Author Topic: joke  (Read 366634 times)

Offline Tiger1990

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 19
  • Reputation: +1/-0
  • Gender: Male
    • View Profile
Re: joke
« Reply #13104 on: January 02, 2019, 06:34:59 am »
Ramesh: Interview kaisa hua?

Suresh: Interview to theek hua, lekin last mein woh english mein kuchh boli "Show me your testimonial".

Rakesh: To phir.

Suresh: Mujhe lagta hai ki main ghalat cheez dikha ke aa gaya hoon.
[/size]

YUM Stories

Re: joke
« Reply #13104 on: January 02, 2019, 06:34:59 am »

Offline Tiger1990

  • 1 stars
  • *
  • Posts: 19
  • Reputation: +1/-0
  • Gender: Male
    • View Profile
Re: joke
« Reply #13105 on: January 02, 2019, 06:37:25 am »
Ek Pari ne dekha ki ek Sher Khargosh ka peechha kar raha hai...
.
.
Pari ne dono ko rok kar kaha ke agar tum aisa na karo to main tum dono ki 3-3 khwahishein poori karungi
.
.
Sher: Mere alawa is jungle ke tamaam Sheron ko Sherniyan bana do.
.
Khargosh: Mujhe ek helmet de do.
.
.
Sher: Bagal wale jungle ke tamaam Sheron ko bhi Sherniyan bana do..
.
Khargosh: Mujhe ek bike de do.
.
.
Sher: Saari duniya ke Sheron ko Sherniyan bana do.
.
.
.
Khargosh ne bike start ki us par baith kar helmet pehna aur bola:
"Iss sher ko Pathan bana do"

YUM Stories

Re: joke
« Reply #13105 on: January 02, 2019, 06:37:25 am »

Offline Khan baba07

  • تم ہو ورنہ کوئی نہیں
  • 4 Stars
  • ****
  • Posts: 601
  • Reputation: +118/-11
  • Gender: Male
  • میرا پیغام محبت
    • View Profile
Re: joke
« Reply #13106 on: January 11, 2019, 01:33:19 am »
Democracy 😍  حاجی شکور صاحب کے بڑے بیٹے کا بیان ہے کہ میرا یقین تو جمہوریت سے سنہ 1988 ہی میں اٹھ گیا تھا۔  کہنے لگا کہ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ایک جمعرات کو میں اور میرے باقی تینوں بہن بھائی، امی ابو کے ساتھ مل کر رات کا کھانا کھا رہے تھے کہ ابا جان نے ہم سب سے پوچھا: بچو، کل تمھارے چچا کے گھر چلیں یا ماموں کے گھر۔   ہم سب بہن بھائیوں نے بہت شور مچاکر چچا کے گھر جانے کا کہا، ماسوائے امی کے جن کی رائے تھی کہ ماموں کے گھر جایا جائے۔   بات اکثریت کے مطالبے کی تھی اور رائے شماری سے طے پا گیا تھا کہ چچا کے گھر جانا ہے۔ امی کا موقف ہار گیا تھا۔ ابا جان نے بھی ہماری رائے کے احترام میں چچا کے گھر جانے کا فیصلہ سنا دیا۔ ہم سب بہن بھائی چچا کے گھر جانے کی خوشی دل میں دبائے جا سوئے۔   جمعہ کے دن صبح اٹھے تو امی نے گیلے بالوں کو تولیہ سے صاف کرتے ہوئے بمشکل اپنی ہنسی دبائے انھوں نے ہمیں کہا کہ سب جلدی سے کپڑے بدلو، ہم لوگ تمھارے ماموں کے گھر جا رہے ہیں۔  میں نے ابا جان کی طرف دیکھا جو خاموش اور توجہ سے اخبار پڑھنے کی ایکٹنگ فرما رہے تھے۔ میں غریب کا بال منہ تکتا رہ گیا۔   بس جی، میں نے تو اسی دن سے جان لیا ہے کہ جمہوریت، اکثریت کی رائے کا احترم اور ووٹ کو عزت دو وغیرہ تو ایک سے ایک ڈھکوسلہ ہے۔ اصل فیصلے تو بند کمروں میں اس وقت ہوتے ہیں جب غریب عوام سو رہی ہوتی ہے  ۔ 😂🤣😅😜
کوئی اک شخص تو یوں ملے
کہ وہ ملے تو بس سکون ملے

