساتھ  رات  بسر کرنا    آسان بنا دے  مگر خود  سے سچ نہیں  بلکہ جھوٹھ  ہی کہونگی .   

میرے پاس  جواز ہے میرا تو ایسا  کوئی  ارادہ نہ تھا  مگر راحیلہ  نے  کنوینس  کر لیا   

اور  میں شام تک ہی  ٹھیرنے کا ارادہ  لئے ائی تھی . احسن کے ساتھ  علیحدگی  میں  رات بھر  رہنے

کے لئے  تو نہیں .   عورت واقعی  ایک   ایسی پہیلی  ہے  جو  خود  پر بھی آشکار  نہ ہو .

 اس کا مطلب ہے کہ میں شروع سے ہی چاہتی تھی  کہ احسن  میری پیاس بجھا کر سیراب   کرے .

در اصل  آج صبح  جب میں نے رسٹورنٹ    میں اسے دیکھا  تو میرا دل  زور سے دھڑکا  تھا 

مجھے   بھا گیا تھا .  ایسا لگا میں اسے جانتی ہوں . میرے جذبات  نے مجبور  کر دیا کہ  میں بار بار

اسے دیکھوں  . آج تک ایسا نہیں ہوا کہ میں  کسی  کے لئے ایسے  سوچوں .  مگر کیا کرتی وہ  بے ایمان

  قاتلانہ   شخصیت   کا مالک   دل میں کُھبھ گیا تھا .  میرا دل  اسکے  لئے ہمکنے لگا  تو وہ میرے پاس

چلا  آیا . کوئی اور ہوتا تو میں کہتی   کسی اور  خالی ٹیبل  پر جاؤ . مگر وہ  تو مجھے میری چند لمحوں

کی   دعا کے   عوض  ملا  تھا . میری دل کی حالت تو یہ تھی  کہ میں اسکے آگے بچھ جاؤں   مگر میں  نارمل  رہی  .

اس نے جب میرے ہاتھوں کو چھوا تو ایک کرنٹ سا میری رگوں میں دوڑ گیا  . اور اس نے ہاتھ کو دبایا

تو میری سریان تک   اسکی تاثیر  گئی  . میری ٹانگوں  کے بیچ ٹکلنگ سی ہوئی .  اسی لئے میں نے

اس کے  ہاتھوں میں ہاتھ رہنے دیئے . افففففف . ظالم نے   مسمرائز  کر لیا تھا .  میں  سوچ کے دائرے

سے نکلی تو  اپنے آپ کو احسن  کے  حصار میں میں پایا   

احسن  کا ایک ہاتھ  میرے ایک ممے  کی  گولائی  کا اندازہ لگا رہا تھا 

 اور آنے والے وقت کے تصور ہی سے میرے  نیپلز  تن گئے تھے .

جن کا تناؤ مجھے محسوس ہونے لگا تھا .    مجھے  اب چینج کر لینا  چاہیئے   یہ خیال آتے   ہی   میں نے

اسکے  ہونٹوں کو آزاد کر کے اپنے ہونٹ  احسن کے کانوں کے قریب  لے گئی اور سرگوشی  میں کہا .

مجھے باتھ روم جانا ہے  . اوہ کہتے ہوئے  احسن  سیدھا ہو کر بیٹھا  پھر اٹھ کر کھڑا ہو  گیا . تاکہ میں  صوفے سے

 نیچے اتر سکون    میں شرمائی لجائی   سی  آنکھیں چراتے ہوئے  باتھ روم میں گئی   اور  اپنی پنٹ  اتار دی

 میری ٹانگوں کے بیچ  نمی  سی پھوٹنے لگی تھی  اور تراوٹ  لبوں کو بھگو چکی تھی .  میں جلدی  جلدی   

فریش  اپ  ہوئی  اور  پنٹ اور  شرٹ  اتار کے وہیں  چھوڑی .  اب میں  سیاہ رنگ  کی شمیض  ,  برا  اور

سرخی مائل  پاجامہ  میں تھی  .   میں باھر نکلی  تو احسن   صوفے پر  قابض   تھا  .     مجھے دیکھتے  ہی

اسکی آنکھوں میں   ایک چمک سی ائی    وہ مجھے پاجامہ اور  شمیض  میں دیکھ کر حیران سا

ہوگیا ایک  ٹک    مجھ پر نگھیں جما دیں .  میں مسکرا دی  اور  سیدھا  بیڈ پر  جا  بیٹھی . 

وہ اٹھا   اور باتھ روم   میں چلا گیا  اور تھوڑی دیر بعد  وہ   ایک  لال  نیکر  (جانگیہ )

میں  باہر نکلا  تو میری نظر  اسکے مردانہ  سراپے پر تھی   .  گورا چٹا  کشادہ  پیشانی  نشیلی  مست آنکھیں .

 گھنی اور سیاہ   بھنویں  چوڑی  چھاتی  جس  پر گھنے سیاہ  گھگریالے  بال   ٦ ایب  تو نہیں لیکن کمر

٢٠ سالہ جوان کی طرح پتلی اور بنا   بیلی  کے  .   جانگیے   میں پھنسی  رانیں   بھری بھری  پنڈلیوں   اور

 5 فیٹ  ١١ انچ  کے  وجیہہ   احسن   نے بڑی بے دردی سے  میرے ایمان  پر  ڈاکا  ڈالا . 

اور سچ  کہوں تو میں لگی گئی .   کم بخت کیا شے  ہے  میں  نے  خشک ہوتے لبوں پر 

جیبھ  پھیرتے  ہوئے  سوچا  . 

اب تک میں تذبذب   کی کیفیت میں   ڈاواں  ڈول  تھی , کبھی  سوچتی  کروالوں کبھی  سوچتی پھر   سہی   .

مگر اسکی شاندار  اور پروقار   وجاہت  کے سامنے   ڈھیر ہو گئی  میں    عالم  سپردگی  میں   آگے  بڑھی 

اور اسکے گلے میں  اپنی باہیں  ڈال دیں .   اس نے مجھے   بھینچتے ہوئے  سینہ سے لگا لیا  اور 

میری گرن پر ہونٹ رکھ دیے  .  لطف اور سکوں  کی ایک  لہر میرے سارے  جسم  میں تیر  گئی .

 میں مضبوط ہاتھوں کے حصار میں شرشار  اس سے  سختی کے ساتھ چمٹ گئی . 

اس نے آہستہ سے  میری ٹھوڑی کے نیچے  انگلیوں سے  میرے چہرے  کو  اوپر  اٹھایا ,

 اور میرے  لبوں پر بوسہ دے کر  میری آنکھوں میں جھانکا . نظریں ملتے ہی  میں

نے نظریں چراتے  ہوئے اسکے ہونٹوں  پر اپنے ہونٹ  رکھے  . اس نے  لبوں کو  چومتے  ہوئے   

میری ٹانگوں  کے نیچے سے ہاتھ ہاتھ ڈال کے مجھے  اٹھا لیا  میری  باہیں اس کے  گلے  میں تھیں 

اور ہمارے  لب ایک دوسرے میں پیوست   تھے .

 وہ  بیڈ پر بیٹھا  تو میں  اس کی گود  میں  بیٹھی رہ گئی  . اس نے زور سے بھینچا   میں تھوڑا

کسمسائی   تو  وہ مجھے لئے بیڈ پر دراز ہو گیا . میری کمر کے گرد اس کا بازو تھا
 
اور میرا  منہ  اسکے چھاتی  کے بالوں سے مس  ہو رہا تھا . میں نے اسکی چھاتی کے بالوں 

میں انگلیاں پھیریں اور   چھاتی چومنے لگی  اسکے ہاتھ  میرے  کولہوں  پر  پھرے تو میرے

جسم  میں سرسراہٹ  سی ہوئی . وہ میری رانوں  کی  بیرونی اور اندرونی    طرف  ہاتھ   پھیرتا   رہا .

اسکا ایک ہاتھ  میرے مموں  کو ٹٹولنے لگا  تو میں نے ایک گہری  سانس  لی .

اس نے  میری پیٹھ پیچھے  ہاتھ لے جا کر ہک  کھول کے  مموں  کو   برا سے  آزاد کروا لیا  . 

میں نے برا نکال  کر  سائیڈ  پر رکھ دی  . اب  میرے جسم پر شمیض  اور پاجامہ  رہ گیا .  احسن نے  شمیض

 اتروانے میں  زیادہ  دیر نہ کی  اور شمیض اترتے ہی وہ  میرے مموں  پر ٹوٹ پڑا .

 وہ کبھی انہیں دباتا کبھی انہیں چومتا     دونوں سے باری باری    کھیلتا

اور  میرے   ایریکٹ نیپلز    کو چومتا چوستا  مجھے  مدہوش  کرتا رہا .

 میرے  دل کی دھڑکنوں کے ساتھ میرے سانسوں کی رفتار بھی  تیز ہو گئی تھی  .

  اسکا ایک ہاتھ  میرے پاجامہ کی طرف گیا  اور آزار بند  کھولنے کی  ٹرائی  کرنے لگا

 
  میں نے  اس کے کانوں  میں سرگوشی  کی . پلیز پہلے  لائٹ  آف    کر دیں  احسن . 

  ضروری ہے  کیا  اس نے کہا   تو میں بولی  .