Offline dexter

  • nothhing is weird ! but might not be my choice
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 8557
  • Reputation: +411/-306
  • Gender: Male
  • I love to know,think,learn, understand and discuss
    • View Profile
Re: joke
« Reply #13107 on: June 10, 2019, 07:51:21 pm »
mujhy apni kund zahani ki waja se akser dosron ki asaan baten samajh naheen aten:( © 2019

Offline dexter

  • nothhing is weird ! but might not be my choice
  • T. Members
  • 5 Stars
  • *****
  • Posts: 8557
  • Reputation: +411/-306
  • Gender: Male
  • I love to know,think,learn, understand and discuss
    • View Profile
Re: joke
« Reply #13108 on: June 10, 2019, 07:52:42 pm »
mujhy apni kund zahani ki waja se akser dosron ki asaan baten samajh naheen aten:( © 2019

Offline Noni khan

  • 2 Star
  • **
  • Posts: 61
  • Reputation: +0/-0
  • Gender: Female
    • View Profile
Re: joke
« Reply #13109 on: June 10, 2019, 08:03:06 pm »
Democracy 😍  حاجی شکور صاحب کے بڑے بیٹے کا بیان ہے کہ میرا یقین تو جمہوریت سے سنہ 1988 ہی میں اٹھ گیا تھا۔  کہنے لگا کہ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ایک جمعرات کو میں اور میرے باقی تینوں بہن بھائی، امی ابو کے ساتھ مل کر رات کا کھانا کھا رہے تھے کہ ابا جان نے ہم سب سے پوچھا: بچو، کل تمھارے چچا کے گھر چلیں یا ماموں کے گھر۔   ہم سب بہن بھائیوں نے بہت شور مچاکر چچا کے گھر جانے کا کہا، ماسوائے امی کے جن کی رائے تھی کہ ماموں کے گھر جایا جائے۔   بات اکثریت کے مطالبے کی تھی اور رائے شماری سے طے پا گیا تھا کہ چچا کے گھر جانا ہے۔ امی کا موقف ہار گیا تھا۔ ابا جان نے بھی ہماری رائے کے احترام میں چچا کے گھر جانے کا فیصلہ سنا دیا۔ ہم سب بہن بھائی چچا کے گھر جانے کی خوشی دل میں دبائے جا سوئے۔   جمعہ کے دن صبح اٹھے تو امی نے گیلے بالوں کو تولیہ سے صاف کرتے ہوئے بمشکل اپنی ہنسی دبائے انھوں نے ہمیں کہا کہ سب جلدی سے کپڑے بدلو، ہم لوگ تمھارے ماموں کے گھر جا رہے ہیں۔  میں نے ابا جان کی طرف دیکھا جو خاموش اور توجہ سے اخبار پڑھنے کی ایکٹنگ فرما رہے تھے۔ میں غریب کا بال منہ تکتا رہ گیا۔   بس جی، میں نے تو اسی دن سے جان لیا ہے کہ جمہوریت، اکثریت کی رائے کا احترم اور ووٹ کو عزت دو وغیرہ تو ایک سے ایک ڈھکوسلہ ہے۔ اصل فیصلے تو بند کمروں میں اس وقت ہوتے ہیں جب غریب عوام سو رہی ہوتی ہے  ۔ 😂🤣😅😜


Hahaaaahaaa

 

Adblock Detected!

Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors.
Please consider supporting us by disabling your ad blocker on our website.