مین لائٹ  آف  کر دیں . زیرو بلب    آن رہے تو بھی   نو  پروبلم .     در اصل   میں نے  حسب معمول 

پاجامہ کے نیچے   پینٹی  یا  انڈرویر نہیں پہنا ہوا تھا  (  پنٹ  کے نیچے میں پاجامہ ہی پہنتی ہوں

  پینٹی    یا نیکر نہیں.  جن سے ایسے لگتا ہے جیسے  میں ننگی ہوں ) .

 اس لئے میں نہیں چاہتی تھی کہ لائٹ  آن  رہے .   دوبارہ بولا تو   وہ اٹھا  اور   لائٹ آف کر  کے واپس لوٹا.

زو بلب کی روشنی میں بھی  کمرے میں  سب کچھ نظر آ رہا تھا  مگر ذرا مدھم سا  .

میری نظر  اسکے نیکر  میں   اٹھے بلگ   ( ابھار)  پر  جا ٹکی   اسکی اٹھان   دیکھ   کر ہی کچھ کچھ ہونے لگا

تین سال سے اسکی  دید کو  میرا سب کچھ ہی ترس  گیا  تھا  .  ایسا نہیں  کہ نٹ پر بھی کبھی  نہ دیکھا ہو  ,

موویز  میں بھی  دیکھ کر لطف اندوز ہوئی  مگر رئیل تو رئیل  ہی ہوتا ہے  ناں .  من چاہتا ہے  احسن 

   وہیں پی انڈرویر اتار دے اور پھر اسے  فلیش  کرتے ہوئے   میرے پاس  آئے . مگر ہر  خوایش تو پوری

نہیں ہوا کرتی ,  یہ کیا کم تھا کہ آج صبح  من چاہا  آج کچھ  ایسا  ہو جائے  جو پہلے کبھی نہ  ہوا  تھا . 

وہ  ہو رہا تھا .  احسن میری طرف دیکھتا  بیڈ کے نزدیک  پہنچا ,میرے  ہاتھ میرے  مموں  کو چھپانے کی ناکام

کوشش  میں  لگے  ہوئے تھے .    احسن  کچھ دیر میری  ناف  اور اسکے  نیچے  پاجامے کی لائن جو کچھ

 نیچے ہی تھی  کو دیکھے جا رہا تھا  جیسے وہ  اپنے  ٹارگٹ  کی لوکیشن  کی تلاش  میں ہو  .

 مجھے اپنی طرف متوجہ پا کر  اس نے   شرمندہ ہو کر نظریں چرا لیں .    , من تو  چاہا  کیوں نہ اسکا

انڈرویر   نیچے  کھسکا  کر جی بھر کے اسکے  تنے  ہوئے  ٹول  کو دیکھوں  ہاتھ  میں لے کر مسلوں   

کیوں  نہ اسے چوم لوں . مگر ایسا سوچنا تو آسان تھا    ایسا کرنا میرے لئے نا ممکن  ہے . 

خصوصا  آج کی رات . جو کہ  ہماری پہلی رات  تھی .  احسن   بیڈ پر آکر میرے ساتھ لیٹ گیا .

میں   پیٹھ کے بل سیدھی  لیٹی  تھی   اس نے کروٹ لے کر  اپنا رخ میری  طرف کیا   اور

 میرے  مموں  پر سے  میرے ہاتھ  ہٹا کر  پھر سے میرا نیپل اپنے ہونٹوں میں لے کر چبانے لگا 

 اسکا  دوسرا ہاتھ  میرے  دوسرے  ممے  کو ہولے ہولے  دباتا اور نیپل  کو   انگلیوں   سے مسلتا 

مجھے بیقرار کر رہا  تھا  .   تھوڑی دیر بعد  اسکا ہاتھ  رینگتا ہوا  میری ناف  اور نیچے   

مساج کرنے لگا  . میں چاہ رہی تھی   کہ وہ اپنا ہاتھ  پاجامہ  کے اندر    بھی لے جاۓ 

تاکہ اسے  میری حالت کا اندازہ تو ہو کہ کتنی بے چین ہوں میں .  خیر جلد ہی  میری  تمنا

بھی احسان  نے پوری کر دی   اسکا ہاتھ   ازار بند  کھ

Offline Seema Naaz

  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 5442
  • Reputation: +584/-20
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #14 on: August 09, 2020, 11:11:18 am »
تھوڑی دیر بعد  اسکا ہاتھ  رینگتا ہوا  میری ناف  اور نیچے   

مساج کرنے لگا  . میں چاہ رہی تھی   کہ وہ اپنا ہاتھ  پاجامہ  کے اندر    بھی لے جاۓ 

تاکہ اسے  میری حالت کا اندازہ تو ہو کہ کتنی بے چین ہوں میں .  خیر جلد ہی  میری  تمنا

بھی احسان  نے پوری کر دی   اسکا ہاتھ   ازار بند  کھولے بنا  پاجامہ کے اندر گیا  تو  میں نے

اپنی ٹانگوں کو تھوڑا  کھولتے ہوئے اس  کا استقبال کیا  .  جیسے ہی اس نے میرے دانے کو چھوا  میں

کانپ سی گئی . ٣ سال کے بعد کسی  مرد   نے  اسے  چھوا تھا . میں   مدہوش  سی  ہوگئی   

اور لمبے لمبے سانس لینے لگی  . اسکا ہاتھ  اپنے ٹارگٹ سے لگا تو  میری  ٹانگیں  بے ساختہ مزید
 
 کھل گئیں . میں نے بے اختیار ہو کر ہاتھ اسکے ہاتھ پر  رکھا اور اسے دبانے  لگی .

مجھ میں  ایک سرور کی لہر سی اٹھی , مجھے محسوس ہوا جیسے  لیک ہو گئی ہوں  .   میں نے  آزار

 بند  کھولا اور چوتڑ  اوپر  کئے .احسن نے میرا پاجامہ  کھینچ  کے اتار  دیا . اب میں    سر سے پاؤں تک الف

ننگی احسن کے سامنے لیٹی ہوئی  تھی  اور  اسکی نظریں   میرے سراپے  کو نہارنے  لگیں   اسکی

نظروں میں اپنے  لئے  ستائش  اور پیار  دیکھ کر میں نہال ہو گئی .   

ابھی تک احسن نے  انڈرویر  پہن رکھا تھا

 میں  ابھی تک  اس کے درشن  سے محروم تھی .  احسن میری ٹانگوں کے بیچ  بیٹھ  کر میری

رانوں کو چومنے لگا .  میری چڑیا    پھڑ پھڑانے   لگی  وہ کبھی لب کھولتی کبھی بند کرتی

احسن  کے احسان کی منتظر  تھی .  کہ احسن نے اچانک  اس پر اپنے  لب رکھ دیئے  . 

اففف  میں تڑپ سی گئی .  مجھے اس سے ایسی  امید نہ تھی .

  اگرچہ موویز میں  ایسا ہوتا دیکھ  دیکھ  کر  یہ میری ایک  فنٹاسی  بن  چکی تھی  .

مگر  کبھی  ایسا ہو بھی سکے گا   ایسا گمان نہ تھا .  اسکی زبان اور  گرم سانسوں  نے خوار کر کے

رکھ دیا تھا میں  لذت سے  تڑپتے ہوئے  احسن کو بالوں  سے پکڑ کر  اسے  الگ  کرنے  لگی  .

 تو اس نے  سر اٹھایا  اور ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے  شرارت  سے  ایک آنکھ دباتے  ہوئے  بولا . 

 مزہ لینے دے   جان    میں  شرما گئی اور کچھ بول نہ سکی اوروہ  پھر منہ  وہیں رکھ  کر

چومنے اور چاٹنے  لگا . میرے ہاتھ  اسکے  سر کے  بالوں سے  کھیلنے  لگے  اسکی زبان جب دانےسے

 جا لگتی تو میری لذت بھری سسکی نکل جاتی  اور میرے ہاتھ  مضبوطی سے اسکے بالوں کو  جکڑ لیتے  . 

اس نے   میرے چوتڑ  اپنے ہاتھوں پر اٹھاۓ  اور   مجھے کھانے لگا   .  میری سمجھ میں کچھ  نہ  آیا  کیا کروں

اسے   روکوں یا  نہیں  .   لذت کی ایک لہر آتی ایک لہر جاتی  میں  اپنے  حواس  کھو بیٹھی  لذت اتنی زیادہ

کہ    برداشت سے باھر ہو رہی تھی .  اور میں چاہتی تھی کچھ دیر  کے لئے  مجھے سانس لینے کی مہلت تو دے
 
  اف  احسن  میں مر جاؤنگی  پلیز  تھوڑا رک جاؤ    . میں  ایک بار جھڑ چکی تھی اور رس احسن پی رہا تھا

جس کا مجھے افسوس ہو رہا تھا  . مگر   اسکی جیبھ / زبان نے مجھے یرغمال  بنا لیا تھا  میں  مجبور  و بے بس

ہو گئی تھی . اس وقت  وہ مجھے قتل بھی کرتا تو ہنس کر جان دیتی . میں لذت کی ایک  نئی  دنیا میں پہنچ چکی تھی

شاید مرد سے ٣ سال  دور رہنے کا  خراج مل رہا تھا .  اسنے میرے دانے کو ہولے سے کاٹا تو برداشت  نہ سکا  اور

میں نے اسکو بالوں سے جھنجھوڑا  تو اس نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا  .

 اسکے گلابی  ہونٹ  میرے رس سے تر   بہت خوبصورت لگ رہے تھے .   اسکی  مسکراتی  آنکھوں 

میں شرارت  کھیلتی دیکھ   کے  بے خودی سے بولی   "احسن یوں تڑپا تڑپا کر تو نہ مار مجھے .

اتنا مان نہ بڑھا   میرا ,  اتنا پیار نہ کر  یہ  احسان کردے میرے مہربان " . 
 
  ہنستے ہوئے اس نے کہا  "   بڑی سویٹ   اور پیاری ہے "
 
میں نے مخمور لہجے میں پوچھا  'کیا " ؟     شرارت سے بولا . " پھدی  "

. یہ  سنتے ہی میں حیرت زدہ  سی رہ گئی .

اس نے مجھے حیران کر دیا تھا .   میں نے شرماتے ہوئے اسے  کہا  . بےشرم ہو آپ  بہت  بے شرم

سچی  خود  پوچھ  لو   اس   سے ,   وہ پھر  شرارتی  اور مسکراتی آنکھوں کو  میینچتے  ہوئے  بولا

 تو  میں نے بھی مزہ لیتے  ہوئے کہا .  کس سے پوچھ لوں ؟   

 احسن :  اپنی  اس  پیاری سی ننھی منی سی  چوت  سے پوچھ لو یہ کہتے ہوئے اس نے ایک انگلی

 میری چوت میں  ڈال دی اور اسکا  انگھوٹھا  میرے دانے کو مسلنے لگا . اف  میں تڑپ اٹھی 

اور میرے چوتڑ بے ساختہ  اوپر کو اٹھ گئے  .   میں نے  اپنی تیز ہوتی سانسوں میں کہا  .

میرے بس میں ہوتا  تو اس سے پوچھتی  .

اس نے میری چوت کو  بوسہ دیا  اور  بولا اور کس کی مجال   ہے جو اس سے پوچھ سکے

  میں نے کہا  جس کو تم نے   اپنے انڈرویر  میں چھپا رکھا ہے   اسی کو  یہ بتاۓ  گی .

اور وہی جان پائے  گا   پیاری ہے سویٹ ہے  یا سالٹی .    وہ میری ٹانگوں کے بیچ  بیٹھ تھا  سیدھا 

میرے اوپر آ کے  میرے ہونٹوں پر اپنے  ہونٹ رکھ دیے , میں جانتی   تھی وہ چاہتا تھا کہ میں اپنا  ہی رس ٹیسٹ

 کروں .  میں نے  اسکے   دونوں ہونٹوں  کو چوسا اور پهر اسکی پیشانی  چومتے  ہوئے  کہا  . تھینک  یو  احسن .

   وہ میرے کانوں  میں  سرگوشی کرتے ہوئے "   سچی  تم چاہتی ہو  کہ  یہ  تمہاری چوت سے پوچھے .

 ( اس کے  تم  کہنے سے میرے من کی کلی کھل اٹھی )  میں بولی اب اسی سے  پوچھو میں تمھیں کیا   بتاؤں .

 اور میں ہاتھ سے اس کے   چوتڑوں پر سے  انڈرویر  کو  ٹانگوں کی طرف کھسکایا  تو اس نے   انڈرویر

   اتار دیا  . مگر ابھی    تک میں  اس کے ہتھیار کو دیکھ نہ پائ تھی     کیونکہ وہ  میرے اوپر  تھا  . اسکا  ٹوپا 

میری پھدی   سے ٹکرانے لگا  . دل مچل اٹھا کہ اسے  پکڑ کر خود  پھدی میں ڈلواؤں  مگر پھر شرم آڑے ائی .   

   احسن نے میرے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لئے  اور انہیں چوسنے لگا . میں اپنے آپ کو روک نہ پائی اور

 ہاتھ بڑھا کر اسکے لن  کو ہاتھ میں لے لیا  . افففففف  ایسے  لگا  جیسے میں نے  ایک گرم راڈ   کو چھو لیا ہو

میں اسکے سائز  سے  متاثر  ہوئے بنا نہ رہ سکی اور اسکا ٹوپا  چھو کر میں خوش ہو گئی . اس کا گرم  راڈ

 بہت ہی پیارا لگا . میں  اسے   اپنی  چوت پر مسلنے لگی . پھدی  پہلے سی  گیلی تھی  بلکہ جل تھل تھی  .

میں  نے احسن   جو میرے مموں کو چوم رہا تھا ,  کے کانوں میں سرگوش کی .

"احسن  اب برداشت نہیں ہو رہا   پلیز اس کو اندر کرو ناں"
 
" کس کو جانو   کس کے اندر کروں " احسن میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا

جانی  پلیز  اپنے لن کو میری پھدی  کے اندر ڈالو جلدی سے  نہیں  تو مر جایئگی تیری جانو   .

میں بےشرمی سے چلائی .
 
 اس نے اپنا لن میری چوت کے منہ پر رکھا اور ایک ہی جھٹکے سے  چوت کی گہرائی تک پہنچا دیا .

اف  میرے اوپر کا سانس اوپر نیچے کا نیچے رہ گیا .  اس کے سخت  لمبے موٹے لن  اور   طاقتور  دھکے نے میری

 چوت کے بخیئے ادھیڑ  دیئے . ایک مدت  کے   بعد  لن  کو اپنے اندر لے کر  میری چوت کی تو باچھیں کھل اٹھیں .
 
    میں  نے  احسن کے چہرے گردن  پر بوسوں کی  بارش کر دی . لن کو اندر پا کر مجھے وہ تسکین ملی تھی

  جسے میں ترس گئی تھی . احسن نے  آہستہ آہستہ  لن کو ہلانا شروع کیا تو میں نے    اسکی پیٹھ  کو اپنی ٹانگوں

سے جکڑ  لیا  اور اسکے  چوتڑوں پر ہاتھ پھیرتی اور  اپنی طرف دباتی اسکی حوصلہ افزائی  کرنے لگی .  اسکے

بٹ ( چوتڑ )   بڑے سموتھ  اور بھرے بھرے   تھے  اور اسکی کمر  کی لچک اسکے ہر دھکے  میں معاون  بن رہی

 تھی . اسکے ہر دھکے کے ساتھ  میں جی   اٹھتی     کافی  مدت  کے بعد   سیکس  کی  بدولت میں   دوسری  بارجھڑ

  چکی تھی مگر چاہتی تھی اسی طرح  پوری رات جھڑتی رہوں .   لن کی رگڑ  چوت   کی کھجلی  کو مٹانے میں 

سرگرداں تھی . میں لذت سے اپنا سر پٹختی  رہی احسن کا لن  لمبا تو تھا ہی  مگر اسکی موٹائی نے  پھدی کو بھر دیا

 تھا  .  ایسا مزہ مجھے اپنی ٢ سالہ  شادی  شدہ  زندگی میں نہ ملا تھا جیسے اب کچھ پلوں   میں  ملا . احسں   کو

چودنا  آتا ہے . وہ دھکے  پے   دھکا  لگاتا کبھی   فاسٹ اور کبھی  سلو.  وہ چودتے  ہوئے  میرے مموں سے کھیلتا

اور  میرے ہونٹوں کو چوستا  میری گردن  کو بوسوں سے نہارتا  مجھے  لذت کے  نئے  نئے  زاویوں  سے روشناش

 کروا رہا تھا . اسکا لن میری پھدی کے ان کناروں  سے ٹکراتا   جن کو  آج سے پہلے لن کی چوٹ   لگی ہی نہ تھی

جانم  کیا پھدی ہے اتنی ٹائٹ     اتنی رسیلی  مزہ آگیا . احسن  کی زبان لڑکھڑا رہی تھی  . پھر بھی مجھے

اپنی پھدی  کے بارے  سن کر بہت اچھا  لگا .   .  جب اتنا لمبا  اور موٹا اندر ڈالو گے   تو  ٹائٹ  ہی لگے گی نا ,

میں نے  پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا  تو  اس نے  میری ٹانگوں کو اپنے کاندھوں  پر رکھ   لیا 

 میرے گھٹنے میرے مموں  سے آن لگے  اور احسن ہٹ ہٹ   کر دھکے  لگانے لگا   .

مجھے تھوڑی تکلیف  ہوئی مگر زور کے جھٹکے مزہ بھی دوگنا  دینے  لگے   . احسن کی

سانسیں   تیز  ہونے لگیں  میں پھر جھڑ چکی تھی .   احسن کے دھکے طوفانی  طاقت اور تیزی 

سے میری چولیں ہلانے لگے . میں نے  اسکی  ٹانگوں کو آہستہ سے  کاندھوں سے کھسکا  کے پھر سے

اسکی کمر کے گرد کس لیا   اور  نیچے سے  اسکے دھکوں کا ساتھ دینے لگی .

اففففففففف  میں لطف سے شرشار ہو گئی جب احسن نے

 سرگوشی کی .   "  جانم کہاں آؤں    اندر  یا باھر  .   

میں اسکے گرم   گرم  لاوے   سے لطف اندوز  ہونے  سے محروم نہ ہونا چاہتی تھی  اس لئے 

میں نے اسے چومتے  ہوئے کہا , "  میرے اندر ہی  جانی , بھر دو مجھے  تم آج "   

تووہ  زور زور کے  دھکے لگانے لگا  . اس سے پہلے کہ وہ  فوارہ مارتا  میں   ایک بار  پهر  جھڑنے لگی   

اور اس بار  دیر تک  جھڑتی ہی رہی   میری لذت کی مدہوشی  کے  دوران ہی  اسکی

سانسیں  تیز   ہوئیں  اور دل کی دھک دھک  سنائی دینے لگی  زور کا جھٹکا  لگاتے  ہوئے  احسن 

نے چوت کو جل  تھل  کر دیا, وہ  دیر تک  فوارہ مارتا رہا جو میری چوت کی دیواروں  سے ٹکراتا  رہا .   

اور میں  مزے میں   اسکی  پیٹھ پر  ہاتھوں سے مساج  کرتی رہی .    گرم گرم مواد  نے چوت کے  مسلز

 کے لئے تریاق کا کام  کیا  .  اس نے  اتنا مواد   جمع  کر رکھا  تھا  یوں لگا جیسے  چوت میں

طغیانی آ گئی  ہے  اور مواد  کناروں سے  نکل نکل  سب کچھ  بھگو  گیا ہے .  وہ میرے اوپر ہی لیٹ گیا .

میں  اس کی گالوں کو گردن کو  چومنے لگی  . اس سے  پہلے میں نے کبھی کسی کو ایسے والہانہ  نہیں چوما تھا

 . مگر آج ایسا لگنے لگا   جیسے میں نے نیا  جنم لیا ہو . تھوڑی  دیر  بعد  احسن میرے پہلو میں اپنی پیٹھ پر

لیٹ گیا  ابھی  تک اسکی سانسیں ہموار نہ ہوئیں تھیں . اور اسکی چھاتی  کے  اتار چڑھاؤ   کچھ دیر

تک دیکھتی رہی .  میں  اسکی چھاتی  پر ہاتھ پھیرتے   ہوئے اسکی ناف  تک لائی  اور  سر اٹھا کر دیکھا 

اسکے  شہزادے   پر نظر پڑی جسے  اک نظر  دیکھنے  کے لئے ٹرپ رہی تھی  ..  وہ نیم  ایستادگی   

کی حالت  میں   بہت بھلا  لگ رہا تھا  .  وہ سچ مچ  پرنس   لگ رگ رہا تھا . میں نے  اسے اپنے   ہاتھ

لے لیا   اور بےاختیار  اسے چوم لیا    اس نے سر لہرایا  تو مجھے  اس پر بےتحاشا پیار  آگیا   . میں  اس پر

 لگے مواد کو چاٹنے لگی   اسکا ٹیسٹ   ٹینگی مگر  مزیدار  لگا    اسے چاٹ کر صاف  کیا  اور   میں  نے اسے

چومتے  چاٹتے   منہ میں لے لیا اور  اسے چوسا تو  اسکی نالی میں  جتنا رس تھا وہ بھی  کھینچ  لیا . 

 میں مکمل بے شرم ہو چکی تھی  اور   لن سے کھیلنے لگی .    احسن  اب سنبھل چکا تھا  . اسے  حواس 

میں دیکھ کر  میں نے اسکی چھاتی  پر سر رکھا  لن ابھی تک میرے ہاتھ میں تھا  . 

احسان  میری الجھی  زلفوں میں انگلیوں  سے کنگھی  کرنے لگا   . میں سوچنے لگی   

کل  تک میں اسے جانتی تک نہ تھی اور اب  اسے سب کچھ سونپ  چکی ہوں .

نہ جانے کیسی  مقناطیسیت ہے اسکی شخصیت  میں کہ  میں کھینچتی چلی گئی اسکی جانب  . 

کافی تگ و دو  کے  باوجود  خود  کو اسکے پہلو میں  لیٹنے سے  بچا نہ پائی  .

 لیکن مجھے کوئی  پچھتاوا نہیں تھا  ,  جو بھی ہوا  اچھا ہوا

اسے پہلے ہو جانا چاہیے تھا   مگر دیر آید  درست   آید   مجھے  میری پسند کا آدمی مل گیا 

اسکا پہلو گرم کرتے  مجھے نہ صرف خوشی ہوئی بلکہ  فخر بھی  محسوس  ہوا کہ ایسے  شاندار 

با وقار ہینڈ سم  مرد کے ساتھ  میں سوئی
 
." کیا سوچ رہی ہو  جانم "  احسن  نے میری زلفوں سے کھیلتے ہوئے  پوچھا 

میں :    سوچ رہی ہوں تم کتنے اچھے ہو  .

احسن : اچھی تو تم ہو  آج سے پہلے مجھے  اتنا سکون نہیں ملا  جیسے تمہارے ساتھ  ملا .

میں : احسن یہ تو میرے الفاظ تم نے   کہہ  دیئے  . جو کچھ تم نے آج مجھے دیا  اس کا تصور بھی  محال تھا

مجھے یوں محسوس ہو رہا  جیسے میں آج مکمل ہوئی  ہوں  جس کے  لئے  میں   تمہاری ممنون  ہوں . اور ہمیشہ

رہونگی .  یہ کہتے ہوئے میں نے  اسکے    نپل کو چوم لیا  اور اسکی چھاتی کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی .

احسن :  اس میں میں ممنون ہونے یا شکر گزار ہونے کی  ضرورت نہیں  . تمہاری  خود کو  مجھے سونپنے

کی ادا  اتنی پیاری  رہی  کہ میں لذتوں میں ڈوبتا گیا  .ایسا مزہ پہلے کبھی نہ چکھا تھا    جانم  , یوں لگا 

جیسے  ہم ایک دوسرے کے لئے  ہی بنے    ہیں .

میں:  راحیلہ کہتی ہے اگر دو   جسموں کی کیمسٹری ایک ہو  تو وہ ایک دوسرے کی طرف  کھنچے چلے  آتے ہیں

وہ کسی نہ کسی  طرح ایک دوسرے سے ٹکرا ہی جاتے ہیں اور پھر  ان کو ایک دوسرے کی  بانہوں  میں  سے

جانے سے کوئی  نہیں روک  پاتا .  راحیلہ   سائنس  ٹیچر  ہے  . میں نے کبھی   اس کے اس قول کو اہمیت   نہ

دی تھی    مگر  اب مجھے یقین ہو گیا  کہ وہ سچ  کہتی  ہے .   صبح  اٹھ کر  نماز سے فارغ ہوئی  موسم  اچھا تھا
 
 لونگ  ڈرائیو  کا خیال آیا اور بلا مقصد  اس   سائیڈ   نکل ائی    . اور عجیب اتفاق  کہ  جس    ریسٹورنٹ

میں کافی کے رکی جس میں تم  تم موجود تھے . کیا یہ کیمسٹری نہیں  کہ ہم  ایک دوسرے کی طرف   مائل  ہوئے .

احسن  :  میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا  نائلہ ,  میری میٹنگ  دن کے ١  بجے تھی   گر صبح ٩ بجے  بھی گھر سے

چلتا تو آرام سے  میٹنگ  ا ٹنڈ  کر سکتا تھا    مگر   نہ جانے کیا خیال    اٹھا کہ   کل شام سے ہی میں موٹل میں 

 آگیا  اور اتفاق  سے اس وقت میں ریسٹورنٹ میں موجود تھا  جب تم   اندر   داخل ہوئیں .  اور میں دیکھتا ہی  رہ گیا

 سچی میرا دل زور سے دھڑکا تھا  بڑا عجیب سا احساس ہوا , خوشنصیب ہوگا  جو  اسکا  ساتھی ہوگا ,  دل میں کوئی

 برا خیال نہ تھا ,  بس  تمہاری خوبصورتی کا معترف   ہوا  اور پھر  کیمسٹری اپنا کام  دکھا گئی  اور خوش قسمت

ڈکلیئر  ہو گیا .  میں  نے اپنے لب  اسکے لبوں میں دے دیئے  . اسکا لن  میرے ہاتھ  میں   مچلنے لگا تھا  ادھر

پھدی بھی  پھدکنے لگی تھی .

 
باقی ائیندہ



Offline engrdanial

  • **
  • T. Members
  • 6 Stars
  • ******
  • Posts: 13414
  • Reputation: +211/-603
  • Gender: Male
  • ***
    • View Profile
Re: اجنبی بنا آشنا
« Reply #15 on: August 09, 2020, 07:12:24 pm »
کمال کر دیا۔
[/size]رفتہ رفتہ وہ میری ہستی کا ساماں ہو گئے
[/size]نا قابل بیان پر لطف منظر نگاری
[/size]اور لمحہ بہ لمحہ پگھلتے جذبات
[/size]ایک دوسرے میں حلول ہوتے  جسم
[/size]بلا مبالغہ اور بلا تاخیر
[/size]فطری کھنچاو اور باہمی  جذب کی اس مختصر طویل داستان کو اگلے مرحلے میں اس شب وصل کی مکمل کہانی کو سننے  کا انتظار دیکھئیے کب تلک۔
[/size]دیر نہ کیجئے گا
[/size]جلدی بات آگے بڑھائیے۔
[/size]کچھ اور سنائیے
***

 

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.